بدھ، 22 مارچ، 2006

ہمیں ہوش کب آئے گا۔۔۔

0 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 5:33 PM ,
لو میاں حکومت کو بھی ہوش آہی گیا۔
کیا ہوا کس ہوش کی بات ہورہی ہے۔
استاد اپنی حکومت نے عوام کے احتجاج کو دیکھتے ہوئے ایک وفد بھیجنے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے۔
ہاں بھئی ان کی بڑی مہربانی کہ انھوں نے وفد بھیجنے کا فیصلہ کر لیا ورنہ ان کا کیا کرلیتے ہم۔
ہاں بھئی ان کا کیا کرنا ہے کرنا تو اپنا ہی ہے۔ پاگل کتے کی طرح اپنی ہی دم چبا ڈالیں گے ہم اور کیا کرسکتے ہیں۔
ہاں یار۔اوئے سنا ہے اپنی اپوزیشن نے ساتھ جانے سے انکار کردیا ہے۔
اوئے ان لوگوں نے بھی اپنے نمبر بنانے ہیں۔یہ اسلام کے نہیں اسلام آباد کے خواہشمند ہیں۔
خیر اب یہ تو تیرے اندر حکومت کی زبان بول رہی ہے نا۔
اچھا بھئی استاد پھر ملتے ہیں۔
رب راکھا۔
(چند دن کے بعد)
ہاں بھئی کیا حال ہیں استاد۔کوئی نئی تازی سنا یار۔
نئی تازی یہ ہے کہ اپنا وفد یورپی یونین کے دفتروں کی خاک چھان کر واپس آگیا ہے۔
ہیں؟؟ خاک چھان کر۔اوئے وہ پاکستان کا کوئی سرکاری محکمہ تو ہے نہیں ۔پھر یہ لوگ خاک کس طرح چھانتے رہے ہیں۔
او یار یہ پوچھ۔ کتوں والی کی ہے انھوں نے ان کے ساتھ۔ہمارے وزیر موصوف گئے تھے ساتھ وفد کے۔
سنا ہے وہاں صرف ان کے ساتھ ڈائریکٹر کی سطح کے لوگوں نے بات کی ہے۔
اوئے سچی؟؟
یار یہ تو بہت ماڑی گل اے یار۔
اوئے ان کے ساتھ ایسے ہی ہوتا ہے ہمیشہ۔
یہاں ایسے بیان دے رہے تھے جیسے وہاں رستم جہاں کا دنگل جیتنے جارہے ہیں۔ اب بڑے آرام سے بیٹھے ہیں۔ وہاں سے انھوں ‌نے ٹھنڈے کرکے بھیجے ہیں۔
یار یہ ہمارے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے۔
اور کس کے ساتھ ہو پیارے۔ ہمارے کام ہی ایسے ہیں۔ اب دیکھ لو ساری قوم سُسری کی طرح سو گئی ہے نا۔ صابن کی جھاگ طرح کی ان کی عقیدت اب بیٹھ گئی ہے۔ اور نیچے سے میل کی طرح ان کی اصلیتیں ظاہر ہوگئی ہیں۔دوغلا پن تو ان کے اندر خود ہے ۔
ہاں یار۔ اسی لیے ہر طرف سے ہمیں ہو جوتے پڑتے ہیں۔ رب سے بھی اور اس کے بندوں سے بھی۔
لے اور سن۔۔۔
اب کیا ہوگیا۔
یہ دیکھ آج کی اخبار میں۔۔ لکھا ہے:

“ایک اخباری خبر کے مطابق عراق کے وزیر تعمیرات جاسم محمد جعفر نے یہ بیان دیا ہے کہ عراق میں ہونے والے مزار بم دھماکے انتہائی تربیت یافتہ افراد کی کاروائی ہیں۔جاسم محمد جعفر نے دھماکوں کے فورًا بعد امام حسن عسکری اور امام نقی کے مزاروں کا دورہ کیا تھا انھوں بتایا کہ مزار کے چاروں ستونوں میں سوراخ کرکے دھماکہ خیز مواد بھرا گیا تھا جسے ریموٹ کنٹرول سے اڑایا گیا۔“
سنا بھئی شہزادے ۔ ہے نا موج۔ اور یہ مسلمان آپس میں لڑ رہے ہیں۔
یار پر میڈیا والے تو خودکش حملے کا شور مچا رہے ہیں۔
او میرے بھولے بادشاہ وہ تو ایسے ہی ‌کریں‌ گے۔آخر امریکہ بہادر کو تیل بھی تو چاہیے نا۔
بات تو تمھاری ٹھیک ہے استاد پر ہماری عقلوں‌ پر پردے کیوں‌ پڑے ہوئے ہیں۔
اور پائیا ابھی تو نے سنا پڑھا ہی کیا ہے یہ سن:
“ سڈنی مارننگ ہیرالڈ کے مطابق ہالینڈ کی حکومت نے بنیاد پرستی ماپنے کے لیے ایک ٹیسٹ وضع کیا ہے۔“
پتا ہے وہ ٹیسٹ کیا ہے؟
کیا ہے؟؟
نئے امیگرینٹ کو عریاں فلم دکھائی جائے گی۔جس میں دو ہم جنس پرست آپس میں بوس و کنار کر رہے ہیں اور ایک لڑکی مکمل عریاں ان کے ساتھ فلم میں‌ موجود ہے۔ اس فلم پر کسی شخص کے اشتعال کا اندازہ لگا کر اس کی بنیاد پرستی کا درجہ مقرر کیا جائے گا۔
کیوں بھئی استاد کیسی رہی؟؟
او یار یہ تو بڑے روشن خیال بنتے ہیں۔ ہمارے حکمران بھی ان کی روشن خیال کو بطور فیشن اپنا رہے ہیں۔
شہزادے ایسے ہی ہوتا ہے ابھی تُو آگے آگے دیکھ ہوتا کیا ہے۔
ابھی تو ابتدا ہوئی ہے۔ وڈے سائیں کہہ دیا نہ کہ یہ ہمارے دوست نہیں ہوسکتے۔
تو دیکھ لے میرے بھائی اس کی صداقت پرکھ۔ابھی تو اور ایسے کئی نمونے تیری میری نظر سے گزریں گیں۔
پر ہمیں ہوش کب آئے گا؟؟
جب پانی سر سے گزر گیا ویر میرے ہوش تب آئے گا۔اگر
آپ پاکستان سے بلاگ تک رسائی نہیں حاصل‌کرسکتے تو یہ ربط استعمال
کریں۔

جمعہ، 17 مارچ، 2006

بس عشق محبت۔۔۔۔۔۔

0 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 7:04 PM ,
امجد اسلام امجد کہتا ہے:
محبت ایسا دریا ہے کہ بارش
روٹھ بھی جائے تو پانی کم نہیں‌ہوتا
محبت عجب لفظ ہے اور اس سے زیادہ عجب عمل۔ محبت کیا ہے۔ کیا کسی نے جانا کہ محبت کیا ہے؟ محبت کوئی نہ نہ جان سکا۔ کوئی جان گیا تو بیان نہ کرسکا۔ محبت ہر کسی کے لیے ایک مختلف چیز۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھیں تو محبت یہ ہے کہ بس اللہ ہی اللہ ہو۔ ہر طرف اسی کا پرتو لگے ہر عمل اسی کے لیے ہو۔ اس کے عشق میں تھیا تھیا کرتے زندگی گزر جائے۔
ابوبکر،عمر،عثمان و علی رضوان اللہ علیھم اجمعین کو دیکھو تو محبت حبِ رسول ص ہے۔اللہ کے رسول ص کے عشق میں اپنا سب کچھ قربان کردو۔ اپنا گھر بار،اپنی جان تک۔
عجب چیز ہے یہ محبت ۔ کسی کو کنارے لگا دیا اور کسی کو سولی چڑھوا دیا۔
لیکن ٹھہریے محبت کی بھی قسمیں ہیں۔ جو محبت بیان کی گئی ہے یہ محبت وہ محبت نہیں‌ جو ہم آپ سوچتے ہیں محسوس کرتے ہیں۔ یہ محبت کسی کسی کو ہی نصیب ہوئی ہے۔اللہ سے محبت اور اس کے نبی ص سے محبت نصیب والوں کو ملتی ہے۔
ایک محبت وہ بھی ہے جسے دنیا عشق مجازی کے نام سے جانتی ہے۔عشق کیا ہے۔ محبت جب بے خود ہو جائے تو عشق بن جاتی ہے۔اور عشق مجاز کے روپ میں‌ جلوہ گر ہو یا حقیقت کے۔ عشق تو عشق ہے۔ عشق پھر چناب کی لہریں ‌اور کچا گھڑا نہیں دیکھتا، عشق پھر سولی اور کفر کے فتوے نہیں دیکھتا۔مجاز پر لوگوں نے بہت لکھا مگر ہمارا مقصد حقیقت کے عشق سے ہے۔
عشق دیوانہ کردیتا ہے۔اسی لیے ہوشمند پناہ مانگتے ہیں عشق سے۔پی کر سنبھلنے کا ظرف کسی کسی کے پاس ہوتا ہے۔ اس لیے ہوشمندوں نے ہر زمانے میں عشق کو برا جانا۔
محمد ص کا ظرف کسی کے پاس نہیں اور نہ کبھی ہوگا۔ اللہ کے عشق میں پور پور غرق اور اپنے امتیوں کے لیے ایک مثال بھی۔ دیکھو انھوں نے اللہ سے عشق کیا اور ایک کامل انسان ہونے کا مظاہرہ بھی کیا۔
ان کے بعد جب دل جلوں نے اس راہ عشق پر قدم رکھنا چاہے تو کسی کے پر جل گئے،کوئی ہوش خرد سے بے گانہ ہوگیا اور کسی نے انا الحق کا نعرہ لگایا۔مگر عشق کہاں باز آتا ہے، خار تھے،راستے دشوار تھے، مگر عشاق پھر بھی نہ باز آئے۔
عشق کا اپنا ہی مزہ ہے، جس کے منہ کو اس کی چاٹ لگ جائے اس کے لیے دنیا بے معنی ہوجاتی ہے۔محبوب کا وصال ہی اس کے لیے سب کچھ ہوتا ہے،کھانا، پینا سونا جاگنا۔
اپنا آپ وار کر بھی وہ خود کو نفع میں محسوس کرتا ہے۔ ایسے لوگ دنیا میں ہی جنت پا لیتے ہیں۔ میرے آپ جیسے جنت کی تلاش میں نمازیں پڑھتے،سجدے کرتے،گوڈے پیشانیاں سیاہ کرتے رہ جاتے ہیں۔ اور یہ لوگ بازی لے جاتے ہیں۔
مگر کیوں؟؟
عشق ہم بھی کرتے ہیں۔ مگر ہمارا عشق دنیا ہے،جنت ہے جنت میں ملنے والی ستر ستر حوریں‌ ہیں۔ ہم اس لیے اس کے سامنے ماتھا رگڑتے ہیں کہ ہمیں کاروبار میں وسعت مل جائے،ہماری پریشانیاں‌ ختم ہوجائیں،یا پھر ہمیں آخرت کی اچھی زندگی نصیب ہوجائے۔جنت اور جنت کی نعمتیں ہمارے پیش نظر ہوتی ہے، جن کے پس منظر میں‌ ان کا پیدا کرنے والا اوجھل ہوجاتا ہے۔
مذہب عشق میں اس کے ساتھ کسی کو جنت کی خواہش کو،جہنم سے ڈر کو، دنیا کے فائدوں کو لانا شرک ہے۔عشق یہ نہیں دیکھتا کہ یہ کیوں وہ تو بس یہ دیکھتا ہےکہ یہ ہے اور اسے اس نے پیدا کیا ہے۔بلھے شاہ کہتا ہے:
نہ میں پاکاں‌ وچ پلیداں
نہ میں موسٰی نہ فرعون
بلھیا کی جاناں‌ میں‌کون
عشق کیا جانے وہ کون ہے،وہ کونسا ہوشمند ہے جو حساب کتاب جوڑتا پھرے۔اسے تو بس محبوب سے غرض ہے، روکھی مل گئی اس نے کھالی،مرغ مسلم مل گیا اس نے کھا لیا۔کچھ نہ ملا تو دیدار محبوب سے لذت حاصل کرلی۔کسی عاشق کو بخار چڑھ گیا۔ بارگاہ محبوب میں عرض کی یاباری تعالٰی بخار بہت تنگ کرتا ہے اگر اتر جائے تو ۔۔۔ ۔
جواب آیا: بندہ ہمارا اور بخار بھی ہمارا تو کون ہے بولنے والا۔
عشق میں پھوں پھاں نہیں چلتی، کیوں،کیا کیسے عشق کرنے والے نہیں جانتے۔ وہ حساب نہیں لگاتے کہ یہ کام کیا تو اتنا ثواب ملے گا۔یہ کام کیا تو اتنی نیکیاں ڈپازٹ ہوجائیں گی ۔آج کی نمازیں‌ پوری ہوگئیں‌ یعنی فرض ادا ہوگیا۔
یعنی نماز نہ ہوئی بیلنس شیٹ کا حساب کتاب ہوگیا۔
صاحبو ہوشمند نہیں جھلے بن جاؤ۔ اسی میں فائدہ ہے۔عشق میں غرق ہوجاؤ اپنا آپ اس کے سامنے مار دو۔ اسے پا لو گے جس نے اسے پا لیا اس نے سب کچھ پا لیا۔عبادت کرو تو صلہ نہ مانگو تمھاری ہماری کیا مجال کہ کچھ مانگ سکییں۔ ہاں اس کی رحمت،فضل اور کرم مانگو۔ نہیں یہ بھی نہیں اس سے مانگو مولا تو ہمیں مل جا۔ جب وہ مل گیا تو سب مل جائے گا۔
دعا ہے کہ ہمیں ایسی نمازیں‌ اور عبادت نصیب ہوجائے جس کے بارے میں ارشاد کا مفہوم یہ ہے:
“احسان یہ ہے کہ تو اللہ کو دیکھے ورنہ یہ محسوس کرے کہ وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔“
اگر
آپ پاکستان سے بلاگ تک رسائی نہیں حاصل‌کرسکتے تو یہ ربط استعمال

اتوار، 5 مارچ، 2006

کچھ سنا تم نے۔۔

4 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 7:00 PM ,
بھئی پاکستان واقعی ترقی کررہا ہے
وہ کیسے؟
او بھئی اس نے امریکہ بہادر کے نقش قدم پر چلنا شروع جو کردیا ہے۔ رب چاہا تو وہ دن دور نہیں‌جب اپنا پاکستان بھی سپر پاور ہوگا۔
ہیں!!!! پر اس نے کس معاملے میں‌امریکہ بہادر کے نقش قدم پر چلنا شروع کردیا ہے۔ پہلے بھی تو اسے چلانے والے اسی کےکہنے پر چلاتے ہیں؟
او بھائیا اس بار انھوں‌ نے کچھ نیا کرنے کی سوچی ہے۔ ہر بار بندوق اور فوج سے تو کام نہیں‌چلتا نا۔ اس بار انھوں‌نے پیار والا کام کرنے کی ٹھانی ہے۔
واہ جی واہ۔ یعنی ہماری حکومت کو بھی ہوش آگیا!!۔ پر انھوں‌نے کیا کیا ہے؟؟
بھئی وہ اپنا ایف آئی اے نامی ایک ادارہ ہے نا۔
ہاں‌! وہی جو امریکہ بہادر کی ایف بی آئی کا ہم نام ہے۔پر یار ہم نام ہے مگر ہم کام کچھ نہیں۔ یہ تو ان کے پاسنگ بھی نہیں۔ یہ تو ذرا اونچے درجے کی پاکستان پولیس ہی‌ہیں۔
او بھائی اسی ادارے نے تو کام دکھایا ہے!!
سچی!!‌پر کیا ہے وہ بھی تو بتاؤ؟
انھوں‌ نے سوچا کہ اگر ایف بی آئی والے امریکہ میں‌ انٹرنیٹ کو چیک کرسکتے ہیں تو یہ ادھر پاکستان میں‌کیوں‌نہیں‌کرسکتے۔
ہیں!!!! بڑی بات ہے بھئی۔ یعنی ان کو بھی جدید ٹیکنولوجی کا استعمال آگیاہے۔
تو اورکیا۔ آگے سنو۔ ان لوگوں‌نے پتہ کیا کیا؟؟
کیا؟؟
ان لوگوں‌نے انٹرنیٹ‌پر ایک ویب سائٹ‌کو بلاک کردیا۔
پر کیوں؟
او یار وہاں‌ ہمارے رسول‌ص کے خلاف کچھ لوگوں نے توہین کی جسارت کی تھی۔
اچھا!
تو ایف آئی اے والوں‌نے اپنے اسلام کا بھی ثبوت پیش کردیا۔ یعنی دین بھی دنیا بھی ہم خرمہ و ہم ثواب۔
واہ جی واہ۔ پر سنا ہے کچھ لوگ اس وجہ سے رولا بھی ڈال رہے ہیں‌کہ یہ ناجائز ہے۔
اوئے ان کی کون سنتاہے۔ اجی یہ پاکستان ہے۔ امریکہ بہادر نے اگر پابندیاں لگانے کے لے پیٹریاٹ ایکٹ پاس کروایا تھا تو ہم اس کی تقلید میں‌ ایسے کام بلا کسی ایکٹ کے کرسکتے ہیں۔ آخر پہلے بھی اس اندھیر نگری بھی کوئی ایکٹ نام کی چیز ہے؟؟؟
بات تو تمھاری سولہ آنے ٹھیک ہے یار پہلے کیا ہے یہاں‌ایکٹ نام کا۔
یہ لوگ تو بے وقوف ہیں‌ایویں‌رولا ڈال رہے ہیں۔
واقعی ایویں‌رولا ڈال رہے ہیں۔ خود ہی دو چار دن میں‌صبر کر جائیں گے جیسے توہین رسالت‌ص کے معاملے میں پانی کے جھاگ کی طرح بیٹھ گئے ہیں۔

اگر
آپ پاکستان سے بلاگ تک رسائی نہیں حاصل‌کرسکتے تو یہ ربط استعمال
کریں۔

جمعہ، 3 مارچ، 2006

آپ کا نکتہ نظر

2 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 12:44 PM ,
(منظر شروع ہوتاہے۔ایک سوٹڈ بوٹڈ آدمی کیمرے کے سامنے ہاتھ میں مائیک لیے کھڑا ہے)ناظرین آپ کے پسندیدہ ٹاک شو کے ساتھ بےبس پاکستانی حاضر خدمت ہے۔ناظرین! آج کل تحفظِ ناموس رسالت کا بڑا چرچا ہے۔ اس سلسلے میں‌ ہڑتالیں، مار دھاڑ اور توڑ پھوڑ آج کل اِن ہے۔ اس سلسلے میں‌ہم نے آج کا پروگرام ترتیب دیا ہے جس میں‌ہم عوام سے ان کی آراء‌لیں‌ گے۔ تو آئیے پروگرام کا باقاعدہ آغاز کرتے ہیں۔
(ایک پریشان حال سے آدمی پر کیمرہ فوکس ہوتا ہے)یہ دیکھیے ناظرین سامنے ایک پریشان حال سے صاحب کھڑے ہیں‌آئیے ان سے پوچھتے ہیں‌کہ ان کی اس بارے میں‌کیا رائے ہے۔
بےبس پاکستانی: اسلام علیکم
پریشان حال: وعلیکم سلام
بے بس پاکستانی:جناب آپ اتنے پریشان کیوں ‌ہیں۔
پریشان حال: (غصے سے، کچھ تنک مزاجی سے تیکھی آواز میں) تو اور کیا جشن منائیں ‌بھیا۔ خوشی سے کدکڑے لگاتے پھریں۔ آج ہڑتال ہے اور میں‌مزدور ہوں۔ ٹھیکیدار نے آج کام سے فارغ کردیا ہے۔ کہتا ہے ہڑتالیے دھمکی دے کر گئے ہیں‌کام بند نہ ہوا تو سب جلا دیں‌گے۔ ارےبھیا ہم کیا کریں۔ کہاں‌سے کھائیں۔ گھر میں‌ کھانے کو روٹی بھی نہیں‌ صبح‌ایک باسی روٹی کھا کر آئے ہیں۔ پریشان ہی ہونگے اور کیا کریں۔خدا غارت کرے ان ہڑتالیوں‌کو غریبوں‌آہ پڑے ان پر۔
بے بس پاکستانی:تو جناب آپ کو یہ نہیں‌پتہ کہ یہ ہڑتال کیوں‌ہورہی ہے۔
پریشان حال: پتہ ہے بھیا! پر کیا کریں۔ پیٹ میں‌روٹی ہو تو ہم بھی ان کے ساتھ نعرے لگائیں۔ادھر تو پیٹ کے لالے پڑے ہیں اللہ انھیں‌بھی غارت کرے جنھوں‌نے ہمارے نبی‌ص پر کیچڑ اچھالا پر بھیا ہم اور کیا کرسکتے ہیں‌۔ تُو بتا ہم اور کیا کرسکتے ہیں۔
بے بس پاکستانی: (لاجواب ہوکے) بات تو آپ کی ٹھیک ہے۔ آئیے ناظرین وہ چھابڑی والے صاحب سے اس بارے میں‌ رائے لیتے ہیں۔(کیمرے کا رخ اب ایک فٹ پاتھی ہوٹل والے کی طرف ہے جو بڑی آس سے آنے جانے والوں دیکھ رہا ہے)
بے بس پاکستانی:اسلام علیکم
چھابڑی والا:‌وعلیکم سلام!(گاہک سمجھ کے)‌کیا کھائیں گے صاحب ۔روٹی ہے،دال ہے، چاول ہے بڑے پائے آج نہیں‌ہڑتال تھی ناں‌اس لیے نہیں‌لگائے۔‌‌(آخر میں فدویانہ نظروں‌سے اس کی طرف دیکھنے لگتا ہے)
بےبس پاکستانی: جناب ہم اصل میں‌ آج کی ہڑتال کے بارے میں رائے عامہ اکھٹی کر رہے ہیں‌آپ کی اس بارے میں‌کیا رائے ہے؟
چھابڑی والا: (کچھ مایوسی آمیز جھنجھلاہٹ کے ساتھ) بھائی ہم کیا کہیں۔ یہ تو ان لوگوں‌کے کام ہیں‌جن کے پاس پیسہ ہے۔ ہمیں‌تو اتنا پتا ہے بھائی کہ صبح چھ بجے سے منہ اٹھا کر بیٹھے ہیں‌اور ایک گاہک بھی نہیں‌آیا۔ ہر ہڑتال پر ایسے ہی ہوتا ہے۔ بھائی!‌ہمیں بھی غصہ ہے مگر ہمارے پیھچے درجن بھر کھانے والے ہیں‌ہم کیا کریں؟؟ ہماری آج کی دیہاڑی کون دے گا؟؟ اگر ہم رات کو بھوکے سوئے کل ہمارے پاس ریڑھی لگانےکے لیے بھی پیسے نہ ہوئے تو کون ذمہ دار ہے؟؟؟
بےبس پاکستانی: (کچھ خجل سا ہوکے کیمرے کی طرف دیکھتا ہے) ناظرین آپ نےان کی رائے سن لی آئیے اب ان صاحب کی طرف چلتے ہیں۔(کیمرہ ایک سٹوڈنٹ ٹائپ شخص پر فوکس ہوتاہے)
بےبس پاکستانی: اسلام علیکم
سٹوڈنٹ: وعلیکم سلام
بے بس پاکستانی: جناب آپ کی کیا رائے ہیں‌ یہ جو آج ہڑتال ہورہی ہے اور جو پہلے ہوئی کیا یہ سب ٹھیک ہے۔ کیا احتجاج کا یہ طریقہ ٹھیک ہے؟
سٹوڈنٹ: ان ۔۔۔۔ کے بچوں‌ کی ایسی کی تیسی انھیں‌ ایسا سبق سکھائیں‌گے کہ ساری زندگی یاد رکھیں‌گے ۔ ارے بھائی دیکھتے جاؤ کیا کیا ہوتا ہے۔ آج تو دنیا کو پتہ چل جائے گا ابھی مسلمانوں میں‌غیرت ہے۔ سڑکوں‌پر ٹائر جلیں‌ گے۔ ان پولیس والوں ۔۔۔۔ کے بچوں‌کو بھی دیکھ لیں‌گے ہم اگر انھوں‌نے روکنے کی کوشش کی۔ اجی رسول‌ص پر تو جان بھی قربان ہے۔
بےبس پاکستانی: (ایسے غضب ناک سے لہجے سے گھبرا کر) شکریہ جناب آپ کی رائے کا۔آئیے آپ اب ایک اور صاحب کی طرف چلتےہیں۔
(کیمرہ ایک مصروف سے شخص پر فوکس ہوتاہے جو موبائل پر بات کررہا ہے)
بےبس پاکستانی: اسلام علیکم
شخص: ( موبائل پر بات بند کرکے) وعلیکم سلام۔
بےبس پاکستانی: جناب ہم آج کی ہڑتال کے بارے میں‌ رائے عامہ اکٹھی کررہے ہیں ۔ آپ کی اس بارے میں‌کیا رائے ہے؟؟
سخص: دیکھیں‌جی یہ جو جلاؤ گھیراؤ‌ یہ لوگ کرنا چاہتے ہیں ۔ ایسا نہیں‌ہونا چاہیے۔ ان کا تجارتی بائکاٹ کیا جائے تاکہ ان کےمفادات کو ضرب لگے اور انھیں‌ احساس ہو۔
بےبس پاکستانی: تو جناب آپ نے اس سلسلے میں‌کیا قدم اٹھایا؟
شخص: ہم نے لوگوں‌کو اس بارے میں‌آگاہی فراہم کرنے کے لیے کام کیا ہے۔ یہ دیکھیں(ایک پمفلٹ نما پرچہ نکال کے) یہ ان پراڈکٹس کے نام ہیں‌ جو ان ممالک سے پاکستان میں‌آتی ہیں۔ہم لوگوں ‌میں‌احساس پیدا کر رہے ہیں‌ کہ ان کا بائکاٹ کریں۔
بےبس پاکستانی: (پرچے کو دیکھتے ہوئے) اس میں‌تو ایک یورپی ملک کی کمپنی کا نام بھی ہے۔ ویسے آپ کے پاس کونسا کنکشن ہے؟
شخص:‌میرے پاس ٹیلی۔۔۔(گڑبڑا کر) او جناب یہ میرا ذاتی معاملہ ہے آپ کو اس سے کیا؟؟(تیز تیز قدموں سے منظر سے نکل جاتاہے۔ کیمرہ کچھ دیر اس کا پیچھا کرتا ہے اور کےبعد دوبارہ میزبان پر فوکس ہوجاتاہے)
بےبس پاکستانی: یہ تھی ناظرین ایک اور معزز شہری کی رائے۔ اب ہم ایک سیاست دان کے پاس آپ کو لے چلیں‌گے جن کا تعلق اپوزیشن سے ہے۔
(منظر بدلتا ہے ایک ڈرائنگ روم نظر آنے والے کمرے میں میزبان ایک معروف سیاستدان کے ساتھ بیٹھا ہے)
بےبس پاکستانی: جناب معروف سیاستدان صاحب آپ نےاس ہڑتال کی کال دی ہے۔ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
معروف سیاستدان: (ذرا کھنگار کر)‌دیکھیں‌جی ہماری تو وہی رائے ہے جو ہمیشہ سے تھی۔ یہ ایسا کام ان ذلیل لوگوں نے کیا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ مگر اب معاملہ حد سے بڑھ چکا ہے۔ موجودہ حکومت سے عوام تنگ آچکے ہیں۔ روٹی کپڑا کیا یہ حکومت اسلام کی مقدس ترین ہستی‌ص کی ناموس کی حفاظت کے لیے کچھ نہیں‌کرسکی۔ آج عوام سڑک پر آکر یہ ثابت کردیں‌گے کہ حکومت حق پر نہیں‌انھیں‌اب اقتدار چھوڑنا ہوگا اور اسے دیانتدار لوگوں‌کو دینا ہوگا۔
بے بس پاکستانی: پچھلی ہڑتالوں‌میں‌ ہونے والے عوام کے مالی اور جانی نقصان پر آپ کی کیا رائے ہے؟؟
معروف سیاستدان: یہ بھی حکومت کی نا اہلی ہے۔ ہم نے کہا تھا کہ سیکیورٹی کا مناسب بندوبست کیا جائے۔جب جذبات مشتعل ہوں‌تو ایسے تو ہوجاتاہے۔
(میزبان شکریہ ادا کرکے باہر آجاتاہے۔منظر بدلتا ہے اب پھر میزبان ایک سڑک پر کھڑا ہے)
بےبس پاکستانی: ناظرین آپ نے ملک کےمعروف سیاستدان کا نکتہ نظر سنا۔ آئیے ہم آُپ کو سامنے کھڑ پولیس مین کی رائے سے بھی روشناس کراتے ہیں۔
(کیمرہ ایک جواں سال پولیس کانسٹیبل پر فوکس ہوتا ہے جو ایک ہاتھ میں‌وائر لیس اور دوسرے ہاتھ میں ڈنڈا لیے سر پر ہیلمٹ رکھے ایک طرف بےزار سا کھڑاہے)
بےبس پاکستانی: اسلام علیکم
سپاہی: ‌وعلیکم سلام
بےبس پاکستانی: جناب آج جو ہڑتال ہورہی ہے آپ کی اس بارے میں‌کیا رائے ہے؟
سپاہی: (کچھ بے زاری کے ساتھ) ہماری کیا رائے ہونی ہے جی۔ ہمیں‌تو ڈیوٹی کا حکم ملا تو حاضر ہوگئے چاہے ہماری ابھی چھٹیاں ختم نہیں ہوئی ‌تھیں۔
بےبس پاکستانی: کس چیز کی چھٹی پر تھے آپ جناب؟
سپاہی: او چھوڑو جی جس بھی چیز کی چھٹی پر تھے آپ یہاں‌سے جاؤ جی اب وہ دیکھو سامنے سے جلوس آرہا ہے۔انھیں‌ کنٹرول کرنے دو ہمیں۔
(کیمرہ جلوس پر فوکس ہوتاہے جس میں‌ لوگ نعرے لگاتے آرہے ہیں۔ جب جلوس آدھے کے قریب گزر جاتاہے تو میزبان ایک شخص ‌کو ہاتھ میں‌ ڈنڈا اٹھائے دیکھ کر روک لیتا ہے)
بےبس پاکستانی: معاف کیجیے گا!۔ جناب آج کی ہڑنال کے بارے میں‌آپ کی کیا رائے ہے؟
ڈنڈا بردار:(ذرا غصے میں‌ہے ڈنڈا لہرا کر) او بھائی رائے کا ہمیں‌ نہیں‌ پتا ہمیں‌تو ہائی کمان سے آرڈرہے جو دوکان کاروبار کھلا ملے اس کا بیڑہ غرق کردو۔ او یہ ناموس رسالت کا معاملہ ہے جی اور جب ہم پُکھے پھر رہے ہیں‌تو ان کی یہ جرات کہ دکانداری سجائیں۔
(اتنا کہہ کر وہ ڈنڈا بردار آگے بڑھ جاتاہے کیمرہ اب دوبارہ میزبان پر فوکس ہے)
بےبس پاکستانی: ناظرین ہمارے پروگرام کا وقت ختم ہوا جاتا ہے مگر آخر میں‌ ہم آپ کو ضلع ناظم کے پاس لیے چلتے ہیں‌جو حکومتی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور دیکھتے ہیں‌کہ ان کی کیا رائےہے۔
(منظر بدلتا ہے ایک دفتر نما کمرہ جہاں ایک بارعب شخصیت کا مالک شخص میزبان کے ساتھ بیٹھا ہے)
بےبس پاکستانی: اسلام علیکم
ضلعی ناظم: وعلیکم سلام
بےبس پاکستانی: ناظم صاحب آپ ضلع کے ہیڈ ہیں‌۔دوسرے آپ کا تعلق حکومتی پارٹی سے ہے۔آج کی ہڑتال کےبارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟؟
ضلعی ناظم: دیکھیں‌جی یہ اپوزیشن کے سستی شہرت حاصل کرنے کے ہتھکنڈے ہیں۔ ہمیں‌بھی اس غلیظ حرکت پر دکھ ہوا ہے۔ ہم نے اس سلسلے میں‌اقدامات بھی کیے ہیں‌۔ آپ میں‌سب جانتےہیں‌ حکومت اس سلسلے میں ‌کتنی سنجیدہ ہے ہر بین‌لاقوامی فورم پر ہم نے اس معاملے کو اٹھایا ہے۔اپوزیشن اس کو ایشو بنا کر اب سیاست کرنا چاہتی ہے۔ مگر ہم ایسا نہیں‌ہونے دیں‌گے۔ عوام کے جان ومال کا تحفظ ہر حالت میں‌یقینی بنایا جائے گا۔
بے بس پاکستانی:‌ آپ کا شکریہ۔
(منظر بدلتاہے میزبان ایک بار پھر ایک سڑک پر کھڑا ہے)
بےبس پاکستانی: تو ناظرین یہ تھا ہمارا آج کا پروگرام “نکتہ نظر“ اگلی بارکسی اور ایشو کو لے کر آپ کی خدمت میں‌حاضر ہونگے۔تب تک کے لیے اجازت اللہ نگہبان۔
(کیمرہ کلوزہوجاتاہے)
اگر
آپ پاکستان سے بلاگ تک رسائی نہیں حاصل‌کرسکتے تو یہ ربط استعمال
کریں۔

ابھی

0 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 12:04 AM ,
اے عشق، ہمیں لاچار نہ کر

فسوں نہ پھیلا، بے کار نہ کر

ابھی تو لمبی اڑان باقی ہے

ابھی وقت کی لگان باقی ہے

ابھی راہوں سے خار چننے ہیں

ابھی کچھ نئے خواب بننے ہیں

ابھی کچھ گرمیءِخون باقی ہے

ابھی دل میں جنون باقی ہے

ابھی اپنی ہستی کو تلاشنا ہے

اپنی ذات کا بت تراشنا ہے

ابھی نئے افق تسخیر کرنے ہیں

کچھ نئے تاج محل تعمیر کرنے ہیں

ابھی چراغوں میں روشنی باقی ہے

ابھی آنکھوں میں زندگی باقی ہے

ابھی اپنوں کا بہت ادھیکار ہے

ابھی قسمت میں کہاں پیار ہے

سو،اےعشق تو ابھی وار نہ کر

ابھی دنیا سے بے زار نہ کر