جمعہ، 22 جون، 2007

صوبائی اور علاقائی خودمختاری کے دیرینہ مطالبات اور حکومت

ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 2:16 PM ,

عرصہ دراز سے ملک کے مختلف حصوں سے خودمختاری دینے کے مطالبات آرہے ہیں لیکن ہر حکومت نے اس کو پس پشت ڈالا ہے۔ اب معاملہ یہ ہوگیا ہے کہ چھوٹے صوبے اور آئینی حقوق سے محروم یہ علاقے سراپا احتجاج بن چکے ہیں اور اسلام آباد کو نفرت کے نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں۔



سرائیکی صوبے کے قیام کا مطالبہ بہت پرانا ہے۔ ہر حکومت نے اور پنجابیوں نے خصوصًا اس کی مخالفت کی ہے۔ لیکن اب شاید پنجاب کو بھی عقل آنے لگی ہے اور سرائیکی صوبہ بنانے کی باتیں ہورہی ہیں۔


بلوچی قیام پاکستان کے فورًا بعد سے اپنی علاقائی خودمختاری کے بارے میں تحفظات کا شکار ہیں۔ ہر دس سے پندرہ سال میں بلوچ علاقوں میں بغاوت پھوٹ پڑتی ہے جسے بزور طاقت دبایا جاتا ہے۔ اب ان کو بھی حقوق دینے کی باتیں ہورہی ہیں اور کئی پیکج دئیے بھی جاچکے ہیں۔


اسی طرح کا ایک اور مسئلہ جو آہستہ آہستہ شدید ہوتا جارہا ہے شمالی علاقہ جات کے آئینی مطالبات۔ یہ علاقے قیام پاکستان کے وقت کشمیر کا حصہ تھے۔ ڈوگرہ راج کے خلاف بغاوت کرکے انھوں نے اپنے علاقے آزاد کرائے اور پاکستان میں شامل ہوئے ۔ شمالی علاقہ جات کے کئی خاندانوں  نے باقی کشمیر کی طرح اپنے خاندان والوں سے دوریاں برداشت کیں۔ بھارت کے زیر تسلط علاقے لداخ اور پاکستانی زیر انتظام گلگت، بلتستان اور سکردو دو نہیں ایک ہی تھے ۔اس لیے ان علاقوں میں ثقافتی اور خونی رشتے بہت پرانے ہیں۔ شمالی علاقہ جات کے پاکستانیوں نے صرف پاکستان کی خاطر ان دوریوں کو برداشت کیا۔


لیکن اب لگتا ہے کہ یہ معاملہ ان کی برداشت سے آگے جارہا ہے۔ عرصہ ساٹھ  سال سے ان علاقوں کو بغیر کسی آئینی حیثیت کے پاکستان میں شامل رکھا گیا ہے۔ فوجی لحاظ سے اہمیت کے حامل ہونے کی وجہ سے ناردرن لائٹ انفنٹری جیسی دو چار رجمنٹس یا فوجی اکائیاں تو تعمیر کردی گئی ہیں لیکن سیاسی طور پر یہاں کے عوام ابھی تک یتیم ہیں۔ ان کے سر پر وفاق کا ایک نمائندہ جو کہ وزیر برائے شمالی علاقہ جات و امور کشمیر ہوتا ہے بطور چیف ایگزیکٹو بٹھا دیا جاتا ہے۔ جب کے اس کا نائب مقامی کونسل کا منتخب کردہ چئیر مین جیسی کوئی چیز ہوتاہے۔ انھیں شکایت ہے کہ یہ عہدہ بھی بس برائے نام ہے اصل اختیارات وفاق کے پاس ہیں جس کا وزیر جب چاہے جو چاہے کردیتا ہے۔


حالیہ کچھ سالوں میں ان علاقوں میں سیاسی بیداری بہت تیزی سے آئی ہے۔ وہیں فرقہ وارانہ فسادات بھی بڑھے ہیں۔ اگرچہ گلگت میں کرفیو کی خبروں کو دبا دیا جاتا ہے یا اہمیت نہیں دی جاتی لیکن یہ حقیقت ہے کہ وہاں حالات اکثر انتہائی کشیدہ ہوجاتے ہیں۔ اب ان علاقوں کے لوگ اپنے آئینی حقوق کے مطالبات بڑی سنجیدگی اور سخت الفاظ میں کررہے ہیں۔


وقت کی ضرورت یہ ہے کہ ملک کے ہر علاقے کو خودمختار کیا جائے ۔اور وفاق کا کام صرف بیرونی امور اور اکائیوں کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنا ہو۔ اسی طرح شمالی علاقہ جات کو بھی وفاقی اکائی تسلیم کیا جائے ۔ آخر حرج ہی کیا ہے کہ انھیں پاکستان کا پانچواں صوبہ تسلیم کرلیا جائے تو۔۔۔۔


یہاں سے پاکستان کو سب سے زیادہ سیاحت کی مد میں آمدن ہوتی ہے ۔چین کے ساتھ ساتھ اب بھارت کے ساتھ سرحدیں کھل جانے سے تجارت سے بھی آمدنی بڑھ جائے گی۔


ارباب اختیار یہ نہ بھولیں کہ لداخ کے ساتھ رابطے بحال ہونے کی صورت میں بھارتی یقینًا یہاں بے چینی پھیلانے کی کوشش کریں گے اور پہلے سے موجود سیاسی اور مذہبی تحفظات کو ہوا دیں گے۔ یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ ان علاقوں میں پاکستان کے سب سے زیادہ فیصد شیعہ آباد ہیں۔ چناچہ ان کو الگ آئینی حیثیت دینے میں دیگر مذہبی عناصر کی معاندانہ سوچ بھی کارفرما ہوسکتی ہے۔(میں نے کافی عرصہ تک ملک کے ایک موقر روزنامے کے ایک کالم نگار کے کالم پڑھنے کے بعد اس موضوع پر لکھنے کا سوچا ہے۔اس میں موجود ساری باتیں ہوسکتا ہے حقیقت کی شاید پوری عکاس نہ ہوں لیکن یہ دعوٰی ہے کہ حقیقت اس سے بھی بڑھ کر تلخ ہوسکتی ہے کم نہیں۔)


آپ کا کیا خیال ہے؟


 


 

Back Top

4 تبصرے:

  1. ہمارے ملک و قوم کا اصل مسئلہ جھوٹ اور خود غرضی ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو کسی جابر کی جرات نہ تھی کہ حکمران بن بیٹھتا ۔
    رہے مسائل تو وہ صرف سرائیکی یا بلوچی یا کشمیری ہی نہیں قوم کی اکثریت کے ہیں جن پر اکثریت کی اپنی غلطیوں کی وجہ سے اقلیت حکمران چلی آ رہی ہے ۔ جب لیاقت علی خان قتل ہوئے اگر اس وقت قوم اُٹھ کھڑی ہوتی اور سڑکوں پر خلوصِ نیت سے احتجاج کرتی تو غلام محمد سکندر مرزا ایوب خان یحیٰ خان ضیاء الحق اور پرویز مشرف میں سے کو بھی حکمران بننے کی جرات نہ کرتا ۔ آج جو کچھ قوم کے ساتھ ہورہا ہے اس کا آدھا بھی پہلے نہ ہوا تھا لیکن قوم ابھی تک سوئی ہوئی ہے یا پھر بے حس ہے ۔ جب تک بچہ نہ روئے اسے اس پر جان و آرام نثار کرنے والی ماں بھی دودھ نہیں پلاتی ۔

  2. جی یہ بات تو سب سے اہم ہے کہ یہ قوم بے حس ہوچکی ہے۔ اسی بے حسی نے آج ہمیں اس حال کو پہنچا دیا ہے۔ بڑے شہر اور اہم علاقے پھر بھی کچھ اچھی حالت میں ہے لیکن چھوٹے صوبے بڑی محرومی کا شکار ہیں۔ ہر بار انھیں کچھ لالی پاپ دے کر چپ کروا دیا جاتا ہے لیکن درد کی دوا نہیں کی جاتی۔

    محمد شاکر عزیز at 23 جون، 2007 10:07 AM
  3. دوست آپکی بات صد فیصد درست ہے ہم حال مست قوم ہین اپنا پیٹ بھر جائے تو سمجھتے ہیں کہ ساری دنیا کے بھوکے شکم سیر ہو گئے ہیں۔ مسائل یقینًا کافی سنجیدہ اور کثیرالجہت ہیں جو بوٹ مارکہ اور اس کی کاسہ لیس اشرافیہ کی فہم و ادراک سے ذرا بالا بالا ہی ہیں جو کبھی کشمیر فتح کرنے کے خواب دکھاتے تھے آج کشمیریوں کو فتح کرنے کے چکر میں ہیں۔ کشمیر سے یاد آیا میرے ایک سری لنکن ساتھی نے ایک دفعہ مجھے یہ کہہ کر لاجواب کردیا کہ “ اگر کشمیر پاکستان کے کنٹرول میں آجائے تو کیا پاکستانیوں کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟“

  4. مسائل حل ہونے یا نہ ہونے کی بات نہیں کرتا میں۔ یہاں تو یہ حال ہے کہ انّھیں ہتھ بٹیرا(اندھے کے ہاتھ بٹیرا) سو حال ہمارا پاکستانیوں کا ہے۔ جو حصہ ہمارے پاس ہے اسے کتنا سنبھال لیا ہے ہم نے۔

    محمد شاکر عزیز at 25 جون، 2007 7:01 PM

ایک تبصرہ شائع کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔