اتوار، 23 ستمبر، 2007

عام سے لوگ اور عام سی باتیں

ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 3:05 AM ,

کئی دن سے ایک رسالہ لائبریری سے آیا ہوا تھا کل وہ واپس دینے گیا تو وہاں باتوں ہی باتوں میں وہی عام سی باتیں شروع ہوگئیں۔


لائبریرین عرفان بھائی نے حسب معمول کاروبار کا موضوع چھیڑ دیا۔ کہنے لگے کچھ بھی نہیں رہا۔ دونمبر کام کرنے والوں کے مزے ہیں اور مزدور آدمی کو دو وقت کی روٹی ملنا مشکل سے مشکل ترین ہوگئی ہے۔ گندم چھ سو روپے من ہوگئی ہے۔ لائبریری کا طریقہ کار یہ ہے کہ کتاب کی رقم کے برابر سیکیورٹی رکھوا کر پھر کتاب کرائے پر ایشو کی جاتی ہے۔ بتانے لگے اب لوگ پیسے رکھنے سے کترانے لگے ہیں۔ کسی کا دو سو روپیہ بھی جمع ہے تو کہتا ہے بس واپس کردو۔


عرفان بھائی لائبریری کو سروے پلیس کہتے ہیں۔  ہر طرح کے لوگ یہاں آتے ہیں تو سروے خود ہی ہوجاتا ہے۔ اور ان کے اس سروے کے مطابق عام آدمی اس وقت ایسی حالت میں ہے جیسے کسی نے گِچی(گردن)  سے کَس کر پکڑ رکھا ہو۔ ایک خاتون کا قصہ سنانے لگے کہ اس دن آئی تو کہنے لگی عرفان بھائی رمضان ہے بچے افطار کے وقت سیب مانگتے ہیں کہاں سے لا کر دیں اتنے مہنگے ہیں۔ پھر خود ہی سبزیوں کے ریٹ بتانے لگے کہ ستر روپے تک کلو  ہوگئی ہیں۔ کریلے اور ٹینڈے جنھیں میرے جیسے منہ لگانا پسند نہیں کرتے تھے اب قریب نہیں آنے دیتے۔ آٹے جیسی بنیادی ضرورت کی چیز نہیں مل رہی۔ حکومت والے کہتے ہیں یوٹیلٹی سٹور پر دستیاب ہے۔ ان کے باپ کے نوکر ہیں جو یوٹیلٹی سٹور سے جاکر قطاروں میں لگ کر یوٹیلٹی سٹور والے کی منتیں کرکے ساتھ اور بھی زبردستی کی خریداری کرکے آٹا لیں۔


عام سی باتیں کرتے کرتے کئی اور دوست اکٹھے ہوگئے اور پھر بات مشرف کے الیکشن تک پہنچ گئی۔ ایک دوست کا خیال تھا اس قوم کو چھِتر ہی پڑنے چاہئیں۔ نہ یہ ان لیڈروں کو منتخب کرے اور نہ وہ ان کا استحصال کریں۔ عرفان بھائی کا خیال تھا کہ کون ایسا کرے۔ کوئی بھی نہیں کرے گا۔ ہمارے اندر اتحاد کی کمی ہے اور سب سے بڑھ کر لیڈرشپ موجود نہیں۔ اس سوال پر کہ لیڈرشپ کہاں سے آئے وہ بولے ہم تو یہ نہیں کرسکتے اب تو یہ نوجوانوں کا کام ہے۔ وہ آگے بڑھیں۔


اور میں سوچنے لگا کہ نوجوان کیا کررہے ہیں۔ نوجوان کراچی میں ہیں تو لسانی مذہبی تنظیموں کے چنگل میں پھنس کر اپنا آپ گنوا رہے ہیں۔ نوجوان پنجاب میں ہیں تو انھیں دو وقت کی روٹی کی فکر ہے یا یہ کہ اچھی نوکری مل جائے پڑھ لکھ کر۔ نوجوان سرحد اور بلوچستان میں ہیں تو اتنے زہریلے اور کڑوے کہ اپنوں کو ہی ڈنک مار رہے ہیں۔ اور ان کے علاوہ باقی قوم؟


باقی قوم دو وقت کی روٹی کی فکر میں بھاگے چلے جارہی ہے بھاگے چلے جارہی ہے۔ تَیلی کے بیل کی طرح ایک ہی دائرے میں صبح شام شام رات رات صبح پھر شام اور یہی چکر ازل سے ابد حتٰی کہ ایک دن لڑکھڑا کر گرتے ہیں اور مرجاتے ہیں۔ ان کی جگہ نیا بندہ لاکر کھڑا کردیا جاتا ہے پھر وہی چکر۔


اور لیڈر کیا کررہے ہیں۔ لیڈروں کو اپنی کرسیاں بچانے کی پڑی ہے۔ منافع کی پڑی ہے۔ اب اس چیز کو مہنگا کردو۔ اس کو بلیک کردو۔ یہ پرمٹ لے لو۔ اس بات یہ ڈیل کرلو۔ فلانا ہاتھ آیا ہے کام نکلوا لو۔ صدر کو اپنی صدارت کی ہے۔ وزیروں کو وزارت کی ہے۔ چوہدریوں کو چوہدراہٹ کی ہے۔


اگر آپ پاکستان کو اوپر سے دیکھیں تو ایسے لگے گا جیسے عام آدمی گلے کی بکریاں ہیں جو سرجھکائے بکریوں نہیں گدھوں کی طرح کام میں جتے ہوئے ہیں اور ان  کی رکھوالی کرنے والے آپس میں کتوں کی طرح ہڈی کے لیے لڑ رہے ہیں۔ دور کسی بلندی پر کوئی بیٹھا کچھ دیر بعد ان کے لیے ایک ہڈی پھینک دیتا ہے اور وہ پھر سے اس ہڈی کے لیے لڑنے لگتے ہیں۔


عجب طُرفہ تماشا ہے۔

Back Top

3 تبصرے:

  1. نااتفاقی کی لت جب تک ہم میں رہیگی ہمارا یہی حال ہوگا۔

  2. گلاس آدھا بھرا ہوا بھی ہے۔

  3. ہے یار لیکن بہت سے معاملات میں اب برداشت کی حدیں پار ہوگئی ہیں۔

    محمد شاکر عزیز at 23 ستمبر، 2007 11:55 PM

ایک تبصرہ شائع کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔