اتوار، 2 دسمبر، 2007

حسب معمول سانپ نکل گیا اب لکیر پیٹی جائے گی

ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 11:58 PM ,
سوات میں‌ہونے والا "آپریشن" اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ طالبان کا "صفایا" کردیا گیا ہے۔
اب ہر طرف امن اور سکھ چین ہے۔
اطلاعات سے پتا چل رہا ہے کہ طالبان اچانک اپنے مورچے چھوڑ کر غائب ہوگئے ہیں۔ ایک خدشہ یہ بھی ہے کہ شاید اب وہ چھاپہ مار جنگ کریں۔ لیکن اس سے بھی وڈی چیز وہ سوالیہ نشان ہیں جو لال مسجد آپریشن کے بعد قوم کے سامنے ناچتے رہے۔ اب پھر سے خٹک ڈانس کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ بڑے سادہ سے سوالات ہیں۔
جیسے مولانا فضل اللہ کو آخر اتنی ڈھیل ہی کیوں دی گئی؟
ایک عرصے تک آخر کیسے اپنا ایف ایم ریڈیو مولانا موصوف بغیر کسی رکاوٹ کے چلاتے رہے؟ آپس کی بات ہے اگر میں مشرف کی جگہ ہوتا تو پہلے اس ریڈیو کے ٹاور پر نیپام بم گروا کر اس کو نیست کرواتا اور پھر کوئی اور کام کرواتا۔
طالبان نے پولیس اسٹیشنوں پر قبضہ کیوں کیا اور انھیں‌ وہ خالی ہی کیوں ملتے رہے؟ وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔
چونکہ یہ ہماری پرانی عادت ہے کہ سانپ نکل جائے تو پھر لکیر پیٹنا شروع کرتےہیں۔ سو اخبارات میں‌ بھی کالم نگاروں کو اس سلسلے میں‌ ہوش آگیا ہے۔ حمید اختر ایکسپریس کے سینئیر کالم نگار ہیں ان کا دو حصوں میں‌ موجود کالم پڑھیے اور سر دھنئے۔



قیاسات اور خیالی گھوڑوں کی ایک فوج ہے جو دوڑائی جاسکتی ہے۔ لیکن جس نے بھی یہ کیا ہے بڑے منظم انداز میں کیا ہے۔ ادھر بی بی سی اردو پر ملاحظہ کیجیے مشرف صاحب کا بیان
پتا نہیں اس شخص کے جانے کے بعد ہمیں کب تک اس کے "ضمنی اثرات" سے نمٹنا ہوگا۔

Back Top

14 تبصرے:

  1. یعنی آپ بھی مشرف کی طرح صرب بم اور بارود کی زبان میں بات کرتے؟

  2. jab yeah sab kcuh ho raha tha tu molvioon kee hakoomat kiyya kar rahee thee? soba main amno amaan kee zumadaaree sobai hakoomat kee hai isleeay tamaam tar zumedaaree MMA kew hakoomat kee hai. ub MMA gai hai tu wafaaqee hakoomat maslay ko hal karnay kee koshssi kar rahee hai.

  3. میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ جو لوگ ضیاءالحق کو افغان جہاد کا زمہ دار ٹھراتے ہیں وہ یہ کیوں نہیں بتاتے کہ اس کو اس کے علاوہ کیا کرنا چاہیئے تھا روسی فوج کا اپنے ملک میں انتظار؟(یہاں یہ واضح کردوں کہ میں اس کا فین بلکل نہیں ہوں مگر اس وقت اس نے جو کیا کوئی بھی ہوتا یہی کرتا یا پھر روسیوں کا پاکستان میں گھسنے کا انتظار کرتا جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ روسی صرف افغانستان میں ہی رک جاتے وہ احمقوں کی جنت مین رہتے ہیں یہ گرم پانیوں تک کون پہلے پہنچے گا کی امریکی اور روسی جنگ تھی جسے میں امریکا نے روسیوں کو شکست دی اب وہ خود وہی کرنا چاہتا ہے اگر آپ لوگ بھول گئے ہیں کہ ان کا پلان پاکستان کے 4 حصے کرنے کا تھا اور ان بےغیرت سیاست دانوں کے ہوتے یہ کچھ مشکل بھی نہ تھا بلوچی آزاد بلوچستان بنا کر خوش ہوجاتے پٹھان پختونستان بنا کر سندھی سندھودیش اور پنجابی پنجابستان یا گریٹر پنجاب میں جس کی دم میں کراچی کو اٹکا دیا جاتا،اگر یہ نہ ہوسکا تو کوئی بہانہ بنا کر حملہ تو کیا ہی جاسکتا ہے اس لیئے کہ مشرف ایران اور سعودی عرب کو قریب لے آیا اس نے ترکی کو اس گٹھ جوڑ میں شامل کرلیا،یہ اسلامی ملک اگر اپنے اختلافات بھلا کر اسی طرح ایک ہوتے رہے اور انہوں نے یورپی یونین جیسا کوئی اتحاد قائم کر لیاتو امریکا کی تباہی یقینی ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں افراتفری پھیلائے رکھو تاکہ یہ وہ کام نہ کرسکے جو بھٹو ادھورا چھوڑ گیا ہے یعنی امت مسلمہ کا اتحاد،

  4. Pakistan ku tornay ka leeay amreeka ya roos kee zaroorat nahain. Quiad e Azam ko kafir e azam aur pakistan ku aik gunah aur na-pakistan kehnay walay maulvi yeah kaam braee khus asloobee say anjaam day rahay hain...in "dostoon" kay hotay huay dushmanoon kee zaroorat nahin...

  5. مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے حکمران ایک خراش کو ناسور بنا دیتے ہیں اس کے بعد اس کا علاج شروع کرتے ہیں۔ اگر ایکشن لینا ہی ہے تو فورًا ہی کیوں نہیں لیا جاتا۔ بات اس وقت بھی ہوسکتی تھی اور جو یہ آج کررہے ہیں اس وقت بھی ہوسکتا تھا۔

    محمد شاکر عزیز at 3 دسمبر، 2007 2:12 PM
  6. dekhain jee hukmaraan tu molvi thay sooba sarhad main...ub iska ilzaam tu aap mushraf ko nahain day saktay...molvi agar khud is maslay say pehloo tahee kartay rahain hain tu yeah inka kasoor hai...ub molvi gai hain tu musharaf sahib ko mauqa mila hai baghair molvioon kay iteraaz kay kaarwaee karnay ka.

  7. مشرف اور مولوی ملے ہوئے ہیں‌ جی۔ اگر مشرف چاہتا تو ان کی ایسی کم تیسی کہ بول جاتے۔ یہ سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔

    محمد شاکر عزیز at 3 دسمبر، 2007 4:05 PM
  8. فیوڈل سسٹم

  9. جی ہاں پھر آپ جیسے جمہوریت کے دعوے دار وہ ہا ہا کار مچاتے کہ سب سے پہلے صوبہ سرحد ہی الگ ہوجاتا!
    آپ لوگ جو اصل مسلے کی جڑ ہے اس پر کوئی ضرب کیوں نہیں لگاتے فیڈل سسٹم کو ختم کرنے کے بجائے ایک غیر پنجابی آپ کے ہاتھ لگ گیاہے( ہے پہلے دو تھے)بس اس پر تاک تاک کر نشانہ بازی کیئے جاؤ،باقی تو سارے جیسے دودھ کے دھلے ہیں!

  10. عزیزی پہلے تو پنجابی اور غیر پنجابی کی بات نہ کرو۔ مجھے زہر لگتے ہیں یہ دو لفظ۔
    دوسری چیز یہ ہے کہ بات مشرف کے کارناموں کی ہورہی ہے۔ وہ سب پر روز روش کی طرح عیاں ہے کہ وہ اور اس کی ایجنسیاں کیا کررہی ہیں۔ کیا اس کے پاس پاور نہیں تھی؟
    فوج سے بڑھ کر اور طاقت کیا ہوگی فیوڈل سسٹم کو ختم کرنے کے لیے۔ اتنا ہی اچھا تھا تو ان مامے کے پتروں کو اپنے اردگرد کیوں اکٹھا کرلیا اس نے؟
    عجیب لوگ ہیں ہم بھی ۔۔آنکھ کا شہتیر بھی نظر نہیں آتا ہمیں۔

    محمد شاکر عزیز at 4 دسمبر، 2007 4:06 PM
  11. ہاں آنکھ کا شہتیر بھی ہمیں نظر نہیں آتا یہی تو میں بھی کہتا ہوں،سب دوسرے کی آنکھ کے تنکے ٹٹولتے پھر رہے ہیں،فوج میں اکیلا مشرف نہیں ہے بلکہ ان چاچے ماموں کے رشتہ دار بھی ہیں آپ بھٹو کا انجام بھول گئے اس کا سب سے برا قصور ہی یہ تھا کہ اس نے زرعی اصلاحات شروع کی تھیں جس کے نتیجے میں صرف دشمن ہی نہیں دوست بھی اسے تختہ دار پر پہنچانے میں شامل رہے،خود اس کا کزن ممتاز علی بھٹو بھی،
    دریا میں رہ کر مگر مچھ سے بیر بھٹو کو راس نہیں آیا تو مشرف کیا چیز ہے،سب کچھ ہوگا مگر رفتہ رفتہ اور اس کے لیئے عوام کو ہی اٹھنا ہوگا یہ چھوٹی سی بات آپ کے دماغ میں کیوں نہیں آتی،
    رہا پنجابی اور نان پنجابی کا سوال تو اس پر مجبور آپ ہی لوگوں نے کیا ہے کسی غیر پنجابی کی کوئی اچھائی آپ لوگوں کو نظر ہی نہیں آتی ہے ہاں کیڑے ڈالنے کو ہر وقت تیار رہتے ہیں یقین نہ ہو تو ایک بار پھر اردو سیارہ کی ساری پوسٹ اٹھا کر پڑھ لیں،کسی پنجابی کا کرپشن نظر نہیں آتا ہاں غیر پنجابی ہو تو پھر کیسا لٹھ لے کر پیچھے پڑتے ہیں وہ جو میرا پاکستان کرتے پھرتے ہیں انہیں سیالکوٹ کا ایئر پورٹ تو نظر آگیا مگر کراچی میں ہوتے ترقیاتی کام نظر نہیں آتے ہاں ایک انڈر پاس میں فالٹ کی وجہ سے پانی بھرا تو سب نے ایک ہو کر طوفان بدتمیزی مچا دیا سیالکوٹ ایر پورٹ کے لیئے حکومت نے جو سہولیات مہیا کیں انہیں ایک جملے میں یہ کہ کر ختم کردی کہ حکومت نے بھی اس میں اپنا مقدور بھر حصہ ڈالا جیسے حکومت کے اچھے کاموں کی تعریف کرنا تو گناہ کبیرہ ہے،مشرف کے کارنامے گنواتے ہوئے انہیں اس کا کیا ہوا کوئی اچھا کام یاد نہیں آیا ،شوکت عزیز کے دورے تو یاد رہے لیکن اس جو فارن انویسٹمینٹ ہوئی وہ ملک کو غیروں کے ہاتھ بیچنا ہو گیا،اللہ آپ سب کو ہدایت عطا فرمائے آمین،

  12. یار ہم نے کب کہا ہے کہ کراچی میں‌ اچھا کام نہیں ہورہا۔ لیکن اس میں‌ پنجابی اور غیر پنجابی آخر کہاں‌ سے آجاتا ہے۔ ہر جگہ پر ایک جنرل بات ہوتی ہے‌ چاہے کہیں تعریف کی گئی ہے یا تنقید۔ آپ لوگ اس بحث کو کیوں‌ نہیں‌ چھوڑ‌ دیتے۔ پہلے کیا کم ٹوٹے ہیں اس قوم کے جو ایک اور لکیر کھینچنا چاہتے ہو؟

    محمد شاکر عزیز at 5 دسمبر، 2007 4:20 AM
  13. bhui abdullah agar aap ko yeah mulk pasand nahain hai tu baray shok say wapis chalay jaain. aik ham nay aap ku rehnay kee jaga dee doosray 60 saal tak khilaya aur ub aap hamain hee baatain kartay hain? aap ku kisnay kaha Karachi aap ka hai? kiya aap kay mama bawa isay India say saath lekay aay thay? aur jab aap aay thay tu saath kiyya lay kay aay thay? us waqt tu aik punjab hee tha jis nay aap samait saaray logoon ku khilaya. na steel mill thee na degar businesses, na karchi main kuch ugta tha, na dam na gas aur tail..siraf punjab kee aamdanee thee.. aaj ham nay aap ku kuch bana diyya hai tu hamain hee miaoon karnay lagay? jaaeey baray shok say altaf bhai kay paas london chalay jain ya india wapis aur hamaara kharchi chorain

    agar Punjab bura hota tu sab say pehlay Punjabi ku qaumee zabaan banaya jata..app nay hamaray kisee ehsaan ka acha badla nahain diyya ...aoopar say aap ka urdu speaking sadar jis tara mulk ka bera gark kara raha hai wo sab kay saamanya hai...siraf punjabi leader or cheif justice hee insaaf kay leeay lar rahay hain...bhayaay saaray to upnay urdu speaking dictator ka saath day rahay hain aur phit bhee punjab pay jageerdaaree ka ilzam lagatay hain. jitnee jageerdaaree aapkay altaf bhai karachi main aur musharaf bhai pooray mulk main kar rahay hain wo kisee nain kiyya ho gee.

  14. شانتی شانتی۔۔۔
    یار تساں تو سیریس ہی ہوگئے۔ بھائی یہاں کوئی پنجابی غیر پنجابی اور اردو غیر اردو کی تفریق نہیں ہے۔ تفریق ہے تو حاکم اور محکوم کی۔ جس میں پورے ملک سے لوگ شامل ہیں۔
    میری درخواست ہے کہ انتہا پسندی نہ کریں۔ ہماری یہ بڑی پرانی اور نامعقول عادت ہے کہ ہم ہر معاملے میں انتہا پسند ہیں۔

    محمد شاکر عزیز at 6 دسمبر، 2007 1:47 PM

ایک تبصرہ شائع کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔