بدھ، 19 دسمبر، 2007

زبان:‌ کیا ہونا چاہیے اور کیا ہوتا ہے!!

ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 12:18 AM ,
لسانیات میں‌ ہمیں دو بہت ہی اہم تصورات سے متعارف کروایا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر لسانیات اور خصوصًا اطلاقی لسانیات (Applied Linguistics) میں زیادہ تر کام انگریزوں کا ہے یا ایسے لوگوں کا جو انگریز نہیں لیکن انگریزی بول سکتے ہیں اور انھوں نے یہ کام انگریزی کے نکتہ نظر سے کیا۔ اطلاقی لسانیات کی بات چلی تو بتاتا چلوں زبان کو سیکھانے کے سلسلے میں ہونے والے تمام اعمال اسی شعبے میں آتے ہیں۔ اچھا لینگوئج ٹیچر اطلاقی لسانیات پر گہری نظر رکھتا ہے اور اس میں ہونے والی پیشرفت سے فائدہ بھی اٹھاتا ہے جیسے سکھانے کے نئے طریقے وغیرہ۔
واپس موضوع کی طرف آتے ہیں ان تصورات کی طرف۔ اٹھارہویں صدی یا اس سے پہلے انگریزی کے ماہرین لسانیات ایک چیز پر بڑی سختی سے اعتقاد رکھتے تھے اور وہ تھا کہ زبان کو "پابند" ہونا چاہیے۔ پابندی سے مراد یہاں یہ ہے کہ گرامر لکھتے وقت یہ بتایا جاتا کہ انگریزی ایسے لکھی اور بولی جائے نہ کہ کسی اور طرح۔ "معیاری" اور "غیر معیاری" زبان کے بارے میں‌ ان کا نظریہ یہ تھا کہ معیاری زبان وہ ہے جو ماہرین گرامر و لسانیات کے بیان کردہ قواعد کے مطابق لکھی اور بولی جاتی ہے۔ غیر معیاری سے مراد وہ زبان تھی جو عام لوگ بولتے تھے اور عمومًا ان قواعد سے ہٹ‌ کر۔ اب یہ قواعد کیا تھے؟ انگریزی کی "آبائی" زبانوں یعنی لاطینی، یونانی وغیرہ کے قوانین جو وہ اس پر بھی لاگو کرنے کی کوشش کرتے۔ اس نظریے کو Prescriptive Approach کے نام سے ہمیں پڑھایا جاتا ہے۔ یعنی زبان میں "کیا ہونا چاہیے"۔
وقت نے ان کے اِن نظریات کو غلط ثابت کیا اور آج ہم جانتے ہیں کہ زبان ایک دریا کی مانند ہے۔ جو وقت کے راستے پر بہتا چلا جاتا ہے۔ اس پر ہم بند نہیں باندھ سکتے۔ اگر باندھیں گے بھی تو یہ کسی اور طرف سے آگے جانے کا راستہ نکال لے گا۔ چناچہ زبان کو پرانے قواعد کا پابند کرنے کی بجائے ہمیں صرف موجودہ حالت کو "بیان" کرنا چاہیے۔ بجائے کہ ہم یہ بتائیں یہ ایسے نہیں ایسے ہونا چاہیے ہمیں یہ بتانا چاہیے کہ اس زبان کے بولنے والے یہ چیز اس طرح استعمال کرتے ہیں۔ اسے ہم Descriptive Approach کے نام سے جانتے ہیں۔
بیان کردینے کا مطلب یہ نہیں کہ زبان قواعد کی پابندیوں سے آزاد ہوگئی بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان زبانوں کے قواعد کی جان اب چھوڑ دی جائے جو کئی سو سال پہلے اس زبان کی آبائی یا مادری زبانوں میں موجود تھے۔ انگریزی اب ایک الگ زبان ہے چناچہ اس پر لاطینی اور یونانی زبان کے قواعد لاگو نہیں ہوسکتے۔ اگر انگریزی نے وہاں سے گرامر، ذخیرہ الفاظ اور آوازیں مستعار لی ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان زبانوں کے تمام قواعد اس پر فٹ بیٹھیں گے۔
اصل میں اس سارے پس منظر کا مقصد اردو کے حوالے سے کچھ ایسی ہی گفتگو کرنا تھا۔ اردو کی آبائی زبانیں فارسی، عربی، قدیم ہندی یا ہندوی اور دوسری علاقائی زبانیں ہیں۔ اردو جب ظہور پذیر ہورہی تھی تو اس نے بہت سی چیزیں عربی، فارسی اور سنسکرت وغیرہ سے لیں۔ لیکن آج چار سو سال کے بعد اردو کی اپنی ایک شناخت ہے۔ اس کا اپنا ذخیرہ الفاظ، الفاظ بنانے اور ملانے کی تراکیب، گرامر اور آوازیں ہیں۔ اگر ان میں سے کچھ یا سب ہی کسی دوسری زبان جیسے عربی یا فارسی سے اخذ کردہ ہیں تو کیا ہوا؟ اردو کی ہر چیز اپنے اندر مکمل ہے اور اس کے صارفین کی ضروریات کو بہ احسن پورا کرتی ہے۔
اکثر احباب قواعد کی غلطیوں کو عربی، فارسی اور ہندی تک لے جاتے ہیں۔ چند دن ہوئے محفل پر املاء کی درستگی کے دھاگے میں کسی دوست نے بات کی کہ "لاپرواہ" نہیں‌ بے پرواہ ہونا چاہیے۔ چونکہ لا عربی سے ہے اور عربی میں‌ پ کی آواز کی نہیں ہوتی اس لیے لاپرواہ کی بجائے بے پرواہ ہونا جاہیے۔ اسی طرح کبھی سکول میں غلط درست محاورے وغیرہ رٹا لگایا کرتے تھے وہ وہاں‌ بھی کچھ اس قسم کے قواعد بتائے جاتے تھے کہ فلاں‌ فارسی سے اور فلاں ہندی سے چناچہ ان کو ملانا درست نہیں۔
میرا اس معاملے میں استدلال یہ ہے کہ یہ اردو ہے اور اس میں ہمارے پاس یہ قواعد موجود ہیں کہ ہم کسی سابقے یا لاحقے کو دوسرے لفظ سے مرکب کرکے نئی ترکیب تشکیل دے سکتے ہیں قطع نظر اس بات کے کہ اس لفظ‌ کا ماخذ‌ عربی، فارسی یا ہندی ہے۔ ان میں یہ لفظ یقینًا اس طرح استعمال نہیں‌ ہوتا ہوگا اور نوے فیصد یہ چانس ہے کہ یہ لفظ‌ سرے سے اس شکل میں موجود ہی نہیں‌ ہوگا۔
زبان میں تبدیلی آرہی ہے آپ اسے غلط جانیں یا صحیح۔ املاء میں بہت تیزی کے ساتھ بولی کے حساب سے لکھنے کا رواج فروغ پا رہا ہے ۔ مختلف حروف کی آوازیں آپس میں بہت تیزی سے گڈ‌ مڈ‌ہورہی ہیں اور میں نے جہاں تک دیکھا ہے ذ اور ز کی املاء‌کی غلطیاں اب بہت سامنے آرہی ہیں۔
جاتے جاتے ایک تصویر دیکھیے آپ کو یقین آجائے گا کہ زبان بدلتی ہے۔

آپ اسے برا جانیں یا اچھا لیکن یہ حقیقت ہے۔ میرے گھر کے قریب ہی ایک ریسٹوران کا بورڈ ہے یہ۔ ال عربی کا آرٹیکل ہے جیسے انگریزی میں‌دی ہوتا ہے۔ ال کسی نام کے ساتھ لگا کر اسے خاص بنا دیا جاتا ہے۔ عام تاثر یہی ہے کہ یہ ترکیب صرف عربی نژاد الفاظ یا اسماء کے ساتھ ہی آسکتی ہے لیکن صارفین ثابت کررہے ہیں کہ وہ عربی تھی یہ اردو ہے۔ میں اسے غلط ٹھیک نہیں‌کہہ رہا صرف بیان کررہا ہوں کہ "ایسے ہوتا ہے"۔
ذرا سوچئیے اور غور کیجیے آپ کے اردگرد زبان میں کس کس طرح تبدیلیاں آرہی ہیں اور زبردستی آرہی ہیں۔

Back Top

7 تبصرے:

  1. واہ! اب واقعی پتا پڑ رہا ہے کہ آپ لسانیات میں بہت دلچسپی سے پڑھ رہے ہیں۔ کافی دلچسپ موضوع ہے۔

  2. نوازش
    یہ پتا پڑ رہا ہے پہلی بار سن رہا ہوں آپ کے منہ سے پتا لگ رہا ہے اب تک سنا ہے۔ غلط نہیں کہہ رہا لیکن یہ میرے اندر کی لسانیات ہے جو ڈُل ڈُل پڑتی ہے۔:D

    محمد شاکر عزیز at 19 دسمبر، 2007 4:30 PM
  3. زبانوں کی تبدیلی میں اہم کردار ایک زبان کا دوسرے پر اثرانداز ہونا بھی ہے بلکہ صحیح معنوں میں ہر زمانے میں کوئی نہ کوئی زبان رائج الوقت سکے کی طرح غالب رہتی ہے اور دنیا کی دوسری زبانیں اس سے اثر لیتی ہیں ۔ ہمارے زمانے میں یہ مقام انگریزی کو حاصل ہوگیا ہے اور اس سے تمام زبانوں پر گہرا اثر پڑرہا ہے ۔ ثبوت: آپ کے تصویر میں ریستوران کے بغل میں ایک چھوٹا سا بورڈ ہے جس پر لکھا ہوا " عمران آٹوز ۔ ہنڈا ورکشاپ" تین زبانیں ملی ہیں لیکن سب سمجھتے ہیں یعنی عام فہم ہے ۔ صحیح پوچھیں تو اس میں‌ اردو ہے ہی نہیں اور سارے الفاظ اردو کے بھی ہیں !!!

    مجھے تمام زبانیں اچھی لگتی ہیں اور سیکھنا بھی چاہتا ہوں لیکن ساتھ ہی مجھے ہر زبان کی گرائمر و قواعد سے خاص دشمنی رہی ہے ۔ سکول ، کالج میں اردو اور انگریزی کی گرائمر اور مدرسے میں (میں نے کچھ درجے تعلیم دینی مدرسے میں بھی حاصل کی ہے ) عربی اور فارسی زبان کے قواعد سے ۔

    میرا خیال ہے (معلوم نہیں کہاں تک درست ہے؟) کہ ہر زبان کی ایک سینس ہوتی ہے اور جب بندہ اس سینس کو حاصل کرجائے تو وہ قواعد اور گرائمر کے بھول بھلیوں سے آزاد ہوجاتا ہے ۔ اسے پھر خود معلوم ہوتا رہتا ہے کہ کونسا لفظ کس طرح اور کہاں استعمال کرنا ہے ۔

  4. آپ کی بات سے میں متفق ہوں۔ زبان جو استعمال ہورہی ہے کوئی ایک زبان نہیں۔ یہ ایک مکسچر ہے انگریزی اردو اور مادری زبانوں کا۔ وقت ملا تو اس پر بھی لکھوں گا۔
    گرامر کام کرتی ہے۔ شعور میں یا لاشعور میں۔ آپ میں اردو کے بارے میں بتا دیتے ہیں کہ یہ ٹھیک نہیں۔ وجہ پوچھی جائے تو نہیں بتا سکتے؟
    اس لیے کہ ہم نے اردو کی گرامر نہیں رٹی بلکہ اس کو بولنا سیکھا ہے۔ ہمارے اردگرد اس قدر کثرت سے بولی جاتی ہے کہ ہمیں گرامر کے بغیر ہی آگئی۔ لیکن اصل میں ہوا یہ کہ ہمارے لاشعور میں اس گرامر کے قوانین بیٹھ گئے اور اب ہم فورًا غلطی کی نشاندہی کرسکتے ہیں۔ اسی چیز کو آپ سینس کہہ رہے ہیں۔
    انگریزی یا کوئی اور تیسری زبان علاوہ مادری زبان و اردو سیکھنے کے لیے ہمیں محنت کرنا پڑتی ہے گرامر کو رٹنا پڑتا ہے اور سب کچھ شعوری طور پر کرنا پڑتا ہے چناچہ ہم کہتے ہیں کہ اس کی گرامر اچھی طرح آتی ہے یا یاد کی ہے وغیرہ۔ بس فرق اتنا ہے کہ انگریزی کے لیے آپ کو شعوری کوشش کرنا پڑتی ہے اور اردو وغیرہ کے لیے جو مادری زبان جیسی ہیں کے لیے کوشش لاشعوری طور پر ہوتی ہے۔

    محمد شاکر عزیز at 24 دسمبر، 2007 2:50 AM
  5. سلام
    اطلاعا عرض ہے کہ البیگ جس نے بھی لکھا ہے یہ عربی کا مشہور (البیک) ریسٹورنٹ کی نقل ہے۔

    البیک سعودی عرب میں بڑا مشہور ہے۔ جو بروسٹ کا کاروبار زیادہ تر کرتے ہیں لوگ یہ بروسٹ کھانے کے لئے مرتے‌ ہیں۔۔۔۔۔

  6. شاید آپ کی بات بجا ہو۔ میں‌ تصدیق کرنے کی کوشش کروں‌ گا کہ یہ بیگ سے البیگ کیا ہے یا البیک سے البیگ۔ لگتا نہیں کہ اس بندے کی پہنچ سعودی عرب تک ہوگی۔

    محمد شاکر عزیز at 24 دسمبر، 2007 6:27 PM
  7. اسی طرح کا ایک بورڈ میں نے بھی پڑھا تھا

    ادارہ ریڈالقرآن

    کہیئے کیسا لگا

ایک تبصرہ شائع کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔