جمعرات، 20 مارچ، 2008

عید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 11:25 PM ,
آج سے کوئی بیس برس پہلے تک اس بات کا تصور تک موجود نہیں تھا کہ کوئی عید میلاد بھی ہوسکتی ہے۔ ہم ایک جذباتی قوم ہیں اورہمیں کھیلنے کے لیے ایک آدھ کھلونا لازمی چاہیے ہوتا ہے۔ اب عید میلاد کے نام پر ہمارے ہاتھ میں ایک چھنکنا آچکا ہے اور ہم اسے ہر سال اچھی طرح بجا کر خوش ہوجاتے ہیں۔

عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دعوٰی کسے نہیں ہے؟ سب کو ہے مجھے بھی ہے۔ ہر سال کوئی نیا شوشہ ہی چھوٹتا ہے اس معاملے میں۔ اب پچھلے کچھ عرصے سے محفل نعت منعقد ہوتی ہے جس میں ایک خوش نصیب کو عمرے کا ٹکٹ بذریعہ قرعہ اندازی دیا جاتا ہے۔ کیا عشق کے لیے عمرے کا ٹکٹ ضروری ہے؟

جن کوٹھوں پر چند دن پہلے بسنت کے نعرے لگائے گئے تھے اور رات بھر غل غپاڑہ کیا گیا انھی پر اب سبز جھنڈے لگا دئیے گئے۔۔۔یہ کیسا عشق ہے جو سبز جھنڈے لگانے،  رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتی والے نقش سینے پر لگانے اور نعرے لگانے تک محدود ہے؟

آج رات تو مجھے یوں لگا جیسے یہ 12 ربیع الاول کی شب نہیں شب قدر ہے۔ سرکاری ٹیلی وژن پر ایک سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کانفرس ہورہی ہے شاید اس میں ایک بندہ کاغذوں کے پلندے سے سبق پڑھ کر سنا رہا تھا اور باقی ڈھیر سارے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ کئی تو اپنے سبق یاد کرنے میں اردگرد سے بے خبر تھے۔ یہ کیسا عشق ہے؟

ڈنمارک والے کچھ عرصے بعد تیلی لگا دیتے ہیں اور پھر گھر جلنے کا تماشا دیکھتے ہیں۔ ہم بھی پھونکیں مار مار کر اپنا ہی آشیانہ جلا ڈالتے ہیں۔ کل کسی جگہ خبر پڑھی کہ اب تک ہونے والے مظاہروں میں 50 مسلمان راہی ملک عدم ہوچکے ہیں۔

ہم سے پہلے کے مسلمان عشق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر کہاں جا پہنچے اور ہم ہیں کہ ہر سال اتنا اہتمام کرتے ہیں پھر بھی تنزلی ہی تنزلی ہے ترقی کہیں نظر نہیں آتی۔۔۔۔ہر شے سے برکت اٹھتی جاتی ہے۔۔۔قتل غارت گری ہر سال بڑھتی جاتی ہے یہ کیسا عشق ہے ہمارا جس کا فیضان ہمیں نصیب نہیں ہوتا؟

کہیں ہم غلط تو نہیں کسی جگہ؟

Back Top

10 تبصرے:

  1. ذرا صبر سے کام لیجیے آپ کافی جلد باز معلوم ہوتے ہیں.. مزید بیس برس بعد دیکھیے گا یہ میلاد کوئی اور شکل اختیار کرچکی ہوگی اس وقت آپ کہیں گے کہ یہی بہتر تھی.. اور اس وقت بھی نام نہاد عشاقانِ رسول اس کے لیے بھی کوئی نہ کوئی دلیل ڈھونڈ ہی نکالیں گے.. جیسے ساکت زمین کا نسخہ قرآن سے کرید کرید کر کھنگالا گیا..

    جب تک بے وقوف زندہ ہیں یہ سلسلہ کبھی نہیں رکے گا..

    اور موج جاری رہے گی..

    بتی بجھا کے..

  2. اللہ تعالی عزوجل ہمیں 12 ماہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت اور آپ کی سیرت حسنہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
    حضور سے محبت کے کے دعوی کی دلیل آپ کی سیرت حسنہ پر عمل ہے۔
    ڈاکٹر اقبال علیہ الرحمہ کے اس شعر خصوصا اس کے پہلے مصرع پر تمام مسلمانوں‌ کی نظر ہونی چاہیے:
    کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
    یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

  3. اسلام علیکم،
    اصل میں اس طرح دعوے کرنا آسان ہے۔
    ورنہ اگر عمل کرکے بتایا جائے کے ہم عاشق رسول ہیں تو آپ کو شاید کوئی ایک مل جائے۔۔۔۔
    صحابہ اکرام سے بڑا عاشق رسول کون ہوگا؟
    انھوں نے کبھی ایسے جلوس نہیں نکالا تو یہ کیسے عاشق رسول ہیں؟

  4. نظامی صاحب آپ سے پوری طرح متفق ہوں..

  5. اب اسلام میلوں‌ ٹھیلوں‌ میں‌ ہی تو رہ گیا ہے ۔

  6. پہلے ایک بات کی تصیح کہ بیس برس پہلے یا اس سے پہلے عید میلاد نبی (ص) کا کوئی رواج نہیں تھا یا جلوس جلسے نہیں تھے ۔ ۔ بھائی میرے اس وقت جذبہ شاید اس سے بھی زیادہ تھا ۔ ۔ ۔ اور یہ عید عہد نبوی سے منائی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ پروفیسر طاہر القادری کی تصنیفات میں اس کا تفصیلاً ذکر موجود ہے ، اور کافی تحقیقی کام بھی ہے اس میں ۔ ۔ ۔

    دوسری بات ۔ ۔ کہ بیس سال بعد اسکی شکل بدل جائے گی ۔ ۔ میرا نہیں خیال ایسا کچھ ہو گا ، سبیلیں اس وقت بھی لگتیں تھی اب بھی لگتیں ہیں تب بھی لگیں گیں ۔ ۔ ۔

    ہمارا مسلہ یہ ہے کہ ہم تنقید کر رہے ہوتے ہیں اور خود اس چیز کا حصہ بھی بنتے ہیں ۔ ۔ ۔ اگر آپ اچھے مسلمان ہیں اور سب کچھ سمجھ رہے ہیں تو آپ کی اس اچھائی کا اثر کسی دوسرے پر نہیں ہو رہا تو اسکا مطلب تو یہ ہوا کہ یہ اچھا ئی شاید اتنی اچھی نہیں کہ اثر ڈال سکے ۔ ۔ ۔

    ویسے بھی ہم ایسے ہی ہیں کہ

    خود کو نہیں بدلتے ، اسلام بدل دیتے ہیں ۔ ۔۔

  7. اگر یہ عہد نبوی سے منائی جارہی ہے تو کس تاریخ میں‌ منائی جاتی تھی؟ پھر تو ولادت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں جو دوسری روایات بیان کی جاتی ہیں سرے سے ہونی ہی نہیں‌ چاہئیں تھیں؟
    جب ایک عمل اتنے تواتر سے ہورہا ہو تو ساری امت کو کرنا چاہیے ہم تو نہیں دیکھتے کہ سب لوگ یہ کرتے ہیں۔ بلکہ یہ تو اب ہی آکر میڈیا وغیرہ نے اس کو اتنی کوریج دے دی ہے کہ لوگ اسے بھی عید کہنے لگے ہیں۔
    محرم کے پہلے دس دن، ربیع الاول کے پہلے بارہ دن، فروری کے پہلے چودہ دن، اگست کے پہلے چودہ دن اور رمضان وغیرہ کے دن ۔۔۔ بڑے اہتمام سے "خصوصی" نشریات پیش کی جاتی ہیں اور فرض ادا کردیا جاتا ہے۔

  8. پا ئ جی تینو ں چین نہ ائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ضرور ؔاپ اپنی کٹیا کھڑا کر وانا چا ہتے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر صیح سے لکھ دیا تو یہ شا یع بھی نہ ہو ۔ لیکن میں اپنے کھٹے ،میٹھے اسلا می بھا ئی سے یہ پو چھنا چا ہتا ہو ں‌۔ جب ڈنما رک والے نا پا ک حرکت کرتے ہے ۔تب یہ لو گ کہا جا تے ہے ۔مجا ل ہے کو ئی با ت زبا ن سے ادا ہو جا ئے ۔زبا ن کنگ ہو جا تے ہے ۔مبدا کو ئی انتہا پسند ، یہ وہا ؔ۔۔۔۔ نہ کہ دے ۔اس سے بہتر ایرا ن والے ہے جنہیں یہ کا & ر کہتے ہے ۔

    رہی با ت مشرک سرکا ر کی وہ تو ہی نا جا ئز ۔بھلا ان سے خیر کی کیا توقع ۔جو پیسہ کی خا طر مظلوم مسلما نو ں‌کو بیچ سکتا ہے۔ نہتے طا لبا ت ، پر فا سفو رس بم استمعال کر وا سکتا ہے ۔اس سے بڑھ کر ایک قومی مجعر م کو معا ف کر سکتا ہے ۔اس سے بڑھ اور نا دانی کیا ہے ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تو اندھے سے راستہ پو چھنے والی با ت ہو گئی
    کل 23 ما رچ ہے ۔مجا ل ہے کو ئی پڑہڈ کا اہتمام ہو ۔۔۔۔۔۔جنگ دوسرے ملک لگی ہو ئی محسوس یہا ں ہو رہی ہے ۔معا ف کیجئے گا با ت کہا ں سے کہآ ں نکل گئی ۔۔۔
    مقصد ایک ہی ہے مسلما نو ں‌ کے قومی تشخص کو تبا ہ کیا جا ئے
    ۔ پہلے ہندوانہ ظرز کی کیا کمی تھی ۔بھجن کی ظرح قوالیا ں‌۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈسکو نعتیں

    رہی سہی کسر اب عیسا یئون کی کرسمس کی ظرح ہو جا ئے گی ۔
    با قی نا موس رسا لت ص کا سوال ہو تو ہم سب اس وقت بے ٍیرتی کی زندگی بسر کر رہے ہے بلکل اس طر ح کے کو ئی چوڑا چما اپ کی والدیں کی بے عزتی کر دیتا ہے ۔کھا نے ہضم نہیں ہو تا ۔نیند اڑ جا تی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یا اللھ مجھے معا ف فر ما نا

    روسی شہرئ at 22 مارچ، 2008 1:12 PM
  9. یہ خیر القرون سے ثابت نہیں اور اصطلاح‌ میں‌ بدعت ہر اس چیز کو کہتے ہیں‌ جو اسلام کے نام پر خیرالقرون کے بعد وجود میں آی ہو تو اس تعریف کے مطابق یہ مجلس میلاد بدعت ہوی کل بدعت ضلالہ کل ضلالۃ فی النار

  10. جی بجا فرمایا۔ لیکن ہم اس پر چپ رہتے ہیں چونکہ اس سے کئی بھائیوں کے جذبات کو ٹھیس لگنے کا امکان ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔