سوموار، 24 مارچ، 2008

الحمد اللہ

ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 6:41 PM ,
اللہ کریم کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں معزز ججوں کی رہائی دیکھنا نصیب کی۔ دعا ہے کہ اب انھیں بحال بھی اسی طرح کروادیا جائے۔۔۔

کاش ہماری اعلٰی عدلیہ کی طرح نچلی سطح پر موجود منصف بھی ٹھیک ہوجائیں۔ہمارا نظام انصاف بہت بگڑ چکا ہے اتنا کہ پھوڑے سے ناسور بن گیا ہے۔ مقدمے بازی کا مطلب ہے کہ آپ کے پاس جو کچھ ہے وہ عدالتی کارندوں کو جمع کروا دیں۔ ہمارے ایک عزیز ایک دو ناجائز مقدموں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ فرماتے ہیں ہر بار قریب کی تاریخ لینے کے لیے بھی رشوت مانگتے ہیں۔ پچھلی بار دوسرا فریق آیا ہی نہیں اور انھیں پھر تاریخ قریب کی ڈلوانے کے لیے رشوت دینا پڑی۔۔

اتنی مہنگائی اور کاروبار میں بے تحاشا مندی کے ساتھ ایسے خرچے ۔۔۔ غریب آدمی کیسے جی سکتا ہے۔۔ اب گیس والوں نے بھی فی یونٹ ساڑھے تین روپے اضافے کی درخواست اوگرا کو دے دی ہے۔ گیس کا بل جو کبھی ڈیڑھ سو سے زیادہ نہیں آیا کرتا تھا پچھلے چار پانچ سالوں میں تین گنا ہوچکا ہے۔ اور آگے جانے کتنا بڑھے گا۔

ملک میں افراط زر نے متوسط طبقے کے لیے حساس اعشاریوں کو خطرناک حدوں تک پہنچا دیا ہے۔ عام آدمی کی قوت خرید اس بری طرح متاثر ہوئی ہےکہ دوکاندار سارا دن بیٹھ کر مکھیاں مارا کرتے ہیں۔ لیکن کیا کریں کھانا تو ہے ڈیڑھ سو روپے کلو مرچ نہیں لے سکتے لیکن سو روپے کلو کے قریب ریٹ کی کوئی سبزی تو لینی ہی ہوگی جو پاپی پیٹ کی آگ بجھا سکے۔

پتا نہیں ترقی کہاں ہوئی ہے ہمیں تو کہیں نظر نہیں آتی۔ اتنی بھوک میں نے اپنی اس مختصر سی زندگی میں پہلی بار دیکھی ہے۔ گھی کے ایک پیکٹ کے لیے گھنٹوں کی خواری، کبھی آٹے کے ایک تھیلے کے لیے ذلالت مقصد صرف یہ کہ کچھ پیسے بچ جائیں۔ دل خون کے آنسو روتا ہے۔

عالمی سطح پر توانائی اور خوراک کے بحران نے اس صورت حال کو مہمیز کیا ہے۔ تیل تو جو مہنگا تھا سو مہنگا تھا ہی گھر کی توانائی بھی کم پڑتی جارہی ہے۔ بجلی اب صرف 20 گھنٹے کی رہ گئی ہے اور یہ پنجاب کے شہری علاقوں کی بات ہے کراچی اور دوسرے دیہی علاقوں میں یہ 20 گھنٹے بھی نہیں آتی۔ ملک کو پچھلے آٹھ سالوں میں ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر چلایا گیا ہے۔ ان آٹھ سالوں کا خمیازہ جانے ہمیں کتنے عشرے بھگتنا پڑے۔

ہمارے ملک میں ذرائع رلتے پھرتے ہیں لیکن کسی کو خیال نہیں۔ میں کئی بار یہ سوچ چکا ہوں اور اپنے دوستوں سے ذکر بھی کرچکا ہوں کہ ہمارے پاس اتنی دھوپ ہوتی ہے کہ کئی کالاباغ ڈیم بھی اتنی بجلی پیدا نہیں کرسکتے۔ اگر شمسی توانائی کی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی طرف توجہ دی جائے تو کیا بعید ہے کہ ایک دو سال میں ہی بجلی کا بحران غائب ہوجائے۔ لگژری کے لیے قرضہ دیا جاتا ہے، الم غلم خریدنے کے لیے کریڈٹ کارڈز موجود ہیں کیا اس کام کے لیے بینک قرضے نہیں دے سکے؟ یہ ٹیکنالوجی ابھی مہنگی ہے لیکن اس کے فوائد بھی تو دیکھیں۔ متبادل توانائی بورڈ چند پائلٹ پراجیکٹ شروع کرکے جانے کہاں غائب ہے۔ آٹھ دس پون چکیاں اور ایک آدھ گاؤں میں شمسی بجلی کے لیے پائلٹ پراجیکٹ چلانے سے توانائی کا بحران کم تو نہیں ہوجائے گا۔ ہمارے حکمران ساری دنیا سے کشکول اٹھائے بھیک مانگتے پھرتے ہیں ایک بار یہ بھی مانگ لیں۔

Back Top

4 تبصرے:

  1. اسلام علیکم،
    مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں ‌ججوں کو رہا کرکے ان کے منہ بند کرنے کی کوشش تو نہیں کی گئی ۔ اصل مسلئہ تو عدلیہ کی بحالی کا ہے اللہ کرے اب اس لحاظ سے بھی ہمیں خوشخبری سننے کو ملے۔

  2. عدنان صاحب ابھی تو وزیرِ اعظم نے حلف ہی اٹھایا ہے اور آپ نے نئی حکومت پر شک کرنا شروع کردیا.. بقول انور مسعود صاحب کے:

    حکومت فرشتوں کی لے آئیے
    طبیعت کوئی دن میں بھرجائے گی

    اس معاملے میں اگر روڑے اٹکائے گئے تو صرف مشرف اور اس کے چمچوں کی طرف سے ایسا ہوگا.. امید ہے جج ضروع بحال ہوں گے ان شاء اللہ..

  3. انشاءاللہ جج بحال ہونگے ورنہ سڑکیں‌ تو ہیں ہی احتجاج کے لیے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔