منگل، 17 فروری، 2009

مرجائیں کیا؟

ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 4:28 PM ,
کیا کریں آپ ہی بتا دیں کیا کریں اب؟
سوات میں پھر سے وہی امن معاہدہ کرنا پڑا. جتھے دی کھوتی اوتھے آن کھلوتی.
ہاں فوج اس کو کنٹرول نہیں کرسکی.
ہاں وہاں عام لوگ زیادہ مارے جاتے رہے ہیں.
ہاں وہاں جاسوسی کا سارا سسٹم فیل ہوگیا.
ہاں وہاں اربوں کا نقصان ہوا.
آدھی آبادی ہجرت کرگئی.
باقی آدھی جہنم میں زندگی گزار رہی تھی.
پاکستان کے سوئٹزلینڈ کو جہنم لینڈ بنا دیا گیا.
ہاں وہ گروہ اتنے طاقتور ہیں کہ ان سے آخر کار پھر سے مذکرات ہی کرنے پڑے.
ہاں وہ شریعت جو نافذ ہونے جارہی ہے جو حل کم اور لالی پاپ زیادہ ہے
تو؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
تو کیا کریں؟
مرجائیں کیا؟
مذاکرات نہ کریں کہ جھکنا حکومت کا شیوہ نہیں؟
یا جس شریعت کے نفاذ کی بات کی جارہی ہے وہ شریعت بھی نافذ نہ ہونے دیں. بقول وڈوں کے اس لولی لنگڑی بلکہ اختلاف زدہ اور بلکہ "کونسی" شریعت کو بھی نافذ نہ ہونے دیں؟
سکولوں کو بم دھماکوں میں اڑنے دیں؟
بے گناہوں، ہیرے جیسے جوانوں اور ان جنگجوؤں کو جو بدقسمتی سے ہم میں سے ہی ہیں خاک و خون میں رلنے دیں؟
را، موساد اور سی آئی اے کو اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے دیں؟
ایک اور مکتی باہنی کھڑی کرلیں؟
کیا کریں...یہ جو میرے وڈے ہیں... یہ جو اتنی باتیں کرتے ہیں کہ یہ کردیا وہ کردیا وہ بتائیں کہ کیا کریں پھر ہم....اب کیا جئیں بھی نا؟؟ اگر یہ سب نہ کریں تو پھر تو مرنا ہی مقدر ہے وہ بھی حرام موت...ڈیرہ غازی خان اور میانوالی تک تو کینسر آگیا ہے لاہور، گوجرانوالہ اور فیصل آباد تک بھی آجائے گا...کراچی تک تو پہلے ہی پہنچ جانے کا واویلہ مچایا جارہا ہے..تو اس کو بندوق سے ہی حل کرتے رہیں تاکہ جو نہیں بھی صحیح وہ بھی صحیح لگنے لگے.... ہمیں جینے کیوں نہیں دیتی دنیا ایسے بھی اور ویسے بھی... ہر طرف سے گالیاں، طعنے، کوسنے، اختلافات، مفت کے مشورے...ہم نے یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا..اسلام کے نام پر بیس سال تک جو کھلواڑ اس ملک کے ساتھ ہوتی رہی تو دو سال کے آپریشن سے ٹھیک ہوجائے گی؟ کیسے توقع کرتے ہیں آپ کہ ہر مسئلے کا حل بمباری اور بندوق ہوگا؟ امریکیوں کا تو بنتا ہے کہ وہ آئیں ڈرون سے میزائل گرائیں اور چلے جائیں...لیکن ہم کہاں جائیں جن پر گرائیں وہ بھی اپنے جو گرائیں وہ بھی اپنے ہم پھر بچ کر کہاں جائیں؟؟ کوئی بتائے گا مجھے یہ؟؟ اتنے لمبے لمبے تجزیے، دہشت گردی یہ گردی وہ گردی، انتہا پسندی وغیرہ وغیرہ وغیرہ تو کیا کریں ہم اس کا آپس میں لڑ لڑ ہی مرجائیں اب ہم؟

Back Top

6 تبصرے:

  1. مرنا ہی پڑے گا جناب
    لوگ چاہتے ہیں دلدل سے لاتیں چلا کر ہی نکلنا ہے
    پر سانپ کی رسی کو پکڑ کر نہیں

  2. مر ہی جائیں تو بہتر ہے ، اب اس نظام عدل پر جو فساد ہوں گے ، وہ دیکھنا ۔ فساد نہ ہوئے تو ظلم ہوں گے ، جو اللہ اور رسول کے نام پر کیے جائیں گے ۔

  3. ایک بات کہوں؟ اگر ہمیں اپنے آپ پر اعتماد ہو تو ہم سب ٹھیک کر سکتے ہیں ۔ بس سوچو کہ ٹھیک کیسے کرنا ہے ، کچھ میرے ذہن میں ہے ، کچھ تم سوچو ، اس پر گپ لگاتے ہیں ۔

  4. ڈفر آپ کی بات سر پر سے گزر گئی ہے۔
    قدیر میاں فسادات پہلے بھی ہوتے ہیں اور اللہ رسول کے نام پر ہی ہوتے ہیں۔ کیا فرق پڑے گا؟
    ٹھیک کرنے کی جہاں تک بات ہے فی الحال میں بے حسی کے موڈ میں ہوں۔ جیسے ساری پاکستانی عوام ہے۔ اپنے کام سے کام رکھو، اور باقی سب جائیں بھاڑ میں بہت زیادہ کبھی دل کڑھے تو بلاگ پر آکر بکواس کرلو۔ :neutral:

  5. سوات میں یہ نظامِ عدل برسوں چلتا رہا لیکن اسے ختم کرنے کے بعد قتل ۔ اغواء اور ڈکیتی کی وارداتیں چند سالوں میں دس گنا ہو گئیں تھی ۔ نیت نیک ہو تو بغیر قانون کے بھی کام درست چلتا ہے ۔

  6. یار دوست مائنڈ نہ کرنا میری بات کو ۔
    بے حس بننا ، برائی کو دیکھ کر دکھ پالنا اور منہ بنا کر ایک سائیڈ پر بیٹھ جانا بہت آسان ہے ۔ اس کے سامنے کھڑا ہونا اور اسے ختم کرنے کی کوشش کرنا آدمیت کی معراج ہے ۔
    ہر پاکستانی کا یہی وطیرہ ہے کہ وہ دو چار جذباتی باتیں کر کے ساییڈ پر ہو جاتا ہے ۔ اسے کچھ کرنے کا کہو تو کہتا ہے کہ میرے ہاتھ میں کیا ہے ۔
    اللہ نے انسان کو جب دنیا میں بھیجا تو اسے صرف ہاتھ دیے ، ہاتھ میں اور کچھ نہیں‌ دیا ۔ اس پر سوچو!

ایک تبصرہ شائع کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔