سوموار، 1 جون، 2009

تیرا ککھ نہ رہوے

ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 10:04 PM ,
اردو محفل پر جنرل موٹرز کے دیوالیہ کی خبر تھی۔ ایک دوست نے وہاں بدعا دی ہوئی تھی اللہ کرے جنرل موٹر دیوالیہ ہو ہی جائے۔
یہ اور ایسی اور جنرل سی بددعائیں دینا آج کل پاکستانیوں کا شیوہ ہے۔ بدعائیں چلتے پھرے، بددعائیں اٹھتے بیٹھتے اور بددعائیں نماز کے بعد۔ مولا یہ کردے مولا وہ کردے مولا ان کا ککھ نہ رہے۔
اتنی ساری بدعاؤں کے بعد مجھے لگنے لگا ہے کہ ہم مرد نہیں زنخے ہوچلے ہیں یا ہوگئے ہیں۔ جو ہر بات پر تالی بجا کر اور کولہے مٹکا کر اتنا ہی کہہ سکتے ہیں۔
وے تہاڈا ککھ نہ رہوے۔ ٹُٹ پینیوں۔۔گھر ماں بہن نہیں اے

Back Top

7 تبصرے:

  1. کچھ ایسے هی خیالات همارے بھی هیں
    اور هوں تو جی میں بھٍی پاکستانی
    اس لیے میرے منه سے بھی نکل هی جاتا ہے که
    رب کرے ان کی توپوں میں کیڑے پڑیں

  2. بے عمل قوموں کی یہی نشانی ہوتی ہے کہ ان کا بس صرف دعاؤں اور معجزوں کی طلب میں ہی نکل جاتا ہے۔ میدان عمل صرف جدوجہد کرنے والوں کے لیے ہے۔ ذرا ابوالکلام آزاد کی "غبار خاطر" سے یہ اقتباس دیکھیے گا:
    http://www.abushamil.com/ghubare-khatir-selection/

  3. دھمکی اور بددعا دونوں کمزور کے ہتھیار ہیں۔۔۔
    اور ہماری قوم تو بہت کمزور ہوچکی ہے
    اس کا ثبوت دیواروں پر لکھے گئے مردانہ طاقت کے اشتہارات ہیں۔۔۔۔
    :mrgreen:

  4. واقعی یہ آپ نے سچ کہا اورکراچی کی سڑکوں پر زنخوں کی یلغار دیکھ کر آپکی بات پر یقین سا آنے لگا ہے :roll:
    عبداللہ

  5. اگر ُٓ اس تھیم کا اردوایا گیا ٹیمپلیٹ مجھے بھیج دیں تو نوازش ہو گی

    میں ایک اور تھیم کا ترجمی کرنے کی کوشش کر رہا ہوں، اگر عنایت ہو تو کیا بات ہے

  6. محترمی،
    آپ سے ایک درخواست کی تھی اور غالبا ای میل ایڈریس دینا بھول گیا تھا۔

    آپ سے رابطے کا اور کوئی ذریعہ بھی نہیں مل رہا،

    اگر براہِ مہربانی اپنے بلاگ کا ٹیمپلیٹ دے دیں تو میں دوسرے ٹیمپلیٹس کو ایڈیٹ کر سکوں۔

    میں اس وقت راؤنڈر ٹیمپلیٹ استعمال کر رہا ہوں اور اپنے وجٹ ضائع نہیں کرنا چاہتا

    میرا ای میل ایڈریس یہ ہے:
    munir.abbasi@gmail.com

  7. چند سکوں کے عوض بکتا ہے تو بک جائے ضمیر
    پر خدا را کم از کم انسان کا تو ہو
    یہ نظام کائنات ایسا کیوں ہے؟

ایک تبصرہ شائع کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔