16 تبصرے:

  1. شادی کر ليں جھاگ کی طرح بہہ جائے گا جب ہر وقت بيوی کے ناک پر غصہ ديکھيں گے تو اپنا والا بھول جائيں گے اور بيوی بھی پاکستانی ہو تو پھر تو بس

  2. بہترین نسخہ تو یہ ہے کہ آپ جد سے جلد شادی کرلیں۔
    اگر آپ کا وزن زیادہ ہے تو اپنا بلڈپریشر چیک کرائیں۔

  3. اچھا پوچھا میں خود اس عادت سے پریشان ہوں چلو مجے بھی جواب مل جاءے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کامران اصغر کامی

  4. غصہ کر لیا کریں:)

  5. وزن بھی زیادہ نہیں بیوی ملنے کا بھی ابھی دور دور تک کوئی چانس نہیں۔
    غصہ کر تو لیتا ہوں لیکن مجھے پھر شرم بھی آتی ہے کہ ایسے کیوں کرتا ہوں۔

  6. آپ نے سوال پھر شاید درست نہیں لکھا ۔۔ تو بھائی سوال لکھیں ۔۔

    آپ کو پھر شرم آجاتی ہے کیا کروں ؟

    یہ بیوی ملنے کا چانس ہوتا ہوتا ہے ایسا مجھے نہیں تھا پتا ۔۔

  7. @ Asma Gee From Paris

    Orat ho kar Orat ke bare me Asi raye wo bhi Pakistani Khuwateen ke bare main .. So Sad , if you are not kidding .

    @ Dost .. Dost ,, Gussa Dosro ki sehat ke liye Khatrnak hey .. so Avoid others when u are in Gussa, And Soon get marry with the one who then can endure your gussa.

  8. سلام علیکم
    مجھے بھی یہ پریشانی ہے، ایک نسخہ میرے ایک بزرگ نے بتایا، جب غصہ آئے چلنا شروع کردیں، چند قدم چلنے کے بعد آپ کا غصہ تو شاید ابھی باقی ہو، لیکن یہ سوچنے لگیں گے کہ صحیح کام کیا ہے، بولوں تو کیا بولوں، کروں تو کیا کروں۔

    میں نے آزمایا ہے، کافی مفید ہے۔

    شکریہ

  9. درودشریف پڑھا کریں۔

  10. ایک مرتبہ مسجد میں بتایا گیا تھا کہ اگر غصہ آیا ہے اور آپ کھڑے ہیں‌تو بیٹھ جائیں، بیٹھے ہیں‌اور لیٹنے کی جگہ میسر ہے تو لیٹ‌جائیں۔ جس واقعہ کی وجہ سے غصہ آیا ہے فوری طور پر وہاں‌سے ہٹ جائیں‌اور اگر وضو کرنا ممکن ہے تو وضو کرلیں اس سے بلڈ پریشر نارمل ہوجائے گا اور غصہ کم ہوجائے گا۔ بند باندھ کر روکنے اور کڑھنے کے بجائے اسے فوری طور پر گزارنے کی کوشش کریں اور ویسے بھی غصہ کو پچھاڑنا ہی تو اصل پہلوانی ہے۔

  11. فیصل آبادی اور غصہ؟؟؟
    نئیں یار۔۔

  12. السلام علیکم۔
    کچھ مفت کے مشورے میری طرف سے بھی حاضرِ خدمت ہیں۔
    نیند کی کمی نہ ہونے دیا کریں۔
    ہلکا پھلکا مزاح غصہ کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ چنانچہ ایک خاص حد سے زیادہ سنجیدہ نہ رہا کریں، کارٹون دیکھا کریں اور غصے کی صورت میں مزاح کا پہلو ڈھونڈنے کی کوشش کیا کریں۔
    چھوٹے بچوں میں زیادہ وقت گزارا کریں۔
    اپنے آس پاس بکھری ہوئی ان چھوٹی چھوٹی خوشیوں اور نعمتوں پر غور کیا کریں جن پر عام طور پر لوگوں کی توجہ نہیں جاتی۔
    چونکہ دماغی صحت کا کافی حد تک انحصار جسمانی صحت پر بھی ہے، اس لیے جسمانی صحت کا خیال رکھا کریں۔ ایک آسان طریقہ تو یہ ہے کہ ہر کام ورزش کی طرح کیہا کریں۔
    جب کوئی کام دماغ پر بوجھ پڑنے کا سبب بنے، مثلاً آپ کوئی محنت طلب کام بہت دیر سے مسلسل کر رہے ہوں، تو کچھ دیر بالکل سکون کے ساتھ آلتی پالتی مار کر بیٹھ جائیں اور آنکھیں بند کر کے دماغ کو ہر قسم کی سوچ سے خالی کر کے آزاد چھوڑ دیں۔ جب ذہنی دباؤ کم ہوگا تو غصہ آنے کا امکان بھی کم ہو جائے گا۔
    دن میں کچھ وقت باہر کسی کھلی جگہ مثلاً کھیل کے میدان میں ضرور گزارا کریں۔ یا کم از کم گھر کی چھت پر ہی چڑھ جایا کریں اگر آپ کے گھر کی چھت مناسب حد تک کھلی ہے۔ اور اپنے آس پاس کی چیزوں، عمارتوں، سواریوں، لوگوں، آسمان، بادلوں وغیرہ کو بالکل اسی انداز میں غور سے دیکھا کریں جس انداز میں اور جس نقطۂ نظر سے چھوٹے بچے ان کو دیکھتے ہیں۔ یہ بھی دماغ کو صحت مند رکھنے اور دباؤ دور کرنے میں کافی معاون رہے گا۔

  13. ایک بار کسی کالم میں اچھی صحت اور خوشگوار مزاج کے حوالے سے یہ بھی پڑھا تھا کہ دن میں کچھ وقت کے لیے سیر کو نکل جایا کریں اور اس دوران مسکراتے رہا کریں۔ چاہے زبردستی ہی کیوں نہ مسکرانا پڑے۔ چند ایک بار میں نے بھی اس کا تجربہ کیا ہے اور پایا ہے کہ چاہے زبردستی بھی مسکرایا جائے، اس کا بھی مزاج پر خوشگوار اثر پڑتا ہے۔

  14. بہت شکریہ میں اس سلسلے میں احتیاط کروں گا اب۔
    اصل میں کسی بات پر غصہ آجاتا ہے بس ورنہ میں خاصا ہنستا کھیلتا بدنہ ہوں۔ فیصل آبادی سٹائل میں جگتیں شگتیں اور فقرے بازی اپنا معمول ہے بس۔۔۔ طبیعت کو اچانک جب کچھ برا لگ جائے تو پھر کنٹرول نہیں ہو پاتا۔۔

  15. استغفر اللہ پڑھ لیں۔ یہی حدیث میں آیا ہے

ایک تبصرہ شائع کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔