جمعہ، 9 اکتوبر، 2009

دل بولے ہڑپہ

ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 9:48 PM ,
لو جی آج ہمارے پاس کچھ وقت تھا تو ہم نے انڈین مووی دل بولے ہڑپہ دیکھی۔ لگان، چک دے انڈیا وغیرہ کی طرح ایک اور کھیل کے گرد گھومتی کہانی اور اس بار پھر سے کرکٹ۔ اور کرکٹ بھی انڈیا پاکستان کی۔ اچھی کہانی ہے لیکن جگہ جگہ یہ لگتا ہے کہ فلمی کہانی ہے۔ اتفاقات اتنے ڈھیر سارے ہیں جن میں رانی مکھر جی کے مردانہ کیرکٹر سے لے کر اس کے شاہد کپور سے ملنے تک کئی واقعات شامل ہیں۔ مووی کا اختتام خاصا جذباتی ہے۔ جیسا کہ بالی وڈ کی فلموں کا خاصا ہے۔ جذبات میں لتھڑا ہوا یہ دی اینڈ بہت سے ننھے ننھے جھول بھی لیے ہوئے ہے۔ جیسے  میچ میں شاہد کپور کے ہاتھ ہیروئن کے مرادانہ گیٹ اپ کا حصہ اس کا لینز آجاتا ہے جبکہ مونچھ داڑھی نہیں آتی حیرت کی بات ہے۔ یعنی ہیرو جوتوں سمیت آنکھوں میں گھس کر لینز نکال لاتا ہے گویا۔
20 20 میچ میں پاکستان کے دو سو سے زیادہ رن کا پہاڑ کھڑا کروایا گیا اور پھر اسے بڑے سٹائل سے آخری تین چار اورز میں پورا کروایا گیا۔ لمبی چھوڑی ہے فلم لکھنے والے نے بھی۔ بہرحال جی اچھی فارمولا فلم تھی دو گھنٹے اچھے گزر گئے۔
آپ کے سر سے اگر یہ پوسٹ گزر گئی ہو تو معذرت کے ساتھ۔ آپ پہلے اوپر دئیے گئے ربط سے فلم اتاریں، دیکھیں اور پھر اس پوسٹ کو پڑھیں۔ چونکہ ہم نے پہلے کسی فلم پہ تبصرہ نہیں کیا اس لیے آپ کو عجیب سا لگ رہا ہوگا۔ ;)
سمجھ لیں دل کا ساڑ نکالا ہے۔ کمبختوں نے ملوانا ہیرو ہیروئن کو تھا پاکستان کو ایویں گھسیڑ دیا بیچ میں اور اسے بھی آخر میں ہروا دیا۔ لے دس جاتے جاتے ایک اور بات ہیروئن کھڑی لاہور میں ہے اور مثالیں دئیے جاتی ہے اندراگاندھی اور رانی جھانسی کی۔ لے دس تماشائی تو پاکستانی ہیں تم ان سے مخاطب ہو یا فلم دیکھنے والوں سے۔ غالبًا فلم دیکھنے والوں سے ہی مخاطب ہوگی۔ خیر تسیں فلم دیکھو۔ :)

Back Top

7 تبصرے:

  1. پھر تو آپ کو فلم ویر زارا بھی دیکھنی چاہئیے۔ زیادہ دل کا ساڑ نکلے گا۔ ویسے میں نے کل ملا کر دس منٹ کی دیکھی۔ دل کی ساڑ نکالنے کے میرے پاس اور زیادہ آزمودہ نسخے ہیں اس لئیے دس منٹ کافی تھے۔

  2. لالے فلم میں اگر معقولیت ہو تو وہ پھر بالی ووڈ کی تو نہ ہوئی۔ میرا مطلب ہے اکثریتی معاملات میں تو یہ بات درست ہے۔ تُسی موجاں کرو، لاجک نہ لبھو۔

  3. بس جی اپنے دل کی بھڑاس انڈین فلموں میں ہی اتار سکتے ہیں۔ میدان کا حال تو آپ ملاحضہ فرما چکے ہونگے

  4. اتفاق سے میں نے بھی رات ہی کو دیکھی تھی ٹائم برباد کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

  5. اپنی فلم انڈسٹری تو ختم ہو چکی تقریباً ۔ اب ہم دوسروں کی فلمیں دیکھنے کے لیے ہی رہ گئے ہیں۔ کبھی ہالی ووڈ کبھی بالی ووڈ۔

  6. ہندی فلمیں دیکھنے کا موقع بہت کم ملا اور گنی چنی ہی دیکھ پایا لیکن ان میں آج تک صرف ایک فلم ہی تھی جس نے واقعتاً متاثر کیا وہ عامر خان کی "رنگ دے بسنتی" تھی۔
    باقی اگر ہندوستان والے پاکستان کے بیچ میں نہ گھسیٹیں تو ان کا تو کھانا ہی ہضم نہ ہوگا۔
    (میں بلاگ اسپاٹ کے انوکھے طریقۂ تبصرہ سے بڑا پریشان ہوں، کچھ علاج اس کا بھی .....)

ایک تبصرہ شائع کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔