ہفتہ، 7 نومبر، 2009

ترقی

ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 9:42 AM ,
پچھلے ایک ہفتے سے میرا گھر پیٹر انجن کی ٹھک ٹھک پھک پھک سے گونج رہا ہے۔ اس میں وقفے وقفے سے وہ آوازیں بھی شامل ہوجاتی ہیں جو اس کے ساتھ لگی مشین کے گھومنے سے پیدا ہورہی ہیں، اس میں بجری ڈالنے سے پیدا ہورہی ہیں اور پھر بجری اور کول تار کا ملغوبہ نکالنے سے پیدا ہورہی ہیں۔ یہ سب کچھ میرے محلے کی ایک سڑک تعمیر کرنے کے لیے کیا جارہا ہے۔ یہ سڑک یعنی صدر بازار میرے محلے کے دو بڑے بازاروں میں سے ایک ہے جو اسے مین روڈ سے ملاتے ہیں۔
آپ بھی حیران ہونگے اگر سڑک تعمیر ہورہی ہے تو اس میں بری بات کیا ہے؟ مجھے بھی کوئی بری بات نہیں لگ رہی۔ آخر میرے محلے کی ترقی ہورہی ہے۔ سڑک جو صرف دو سال پہلے بنی تھی اب اس میں ایسے ایسے گڑھے تھے، کہیں سیوریج ڈالنے والوں نے ادھیڑ ڈالی تھی، کہیں رہائشیوں نے اپنا سیوریج پائپ ڈالنے کے لیے کھود ڈالی تھی اور رہی سہی کسر واٹر سپلائی کے نئے پائپ ڈالنے والوں نے نکال دی تھی۔ تو یہ گڑھے مجھے ایسے لگتے تھے جیسے کسی بیوہ کی خستہ حال چادر کے اڑے ہوئے حصے جو اس کی برہنگی بھی نہیں چھپا سکتے۔ مجھے خوشی ہے کہ اس سڑک کو پھر سے پردہ دیا جارہا ہے جو سر بازار بے پردہ ہورہی تھی، کوڑھ زدہ مریض کی طرح اس کی کھال پھٹ گئی تھی اور پیپ زدہ ماس کی طرح پتھر نظر آرہے تھے۔ لیکن مجھے خوشی ہوتے ہوئے بھی خوشی نہیں ہے۔ اس کی وجہ؟ وجہ یہ ہے کہ ابھی یہ سڑک مکمل نہیں ہوئی۔ اور میرے محلے کے چوک، صدر چوک، میں ایک کتبہ لگ گیا ہے۔ ایک بینر بھی لگ گیا ہے۔ جس میں میرے حلقے کے ایم این اے کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا گیا ہے۔ اور اس کے نیچے محلے کے تین چار چوہدریوں کے نام ہیں بشمول نائب ناظم۔ میں بس ذرا سا حیران ہوں کہ یہ سب تو ہونا ہی تھا۔ لیکن یہ ایسے کیوں ہورہا ہے؟ کیا ہم ٹیکس نہیں دیتے؟ ہر سال حکومت میرے ڈھائی مرلے کے مکان سے دو ہزار روپیہ پراپرٹی ٹیکس وصول کرتی ہے۔ مجھے موبائل فون کے ہر سو روپے پر چھتیس فیصد ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ ہر وہ کام جس میں روپے لگتے ہیں میں ٹیکس ادا کرکے کرتا ہوں۔ تو  دو سو میٹر کا سڑک کا یہ ٹکڑا اگر دوبارہ سے بنایا جارہا ہے تو اس میں اتنے احسان کی کیا بات ہے؟ اور اس میں اس ایم این اے کا کیا کام ہے؟ ایم این اے تو سمجھتے ہیں نا آپ؟ ممبر قومی اسمبلی۔ تو یہ ممبر جو میرے محلے جیسے دس اور محلوں کا بھی والی وارث ہے۔ اسے اتنا کشٹ اٹھانے ضرورت ہی کیا تھی آخر؟ صاحب اسلام آباد جاؤ، ایوان میں بیٹھو اور قانون سازی کرو۔ قومی نوعیت کے مسائل کو حل کرو۔ میرا محلہ، کہ جس جیسے سینکڑوں محلے اس ملک میں ہیں، پر اتنی مہربانی کیوں؟ کہ چند سو میٹر کا ایک سڑک کا ٹکڑا جناب نے کمال مہربانی سے اور خصوصی توجہ سے تعمیر کروایا جس پہ میرے محلے کے چوہدری سراپا ممنون احسان ہورہے ہیں۔ ارے یہ کام تو میرے محلے کا ناظم بھی کرسکتا تھا۔ اس کا کام ہی یہ ہے کہ مقامی طور پر ایسے کام کرائے، ترقی کے منصوبے بنائے اور ان پر عمل کرائے۔ ایم این اے بادشاہ کو کیا ضرورت پڑ گئی یہ سب کرنے کی؟
لیکن نہیں۔ یہاں ایسے ہی ہوتا ہے۔ یہاں اب گلی بھی پکی کروانی پڑی تو اس کام کے لیے ایم این اے اور ایم پی اے آئیں گے۔ ضلعی نظام تو ویسے ہی ختم ہورہا ہے۔ پھر وہی کونسلر رہ جائیں گے جن کا کام محلے کے چُوہڑوں کی انسپکٹری ہوگا بس۔ مجھے نہیں پتا سیاست دانوں کا اس نظام کے بارے میں کیا خیال ہے، اس میں کتنی غلط باتیں ہیں، لیکن مجھے اتنا پتا ہے کہ اس کی وجہ سے مجھے اتنا پتا لگا تھا کہ ترقی ہوسکتی ہے۔ میرے محلے کی گلیاں اور سڑکیں پچھلے پانچ سال میں اتنی بار بنیں کہ میں اکتا گیا۔ جہاں دیکھو ہر روز کوئی نہ کوئی کہیں نہ کہیں کام ہورہا ہوتا تھا۔ چلیں اب یہ اکتاہٹ ختم ہوجائے گی۔ اختیارات واپس وڈوں کو مل رہے ہیں۔ اب نا وڈے صاحب کے پاس وقت ہوگا نہ وہ ایسی کسی چیز کا افتتاح کرسکیں گے۔ اور ہم منہ چک کے اسلام آباد کی طرف دیکھتے رہیں گے کب بڑے صاحب پدھاریں اور کب ان کو عرضی پیش کریں کہ صاحب محلے کے گٹر کا ڈھکن بدلوانا ہے ذرا فنڈز تو جاری کروا دیجیے۔ صاحب کوڑا سٹینڈ نہیں ہے محلے میں کوئی مناسب سی جگہ دیکھ کر اس کا سنگ بنیاد رکھوا دیجیے۔ سرکار کی مشہوری بھی ہوجائے گی غریب کا بھلا بھی ہوجائے گا اور ایک عدد کتبہ بھی لگ جائے گا۔
محلہ غریباں کے کوڑا سٹینڈ کا
سنگ بنیاد
جناب عزت مآب ایم این اے صاحب نے
اپنے دست مبارک سے فلاں تاریخ کو رکھا۔ 

Back Top

4 تبصرے:

  1. ہماری قسمت میں تا دمِ آخر یہی رونا روتے رہنا لکھا ہوا ہے..

  2. زبردست تحریر ہے

  3. shuker karo sans lene pe tax ni laga. or sahib ye sare bare log AC me bethne wale. inhen Hum Garibon se kia Matlab. bes inki JE JE KAR honi chaie...

  4. بھائی پنجاب میں تو ضلعی نظام کو ابھی جانا ہی ہے۔ وجہ؟؟؟؟ بھئی اپنے وڈے میاں صاحب بہت منتقم مزاج مشہور ہیں اور اس ضلعی نظام پر چھاپ ہے پرویز مشرف کی۔ سو اس کا تو وہ "مکو" ٹھپ کر ہی رہیں گے اگر ان کا اپنا "مکو" نہ ٹھپا گیا اس سے پہلے۔ باقی عوام کی فکر نہ ان کو پہلے تھی ، نہ اب ہے، اور نہ پھر کبھی ہوگی۔

ایک تبصرہ شائع کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔