اتوار، 22 نومبر، 2009

این آر او

ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 2:45 PM ,
آج کی اخبارات اور خبروں کے مطابق این آر او کے تحت فائدہ اُٹھانے والے لوگوں کی فہرست جاری کردی گئی ہے۔ بی بی سی کی خبر کے مطابق اس میں بہت سے وڈوں کے نام بھی شامل ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ سب سے زیادہ سات ہزار کچھ افراد نے سندھ سے اس آرڈیننس سے فائدہ اُٹھایا۔ ملک کے اعلٰی ترین عہدوں پر بیٹھی شخصیات بعض اوقات درجنوں میں فوجداری اور کرپشن کے مقدمات میں نامزد تھیں جن کو اس آرڈیننس کے ذریعے تحفظ دیا گیا۔
این آر او پر ہونے والی پچھلے کئی ماہ کی بحث اور میڈیا بشمول عوام و حزب اختلاف کی حکومت پر لعن طعن کے بعد آخر کار پیپلز پارٹی نے یہ کہہ دیا کہ عدالت جو کچھ کہے گی ہم وہی کریں گے۔ اب کیا ہوگا؟ جیسا کہ تجزیہ کار بتاتے ہیں کہ حکومت میں موجود افراد کے خلاف مقدمات تو پھر بھی دائر نہیں کیے جائیں گے کم از کم صدر زرداری کے خلاف تو نہیں۔  یعنی درون خانہ کچھ بھی نہیں بدلے گا۔
اس سلسلے کا ایک قابل افسوس پہلو یہ ہے کہ پچھلے دس سالوں میں ان ہزاروں مقدمات میں سے بہت کم کو نمٹایا جاسکا ہے۔ سیاسی،انتظامی اور جانے کون کونسی وجوہات کی بنا پر انھیں ملتوی کیا جاتا رہا اور نوبت یہاں تک آپہنچی۔ اس سلسلے میں آصف علی زرداری جنھوں نے آٹھ دس سال بلا سزا ہی جیل کاٹی کا واقعہ ہمارے نظام انصاف پر ایک داغ ہے۔ یہ تو خیر صدر مملکت کی بات تھی ایسی ہزاروں مثالیں ہر جگہ موجود ہیں جہاں قیدی صرف جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں سالوں سے بند ہے اور اس کا مقدمہ ختم نہیں ہورہا۔ ہمیں اس سسٹم کو تبدیل کرنا ہوگا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مقدمات کو پہلی فرصت میں نمٹانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔ ورنہ اس سب کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ حکومت والے حکومت کرتے رہیں گے اور عوام انھیں کوستے رہیں گے۔ کاش ہم اس موقعے کو گنوائیں نہیں۔ لیکن اس کے لیے بہت سی ہمت درکار ہے۔ ہمارے سیاستدان وہ ہمت مجتمع کرپائیں گے؟
ابھی تک تو اس کا جواب نہیں لگ رہا ہے۔

Back Top

3 تبصرے:

  1. زرداری آٹھ سال اسلئے جیل میں رہا اور سزا نہ ہوئی کہ فاروق لغاری نے جب اُسے قید کروایا تو چھا٫ا مارنے والے یا تو رشوت کھا گئے تھے یا مجرم چالاک تھا کہ حرام کی دولت چھاپے کی جگہ سے برآمد نہ ہوئی ۔ اس کے بعد نواز شریف کے زمانہ میں ثبوت اکٹھے کئے جاتے رہے اور پھر پرویز مشرف آ گیا جو بینظیر سے سودے بازی کرتا رہا

  2. پاکستان کے حالات کا مرثیہ فاروق قیصر بھی پڑھ رہے ہیں!
    http://ejang.jang.com.pk/11-26-2009/pic.asp?picname=07_07.gif

  3. ہمیں کرپشن سے پاک پاکستان چاہیے
    ہمیں احساس تحفظ کی ضرورت ہے
    ہمیں زات پات میں تقسیم ہونے سے بچائیے
    ہمیں ہمارے بچوں کے لیے صاف سھترا نظام تعلیم چاہیے
    ہمیں حصول علم کے یکساں مواقع مہیا کیجیے
    ہمیں ہماری ماوں بہنوں کے لیے احساس تحفظ چاہیے
    ہم تو اپنے معصوم بچوں کو قتل کر کے نادم بھی نہیں ہوتے کہ زندہ رکھتے تو ان کو کھلاتے کیا

ایک تبصرہ شائع کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔