اتوار، 31 مئی، 2009

غزل

4 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 9:10 PM ,
کچھ ہفتے پہلے آپ ہماری ایک گزل ملاحظہ کرچکے ہیں۔ اب ایک غزل ملاحظہ کیجیے۔ حسب پروٹوکول اسے پہلے مرمت کے لیے اردو محفل میں موجود اصلاح سخن نامی ورکشاپ میں پیش کیا گیا۔ جہاں سے اس کی درستگی کے بعد اپنے بلاگ پر لکھ رہا ہوں۔
وہ جو میرا حبیب تھا
وہ نہ میرا نصیب تھا
غیر سے کیوں گلہ کروں
میں ہی اپنا رقیب تھا
نعمتیں‌ تو ملیں ‌مجھے
دوستوں کا غریب تھا
وہم تھا کہ فریب تھا
وہ جو دل کے قریب تھا
بجھتا سا اک دیا ہے، جو
روشنی کا نقیب تھا

بدھ، 20 مئی، 2009

امدادی کام

5 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 1:51 AM ,
گورنر پنجاب نے تمام یونیورسٹیوں کو خط لکھا جس میں نوجوانوں کو سوات کے متاثرین کے لیے امدادی رقوم اکٹھا کرنے کے لیے ابھارنے کا کہا گیا تھا۔ ہمارے شعبہ اطلاقی لسانیات نے اس سلسلے میں پہلا قدم اٹھایا اور پچھلے دو دن میں ہم اپن یونیورسٹی سے ہی 40000 سے زائد کیش اکٹھا کرچکے ہیں۔ اور کچھ آئے نہ آئے ہمیں لوگوں سے مانگنا آگیا اور ان کی باتیں سننا بھی۔ کل سے ہمارے گروپس فیصل آباد کے آٹھ بازاروں میں بھی موو کریں گے اور ہمیں امید ہے کہ نقد کے ساتھ ساتھ ہم غذائی اجناس بھی اکٹھی کرسکیں گے۔ یہ سب چیزیں جی سی یو فیصل آباد کی ٹرانسپورٹ پر متاثریں کو پہنچائی جائیں گی۔

ہفتہ، 9 مئی، 2009

اب؟

7 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 9:32 AM ,
وہی جس کا ڈر تھا۔ میرے جیسے جو امن کی امید کررہے تھے، بتدریج تبدیلی کی امید کررہے تھے اور نفاذ شریعت کی راہ ہموار ہونے کی امید کررہے تھے۔ اس سب کو فضل اللہ اینڈ کمپنی نے اپنی جلد بازی، ناعاقبت اندیشی اور وحشی پنے سے مٹی میں ملا دیا۔ یوں لگتا ہے جیسے انھیں پورے پاکستان پر قبضہ کرنے کی بہت جلدی تھی یا یہ باہر سے ان کی ڈوریاں ہلائی جارہی ہیں۔
خیر جو بھی ہورہا ہے۔ اب نتیجہ یہ ہے کہ بندوق ہی مسئلے کا حل ہے۔ جس سے بچنے کی کوشش کرنے کا مشورہ ہم دیتے آئے ہیں۔ اس سارے قضیے یا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پاکستان سینتالیس کے بعد اپنی تاریخ کے سب سے بڑے انسانی بحران کا شکار ہوگیا ہے۔ دس لاکھ سے زیادہ لوگ متاثرہ علاقوں سے ہجرت کرچکے ہیں اور کررہے ہیں۔ اس ہجرت کے اثرات کیا ہونگے؟ سینتالیس کو ذہن میں رکھ لیں سب کچھ سامنے آجائے گا۔ مہاجرین کو تو مسائل پیش آئیں گے ہی ان کے میزبان شہروں میں بھی گھٹن کی سی فضا پروان چڑھے گی۔ کاروبار کے مسائل، امن عامہ کے مسائل کئی قسم کی مصیبتیں کھڑی ہونگی۔
اب سلسلہ یہ ہے کہ زبانی جمع خرچ کی بجائے عملی کام کیا جائے۔ حکومت سے تو باجوڑ اور فاٹا کی دوسری ایجنسیوں کے مہاجر سنبھالے نہیں گئے پچھلے ڈیڑھ سال سے ان لاکھوں لوگوں کو کہاں سنبھال سکے گی۔ اس سلسلے میں عوام کو آگے آنا ہوگا۔ اس وقت آٹھ اکتوبر 2005 والے جذبے کی ضرورت ہے۔ اور فراخ دلی کی بھی۔ مہمان نوازی اور پناہ کی فراخ دلی۔ اللہ ہم کو اس آزمائش سے گزرنے کی توفیق دے۔