جمعرات، 27 اگست، 2009

اوقات پر واپسی

4 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 8:35 AM ,
مشرف دور کے آخری دن تھے اور پوری قوم آٹے، چینی، گھی کے لیے ترس رہی تھی۔ ایسی صورت میں جن لوگوں کی چاندی ہوئی ان میں یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن آف پاکستان بھی شامل ہے۔ اس ادارے نے سستی اشیاء کی فراہمی کی آڑ میں عوام کو گھی کے ساتھ ڈیٹول، چینی کے ساتھ ٹوتھ پیسٹ اور آٹے کے ساتھ قورمہ مصالحہ تک بیچ دئیے(۔ثبوت کے لیے آخری تصویر ملاحظہ ہو) یہی پچھلے سال کی بات ہے۔ مارچ 2008 کی کچھ تصاویر جن میں فیصل آباد کے ایک یوٹیلٹی سٹور پر گھی کے لیے لگی ہوئی قطاریں اور رش۔ یہ اس یاد دھانی کے لیے کہ یہ چینی اور آٹے کا بحران ہمارے لیے نیا نہیں۔
From آوازِ دوست
From آوازِ دوست
From آوازِ دوست
From آوازِ دوست
From آوازِ دوست
From آوازِ دوست
From آوازِ دوست
From آوازِ دوست
From آوازِ دوست
From آوازِ دوست
ہماری یادداشت بہت کمزور ہے۔ خاص طور پر حکمرانوں کو تو ہم ان کے جانے کے فورًا بعد ہی معاف کردیتے ہیں۔ کچھ محفلوں میں یہ سننے کو ملا کہ اس سے اچھا تو مشرف کا دور تھا۔ بس آخری دور میں اس کے خلاف سازشیں ہوئیں یہ مہنگائی بھی اسی کا نتیجہ تھی۔ اور یہ کہ اب پھر سے مشرف آوے ای آوے۔ یہ پوسٹ اور تصاویر اپنے آپ کو بھی اور اپنی قوم کو بھی یاد دہانی کرانے کے لیے کہ حالات اس وقت بھی ایسے ہی تھے جیسے اب ہیں۔ تھوڑے سے بدتر کرلیجیے۔ عوامی حکومت نے بھی کچھ نہیں دیا سوائے طفل تسلیوں کے۔ ہاں بجلی مل جائے گی لیکن دعا کیجیے اس بجلی کو استعمال کرکے بل دینے کے قابل بھی رہ جائیں آپ۔ یہ کرائے کے پاور پلانٹ ایک طرف حاکموں کے کمیشن کا ذریعہ ہونگے دوسرے پی پی پی نے نوے کی دھائی والا سین دوہرایا ہے یہاں۔ آئی پی پیز کی طرح یہ بھی گلے کی ہڈی بن جائیں گے نہ نگلی جائے گی نہ اگلی جائے گی۔ مہنگی ترین بجلی خریدنے کے معاہدے کرکے یہ تو رخصت ہوجائیں گے ہمارا ککھ نہیں رہے گا۔ اللہ ہم پر رحم کرے۔

جمعہ، 21 اگست، 2009

کچن کچن

4 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 1:34 PM ,
  • کچن میں جارہے ہیں تو جانے سے پہلے اپنی آستینیں ٹانگ لیں۔ شلوار یا پتلون کو اونچا کرلیں اور دایاں پیر بسم اللہ پڑھ کر اندر رکھیں۔ 
  • سب سے پہلے برتنوں کی طرف دیکھیں آپ کو کئی قسم کے برتن نظر آئیں گے جیسے پتیلا، کُجا، ساس پین، فرائی پین، کولا، گلاس وغیرہ۔ اپنی پسند کے کوئی سے تین برتن منتخب کرلیں اور اس کے ساتھ ایک برتن ہماری پسند کا بھی منتخب کرلیں یعنی ایک عدد پتیلی۔
  • اس کے بعد کھانے کی چیزوں کی طرف آئیں۔ مصالحوں میں سے حسب ضرورت و حسب پسند جو بھی پسند ہو نکال کر سامنے رکھ لیں۔ اگر سمجھ نہ آرہی ہو کہ کونسا مصالحہ ہے تو سونگھ کر دیکھ لیں۔ جیسے مرچوں کی نشانی یہ ہے کہ سونگھنے سے آپ کو شدید قسم کا کھانسی کا دورہ پڑسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اجزائے خوردونوش میں سے پیاز، ٹماٹر، ادرک، لہسن اور ایسے جو بھی نام ذہن میں آئیں ایک ایک کلو منگوا کر اپنے سامنے رکھ لیں۔ شاپرز سے نکالیں مت ورنہ دیکھنے والے یہ سمجھیں گے کہ آپ ختم شریف دینے جارہے ہیں۔ اچھا صاحب آپ نے اپنی مرضی کرلی ہماری مرضی بھی کردیکھیے تھوڑی سی، آدھا کلو آلو لیجیے اور ان کو ایک لیٹر پانی میں ڈال کر اور دونوں کو پتیلی میں ڈال کر ہلکی آنچ پر رکھ دیں۔
  • اب چونکہ آنچ ہلکی ہے اس لیے تسلی سے بیٹھیں، لہسن چھیل لیں، پیاز کاٹ لیں۔ ننھے کا سویٹر بن لیں یا گُلو کو پڑھا لیں۔ امید ہے دو گھنٹوں کے اندر آلو اُبل جائیں گے۔
  • آلو ابل جائیں تو ان کو نکال لیں۔ ٹھنڈا کرلیں۔ فرج میں رکھیں یا ٹھنڈے پانی میں یہ آپ کی مرضی۔ اس کے بعد ان کو چھیل لیں۔ چھیل کر کاٹ لیں۔ کاٹیں ایسے جیسے گلاب کا پھول کٹتا ہے۔ چونکہ ہم آپ کو یہاں سکھا نہیں سکتے اس لیے کوکب کا دسترخوان جیسی کوئی کتاب لے کر اس میں سے سلاد کاٹنے والے حصے سے کوئی اچھا سا ڈیزائن منتخب کرلیں۔ اچھا تو اسے کاٹ لیا؟ اب آپ نے مصالحوں میں سے نمک پسند کرنا ہے۔ اسے ایک کولی میں نکالیں اور آلو پر نمک لگا کر مزے لے لے کر کھائیں۔
امید ہے آپ کو آج کی ترکیب پسند آئی ہوگی۔ اگر نہیں آئی تو کوکب کا دسترخوان تو آپ لا ہی چکے ہیں اس پر سے کچھ بھی پسند کرکے پکا لیں اور ہمیں دعائیں دیں۔

اردو بلاگنگ

7 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 1:12 PM ,
فدوی اس میدان کا پرانا کھلاڑی ہے۔ سمجھ لیں کہ آثار قدیمہ میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ اردو بلاگنگ کے بابے نبیل، دانیال، زکریا ، قدیر احمد، نعمان وغیرہ کو دیکھ کر بلاگنگ کا خیال آیا اور غالبًا 2006 کے شروع یا 05 کے آخر میں بلاگ بنا لیا تھا۔ پہلے بلاگر پر رہا پھر ایک فری ہوسٹ پر منتقل کیا پھر اردو کوڈر پر رہا اور اب پھر بلاگر پر واپس ہے۔ اس دوران نام بھی بدلا کام بھی بدلا کبھی لکھنا چھوڑا کبھی بہت زیادہ لکھا قصہ مختصر یہ کہ ایک ٹُٹا پجا سا بلاگر ہوں اور اردو کا بلاگر ہوں۔ شروع میں بلاگ پر لکھنے کے لیے گھنٹوں سوچا کرتا اور بہترین لکھنے کی کوشش کرتا پھر احساس ہوا یہ تو آنلائن ڈائری ہے جو مرضی لکھو بلکہ بکواس کرو اور بھول جاؤ۔ چناچہ اب اگرچہ بکواس نہیں کرتا تو زبان سے پھول بھی نہیں جھڑتے۔
ایک وقت تھا جب ٹیکنالوجی پر لکھا، ورڈپریس پر لکھا، لینکس پر لکھا لیکن اب وقت ہی نہیں ہے ورنہ دل تو بہت کرتا ہے کہ بہت کچھ لکھا جائے۔ اب تو بہت رونق شونق ہوگئی ہے اور اردو بلاگنگ کی بیٹھک بہت بڑی ہوتی جارہی ہے۔ لسانیات کا طالب علم ہوں اور اردو کا بولنے والا ہونے کے ناطے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ زبان کا خیال رکھیں۔ اردو کے سپیل چیکر دستیاب نہیں ،ہیں بھی تو ڈیفالٹ تنصیب میں نہیں ملتے ،مل بھی جائین تو ہم انسٹال نہیں کرتے ،کر بھی لیں تو انگریزی سے اردو میں ہر بار سوئچ کرنا مسئلہ لگتا ہے۔ کئی سارے مسائل ہیں لیکن اگر ان مسائل کو تھوڑی سی توجہ سے حل کیا جاسکتا ہے۔انگریزی استعمال کرتے ہوئے ہم سیپلنگ کا بہت خیال کرتے ہیں اردو لکھتے ہوئے بھی ہجوں اور املاء کا خیال کرلیا کریں۔ لوگ ذ کو ز لکھ جاتے ہیں ح کو ہ لکھ جاتے ہیں اچھے خاصے لفظ کو بچوں کی طرح ص کی بجائے س سے لکھ جاتےہیں۔ یہ جو کچھ ہم لکھتے ہیں یہ تاریخ ہے اور ہماری آئندہ نسلوں کا ورثہ۔ اگر ہم نے اردو کی معیار بندی نہ کی تو بہت نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔ خدارا اپنی زبان کو بچائیں۔ اب تو بار بار ایک بلاگ پر ہی املاء کی غلطیاں نکالنے کے لیے تبصرہ کرتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے کہ احباب ناراض نہ ہوجائیں۔ بس شرم آتی ہے۔ بخدا دو تین املاء کی غلطیاں دیکھ لوں تو اکتا کر پوسٹ کو ایسے ہی چھوڑ دیتا ہوں پڑھنے کو دل ہی نہیں کرتا۔ آپ احباب سے یہ التماس ہے کہ خدارا تحریر کو ایک بار لکھ کر پڑھ لیا کریں۔ اس کی نوک پلک سنوار لیا کریں کم از کم املاء کی غلطیاں تو ٹھیک کرلیا کریں۔ کسی بھی زبان کا رسم الخط اور اس کا صوتی یعنی فونیٹک سسٹم اس کی بنیاد ہوتا ہے۔ ان دونوں چیزوں کو بچا لیا جائے تو زبان کبھی نہیں مرتی۔ اپنی زبان کو مرنے نہ دیں۔
وسلام

جمعرات، 20 اگست، 2009

تعلیم؟

4 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 1:02 AM ,
ہفتہ بلاگستان کے سلسلے کی دوسری تحریر اور موضوع تعلیم کے ساتھ لیٹ حاضر ہے۔ فدوی لسانیات کا طالب علم ہے اور یہ تعلیم کو اسی نظر سے دیکھے گا۔ اطلاقی لسانیات کا بڑا حصہ زبان کی تعلیم دینے پر مشتمل ہے اور اس زبان سکھانے کے علم کا  نوے فیصد انگریزی زبان سکھانے کا مضمون ہوتا ہے۔ ہم اسے اصطلاحی زبان میں ای ایل ٹی یعنی انگلش لینگوئج ٹیچنگ کہتے ہیں۔ انگریزی بطور دوسری زبان TESOL اور انگریزی بطور غیرملکی زبانTEFL وغیرہ بھی اسی شاخ کے نیچے آتے ہیں۔
ہمیں زبان پڑھانا سکھایا جاتا ہے جیسے بی ایڈ اور ایم ایڈ والوں کو پرائمری کے بچے پڑھانا سکھایا جاتا ہے۔ آسان الفاظ میں ہمیں زبان یا انگریزی زبان سکھانے کے لیے بطور استاد تیار کیا جاتا ہے ۔ ہمارا نصاب یعنی ماسٹرز کا دو سالہ اور بی اے آنرز کا چار سالہ کورس اسی پر مشتمل ہوتا ہے۔
اس ساری تمہید کے بعد اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ یعنی پاکستانی میں انگریزی تعلیم ۔۔ پاکستان میں انگریزی تعلیم اور ہمارے بچوں کا انگریزی کا معیار اتنا برا کیوں ہے؟ اس سارے کو کچھ نکات کی صورت میں بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔ یہ یاد رہے کہ میرا مقصد یہاں انگریزی کی وکالت کرنا نہیں بلکہ انگریزی تعلیم کے سلسلے میں درپیش مشکلات کا ذکر کرنا ہے۔ یہ ایک خالصتًا تکنیکی معاملہ ہے اس سیاسی معاملے سے الگ جس کے تحت ہم انگریزی کے اپنے ملک میں سٹیٹس پر سوال اٹھاتے ہیں اگرچہ یہ شک بھی انگریزی تعلیم کے غیر معیاری ہونے کی بڑی وجہ ہے۔
  • ہمارے ہاں انگریزی کے اساتذہ ہی تیار نہیں کیے جاتے۔ جو لوگ انگریزی پڑھاتے ہیں وہ مضمون کے ماہر نہیں ہوتے۔ یاد رہے انگریزی ادب میں ماسٹرز کرنا اور اطلاقی لسانیات میں ماسٹرز کرنا ایسا ہے جیسے فزکس اور کیمسٹری دو الگ چیزیں۔ 
  • ہمارے ہاں ادب کی زبان کو ہی اصل زبان سمجھ لیا جاتا ہے حالانکہ ادب زبان کا ایک اُسلوب ہوتا ہے مکمل زبان ہیں۔ اردو کی کتابی اور عمومی زبان آپ کے سامنے ہے۔ بامحاورہ اور روزمرہ کی زبان ہمارا معمول ہے لیکن لکھی اور بولے جانے والی زبان نیز ادب اور عام آدمی کی زبان میں بہت سے فرق ہوتے ہیں جو ہمارے بچوں کو سکھائے ہی نہیں جاتے۔ آج بھی دو صدیاں پرانے ناول اور کہانیاں ہمارے انگریزی نصاب میں اس غرض سے شامل ہیں کہ یہ بچوں کو انگریزی سکھائیں گی۔ کونسی انگریزی؟ وہ جو ڈیڑھ سو سال پہلے لکھی جاتی تھی؟
  • ہمارا انگریزی نصاب انتہائی فرسودہ اور سالخوردہ ہے۔ جیسا کہ اوپر ایک مثال دی گئی اس کے علاوہ بھی ہمیں پرائمری سے لے کر اعلٰی سطح تک نصاب میں انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ پرائمری سطح پر ہمیں نصاب کو سائنسی بنیادوں پر بہتر کرنے کی ضرورت ہے جبکہ اعلٰی سطح پر ہمیں متعلقہ فیلڈ کے مطابق انگریزی نصاب تیار کرنے کی ضرورت ہے جیسے انجنئیرز کو درکار انگریزی وکیل کو درکار انگریزی سے بہت مختلف ہوگی اور ایک بزنس مین کو درکار انگریزی ان دونوں سے مختلف۔
  • ہمارا طریقہ تعلیم ستر برس پرانا ہے۔ ہمارے سکولوں میں بچوں کو انگریزی پڑھانے کے طریقے کو اصطلاحی زبان میں ہم گرامر ٹرانسلیشن میتھڈ کہتے ہیں۔ یعنی گرامر اور ترجمے کے ذریعے زبان کی تعلیم۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے اس میں مادری زبان کو واسطہ بنا کر تعلیم دی جاتی ہے جس کی وجہ سے بچے کی سوچ اور سیکھی جانے والی زبان میں مادری زبان واسطہ بن جاتی ہے۔ یہ سب ایسا ہی ہے جیسے اردو میں لکھی تحریر پہلے انگریزی میں ترجمہ ہو پھر کمپیوٹر کی زبان میں یعنی دوہری پروسیسنگ۔ اگر جدید طریقہ ہائے تعلیم استعمال کیے جائیں جن میں کمیونیکیشن سے پڑھانا بھی شامل ہے تو اس کو بہت بہتر کیا جاسکتا ہے۔ بطور پروفیشنل ہم جی ٹی ایم نہیں بلکہ مختلف طریقہ ہائے تعلیم کو ملا کر پڑھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ یعنی جیسا منہ ویسی چپیڑ اور جیسا ماحول ویسا طریقہ تعلیم۔
  • جیسا کہ اوپر ایم اے انگریزی ادب کے بارے مین بات کی گئی کہ یہ لوگ انگریزی ادب تو پڑھا سکتے ہیں انگریزی زبان نہیں ایسے ہی ہمارے پرائیویٹ سکولوں میں میٹرک پاس استانیاں بچوں کی بنیاد کا بیڑہ غرق کر دیتی ہیں۔ نیم حکیم کے مشابہ یہ اساتذہ بچے کو وقتی رٹا لگوا کر اس سے انگریزی تو بلوا دیتے ہیں لیکن ذخیرہ الفاظ ہی زبان نہیں ہوتی زبان صوتیات یعنی فونیٹکس سے لے کر گرامر تک ہوتی ہے جس میں ذخیرہ الفاظ، الفاظ بنانے کے قوانین، جملہ بنانے کے قوانین، پیراگراف بنانے کے قوانین، معانی کا لیول اور اس سے بھی اوپر سیاق و سباق کے لحاظ سے معانی و مطالب اور پھر پورا پیغام بطور ایک یونٹ۔ ایسے ہی جیسے ایک خط اگرچہ جملوں پر مشتمل ہے لیکن وہ بطور ایک یونٹ بھی کام کرتا ہے اور بطور ایک اکائی ایک خاص مطلب و معانی بیان کررہا ہوتا ہے جو نچلے درجے کے تمام یونٹ آپس میں مل کر تشکیل دیتے ہیں۔ اس لیول کو ہم ڈسکورس کا نام دیتے ہیں۔ ان سب درجہ ہائے زبان کا جب تک استاد کو پتا نہیں ہوگا وہ کیسے زبان کوسکھا سکے گا۔ 
  • یہ غلط طرز فکر ہے کہ ہمیں ہر معاملے میں امریکیوں یا برطانویوں کی تقلید کرنی چاہیے۔ اس طرز فکر کی تلفظ سکھانے کے سلسلے میں انتہا پسندانہ انداز میں پیروی کی جاتی ہے۔ سرکاری سکولوں میں تو اکثر تلفظ ہوتا ہی غلط ہے لیکن نام نہاد انگریزی سکولوں میں بچوں کو انگریز بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔ جبکہ بطور ماہر لسانیات ہم جانتے ہیں کہ مادری زبان کا اثر ہمیں کبھی بھی غیرملکی زبان ایسے سیکھنے نہیں دیتا جیسے اس کے اہل زبان وہ زبان بول سکتے ہیں۔ ہمیں اس بات کو قبول کرنا چاہیے کہ بطور اردو بولنے والے ہم کبھی بھی تھیٹر کو ایسے نہیں بول سکتے جیسے انگریز بولتے ہیں۔ اس کے صوتیے غیرشعوری طور پر ہم اردو کے صوتیوں کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا گلہ اور منہ وہی صوتیے اور آوازیں نکالنے کا عادی ہوتا ہے جو ہماری مادری زبان میں ہوتے ہیں۔ اسی کی سادہ سی مثال انگریزی کے مصوتے یا واؤلز ہیں۔ انگریزی میں دو قسم کے مصوتے ہیں یک آوازی، دو آوازی۔ یک آوازی جیسے آ، او، ای اور دو آوازی ان یک آوازی مصوتوں سے مل کر بنتے ہیں۔ لفظ ڈے کے آخر میں سے ہم دو آوازی مصوتہ اڑا دیتے ہیں جبکہ اصل میں یہ ڈےای ہوگا آخر میں ایک دو آوازی مصوتے کے ساتھ۔
  • آخر میں ہمارا یہ المیہ کہ ہم آج تک انگریزی کا سٹیٹس متعین نہیں کرپائے جس کی وجہ سے نہ ہم انگریزی کو چھوڑتے ہیں اور نہ اپناتے ہیں اور نہ ہی اس کی تعلیم  کو بہتر بناتے ہیں۔ اگر یہ فیصلہ ہوجائے کہ ہم نے اس زبان کی بطور غیرملکی زبان تعلیم دینی ہے تو پھر اس کے لیے پروفیشنل بھی تیار ہونے لگیں گے ایسے ہی جیسے کامرس اور کمپیوٹر سائنس کے پروفیشنل تیار ہوتے ہیں۔ 

اتوار، 16 اگست، 2009

میرا بچپن

9 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 10:30 PM ,
سب سے پہلے تو ان تمام احباب کا شکریہ جنہوں نے مجھے پرچوں کے سلسلے میں کامیابی کی دعائیں دیں۔ الحمداللہ پرچے بہت اچھے ہوگئے امید ہے اس بار بھی پچھلے سمسٹر کی طرح پہلی پوزیشن میری ہی ہوگی۔
اس کے بعد عرض ہے کہ مصروفیت نے ایک عرصے سے اردو بلاگنگ سے کنارہ کش کردیا ہے۔ اس عرصے میں بہت سی نئی آوازیں اور لہجے شامل ہوئے اور خوب شامل ہوئے۔ اردو بلاگرز اب بالغ نظر ہوتے جارہے ہیں۔ خیر یہ تو بات سے بات تھی۔ اصل بات وہی عنوان والی ہے۔ اگرچہ اس بار بھی دل تھا کہ سیدہ شگفتہ کی فرمائش اور پھر منظر نامہ کے ذریعے اس تجویز کا تفاذ دیکھ کر پھر سے کھسک لوں کہ اس بار بھی کچھ نہیں لکھنا۔ لیکن۔۔۔۔ پھر دل نے کہا کہ اپنے لیے نہیں کمیونٹی کے لیے لکھو۔۔۔ سو لکھ رہا ہوں۔
تو صاحبو اوپر کے سارے وعظ کے بعد بات اتنی سی ہے کہ ہمارے بچپن کا کوئی ایسا واقعہ نہیں جو آپ کو ہنسا سکے۔۔۔ یا رُلا سکے۔ بڑا سادہ سا اور انتہائی عام سا بچپن گزرا ہے جس کی یادیں ساری بلیک اینڈ وائٹ ہیں اور دھندلی دھندلی سی۔۔۔ خیر کھینچ کھانچ کر ایک پرانی پوسٹ سے متعلق ہی ایک تفصیلی واقعہ نکالا ہے یادوں کے کباڑخانے سے۔ ملاحظہ کیجیے۔
میرا پلان بالکل مکمل تھا۔ لیٹرین کے ساتھ ٹینکی نما چیز کو دیکھ کر ہی یہ پلان میرے ذہن میں آیا تھا کہ بس اب تو اپنی جان چھوٹی ہی چھوتی۔ تو صاحبو ہم نے وضو کرنے کا بہانہ بنایا ٹینکی سے لیٹرین پر اور وہاں سے دیوار پر اور اس کے بعد چھ سات فٹ سے ہم نے چھلاگ لگا دی اور نکل لیے۔
خیر آپ کو کیا سمجھ آئی ہوگی۔ اوپر دئیے ربط پر چلے جائیں تو شاید کچھ سلسلہ جڑ جائے۔ اصل میں ہم پانچویں کے بعد مدرسے میں ڈال دئیے گئے تھے حفظ قرآن کے لیے۔ کچھ عرصہ تو سکون سے گزرا ہم اچھا خاصا حفظ کرتے رہے لیکن پھر ہم سے پڑھائی کا شیڈول برداشت نہ ہوا اور ہم نے بغاوت کردی۔: او میں نئیں پڑھناں ہور ہُن۔۔ تو اس کا حل قاری صاحب نے یہ نکالا کہ ہماری ٹانگیں ایک دوسرے لڑکے کو پکڑوا کر ہماری تشریف پر گدھے ہنکانے والی بید کی سوٹی سے ٹکور کی۔ اور اسی ٹکور کے دوران ہم پر انکشاف ہوا کہ یہ ساری کاروائی شیطان کی تھی ہمارا کوئی قصور نہیں ہم نے چیخ چیخ کر قاری صاحب کو یہ باور کرانے کی کوشش کی لیکن قاری صاحب نے ٹریٹمنٹ پورا کرکے ہی جان چھوڑی۔ خیر اس علاج کے بعد کچھ ماہ سکون سے گزرے اور پھر ہم نے جو کارنامہ سرانجام دیا وہ اوپر تحریر ہے۔ اس دوران ہماری چھٹی بند تھی۔ قاری صاحب ایسے بچے کی پہلے روزانہ کی چھٹی بند کرکے ہفتہ وار کرتے تھے اگر پھر بھی نصیحت نہ آتی تھی تو عید کے عید ہی ملتی تھی چھٹی۔
خیر تو ہم بھاگ پڑے۔ چھوٹا بھائی کھانا دینے آرہا تھا اس نے ہمیں بھاگتے دیکھ لیا کچھ دور تک وہ ہمارے پیچھے بھاگا پھر واپس گھر چلا گیا۔ اور ہم ۔۔۔ ہم پہنچے سیدھے نشاط آباد سٹیشن پر۔ یہ فیصل آباد کے بڑے سٹیشن کے بعد لاہور کی طرف جاتے ہوئے دوسرا سٹیشن ہے۔ ابا جی کو چونکہ ہماری ساری گیم کا پتا تھا انھوں نے ہمیں وہاں سے جا لیا اور پھر ہماری دھلائی بھی ہوئی اور ہاتھ باندھ کر سائیکل پر بٹھا کر گھر لایا گیا۔
قصہ مختصر عزیزان گرامی ہم نے ایسے دو ایک اور ڈرامے کھیلے اور ہمیں مدرسے سے نجات مل گئی۔ ہم نے آخری پانچ پارے حفظ کرلیے تھے چھٹا پاؤ ہو گیا تھا لیکن سب کچھ چھوٹ گیا۔ اس واقعے نے ہماری زندگی کا رخ موڑ ڈالا۔ شاید اس وقت ایسا نہ ہوتا تو ہم آج بلاگر نہ ہوتے۔۔ ہوتے بھی تو اتنے ۔۔۔۔ نہ ہوتے۔