جمعہ، 30 جولائی، 2010

پانی کی صورت حال

ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 5:57 AM ,
آج کی خبر پانی نہیں سیلاب کے متعلق ہے۔ سینکڑوں میں جاں بحق ہوگئے اور ہزاروں میں بے گھر۔ لیکن جس بات کو میں دیکھ رہا ہوں وہ بارشوں کا ٹائم فریم ہے۔ اس وقت یہ کہا جارہا ہے کہ بارشوں کا 60 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ اصل میں ایسے کئی ریکارڈ اب ٹوٹیں گے اور ہر سال ٹوٹیں گے۔ پاکستان میں بارشوں کا ٹائم فریم اور بارشوں کے مقامات شفٹ ہورہے ہیں۔ ڈیر غازی خان کی طرف بارشیں کم ہوتی جارہی ہیں۔ جس کی وجہ سے وہاں خشک سالی بڑھ رہی ہے جبکہ پہاڑی علاقوں میں بارشیں بڑھ رہی ہیں۔ لیکن یہ بارشیں بھی صرف برسات کے ایک ماہ میں ہوا کریں گی اس کے بعد خشک تپتا بے رخ موسم ہوا کرے گا۔ اس وقت جو سیلاب سے مر رہے ہیں چند ماہ بعد وہی پانی کی کمی سے کُرلا رہے ہونگے۔ ہمارے دونوں ڈیم بھر گئے اور؟ باقی پانی سمندر میں جائے گا۔ مجھے نظر آرہا ہے کہ اگلے دس سالوں میں ہمارا نوے فیصد انحصار ڈیموں پر ہوگا۔ ورنہ پانی نہیں ملے گا۔ پانی صرف بارہ ماہ میں میں ایک بار برسا کرے گا، اور اتنا برسا کرے گا کہ موت کا پیغام بر بن جایا کرے گا۔ ہمالیہ کے گلیشئیرز؟ نہ آپ بچے ہیں نہ میں، ہمیں پتا ہی ہے کہ یہ تیزی سے ختم ہورہے ہیں اس کے بعد پیچھے سنگلاخ پہاڑ رہ جائیں گے گلگت بلتستان میں۔
کاش ہم آنے والے سخت ترین حالات کی پلاننگ کرسکیں۔

Back Top

4 تبصرے:

  1. پہلے ہم ڈیموں پر سیاست تو کرلیں۔ ہر ملک دشمن پارٹی ڈیم کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنا لیتی ہے
    اور قومی سیاست ان کی بلیک میلنگ میں آجاتی ہیں۔

  2. جناب ابھی ہميں اپنے زرِ مبادلہ کے خزانے بھرنے اور ايک دوسرے کی ٹانگ کھينچنے سے فرصت نہيں ہے ۔ پھر کبھی بات کيجئے گا

    جس ملک ميں سب فيصلے وہ کريں جن کا علم متعلقہ مضمون ميں صفر ہو وہاں آپ کس اچھائی کی توقع رکھتے ہيں ؟

    محکمہ صحت ہو انجيئرنگ ہو يا معاشيعات ان کے سربراہ بی اے يا ايم اے پاس ہوتے ہيں اور وزير ان پڑھ يا جعلی اسناد والے ۔
    جب جاپان خسارے سے نکل کر ترقی کی بلنديوں پر پہنچا تو ان کا وزيراعظم ايم ايس سی انجيئرنگ اور وزراء ميں ايم ايسی اور پی ايچ ڈی تھے متعلقہ مضامين کے ۔ بلاشبہ اسمبلی کا رکن بننے کيلئے پڑھائی شرط نہ تھی ۔
    ہم جعلی سند رکھنے والے کو ووٹ دے کر کامياب کراتے ہوئے يہ نہيں سوچتے کہ ہم نے تمام ان لوگوں پر گندھا پانی پھينکا ہے جنہوں نے محنت کر کے تعليم حاصل کی تھی

  3. اگر کالا باغ ڈیم ہوتا تو سیلاب کا پانی اس میں اسٹور کرلیتے

  4. طالوت:
    سیلاب کے مناظر انتہائی خوفناک ہیں ۔ اور آپ کی بات بجا کہ وقت کے ساتھ ساتھ مزید خوفناک ہوا کریں گے ۔ جنگلات ، ڈیم ، دریاؤں و نہروں کی نئے سرے ترتیبات ، مضبوط پل کوئی بھی ایسا حصہ نہیں جس پر صحیح معنوں میں کام ہو رہا ہو۔
    بدبخت پھر کہیں گے کہ قدرتی آفات کے سامنے انسان بے بس ہے ۔
    وسلام

ایک تبصرہ شائع کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔