ہفتہ، 27 مارچ، 2010

گرین زون

15 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 9:20 AM ,
گرین زون ہالی ووڈ کی ایک نئی فلم ہے جو اسی ماہ جاری ہوئی ہے اور اس کا موضوع عراق پر امریکی حملہ ہے۔ فلم کی کہانی 2003 میں امریکی بمباری سے شروع ہوتی ہے۔ مارچ میں امریکی حملہ ہورہا ہے اور اس کے چار ہفتے بعد امریکہ بغداد پر قابض ہے۔ اس کےبعد بغداد کے گرین زون کا منظر دکھایا جاتا ہے جہاں فوجی وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تلاش کے لیے بریفنگ میں شریک ہیں، اور ایسی کاروائیاں کر بھی رہے ہیں۔ لیکن انھیں ملتا کچھ نہیں۔ پھر رائے ملر جو فلم کا ہیرو بھی ہے اسے اس سب پر اعتراض ہے کہ یہ ہتھیار مل کیوں نہیں رہے، وہ میٹنگ میں اعتراض بھی کرتا ہے لیکن اس کا منہ بند کروا دیا جاتا ہے۔ اس دوران ایک کاروائی میں اسے ایک مقامی عراقی ملتا ہے جو اسے بعث پارٹی کے افسران کی میٹنگ کے بارے میں بتاتا ہے۔ ملر ہتھیاروں کے لیے ایک پلاٹ کی کھدوائی کروا رہا ہے، سب چھوڑ کر اس طرف چل پڑتا ہے۔ وہاں سے ان کا سرغنہ جنرل الراوی تو نکل جاتا ہے لیکن دو ایک چھوٹے مرغے پکڑے جاتے ہیں ساتھ ایک نوٹ بک ہاتھ لگتی ہے جس میں الراوی کے ٹھکانوں کی تفصیل ہے۔ ابھی یہ لوگ واپس ہی آئے ہیں کہ ہیلی کاپٹر پر ایک اور پارٹی ریڈ کردیتی ہے اور ان سے گرفتار شدگان کو چھین کر لے جاتی ہے۔ یہاں سے ملر اپنی حکومت سے متنفر ہوجاتا ہے۔ اور سی آئی اے کے ایک آفیشل کے ساتھ مل کر، جو پہلے ہی اس جنگ کے خلاف ہے، اصل حقائق کو سامنے لانے پر کام کرتا ہے۔ ایک صحافی جسے واشنگٹن کے ایک اعلی عہدیدار کی طرف سے خودساختہ انٹیلی جنس اطلاعات ملتی ہیں کہ عراق میں ایسے ہتھیار موجود ہیں، ان میں شامل ہے جو امریکہ کی جنگجو حکومت کو عراق پر حملے کے لیے پریس کی مدد فراہم کرنے میں پیش پیش تھے۔ اس کو بھی اس کا احساس ہوتا ہے کہ کچھ غلط ہورہا ہے۔ اس دوران ملر اور سی آئی اے کا افسر اس نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں کہ الراوی کو مار کر حقائق چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے چونکہ الراوی ہی وہ ذریعہ ہے جس پر مشتمل خودساختہ رپورٹس اس صحافی کو فراہم کی گئی تھیں۔ ملر الراوی سے ملنے کا پیغام دیتا ہے اور اسکا پتا پینٹاگان کے اس افسر کو چل جاتا ہےجو اس سارے کھیل کے پیچھے ہے۔ وہ پہلے ہی ملر کو ٹرانسفر کروا چکا ہے اور اور سی آئی اے کے افسر سے وہ نوٹ بک واپس لے چکا ہے، جو ملر اسے دے دیتا ہے بعد میں، جنگجو اور بش کا بھائی یہ افسر اسی فوجی افسر کو بھیجتا ہے کہ الراوی کو اڑا دیا جائے۔ اسی دوران یہ افسر ایک اعلان میں عراق کی ساری فوج، انٹیلی جنس اور حکومتی اداروں کی تحلیل کا اعلان کردیتا ہے۔ جبکہ وہاں جنرل کو احساس ہوگیا ہے کہ میرے ساتھ دھوکا ہوا ہے، اور نئے عراقی سیٹ اپ میں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اب۔ وہ ملر کو پکڑ لیتا ہے لیکن ملر اسے یقین دلانے کی کوشش کرتا ہے تاہم ایسا نہیں ہوپاتا۔ کچھ آنکھ مچولی چلتی ہے ملر اسے اپنے مخلاف فوجی افسر سے تو بچا لیتا ہے لیکن ملر کا وہ مقامی مخبر اسے اڑا دیتا ہے۔ اس کے بعد پیناگان کا جنگ پسند افسر بڑے فخر سے عراقی پارٹیوں کے لیڈران کو اکٹھا کرتا ہے۔ ملر اس سے مل کر جھگڑتا ہے، اپنی رپورٹ پیش کرتا ہے اور جب وہ افسر واپس آتا ہے تو کمرہ اجلاس مچھلی منڈی بنا ہوا ہے۔ ہر کوئی دوسرے کو گالیاں دے رہا ہے۔ ملر اپنی رپورٹ بڑے پریس اداروں کو بھی بھیج دیتا ہے جن میں وہ ہتھیاروں کی رپورٹ شائع کرنے والی یہ صحافی بھی شامل ہے۔ اور تماشا ختم ہوجاتا ہے۔
یہ کہانی ان حالات کی عکاس ہے جن کے تحت امریکی حکومت نے عراق پر حملہ کیا اور فتح کے شادیانے بجائے۔ وہاں کے مقامی سیٹ اپ کو تباہ کردیا، آرمی کو ختم کردیا اور پرانی لیڈر شپ کو دبا و قتل کردیا۔ جس کے نتیجے میں ایسی خانہ جنگی بھڑکی کہ آج بھی اس کی گونج ختم نہیں ہوئی۔ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تو نہ ملے البتہ وسیع پیمانے پر عراق ضرور تباہ ہوگیا۔ سی آئی آے کے افسر کو حاجی دکھایا گیا ہے جو دعوی کرتا ہے کہ چھ ماہ میں خانہ جنگی بھڑک اٹھے گی، تاہم میرے خیال سے سی آئی اے کا ہی سارا رپھڑ تھا اس میں، ان کی غلط رپورٹس نے یہ جنگ بھڑکائی۔ خیر دیکھیے گا ضرور، اچھی اور فکر انگیز فلم ہے۔