منگل، 4 جنوری، 2011

شارٹ کٹ اسلام

ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 7:27 PM ,
لو جی پی پی پی کو ایک اور شہید مل گیا۔ مرنے والا جیسا بھی تھا،جو بھی تھا۔اس کے خلاف کاروائی کا اختیار حکومت وقت کو تھا یا مرنے کے بعد ذات باری کو ہے۔ پر ہمارے ڈنڈا بردار کلاشنکوف شارٹ کٹ اسلام نے اسے ٹھنڈا کرکے اپنے لیے جنت پکی کرلی ہے۔
یہ اچھا راستہ ملا ہے یار لوگوں کو۔ ایک طرف وہ ہیں جو ساری عمر کِیسی کرتے رہیں، متھا رگڑتے رہیں اور اینڈ پر جاکر پھر شک ہی ہو کہ پتا نہیں مغفرت ہوگی بھی نہیں، اور ایک طرف یہ ایک گولی بندوق کسی بھی وقت، یا ایک باردی جیکٹ خود کش حملے والی۔ سادہ نسخہ ٹرائی کریں اور ڈائرکٹ جنت میں جائیں۔ یہ قادری تو جنتی ہوگیا جی پکا پکا۔ دنیا بگاڑ کر آخرت سنوار بیٹھا۔
خبردار، خبردار اب کوئی اور نہ بولے۔ نہیں تو جنت کی ریس میں کسی اور کا شارٹ کٹ لگ جائے گا۔ چُپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Back Top

9 تبصرے:

  1. کونسی حکومت اور کیسا قانون؟
    اگر حکومت کارروائی کر ڈالتی تو ممتاز قادری کو قانون ہاتھ میں لینے کی کیا ضرورت تھی۔ کسی کی نا اہلی ہی کسی کو قانون شکنی پر مجبور کرتی ہے۔

    بے شک ممتاز قادری کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا، مگر کیا یہ درست نہیں کہ حدود آرڈیننس کے بعد اس قانون کے بخیے ادھیڑنے کا پروگرام پکا تھا، آپ بیٹھے رہیں قانون قانون کرتے رہیں۔ اور ایک دن سب کچھ نکل جائے گا۔ اپنے ہی ملک میں بحیثیت مسلمان ذلیل ہو گے۔

    مبارک ہو۔ آپ نے بھی گرو کے چار اصولوں میں سے ایک پر عمل کر لیا ہے۔
    :P

  2. اگر حکومت پاکستان۔ پاکستان میں کلیدی عہدوں پہ فائز عہدیداروں کے لئیے آئین پاکستان میں درج شرائط کی پابندی کرتے ہوئے سلیمان تاثیر کے متنازعہ بیانات کے بعد محض پاکستانی آئین کا احترام کرتے ہوئے گورنر کے عہدے سے فارغ کر دیتی تو شاید یہ حادثہ پیش نہ آتا۔

    گورنر کے متنازع بیانات اور پاکستانی عوام کے جزباتی ردعمل پہ حکومت کو عقل مندی کا مظاہرہ کرنا چاہئیے تھا ۔ مگر ادہر تو یہ رواج بنا دیا گیا کہ جو کوئی جیسے چاہے بے غریب عوام کا مذاق اڑائے۔ انکی چھاتی پہ مونگ دلے۔ اسے ہر قسم کی آزادی ہے۔

    عوام اپنی مادی غربت پہ ہی جھلائے ہوئے ہیں اب ان مے مذھبی تشخص کا مزاق پاکستان کے اندر انہی کے اعلٰی عہدیدار اڑانے پہ اترا آئے ہیں۔

    حکومت چاہتی تو ائین پاکستان کی پاسداری کرتے ہوئے گورنر کو معطل کر کے پاکستانی عوام کے جذبات کو ٹھنڈا کر سکتی تھی۔ مگر ایسا نہیں کیا گیا۔

    جب انصاف اور عدل کی سبھی راہیں مسدود ہوجائیں تو لوگ خود سے ہی قاضی اور جلاد بن جاتے ہیں۔

    آپ پاکستان کے موجودہ حالات کا بغور مشاہدہ کریں ۔ لوگ پولیس عدالت کے چکر میں پڑنے کی بجائے خود ہی انصاف کرنے پہ کیوں اترا آتے ہیں؟۔ اسلئیے کہ پاکستان کے عوام کی ایک بڑی تعداد کو پاکستان پولیس اور عدالتوں سے انصاف ملنے کی امید نہیں۔

    گورنر پنجاب کے قتل میں حکومت پاکستان کی کوتاہی شامل ہے۔ جو اس نے گورنر کے متنازعہ بینات کے بعد مناسب کاروائی کرتے ہوئے گورنر کو اسکے عہدے سے معطل نہ کر کے کی۔

  3. جاوید گوندل صاحب اسپین میں بیٹھ کر اپنے آپکو کل پاکستانی عوام سمجحتے ہیں۔ آخر یہ پاکستان صرف جاوید گوندل، منیر عباسی اور قادری سے تو نہیں بنا۔ یہاں اور بھی پاکستانی عوام رہتی ہے۔
    عالم یہ ہے کہ ایک طرف طلال بگتی، جس حکومت کے زمانے میں انکے قاتل باپ کا قتل ہوا اسے قتل کرنے پہ لاکھوں ڈالر کا انعام رکھتے ہیں اس پہ کوئ حکومتی کارروائ نہیں ہوتیکہ وہ کون ہے جو قانون کو ہاتح میں لے۔ آسیہ بی بی کو قتل کرنے پہ پشاور میں ایک شخص ہزاروں ڈالر کا انعام رکھتا ہے حکومت اسکا بھی کوئ نوٹس نہیں لیتی کہ وہ کون ہوتا ہے جو قانون کو ہاتھ میں لے۔
    ادھر جناب، عدم برداشت اتبی زیادہ بڑھ گئ ہے کہ ہر شخص کو بس قتل کردو ختم کر دو۔ اور کچھ نہیں مذہب کے نام پہ ہی قتل و غارت گری کرو۔
    انتہائ افسوس ہوتا ہے کہ یہ ڈاکٹری پڑھ کر نکلنے والاے مسیحا بھی انسانوں کو قتل کرنے والوں سے خوش ہوتے ہیں۔
    ڈاکٹر نہیں انہیں قصائ ہونا چاہئیے۔
    یہ دونوں صاحبان، کیا بگتی کے قتل پہ خوش ہوئے تھے۔؟ نہیں اس وقت انہیں قانون کی بالا دستی یاد آئ ہوگی۔
    جی ہاں لوگوں کو پولہس اورعدالتوں کا چکر نہیں لگانا چاہئیے۔ اس لئے سیالکوٹ میں دو لڑکوں کا بہیمانہ قتل ہوا تھآ۔ لوگوں کو اپنے نکرہ ء نظر سے ہٹ کر بات کرنے والے کو فوراً جہنم رسید کرنا چاہئیے۔ اور اگر بعض وجوہات کی بناء پہ جن میں انکا خود موت سے خوف کھانا شامل ہے کوئ اور کسی کو قتل کر دے تو اس پہ نعرہ ء تحسیسن بلند کرنا چاہءیے۔
    یہ سارے لوگ اپنے اندر موجود حیوانی جبلت پہ قابو پانے میں ناکام لوگ ہیں۔ اس لئے اسلام کو بندوق کے زور پہ بموں اور کلاشنکوف کے زور پہ پھیلانے کا ڈرامہ کرتے ہیں۔
    خدا جانے، ان بہروپی مسلمانوں سے پاکستان میں اسلام کب نجات پائے گا۔
    بس خدا ہی انکے دلوں میں انسانی زندگی کیہ قدر ڈالے یا اپنا خوف، کسی اور کے بس کا کام نہیں۔ ہم صرف دعا ہی کر سکتے ہیں۔ موجودہ حالات میں صرف دعا ہی کا سہارا رہ گیا ہے۔
    سو اے اللہ، ان لوگوں کے دلوں کو نرمی دے، یا پھر انہیں بھی اس چیزکے عملی تجربے سے گذار جس سے اوروں کو دکھ اور تکلیف ہوتی ہے۔

  4. بی بی!

    مجھے کہنا تو نہیں چاہئیے کہ اثر نہیں ہوگا مگر آپ بات کو گھوما پھرا کر صرف اور صرف اپنی بے تُکی اور لایعنی بحث پہ لانے کی کوشش کرتے ہیں، جس میں آپ کو اپنے نام نہاد روشن خیال ہونے کا وہم ہونے لگتا ہے۔

    بی بی! عقل کے اندھوں کو بھی پتہ پے کہ موصوف گورنر جس شخصیت کے مالک تھے ویسی شخصیت ائین پاکستان کی رُو سے گورنر کے عہدے کی اہل نہیں تھی۔ ایک کریلہ دوسرا نیم چڑھا ۔ اور متنازعہ بیانات سے عوام کی دل آزاری کرنا انکا محبوب روشن خیال مشغلہ تھا۔ ایسے میں اگر حکومت انکو گورنری کے عہدے سے معذول کر دیتی تو گورنر کا قتل نہ ہوتا۔ لوگوں کے جزبات بشمول گارڈ کے ٹھنڈے پر جاتے۔

    اتنی سی بات آپ کی نازک دانش میں نہیں آئی اور آپ سبھی روشن خیالوں کی امامت میں شاہ سے بڑھ کر شاہ کی وفاداری کا ثبوت دینے چل نکلی ہیں۔ دوسروں پہ الزام دھرنے سے پہلے مکمل ہوش و حواس سے پہلے دوسروں کے الفاظ پہ غور کر لیا کریں۔

    یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ توہین رسالت کی مرتکب مجرمہ آسیہ کی وکالت میں آپ بھی پیش پیش ہیں۔ اور اسے آپ نے ایک مرتبہ پھر بغیر کسی وجہ کے اس موضوع میں گھسیٹا ہے۔

    آپ کے پاس جب دلیل نہ رہے تو دوسروں کو پاکستان سے باہر، لنڈن امریکہ دوبئی اسپین وغیرہ میں ہونے کی وجہ سے بے خبر ہونے کا طعنہ دینے پہ اتر آتی ہیں۔ اس پہ ببس نہ چلے تو آپنے کراچی میں قیام کو آپ پورے پاکستان کے بارے میں جاننے اور سمجھنے کو اتھارٹی اور ڈگری بیان فرماتی ہیں۔ یہاں بھی آپ روشن خیالی کی ڈنڈی مار گئی ہیں۔ کیا آپ کو پاکستان میں رہ کر بھی پتہ نہیں چل سکا کہ اکتیس دسمبر کو یعنی پانچ دن قبل پورے پاکستان میں تحفظ توہین رسالت نامی قانون کی خاطر پورے پاکستان میں ملک گیر اور مکمل ہڑتال ہوئی ہے۔ اور یہ ہی وہ پورا پاکستان ہے جس کے سامنے آپ نام نہاد روشن خیالوں کا دیا نہیں جلتا۔

    پھر بھی نام نہاد روشن خیال ڈھٹائی اور بدیانتی سے کہہ دیتے ہیں کہ نہیں یہ پاکستان نہیں۔ نہ یہ پاکستان کے عوام ہیں۔ روشن خیالوں کے نزدیک تو پاکستان وہ پاکستان ہے جس میں توہین رسالت کے گناہگار مظلوم ہیں۔ روشن خیال منافقت کے نزدیک پاکستان وہ ہے جس کا ائین کی رُو سے نااہل اس ملک کے مالک بنے بیٹھے رہیں۔ عدلیہ کے احکامات کا مذاق ارائیں ۔ عوام کے سینے پہ متنازع بیانات اور حرکات سے مونگ دلیں۔ جب احتجاج گلی محے تک پھیل جائے تو بھی ذماداروں کو انکے عہدوں سے نہیں ہٹائیں۔ اور جب انہی کی گارڈ سے کوئی انکو قتل کر دے تو کمر ٹھونک کر اسلام اسلام کے ماننے والوں کے خلاف مغلظات پہ اتر آئیں۔ واہ کیا نام نہاد روشن خیالی ہے۔

    بی بی! آپ دوسروں کی ٹانگ کینچھنے سے پہلے انکے الفاظ پہ غور فرما لیا کریں۔ اور ایک بات ذہن نشین کر لیں کہ آپ اپنی خالی خولی نام نہاد روشن خیالی کے زور پہ دوسروں کو اپنی بے مقصد باتوں پہ قائل نہیں کر سکتیں۔ کہ ہر کوئی اپنی اپنی رائے رکھنے میں آزاد ہے۔ یہ انتہاء پسندی چھوڑ دیں۔

    اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف ہونا یہ چاہئیے تھا کہ حکومت گورنر کو معزول کرتی تانکہ آئیندہ کوئی اس طرح کی دل لگی نہ کرتا اور گورنر کے قتل کا واقعہ پیش نہ آتا۔

    میں اس قتل کو مختلف زاویے سے دیکھتا ہوں ۔ اس سے پاکستان کے اداروں کی بدنامی ہوگی ۔ ملک کی جگ ھنسائی ہوگی۔ اہم شخصیات کی حفاظت پہ مامور اہلکاروں کی تعیناتی کی ذمہ داری حکومت پاکستان پہ آتی ہے ۔ اس حوالے سے یہ بہت سنگین اور فاش خامی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر جو نقصان ہوگا وہ اس واقعے سے پاکستان میں انارکی پھیلنے سے ہوگا کہ جہاں لوگ کسی کو صفائی کا کوئی موقع دئے بغیر خود ہی قانون قاضی اور جلاد کے مراحل طے کرنے پہ اتر آئیں گے۔ پاکستانی کی سالمیت کے لئیے یہ بہت خطرناک ثابت ہوگا۔

    اس لئیے ضروری ہے کہ حکومت اور نام نہاد روشن خیال ٹولہ انتہاء پسندی اور ضد کو چھوڑے تانکہ ردعمل کے طور پہ اسطرھ کے واقعات کا سدباب کیا جاسکے اور عوام کے مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ انکی اسلامی شناخت کے ساتھ دل لگی اور انکی دل آزاری بند کی جائے۔ ورنہ ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے جو بعج اوقات نہائت خوفناک ہوتا ہے۔ اور پاکستان ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جو ایسی بے وقوفی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

    الا یہ کہ پاکستان کے دشمن اور نام نہاد روشن خیال پاکستان کے بارے میں یہی چاہتے ہوں۔

  5. واہ کیا بات ہے ۔۔۔۔۔ گوندل صاحب آپکی ۔۔۔۔۔۔۔ مگر یہ تیزابیت تو کسی اور کا خاصہ ہے ۔۔۔۔۔۔ خیر آپکی بات سو فیصد درست ہے میں اسے اتفاق کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔ باقی اب میں تیزاب سے بچنے کی تدبیریں کروں

  6. بس جی ہم تو یہی چاہتے ہیں کے عدالتوں سے انصاف ملے اور نہیں تو پھر یہی طریقہ ہے۔

    مجھے تو ان تاریک خیالوں کے اس انداز تخاتب سے کوئی حیرت نہیں ہے کہ یہ مخالفین کے لیے دعائے خیر تو کر نہیں سکتے اور مزے کی بات یہ کہ دوسروں کو تحمل، برداشت اعتدال پسندی اور نہ جانے کیا کچھ کی تلقین کرتے ہیں اور مخالفین کے معاملے میں اپنی حیوانی جبلت دیکھانے سے باز نہیں آتے۔

    ویسے اگر جوابا ان کے لیے بھی کہاں جائے کہ خدا انھیں بھی کسی ڈرون حملے کا مزا چکھائے، کوئی مزائل اچانک سے ان کے گھر کو ہٹ کرے، کسی فوجی آپریشن میں کچھ شرپسندوں کے ساتھ ان کا گھرانہ بھی کام آئے اور کوئی حکومتی ترجمان اسے کولیٹرل ڈیمج قرار دے کران کے لیے کچھ رقم کا اعلان کرے۔ گھر کے کچھ لوگ غائب کردیے جائیں تو پھر ہوسکتا ہے کہ خدا انہیں حقیقی روشن خیالی سے نواز دے۔

    لیکن میں یہ دعا نہیں کرسکتا۔ اللہ ان کے افراد خانہ کو سلامت رکھے اور ان کو نازک دانش بگھارنے کے مواقع فراہم کرتا رہے۔

  7. سلمان صاحب کی ایک غلطی تو میں بھی مانتی ہوں کہ گورنر پاکستان جیسے ذمہ دارانہ عہدے پر فائز رہتے ہوئے انہیں اپنے ملکی آئین کی ایک شق کو کالا قانون کہنے کی حماقت نہیں کرنی چاہیے تھی۔۔۔۔اسی آئین کی پاسداری کا حلفیہ بیان دے کر ہی وہ گورنر بنے۔۔۔۔کسی قانون میں ترمیم کا آئینی طریقہ مقننہ میں آواز اٹھانا ہے۔۔۔خیر اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔۔۔۔بے شک کہ ہم روز اس طرح کے انجام کےایس ایم ایس پڑھتے اور فارورڈ کرتے ہیں لیکن بہرحال انسانیت کا ناتے ایک جان کا ضیاع کا دکھ تو ہوتا ہے۔

  8. آخر ہمیں اُس مہربان نبّی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کے نام پر گلے کاٹنے کا اِتنا شوق کیوں ہے جِس نے ایک قتل کو ساری انسانیت کا قتل قرار دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

  9. منیر بھائی معذرت کے ساتھ آپ کا تبصرہ شائع نہیں کرسکتا تھا۔ چناچہ یہ ربط والا حصہ اپنی طرف سے شائع کرکے باقی حذف کررہا ہوں۔ آپ کو اگر کسی پر اعتراض ہے تو ای میل وغیرہ پر ایسی بات کریں۔
    -------------------
    http://www.thenews.com.pk/TodaysPrintDetail.aspx?ID=17589&Cat=2&dt=12/9/2010

    مندرجہ بالا رپورٹ کو اگر کوئی تفصیل سے پڑھنے کی کوشش کر لے۔ براہ مہربانی۔

ایک تبصرہ شائع کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔