جمعہ، 12 اگست، 2011

بارشیں

ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 9:07 PM ,
کہتے ہیں جی کہ بھرے پیٹ والوں کو عجیب عجیب باتیں سوجھتی ہیں۔ نئے نئے کپڑے، کاریں، شوق اور انجوائے منٹ۔ ایسی ہی انجوائے منٹ بارش بھی ہے۔ لوگ بڑا انجوائے کرتے ہیں کہ بارش ہورہی ہے، پکوان بنتے ہیں، پارٹیاں ہوتی ہیں، موج مستی ہلا گُلا ہوتا ہے۔ آج سے چند سال پہلے تک میری کیفیت بڑی عجیب سی ہوا کرتی تھی بارش ہونے پر۔ دل کرتا تھا کہ بارش ہوجائے، خوب ہوا چلے اور خوب بارش ہو تاکہ موسم ٹھنڈا ہوجائے اور پوڑے پکیں (میٹھے آٹے کی روٹیاں)۔ لیکن پھر مجھے ابو جی کا خیال آتا تو دل چور ہوجایا کرتا۔ ابوجی ناشتے کی ریڑھی لگایا کرتے تھے ان دنوں۔ اس کا طریقہ کار بہت سادہ سا تھا۔ ہم گھر سے سالن اور روٹیاں پکا کر انھیں باندھ دیتے تھے، اس کے بعد وہ سائیکل پر یہ سب کچھ (پیچھے بندھے ایک اسٹینڈ میں رکھ کر) اپنے اڈے پر پہنچایا کرتے تھے۔ میرا کام یہ ہوتا کہ ان سے پہلے وہاں جا کر اڈہ سیٹ کروں۔ اور جس دن موسم خراب ہوتا، ہمیں بہت دشواری ہوتی۔ تیز ہوا چل رہی ہوتی تو چھتری لگانا دشوار ہوجاتا، بار بار اُڑنے لگتی، باندھنی پڑتی اور کبھی بہت تیز ہوا آجاتی تو اس کا ایک آدھ بانس ٹوٹ جایا کرتا یا کپڑا پھٹ جایا کرتا۔ ایسے ہی تیز ہوا کے بگولے کبھی وہاں پڑا سامان چھابیاں، پتیلوں کے ڈھکن بھی اڑا لے جایا کرتے۔ بارش ہوتی تو حالت اور بری ہوجایا کرتی۔ شروع شروع میں صرف چھتری ہوتی تھی اور پلاسٹک کی شیٹ نہیں لی تھی۔ ابو بارش میں بھیگ جایا کرتے تھے اور سارا سامان بھی بھیگ جاتا۔ پھر پلاسٹک کی شیٹ لے لی اور بارش سے پہلے وہ چھتری کے اوپر ڈال کر باندھ دی جاتی۔ لیکن پھر بھی بارش یا چمب (بارش کے سائیڈ سے پڑنے والے چھینٹے) راستہ بنا ہی لیتے۔ میں ادھر ہوتا تو گھر بھاگنے کی کرتا کہ بارش میں بھیگ نہ جاؤں، گھر ہوتا تو خیال آتا کہ ابو کیسے گزارہ کررہے ہونگے۔ میرا دل آج بھی اسی انداز میں بٹا سا رہتا ہے۔ بارش ہو تو مجھے اچھی بھی لگتی ہے، اور اپنی چھتری کا ٹپکنا بھی یاد آجاتا ہے۔ آج بھی جب میں بارش ہونے کی دعا کرتا ہوں، تو نہ جانے کتنے لوگ بارش نہ ہونے کی دعا کرتے ہیں۔ میں جسے انجوائے منٹ سمجھتا ہوں وہ جانے کس کس کے سر کی چھت چھین لینے والی چیز ہے، کسی کی چھت ٹپک رہی ہو، کسی ریڑھی والے کا کاروبار بارش کی وجہ سے ٹھپ ہورہا ہو، کسی کے مکان کی چھت ہی بیٹھ جائے، کسی کا مال و متاع بارش سے آنے والا سیلاب بہا لے جائے، اس کے محسوسات کا تھوڑا سا آئیڈیا ہے مجھے۔ میری زندگی کا ایک خاصا عرصہ اسی طرح گزرا ہے جب میرا گھر بھی بارش نہ ہونے کی دعا کیا کرتا تھا، کہ بارش ہوتی تھی تو کام بند ہوتا تھا، لیٹ ہوجاتا تھا، سامان بچ کر گھر آتا تھا، اس دن دیہاڑی نہیں بنتی تھی اور امی جی کے چہرے پر جھنجھلاہٹ ہوتی تھی، ان کے چہرے کی جھریاں کچھ اور نمایاں ہوجایا کرتی تھیں خرچوں کا سوچ کر، ہماری فیسوں، کھانے اور بجلی فون گیس کے بلوں کا سوچ کر، اور اس بچے ہوئے کھانے کو ٹھکانے لگانے کا سوچ کر جو ہم نے اصل میں کھانا ہی ہوتا تھا۔ اس دن گھر میں ہانڈی نہیں پکا کرتی تھی۔
باقی پھر سہی۔ میں نے یہ سب اس لیے لکھا کہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔ کل کو اگر میں ڈاکٹر ہوجاؤں، پی ایچ ڈی ہولڈر ہوجاؤں تو میرے لکھے ہوئے الفاظ ہی مجھے میری اصل کا پتا دیں، میں کہیں بھول نہ جاؤں کہ میرے ماں باپ نے مجھے کیسے پالا تھا، میرا بچپن کیسے گزرا تھا اور مجھ پر رب کریم کے کتنے احسانات ہیں۔
یا اللہ تیرا شکر ہے، تیری رحمت، تیرا کرم میں تیری رحمت کا محتاج تیرے کرم کا امیدوار۔ میرا ہر سانس، میرا ہر بال تیری رحمت تیرے کرم کا منتظر۔ میرا ہونا ہی تیری مجھ پر رحمت کی نشانی ہے مولا، ورنہ میری کیا اوقات میرے مالک۔
یا اللہ تیرا شکر ہے

Back Top

9 تبصرے:

  1. ما شا اللہ، بہت عمدہ اور حقیقت پر مبنی پوسٹ لکھی ہے آپ نے۔ اپنے ماضی کی ایسی یادیں شیئر کرنے کا حوصلہ فی زمانہ بہت کم لوگوں میں ہوتا ہے۔ اسے پڑھ کر میری بھی کچھ ملتی جلتی یادیں تازہ ہو گئیں۔ اچھا انسان وہی ہے جو اپنی اصل کو کبھی فراموش نہ کرے اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار رہے۔ آپ واقعی اسم با مسمیٰ شاکر ہیں۔ اللہ کریم آپ کو بے پناہ ترقی و عافیت سے نوازے۔
    غلام مرتضیٰ علی

  2. بھائی!

    بھول جائیں تلخیاں زمانے کی ورنہ یہ ساری عمر آپکا پیچھا کریں گی۔ اور آپکا جیون تلخ رہے گا۔ باقی جہاں تک غریبی امیری کی بات ہے یہ کوئی عیب کی بات نہیں۔ اللہ تعالٰی نے امیری اور غریبی بارے فرمایا ہے کہ یہ وہی ہے جو کسی کو امیر کردے یا غریب رکھے۔

    جہاں تک بارش میں بھیگنے کا معاملہ ہے تو عدم سہولیات کی وجہ سے اس ملک کی اسی فیصد آبادی براست میں بھیگتی ہے اور انکی چھت ٹپ ٹپ برستی رہتی ہے۔ اسلئیے االہ نے آپ کا وہ وقت کاٹ دیا ہے ۔ اسطرح کے لوگ ابھی بھی پاکستان میں خطیر تعداد میں ہیں۔ آگے بڑھیں اور انکی مدد کریں۔ کوئی ایسی تنظیم بنائیں ۔ جو اور کچھ نہ کرسکے مگر کم از ایسے حالات میں زندہ رہنے کی اور اپنے بچوں کے مستقبل کی خاطر انہی حالت سے گزرنے والوں کی جن سے کبھی آپ گذرے۔ انکی مدد کرسکے۔ انھیں ایسے موسم میں پلاسٹک شیٹس یا شیلٹر وغیرہ فراہم کرنے میں معاون ہو

  3. کمال تحریر ہے!

  4. السلامُ علیکم شاکر بھائی بہت اچھی بات ہے کہ آپ نے اپنی اصل کو نہیں چھپایا اور میرے خیال سے انسان کو اپنا اصل چھپانا بھی نہیں چاہئیے۔ اور باقی رہ گئی بات کام کی تو بھائی میرے کسی بھی کام میں کوئی عار نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہ غیر شرعی نہ ہو۔
    اللہ پاک آپ کو زندگی میں بے پناہ کامیابیاں عطا کرے اور آپ کو اسلام کا، ملک کا اور والدین کا نام روشن کرنے والا بنائے آمین

  5. شاندار۔۔۔

    خالد حمید at 13 اگست، 2011 9:08 AM
  6. وہ سب تو ٹھیک ہے پر یہ فونٹ

  7. بہت خوب شاکربھائی، واقعی انسان کو اپنی اصل نہیں بولنی چاہیے باقی یہ زندگی ہے اس کو گزارناہوتاہے اس کو جبر مسلسل سے گزارناہی اس انسان کو مقصدحیات میں کامیابیاں دلاتاہے۔ اللہ تعالی آپ کے دامن کو خوشیوں سے بھردے۔ آمین ثم آمین

  8. کیا خوبصورت تحریر ہے بھایٰ ، اندازِ تحریر کا مداح تو تھا ہی، مگر یہ بہت ہی شاندار ہے۔۔۔

ایک تبصرہ شائع کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔