منگل، 30 اگست، 2011

عیداں

ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 7:40 PM ,
ایک اور عید آ گئی سائیں۔ ایک اور رمضان گزر گیا۔
شکر ہے کہ ہمیں ایک اور رمضان عطا ہوا۔
شکر ہے کہ ہمیں ٹوٹی پھوٹی ہی سہی، عبادت کی توفیق ہوئی۔
 شکر ہے کہ ہمیں اپنی غلطیوں پر معافی مانگنے کی توفیق ہوئی۔
شکر ہے کہ ہمیں راتوں کو قیام اور دنوں کو ذکر کرنے کی توفیق ہوئی۔
شکر ہے کہ ہم پر عید کی صورت میں خوشی اتری۔
شکر ہے کہ ہمیں شکر کرنے کی توفیق ہوئی۔
یا اللہ تیرا شکر ہے، اپنے سوہنے نبی ﷺ کا صدقہ یہ عید ہمارے لیے مبارک کر دے۔
سب دوستوں، سجنوں، بیلیوں، کرم فرماؤں کو عید مبارک۔ اللہ آپ سب کو اپنے حفظ و امان، رحمت و کرم اور عطا کے سائے میں رکھے۔
عید پر اپنے اردگرد ان لوگوں کو بھی یاد رکھیے گا جن کے لیے عید بھی پیر، منگل، بدھ جیسا کوئی کام پر جانے کا دن ہے۔ عید کی نماز پڑھنے جاتے وقت مسجد کے دروازے پر بیٹھا پولیس والا بھی مسلمان ہے اور عید منانے کا اتنا ہی حقدار جتنے ہم ہیں۔ اور کچھ نہیں تو واپسی پر اس سے عید ضرور ملیں۔ اور جہاں بھی کہیں پولیس کے جوان نظر آئیں انہیں سلام کرکے عید مبارک ضرور کہیں۔ وہ آپ کی حفاظت کے لیے ہی متعین ہیں ورنہ کونسی ماں ہے جو اپنے لعل کو عید کے دن ڈیوٹی پر بھیجتی ہے۔
ان دوست احباب کا خیال رکھیے گا جو ملوں، فیکٹریوں میں کام کرتے ہیں اور ڈبل شفٹ بونس کے لالچ میں عید والے دن بھی دیہاڑی لگانے چلے جاتے ہیں کہ چار دن سکون سے گزر جائیں گے۔ ان سے خصوصاً عید ملیے گا۔ اللہ نے ان کی قسمت میں آزمائش لکھی ہے، ان کو دعا میں بھی یاد رکھیے گا، اور مالی امداد میں بھی۔
فطرانہ دیتے ہوئے اپنے اردگرد پہلے نظر ڈال لیجیے گا شاید کوئی زیادہ مستحق آپ کے ساتھ والے گھر میں منتظر ہو اور آپ پیشہ وروں میں فطرانہ تقسیم کرکے آجائیں۔
عید پر خوشیاں منانا آپ کا حق ہے، لیکن کچھ خوشیاں ان کے لیے بھی رکھ لیجیے گا جو عید والے دن بھی کام پر ہیں ایمرجنسی ڈیوٹی دیتے ڈاکٹر، 1122 کے اہلکار، آپ کا دودھ والا، گلی میں جھاڑو لگانے والا، چنے چاٹ بیچنے والا چھاپڑی فروش، گول گپے اور دہی بھلے لگانے والا، اور اس طرح کے کئی کردار جن کے لیے عید بھی عید نہیں ایک کام کا دن ہوتا ہے۔
ان سب کو عید مبارک ضرور کہیے گا۔
اللہ میرے آپ کے گناہ معاف کرے۔ ہماری بدزبانیوں، بد اعمالیوں اور کوتاہیوں سے درگزر کرے۔
مجھ سے کوئی خطا ہوئی ہو، کسی کا دل دکھا ہو، کسی کو کچھ کہہ گیا ہوں تو معاف کردیجیے گا، بول جانا میری عادت ہے لفظ نکالنے کے بعد سوچتا ہوں نادانوں کی طرح۔ ان پر معافی کا خواستگار ہوں، معاف کر دیجیے گا۔
دعاؤں میں یاد رکھیے گا، اللہ یہ عید آپ کے لیے مبارک کر دے۔
عید مبارک۔

Back Top

8 تبصرے:

  1. خیر مبارک
    اور آپ کو بھی عید مبارک

  2. سینٹ کی، کجلے کی اور غازے کی گلکاری کے بعد
    وہ حسیں لگتی ہے لیکن کتنی تیاری کے بعد
    مدتوں کے بعد اس کو دیکھ کر ایسا لگا
    جیسے روزہ دار کی حالت ہو افطاری کے بعد
    باندھ کر سہرا نظر آئے ہیں یوں نوشہ میاں
    جس طرح مجرم دکھائی دے گرفتاری کے بعد
    ہیروئن پچپن برس کی ہوچکیں تو غم نہیں
    اب گلو کاری کریں گی وہ اداکاری کے بعد
    قو کو بیدار کر ڈسکو میوزک چھیڑ کر
    جو بچاری سو چکی ہے راگ درباری کے بعد
    عید پر مسرور ہیں دونوں میاں بیوی بہت
    اک خریداری سے پہلے اک خریداری کے بعد
    عقدِ ثانی کا مزا پوچھا تو بولے شیخ جی
    ایسے لگتا ہے، چکن چکھا ہے ترکاری کے بعد
    راہِ الفت کی ٹریفک ہو کہ ”موٹروے” کی ہو
    حادثے ہوتے ہیں شاہد تیز رفتاری کے بعد

  3. بہت بہت عید مبارک ہو

  4. ما شاۂ اللہ بہت پُر اثر پیغام ہے۔
    یاد دہانی اور مبارک باد کا شکریہ
    اللہ کریم آپ پر اپنا خاص فضل و کرم رکھے۔۔۔ آج اور آئندہ ہمیشہ
    غلام مرتضیٰ علی

  5. السلام علیکم ورحمتہ اللہ
    ماشاءاللہ بہت عمدہ بات کی آپ نے، اللہ آپ کو خوش رکھے
    تقبل الله منا ومنكم صالح الأعمال...عید مبارک

  6. دل اُداس ہے
    تیر ی ہاد ہے ۔۔۔
    غمِ ہجر میں پھر
    صدیوں کی پیا س ہے
    عید کا جگنو پھر روشنی
    پھلا رہا ہے
    دل ملول کچھ نڈھال ہے
    اب کی بار بھی عیدِ سعد نے
    رنگ دیکھاہا ۔۔۔۔۔
    بچھڑا دوست پھر یاد اہا
    زیست تنہا ہے
    گلوں پر خاک یار ہے
    گزشتہ شب کی طرح
    دل لبِ جان ہے
    جان تو ہے اور تیری یاد ہے
    اج پھر چاند رات ہے

  7. السلام علیکم ورحمتہ اللہ
    تقبل اللہ منا ومنکم عیدکم مبارک

  8. گزری ہوئی عید مبارک جناب۔ اور میں نے آپ کا بول جانا معاف کیا، نادان سمجھ کر :)

ایک تبصرہ شائع کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔