اتوار، 10 جولائی، 2011

کراچی

8 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 10:57 AM ,
کراچی پر کیا لکھوں۔ ایک عرصے سے بلاگنگ کی دنیا میں رہ کر، اور جب سے کراچی سے نعمان کے بعد بلاگرز اور تبصرہ نگاروں کی دوسری کھیپ لانچ ہوئی ہے تب سے اگر کراچی کے حالات کے بارے میں کچھ لکھا تو طعنے سننے پڑے۔ ایک بڑے سقہ قسم کے تبصرہ نگار نے فورًا پنجابی ہونے کے طعنے دینے شروع کردئیے، پنجاب میں ایسا ہو تو کوئی بولتا نہیں کراچی میں ہوگیا تو آسمان سر پر اٹھا لیا۔ بات اس وقت ہورہی تھی ایک پل گرنے کی جو تعمیر کے دوران یا چند ہفتوں بعد ہی گر گیا تھا اور مجھے اس کے نیچے کھڑے ٹھیلے والوں کی موت پر بڑا افسوس ہوا تھا، کہ ایک بے ایمان کی وجہ سے غریبوں کی جان گئی، لیکن ان صاحب نے میرے لتے لینے شروع کردئیے۔
یہ ساری بات کرنے کا مقصد کسی کی گوشمالی، شکایت یا اختلافات کو ہوا دینا نہیں تھا بلکہ مقصد یہ تھا کہ ایسے موضوعات پر میں نے لکھنا ہی چھوڑ دیا۔ سیاست کے اتار چڑھاؤ پر کبھی کبھار کچھ لکھتا ہوں، دہشت گردی پر اس وقت لکھا جب صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹ گیا اور تب چند ہفتے پہلے والی پوسٹ وجود میں آئی جس پر سب کو اعتراض تھا کہ فرقہ واریت کو ہوا دے رہا ہے، خیر اپنی اپنی سوچ، کراچی اور بلوچستان کے حالات پر بھی کچھ نہیں لکھتا، کیا لکھوں ہزاروں میل دور بیٹھ کر بندہ کیا لکھ سکتا ہے۔ جو حجاب شب، یا شعیب صفدر، ابن ضیاء یا ابوشامل لکھ سکتے ہیں وہ میں کہاں لکھ سکتا ہوں۔ میں تو ان ظالموں کے مرنے کی دعا ہی کرسکتا ہوں۔ دعا نہیں بدعا کہ خدا انھیں غارت کرے جنہوں نے کراچی کا سکون برباد کردیا، ان سیاہ ستدانوں اور ان بےغیرت حکمرانوں بھی غارت کرے جنہیں صرف اپنے مفادات سے غرض ہے، ان جماعتوں اور ان کے لیڈروں کے بال بچے اس میں مریں تو انھی احساس ہو کہ بےگناہوں پر ظلم کرنے سے کیا بیتتی ہے۔ کیا کہوں کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے بس غم بھری ایک چپ ہے،ان قانون کے رکھوالوں کی بےغیرتی پر جو مدد کے لے کال کرنے پر بھی یہ کہتے ہیں کہ اوپر سے حکم نہیں، ان حکمرانوں کی بےغیرتی پر جو لاشیں گرنے سے پہلے حالات کا ادراک نہیں کرسکتے، ہمیشہ سینچری پوری ہونے پر "نوٹس" لیتے ہیں۔ خدا انھیں ذلیل و خوار، مغضوب و مقہور کرے جو بےگناہوں کے خون سے ہولی کھیلتے ہیں۔ اب تو دعائیں بھی بے اثر ہوگئی ہیں، گناہوں سے لتھڑے دلوں سے نکلی دعائیں اوپر جاتی ہی نہیں، یہیں ڈولتی رہ جاتی ہیں۔ دعائیں بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منگل، 5 جولائی، 2011

مدیر اعلی کی طرف سے ایک اور خط

8 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 10:36 AM ,
لو جی میرا بلاگ ڈاکیے کا کام کررہا ہے گلوبل سائنس اور اردو بلاگرز میں۔ کل ایک مضمون لکھا تھا، امید ہے اس کے بدلے ایک اچھا ڈنر کرسکوں گا اگلے ماہ۔ اس کے جواب میں مدیر اعلی کا خط آیا ملاحظہ کریں۔ اور اردو بلاگرز سے درخواست ہے کہ گلوبل سائنس کو لائٹ نہ لیں، آپ کے بلاگ کی تحاریر ہی اس میں شائع ہوتی رہیں تو آم کے آم گٹھلیوں کے دام ہوجائیں گے۔

شاکر میاں
السلام علیکم
مضمون ارسال کرنے کا بے حد شکریہ؛ حمزہ کا مسئلہ بھی حل ہوگیا! آپ کا بہت شکریہ۔
آپ کی ارسال کردہ تحریر ڈی او سی ایکس فارمیٹ میں ہے؛ اور میرے پاس صرف پرانا ایم ایس ورڈ۲۰۰۰ اور اوپن آفس ہی موجود ہے۔ دونوں سافٹ ویئر ہی ڈی او سی ایکس فارمیٹ کو سپورٹ نہیں کرتے۔ اگر ممکن ہو تو یہ مضمون مجھے اوپن آفس میں ارسال کردیجئے۔
آپ کی کتابوں کی تلاش جاری ہے۔ فی الحال تمام جگہوں سے معذرت ہی سننے کو مل رہی ہے؛ لیکن اُمید ہے کہ ان شاء اللہ کامیابی مل ہی جائے گی۔ کیا آپ کے پاس مولوی عبدالحق کی اُردو املا والی کتاب ہے؟
آپ کے فورم سے کچھ احباب نے رابطہ کیا تھا؛ لیکن بعد میں کوئی ای میل نہیں آئی۔ اگر ممکن ہو تو گلوبل سائنس کی طرف سے معاضوں کا اعلان اپنی ویب سائٹ پر رکھ دیجئے؛ تاکہ وہاں آنے والے احباب کے ذہنوں میں تازہ ہوتا رہے۔
سردست میری نظر چند ایسے موضوعات پر ہے جو شاید آپ جیسے ماہر لوگوں کے لیے معمولی ہوں؛ مگر مجھ جیسے پینڈووں کے لیے بہت اہم ہیں۔ مثلاً
کانٹینٹ مینجمنٹ سسٹم (کیا ہوتے ہیں؛ کیسے کام کرتے ہیں؛ اور ویب سائٹ کی تیاری میں ان سے کیونکر استفادہ کیا جاسکتا ہے)۔
بلاگنگ (یعنی بلاگنگ کی ابتداء سے لے کر آج تک کی تاریخ؛ فوائد و نقصانات؛ دنیا کے مقبول بلاگز اور ان کے موضوعات؛ اردو بلاگنگ کے مقدار و معیار پر ایک طائرانہ نظر؛ بلاگنگ میں معاون مختلف سافٹ ویئر؛ اچھے یا معیاری بلاگ کی اہم ترین خصوصیات؛ انگریزی میں بلاگ کیسے بنایا جاسکتا ہے؛ اُردو میں بلاگ بنانے کے لیے اس کے علاوہ مزید کیا کرنا ہوگا وغیرہ)۔
اُردو زبان میں انٹرنیٹ سے بہتر استفادہ کرنے کے لیے دستیاب آن لائن ’’اوزار‘‘ (یعنی ٹولز)؛ ان کی خوبیاں اور خامیاں؛ استعمال کے طریقے اور ان کے مختلف ورژنز وغیرہ۔
کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی دنیا میں اردو کا ماضی حال اور مستقبل؛ چبھتے ہوئے سوالات: کیا اب بھی رومن اُردو کی ضرورت باقی رہ گئی ہے؟ کیا اب بھی یہ اصرار کیا جانا چاہیے کہ محض انگریزی ہی کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی زبان ہے؟ کیا اس جدید دور میں ادیبوں اور شعراء میں اتنی اہلیت ہے کہ وہ اردو زبان کو ترقی دینے کے تقاضے پورے کرسکیں؟ کیا صرف اردو ویب سائٹس؛ بلاگز اور اردو ٹولز ہی اردو کو ترقی دینے کے لیے کافی ہیں یا ہمیں کچھ اور بھی کرنا ہوگا؟ وغیرہ۔
اُمید ہے کہ اس حوالے سے بھی بہت جلد آپ کی طرف سے کچھ نہ کچھ سننے کو ضرور ملے گا۔ ویسے اگر آپ چاہیں تو پہلے کی طرح اس بار بھی میرے اس خط کو اپنے بلاگ پر شامل کرسکتے ہیں۔ گر قبول افتد؛ زہے عز و شرف۔
آخر میں ایک بات اور: میں اپنی فطرت میں رجائیت پسند (آپٹمسٹ) ہوں؛ اور مایوسی کو کفر کے مترادف خیال کرتا ہوں۔ لیکن میری ناقص رائے میں؛ اس جذبے کی ترویج کے لیے آپ اور آپ جیسے احباب سے رابطہ رہنا اور گفت و شنید کا سلسلہ جاری رہنا بھی اشد ضروری ہے تاکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی بھی لائی جاسکے۔
اُمید ہے کہ اس بار بھی تعاون ملے گا۔
جواب کا منتظر
علیم احمد

فون: 02132625545

ای میل: globalscience@yahoo.com