بدھ، 18 جنوری، 2012

خود شناسی

ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 10:45 AM ,
خود شناسی کا دعوی کرنا اور خود شناس ہونا دو مختلف چیزیں ہیں۔ اور اس کا اندازہ مجھے پچھلے کچھ عرصے میں ہونے والے پے در پے انکشافات کے بعد ہوا۔ ایک عرصے سے میرا خیال تھا کہ میں خاصا مثبت سوچ رکھنے والا انسان ہوں۔ اسی طرح کے کئی ایک بت جو میں نے اپنی ذات کے بارے میں اپنے ذہن میں تراش رکھے تھے۔ ان بتوں کو حالیہ دنوں میں منہ کے بل گرنا پڑا۔ اور مجھے احساس ہوا کہ میں جو دنیا کو جاننے کا دعوے دار بنتا ہوں، چھبیس سال تک اپنے آپ کو ہی اچھی طرح سے نہیں جانتا تھا۔

خود شناسی شاید اس سے بھی ارفع چیز ہے۔ لیکن میں شاید اتنا تو کہہ ہی سکتا ہوں کہ اپنے آپ سے تھوڑی سی واقفیت ہو گئی ہے۔ بڑی بیسک لیول کی واقفیت۔ جیسے دو چار ملاقاتوں میں کسی اجنبی سے آپ ہلکی سی شناسائی پیدا کر لیں۔ تو پچھلے دنوں میں مجھ پر آنے والے کچھ زلزلوں نے بڑے بڑے بت گرا دئیے ، اور اب مطلع صاف ہونے پر جو حقیقت حال سامنے آئی تو اس 'میں' سے اب میری تھوڑی تھوڑی سی شناسائی ہوئی ہے۔ پہلی شناسائی تو یہ ہوئی ہے کہ میں جو اپنے آپ کو جاننے کا  زعم رکھتا تھا،  اب مجھے یہ پتا چل گیا ہے کہ میں اپنے آپ کو بالکل بھی نہیں جانتا تھا، شاید اب بھی نہیں جانتا۔ بس کہیں کہیں کچھ دھندلے دھندلے سے نقوش ہیں، کچھ ادھوری ملاقاتوں کے نتائج جن سے اپنے بارے میں نتائج اخذ کیے ہیں۔ کہ شاید یہ بندہ ، جو میرے اندر بیٹھا ہوا ہے، ایسا ہے۔

مجھے کچھ معاملات میں شدید ناکامی کے بعد احساس ہوا کہ میں رسک ٹیکر نہیں ہوں۔ میں اپنے آپ کو محتاط تو سمجھتا تھا، لیکن کئی معاملات میں بزدلی کی حد تک کی احتیاط نے مجھے ٹھوکروں کا منہ دکھایا تو احساس ہوا کہ میں محتاط سے بڑھ کر کچھ چیز ہوں۔ اپنی ذات کا ذرا  مزید سخت ہو کر تجزیہ کیا تو احساس ہوا کہ زندگی کے اکثر معاملات میں میرا رویہ ہمیشہ پتلی گلی سے نکل لینے والا ہوتا ہے۔ جب مجھے احساس ہوا کہ میرے سامنے رکاوٹ آ رہی ہے، میں نے نسبتاً آسان راستہ اختیار کر لیا۔ چاہے وہ تعلیمی کیرئیر ہو، یا زندگی کا کوئی اور معاملہ۔ اسی عادت سے منسلک ایک اور عادت معاملات کو لامتناہی طور پر پس پشت ڈالنے کی عادت بھی ہے۔ جس نے مجھے بہت سے برے دن دکھائے، خاص طور پر حالیہ دنوں میں میرے احباب اور میری اپنی ذات نے قدم قدم پر مجھے احساس دلایا کہ میں شدید طور پر ریت میں سر دے کر سب اچھا ہے کی گردان کرنے والا ایک شتر مرغ ہوں۔ میری یہ فرض کرلینے کی عادت کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، اس کی وجہ سے جو منہ کی کھانا پڑی وہ الگ کہانی ہے۔ تاہم اس شترمرغ والی عادت نے بہت سے معاملات میں میرے لیے راہ ہموار کرنے کی بجائے دشوار اور بعض اوقات بند ہی کر دی۔ انتظار کرنے کی پالیسی شاید ایک حد تک تو ٹھیک ہو، لیکن ہمیشہ انتظار کرتے رہنا آپ کو کہیں بھی نہیں لے کر جاتا، بلکہ آپ وہیں رہ جاتے ہیں اور دنیا آگے بڑھ جاتی ہے۔ اور میں نے یہ تجربہ کر لیا ہے کہ انتظار لامتناہی ، انتظار لا حاصل ہے۔ کم از کم مجھے یہی تجربہ حاصل ہوا ہے کہ جہاں میں نے سوچا کہ انتظار بہتر رہے گا، وہیں انتظار آخر میں تباہ کن ثابت ہوا، دنیا آگے بڑھ گئی اور میں وہیں کھڑا دیکھتا رہ گیا۔ کبھی کبھی مجھے اسی لیے اپنا آپ جی ٹی روڈ کے کسی ٹول پلازے پر بیٹھے کلرک کی ذات لگتا ہے۔ جو گاڑیوں کو جاتے دیکھتا رہتا ہے، دیکھتا رہتا ہے، منزل مقصود پر روانہ کرتا رہتا  ہے اور خود ساری عمر اسی ٹول پلازے پر گزار دیتا ہے۔ یہی کچھ مجھے بھاری قیمت چکاتے ہوئے اپنے آپ کے بارے میں محسوس ہوا۔ کہ میں بھی فطری طور پر ایک جگہ بیٹھ کر دھوپ سینکنے کا عادی ایک کچھوا ہوں جو  خطرے کو دیکھ کر گردن اندر کر لیتا ہے، ورنہ مزے سے دھوپ سینکتا رہتا ہے اور آنے جانے والوں کو تکتا رہتا ہے۔ا ور جب وقت گزر جاتا ہے تو بھاگنے کی کوشش میں اپنا گِٹا نکلوا بیٹھتا ہے۔

ایک کرم فرما نے مجھے بار بار احساس دلایا کہ میں انتہائی قنوطی طبیعت کا انسان ہوں اور یہی کچھ میری تحاریر سے بھی چھلکتا ہے۔ میں پہلے پہل یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھا ، اپنے آپ کو بڑا شاکر قسم کا انسان سمجھتا تھا لیکن اب یہ روز روشن کی طرح عیاں ہو چکا ہے کہ میں اکثر منفی رخ دیکھنے کی سعی زیادہ کرتا ہوں۔ بلکہ اب تو اتنی عادت ہو چکی ہے کہ سعی بھی نہیں کرنی پڑتی۔ کسی بھی چیز کے نقائص فوراً سامنے آ جاتے ہیں۔ اور پھر ان پر طنز، طنز بھی ایک مسئلہ ہے۔ فیصل آبادی پھکڑ پن نے مجھے کہیں کا  نہیں چھوڑا۔ لوگ کہتے ہیں فیصل آبادی بڑے ہنس مکھ اور جگت باز ہوتے ہیں۔ میں نے لوگوں کے کہے میں آ کر خود کو اس سانچے میں فٹ کر لیا۔ ایک عرصے تک میں اپنے آپ پر ہنستا رہا، دنیا پر ہنستا رہا، لوگوں کو ہنساتا رہا۔ اتنا ہنسایا کہ لوگ ا ب مجھ سے مزاح، کاٹ دار جملے یا کسی تیکھی بات کی توقع کرتے ہیں۔ میں نے اپنی ذات کے بھرم کو اپنی ہی ہنسی اور ٹھٹھے میں اڑا دیا۔ اور جب مجھے اس شخص نےیہ کہا، کہ جس سے میں نے شاید زندگی میں سب سے زیادہ سنجیدگی برتی تھی، کہ شاکرتمہارا رویہ بہت غیر سنجیدہ ہے، نان سیرئیس ہے، تو تم سے کیا توقع لگائی جا سکتی ہے؟ مجھے اپنے پھکڑ پنے سے سب سے پہلی نفرت وہاں محسوس ہوئی، شدید قسم کی نفرت۔ کہ لوگ مجھ سے کیا توقع رکھتے ہیں، مجھے سرکس کا جوکر سمجھتے ہیں اور میں بزعم خود ایک سنجیدہ، متین قسم کا بندہ بنا پھرتا ہوں۔ اگر میں اتنا ہی سنجیدہ تھا تو  میں نے شو کیوں نہ کروایا۔ اس فیصل آباد پھکڑ پن نے میرے منہ پر ایسا طمانچہ لگایا کہ شاید میں ساری عمر اس کے شاک سے باہر نہ نکل سکوں۔ لیکن یہ پھکڑ پن پھر بھی نہیں جائے گا۔ میں تو اپنی مرگ پر بھی دو چار کاٹ دار جملے پھینکتا ہوا کوچ کروں گا۔ یہ فیصل آبادی پن میرے اندر ، میرے خون کے اندر، میرےا لفاظ میں، میری تحاریر میں اتنا رچ بس گیا ہے کہ اب اس کے بغیر زندگی ایسے ہی ہے جیسے ہیروئن کے بغیر نشئی کی زندگی۔ چاہے اس کی وجہ سے روح زندگی میری زندگی سے جدا ہو گئی، لیکن یہ پھکڑ پن اب سانس کے ساتھ ہی جائے گا۔

کہتے ہیں کہ خود پر برسر عام طنز کے تیر چلانا بہت جرات کا کام ہے۔ اور ایک عرصے تک مجھے یہ زعم رہا کہ میں چار لوگوں میں بیٹھ کر بڑے موثر انداز میں اپنی ہی مٹی پلید کر سکتا ہوں، اپنے آپ کو سامنے بٹھا کر دوسروں کو اس پر ہنسا سکتا ہوں، اور خود بھی ہنس سکتا ہوں کہ دیکھو شاکر کتنا پاغل بندا ہے۔ لیکن یہ احساس مجھے کل تک بھی نہیں ہوا تھا کہ میں اپنی ذات پر دوسروں کی تنقید برداشت نہیں کر سکتا۔ جو اپنے آپ کو دوسروں کے سامنے ڈی گریڈ کر سکتا ہو، اسے دوسروں کی اپنی ذات کے لیے یہی اپروچ تو برداشت کرنی چاہیے۔ لیکن میرے اندر برداشت کے مادے کی بہت کمی ہے۔ انتظار میں اس وقت کرتا ہوں جب کوئی راستہ نہ مل رہا ہو، اصل لفظ استعمال کروں تو کوئی آسان راستہ نہ مل رہا ہوں۔ ورنہ میں برداشت نہیں کرتا، تنقید بھی نہیں، ناکامی بھی نہیں، ہر بار میری تان شکوے پر آکر ٹوٹتی ہےکہ مولا میرے ساتھ ہی ایسا کیوں؟ حالانکہ اس میں اکثر و بیشتر قصور میرا ہوتا ہے۔ میں دوسروں کی باتیں ، تنقید برداشت نہیں کر سکتا۔ بہت جلد غصے کا شکار ہو جاتا ہوں۔ اور غصے کا تو ایک ہی کام ہے کہ رہے سہے اوسان بھی سلب کر لے، تو ایسا اکثر ہوا کہ میں نے غصے میں، اپنی فطری عجلت پسندی میں نتائج اخذ کر لیے، اور اکثر منفی نتائج اخذ کر لیے اور پھر انھی کو بنیاد بنا کر کمیونیکیشن کی جس نے بعد میں یا تو میری شخصیت اگلے بندے کی نظر میں بےوقعت سی کر دی، یا پھر میرے لیے مسائل سے پیدا کر دئیے۔ اثر اوقات لوگوں خاص طور پر اجنبیوں سے پہلی ملاقات کے دوران میرا انداز  انتہائی بے رخا قسم کا رہا، جس کی وجہ سے وہ بے چارے یہ سمجھے کہ بندہ کھسکا ہوا ہے، یا خبطی ہے۔

بات چل نکلی ہے تو ایک اور بات یاد آ گئی۔ کہ کام کرنے کا میرا انداز ہی نرالا ہے۔ ایک نہیں چار کام شروع کرتا ہوں، چومکھی لڑتا ہوں اور دو دن میں ہار مان کر بیٹھ جاتا ہوں۔ پھر چاروں کام ویسے ہی پڑے رہیں، اور وہی پس پشت ڈالنے کی عادت سامنے آ جاتی ہے۔ چھڈ یار قسم کا رویہ، تو میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کسی اور کام کی طرف لگ جاتا ہوں، اور وہ زیرتعمیر منصوبے وہیں بیٹھے میری جان کو روتے رہتے ہیں۔

ابھی تو اپنے آپ سے ملاقات کے ابتدائی دن ہیں۔ ابھی اور کئی انکشافات متوقع ہیں۔ لیکن اپنی ذات کے جتنے چہرے میں نے تراش رکھے تھے، وہ سارے ماسک نکلے اور ان کے نیچے سے سامنے آنے والے چہروں نے مجھے اتنا ہانٹ کیا کہ میں پھر سے کاغذ قلم اور بلاگ کا سہارا لینے پر مجبور ہو گیا۔ یہ شاید خودشناسی ہی ہے، یا خودشناسی کی طرف پہلا قدم، لیکن مجھے اس کی بڑی بھاری قیمت چکانا پڑی۔  زندگی کے اہم ترین معاملات میں ناکامی کے بل پر آپ کو ادراک ذات ملے تو سمجھ نہیں آتی کہ دکھ ہو یا افسوس ہو۔ دکھ ناکامی پر، اور افسوس اپنے آ پ پر کہ کیا سوچتے رہے اور میاں تم کیا نکلے۔ ایسے معاملات پر کہ جہاں سیکنڈ چانس کا بھی کوئی امکان نہ ہو، جہاں ناکامی ساری عمر کا پچھتاوا بن کر عجائب گھر برائے ناکامیاں کے ایک شو کیس میں سج جائے۔ پتا نہیں ایسے ادراک ذات پر خوشی منائیں کہ سر پکڑ کر روئیں۔ سمجھ سی نہیں آتی۔

Back Top

9 تبصرے:

  1. حالانکہ اس سے فرق تو پڑتا نہیں کوئی

  2. از جمال
    اپنے آپ کو پہچانے والوں کو نہ پہچاننے والوں کے مقابلے میں ایک واضح برتری حاصل ہوتی ہے کہ ان کے سامنے ایک معیار ہوتا ہے جس پر وہ اپنے آپ کو پرکھتے رہتے ہیں، معیار رکھنے اور پرکھتے رہنے کے لیےدرکار ذہانت، معلومات اور درست راستے پر گامزن رہنے کا خیال، ارادہ اور کوشش ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں-
    جو کام آپ نے 26 سال کم عمر میں انجام دیا، یہ ایک کارنامہ ہے لوگوں کی بڑی تعداد اخیر تک اس سے ناواقف رہتی ہے، اور اپنی ناکامیوں اور پریشانیوں کی وجوہات کو اپنی ذات سے باہر ڈھونڈتی ہے اور دوسروں کو اس کا موردالزام ٹہرا کر مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوب جاتی ہے-
    ذہین اور حساس لوگوں میں ایک بڑا مسلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی حد تک فراریت پسند اور "لا آف انرشیا" کا شکار ہوتے ہیں انہیں ایک دھکا دینے یا کھینچنے والے کی ضرورت ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ حقیقی زندگی میں کچھوا خرگوش سے جیت جاتا ہےاور جو لوگ پہلے کہتے تھے کہ اس کا مستقبل بہت شاندار ہے بعد میں کہنے لگتے ہیں کہ اس کا ماضی ضرور عظیم رہا ہوگا-
    ان کا دوسرا مسلہ "ہر اعتبار سے مکمل" ہونا/کرنا ہوتا ہے، جو کہ فرد کو بذات خود یا اپنی پراڈکٹ کو مارکیٹ کرنے سے روکتا ہے
    ایک اور اہم مسلہ " خود تسکینی" ہوتا ہے ، جس میں فرد صرف اس وقت تک کام کرتا ہے جب تک وہ اس کے لیے چیلنج ہے، جیسے ہی وہ چیلنج یا پراسراریت ختم ہوتی ہے جیسے ہی وہ اسے دریافت کرلیتا ہے اس کی دلچسپی ختم ہو جاتی ہے اور اس کے کاموں میں ایک اور نامکمل کام کا اضافہ ہوجاتا ہے-
    بہرحال، میں ایک بات آپ سے کہنا چاہوں گا کہ کہ آپ اپنے آپ کو ترجمہ نگاری میں آزمایے-

    1970 کی دہای تک اردو زبان میں ترجمہ کی ہوی کتابوں کا ایک بڑا ذخیرہ موجود تھا ، جس میں افسانے، ناول، تنقید، نفسیات، فلسفہ، معاشیات وغیرہ کی کتابیں انگریزی، فرانسییسی، ترکی اور روسی اور دیگر زبانوں سے اردو میں منتقل کی گی تھیں- اور دیگر ممالک میں ہم دیکھتے ہی ہیں کہ نی چھپنے والی کتابیں چند ہفتوں میں مقامی زبان میں ترجمہ کر کے پیش کر دی جاتی ہیں-
    گو کہ انگریزی مدرسے اردو کا راستہ روک رہے ہیں مگر اس کے ساتھ ہی کچھ ادارے پرانی کتابیں دوبارہ شایع کررہے ہیں- اب آین اکبر جیسی حوالہ جاتی اور طلسم ہوش ربا اور داستان امیر حمزہ جیسی کلاسیکی کتابیں زبان میں کچھ تبدیلیوں کے ساتھ بڑی خوبصورتی اور اہتمام کے ساتھ دوبارہ شایع ہونا شروع ہوگی ہیں ، مجھے یقین ہے کہ نشر و بصرواشاعت کے شعبے میں ایک بڑی تبدیلی اداروں اور قارییں کے تعاون سے آنے والی ہے- میرا خیال ہے کہ آپ اس شعبے میں اپنی صلاحیت کو آزماییں جہاں ایک بہت بڑا خلا موجود ہے-
    اور ہاں اخیر میں ایک چھوٹی سی بات کیا آپ انزایٹی اور پیرانواییڈ کے بارے میں خوب تفصیل سے جانتے ہیں؟
    جمال

  3. کسی دانا نے کہا ہے کہ اپنے آپ پر ہنسو ، اگر تم اپنے پر نہیں ہنسو گے تو دنیا تم پر ہنسے گی ۔ اور جی ، جب دنیا آپ پر ہنستی ہے تو بڑا برا لگتا ہے ۔ اور اکثر یہ ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ مخول کرنے والا ہی اندر سے سب سے زیادہ سیریس ہوتا ہے ۔ اور جو لوگ سیریس ہونے کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں انکی حرکتیں اتنی ہی نان سیریس ہوتی ہیں ۔ اگر آپ اندر سے سیریس ہیں تو باہر سے مخولیا شو کرتے ہیں ۔ اور لوگ آپ پر ایسے کمنٹتے ہیں تو ، سمجھ میں تو یہ ہی آتا ہے کہ لوگ آپ کو سمجھے ہی نہیں ۔

    ویسے آپ کو سب سے اچھا مشورہ یہ ہی دے سکتا ہوں کہ اللہ نے دو کان دیے ہی اس لیے ہیں کہ لوگوں کی بات کو ایک سے سن کر دوسرے سے نکال دیں ۔ جو لوگ ساری عمر اپنے آپ کو نہیں سمجھ سکے وہ تھوڑا سا وقت آپ کے ساتھ بِتا کر یہ سمجھ لیں کہ وہ آپ کے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں تو یا تو بندہ انکے کمنٹ سنے ہی نہ یا پھر اگر سنے تو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دے ۔

  4. چلو اب پتہ چل گیا تو سدھار کی کوشش کر لیں وہ کہتے ہیں سب خیر اگر انت خیر

  5. ہميں تو سکھايا گيا تھا " آج کا کام کل پر مت چھوڑو "۔ پہلے آسان يا چھوٹا کام کر کے کاميابی کی عادت ڈالو پھر بڑے کام کو ہاتھ لگاؤ ۔ اور آخری بات
    اپنے من ميں ڈوب کر پا جا سُراغِ زندگی
    تُو اگر ميرا نہيں بنتا نہ بن اپنا تو بن

  6. محاسبہ دو قسم کا ہے ایک اعمال کا دوسرا صلاحیتوں کا ۔ اعمال کا محاسبہ کرتے رہنا اچھی چیز ہے، یہ شرعی حکم بھی ہے، بندے کو اپنی غلطیوں، خامیوں کا اندازہ رہتا ہے پھر مستقبل میں ان سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ ۔ صلاحیتوں کا ذیادہ محاسبہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ بہت سی صلاحیتیں فطری ہوتیں ہیں، انکا ذیادہ محاسبہ بندے کو احساس کمتری کا شکار کردیتا ہے، سیلف کانشیسنیس جب حد سے بڑھتی ہے تو اسکا کانفیڈینس خراب کردیتی ہے پھر اسے اپنی قوتوں اور صلاحیتوں پر اعتماد نہیں رہتا۔ جس طرح ایک بچے کو ہر جگہ ٹوکنے سے اسکا کانفیڈینس پرورش نہیں پاسکتا۔ یہی حال ہمارے اندر کے آدمی کا ہے کیونکہ انسان بنیادی طور پر بزدل، سہل پسند اور جاہل ہے جیسا کہ قرآن نے بھی متعدد جگہ بیان کیا۔ ۔ بندے کو محنت کرنی پڑتی ہے، بہادر بننا پڑتا ہے۔۔ اللہ نے بندے کے اندر جو حیرت انگیز قوتیں رکھیں ہیں ان کے اندر بھی اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے، وقتی ناکامی سے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔

  7. عن قریب ہم انہیں اپنی نشانیاں دکھلا دیں گے آفاق و انفس میں یہاں تک کہ ان پر کھل جاءے کہ وہی ﴿﴿اللہ﴾﴾ حق ہے
    الجاثیة

    آپ کی پوست کی بہت سی باتیں مجھ پر بھی من و عن پوری اترتی ہیں، ہاں خود کو کھوجنا کم ہی اتنا اہم کام سمجھا ہے کہ الگ بیتھ کر ڈسکور کیا جاے کہ میں کیا ہوں

    اب کسی دن فرصت نکالتے ہیں اپنے لیے بھی

    خود اپنے لیے بیتھ کے سوچیں گے کسی دن

  8. اردو کی ایک کہاوت ہے۔ جتنے منہ اتنی باتیں ، دوسروں کے آپ کے بارے میں خیالات ایک جیسے نہیں ہوتے بلکہ ہر فرد کے ساتھ تبدیل ہوتے ہیں۔ اصلیت تو میری نظر میں وہ ہے کہ جس میں زیادہ افراد کی آپ کے بارے میں ایک ہی رائے ہو۔ لیکن عوام النّاس کی ہر بات کو بھی دل پر نہیں لے لینا چاہیے۔ خود شناسی ٓاپ کو اپنی کوتاہیاں اور غلطیاں پہچاننے اورانہیں سدھارنے کا موقع دیتی ہے۔ یہ ایک اچھا قدم ہے۔ جس پر سب کوخصوصی توجہ دینی چاہیے۔۔۔۔۔۔مجھے بھی

  9. اسلام علیکم
    آپ نے تو جیسے آئینہ دکھا کر ہم کو ہم سے متعارف کرایا ہے- سب نہیں چند باتوں میں-شکر ہے ورنہ تو بڑی مشکل ہو جاتی کہ تو کون ہے اور میں کون ہوں- :):)

ایک تبصرہ شائع کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔