جمعرات، 28 مارچ، 2013

سلیپ موڈ

ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 7:18 PM ,
کبھی کبھی کچھ اس قسم کی صورتحال بن جاتی ہے جیسے بندہ موبائل ہو اور اس پر سلیپ موڈ لگا ہوا ہو۔ سارا دن نیم خوابیدگی کی کیفیت میں گزر جاتا ہے۔ کام ہو بھی رہے ہوتے ہیں لیکن شاید ان کا کنٹرول کسی نیم سوئے دماغ کی  اتھاہ گہرائیوں میں موجود کسی شخص کے پاس ہوتا ہے۔ سارا دن ایک دھندلی سی کیفیت میں گزر جاتا ہے اور رات چلی آتی ہے۔ اور پھر ایک اور دن چڑھ جاتا ہے۔ دنوں کی گنتی بڑھتے بڑھتے ہفتوں میں بدل جاتی ہے اور ہفتے مہینوں میں ڈھلتے چلے جاتے ہیں۔ عجیب آگہی و عدم آگہی کے برزخ کا عالم ہوتا ہے۔ جیسے دھواں بھی نہ اٹھ رہا ہو اور نیچے کہیں سلگاہٹ بھی موجود ہو۔ اوپر سے دیکھ تو ٹھنڈی راکھ ہو لیکن اندر کہیں گرمائش موجود ہو۔ اسی طرح یہ برزخ چلتا ہے، نیم اندھیرے نیم اجالے کی سی اس کیفیت میں کام بھی ہوتے چلے جاتے ہیں اور بے کاری بھی چلتی رہتی ہے۔ ایک عجیب سی اکتاہٹ بھی طاری رہتی ہے جو ویلے رہنے کا شاخسانہ ہوتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ بڑے اہتمام اور چاؤ کے ساتھ کام کرنے کی مصروفیت بھی مرنے نہیں پاتی۔

یہ دوہری کیفیت بالکل ایسے ہے جیسے کوئی ایسا موبائل فون جو ایمرجنسی موڈ پر لگا ہوا ہو، اور ضروری کمیونیکیشن کے علاوہ ہر چیز بند پڑی ہو۔ بٹن دبانے پر بس ایمرجنسی کال کی جا سکتی ہو اور اس کے علاوہ سب بند۔ اور اس ضروری کی تعریف میں ضروری، ضروری سے 180 درجے الٹ ہے۔ ہر وہ کام جس کی بظاہر ضرورت نہیں ہوتی بڑے اہتمام سے سر انجام دیا جاتا ہے، پورے پروٹوکول کے ساتھ کیا جاتا ہے اور جو کام کرنا ہو، ہاں اچھا کرتے ہیں ہاں یار یہ بھی کرنا ہے جیسے خیالات کے بعد اسے واپس ذہنی شیلف پر رکھ دیا جاتا ہے، کل کرنے کے لیے۔ کوئی بات کر لے تو تفصیلی جواب مل جاتا ہے کوئی نہ بات کرے تو دنیا جائے بھاڑ میں، ہمارے اندر اپنی ایک دنیا آباد ہے جسے کسی کی ضرورت نہیں۔ دماغ صرف انتہائی ایمرجنسی کی کیفیت میں مکمل طور پر بیدار ہوتا ہے ورنہ ملگجی بیداری ہی طاری رہتی ہے۔ ایمرجنسی کی تعریف مختلف مواقع کے حوالے سے مختلف ہو سکتی ہے مثلاً کل کے لیے کوئی انتہائی ضروری ترجمہ کرنا ہو تو دماغ حاضر ہوتا ہے، یا کوئی کوئز، ٹیسٹ، ریڈنگ ملی ہوئی ہو تو دماغ ا س کے لیے حاضر ہوتا ہے۔ اور باقی کاموں کے لیے دماغ اسسٹنٹ کو کرسی پر بٹھا کر خود پچھلے کمرے میں جا کر سو جاتا ہے۔ یہ اسسٹنٹ بھی کم بخت مارا چرسی لگتا ہے جو ساری ترتیب الٹ دیتا ہے، جو کرنا ہو وہ نہیں کرنے اور جو نہیں کرنا ہو وہ کرنے کی فہرست میں ڈال کر خود انجوائے منٹ میں لگا رہتا ہے۔

انجوائے منٹ کی تفصیلات بھی انتہائی غیر اسلامی، غیر  اخلاقی اور تقریباً ہر "غیر جمع اسمِ صفت" کی ترکیب تلے آ جاتی ہیں۔ مثلاً دیہاڑی دار اسسٹنٹ دماغ فلموں کا رسیا ہے۔ ایک عدد بیسٹ موویز کی فہرست اتارنے کے بعد ایک ایک یا دو دو کر کے دو وقت روزانہ فلمیں دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔ اور ظاہر ہے فلمیں دیکھنا انتہائی غیر اسلامی کام ہے۔ اسسٹنٹ دماغ کی ایک اور مصروفیت پچھلے دور کی پڑھی ہوئی کہانیاں بھی ہے، یا کوئی بھی نئی کہانی مل جائے تو اسے بڑے اہتمام کے ساتھ پڑھا جاتا ہے، اس کے ساتھ عموماً کچھ ٹھونگنے کا اہتمام کیا جاتا ہے اور ضرورت کے کام ایک جانب کھڑے بٹ بٹ منہ تک رہے ہوتے ہیں کہ "ساڈے اُتے وی اکھ رکھ وے"۔ لیکن ظاہر ہے انہیں لفٹ نہیں کروائی جاتی چونکہ یہ مستی ٹائم ہوتا ہے اسسٹنٹ مستی ٹائم چونکہ وڈا دماغ خوابِ خر گوش کے مزے لُوٹ رہا ہے۔ اسی انجوائے منٹ کا ایک تیسرا حصہ لامتناہی نیند کے سائیکل ہیں۔ ہر کچھ عرصے کے بعد اسسٹنٹ دماغ تھک کر چُور ہو جاتا ہے، جس کے بعد اسے ایک لمبی نیند کی ضرورت پڑتی ہے۔ منہ سے جمائیاں خارج ہوتی ہیں، سر بھاری ہو جاتا ہے اور آنکھیں دو کے چار دکھانے لگتی ہیں۔ چنانچہ بستر ڈھونڈا جاتا ہے اور اسسٹنٹ دماغ جسم کو بھی سُلا دیتا ہے۔ اس سلسلے میں جاگ تبھی آتی ہے جب کھانے کا وقت ہو یا شومئی قسمت اذان سنائی دے جائے۔

اس صورتحال کو ریچھوں کی سرمائی نیند سے تشبیہہ دی جا سکتی ہے لیکن یہ اس نیند سے مناسب حد تک اختلاف کی حامل ہے۔ مثلاً یہ سال کے چھ مہینے طاری نہیں رہتی، بلکہ اس کا تجزیہ کیا جائے تو عُقدہ کھلتا ہے کہ یہ کسی بھی وقت طاری ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کی کوئی معینہ مدت نہیں ہوتی۔ چند دن سے لے کر چند ہفتوں اور چند مہینوں تک یہ کسی بھی عرصے کے لیے طاری رہ سکتی ہے۔ مزید اس کے درجوں میں بھی فرق آتا رہتا ہے، جیسے برتن کا پیندہ کہیں سے مضبوط اور کہیں سے کمزور ہو جاتا ہے اسی طرح ایمرجنسی موڈ کی نیند کبھی کم کبھی زیادہ ہوتی رہتی ہے۔ درمیان میں ایسے مواقع آتے رہتے ہیں جن سے محسوس ہوتا ہے کہ صاحبِ نیند تقریباً انسان بن چکا ہے لیکن پھر ایک جماہی آتی ہے اور بستر سیدھا کر کے اس پر لیٹنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ پرانا دوست/ سہیلی واپس آ چکی ہے۔

اس کیفیت پر تحقیق کی جائے تو کئی انکشافات بھی ہوں گے۔ چونکہ اسی کیفیت میں کئی مسائل کے سادہ سے حل سامنے آ جاتے ہیں جنہیں اگر نوٹ کر کے رکھ لیا جائے تو بعد میں خود پر تبرا بھیجنے کے لیے کسی اور چیز کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ اسی نیم ملگجے جاگنے کی کیفیت میں بہت سے مسائل حل بھی کر لیے جاتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ مکمل بیداری پر اس حل کو کوڑے دان میں پھینک کر دوبارہ سے ایک نیا حل نکالنا پڑتا ہے۔

کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ دماغ اس کیفیت میں ایک سست رفتار کچھوا ہو جاتا ہے جو چلتا چلا جاتا ہے چلتا چلا جاتا ہے لیکن یہ چلنا اتنا سست ہوتا ہے کہ دماغ کو خود بھی پتا نہیں چلتا کہ وہ چل رہا ہے۔ وہی مدھم مدھم سلگاہٹ اور گرماہٹ، جس کا احساس خود کوئلے کو بھی نہیں ہوتا کہ وہ جل رہا ہے، جلتا چلا جا رہا ہے حتی کہ وہ اسی زُعم میں راکھ ہو جاتا ہے کہ ابھی تو بہت وقت باقی ہے۔۔ دماغ بھی اسی کیفیت میں، خود فراموشی کی کیفیت میں خود کو مبتلا کر کے جیسے سمجھ لیتا ہے کہ دنیا بھی اس کے ساتھ تھم گئی ہے، وقت کی لگام کھنچ گئی ہے اور وہ حقیقی برزخ میں آ کھڑا ہوا ہے۔ لیکن یہ دماغ کی خام خیالی ہوتی ہے، وقت بھلا کبھی رُکا ہے، وقت چلتا چلا جاتا ہے اور جب دن ہفتے مہینے گزرنے کے بعد ہوش آتی ہے تو پتا چلتا ہے کہ یوگی کے مراقبے کے دوران اتنا وقت گزر گیا۔ اور وہ وقت، بظاہر دبے پاؤں دھیرے دھیرے چلتا وقت بھی خاموشی سے نہیں گزرتا، نشان چھوڑ جاتا ہے، جسم پر، گرد و نواح پر اور دماغ پر۔ دماغ کو ہوش آنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ کیا تھا اور کیا ہو گیا، دماغ جو خود کو تین دن کے لیے غار میں بند کرتا تھا اس کے اٹھنے پر صدیاں بیت چکی ہوتی ہیں۔ بس یہاں کوئی معجزہ نہیں ہوتا، یہاں کوئی غار نہیں ہوتا، نیند اور جاگنے کی کیفیت میں کوئی وحی کار فرما نہیں ہوتی یہ عام سی نیند ہوتی ہے۔ بلکہ نیند کہنا بھی نیند کی توہین ہے، یہ نیم نیند بہت کچھ لے جاتی ہے۔

شاید یہ نیم نیند بہت کچھ دے بھی جاتی ہو۔ اٹھنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ ادھورے سے کئے ہوئے کام، کچھ ادھوری سی لکھی ہوئی سوچیں، کچھ نیم پروسیسنگ جو پسِ منظر میں ہوتی رہی اس کا ادھورا سا نتیجہ، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ یہ کچھ دے بھی جاتا ہے۔ کبھی کبھی اس حالت میں چلی ہوئی گولی نشانے پر لگ جاتی ہے اور پوبارہ بھی ہو جاتے ہیں۔ شاید یہی وہ کیفیت تھی جب بنزین کا چھ رُخا  مالیکیول چھ سانپوں کی صورت میں خواب میں آ وارد ہوا۔ شاید یہی وہ کیفیت ہو جس میں شاہکار تخلیق ہوتے ہوں۔ شاید یہی وہ کیفیت ہو جس میں پہاڑ جیسے مسائل کے اتنے سادہ حل سامنے آ جاتے ہوں کہ ان کی سادگی پر قربان ہو جانے کو دل کرے۔ شاید یہ کیفیت اچھی بھی ہو، لیکن بات تو فریکوئنسی پکڑنے کی ہے۔ اگر درست فریکوئنسی پکڑ لی تو پوبارہ، ورنہ ۔۔۔۔۔۔

Back Top

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔