اتوار، 31 اگست، 2014

خود کلامی

ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 6:38 PM ,
میں اپنے کمرے میں بیٹھا سورج کو نکلتا دیکھ رہا ہوں۔ ایک شبِ ظلمات ڈھل چکی ہے۔ 
میں خود سے سوال کرتا ہوں۔
کیا واقعی شبِ ظلمات ڈھل چکی ہے؟ یا ایک شروع ہو رہی ہے؟
میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔ 
شاید سورج آج معمول سے زیادہ اداس ہے۔ یا شاید نہیں ہے۔
شاید چودہ سو سال پہلے جب عثمان ابن عفان ؓ کی شہادت ہوئی تھی تب بھی ایسا ہی دن نکلا ہو گا؟
شاید فاطمہ ؓ بنت محمد ﷺ کے لعل حسینؓ ابنِ علی ؓ اور اسماء ؓ بنت ابی بکر ؓکے جگر گوشے عبداللہؓ ابن زبیرؓ کی شہادت کے بعد بھی ایسا ہی سورج نکلا تھا؟
نہیں ایسا نہیں ہوگا۔ وہ تو محبوب بندے تھے۔ ان کے جانے پر تو ساری کائنات بھی روتی تو کم تھا۔ 
ساری کائنات روئی ہو گی۔ میں خود کو جواب دیتا ہوں۔ لیکن دیکھنے والی آنکھیں اور سننے والے کان نہیں ہوں گے۔
کیا یہ سورج ایک بار پھر بے گناہ مرگ دیکھ کر اداس ہے؟ میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔
میں ساری رات کہاں رہا ہوں؟ مجھے کچھ ہلیوسی نیشنز کچھ دماغی فتور یاد ہے۔
شاید مجھے بخار تھا؟ نیند میں بڑبڑاتا رہا ہوں؟ میں ہذیان بکتا رہا ہوں؟
میں خود سے سوال کرتا ہوں۔ میں ساری رات کہاں رہا ہوں؟
ہاں مجھے کچھ کچھ یاد آ رہا ہے۔ میں نیم نیند میں رہا ہوں۔ 
میں سوتا بھی رہا ہوں اور جاگتا بھی رہا ہوں۔ بڑی لمبی رات تھی۔ 
میں ساری رات سنتا رہا ہوں، دوکانوں پر چلتے ٹیلی وژنوں پر جلتی بجھتی سرخیاں جو اتنی دور سے بھی میرے کان پھاڑتی رہی ہیں۔ اور انٹرنیٹ پر کچھ مناظر اور کچھ تحریریں۔۔۔گلا پھاڑتی خاموش تحریریں۔۔۔
میں سنتا ہوں غریبوں پر بڑی لمبی رات تھی۔ ایک طرف کے غریب دوسری طرف کے غریبوں سے لڑتے رہے۔
ہر کوئی کنٹینر کی بات کرتا ہے۔ 
کون سا کنٹینر؟ میں سوال کرتا ہوں۔
اور میرے سامنے رنگ برنگے کنٹینر آ جاتے ہیں۔
ایک سے اعلان ہو رہا ہے کارکنو آگے بڑھو کپتان نے سوچ سمجھ کر تمہیں کہا ہے۔
ایک سے اذان نشر ہوتی ہے۔
اور کئی ایک کنٹینر ایک بستی کے اطراف میں پڑے ہیں، راستے بند کرنے کے لیے۔
میں نیم نیند کی کیفیت میں شاید ہذیان بکتا رہا ہوں۔ مرگ بر امریکہ۔ مرگ بر اسرائیل۔ مرگ بر کنٹینر۔۔۔
لیکن یہ مرگ بر کنٹینر کیوں؟ میں خود سے سوال کرتا ہوں۔
کیوں کہ ہر کنٹینر کے پیچھے انا، مَیں ، تکبر اور گھمنڈ کی ایک ڈھیری چھپی ہوئی ہے۔ میں اپنے آپ کو جواب دے کر پھر سے نعرے لگانے لگتا ہوں۔
مرگ بر امریکہ۔ مرگ بر اسرائیل۔ مرگ بر کنٹینر۔۔۔
بخار شاید میرے دماغ کو چڑھ رہا ہے۔ اتنی گرمی بھی تو لگ رہی ہے۔ اوپر کپڑا لوں تو پسینہ آتا ہے ، نہ لوں تو سردی لگتی ہے۔
میں عجیب دوہری مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔
مجھے سمجھ نہیں آتی کدھر جاؤں۔
یہ کروں یا وہ کروں۔
بے چینی اور بے کلی ہے۔ میں پھر انٹرنیٹ کھول لیتا ہوں۔
لوگ جاگ رہے ہیں۔ سب جاگ رہے ہیں، پاکستان جاگ رہا ہے۔ شاید میری طرح جاگ رہے ہیں؟ نیم نیند کی کیفیت میں؟ شاید انہیں بھی نیند نہیں آ رہی؟
ہر چند منٹ بعد ایک اسٹیٹس آ دھمکتا ہے۔ 
لوگ ٹی وی کے آگے بیٹھے ہیں۔ ایک ہجوم کو دوسرے ہجوم سے لڑتا دیکھ رہے ہیں۔ 
پیچھے کہیں کنٹینر بھی نظر آ رہے ہیں۔
ایک ہجوم وردی والا ہے۔ ایک ہجوم وردی کے بغیر ہے۔
لیکن کپڑوں سے بھلا کیا فرق پڑتا ہے؟ میں خود سے سوال کرتا ہوں۔
کپڑوں کے اندر کون ہے؟
 تیس ہزار تنخواہ لینے والا ایک پولیس والا ہے۔ جس نے اپنے بچے پالنے ہیں۔
اس پولیس والے کے خلاف ایک کنٹینر بول رہا ہے۔ میرے کارکنوں کو کچھ نہ کہو ورنہ تمہارے لیے اچھا نہیں ہو گا۔
ہاں کارکن بھی ہیں۔ کارکن کون ہیں؟
عام لوگ ہیں۔ میرے جیسے۔ آنکھوں میں خواب سجائے وہاں گئے ہیں۔ 
نظام تبدیل کرنے کی خواہش لیے۔ اپنوں سے ٹکراتے ہیں۔
کیا یہ پولیس والے اپنے ہیں؟ میں حیران ہوتا ہوں۔
اگر یہ اپنے ہیں تو انہیں پتھر کیوں پڑ رہے ہیں؟ میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔
اگر یہ اپنے ہیں تو آنسو گیس کیوں برسا رہے ہیں؟ میرے پاس اس کا بھی کوئی جواب نہیں ہے۔
میں پھر اکتا جاتا ہوں۔
ایک جیسی باتیں۔ ایک جیسے اسٹیٹس۔ 
کوئی ایک کنٹینر کا حامی ہے۔ کوئی دوسرے کنٹینر کا حامی ہے۔
ہر کوئی کسی کو کوس رہا ہے۔
ہر کسی اسٹیٹس کے پیچھے موجود ہیجان صاف دکھائی دیتا ہے۔
جیسے اسٹیٹس گو سامنے بیٹھا کف اڑاتا ہوا سب کچھ چنگھاڑ رہا ہو۔
کنٹینروں پر لگے اسپیکروں کی طرح۔ یا شاید نہیں۔
ایک کنٹینر والا 14 لاشوں کا حساب مانگنے پہنچا ہے۔
ایک کنٹینر والا نیا پاکستان بنانے پہنچا ہے۔
اور ایک کنٹینروں والا استعفیٰ دینے کو تیار نہیں۔
تین اناؤں کی جنگ۔
لعنت ہو، لعنت ہو۔۔۔۔
مجھ پر پھر وحشت طاری ہوتی ہے۔ نیم نیند اور بخار مجھے کہیں کا نہیں چھوڑے گا۔ پھر وحشت اور ہذیان۔۔۔۔
مرگ بر امریکہ۔ مرگ بر اسرائیل۔ مرگ بر کنٹینر۔۔۔۔
لاشوں کی سیاست کرنے والو۔ تمہیں خون کی پیاس ہے۔ تمہیں خون چاہیئے۔ غریب کا خون چاہیے۔ تبھی تمہارے اندر جلتی ہوسِ اقتدار کی آگ بجھے گی۔
پھر ہذیان ۔۔۔میں شاید پاگل ہو رہا ہوں۔ میں ہوش کھو رہا ہوں۔
کیا واقعی میں ہوش کھو رہا ہوں؟ 
اگر میں ہوش کھو رہا ہوں تو یہ جو ہجوم آپس میں گتھم گتھا ہے ، کیا یہ ہوش والے ہیں؟
یا ان کو لڑانے والے ہوش مند ہیں؟
میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔
لیکن مجھے لگتا ہے میں ہوش کھو رہا ہے۔
یا شاید مجھے نیند آ رہی ہے۔
میں سو جاتا ہوں۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر سکون سے گزرتی ہے۔ اور پھر سورج نکل آتا ہے۔
میں نماز بھی قضا کر بیٹھا ہوں۔
خدایا! یہ کیسا دن نکلا ہے؟
کیا شب ظلمات کا اختتام ہو گیا؟ میں اپنے آپ سے پوچھتا ہوں۔
کیا ظلم کی سیاہ رات ختم ہو گئی ہے؟
کیا آنے والا عذاب ٹل گیا ہے؟
یا ایک اور ظلمتوں بھرے عہد کا آغاز ہو رہا ہے؟
میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Back Top

2 تبصرے:

  1. کیا شب ظلمات کا اختتام ہو گیا؟ میں اپنے آپ سے پوچھتا ہوں۔
    ہر ذہن میں یہی سوال ہے

  2. یہ ذہنی کیفیت صرف آپ کی تو نہیں۔ دو طرح کے لوگ ہیں۔ ایک وہ جو اس فریب اور جھوٹ کو سمجھنے کی صلاحیت سے ہی عاری ہیں اور اندھا دھند سراب کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔۔۔۔دوسرے وہ جو اس فریب کو سمجھ کر اس ذہنی کیفیت کا شکار ہیں جسکی عکاسی آپ کی یہ تحریر کررہی ہے۔
    مگر ہمیں تیسری طرح کا ہونا چاہیے۔۔۔کیوں کہ ہمیں صدیوں پہلے ہی بتادیا گیا تھا کہ کیا چھوڑو گے تو کیسے ذلیل و خوار ہوگے۔ اس بار تو اللہ نے چن چن کر سب کو بے نقاب کردیا۔ کیا میڈیا کیا ریاست اور کیا سیاست دان۔۔۔۔اور عوام۔۔۔اسکا تو پوچھیں ہی مت۔

ایک تبصرہ شائع کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔