ہفتہ، 28 مارچ، 2015

گولڈن ڈکشنری بمع دو انگریزی اردو لغات

0 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 10:36 AM ,
اردو کے حوالے سے پچھلے کچھ برسوں میں کافی ساری لغات آنلائن دستیاب ہو گئی ہیں۔ بعض اوقات آفلائن استعمال کے لیے اچھی لغت دستیاب نہیں ہوتی۔ اسی مشکل کے پیشِ نظر میں نے اپنے اور اپنے ادارے (دار السنہ و علوم ترجمہ، جامعہ گجرات) کے لیے دو آنلائن لغات کو آفلائن میں منتقل کیا تھا۔ اس سلسلے میں اردو محفل کے احباب ابن سعید، محمد سعد وغیرہم کا تعاون شاملِ حال رہا۔ مندرجہ ذیل ربط سے آپ کو پورٹیبل گولڈن ڈکشنری ایپلی کیشن بمع لغات مل جائے گی۔ اس کے content نامی فولڈر میں دو مشہور انگریزی اردو لغات کی ڈیٹابیسز موجود ہیں۔ ساتھ انگریزی ورڈ نیٹ بھی شامل ہے۔ امید ہے اس سے انگریزی کو بلائے جان سمجھنے والوں کے کچھ مسائل کا حل نکلے گا۔
گولڈن ڈکشنری


اپڈیٹ: 

دو عدد اردو انگریزی لغات تیار کی ہیں۔
یہاں سے ڈاؤنلوڈ کر کے content نامی فولڈر میں ان زپ کر دیں۔ اب آپ اردو الفاظ کی انگریزی تلاش کرنے کے قابل بھی ہوں گے۔
لیکن یاد رہے کہ یہ انگریزی اردو لغات کے ڈیٹا کو تبدیل کر کے بنائی گئی ہیں۔ اس لیے اسے جگاڑ ہی سمجھا جائے۔ اردو سے انگریزی لغت (جیسے آکسفورڈ کی لغت یا دیگر لغات جو بطور خاص اردو سے انگریزی کے لیے تیار کی گئی ہیں) کا مقابلہ شاید ممکن نہ ہو۔

اتوار، 22 مارچ، 2015

مقتدرہ فرہنگِ اصطلاحاتِ لسانیات (انگریزی اردو)

1 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 12:42 PM ,
کسی مترجم کے لیے لغات اور فرہنگیں بالکل وہی حیثیت رکھتی ہیں جو راج مستری کے لیے ہتھوڑی چھینی یا فوجی کے لیے بندوق کی ہوتی ہے۔ ترجمے کے میدان میں کسی بھی قسم کے کارہائے نمایاں و غیر نمایاں سرانجام نہ دے سکنے کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ دوسرے مترجمین اور ان کے ساتھ اپنا بھی بھلا کر لیا جائے۔ اسی بھلے کے سلسلے میں مقتدرہ قومی زبان کی مذکورہ بالا فرہنگِ لسانیات انتہائی بدمعاشی اور کسی بھی قسم کے کاپی رائٹس کا خیال نہ کرتے ہوئے اسکین کی گئی ہے۔ مقصد اردو لسانیات کی کتب ترجمہ کرنے والوں کے لیے اصطلاحات کا کم از کم ایک معیار مہیا کرنا ہے، تاکہ مترجم کو ترجمے کے ساتھ ساتھ اصطلاحات کا پہیہ بھی دوبارہ ایجاد نہ کرنا پڑے۔ اصطلاحات سازی میں معیار بندی ہی دراصل وہ کلید ہے جو چند برسوں کے اندر اندر اس ملک میں ایسے مترجم اور ترجمہ ساز ادارے قائم کر سکتی ہے جن کی ترجمہ شدہ کتب کو پڑھنے کے لیے قاری کو اردو انگریزی لغت کا سہارا نہ لینا پڑے، یا جس کے چند صفحات پڑھ کر وہ کانوں کو ہاتھ لگا کر واپس انگریزی کی جانب کُوچ نہ کر جائے۔
اتنی لمبی تمہید کے بعد قبول فرمائیں ایک عدد پی ڈی ایف۔ اس کا فائدہ صرف اتنا ہے کہ پی ڈی ایف کھول کر Ctrl + F دبائیں اور انگریزی لفظ لکھ کر سرچ فرما لیں۔ اردو الفاظ مٹے مٹے ہوئے لگیں گے جو شاید انگریزی او سی آر کی شرارت ہے، لیکن ابتدائی قدم ہے اس لیے درگزر فرمائیں۔ اسی کو ٹیب سے الگ شدہ فہرست کی صورت میں بھی ٹائپ کروا رہا ہوں، دعا فرمائیں کہ جلد ہو جائے۔ اس کے دیر سویر کے خیال سے ہی میں نے یہ اپنے اور دوسرے احباب کے لیے تیار کی ہے۔
نوٹ: اس کی اسکین تصاویر (300 ڈی پی آئی) پر موجود ہیں، جو احباب اوپن سورس او سی آر سسٹم پر کچھ کرنا چاہ رہے تھے انہیں یہ تصاویر مل سکتی ہیں۔ ایک صفحے پر انگریزی اور اردو دونوں آمنے سامنے کالم میں ہیں۔

سوموار، 16 مارچ، 2015

احساسِ رحمت

1 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 6:41 PM ,
رب کی رحمت بھی عجیب چیز ہے سائیں۔ ہر وقت اس کی رحمت کا حصار رہتا ہے۔ ہر لمحہ اس کے کرم کی بارش برستی رہتی ہے۔ لیکن بندہ ناسمجھ، ناقص العقل نہیں سمجھتا۔ آنکھیں ہوتی ہے لیکن دیکھ نہیں پاتا۔ بینا ہوتے ہوئے نابینا ہو جاتا ہے۔ یہ اس کی رحمت کے صدقے ہی ہوتا ہے کہ اس کی رحمت کا احساس مل جائے۔ اور جس کو اس کی رحمت کا احساس مل جائے اس کے کیا ہی کہنے۔ لگتا ہے جیسے کوئی یار سجن بیٹھا ہے۔ یہیں ساتھ  ہی کہیں، یہیں پاس ہی کہیں بیٹھا ہے۔ ہر لحظہ اس کی عطاء کی آرزو رہتی ہے۔ اس کے کرم کی تمنا رہتی ہے۔ اور جب اس کا کرم ہو جائے، جب دعائیں ویسے قبول ہو جائیں جیسے بندے نے چاہا تھا، تو اندر جیسے بہار آ جاتی ہے۔ جیسے عید پر سارا جہاں مُسکرا اُٹھتا ہے۔ جیسے اندر باہر شادیانے بجنے لگتے ہیں۔ ہر طرف ہر چیز جیسے کھلکھلانے لگتی ہے۔ ہر سُو اسی کی عطاء نظر آتی ہے۔ بڑا پُر لُطف تجربہ ہوتا ہے۔ اس کی رحمت ہو جانا، اور پھر یہ احساس ہو جانا کہ اس کی رحمت ہوئی ہے۔ یہ اسی کا کرم ہوا ہے، اے بندے ورنہ تُو کس قابل تھا ۔ اور پھر رحمت کے بعد سر کا جھُک جانا۔ اس عطاء و کرم و فضل و رحمت پر سر جھُک جانا، نظر جھک جانا اور اس کی مزید رحمت ہو جائے تو دو قطرے آنسوؤں کے، اظہارِ عجز کے، اظہارِ بندگی کے، اظہارِ لاچاری کے۔ دو قطرے ٹپک پڑنا کہ مالک میں بھلا کس قابل تھا، یہ سب تیرا ہی تو دیا ہے۔ یہ جو کچھ میرے تن پر ہے، جو کچھ میرے اندر ہے، میرے پاس ہے یہ سب تیرا ہی تو دیا ہے۔ میرا تو ہونا ہی مجھ پر تیری رحمت ہے مولا۔ میں حقیر،ارذل، ادنیٰ، گھٹیا، گناہوں کی پوٹ اور تیری عطاء۔ کس منہ سے تیرا شکر کروں۔ مجھے تو شکر کرنا بھی نہیں آتا۔ یہ سب تیرے نبی ﷺ کے پیروں کی خاک کا صدقہ سائیں۔ تو سخی تیرے نبی ﷺ کی ذات سخی۔ اور میں تیرے در کا گدا۔ تُو بادشاہ مالک اور میں تیرے بُوہے پر بیٹھا منگتا۔ بھلا منگتے کی کیا اوقات کہ اس پر یہ عطاء ہو جاتی۔ یہ تو تیری کمال مہربانی ہے سائیں، تُونے اپنی نبی ﷺ کا صدقہ، آلِ نبیﷺ کا صدقہ، اصحابِ نبی ﷺ کا صدقہ مجھ پر یہ جو عطاء کردی بھلا میں کس قابل تھا۔

بڑا پُر لطف تجربہ ہے جی۔ کبھی کر کے دیکھیں۔ رب سے رحمت مانگ کر دیکھیں۔ بس رحمت کے طلبگار ہوں۔ اور شکر کریں، ہر نعمت پر۔ اگر یہ کرم ہو جائے، اوریہ کرم ہو جاتا ہے آہستہ آہستہ دھیرے دھیرے اپنی بے کسی اور بے بسی اور اس کی رحمت کا احساس وسیع تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ پھر جو کچھ بھی پیش آئے، جو بھی اچھا پیش آئے، پہننے، کھانے، پینے یا زندگی میں جو کچھ بھی ملے بس آسمان کی جانب نظر اُٹھتی ہے۔ یہ سب تو اُس کی رحمت ہے۔ یہ تو مولا کا کرم ہے۔ اور اپنا آپ اور حقیر لگنے لگتا ہے۔ اس کے لاشمار احسانوں میں ایک اور کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کی محبت کا احساس فزوں تر ہو جاتا ہے۔ اس پر یقین اور مان بڑھ جاتا ہے۔
کاش رب یہ مقامِ شکر عطاء کر دے۔