منگل، 9 فروری، 2016

چائے

ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 2:23 AM ,
حضرات چائے کے فضائل کیا گنوائیں۔ سمجھ لیں کہ آسمانی تحفہ ہے جو خدا نے اپنی مخلوق کے غموں پریشانیوں کو کم کرنے کے لیے اتارا ہے۔ آپ عاشقِ صادق ہیں یا زوجہ کے ستائے ہوئے، دوست احباب یا اہلخانہ میں بیٹھے ہیں یا تنہائی سے شغل فرما، امتحان کی تیاری میں مصروف ہیں یا دفتر کے اضافی کام تلے دبے ہیں، ذہنی کام نے دماغ کی دہی بنا دی ہے یا جسمانی کام نے تھکا مارا ہے، صبح اٹھے ہیں تو بیڈ ٹی رات دیر تک جاگنا ہے تو نیند بھگانے کا تیر بہدف نسخہ؛ سردی، گرمی، خزاں، بہار کسی بھی موسم میں، رات، دن، سہ پہر، دوپہر کسی بھی وقت، گھر میں ٹی وی کے سامنے، بیٹھک، کھڑکی یا میز کے پیچھے، باہر فٹ پاتھ پر کرسی یا بینچ پر بیٹھے، دفتر میں فائلوں کے ہمراہ یا کسی میٹنگ میں مصروف، غرض ایک کپ چائے کہیں بھی آپ کی دنیا بدل سکتی ہے۔

دل جلانے کا من ہے تو دودھ کے بغیر پی لیں۔ دودھ کے ہمراہ دل جلانے کا شوق ہے تو کسی فٹ پاتھی چائے فروش سے مستریوں والی چائے کی فرمائش کر لیں۔ دودھ سے کچھ زیادہ رغبت ہے تو دودھ پتی کروا لیں۔ جاڑوں کی سردیلی صبح، نانی کے گھر میں لکڑی کے چولہے کے ساتھ بیٹھے گھر کی گائے/ بھینس کے دودھ اور گھر کے گُڑ کی بنی چائے پر تو دنیا جہان کی نعمتیں قربان کی جا سکتی ہیں۔ پستہ بادام سے شغف ہے تو کشمیری گلابی سبز چائے آپ کی خدمت کے لیے حاضر ہے۔ پشاوری قہوے اور لیموں کا جوڑ تو شاید ہی کہیں اور پایا جائے۔ یعنی جیسا موڈ ہو ویسی چائے اسے دوبالا کرنے کے لیے حاضر۔

 اور پھر چائے اکیلی ہی نہیں آتی، ساتھ طرح طرح کے لوازمات بھی دل لبھانے کو آ موجود ہوتے ہیں۔ بھوک لگی ہے تو چائے پراٹھا، اور اگر والدہ کے ہاتھ کا پکا پراٹھا چائے کے ساتھ مل جائے تو جناب اس کی قدر ہم جیسے پردیسیوں سے پوچھیں۔ توس، سادہ توس، انڈہ لگا توس، ٹوسٹر میں فرائی کردہ توس اور ساتھ ایک کپ چائے: لاجواب۔ ایک فرائی ہاف فرائی انڈہ، ابلا ہوا، ہاف بوائلڈ انڈا ایک چٹکی نمک اور کالی مرچ کے ساتھ چائے کے کپ کی چُسکیاں، سبحان اللہ۔ رس گلے، گلاب جامن اور برفی سے لدی ایک پلیٹ جب چائے کے کپ کے ساتھ گلے میں اترتی ہے تو اس کا مزہ کسی من و سلویٰ سے کیا کم ہو گا۔ اور رس یا بسکٹ چائے کی پیالی میں ڈبو کر کھانے اور پیالی میں ہی رہ جانے کی صورت میں پینے کا لطف بیان کرنے نہیں آزمانے کی چیز ہے۔ اور اگر میٹھا نہیں کھانا چاہتے تو نمکین چیزوں کے ساتھ بھی چائے کی بہت اچھی دوستی ہے: نمکو، سموسے، پکوڑے، چپس اور ساتھ ایک کپ چائے۔

تو صاحبو چائے کچھ ایسا عالمگیر مشروب ہے جو خال ہی کسی چیز کے ساتھ فِٹ نہ بیٹھتا ہوگا، کم ہی کسی صورتحال میں اجنبی محسوس ہوتا ہو گا اور کوئی بدنصیب ہی اسے چھوڑ کر کسی اور مشروب سے دل بہلانے کی آرزو کرتا ہو گا۔ کسی زمانے میں حکیموں کے ہاں ہی ملتی ہو گی ہمیں اس روایت سے انکار نہیں ، لیکن اب تو چائے ہر امیر غریب کی خوراک کا لازمی جزو ہے۔ دل جلانے، دل بہلانے، دل لگانے کے کام آتی ہے۔ وزیروں، مشیروں، شاعروں، ادیبوں، امراء، فقراء، علماء، ہر کسی میں مقبول یہ مشروب جسے ہم اردو میں چائے، انگریزی میں ٹی، پنجابی میں چاء اور جرمن میں ٹے بلاتے ہیں۔ اب اس کی تعریف اور کیا کریں کہ بس ایک کپ چائے نے کچھ ایسا دماغ چلایا کہ ہم نے ایک ڈیڑھ صفحہ اس کی مدح سرائی میں کالا کر ڈالا۔ تو صاحبو چائے پیئو، جیو اور خوش رہو۔

Back Top

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔