ہفتہ، 27 فروری، 2016

ملعون نسلِ انسانی از مارک ٹوین

0 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 1:28 AM ,
پچھلے برس ایک کرم فرما کے لیے مارک ٹوین کا مضمون دی ڈیمڈ ہیومن ریس ترجمہ کیا تھا۔ ادب کے حوالے سے انتہائی محدود مطالعہ ہونے کی وجہ سے کبھی ادبی ترجمہ کرنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی۔ یہ بچگانہ سی نوعیت کا ترجمہ بھی آپ احباب کے ساتھ ڈرتے ڈرتے بانٹ رہا ہوں۔

میں نے (نام نہاد) ادنیٰ حیوانات کے عادات و خصائل کا مطالعہ کیا ہے، اور انہیں انسان کے عادات و خصائل سے ملا کر دیکھا ہے۔ مجھے اس کا نتیجہ اپنے لیے باعثِ ذلت محسوس ہوا ہے۔ کیونکہ یہ مجھے مجبور کرتا ہے کہ میں 'انسان کے ادنٰی حیوانات سے عروج' کے ڈارونی نظریے کے ساتھ اپنی وفاداری سے اظہارِ برأت کر دوں؛ چونکہ اب مجھے صاف صاف لگتا ہے کہ اس نظریے کو ایک نئے اور زیادہ سچے نظریے سے تبدیل کر دینا چاہیئے، یہ نیا اور زیادہ سچا نظریہ 'اعلیٰ حیوانات سے انسان کا زوال' کہلا سکتا ہے۔

اس ناپسندیدہ نتیجے  پر پہنچنے کے لیے میں نے اندازے یا قیاس کے گھوڑے نہیں دوڑائے، بلکہ ایک ایسا طریقہ استعمال کیا ہے جو عرفِ عام میں سائنسی طریقہ کار کہلاتا ہے۔ اس سے مراد ہے کہ میں نے سامنے آنے والے ہر مفروضے کو حقیقی تجربے کی ناگزیر کسوٹی پر پرکھا ہے، اور اس کے نتیجے کے مطابق اسے اپنایا یا مسترد کیا ہے۔ چنانچہ میں نے اپنے راستے کے ہر قدم پر تصدیق اور ثبوت کی فراہمی کے بعد ہی اگلا قدم اٹھایا ہے۔ یہ تجربات لندن زوالوجیکل گارڈنز میں سرانجام دئیے گئے، اور کئی ماہ کے جفاکش اور تھکا دینے والے کام پر مشتمل تھے۔
ان تجربات کی جزئیات بیان کرنے سے قبل، میں ایک یا دو چیزیں بیان کرنا چاہوں گا جو اگلے حصوں کی بجائے یہاں بیان کرنا مناسب معلوم ہوتی ہیں۔ ان کا مقصد صراحت پیدا کرنا ہے۔ ان اجتماعی تجربات نے میرے خیال کے عین مطابق کچھ عمومی اُصول ثابت کیے، یعنی:

یہ کہ نسلِ انسانی ایک ممیّز نوع سے تعلق رکھتی ہے۔ اس میں آب و ہوا، ماحول، اور دیگر عوامل کے باعث معمولی تغیرات (جیسے رنگ، قدوقامت، ذہنی استعداد وغیرہ وغیرہ) پائے جاتے ہیں؛ لیکن یہ اپنے آپ میں ایک نوع ہے، اور اسے کسی اور نوع کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیئے۔

یہ کہ چوپائے بھی ایک ممیّز خاندان ہیں۔ اس خاندان میں تغیرات پائے جاتے ہیں (جیسے رنگ، حجم، کھانے کی ترجیحات وغیرہ وغیرہ؛ لیکن یہ اپنی ذات میں ایک خاندان ہے)۔

یہ کہ دیگر خاندان (پرندے، مچھلیاں، حشرات، خزندے وغیرہ) بھی کم یا زیادہ ممیّز ہیں۔ وہ ایک تسلسل میں پائے جاتے ہیں۔ وہ ایک ایسی زنجیر کی کڑیاں ہیں جو اعلیٰ حیوانات سے نیچے پیندے میں موجود انسان تک پھیلی ہوئی ہے۔ 

میرے کچھ تجربات خاصے متجسسانہ تھے۔ اپنے مطالعے کے دوران میرے سامنے ایک کیس آیا جس میں، کئی برس قبل، ہمارے عظیم میدانوں میں کچھ شکاریوں نے ایک انگریز ارل کی تفریح طبع کے لیے بھینسے کے شکار کا اہتمام کیا۔ انہوں نے بڑا دلکش کھیل پیش کیا۔ انہوں نے بہتر کی تعداد میں یہ عظیم حیوانات مار ڈالے؛ اور ان میں سے ایک کا کچھ حصہ کھا کر بقیہ اکہتر کو سڑنے کے لیے چھوڑ دیا۔ ایک ایناکونڈا اور ایک ارل (اگر ایسی کوئی چیز وجود رکھتی ہے تو) کے مابین فرق کا تعین کرنے کے لیے میں نے کئی ننھے بچھڑے ایک ایناکونڈا کے پنجرے میں ڈالے۔ اس ممنون خزندے نے فوری طور پر ان میں سے ایک کو کچل کر نگل لیا، اور پھر مطمئن ہو کر لیٹ گیا۔ اس نے بچھڑوں میں مزید کوئی دلچسپی ظاہر نہ کی، اور نہ انہیں نقصان پہنچانے کی جانب مائل ہوا۔ میں نے دیگر ایناکونڈا کے ساتھ یہی تجربہ سرانجام دیا؛ نتیجہ ہمیشہ یہی نکلا۔ اس سے ثابت ہوا کہ ایک ارل اور اینا کونڈا میں فرق یہ ہے کہ ارل ظالم ہے جبکہ ایناکونڈا ایسا نہیں؛ اور یہ کہ ارل کو جس کی ضرورت نہ ہو اسے خوامخواہ غارت کر دیتا ہے، لیکن ایناکونڈا ایسا نہیں کرتا۔ اس سے خیال پیدا ہوتا تھا کہ ایناکونڈا کا جدِ امجد ارل نہیں ہے۔ اس سے یہ خیال بھی پیدا ہوتا تھا کہ ارل کا جدِ امجد ایناکونڈا ہے، اور وہ اس وراثتی تبدیلی کے دوران بہت سے خصائل گنوا چکا ہے۔

میں باخبر ہوں کہ بہت سے انسانوں، جنہوں نے کروڑوں روپے کے اتنے انبار لگا لیے ہیں کہ تمام عمر خرچ کرنے سے بھی ختم نہ ہوں، نے مزید دولت کی سگ گزیدہ بھوک ظاہر کی ہے، اور جزوی طور پر یہ بھوک مٹانے کے لیے انہوں نے بے خبروں اور بے کسوں کی جمع پونجی لوٹنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ میں نے ایک سو مختلف اقسام کے جنگلی اور پالتو حیوانات کو کھانے کی بڑی مقداریں ذخیرہ کرنے کے مواقع فراہم کیے، لیکن ان میں کسی نے بھی ایسا نہ کیا۔ گلہریوں اور شہد کی مکھیوں اور کچھ پرندوں نے ذخائر جمع کیے، لیکن وہ بھی ایک سرما کے برابر ذخیرہ کر کے پیچھے ہٹ گئے، اور انہیں ایمانداری یا حیلے بازی، کسی بھی طریقے سے مزید کرنے پر مائل نہ کیا جا سکا۔ اپنی بری شہرت کو مزید تقویت دینے کے لیے چیونٹی نے ظاہر کیا کہ وہ رسد ذخیرہ کر رہی ہے، لیکن میں نے دھوکا نہ کھایا۔ میں چیونٹی کو جانتا ہوں۔ ان تجربات نے مجھے قائل کیا کہ انسان اور اعلیٰ حیوانات میں یہ فرق پایا جاتا ہے: انسان حریص اور بخیل ہے؛ وہ نہیں ہیں۔
اپنے تجربات کے دوران میں نے خود کو قائل کیا کہ حیوانات میں سے انسان اکلوتا حیوان ہے جو اہانتیں اور زخم اکٹھے کرتا ہے، انہیں سینچتا ہے، موقع ملنے کا انتظار کرتا ہے، اور پھر بدلہ لیتا ہے۔ اعلیٰ حیوانات بدلہ لینے کے جذبے سے آشنائی نہیں رکھتے۔

مرغ حرم رکھتے ہیں، لیکن یہ ان کی داشتاؤں کی اجازت کے ساتھ ہوتا ہے؛ اس لیے اس میں کوئی برائی نہیں۔ انسان حرم رکھتا ہے لیکن اس کے لیے وحشیانہ طاقت استعمال کرتا ہے، اور اسے خبیثانہ قوانین کی حمایت حاصل ہوتی ہے جن کے بنانے میں دوسری صنف کو کوئی اختیار حاصل نہیں ہوتا۔ اس طرح سے انسان مرغ سے بھی کہیں پست مقام پر جا فائز ہوتا ہے۔

بلیوں کا اخلاق کمزور ہوتا ہے، لیکن وہ بے خبری میں ایسا کرتی ہیں۔ آدمی بلیوں سے نسبِ وراثت کے حصول کے دوران ان کی کمزور اخلاقیات تو اپنے اندر لے آیا لیکن اس نے بے خبری کو پیچھے چھوڑ دیا (خاصیت جس کے باعث بلیاں قابلِ معافی قرار پاتی ہیں)۔  بلی معصوم ہے، انسان نہیں ہے۔

ابتذال، سفلہ پن، فحاشی عریانی (یہ بعینہ انسان تک محدود ہیں)؛ یہ اس نے ایجاد کیے۔ اعلٰی حیوانات میں ان کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ وہ کچھ نہیں چھپاتے؛ وہ شرمسار نہیں ہوتے۔ انسان، اپنے آلودہ دماغ کے ساتھ، خود کو ڈھانپتا ہے۔ وہ اپنا سینہ اور پُشت برہنہ چھوڑ کر کمرہ ملاقات میں بھی داخل نہ ہو گا، چنانچہ وہ اور اس کے رفقاء نازیبا مشورے سے اتنے حساس ہوتے ہیں۔ انسان ایک ایسا حیوان ہے جو قہقہہ لگاتا ہے۔ لیکن بندر بھی ایسا کرتا ہے، جیسا کہ مسٹر ڈارون نے اشارہ کیا؛ اور اسی طرح آسٹریلوی پرندہ، جسے قہقہہ لگاتا گدھا کہا جاتا ہے، بھی کرتا ہے۔ نہیں! آدمی ایک ایسا حیوان ہے جو شرم سے سرخ ہو جاتا ہے۔ وہ ایسا کرنے یا کرنے کا موقع پانے والا اکلوتا حیوان ہے۔

اس مضمون کے آغاز پر ہم نے دیکھا کہ چند دن قبل تین بھکشوؤں کو جلا کر مار دیا گیا، اور ایک مہمتمم کو سنگدلانہ اذیت پہنچا کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ کیا ہم تفصیلات میں جائیں؟ نہیں؛ یا کیا ہمیں سراغ لگانا چاہیے کہ مہمتمم کے اعضاء کی قطع برید کو اشاعتی الفاظ کی حد میں نہیں لایا جا سکتا۔ انسان (جب وہ شمالی امریکی انڈین ہو) اپنے قیدیوں کی آنکھیں نکال لیتا ہے؛ جب شاہ جان ہو تو بھتیجے کو بے ضرر بنانے کے لیے لوہے کی سرخ سلائیاں پھیر دیتا ہے؛ قرونِ وسطیٰ میں کافروں کے مقابل جوشیلا مذہبی ہو تو اپنے قیدی کی زندہ ہی کھال کھینچ کر پشت پر نمک چھڑک دیتا ہے؛ رچرڈ اول کے دور میں ہو تو کثیر تعداد میں یہودی خاندانوں کو ایک ٹاور میں بند کر کے آگ لگا دیتا ہے؛ کولمبس کے عہد میں ہو تو ہسپانوی یہودیوں کے ایک خاندان کو پکڑ لیتا ہے اور (لیکن یہ قابلِ اشاعت نہیں ہے؛ ہمارے زمانے کے انگلینڈ میں ایک آدمی کو دس شلنگ کا جرمانہ ہوا اور اس کا جرم صرف اپنی ماں کو کرسی کے ساتھ مار مار کر ادھ مُوا کر دینا تھا، اور ایک اور شخص کو چالیس شلنگ کا جرمانہ بھرنا پڑا کہ اس کے قبضے سے چکور کے چار انڈے برآمد ہوئے جن کے ذریعۂ حصول کے بارے میں وہ قابلِ اطمینان وضاحت پیش نہ کر سکا)۔ تمام حیوانات میں، صرف انسان ہی ظالم ہے۔ وہ اکلوتا حیوان ہے جو درد اس لیے دیتا ہے کہ اس سے لطف اندوز ہوا جا سکے۔ یہ ایک ایسی خاصیت ہے جو اعلیٰ حیوانات کے لیے اجنبی ہے۔ بلی خوفزدہ چوہے کے ساتھ کھیلتی ہے؛ لیکن اس کے پاس بہانہ ہے، کہ وہ نہیں جانتی کہ چوہا تکلیف میں ہے۔ بلی معتدل ہے (غیر انسانی طور پر معتدل: وہ چوہے کو صرف ڈراتی ہے، وہ اسے تکلیف نہیں پہنچاتی؛ وہ انسان کی طرح اس کی آنکھیں نہیں نکالتی، یا اس کی کھال نہیں کھینچتی، یا اس کے ناخنوں تلے لکڑی کی کھچیاں نہیں گھسیڑتی)؛ جب وہ چوہے سے کھیلنے سے اکتا جائے تو ایک ہی بار نوالہ بنا کر اسے تمام تکلیف سے نجات دلا دیتی ہے۔ انسان ظالم حیوان ہے۔ وہ اکیلا ہی اس امتیاز کا حامل ہے۔

اعلیٰ حیوانات انفرادی لڑائیوں میں ملوث ہوتے ہیں، لیکن کبھی منظم جتھوں میں یہ کام نہیں کرتے۔ انسان اکلوتا حیوان ہے جو خباثتوں کی خباثت، یعنی جنگ، میں ملوث ہوتا ہے۔ وہ اکلوتا حیوان ہے جو اپنے بھائی بندوں کو گرد جمع کرتا ہے اور سفاکی اور پرسکون دل کے ساتھ اپنی نوع کو نابود کرنے کے لیے نکل پڑتا ہے۔ وہ اکلوتا حیوان ہے جو فرومایہ اجرت کے بدلے جنگ پر نکل کھڑا ہو گا، جیسے ہمارے انقلاب میں کرائے کے جرمن سپاہیوں نے کیا، اور جیسے لڑکا نما شہزادہ نپولین نے زولو کی جنگ میں کیا، اور اپنی ہی نوع کے اجنبیوں کے قتلِ عام میں مدد فراہم کرے گا جنہوں نے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچایا اور جن کے ساتھ اس کا کوئی جھگڑا نہیں۔

انسان اکلوتا حیوان ہے جو اپنے بے کس ہم وطن کو لوٹ لیتا ہے -- اس کو قبضے میں لے لیتا ہے اور اسے ملکیت سے بے دخل کر دیتا ہے یا تباہ کر دیتا ہے۔ انسان نے ہر قرن میں ایسا کیا ہے۔ اس کُرے پر زمین کا ایک ایکڑ بھی ایسا نہیں ہے جو اپنے جائز حقدار کے قبضے میں ہو، یا جسے مالک در مالک، سلسلہ در سلسلہ، طاقت اور خون ریزی کے ذریعے ہتھیایا نہ گیا ہو۔

انسان اکلوتا غلام ہے۔ اور وہی اکلوتا حیوان بھی جو غلام بناتا ہے۔ وہ ہمیشہ کسی نہ کسی شکل میں غلام رہا ہے، اور ہمیشہ اس کی جبری بندش میں کسی نہ کسی انداز میں غلام موجود رہے ہیں۔ ہمارے دور میں وہ ہمیشہ اجرت کے لیے کسی نہ کسی انسان کا غلام ہوتا ہے، اور اس انسان کا کام کرتا ہے؛ اور اس غلام کے نیچے کم تر اجرت پر دیگر غلام ہوتے ہیں، اور وہ اِس کا کام کرتے ہیں۔ اعلٰی حیوانات اس حوالے سے خاص ہیں کہ وہ اپنے کام بذاتِ خود سرانجام دیتے ہیں اور اپنی روزی آپ کماتے ہیں۔

انسان اکلوتا محب وطن ہے۔ وہ خود کو اپنے ملک، اپنے ذاتی جھنڈے کے نیچے الگ تھلگ کر لیتا ہے اور پھر دوسری اقوام کا ٹھٹھہ اڑاتا ہے، اور بھاری اخراجات پر بے شمار وردی پوش قاتل تیار رکھتا ہے تاکہ دوسروں کے ممالک کے ٹکڑے ہتھیا سکے، اور انہیں اپنے ملک کے ساتھ ایسا کرنے سے باز رکھ سکے۔ اور مہمات کے درمیانی اوقات میں، وہ اپنے ہاتھ دھو کر خون صاف کر لیتا ہے اور منہ سے انسان کی عالمی اخوت کا درس دینے لگتا ہے۔

انسان مذہبی حیوان ہے۔ وہ اکلوتا مذہبی حیوان ہے۔ وہ اکلوتا مذہبی حیوان ہے جس کے پاس سچا مذہب ہے، کئی ایک سچے مذہب۔ وہ اکلوتا حیوان ہے جو اپنے پڑوسی سے اپنی ذات کی طرح محبت کرتا ہے، اور اگر اس کا عقیدہ درست نہ ہو تو اس کا گلا کاٹ دیتا ہے۔ اس نے خوشی اور جنت تک اپنے بھائی کا راستہ صاف کرنے کی مخلصانہ کوشش میں کرۂ ارض کو ایک قبرستان بنا دیا ہے۔ اس نے سیزر کے عہد میں ایسا کیا، اس نے عہدِ تفتیش میں ایسا کیا، اس نے فرانس میں دو صدیوں تک ایسا کیا، اس نے میری کے دور کے انگلینڈ میں ایسا کیا، وہ تب سے ایسا کر رہا ہے جب اس نے پہلی روشنی دیکھی تھی، اس نے آج کے کریٹ میں ایسا کیا (بمطابق اوپر پیش کردہ ٹیلی گرام) وہ مستقبل میں بھی کسی جگہ ایسا ہی کرے گا۔ اعلٰی حیوانات کا کوئی مذہب نہیں۔ اور ہمیں بتایا جاتا ہے کہ آخرت کی زندگی میں انہیں شامل نہیں کیا جائے گا۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ آخر کیوں؟ پسند کا یہ معیار قابلِ اعتراض سا معلوم ہوتا ہے۔

آدمی عقلی حیوان ہے۔ خیر دعویٰ تو یہی کیا جاتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس پر مباحثہ ہو سکتا ہے۔ درحقیقت، میرے تجربات نے مجھے بذریعہ ثبوت بتایا کہ وہ غیر عقلی حیوان ہے۔ اس کی تاریخ دیکھیں، جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا۔ مجھے تو صاف لگتا ہے کہ وہ جو کچھ بھی ہو کم از کم ایک عقلی حیوان نہیں ہے۔ اس کا ماضی ایک جنونی کا شاندار ماضی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کی ذہانت کے خلاف مضبوط ترین حقیقت یہ ہے کہ اپنے پیچھے ایسے ماضی کے باوجود وہ بڑی نرمی سے خود کو ان سب کا سربراہ حیوان مقرر کر لیتا ہے: جبکہ اپنے ہی معیارات کے مطابق وہ ارذل ترین حیوان ہے۔

حقیقت میں، انسان ایک ایسا احمق ہے جس کا علاج نہیں ہو سکتا۔ سادہ چیزیں جو دیگر حیوان باآسانی سیکھ لیتے ہیں، وہ انہیں سیکھنے کے قابل نہیں۔ میرے تجربات میں یہ پیش آیا۔ ایک گھنٹے میں مَیں نے ایک بلی اور کتے کو دوست رہنا سکھایا۔ میں نے انہیں ایک پنجرے میں ڈالا۔ اگلے گھنٹے میں مَیں نے انہیں خرگوش کے ساتھ دوستی سے رہنا سکھا دیا۔ دو دنوں کے دوران میں ایک لومڑی، ایک ہنس، ایک گلہری اور کچھ فاختاؤں کو شامل کرنے میں کامیاب رہا۔ آخر کار ایک بندر بھی شامل کر لیا۔ وہ پرامن -- بلکہ پیار بھرے -- انداز میں اکٹھے رہے۔

اس کے بعد، میں نے ایک پنجرے میں ٹپریری سے ایک آئرش کیتھولک کو محبوس کر دیا، جیسے ہی وہ سدھایا گیا تو میں نے ایبرڈین سے ایک اسکاچ پريسبيٹيريَن کو ساتھ ڈال دیا۔ بعد ازاں قسطنطنیہ سے ایک ترک؛ کریٹ سے ایک یونانی عیسائی؛ ایک آرمینیائی؛ آرکنساس کے جنگلات سے ایک میتھوڈسٹ؛ چین سے ایک بُودھ؛ بنارس سے ایک برہمن۔ آخر میں واپِنگ سے جیشِ نجات کا ایک کرنل ڈالا۔ پھر میں دو مکمل دن ان سے دور رہا۔ جب میں نتائج کے اندراج کے لیے واپس آیا، تو اعلیٰ حیوانات کا پنجرہ بالکل ٹھیک تھا، لیکن دوسرے پنجرے میں خونی فسادات اور پگڑیوں کے سِروں اور طرپوشوں اور اونی چادروں اور ہڈیوں اور ماس کے علاوہ کوئی زیرِ مطالعہ نمونہ باقی نہیں بچا تھا۔ یہ عقلی حیوانات ایک مذہبی مسئلے پر اختلاف کا شکار ہوئے تھے اور اس مسئلے کو ایک 'اعلٰی عدالت' میں لے گئے۔

فرد یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ کردار کے حقیقی غرور میں مبتلا انسان گھٹیا ترین اعلیٰ حیوانات تک پہنچنے کا دعویٰ بھی نہیں کر سکتا۔ یہ بالکل واضح ہے کہ وہ دستوری طور پر اس بلندی تک پہنچنے کے لیے معذور ہے؛ یہ کہ وہ دستوری طور پر ایک نقص کا شکار ہے جس کے باعث ایسی کوئی کوشش ہمیشہ کے لیے ناممکن ہو جانی چاہیئے، چونکہ یہ عیاں ہے کہ  اس میں یہ نقص مستقل، لازوال اور ناقابلِ انسداد ہے۔

میرے خیال میں یہ نقص حسِ اخلاق ہے۔ ایسی کوئی چیز رکھنے والا یہ اکلوتا حیوان ہے۔ یہ اس کی تنزلی کا راز ہے۔ یہ ایسی صفت ہے جو اسے غلط کرنے کے قابل کرتی ہے۔ اس کا اور کوئی منصب نہیں ہے۔ یہ کوئی اور فعل سرانجام دینے کے قابل ہی نہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا تھا کہ نفرت کا کوئی اور مقصد ہو۔ اس کے بغیر، انسان کچھ غلط نہیں کر سکتا تھا۔ وہ فوراً اعلیٰ حیوانات کے رتبے پر عروج کر جائے گا۔

چونکہ حسِ اخلاق کا صرف ایک ہی منصب ہے، اکلوتی اہلیت (یعنی انسان کو غلط کرنے کے قابل بنانا) یہ صریحاً اس کے لیے کسی قدر کی حامل نہیں۔ یہ اس کے لیے اتنی ہی بے قدر ہے جیسے کوئی بیماری ہو۔ درحقیقت، یہ اعلانیہ طور پر ایک بیماری ہے۔ باؤلا پن برا ہے، لیکن یہ اس بیماری جتنا برا نہیں۔ باؤلا پن انسان کو ایک کام کرنے کے قابل بناتا ہے، جو وہ صحت مند حالت میں کبھی نہ کرے: زہریلے دانتوں سے کاٹ کر اپنے پڑوسی کو مارنا۔ باؤلے پن کا شکار کوئی بھی انسان بہتر نہیں ہے: حسِ اخلاق انسان کو غلط کرنے کے قابل بناتی ہے۔ یہ اسے ہزاروں طریقوں سے غلط کرنے کے قابل بناتی ہے۔ باؤلا پن تو حسِ اخلاق کے مقابلے میں ایک معصوم بیماری ہے۔ تو پھر، حسِ اخلاق کا حامل کوئی بھی انسان بہتر انسان نہیں ہے۔ تو کیا آدم پر خدائی لعنت اس کی وجہ ہے؟ صاف طور پر یہ آغاز میں جو تھی: انسان پر حسِ اخلاق کا عذاب؛ اچھائی کو برائی سے ممتاز کرنے کی صلاحیت؛ اور اس کے ساتھ، لازماً، برائی کرنے کی صلاحیت؛ چونکہ مُرتکب میں برائی کے شعور کے بغیر کوئی برا فعل سرزد نہیں ہو سکتا۔

تو اس لیے میں نتیجہ نکالتا ہوں کہ ہم، کسی دُور پار کے جد سے (کوئی خردبینی ایٹم جو پانی کے ایک قطرے کے عظیم افقوں کے مابین اتفاقاً مزے لے رہا ہو گا) حشرہ در حشرہ، حیوان در حیوان، خزندہ در خزندہ، طویل راستے پر گندگی اور کم تر معصومیت پر اترتے رہے، یہاں تک کہ ہم ارتقاء کی ارذل ترین منزل پر آ پہنچے (جسے نسلِ انسانی کا نام دیا جا سکتا ہے)۔ ہم سے ارذل کچھ نہیں ہے۔

ہفتہ، 20 فروری، 2016

فیس بُک پر لائیکنے کے رہنما اُصول

0 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 4:04 PM ,
حضراتِ گرامی فیس بُک آج اُمت کی زندگی کا ایک اہم جزو بن چکی ہے۔ لاتعداد صالحین روزانہ اس میدان میں برسرِ عمل نظر آتے ہیں۔ فیس بک کی ان بے پایاں خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں ضرورت محسوس ہوئی کہ فیس بُک کے حوالے سے کچھ آداب وضع کر لیے جائیں۔ علماء کے ہاں لائیکنا فیس بُک کے اہم ترین اعمال میں شمار کیا گیا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمیں لائیکنے کے آداب اور اصول و مبادی پر کوئی خاطر خواہ تصنیف نہیں ملتی۔ اسی کمی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فدوی یہ مختصر رسالہ لکھ رہا ہے تاکہ عوام الناس کو فیس بک پر صراطِ مستقیم اپنانے کی تلقین ہو۔

1۔ مقدس ہستیوں سے منسوب اشیاء کی تصاویر کو لائیکنا فیس بُک کے فرائض میں شمار کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں کسی قسم کی تحقیق کی ضرورت محسوس نہ کی جائے۔ تصویر میں دئیے گئے تیر کے نشان کو فالو کرتے ہوئے لائیک کا بٹن دبایا جائے۔ بلکہ افضل یہ ہے کہ لائیکنے کے ساتھ ساتھ شیئرنے کا عمل بھی سرانجام دے کر شیطان کو شکست دی جائے جو ہمیشہ آپ کو ایسی تصویر شیئرنے سے روکے گا۔ امید ہے اس طرح مزید خیر و برکت حاصل ہو گی۔

2۔ ڈی پی اور کور فوٹو تبدیل ہوتے ساتھ ہی لائیک کرنا فیس بُک کے واجبات میں شمار کیا جائے گا۔ آپ کے فرینڈز آپ کے پڑوسی ہیں اور پڑوسیوں کا خیال رکھنا آپ کا فرض ہے۔ نیز چونکہ آپ اپنی ڈی پی کے لیے بھی ان کی جانب سے لائیکنے کی توقع رکھتے ہیں، اس لیے ان کے لیے بھی وہی چاہیں جو آپ اپنے لیے چاہتے ہیں۔ ڈی پی اور کور فوٹو فوراً لائیکنا افضل ہے تاہم مصروفیت کی وجہ سے چند گھنٹے تک کی تاخیر گوارا کی جا سکتی ہے۔ ڈی پی یا کور فوٹو پر جا کر تعریفی کمنٹس بھی افضل عمل شمار کیے جائیں گے۔

3۔ آپ کی فیڈ میں آنے والی تصویری اور عبارتی شاعری کو لائیکنا فیس بُک کے علماء کے نزدیک ایک مستحسن عمل خیال کیا گیا ہے۔ اس سے نہ صرف فرینڈز کی دلجوئی ہوتی ہے بلکہ انہیں مزید عملِ نیک کی توفیق بھی ملتی ہے۔

4۔ آپ کے فرینڈز میں اگر کوئی فیس بُکی رائٹر یا شاعر موجود ہیں تو ان کی طبع زاد پوسٹوں کو لائیکنا باعثِ فضیلت ہے۔ اس سلسلے میں ثقہ علماء نے لائیکنے کو نئے پودوں کو پانی دینے سے تشبیہ دی ہے۔ آپ کے لائیکنے سے یہ ننھے پودے کل تناور درخت بھی بن سکتے ہیں۔

5۔ اپنے فرقے/ گروہ/ قوم کی تعریف کرنے والی اور مخالفین کی ذاتیات پر حملہ کرنے والی پروپیگنڈہ تصاویر اور پوسٹس کو لائیکنا بھی فیس بُک کے افضل الاعمال میں سے ایک ہے۔ اس سلسلے میں ثقہ علماء نے شیئرنے کی بھی پرزور تاکید کی ہے۔

فیس بک کے حوالے سے یہ رسالہ ابھی زیرِ تکمیل ہے۔ ہماری دیگر علمائے فیس بُک سے بھی دردمندانہ اپیل ہے کہ وہ اس کارِ خیر میں حصہ ڈالیں اور اُمت کو فیس بُک پر صراطِ مستقیم دِکھا کر ثوابِ دارین حاصل کریں۔

اتوار، 14 فروری، 2016

افشائے حقیقت

1 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 1:52 PM ,
میں نے برقی آئینے میں خود کو دیکھا۔
قدیم داستانوں میں بیان کردہ دیوؤں سی بلند قامت۔۔
مقدس صحیفوں میں ذکر کردہ فرشتوں سی نورانی شباہت۔۔
میں بے اختیار خود کو تعظیم دینے کے لیے جھُکتا چلا گیا۔۔۔
جھُکا تو پتا چلا کہ میرا عکس تو 0 اور 1 کے مجموعے کے سِوا کچھ نہیں۔۔
میں جھُک کر اُٹھا تو میرے اردگرد میرے جیسے سات ارب اور نفوس آ موجود ہوئے۔
میں دیو سے بالشتیا ہو گیا۔۔۔
میں نے آسمان پر نگاہ دوڑائی تو اپنی دنیا جیسی اربوں دنیائیں چمکتی نظر آئیں۔
میں شرم سے زمین میں گڑ گیا۔۔۔
میری آنکھیں بھر آئیں۔۔۔
میں عظیم کے قدموں میں گِر پڑا۔۔۔
اے میرے مالک! عظمت اور بڑائی تیرا ہی شیوہ!
میں تیرا بندہ اور غلام۔۔ گھٹیا پن میرا پیشہ۔۔ 
تُو مجھ پر اپنا رحم ہی رکھیو۔۔
اے میرے مالک اس بھلکڑ، نیچ ذات، گھٹیا پر اپنا کرم ہی رکھیو۔۔۔

منگل، 9 فروری، 2016

چائے

0 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 2:23 AM ,
حضرات چائے کے فضائل کیا گنوائیں۔ سمجھ لیں کہ آسمانی تحفہ ہے جو خدا نے اپنی مخلوق کے غموں پریشانیوں کو کم کرنے کے لیے اتارا ہے۔ آپ عاشقِ صادق ہیں یا زوجہ کے ستائے ہوئے، دوست احباب یا اہلخانہ میں بیٹھے ہیں یا تنہائی سے شغل فرما، امتحان کی تیاری میں مصروف ہیں یا دفتر کے اضافی کام تلے دبے ہیں، ذہنی کام نے دماغ کی دہی بنا دی ہے یا جسمانی کام نے تھکا مارا ہے، صبح اٹھے ہیں تو بیڈ ٹی رات دیر تک جاگنا ہے تو نیند بھگانے کا تیر بہدف نسخہ؛ سردی، گرمی، خزاں، بہار کسی بھی موسم میں، رات، دن، سہ پہر، دوپہر کسی بھی وقت، گھر میں ٹی وی کے سامنے، بیٹھک، کھڑکی یا میز کے پیچھے، باہر فٹ پاتھ پر کرسی یا بینچ پر بیٹھے، دفتر میں فائلوں کے ہمراہ یا کسی میٹنگ میں مصروف، غرض ایک کپ چائے کہیں بھی آپ کی دنیا بدل سکتی ہے۔

دل جلانے کا من ہے تو دودھ کے بغیر پی لیں۔ دودھ کے ہمراہ دل جلانے کا شوق ہے تو کسی فٹ پاتھی چائے فروش سے مستریوں والی چائے کی فرمائش کر لیں۔ دودھ سے کچھ زیادہ رغبت ہے تو دودھ پتی کروا لیں۔ جاڑوں کی سردیلی صبح، نانی کے گھر میں لکڑی کے چولہے کے ساتھ بیٹھے گھر کی گائے/ بھینس کے دودھ اور گھر کے گُڑ کی بنی چائے پر تو دنیا جہان کی نعمتیں قربان کی جا سکتی ہیں۔ پستہ بادام سے شغف ہے تو کشمیری گلابی سبز چائے آپ کی خدمت کے لیے حاضر ہے۔ پشاوری قہوے اور لیموں کا جوڑ تو شاید ہی کہیں اور پایا جائے۔ یعنی جیسا موڈ ہو ویسی چائے اسے دوبالا کرنے کے لیے حاضر۔

 اور پھر چائے اکیلی ہی نہیں آتی، ساتھ طرح طرح کے لوازمات بھی دل لبھانے کو آ موجود ہوتے ہیں۔ بھوک لگی ہے تو چائے پراٹھا، اور اگر والدہ کے ہاتھ کا پکا پراٹھا چائے کے ساتھ مل جائے تو جناب اس کی قدر ہم جیسے پردیسیوں سے پوچھیں۔ توس، سادہ توس، انڈہ لگا توس، ٹوسٹر میں فرائی کردہ توس اور ساتھ ایک کپ چائے: لاجواب۔ ایک فرائی ہاف فرائی انڈہ، ابلا ہوا، ہاف بوائلڈ انڈا ایک چٹکی نمک اور کالی مرچ کے ساتھ چائے کے کپ کی چُسکیاں، سبحان اللہ۔ رس گلے، گلاب جامن اور برفی سے لدی ایک پلیٹ جب چائے کے کپ کے ساتھ گلے میں اترتی ہے تو اس کا مزہ کسی من و سلویٰ سے کیا کم ہو گا۔ اور رس یا بسکٹ چائے کی پیالی میں ڈبو کر کھانے اور پیالی میں ہی رہ جانے کی صورت میں پینے کا لطف بیان کرنے نہیں آزمانے کی چیز ہے۔ اور اگر میٹھا نہیں کھانا چاہتے تو نمکین چیزوں کے ساتھ بھی چائے کی بہت اچھی دوستی ہے: نمکو، سموسے، پکوڑے، چپس اور ساتھ ایک کپ چائے۔

تو صاحبو چائے کچھ ایسا عالمگیر مشروب ہے جو خال ہی کسی چیز کے ساتھ فِٹ نہ بیٹھتا ہوگا، کم ہی کسی صورتحال میں اجنبی محسوس ہوتا ہو گا اور کوئی بدنصیب ہی اسے چھوڑ کر کسی اور مشروب سے دل بہلانے کی آرزو کرتا ہو گا۔ کسی زمانے میں حکیموں کے ہاں ہی ملتی ہو گی ہمیں اس روایت سے انکار نہیں ، لیکن اب تو چائے ہر امیر غریب کی خوراک کا لازمی جزو ہے۔ دل جلانے، دل بہلانے، دل لگانے کے کام آتی ہے۔ وزیروں، مشیروں، شاعروں، ادیبوں، امراء، فقراء، علماء، ہر کسی میں مقبول یہ مشروب جسے ہم اردو میں چائے، انگریزی میں ٹی، پنجابی میں چاء اور جرمن میں ٹے بلاتے ہیں۔ اب اس کی تعریف اور کیا کریں کہ بس ایک کپ چائے نے کچھ ایسا دماغ چلایا کہ ہم نے ایک ڈیڑھ صفحہ اس کی مدح سرائی میں کالا کر ڈالا۔ تو صاحبو چائے پیئو، جیو اور خوش رہو۔

اتوار، 7 فروری، 2016

مسافر

0 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 11:14 PM ,
مسافر بنیادی طور پر ایک سیف پلیئر ہے۔ اپنی زندگی کے ساتھ کبھی رسک لینے کی حماقت کم ہی کرتا ہے۔ راستہ مشکل ہو جائے تو آسانی کا متلاشی ہوتا ہے۔ بند گلی مل جائے تو پیچھے مُڑ کر کوئی اور گلی لے لیتا ہے۔ ہمیشہ ایک سے زیادہ متبادل تیار رکھتا ہے اور ایک میں ناکام ہونے پر دوسرے متبادل کو اپنی منزل بنا لیتا ہے۔ اور پھر اس پر باقاعدگی سے فخر بھی کرتا ہے۔ مسافر نے آج سے چند برس قبل جب لاہور کا سفر شروع کیا تھا تو اس کی وجہ بھی ایک راستہ بند ہونے پر متبادل کو اپنی منزل بنا لینا تھا۔ آج کئی برس بعد بھی مسافر کا سفر جاری ہے۔

مسافر کی زندگی کو اگر کوئی کمپیوٹر گیم فرض کر لیا جائے، تو آپ باآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ وہ اسٹیج در اسٹیج اپنی زندگی کی اننگز کھیل رہا ہے۔ ایک اسٹیج ختم ہوتی ہے تو اگلی تیار کھڑی ہوتی ہے۔ اسی اور نوے کی دہائی میں آنے والی کمپیوٹر گیمز میں ہر اسٹیج کے آخر پر ایک باس /بلا آیا کرتی تھی جس سے نمٹے بغیر اگلی اسٹیج پر جانا ناممکن ہوا کرتا تھا۔ تو مسافر کی زندگی کی ہر اسٹیج بھی کچھ ایسی ہی بلاؤں سے پُر ہے۔ ہر اسٹیج کے آخر پر پچھلی اسٹیج سے زیادہ بڑی اور سخت بلا راستے روکے کھڑی ہوتی ہے۔ اور مسافر کو اپنی پتلی گلی سے نکل لینے والی طبیعت کے برعکس اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی کبھی تو ا س کی ٹانگوں تلے سے نکلنے کی جگہ مل جاتی ہے، اکثر البتہ ایسا نہیں ہوتا اور بلا سے مقابلہ کیے بغیر آگے جانا ناممکن ہوتا ہے۔ اپنی زندگی میں پار کردہ ہر اسٹیج ، اور ہر اسٹیج پر آنے والی بلا سے نپٹنے کے بعد ایک عرصے تک مسافر کو یہ گمان رہا کہ شاید اب والی اسٹیج آسان ہو گی۔ لیکن وقت نے مسافر کو سمجھا دیا ہے کہ آنے والی ہر اسٹیج پچھلی سے ایک درجہ زیادہ مشکل ہی ہو گی۔ اس لیے مسافر کے لیے یہ صورتحال چاہے کتنی بھی ناگوار کیوں نہ ہو، ایک حقیقت ہے۔

ایک دوسرے انداز میں دیکھیں تو مسافر کی زندگی گویا قسطوں میں چلنے والا ایک ڈرامہ ہے۔  فرق صرف اتنا ہے کہ اس ڈرامے کی قسطیں اتنی تیز رفتاری سے ایک کے بعد ایک آتی چلی جاتی ہیں کہ ان پر بیک وقت چلنے کا گمان ہوتا ہے۔ کمپیوٹر کی زبان میں اس چیز کو ملٹی ٹاسکنگ کا نام دیا جاتا ہے۔ مسافر کی زندگی بھی کچھ ایسی ہی ملٹی ٹاسکنگ کا مجموعہ ہے، جس میں مسافر مختلف پروگرامز میں مختلف کردار نبھا رہا ہو اور وہ سارے پروگرام بیک وقت کھُلے ہوئے ہوں۔ آسان لفظوں میں کہیں تو مسافر کی زندگی خانوں میں بٹی ہوئی ہے اور اس کے وجود کا ایک ایک ٹکڑا رئیل ٹائم (حقیقی وقت) میں اس خانے میں متعین زندگی کو بیک وقت گزار رہا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے کمپیوٹر کا پروسیسر بیک وقت کئی ایک تھریڈز ہینڈل کر رہا ہوتا ہے۔

اس انداز سے دیکھیں تو مسافر کی زندگی کے خانے کسی آئینے کے ٹوٹے ہوئے بے شمار ٹکڑے محسوس ہوتے ہیں جن کے سامنے کھڑا وجود اتنے ہی ٹکڑوں میں بٹ کر اُن میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ شاید کچھ لوگوں کی زندگی ایک مکمل اور بڑے آئینے جیسی بھی ہوتی ہو، کہ جس میں کوئی بال بھی نہ ہو اور انہیں اپنا آپ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں توڑ کر تقسیم بھی نہ کرنا پڑے۔ لیکن مسافر کے مشاہدے کے مطابق عموماً ایسا نہیں ہوتا۔ اکثر و بیشتر، یا کم از کم مسافر کے ساتھ تو یہی معاملہ ہے۔ مسافر کو ملٹی ٹاسکنگ یا ایک ہی وقت میں کئی خانوں میں بٹی زندگی گزارنے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ خانہ بندی اور تقسیم تنہائی کے چھوٹے چھوٹے لاتعداد فرنچائز کھول دیتی ہے۔ مسافر گویا لاتعداد کائناتوں کا تنہا باسی بن جاتا ہے، اور ہر کائنات میں اتنی ہی تنہائی اور خلاء موجود ہوتا ہے جیسا کہ حقیقی کائنات میں ہے۔ تو آپ تصور کر سکتے ہیں کہ اس عمل کے نتیجے میں مسافر کی زندگی اور شخصیت تو تقسیم در تقسیم سے گزرتی ہے، لیکن اس کی ازلی تنہائی ضرب در ضرب سے گزر کر رائی کا پہاڑ بن جاتی ہے۔

مسافر کی زندگی کا ایک خانہ کتاب سے جڑا ہے۔ کتاب سے مراد اہلِ علم والی کتاب نہیں، بلکہ سکول، کالج، یونیورسٹی والی کتاب جس کے پڑھنے کے بعد نوکری کا دروازہ کھُلتا ہے۔ اسی خانے سے جڑا ایک خانہ ایک مستقل کلاس روم ہے جہاں مسافر کی زندگی کی ہر اسٹیج پر موجود کلاس روم اکٹھا ہو کر ایک اچھی خاصی لمبی فلم بن جاتا ہے۔ نرسری اور کے جی ون، پرائمری، مڈل اور ہائی اسکول، کالج، یونیورسٹی اور ٹریننگ ، لینگوئج کورس غرض ایسے متعدد کلاس رومز ہیں جو مسافر کی زندگی کے اس خانے میں پائے جاتے ہیں۔ کبھی آپ اس خانے میں نظر ڈالیں تو مسافرکو ایک مریل سے بچے سے ایک تقریباً جوان ہو چکے وجود میں تبدیل ہوتا  دیکھ سکتے ہیں۔

مسافر کی زندگی کے یہ دو خانے ایک تیسرے خانے سے جڑے ہیں جس کا نام سفر ہے۔ مسافر، جیسا کہ اوپر صراحت کی جا چکی ہے، مشکلات سے بچ بچا کر ، چیلنجز سے نبرد آزما ہوئے بغیر ہی زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہے۔ سفر بھی مسافر کی نظر میں ایک مشکل صورتحال کا نام ہے جس سے ہر ممکن حد تک احتراز گویا ایک فرضِ عین ہے۔ لیکن ستم ظریفی کہ مسافر کے اپنے آسانی تلاش کرنے والے فیصلے ہی اس کے پیروں میں چکر کی وجہ بن جاتے ہیں ۔ اس لیے ہمیں اس خانے میں ایک لمبی بے ہنگم لکیر نظر آتی ہے۔ کبھی یہ لکیر دو نقاط کے درمیان شٹل کاک کی طرح چلتی ہے، کبھی کوئی تیسرا نقطہ بھی ساتھ آ لگتا ہے، کبھی نقاط کی تعداد بڑھ کر چار اور پھر پانچ ہو جاتی ہے۔ کبھی شٹل کاک کی آنیاں جانیاں ایک مختصر وقت کے لیے ہوتی ہیں اور کبھی عرصہ طویل ہو جاتا ہے۔ 

حسابی نقطہ نظر سے دیکھیں تو یہ تین خانے مسافر کی زندگی کے ایک بڑے حصے کی تشکیل کرتے ہیں۔ بظاہر ان خانوں میں مسافر ایک شوریلا بچہ نظر آتا ہے ، جو سب کچھ سمجھتے ہوئے بھی کچھ سمجھنے کو تیار نہیں ہوتا۔ پسِ پردہ البتہ کچھ اور معاملہ چلتا ہے۔ مسافر، جیسا کہ اس سے جڑی پچھلی تحریر سے پتاچلتا ہے، فطری طور پر ایک تنہا شخص ہے۔ گلاس کو آدھا خالی دیکھنے کا عادی، تنہائی اور اندھیرے میں تلخی کے باوجود سکون محسوس کرنے والا ایک ایسا وجود جو ان ساری کیفیات سے بیک وقت لوْ ہیٹ کا تعلق رکھتا ہے۔ ایک ایسی عمارت جس کے سامنے والے پورشن میں چاہے ہر وقت بینڈ باجے والے اترے رہتے ہوں، لیکن سب سے پچھلے کمرے میں اندھیرا ہی رہتا ہے۔ مسافر کی دوہری زندگی بھی کچھ ایسی ہی ہے، سرد و گرم اور پرسکون و متلاطم جیسی متضاد کیفیات سے عبارت ،لیکن مسافر اس پر اندر ہی اندر فخر و غرور جیسے جذبات بھی رکھتا ہے۔ ہاں البتہ اس کی وجہ سے مسافر خود بھی لاعلم ہے۔ شاید مسافر کو جاننے والے اس پر کچھ روشنی ڈال سکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

احباب آسانی کے لیے اسے آج سے تین برس قبل لکھی گئی تحریر موٹروے کا تقریباً سیکوئل سمجھ سکتے ہیں۔ اس وقت موٹروے تھی، آج جرمنی کی بے کراں وُسعتیں مجھے اپنی آغوش میں لیتی ہیں تو کچھ ویسی کیفیات لوٹ آئیں جنہیں کاغذ پر اتار دیا۔

سیرت النبی ﷺ اور غیر مسلم سیرت نگار

0 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 4:13 PM ,
نبی کریم ﷺ کی ذاتِ والا صفات سے محبت اور نسبت ہر مسلمان کے ایمان کا جزو ہے۔ بڑے بڑے صاحبِ ایمان اور بزرگ ترین لوگ تو ان ﷺ سے عشق کا دعویٰ کرتے ہیں، میرے جیسے نیچ ذات بھی ان ﷺ کے قدموں کی خاک بننے کے تمنائی ہوتے ہیں۔ ہمارے لیے نبی سائیں ﷺ کا وجود سیاہ رات میں چودھویں کے چاند جیسا ہے۔ وہ ﷺ ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ انسانوں میں ان ﷺ سے بلند مرتبہ کسی کا نہ ہوا اور نہ ہو گا۔ ان ﷺ کی ذات کی نسبت سے ہماری نسبت اللہ سائیں کے ساتھ طے ہوتی ہے۔ وہ ﷺ کہتے ہیں کہ رب ایک ہے تو ہم مانتے ہیں کہ رب ایک ہے۔ وہ ﷺ کہتے ہیں کہ رب یہ فرماتا ہے تو ہم مانتے ہیں کہ رب یہ فرماتا ہے۔ ہم اللہ کو رب اس لیے مانتے ہیں کہ محمد الرسول اللہ ﷺ نے ایسا کہا۔ وہ ہمارے سالارِ قافلہ ہیں، ان ﷺ کا کہا ہمارا جزوِ ایمان۔ انہوں ﷺ  نے کہا کہ قرآن اللہ کا کلام ہے تو ہم مانتے ہیں کہ قرآن اللہ ہی کا کلام ہے۔

محمد الرسول اللہ ﷺ کی سیرت لکھنے کا باسعادت کام بہت سے علماء نے سرانجام دیا۔ اور آج بھی یہ کام جاری و ساری ہے۔ ان ﷺ کے زندگی کو پڑھنا، ان کے حالات کو جاننا ہمیں ان ﷺ کی پیروی کرنے، ان جیسا بننے کی کوشش کرنے میں مدد دیتا ہے۔ سیرت الرسول ﷺ ایسا بابرکت شعبہ ہے کہ اسلامی تواریخ میں باقاعدہ ایک اہم ترین صنف بن کر ابھرا۔ لیکن سیرت الرسول ﷺ پر صرف مسلم علماء نے ہی نہیں، غیر مسلموں نے بھی بے تحاشا کام کیا۔ بحیثیت قاری میں نے سیرت النبی ﷺ کی ایک آدھ کتاب کا ہی مطالعہ کیا ہو گا۔ لیکن اپنے مشاہدے اور کتب سیرت بارے مطالعہ سے یہ بات ضرور جانتا ہوں کہ مسلمان مصنفین سیرت النبی ﷺ لکھتے ہوئے ایک خاص تقدس اور احترام ملحوظِ خاطر رکھتے ہیں۔ ان کا یہ طرزِ عمل عین درست ہے چونکہ انہوں نے جن قارئین کے لیے یہ لکھنا ہے وہ بھی حبِ رسول ﷺ کے دعوے دار ہوتے ہیں۔ میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ نبی ﷺ کو جاننا ہو تو کسی نسبتاً دیانت دار اور غیر جانبدار مستشرق کی لکھی ہوئی سیرت بھی پڑھی جائے۔ چونکہ ایسا مصنف ایک مختلف پسِ منظر سے آتا ہے، وہ نبی کریم ﷺ کی ذات کو اپنے مذہبی، سماجی اور ثقافتی آئینے میں دیکھتا ہے، اپنی تہذیب اور روایات کی روشنی میں پرکھتا ہے، اس طرح ہمارے سامنے نبی ﷺ کی ذات کے وہ پہلو بھی سامنے آتے ہیں جو مسلم مصنفین عقیدت و احترام اور مانوسیت کی وجہ سے نظر انداز کر جاتے ہیں۔ نبی ﷺ کی ذات والا صفات بارے کسی غیر مسلم کی تحریر ہمیشہ مجھے کشش کرتی ہے۔ جب کوئی ایسا مصنف چاہے ان ﷺ کو نبی اور رسول نہ بھی مانے، لیکن جب وہ ان ﷺ کے کردار، اخلاق اور اعلٰی انسانی صفات کا اقرار کرتا ہے تو اس سے میرا ایمان ان ﷺ کی ذات پر اور بڑھ جاتا ہے کہ وہ واقعی بہترین اخلاق کے مالک تھے۔

میں اپنے قارئین سے بھی درخواست کروں گا کہ نبی ﷺ کی سیرت پڑھنی ہو تو کم از کم کسی ایک غیر مسلم مصنف کی سیرت ضرور پڑھیں۔ ہاں یہ خیال کر لیں کہ مصنف مناسب حد تک دیانت دارانہ رائے دینے کے لیے معروف ہے، چونکہ بعض مستشرقین انتہائی منفی رجحان بھی رکھتے ہیں۔ اس سے فائدہ ہو گا کہ ہمارے علماء اور مصنفین کی تحریر کردہ کتب سیرت سے جو مانوسیت اور تقدس کا ہالا بن جاتا ہے، اس کے پار ایک تیسری آنکھ سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اور کچھ ایسے پہلو سامنے آتے ہیں جن سے نبی ﷺ کو بطور انسان جاننے میں کچھ مدد ملتی ہے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر حمید اللہ کی کتب جو انہوں نے غیر مسلموں سے نبی ﷺ کا تعارف کروانے کے لیے لکھیں بھی قابلِ توجہ ہیں۔ اگرچہ مجھے ان میں سے کوئی بھی کتاب پڑھنے کا اتفاق نہیں ہوا، لیکن ڈاکٹر صاحب نے ایک داعی کے نقطہ نظر سے وہ کتب لکھیں، اس لیے ان کے قارئین غیر مسلم تھے۔ چنانچہ ان سے ہمیں نبی ﷺ کو ایک اور انداز میں جاننے کا موقع مل سکتا ہے۔ اسی حوالے سے ایک برطانوی یہودی مصنفہ لیزلی ہیزلیٹن کی سیرت النبی ﷺ پر کتاب دی فرسٹ مسلم بھی قابلِ توجہ ہے۔ مصنفہ معقول حد تک غیر جانبداری سے نبی ﷺ کی زندگی کے واقعات بیان کرتی ہے۔ اور آج کل مجھے اس کتاب کا اردو ترجمہ 'اول المسلمین' ایک دوست بلاگر برادرم عمر احمد بنگش کے توسط سے پڑھنے کو مل رہا ہے۔ ماشاءاللہ ان کی ترجمے کی صلاحیتیں بھی قابلِ داد ہیں، لیکن اصل خوشی یہ ہو رہی ہے کہ ایک غیر مسلم مصنفہ بھی نبی ﷺ پر لکھے تو ان کے اعلٰی کردار اور اخلاق کی تعریف پر خود کو مجبور پاتی ہے۔ نیز اس کا اندازِ تحریر، جو یقیناً ہمارے ہاں لکھی گئی کتب سیرت سے قطعاً مختلف نوعیت کا ہے، مجھے نبی ﷺ اور اس وقت کے عرب سماج کو سمجھنے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ اس کے لیے میں مصنفہ اور مترجم ہر دو کا شکر گزار ہوں۔ آپ احباب سے بھی گزارش ہے کہ نبی ﷺ کی سیرت ویسے تو ہمارے نصاب کا لازمی حصہ ہے، لیکن خود بھی دو تین کتب سیرت ضرور پڑھیں۔ اور ان میں سے کم از کم ایک کسی غیر مسلم مصنف کی تحریر کردہ ہو تاکہ آپ کو نبی ﷺ کے کردار، اعلٰی اخلاق اور بحیثیت انسان ان کی عظمت کا احساس ایک اور نقطہ نظر سے بھی ہو سکے۔