ہفتہ، 25 نومبر، 2006

ونڈوز کی دوبارہ تنصیب اور بلاگ کا حلیہ

کل ہم نے اپنی ونڈوز دوبارہ نصب کی۔ اس کے بعد جب بلاگ دیکھا تو اس کا حلیہ ہی بگڑا ہوا تھا۔ ہم نے تو سوچا کہ شاکر میاں گئے کام سے فری ہوسٹ پر بلاگ بنانے کا مزہ چکھو اب بے اختیار وہاب اعجاز خاں کے بنوں فورم کا خیال آیا۔
لیکن اللہ کا شکر ہے یہ سب پاک نستعلیق کی سپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے تھا۔ ایک ہماری ہارڈڈسک مسئلہ کررہی ہے دوسرے ونڈوز کا ورژن بھی اس بار لگتا ہے پرانا ہے جس کی وجہ سے یہ مسئلہ ہوا۔
اب دوبارہ سے بلاگ کا تھیم ٹھیک کرکے فعال کیا ہے دعا کیجیے گا کہ ہمارا بلاگ اور ہماری ہارڈ اب ٹھیک چلتی رہے۔
اس کے پارٹیشن ٹیبل میں کبھی کبھی موڈ ہو تو مسئلہ آجاتا ہے جس کے بعد یہ بوٹ ہونے سے بھی انکار کردیتی ہے۔ ہماری بدقسمتی کے ہم نے ونڈوز پر لینکس پر نصب کردیا جس نے ایک پارٹیشن کا لیٹر ہی خراب کردیا۔ 4 بار چلنے کے بعد لینکس تو بوٹ ہونے سے بھی گیا اور ہم نے کل پارٹینش اڑا کر ونڈوز دوبارہ کردی۔ جس نے ہمیں اچھا بھلا وخت ڈالے رکھا۔
شکر ہے اب سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے۔اسی میں ہمارا لینکس پر نیٹ‌چلانے کا خواب ، خواب ہی بن گیا ہے۔ اب دوبارہ ایک کوشش فرماتے ہیں لینکس نصب کرنے کی اگر اب ہارڈ ڈسک کے نازک مزاج کو تاؤ نہ آگیاتو۔

سوموار، 20 نومبر، 2006

الحمد للہ ہماری نیٹ کیبل لگ گئی

آج مورخہ بیس نومبر کو ہماری دوسری نیٹ کیبل لگ گئی ہے۔ اور اللہ کا شکر ہے کہ ونڈوز پر تو سب ٹھیک چل رہا ہے اور اس نے لینکس پر بھی چلانے کے لیے مدد دینے کا وعدہ کیا ہے۔اللہ کرے وہ اپنا وعدہ پورا کرے۔
دعاؤں میں یاد رکھیے گا ۔
وسلام

ہفتہ، 18 نومبر، 2006

ہمارا پیشہ

آج کل ہم سٹوڈنٹس کے ازلی پیشے بلکہ پاکستانی پیشے یعنی ٹیوشن پڑھانے سے منسلک ہیں۔ ہم نے طالب علم اس لیے نہیں کہا کہ طالب علم پڑھاتا نہیں پڑھتا ہے اور اگر پڑھائے بھی تو معاوضے میں پیسے نہیں لیتا۔ لیکن ہماری مجبوری کہیں، فیشن کہیں ٹرینڈ کہیں کچھ بھی کہہ لیں کہ یہ پیشہ آج کل ہر سٹوڈنٹ اختیار کررہا ہے۔ا س کا جیب خرچ بھی نکل آتا ہے اور گھر والوں سے بے کاری کے طعنے بھی نہیں ملتے اور ساتھ ساتھ جو بھول چکے ہوں وہ دوبارہ یاد آتا چلا جاتا ہے۔
کہتے ہیں استاد کو دوبار پڑھنا پڑتا ہے ایک بار خود سمجھنے کے لیے اور دوسرے سمجھانے کے لیے۔ ہم جیسوں کو تین بار پڑھنا پڑتا ہے۔ ایک بار پچھلا یاد کرنے کے لیے ۔ پھر سمجھنے کے لیے اور پھر سمجھانے کے لیے۔ ویسے آپس کی بات بتاؤں یہاں سمجھاتا کوئی بھی نہیں بس پڑھاتے ہیں اور کہتے ہیں بیٹا یاد کر آنا۔ اگر بیٹے کو سمجھانے بھی بیٹھ جائیں تو ان کا انداز بتارہا ہوتا ہے پاگل ای اوئے۔
بڑا شہنشاہی پیشہ ہے۔ سوٹڈ بوٹڈ ہوکر جاؤ ڈیڑھ سے دو گھنٹے پڑھاؤ اور واپس گھر۔ اس کے معاوضے میں ایک ہینڈسم سی رقم آپ کے ہاتھ میں مہینے بعد آجاتی ہے۔ ہر سکول کے ریٹ مقرر ہیں بچہ جتنے بڑے سکول کا ہوگا اس کی فیس اتنی ہی زیادہ ہوگی ۔ جتنی بڑی کلاس ہوگی فیس اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ اور اکثر ہوتا کیا ہے پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی ہی انگریزی میڈیم کتابیں پڑھانا ہوتی ہیں۔
کبھی سنا کرتے تھے کہ بیکن ہاؤس کے بچوں کو ہوم ٹیوشن پڑھانا بہت مشکل ہے اس کے لیے پہلے خود ان کی کتابیں ٹیوشن رکھ کر پڑھنا پڑتی ہیں۔ ہمارے ساتھ ابھی تک تو بیکن ہاؤس کا واہ نہیں پڑا۔ ہمیں تو بس اتنا کرنا پڑا کہ جس کلاس کا پڑھانا ہوتا اس کی کتابیں خرید لاتے اور ایک بار دوہرائی کرکے اللہ تیری یاری۔
ٹیوشن خصوصًا ہوم ٹیوشن اپر کلاس اور اپر مڈل کلاس میں فیشن سا بن گیا ہے۔ بچے کو امتحانوں کے قریب لازمی ٹیوشن رکھوا دی جاتی ہے۔ اور مڈل کلاس یعنی درمیانے طبقے کی تو مجبوری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اکیڈمی بھیجیں۔ چونکہ سکول میں ٹھیک طرح پڑھائی نہیں ہوتی اس لیے ٹیوشن لازمی ہوتی ہے۔
ہم نے اب تک جو تجربہ حاصل کیا اور جو کچھ اس میں دیکھا ہے وہ یہ ہے کہ انگریزی ہمارا مسئلہ ہے۔ مثلاً ہمارا ایک سٹوڈنٹ جو انگریزی میڈیم میں نویں میں پڑھتا ہے۔ اس کا بڑا مسئلہ ہی انگریزی میں یاد کرنا ہے۔ کہتا ہے سر ترجمہ کردیں۔ 5 سے 7 لائنوں کا ایک پیرا بڑی مشکل سے یاد کرپاتا ہے۔ اس دن کہہ رہا تھا کہ سر پاکستان سڈیز کا کس طرح یاد کروں ( وہ بھی انگلش میں ہے)۔ میں نے کہا کیا اردو میں‌ رکھنے کی اجازت نہیں وہاں تو بولا کچھ لڑکوں نے رکھی ہے لیکن ان کے والدین نے بہت منت سماجت کے بعد رکھوائی ہے جبکہ ابو کہتے ہیں کہ اب انگریزی پڑھ لو گے تو آگے آسان ہوجائے گا۔
آسان تو جو ہوگا سو ہوگا مجھے شک ہے کہ اس بچے کے میٹرک میں سائنس میں داخلہ لینے کے قابل نمبر بھی آجائیں گے یا نہیں۔
دوسری جگہ ایک اکیڈمی ہے جہاں مابدولت بطور سر تعینات ہیں۔ نویں اور دسویں کے بچے جو درمیانے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں وہاں آتے ہیں۔ سارے اردو میڈیم لیکن ان کا مسئلہ بھی انگریزی ہے۔ اللہ ان کو ہدایت دے ان کا بس چلے تو اردو کے “ہے“ کی جگہ بھی انگریزی کا is اردو میں ایز کرکے لکھا کریں۔ ہر چیز انگریزی میں کردی گئی ہے۔ عمل تنفس کو ریسپیریشن لکھا ہوا ہے۔ وہ تو شکر ہے کہ بریکٹ میں‌ اس کی اردو لکھی ہوئی تھی ورنہ ہم خود سوچ میں‌پڑ گئے کہ یہ الٹا سا کیا لکھا ہوا ہے۔
چونکہ ہم پہلے کچھ انگریزی میڈیم بچوں کو پڑھا چکے ہیں اس لیے ہمارے منہ سے جمع تفریق کی بجائے ایڈ اور سبٹریکٹ نکلتا ہے جس کی وجہ سے اکیڈمی میں‌بچے اکثر ٹوک دیتے ہیں سر جی اردو میں بولیں۔
سر کا کیا ہے انھیں تو جو کچھ پڑھانے کو ملے گا وہ پڑھا لیں گے چاہے اردو ہو یا انگریزی۔ بات تو ان معصوموں کی ہے جن کو ابھی انگریزی کے بنیادی قواعد بھی نہیں آتے اور ان پر سائنس کے نام پر انگریزی ٹھونک دی گئی ہے۔ ہم تو اس سٹیج پر پہنچ چکے ہیں جہاں پر اردو انگریزی بے معنی ہوجاتی ہے چونکہ بات سمجھ اور تصور یعنی کونسیپٹ کی ہوتی ہے۔
لیکن ان بے چاروں کے لیے ایک ہی راستہ ہے کہ اس انگریزی نما اردو کو رٹا لگائیں اور نمبر لیں۔ پھر ہمارے ارباب اقتدار و اختیار روتے ہیں کہ ملک ترقی نہیں‌ کررہا تعلیم عام نہیں‌ ہورہی۔ لیکن یہی لوگ ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں‌بیٹھ کر پالیسیاں بناتے ہیں‌جو نئی پود کا بیڑہ غرق کرتی جارہی ہیں۔
کیسی ستم ظریفی ہے کہ ہم سوچتے پنجابی، پشتو، سندھی بلوچی یا اردو میں ہیں۔ سکول میں بولتے اردو اور پڑھتے انگریزی میں‌ہیں۔ ہمارے بچوں کی دماغی صلاحیتیں انھی میں صرف ہوجاتی ہیں۔ بے شک یہ حقیقت ہے کہ ایک سے زیادہ زبانیں صلاحیتوں کو جلا بخشتی ہیں لیکن زبانیں بھی آسان ہوں اردو اور علاقائی زبانوں کا تعلق اور ناتہ بہت گہرا ہے۔ لیکن انگریزی تو ان سب کی سوتیلی ہے جس کی ہر چیز مختلف ہے اب بچہ اسے کس طرح ان کےساتھ ملائے۔
اسی انگریزی کی وجہ سے پاکستان میں ٹیوشنوں کا رواج اتنا جڑ پکڑ چکا ہے کہ ایک ٹیوشن مافیا وجود میں آچکی ہے۔ جگہ جگہ اکیڈمیاں بنی ہوئی ہیں۔ میرے جیسے لاکھوں اس روزگار سے وابستہ ہیں۔ باقاعدہ ہوم ٹیوشن نیٹ ورک بنے ہوئے ہیں جو اپنی تشہیر کرتے ہیں اور لوگ ان سے رابطہ کرکے ٹیوٹر مانگتے ہیں۔خاص طور پر ستمبر سے مارچ تک ٹیوشن کا بہت زیادہ زور ہوتا ہے۔ ہر کسی نے اپنا کورس مکمل کرنا ہوتا ہے اس لیے میرے جیسے نتھو پھتو بھی موج میں‌ہوتے ہیں۔
بھلا یہ کسی اور پیشے میں ممکن ہے کہ صرف 4 سے 5 گھنٹے کام کرکے 5 ہزار کے اریب قریب کما لیا جائے؟؟
کم از پاکستان میں تو ایسا ممکن نہیں۔میں‌اگر اپنے بی کام کے بل پر نوکری تلاش کروں تو کسی مل فیکٹری میں مجھے زیادہ سے زیادہ 4 ہزار پر آٹھ گھنٹے کی نوکری مل سکے گی اور وہ بھی ایسے کہ جانے کا پتہ واپس آنے کا نہیں۔ کب چھٹی ہو، کوئی شپمنٹ جانی ہو تو سٹاف کو روک لیا جائے یا حساب کتاب کرتے ہوئے کوئی انٹری مس ہورہی ہو تو چاہے آدھی رات ہوجائے۔
تو میں کیوں نہ ٹیوشنیں ہی پڑھاؤں۔ بلکہ اب تو میں اسے سنجیدگی سے بطور پیشہ اپنانے پر غور کررہا ہوں کیا ہے جو سال کے 3 یا 4 ماہ مندی کے ہوتے ہیں باقی دن تو موج ہوتی ہے نا۔
جب تک اوپر ایسے لوگ بیٹھے ہیں، جب تک ایسی پالیسیاں بنتی ہیں تب تک اس قوم کی حالت نہیں بدلے گی، تب تک یہ معصوم بچے پہلے سکول اور پھر ٹیوشن کے لیے دن میں آٹھ گھنٹے ذلیل ہوتے پھریں گے اور تب تک میرے جیسے ان کو پڑھا کر اپنا پیٹ بھرتے رہیں گے۔
کاش ۔۔۔۔اے کاش کہ اس قوم پر کوئی مسیحا اترے۔
کاش ہم میں‌اتنی جرات اور غیرت آجائے کہ اپنی حالت سنوار سکیں۔
وسلام

جمعہ، 17 نومبر، 2006

پاک نستعلیق بیٹا ورژن

ماشاءاللہ اور الحمد اللہ کہ پاک نستعلیق کا بیٹا ورژن منظر عام پر آچکا ہے۔ اگرچہ رات ہمیں دھچکا نہیں دھچکے لگے جب اتفاق سے ہی ایک بہت ہی غیر معروف سائٹ سے ہمیں اس کے آنے کی اطلاع ملی۔ ہم اچھے بھلے جذباتی ہوگئے جیسا کہ ہماری عمومی و قومی عادت ہے کہ حجازی صاحب نے ہمیں مطلع کرنا ہی ضروری نہیں سمجھا وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اب ہمیں احساس ہورہا ہے کہ وہ بے چارے جانے کن کن مصروفیتوں میں‌ جکڑے ہوئے ہونگے۔ بہرحال ان کی مہربانی پورے سال بھر کے انتظار کے بعد پاک نستعلیق آج ہمارے سامنے ہے۔ اس کا بیٹا ورژن فی الحال جاری کیا گیا ہے امید ہے چند ہی ماہ میں ٹھیک ورژن بھی جاری کردیا جائے گا۔ ہم سے البتہ صبر نہیں ہوسکا اور ہم اعلان کرتے ہیں کہ آئندہ سے ہمارا بلاگ نستعلیق خط پر مشتمل ہوگا۔ اس لیے ہمارے قارئین اور احباب جو ہمارا بلاگ پڑھتے ہیں براہ کرم پاک نستعلیق کا بیٹا ورژن اپنے کمپیوٹروں میں نصب کرلیں۔ ہم نے اپنے بلاگ پر اسے فعال کردیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارے قارئین اگر ہمیں اس کی خامیوں سے بھی آگاہ کریں تو بہت ہی مناسب بات ہوگی تاکہ ان کو محسن حجازی صاحب جو اس فونٹ کے خالق ہیں کو پیش کیا جاسکے یہ آپ سب بشمول مابدولت کا احسان ہوگا اردو پر۔ باالخصوص پاکستان سے وہ دوست جو ڈائل اپ سے آتے ہیں اور پی ٹو وغیرہ پی سی رکھتے ہیں ضرور اطلاع دیں کہ صفحہ کھلنے میں عمومًا سے کتنی دیر زیادہ لیتا ہے۔ کہیں کوئی الفاظ ٹوٹے تو نظر نہیں آتے۔ سائز مناسب ہے یا مزید بڑا کیا جائے۔ ذاتی طور پر ہمیں جو خامیاں محسوس ہوئیں ان میں نمبر ایک تو فونٹ کو ہِنٹنگ کی شدید ضرورت ہے اس کی وجہ سے ہمیں اپنے بلاگ میں فونٹ سائز 12 سے 14 کرنا پڑا ہے۔ دوسری چیز اس کی انگریزی سپورٹ ہے انگریزی کے سارے الفاظ کو یہ ایک دوسرے سے ملا دیتا ہے کہ لمبا سا ایک ہی لفظ بن جاتا ہے۔ You can see this example. یار زندہ صحبت باقی۔ پھر ملیں گے۔ اور ہمیں ایک اور بہت خوشی ہے کہ اردو برادری میں ہم نے ہی سب سے پہلے اپنی ویب سائٹ/بلاگ پر پاک نستعلیق کو فعال کیا ہے۔ اللہ اردو کو مزید ترقی دے۔ وسلام

جمعرات، 16 نومبر، 2006

ہماری ممکنہ غیر حاضری

کل رات ہم اپنے کیبل نیٹ والے سے اپنے تمام تعلقات توڑنے کا اعلان کرچکےہیں۔
وجہ بہت پرانی تھی۔ ہم کہتے تھے کہ لینکس پر انٹرنیٹ کو فعال کرو لیکن وہ کہتا تھا ایسا کروں تو دوسرے صارفین کو پریشانی ہوگی۔ کبھی کہتا کہ میں نے کبھی یہ کیا ہی نہیں۔
غرضیکہ مختلف بہانوں سے تنگ آکر ہم نے کل اسے بالآخر وہ دھمکی دے دی کہ اگر وہ ہماری ضرورت پوری نہیں کرسکتا تو ہم کیبل نیٹ بدل لیتے ہیں۔ چناچہ اس کے مکرر انکار کے بعد ہم نے کیبل نیٹ والا بدلنے کا فیصلہ کرلیا ہے جو ہمیں لینکس پر بھی انٹرنیٹ کی مکمل فراہمی کا یقین دلا رہا ہے۔
سو رات ہم نے اسے نوٹس دے دیا کہ ہمارا آپ کا تعلق ختم اس حساب سے اس وقت ہمارا آئی پی اس کے نیٹ‌ ورک پر بلاک ہونا چاہیے تھا لیکن ایسا کرنا شاید اسے یاد نہیں رہا اور ہم نے بھی اسے غنیمت جانتے ہوئے یہ اطلاع دینا ضروری سمجھی۔
اگلے چند دنوں تک شاید ایک ہفتے تک اور شاید اگلے ماہ تک ہم آنلائن نہ آسکیں کہ نئی کیبل لگوانی ہے۔
دعا کیجیے گا کہ یہ کام جلد ہوجائے اور اس کی خدمات ہماری ضروریات کو پورا کردیں۔
اپنا خیال رکھیے گا۔
وسلام

اتوار، 12 نومبر، 2006

میرے شہر کی ترقی

ہمارے ہاں بھی ٹرینڈز ہوا کرتے ہیں۔ آج کل چونکہ ترقی کا دور دورہ ہے۔ ہر طرف ملک کی ترقی کے نعرے لگ رہے ہیں اس صورت حال میں میرے شہر کی ضلعی انتظامیہ بھی پیچھے نہیں رہی۔ انھوں نے بھی دھڑا دھڑ ترقیاتی کام شروع کررکھے ہیں۔
جس طرف دیکھیں سڑکیں بن رہی ہیں۔ ہر جگہ پتھر کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ ایک سڑک بنتی ہے تو دو بننا شروع ہوجاتی ہیں اور اب یہ حال ہوگیا ہے کہ دس دس سال جن سڑکوں کو کوئی پوچھتا نہیں تھا ان دو تین سالوں میں کئی کئی بار بن چکی ہیں۔
خدا جھوٹ نہ بلوائے میرے محلے کی ایک گلی اس عرصے میں کوئی 4 بار بن چکی ہے۔ ہر آٹھ دس ماہ میں کہیں سے ٹھیکیدار نمودار ہوجاتے ہیں۔ ایک جگہ مٹی کھود کر اپنا تارکول گرم کرنے کا کڑھاؤ اور دوسرا ساز وسامان فٹ کرلیتے ہیں اور پھر کسی اچھی بھلی سڑک کی کمبختی آجاتی ہے۔ اگلے دن ایک ٹریکٹر نمودار ہوتا ہے جس کے پیچھے صرف ایک بلیڈ پر مشمل ہل ہوتا ہے۔ ساری سڑک پر وہ ہل پھیر کر اسے برباد کردیا جاتا ہے۔ کل یہ کام میرے محلے کی دو سڑکوں کے ساتھ ہوچکا ہے۔ اور یہ دونوں سڑکیں صرف دو یا تین جگہوں سے زیادہ خراب تھیں جن کی وجہ پانی کا کھڑا ہونا تھا جس کی با آسانی مرمت کی جاسکتی تھی لیکن چونکہ ترقی ہورہی ہے اس لیے فنڈز کی بھی فراوانی ہے اس طرف کوئی بھی نہیں سوچتا۔ اب چند دنوں بعد اس پر پتھر کے ڈھیر لگ جائیں گے پھر ان کو بچھانے کے لیے بلڈوزر اور ٹریکٹر آجائیں گے اور فٹ فٹ بھر پتھر بچھا دیا جائے گا۔
اس دوران ٹریفک جائے بھاڑ میں انھیں چاہے گرزنے کا بھی رستہ نہ ملے کسی کو کیا۔ ٹھیکدار کو پیسوں سے غرض ہے، انتظامیہ کو خوشی ہے کہ ترقی ہورہی ہے اور عوام۔ عوام کی کون سنتا ہے۔
سڑکیں بنتی جارہی ہیں لیکن پانی کی نکاسی کا نظام ویسے کا ویسا ہے۔ شروع شروع میں ایک ٹھیکیدار صاحب نے سڑک پر سے پانی کے نکاس کے سلسلے میں اس کے ساتھ ملنے والی ساری گلیوں میں پانی کھینچنے والی چھوٹی چھوٹی ہودیاں بنوا دی تھیں۔ لیکن اس کے بعد ان کا کیا بنا وہ بھی نشان عبرت ہے۔ کچھ تو ویسے ہی بند ہوگئیں کہ جھاڑو دینے والے اپنا سارا گند انھیں میں پھینکتے تھے۔ کچھ پر سے لوہے کے جنگلے یار لوگ اتار کر لے گئے اور ہمارے صدر چوک میں موجود ایک ایسی ہودی کو تو دوسرے ٹھیکدار صاحب نے جو چوک میں سے گزرتے دوسرے بازار کی سڑک بنا رہے تھے زمین میں جہاں ہے جیسے ہی کی بنیاد پر گڑوا دیا۔ غالبًا یہ آنے والی نسلوں کے لیے کیا گیا ہے تاکہ وہ جب اس مقام پر کھدائی کریں تو ان کو آثار قدیمہ میں ایک ہودی کے ساتھ نالی اور اوپر جنگلا بھی ملے جس سے وہ ہزاروں سال قدیم شہر کی تہذیب کے بارے میں رائے قائم کرسکیں۔
جہاں سے سڑک نیچی ہے وہاں پر پانی کھڑا ہوجاتا ہےا ور چار ایک بارشوں کے بعد وہاں اس کی محبت کے نشان نمودار ہوجاتے ہیں۔ ایک کنکر اکھڑ جائے تو اس کے پیچھے لائن لگ جاتی ہے اور دو ماہ میں وہاں ایک اچھا بھلا گڑھا نمودار ہوجاتا ہے۔پھر وہ گڑھا ناسور کی طرح بڑھتا رہتا ہے اور آخر کسی ناظم کی نظر میں آجاتا ہے ناظم صاحب فنڈز فراہم کرتے ہیں اور سڑک کی تعمیر شروع ہوجاتی ہے۔
پتھرڈالے جاتے ہیں اور اوپر کنکر تارکول کا ایک لیپ کردیا جاتا ہے جو ناقص رنگ کی طرح چند ہی ماہ میں اکھڑنے لگتا ہے اور دوبارہ سے پھر وہی چکر سڑ ک کی بربادی سے تعمیر تک۔ اس کا نتیجہ اور تو جو نکلے سو نکلے ہمارا حال یہ ہوگیا ہے کہ گھر جو زمین سے 2 فٹ سے بھی اونچے تھے اب زمین کے برابر یا اس سے نیچے ہیں۔ چونکہ گھروں کو بارش اور گٹروں کے گندے پانی سے بچانا بھی واسا کی نہیں عوام کی اپنی ذمہ داری ہے اس لیے گھروں کو اونچا بنانے کا رواج ہے لیکن اب لگتا ہے ہر بار سڑک بننے کے بعد اس کے باسیوں کو بھی گھروں میں مٹی ڈلوا کر اونچا کروانا پڑا کرے گا۔ ورنہ حال ہمارے پڑوسی جیسا ہوگا جو چار نفوس ہر بارش میں باری باری پانی نکالنے پر ہی لگے رہتے ہیں ایک بالٹی پکڑے۔ چاہے بارش ادھر آدھ گھنٹے کی بھی کبھی کبھار ہی ہوتی ہے لیکن ان کی اچھی بھلی درگت بنا جاتی ہے۔
ادھر یہ ترقیاں ہیں اور ادھر گاؤں اور قصبوں کا یہ حال ہے کہ میرے ماموں کے گاؤں کو جانے والے سڑک بالکل گنجی ہوچکی ہے۔ میری پیدائش سے پہلے کی بنی ہوئی وہ سڑک ابھی تک ویسے کی ویسے ہے اس طرف پتا نہیں کیوں کسی ناظم کی نظر کیوں نہیں جاتی۔پھر کھپ مچاتے ہیں کہ گاؤں سے شہر کی طرف ہجرت ہورہی ہے۔ ہجرت نہ ہوتو اور کیا ہو۔ اسی گاؤں میں میرے ماموں کے دو ذرا کھاتے پیتے پڑوسی ایک لاہور جاچکے ہیں اور دوسرے ادھر فیصل آباد آگئے ہیں۔ ان کا کیا قصور ہے جو ان علاقوں میں رہتے ہیں اور ہمارا کیا قصور ہے کہ ہم پر ہر چند ماہ بعد ایک آدھ سڑک ٹھونک کر ترقی کا نعرہ لگا دیا جاتا ہے۔

اتوار، 5 نومبر، 2006

میں۔۔۔

میرا میں سے تعارف سب سے پہلے ممتاز مفتی نے کروایا۔ ممتاز مفتی سرعام خود کو کوستا ہے،، اپنی میں والی عادت کو برا بھلا کہتا ہے اور ساتھ ساتھ میں میں بھی کرتا جاتا ہے۔ میں یہ ہوں میں وہ ہوں۔ اسی کو پڑھ کر مجھے میں کو دیکھنے کا شعور اٹھا۔ پھر ایسے ہی آتے جاتے اٹھتے بیٹھتے میرے ریسیور نے میں کے سگنل وصول کرنے شروع کردیے۔
صاحبو یہ میرے انٹینا کی خرابی کہہ لیں یا میرے نفس کی آوارگی۔ ایک دن یونہی اذان کے وقت بیٹھے بیٹھے مجھے “میں“ کے سگنل وصول ہونے لگے۔
سب سے پہلے ایک مسجد سے اذان کی آواز بلند ہوئی اور میرے کانوں میں آوازیں گونجنے لگیں“حضرات یہ فلاں فلاں مسجد اہلحدیث ہے۔ ہم سڑے ہوئے نظریات اور نام نہاد فقہ کو نہیں مانتے۔ ہم قرآن و حدیث سے براہ راست استدلال کرتے ہیں۔ ہماری مسجد کو پہنچاننا ہو تو یہ دیکھ لیں کہ سب سے پہلی اذان کہاں سے ہورہی ہے۔ اور اب آئیں ہم نماز پڑھ لیں۔“
ایک اور مسجد سے صلوۃ سلام کے بعد اذان کی آواز بلند ہوئی“ حضرات ہم آپ سے فلاں فلاں مسجد اہلسنت ولجماعت حنفی بریلوی سے مخاطب ہیں۔ ہمارے آقا و مولٰی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور ان سے سب سے زیادہ محبت ہم ہی کرتے ہیں جس کا ثبوت ہر اذان کے ساتھ صلوۃ سلام کا ورد ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بشر کہنے والوں کو ہم دین اسلام سے خارج سمجھتے ہیں ہماری مسجد کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ اذان اور ہر اعلان کے ساتھ ہم صلوۃ سلام کا ورد ضرور کرتے ہیں آئیے اب ہم نماز بھی پڑھ لیں۔“
پھر ایک اور مسجد سے صدائے حق بلند ہوئی“ دیکھیں جناب یہ مسجد فلاں فلاں اہلسنت حنفی دیوبندی ہے۔ ہم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو رسول کریم کے بعد سب سے اونچا مقام دیتے ہیں۔ ہم پیر پرستی اور قبر پرستی سے بیزار ہیں اور ہاں ہماری مسجد کی پہچان یہ ہے کہ ہماری اذان سب سے مختصر ہوتی ہے۔ ہم کسی اور کلمے کا اضافہ نہیں‌کرتے ۔ آئیں اب نماز پڑھ لی جائے۔“
سب سے آخر میں ایک طرف سے اذان کی آواز بلند ہوتی ہے“ جناب ہم اہل تشیع ہیں۔ ہم اہل بیت کے سب سے بڑے محب ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اہل بیت کا عاشق ہم سے زیادہ کون ہوگا۔ ہماری مسجد کی نشانی یہ ہے کہ ہم صرف تین بار اذان دیتے ہیں اور ہماری اذان میں کچھ مزید کلمات کا اضافہ بھی ہوتا ہے جس سے آپ باآسانی ہمیں پہچان سکتے ہیں۔ تو آئیے ہم بھی نماز پڑھتے ہیں۔“
مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے یہ اذانیں نیہں بلکہ نفس بول رہے ہیں۔ میری طرف دیکھو میں دیوبندی ہوں، ارے ادھر کدھر ادھر دیکھ میں ہوں شیعہ ہوں ہم سے بہتر کون مسلمان ہے۔ اوئے ادھر کیا دیکھتا ہے ادھر دیکھ یہ تو کافر ہیں ان کے عقائد ہی ہم سے نہیں ملتے ہم بڑے مسلمان ہیں ہمارا فرقہ بہترین ہے۔ مجھے لگ رہا تھا جیسے یہ لوگ مخلوق خدا کو اللہ کی طرف نہیں اپنی طرف بلا رہے ہیں۔
آؤ ہماری طرف آؤ اہلحدیث ہوجاؤ اسی میں فلاح ہے۔
آؤ بریلویت کی طرف یہی کامیابی کی راہ ہے۔
آؤ ادھر آؤ ادھر آؤ ہم سب سے بڑے ہیں۔
آؤ ہم ہی جنتی ہیں۔
ادھر آجاؤ۔
اور پھر ایسا ہوا کہ میرے اردگرد کھڑی مسجدیں غائب ہوگئیں اور ان کی جگہ بڑے بڑے گلیور نمودار ہوگئے۔ ہاتھوں میں تسبیحیں پکڑے، اپنے فرقے کی کتابیں اٹھائے، سر پر ٹوپیاں لیے لمبی لمبی ڈاڑھیاں رکھے اور عمامے باندھے، شلواریں ٹخنوں سے اونچی کیے، آپس میں لڑتے نہیں اسے ہماری طرف آنے دو نہیں میری طرف، نہیں میری طرف، اور میں ایک بونا، جو ان کے پیروں کے نیچے آنے سے بچ رہا ہوں کبھی ادھر ہوتا ہوں کبھی ادھر ہوتا ہوں اور آخر ایک طرف بھاگ نکلتا ہوں۔
میری طرف۔۔۔ نہیں ۔۔۔میری طرف۔۔۔ نہیں۔۔ میری طرف۔۔۔۔۔۔۔ یہ ساری آوازیں معدوم ہوتی جارہی ہیں اور پھر سب کچھ ختم ہوجاتا ہے۔ جیسے میں نہیں رہتا، کوئی بھی نہیں رہتا اور میرے سامنے میرا رب ہے۔ میں دھیرے سے اپنے رب سائیں سے پوچھتا ہوں۔
“سائیں یہ سب لوگ اتنا لڑ کیوں رہے ہیں۔ آپ کے نام پر ہی ایک دوسرے سے لڑتے ہیں ایسا کیوں ہے سائیں۔ آپ تو سراپا محبت ہونا۔ آپ تو اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ محبت کرتے ہو۔ سائیں تو پھر یہ لوگ کیوں لڑتے ہیں آپ کے نام پر ہی۔ انھیں تو مل جل کر محبت سے رہنا چاہیے۔“
اور مجھے ایسا لگا جیسے میرے اللہ سائیں مسکرا دیے ہیں جیسے کہہ رہے ہیں یہ سب تو پاگل ہیں، نادان ہیں۔ میری کتاب کو اور میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو سمجھ نہیں سکتے۔ ان کی عقلیں محدود ہیں۔ اپنی محدود عقلوں سے جو اندازے لگا لیتے ہیں ان پر ڈٹ جاتے ہیں۔ اپنے آپ کو فرعون سمجھنے لگتے ہیں ان کا خیال ہے سب کچھ انھیں کو عطاء ہوگیا ہے باقی سب جاہل مطلق ہیں‌اور ان کی عقلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔ان کی میں انھیں جینے نہیں دیتی۔ اس لیے کسی دوسرے کو خاطر میں نہیں لاتے۔

جمعرات، 2 نومبر، 2006

What is a LOTTA

پاک بلاگرز آرایس ایس جمع کار ویب سائٹ‌ہے۔ ساجد اقبال کے بلاگ سے اس کی سن گن ملی تو میں بھی اس پر اندراج کے لیے چل پڑا۔ اندراج تو کروا لیا ہے میں نے لیکن مجھے بہت ہنسی آئی۔ کیوں آئی۔ آپ بھی دیکھ لیں۔
LOTTA
کیسی رہی۔

:lol: :lol: :lol: :lol: :lol: :lol: