جمعرات، 29 مارچ، 2007

آخر کیوں اتنا جنون کیوں؟

کل میں  آنلائن نہیں ہوسکا آج دیکھا تو بی بی سی اردو کی ایک خبر کی ڈھنڈیا مچی ہوئی ہے۔ ملک طالبانائز ہورہا ہے۔ ہر طرف پھڑ لو پھڑ لو مچی ہوئی ہے ۔ یہ وہ۔۔۔


ہمارے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایک جذباتی قوم ہیں۔ ہمارے سر پر جو بھوت سوار ہوجاتا ہے پھر ارنے بھینسے کی طرح ہم سر جھکا کر اسی طرف پل پڑتے ہیں۔


ہمارے ہاں آہستہ آہستہ ہر دو معاملات میں جنون بڑھتا جارہا ہے۔ ایک طرف اگر ویلنٹائن ڈے کو اتنا فروغ دیا جارہا ہے اور یوم محبت کا نام دیا جارہا ہے دوسری طرف کچھ مذہبی تہواروں کو بھی اسی قسم کی شکل دی جارہی ہے اور ان پر پہلے کے مقابلے میں بڑی شدت سے عمل کیا جارہا ہے ۔۔


آج سے دس بارہ سال پہلے کسی کو نہیں پتا تھا کہ ویلنٹائن ڈے کیا ہوتا ہے اور اب آٹھویں کا بچہ بھی جاتا ہے کہ ویلنٹائن ڈے کیا ہوتا ہےا ور اس پر کیا کیا ،"کِیا" جاسکتا ہے۔


مذہب کے حوالے سے دیکھیں تو عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کبھی ہمارے مولوی صاحب بتاتے تھے کہ یہی بیس پچیس سال پہلے کسی کو اتنا پتا نہیں تھا۔ لیکن اب یہ ایک رچوال بنتا جارہا ہے۔ گھر کو جھنڈیوں سے سجانا، سڑکوں کو سبز جھنڈوں سے سجانا، بینر لگانا، سٹکر لگانا اور اب  مرحبا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نعرے لگانا۔


میں اس کی مذہبی حیثیت پر بحث نہیں کرتا چاہتا ورنہ اسے بڑی آسانی سے بدعت کہا جاسکتا ہے اور کہا بھی جاتا ہے۔


میرا یہاں یہ کہنے کا مطلب صرف اتنا ہے کہ یہ سب ہوکیا رہا ہے۔


ویلنٹائن ڈے، فلانا ڈے یہ ڈے وہ ڈے اور مذہب کے نام پر یہ تہوار عروس یہ وہ۔ یہ سب آہستہ آہستہ فیشن بنتے جارہے ہیں ہردو طبقوں میں۔ ان میں بھی جو دنیا دار ہیں اور ان میں بھی جو مذہبی سمجھے جاتے ہیں۔ اور اس سب کا فائدہ کس کوہورہا ہے؟


 اس کا فائدہ سراسر ان کو ہورہا ہے جو ہمارے لیے قطعًا مخلص نہیں۔ ہم دین کو چھوڑ کر چند بے معنی رسومات سے جونک کی طرح چمٹے ہوئے ہیں۔ مغربی تہوار ہمارے اندر میڈیا کے ذریعے زبردستی گھسیڑے جارہے ہیں۔ اب تو مذہبی تہواروں پر بھی میڈیا بڑے "اچھے" انداز میں نشریات پیش کرتا ہے۔ اب ربیع  االاول کو ہی دیکھ لیں۔ ہمارا سرکاری ٹی وی رحمت اللعالمین کے نام سے نشریات پیش کررہا ہے، صبح آدھے گھنٹے کے گانوں کی جگہ نعتیں پیش کی جارہی ہیں، میزبان صاحب رائزنگ پاکستان میں آکر تلقین کرتے ہیں کہ اس مہینے خصوصًا درود شریف کی کثرت رکھی جائے وغیرہ وغیرہ۔


اسی طرح ویلنٹائن ڈے پر رج کے بے ہودگی کی جاتی ہے اور اسے حسین لبادوں میں لپیٹ کر ہمارے دماغوں میں داخل کیا جاتا ہے۔


یہ سب آخر کس طرف لے کر جارہا ہے؟


ہمیں رسومات کا عادی بنایا جارہا ہے۔ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر عمل کرنا صرف ایک اسی مہینے کے لیے ہے؟ ان کی سالگرہ منانا، نعرے بازی کرنا، جھنڈے لگانا، چار نعتیں پڑھ لینا، بس؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟


اس ملک کا مسئلہ صرف اتنا ہے کہ یہاں کی حکومت کے گوڈوں میں پانی نہیں رہا۔ وہ خود بھی منافق ہوچکے ہیں اور باقی قوم کو بی منافقت کا سبق دے رہے ہیں۔ بلکہ دے کیا رہے ہیں مناق ہوچکے ہیں ہم۔


قوانین کو عجیب انداز سے مبہم بنایا جارہا ہے کہ کسی پر کوئی چیک نہیں رکھا جاسکتا ہے۔ عوام کو روزی روٹی اور بھوک کی فکر ڈال دی گئی ہے۔ ہر دو قسم کے جنونیوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔


اگر اسلام آباد میں جامعہ حفصہ جیسے ادارے موجود ہیں جو صرف محلے والوں کی درخواست پر خواتین کو اٹھوا لیتے ہیں تو دوسری طرف ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن کے لیے بدکاری جسٹ نارمل سی بات ہے۔ میرا دوست اسلام آباد میں زیر تعلیم ہے اور اسے کسی واقف کار کے مطابق کسی برگیڈیر صاحب کی بیٹی کے ان کی بڑی اچھی سلام دعا رہی ہے اور بڑے عرصے تک وہ اس سے "فیضیاب  " ہوتا رہا ہے بلکہ کئی بار اپنے دوستوں کو بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لیے لے جاچکا ہے۔


شاید آپ مجھے بے شرم کہیں لیکن سچ بولنے میں مجھے کوئی عار نہیں۔ اگر اس نے ایسا کہا ہے تو واقعی ایسا ہوگا۔ چلیں وہ جھوٹ بول لے کوئی بات نہیں آپ میں سب جانتے ہیں کہ یہاں کیا "ممکن" نہیں۔ بس روکڑا چاہیے ہر قسم تفریح مل سکتی ہے۔


یہ سب جنون نہیں تو اور کیا ہے؟


اور حکومت کیا کررہی ہے؟


حکومت بے حس بنی بیٹھی ہے۔ سڑکوں کے افتتاح ہورہے ہیں، پلوں کے افتتاح ہورہے ہیں، سیورج لائنوں کے افتتاح ہورہے ہیں اور ان کو استعمال کرنے والوں کے ساتھ کیا بیت رہی ہے انھیں کوئی ٹینشن نہیں۔


پھر نتیجہ یہی نکل رہا ہے کہ یا تو ڈاڑھیوں اور سر پر پگڑیوں اونچی شلواروں والی مخلوق پیدا ہورہی ہے جو دین پر عمل کروانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں نہ صرف عام جنتا کو ذلیل کرتے ہیں بلکہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو بھنبھوڑتے ہیں۔


دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو دین کو پس پشت ڈالے ہر الٹے سیدھے کام میں بڑی ڈھٹائی سے ملوث ہیں، سود خوری ہورہی ہے، رشوت خوری ہورہی  ہے، بدکاری ہورہی ہے، سرعام بلیو پرنٹ فلموں کا لین دین ہورہا ہے دیکھی جارہی ہیں۔ دکھائی جارہی ہیں۔


اگر کوئی ان کے علاوہ ہیں تو وہ چپ بیٹھے ہوئے ہیں کہ کیا کریں؟


میرے جیسوں کو پتا ہے کہ اسلام آباد میں غلط ہورہا ہے، وزیرستان میں غلط ہورہا ہے اس کا سدباب کرنا چاہیے لیکن کون کرے گا؟ میں کروں؟ میں اپنی روزی روٹی کی اپنے گھر کی فکر کروں یا اس کی فکر کروں۔


میرے جیسے جن کو پتا ہے کہ اپنے محلے ہی میں کہاں کہاں کیا ہورہا ہے کس کے گھر میں بے غیرتی ہورہی ہے، کس انٹرنیٹ کلب پر نوجوانان ملت کو جنس کے جال میں پھنسا کر گھلایا جارہا ہے۔ لیکن میں کیا کروں اس کے لیے؟ اس کو روکوں جاکر؟ مجھے اپنے گھر کی فکر ہے اپنی روزی روٹی کی فکر ہے میں ان کو کیا دیکھوں۔


تو پھر کون یہ کرے گا؟ ۔۔۔۔۔کیا حکومت؟؟؟ یا عوام؟؟؟


یا اس طرح کے لٹھ براداران دین؟؟؟


آپ کا کیا خیال ہے کون ہوگا جو یہ کرے گا؟؟


مجھے تو لگتا ہے کہ ہم پر حجاج بن یوسف جیسا کوئی حکمران متعین کردیا جائے جو اس قوم کو ذلیل و خوار کرکر کے سیدھا کردے اور تو کوئی صورت نظر نہیں آتی۔۔۔


 

سوموار، 26 مارچ، 2007

میرے ویب دوست

اردو ویب اور بلاگنگ نے مجھے کمپیوٹنگ کا شعور کا بخشا۔ جہاں مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا وہاں کچھ اچھے دوست بھی ملے۔ امید ہے ان کا میرا ساتھ آخری سانس تک چلتا رہے گا۔


نعمان یعقوب


بزعم خود آزاد خیال یہ صاحب کراچی سے ہیں۔ ان سے ملاقات اردو محفل پر ہوئی تھی۔ مجھے ذرا ذرا یاد ہے ایم کیو ایم پر بڑی شدید قسم کی بحث ہوئی تھی اور یہ ان کے کافی حامی تھے۔ بعد میں لینکس کے ترجمے کے پراجیکٹ میں ان سے کافی میل جول رہا۔ پھر ہمیں پتا چلا کہ بندہ اتنا بھی برا نہیں بس ذرا کھسکا ہوا ہے اگر کام کی بات کی جائے تو تیر کی طرح سیدھا رہتا ہے۔ ہم نے سوچ رکھا تھا کہ ہماری طرح ہی منڈے کھنڈے ہونگے لیکن یہ تو کھنڈے کی بجائے کھنڈ نکلے کھنڈ پنجابی میں اس شخص کو کہتے ہیں جو سرد و گرم چشیدہ ہو۔ کراچی میں دودھ کی دوکان کرتے ہیں اور عوام ہلکان کرتے ہیں۔ ان کے بلاگ سے کبھی کبھی پتا چلتا ہے کہ انکے کاروبارکی طرح ان کا پیٹ بھی روز افزوں ترقی کررہا ہے۔ چناچہ اب ہم جب ان کے بارے میں تصور کرتے ہیں تو ہمیں اپنے قریب کا ایک دودھی یاد آجاتا ہے جو سلوکا (ایک قسم کی کپڑے کی واسکٹ لیکن واسکٹ سے کم کوالٹی کی چیز جس میں ٹکٹ چیکرز کی طرح جیبیں ہوتی ہیں اور دودھی وغیرہ پیسے رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں جب وہ آن ڈیوٹی ہوں) پہنے بڑی سی کڑاھی میں دودھ ڈالے اس کو ابال رہا ہوتا ہے۔


ان سے ہم نے بلاگنگ کی تمیز سیکھی، لینکس کیا ہوتا ہے ان سے پتا چلا۔ انھوں نے ہی پہلی بار اس بلاگ میں اردو ویب پیڈ شامل کرنے کی کوشش فرمائی ۔ آپ کا بہت شکریہ جناب اگرچہ قدیر کو آپ سے کافی شکایتیں ہیں۔


قدیر احمد رانا


قدیر احمد رانا اردو بلاگنگ کی دنیا کے بڑے پرانے کھنڈ ہیں۔ اتنے پرانے کہ اگر فیصل آباد میں کبھی عجائب گھر بنا تو ہم اس میں ان کو اردو بلاگنگ و کمپیوٹنگ سیکشن میں بطور آثار قدیمہ رکھنے کی درخواست ضرور کریں گے۔


بہت شغلی بندہ ہے۔ اس کے ساتھ بات کرتے ہوئے بندہ خود ہی آپ جناب سے تو تڑاق پر اتر آتا ہے۔ خود اس کے اپنے الفاظ میں یہ اسی قابل ہے کہ اسے جوتی کی نوک پر رکھا جائے۔ ہمارے خیال میں اسے جوتے کی نوک پر رکھنے کے بعد تین چار کرارے جھانپڑ بھی رکھے جائیں اور بونس میں ٹھڈے بھی مارے جائیں تو اس کی صحت کے لیے بہت بہتر ہوگا۔


بدتمیز سے اس کا اینٹ کتے کا بیر ہے پڑھنے والے یہ نہ سمجھیں کہ میں نے ایک کو اینٹ کہہ کر دوسرے کو ---کہا ہے۔ یہ تو بس محاورہ تھا۔ اردو بلاگنگ پر اس بندے کے بڑے احسانات ہیں۔ اولین اردو بلاگرز میں سے ہے۔ اردو ٹیکنالوجی بلاگ کے نام سے پہلے بلاگر پھر ورڈپریس اور اب گھر سے (مطلب اپنے ڈومین سے) یہ بلاگ چلاتا ہے۔ جس سے بھی ملے سلام دعا کرنے کے بعد یہی کہتا ہے اردو ٹیکنالوجی بلاگ کے لیے لکھو گے؟ پھر اگلے بندے کی ہاں کے بغیر ہی اسے مصنفین میں شامل کرلیتا ہے۔


بی ایس سی ڈبل میتھ فزکس کررہا ہےا ور کام اس کے کچی کے بچوں والے ہیں۔ اردو کے لیے کچھ نہ کچھ کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ یہ الگ بات ہے اس کو جواب میں جوتے ہی ملتے ہیں۔ اردو بلاگ پر گوگل ایڈ سینس کے اشتہارات دکھانے کی بات ہوئی تو اس نے دونمبری کرکے اشتہار چلوا دئیے یار لوگوں نے پسند کیا کچھ نے اعتراض کیا اور معاملہ بیٹھ گیا۔ اب کہاں بیٹھا ہے یہ بھی کسی کو یاد نہیں۔


اس بندے کا مجھ پر بڑا احسان ہے جب پہلی بار بلاگنگ شروع کی تھی تو اسی نے مجھے بلاگر پر تھیم کے سلسلے میں میری بہت مدد کی تھی۔ میرے بلاگ کے موجودہ تھیم کو بھی کسٹمائز کرنے میں اس کی مہربانی ہے۔ قدیر میاں تمہارا شکریہ۔ کبھی ملتان جانا ہوا تو اس سے ضرور ملوں گا۔ اپنی قسم کا یہ ایک ہی ماڈل بچا ہے اسے دیکھنا بھی لاہور کے چڑیا گھر کو دیکھنے سے زیادہ دلچسپ ہوگا۔


شعیب صفدر


کراچی کا یہ واحد بندہ ہے جو مجھ سے پنجابی میں بڑی دیر تک بات کرتا ہے یہ الگ بات ہے اس کی پنجابی ایسے بھاگتی ہے جیسے پیچھے پولیس والے لگے ہوں۔ پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں لیکن ان کی باتوں سے بالکل ہی نہیں لگتا کہ یہ وکیل ہیں۔ ایک دن آنلائن ہوئے سلام دعا کی اور پھر غائب ہوگئے۔ اگلے دن ہوئے پھر سلام دعا ہوئی پھر میں غائب ہوگیا کچھ کام تھا۔ اس سے اگلے دن آنلائن ہوئے تو میں نے معذرت کی بولے اپناموبائل نمبر دے دو۔ میں نے دے دیا۔ تب سے جب فارغ ہوں اور پنجابی بولنے کو دل کرے مجھے کال کرلیتے ہیں۔ ان کی کالز جب میں گلی میں ٹہل ٹہل کرسنتا ہوں تو اردگرد کے لوگ سمجھتے ہیں شاید اپنی معشوقہ سے بات کررہا ہے۔ وہ کیا جانیں کہ مجھ پر کیا گزرتی ہے۔ مشرف پر بے لاگ تبصرے وہ بھی ایسے تیز تیز جیسے تیز مرچوں والا سالن کھایا ہوا ہو۔


ان کے تبصرے بڑے جاندار ہوتے ہیں اتنے جاندار کے ہمارے والد کے پڑوسی ریڑھی والے بھی اس قسم کے تبصرے کرلیتے ہیں۔ کبھی تو ہمیں لگتا ہے کہ یہ وکیل نہیں کراچی میں چائے کا کوئی ہوٹل چلاتے ہیں جب کوئی گاہک نہیں آتا تو مجھے فون کھڑکا دیتے ہیں۔


شعیب بھائی سے میری سلام دعا اتنی پرانی نہیں لیکن امیدہے ان سے سلام دعا چلتی رہے گی ۔ میں بخیے ادھیڑنے کی قطعًا معافی نہیں مانگوں کا جناب


;)


 


محمد علی مکی


محمد علی مکی اردو کی طرف آئےتو اردو کی قسمت پلٹنے لگی۔ پہلے عربی کی طرف متوجہ تھے حاسد کا کہنا ہے کہ وہاں سے سائیاں ان کو نکال دیا تو ارد وپر وارد ہوگئے۔ سافٹویرز کا ترجمہ کرنا ان کا مشغلہ ہے۔ مشغلہ نہیں نشہ کہہ لیں یونہی بیٹھے بیٹھے ایک آدھ اطلاقیہ ارد وکرڈالتے ہیں۔ محفل پر کسی بگولے کی طرح وارد ہوئے اور سوئے ہوؤں کو جھنجھوڑ ڈالا۔ دھڑا دھڑ سافٹویرز کو اردوا نا شروع کردیا۔


چونکہ اردو والوں کی عاد ت ہے کہ تعریف سبھی کرتے ہیں اور بس۔۔تو سب نے ان کے کام کی تعریف کی اور بس۔۔۔


اس سے بہت مایوس ہوئے لیکن ہم نے سمجھایا بھائی جی کام کرتے جائیں آپ کو کیا کوئی اسے استعمال کرے یا نہ کرے۔ تب سے کچھ سکون ہے۔ محفل سے ہماری یاہو شناخت لی اور تب سے ان سے گپ شپ ہے۔ دفتر سے جب فرصت ہومیں سرکاری کھاتے میں کال کرلیتے ہیں۔


اردو کوڈر نامی ایک فورم بھی چلاتے ہیں۔ کراچی میں رہتے ہیں۔ کبھی موڈ ہوتو ہم سے پنجابی میں بات کرلیتے ہیں۔ لیکن زیادہ پنجابی سے گھبراتے ہیں لگتا ہے کانوں کو اب عادت نا رہی خالص چیزوں کی۔ اردو میں پنجابی والی خشبو البتہ اکثر لگاتے ہیں۔ ہمیں شک ہے کہ کئی عطر والوں کو اس طرح کنگال کرچکے ہیں۔ اب ہماری طرح "موج" بھی کرنے لگے ہیں۔ سافٹویر کا حصول ان کے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔ چاہے کریک ہو یا اصلی والا۔


ان سے مل کر ہمیں پتا چلا کہ کام کس طرح کیا جتا ہے ماشاءاللہ فائر فاکس کو اردوا چکے ہیں اور مزید کے ارادے ہیں اللہ ان کو کامیاب کرے۔


اور اب باقی آئندہ۔انشاءاللہ کچھ مزید احباب کے بخیے ادھیڑے جائیں گے۔۔۔۔۔۔


وسلام

بدھ، 21 مارچ، 2007

ہمارا آنجہانی طوطا

ہم کافی دنوں سے سوچ رہےتھےکہ اپنے طوطے کی شان میں کچھ لکھیں لیکن موقع ہی نہ ملا۔ اب جب لکھ رہے ہیں تو آج صبح تڑکے اس کو ایک بلی اٹھا کر لے گئی ہے۔ یہ طوطا ہمیں کوئی تین سال پہلے سائکل پر آتے ہوئے ملا تھا۔ کسی کار سے ٹکرا کر نیچے گرا اور ہم نےا سے فورًا دبوچ لیا تھا۔ آثار بتاتے تھے کہ اس کے پر کاٹے ہوئے ہیں۔ کچھ دن ہم نے اس کے بہت لاڈ اٹھائے پھر اس کی طرف سے غافل ہوتے گئے اور آہستہ آہستہ اس سے چڑ ہوتی گئی۔


ہماری والدہ کو جانوروں کے ساتھ حد سے زیادہ پیار کرنے کی عادت ہے جس کے نتیجہ میں یہ ہر وقت والدہ کے پیچھے پھرتا۔ ذرا وہ نظر سے ادھر ہوتیں کیاں کیاں کرتا پیچھے چل پڑتا۔ جب وہ کہیں کام سے چلی جاتیں تو اس کی بے چینی قابل دید ہوتی۔ سیڑھیوں پر جاکر بے چینی سے چکر کاٹتا اور گھنٹوں بولتا رہتا۔ اس کی اس کیاں کیاں سے بہت چڑ تھی مجھے اکثر اسے مجھے سے اس بات پر مار بھی پڑی لیکن جب میں اسے ڈراتا تو کچھ دیر کے لیے چپ ہوجاتا اور دوبارہ سے وہی کام شروع ہوجاتا۔ کہیں جاتے ہوئے سیڑھیوں کے قریب لگی گرل پر بیٹھے میاں مٹھو کو چھیڑنا میرا معمول تھا۔ اس کو دونوں ہاتھوں سے تنگ کرنا اور اس کا مجھے کاٹنے کو آنا بہت دیر تک یاد آئے گا۔ اس سے پہلے ایک طوطے کو چیل اٹھا کر لے گئی تھی اور آج اس کو بلی اٹھا کر لے گئی ہے۔ ابھی باہر جارہا ہوں اور لاشعوری طور پر اس کو تنگ کرنے کے لیے ہاتھ اٹھیں گے لیکن اسے وہاں نہ پاکر واپس لوٹ آئیں گے۔


میاں مٹھو تم بہت اچھے تھے۔


:( :( :( :( :( :( :( :( :(

سوموار، 19 مارچ، 2007

فوج کی بے نیازیاں ہمیں لے ڈوبیں گی

عرصہ ہوا سیاست پر لکھنے کو دل نہیں کررہا تھا لیکن آج ایک خبر نے مجھے قلم اٹھانے پر مجبور کردیا۔ پاکستان کی فوج کی معصوم شرارتیں تو عرصے سے جاری ہیں کبھی اس کے خلاف اوکاڑہ کے کسان ہاری احتجاج کرتے نظر آتے ہیں اور کبھی سول ملازمین۔ لیکن بی بی سی کی اس خبر نے مجھے آگ لگا ڈالی آپ بھی پڑھیں۔


فوج کے خلاف اخبارات میڈیا اور عوام میں ایک عرصے سے خاص قسم کی نفرت پرورش پانے لگی ہے جس میں ان واقعات کا بے پناہ کردار ہے۔ فوج جو کبھی پاکستان کے وقار کی علامت تھی اب باشعور طبقہ اس کی طرف خاص قسم کی الجھن سے دیکھتا ہے۔ فوج کی یہ بے نیازیاں، اپنے معاملات کو خود حل کرنے کی پالیسی، کرپشن کی اطلاعات  اور پھر ان کے سدباب کے لیے کسی بھی قسم کی سول مداخلت کی سختی سے جھٹک۔ ان سب نے ایک ایسا تاثر پیدا کردیا ہے جیسے فوج کو باقیوں سے افضل پیدا کیا گیا ہے۔


اس غیر ذمہ دارانہ رویے یا یہ اثر ہونے لگا ہے کہ اب یہ خبریں بھی آنے لگی ہیں۔ بلوچستان کی اسمبلی نے کوئٹہ میں فوج خصوصًا فضائیہ کی طرف سے قبائلیوں کی جدی پشتی اراضی زبردستی ہتھیانے کے خلاف قرارداد منظور کی ہے۔


آخر فوج یہ سب کیوں نہیں دیکھتی۔ انھیں اپنے اندر موجود کمیاں کوتاہیاں نظر کیوں نہیں آتیں اور اگر ایسا ہے تو ان کا سدباب کیوں نہیں کیا جاتا۔ یہ اندھیر کیوں مچا ہوا ہے۔ ان کی ایسی غلطیوں کا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑے گا عوام کو۔


کاش یہ بات ہماری سمجھ میں آجائے۔

اتوار، 18 مارچ، 2007

جینز پہننا ہماری نظر میں

قدیر نے دوسری بار اپنے بلاگ پر ہمیں گھسیٹ لیا ہے اس لیے یہ لکھ رہے ہیں۔ جینز کے ساتھ ہمارا ناتہ کوئی اتنا پرانا نہیں۔


بچپن میں جب کسی کو جینزے پہنے دیھکتے تو دل کرتا اپنے پاس بھی اس طرح کی چیزہو اور ہم بھی گھٹے گھٹے اور اکڑے اکڑے پھریں۔ یونہی محلے میں چکر لگائیں اور شریکاں نوں اگ لگائیں ;)


لیکن کیا کہیے عرصے تک ہماری یہ حسرت حسرت ہی رہی پھر ایک دن ایسے ہی ایک دوست سے جینز کا تذکرہ چل گیا ہم نے اپنے اشتیاق کا کچھ اس طرح اظہار کیا کہ اس بے چارے نے اگلے ہی دن ہمیں ایک عدد جینز گفٹ کردی۔ اللہ اس پر اپنی رحمت رکھے بڑا اچھا دوست ہے ہمارا یہ الگ بات ہے ہم اس کے کبھی اس طرح کام نہ آسکے ۔ خیر وہ جینز ہم نے بڑے چاؤ سے پہنی۔ پہن کر پورے محلے کا چکر لگایا  دن میں دو بار اس سے ملنے گئے۔ کھانا کھانے سے پہلے جینز اتار لی تاکہ خراب نہ ہوجائے ہماری پرانی عادت ہے کھانا کھاتے وقت سالن لازمی گر جاتا ہے کپڑوں پر۔


لیکن قسمت کو ہم پر شاید غصہ تھا غصہ بھی شدید قسم کا۔ جینز صرف ایک بار ہی پہننا نصیب ہوئی دوسری بار دھو کر پہنی تو وہ پہلے سے نوے فیصد رہ گئی تھی۔ اس نوے فیصد نے ہمیں ولایتی مولوی بنا دیا۔ ٹخنوں سے اونچی جینز پہن کر ہم نے گھر کے دو چار چکر لگائے اور پھر اتار کر چوم کر بڑے احترام سے رکھ دی آج کل چھوٹے بھائی کے زیر استعمال ہے۔ ہاہ (یہ ایک ٹھنڈی آہ ہے اور ادھر سارا ماحول برف ہوگیا ہے)۔


دوسری بار جینز ہم نے ضد کرکے ابو حضور کی جیب سے خریدی۔ ناتجربہ کاری کے باعث ہم نے جو جینز لی اس کی وجہ سے ہمیں کئی باتیں سننا پڑیں۔  مسئلہ وہی کہ اس کو پہن کر بیٹھنا بڑی ٹیکنیک کا کام ہے بلکہ ایک الگ سائنس ہے ہم اس سے آج تک واقف نہیں ہوسکے۔ چناچہ کہیں بھی چلے جائیں مسلسل کھڑے رہنا پڑتا ہے اگر بیٹھیں بھی تو اس طرح جیسے ٹانگوں میں درد ہو یا گوڈے رہ گئے ہوں۔ کئی بار اس وجہ سے ہسپتال جانے کے مشورے مل چکے ہیں۔ اور اب اس جینز کے ساتھ یہ حال ہوگیا ہے کہ اگر وہ پہن کر کھانا کھا لیں تو اترتی نہیں اگر کھانا کھا کر پہن لیں تو پہنی نہیں جاتی۔


خیر جینز پہننا ہم نے پھر بھی نہیں چھوڑا کبھی کبھار شوق پورا کرہی لیا کرتے ہیں۔ سچ بتائیں تو جینز کے کچھ فائدے بھی ہیں جیسے قدیر نے بتایا بندہ خوامخواہ ہی ماڈرن لگتا ہے۔ اپنے آپ کو مریخی قسم کی مخلوق لگنے لگتا ہے۔ اگر ساتھ کوئی شوخ سی شرٹ پہنی ہو تو ایویں سیٹیاں مارنے کو دل کرتا ہے۔ موسم سہانا لگتا ہے اور اگر بندہ (ہماری طرح) سائکل سوار بھی ہوتو ایویں ہاتھ چھوڑ کر جھوم جھوم کر سائیکل چلانے کو دل کرتا چاہے سامنے سے آتی کھوتا گاڑی سے بغلگیر ہونا پڑے(الحمد اللہ ہم اس سے محفوظ ہیں ابھی تک یہ خصوصًا بدتمیز کے شر سے بچنے کے لیے لکھا گیا ہے ہمیں پتا ہے اس کا کام ہی محلے کی بی جمالو کی طرح ہر بات میں کیڑے نکالنا ہے)۔


جینز کے نقصانات کا کچھ ذکر تو قدیر نے کردیا کچھ ہماری باتیں بھی ہوگئیں اس بارے ایک بات شئیر کرتے جائیں گرمی میں جینز یا اسی قسم کا کوئی لباس جس سے ٹانگوں کو ہوا نہ لگے ڈاکٹروں کے نزدیک خاصا قابل اعتراض ہے( نمازیوں کے نزدیک تو ایسی جینز بہت زیادہ قابل اعتراض ہے اور ہم ذاتی طور پر ایسی جینز کے خلاف ہیں جس میں یہ لگے کہ بندے کو اس میں رکھ کر جینر سی گئی ہے)۔ یہ گلوبل سائنس  کے لکھاری سید عرفان احمد کے کسی کتابچے میں پڑھا تھا کہ اس قسم کے تنگ کپڑے پہننے سے مردوں کی جنسی صحت متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے انھوں نے تو گرمیوں میں جانگیا پہننے کی بھی مخالفت کی ہے۔


ویسے ہم اعتدال کے قائل ہیں۔ چیز استعمال کریں لیکن حد میں رہ کر۔ جینز پہنیں لیکن مناسب حد تک کھلی تاکہ صحت کو بھی نقصان نہ پہنچے اور اٹھنا بیٹھنا بھی دشوار نہ ہو۔ نیز فیشن کا فیشن ہوجائے۔


وسلام

ہفتہ، 10 مارچ، 2007

سائیکل سواروں کے حقوق

ہم چونکہ خود ایک سائیکل سوار ہیں اس لیے ہم نے سوچا اب جو یہ انسانوں جانوروں فلانوں فلانوں کے حقوق کی باتیں ہورہی ہیں تو ہم کیوں کسی سے پیچھے رہیں۔ چناچہ سائیکل سواروں کے حقوق کا کئی نکاتی ایجنڈا ہم اپنے بلاگ کے ذریعے اپنے قارئین کےسامنے پیش کررہے ہیں۔


چونکہ تعزیرات پاکستان کی کسی دفعہ کے تحت سائیکل سواروں پر کوئی الزام عائد نہیں کیا جاسکتا کہ انھوں نے ٹریفک کا اشارہ کیوں توڑا نیز ان کا چالان بھی ممکن نہیں تو ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ اشارہ توڑنا سائیکل سواروں کا بنیادی انسانی حق ہے اور کسی کو خصوصًا ٹریفک پولیس کو اس پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔


سڑک کے درمیان میں سائیکل چلانا سائیکل سواروں کے لیے مستحب ہے لیکن اگر وہ ازراہ کرم سائیڈ پر بھی چلا لیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔


ریلوے پھاٹک بند ہونے کی صورت میں یہ سائیکل سواروں کا حق ہے کہ وہ سائیکل کو اطراف میں موجود پیدل گزرنے والوں کے راستے سے زبردستی گزار کر لے جائیں چونکہ اس وقت مجمع میں وہی سب سے زیادہ لیٹ ہورہے ہوتے ہیں۔


سڑک پار کرنے کے لیے اچانک اس میں گھس آنا ان کے لیے بہتر ہے چاہے اس دوران ایکسیڈنٹ کا بھی خدشہ کیوں نہ ہو۔


سڑک پر رش کی صورت میں فٹ پاتھ، یکطرفہ ٹریفک کی خلاف ورزی ان کے لیے عین ثواب ہے چاہے پیدل چلنے والوں کے پاؤں کچلے جائیں اور مخالف سمت سے آنے والوں کو بریک لگانے پڑ جائیں۔


المشتہر


صدر انجمن سائیکل سواراں پاکستان ضلع تحصیل ٹاؤن فیصل آباد(بزعم خود و بقلم خود)


محمد شاکر عزیز


 

ہفتہ، 3 مارچ، 2007

کراچی والوں سے بات کرنا

اردو بولنا اور اردو کے لیے بولنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ اس بات کا احساس ہمیں اس وقت ہوا جب  محفل کے کچھ احباب سے ہماری فون پر بات ہوئی۔ اور شومئی قسمت یہ احباب کراچی سے  متعلق تھے۔ چونکہ کراچی میٹروپولیٹن شہر ہے یعنی منی پاکستان تو یہاں اردو ہی عمومًا بولی جاتی ہے۔


فہیم ہمارے بہت اچھے دوست ہیں محفل پر انھوں نے موبائل نمبر مانگا ہم نے بڑی خوشی سے دیا۔ ایک دن ان کا فون آگیا۔ بس نہ پوچھیں جناب کہ جو اس دن ہوئی۔ ہمارے بھائی صاحب اردو کے الفاظ لڑھکائے چلے جاتے تھے اور ہم ان کو سنبھالنے اور اکٹھا کرنے کے چکر میں ہلکان ہوئے جاتے تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آدھی بات سمجھ میں آئی اور آدھی سر پر سے گزر گئی چونکہ منہ پر بات کہہ دینا ہماری پرانی عادت ہے اس لیے ہم نے فہیم سے بھی کہہ دیا بھائی جی اپنی سپیڈ ذرا آہستہ کرلیں ہمیں آپ کی اردو پتھروں کی طرح لگ رہی ہے۔


صاحبو ہم ٹھہرے پنجابی بولنے والے اردو لکھ تو لیتے ہیں لیکن بولنا اور وہ بھی فراٹوں کے ساتھ ابھی کم ہی آتا ہے۔ خیر کچھ مزید احباب کے ساتھ چند بار بات ہوئی اور اب افاقہ ہے سو میں سے اسی الفاظ سمجھ میں آجاتے ہیں جو نہیں آتے ہم ان پر بات بدل کر پردہ ڈال لیتے ہیں۔;)