جمعہ، 31 اگست، 2007

بوریت بچاؤ (اپنے لیے قوم کے لیے)

اپنے شارق مستقیم خاصے سنجیدہ قسم کے بندے ہیں۔ شاید اسی لیے کافی عرصہ بور ہوتے رہے۔ اب اتنے بور ہوگئے ہیں کہ بوریت کو بند کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ ان میں کچھ کچھ "مشرفانہ" انداز بھی نظر آئے ہیں۔ یعنی حکم سنا دیا اور بس۔۔۔۔۔۔


جناب ہمیں فرماتے ہم سر کے بل (بقول ہمارے والد صاحب) ناچتے ہی آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ سرکار یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ ہم اردو کی برادری بنانا چاہ رہے  ہیں اور پرانے "کھنڈ" حضرات بھاگ رہے ہیں یا بھاگنے کے چکروں میں ہیں۔ بھئی اگر بوریت اتنی ہی بھاری ہوگئی تھی تو ہم سے فرماتے ہم ساتھ مدد کرنے کو حاضر ہوجاتے۔ کچھ نہ کچھ کسی نہ کسی طرح کرتے ہی۔


یہ تو کوئی بات نہ ہوئی سائیں۔ اور اوپر سے اب آپ کوئی جواب بھی نہیں دے رہے اتنے سارے سوالات کا۔۔۔۔۔۔۔۔مرضی ہے جناب کی۔۔۔

جمعرات، 30 اگست، 2007

تھیم رے تھیم تیری کونسی کِل سیدھی

ہمارے بلاگ پر آپ مزے سے یہ تحریر پڑھ رہے ہیں۔ لیکن اس تحریر کے پیچھے ہمارا کیا حال ہوا ہم ہی جانتے ہیں۔۔۔۔تھوڑا سا آپ بھی جان لیں۔ ایک ماہ قبل ہم نے اس تھیم کو اردوانا شروع کیا تھا۔ اس دوران ہم نے لینکس کو دوبارہ نصب کیا تو سارا ڈویلپمنٹ ماحول پھر کرگیا۔ تھیم جو اس دوران اردو قریبًا ہوچکا تھا کی بیک اپ بنائی تھی۔ دو تین دن بعد وہ ساری پارٹیشن اڑ گئی۔ یعنی موج ماحول۔


ہم نے پھر کام الف سے شروع کیا۔ آج کل آج کل کرتے کرتے آج کا دن آگیا ہے۔ کبھی ترجمہ آگے پیچھے ہوجاتا تھا، کبھی گرافکس ٹھیک نہیں بیٹھتے تھے اور کبھی سی ایس ایس ناچ نچانا شروع کردیتی تھی۔ اللہ اللہ کرکے آج ہم نے اس کو مکمل کرہی لیا۔ پورے تین گھنٹے کی محنت کے بعد ہمارا سر بے سُرا ہورہا ہے تب جاکر یہ تھیم لگا ہے۔ ابھی بھی اس میں کئی جگہ نقائص ہیں۔ پوسٹ کے نیچے نظر آنے والے گرافکس عبارت کے پیچھے گھسے ہوئے ہیں۔ ویب پیڈ کی جگہ اوپن پیڈ شامل کرنے کی کوشش کی تو اس نے چلنے سے انکار کردیا چناچہ پھر سے ویب پیڈ چل رہا ہے۔


اب صبح آکر اردو ٹیک پر کسی کے پلے باندھتا ہوں تاکہ اس میں اوپن پیڈ شامل کرکے مجھے بھی دے اور وہاں بھی رکھ دے۔


آہ۔۔۔ہماری تھیم بیتیاں۔۔

منگل، 28 اگست، 2007

اردو مارفالوجی ایپلیکیشن

آپ احباب انٹرنیٹ میری گفتگو سے یہ تو جان گئے ہونگے کہ میں نے بی کام کے بعد لسانیات میں ٹانگ اڑا لی ہے۔ یہ لمبی کہانی ہے بس یہ سمجھ لیں کہ کچھ راہنما مل گئے جنھوں نے مجھے پکڑ کر گھما ڈالا۔ کہنے کو تو میں انگلش لینگوئج ٹیچنگ میں ڈپلومہ کررہا ہوں جو اگلے سال ایم ایس سی میں بدل جائے گا (یعنی ایک سال کی ایم  ایس سی) لیکن انگریزی تو زبردستی ساتھ لگ گئی ہے۔ سمجھ لیں روزی روٹی کا معاملہ ہے ورنہ اپنی دلچسپی تو ازل سے اردو میں ہے۔ سوچا لسانیات میں رہ کر اردو کے لیے کچھ کیا جاسکتا ہے۔ اردو کی صوتیات (فونولوجی) پر فاسٹ لاہور میں بہت اچھا کام ہورہا ہے لیکن اس کے مشینی تجزیے کے سلسلے میں کوئی قابل ذکر کام نہیں ہوسکا۔ مشینی تجزیے سے مراد ہے کہ سافٹویر بنائے جائیں جو عبارت یعنی ٹیکسٹ کا تجزیہ کریں۔ اس کے ہر ہر لفظ کی گرامر کے لحاظ سے زمرہ بندی کریں۔ پھر اس بل پر شماریاتی فارمولے لگا کر زبان کے ٹرینڈز بتائے جائیں۔ میرا علم اس سلسلے میں ابھی محدود ہے۔ تاہم آپ مزید جاننا چاہیں تو Computational Linguistics  اور Corpus Linguistics کے نام سے وکی پیڈیا اور گوگل پر تلاش کرکے جان سکتے ہیں۔
میرے اساتذہ پاکستانی انگلش کے کارپس پر کام کررہے ہیں۔ جو کہ پاکستان میں کسی بھی زبان پر پہلا کارپس بیسڈ کام ہے۔ انھیں انگریزی پر کام کرنے کے لیے سافٹویرز کے حصول میں اچھی بھلی دشواریاں پیش آئیں تو مجھے اردو کے لیے کیا مل سکتا تھا بھلا۔ لیکن اتنا اندھیر بھی نہیں مچا۔ کہتے ہیں ڈھونڈنے والے کو خدا بھی مل جاتا ہے۔ چناچہ مجھے بھی پہلے سن گن ملی کہ جرمنی میں ایک پاکستانی صاحبہ ایک یوینورسٹی میں اردو گرامر پر کام کررہی ہیں۔اور اب ایک دن ایویں سرچ کرتے ہوئے میرے ہاتھ ایک پی ڈی ایف لگا جس میں سے ایک پاکستانی محمد ہمایوں جو کہ لاہور سے تعلق رکھتے ہیں اور اب سویڈن کی ایک یونیورسٹی میں ہوتے ہیں کا لکھا ہوا ایک آرٹیکل ملا۔ اس کی خصوصیات آپ کو کیا بتاؤں مجھے تو خزانہ مل گیا ہے۔ ایک تو اوپن سورس اطلاقیہ دوسرے یونیکوڈ کو سپورٹ کرتا ہے۔ ٹیکسٹ یونیکوڈ میں دیں اور ماحصل بھی یونیکوڈ میں۔ البتہ ٹیگز  انگریزی میں ہوتے ہیں۔ ان کو اردو میں شائع کروانے کے لیے ہم ترجمہ کروا لیں گے۔
ہمایوں بھائی نے میری بہت مدد کی۔ میں نے تو ایسے ہی ای میل کردی تھی کہ شاید جواب آئے شاید نہیں۔ لیکن انھوں نے ذاتی دلچسپی لے کر مجھے ہر ممکن تفصیل بتائی تاکہ میں سورس کوڈ کو کمپائل کرسکوں۔ جب میں نے بتایا کہ میرے پاس لینکس بھی ہے تو انھوں نے مجھے لینکس میں کمپائلیشن کی کمانڈز تک لکھ بھیجیں (اب یہ تو آپ اورمیں جانتے ہیں کہ اس طرح کے کام مجھے لینکس پر کرتے ہوئے عرصہ ہوچلا ہے)۔ خیر ان کی اس مدد کے بعد آج میں نے یہ ایپلی کیشن کمپائل کرکے چلالی۔ اپنے بلاگ کی ایک عدد پوسٹ کا اس سے تجزیہ بھی کروایا۔ جس کا ماحصل اس پوسٹ کے آخر میں ایک زپ فائل میں موجود ہےاور آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ سافٹویر کافی اچھا کام کرتا ہے۔ اگرچہ اس کی ڈیٹا بیس چھوٹی ہے۔ کچھ الفاظ جیسے اسماء کو ابھی شناخت نہیں کرپاتا لیکن میرا ارادہ ہے کہ اس پر مزید کام کروں۔ اگرچہ میں پروگرامر نہیں ہوں۔ لیکن جاوا اور ہسکیل (شاید یہی لنگوئج ہے ) جس میں یہ لکھا گیا کے لیے اپنے اردو محفل کے احباب اور اس پروگرام کے خالق ہمایوں بھائی کو ضرور تنگ کروں گا۔
میرا پکا ارادہ بن گیا ہے کہ اسی سافٹویر کو استعمال کرکے اگلے سال اپنا ایم ایس سی کا تھیسس اردو مافولوجی پر لکھوں۔ ارے یہ تو میں بھول ہی گیا کہ مارفولوجی کا بتا دوں۔ مارفولوجی اصل میں لسانیات کی وہ شاخ ہے جو الفاظ کی تشکیل میں استعمال ہونے والے عوامل کو دیکھتی ہے۔ جیسے کرنا سے کیا، کیے ، کرتے، کرتا، کرتی ،کرتا تھا وغیرہ وغیرہ۔ وہی گردانیں جو کبھی مڈل میں ہم رٹے لگایا کرتے تھے۔ لیکن یہ صرف فعل کے ساتھ نہیں واحد سے جمع میں تبدیلی وغیرہ اور اسم مشتق وغیرہ جن سے کئی الفاظ بنتے ہیں، دو الفاظ کو ملا کر ایک بنا لینا وغیرہ وغیرہ سب اسی کے ذیل میں آجاتے ہیں۔ یہ ہمیں کسی زبان کی اہلیت کے بارے میں بتاتی ہے کہ اس میں الفاظ کس کس طرح سے بنتے ہیں۔ جو دوست محفل پر آج کل اوپن آفس کے لیے اردو پڑتال کار فہرست پر کام کررہے ہیں وہ مارفولوجی کو اچھی طرح سمجھ سکیں گے۔ بنیادی شکل یعنی کرنا اور پھر اس سے ثانوی اشکال کیا، کیا تھا، کرتا، کرتا تھا، کیے ، کیے تھے، کرنا تھا، کرتی، کرتی تھی، وغیرہ وغیرہ۔ اگر آپ کو مارفولوجی کی سمجھ نہ آئے تو وکی پیڈیا کو زحمت دے لیجیے وہاں پر پورا آرٹیکل موجود ہے اس بارے میں۔
اور آخرمیں اردو مارفولوجی ایپلیشکن کا ہوم پیج
اور یہ دیکھ کر آپ کو حیرت ہوگی کہ اس کے روابط میں اردو ویب کا ربط بھی شامل ہے۔ اس کی موجودہ اردو الفاظ کی ڈیٹا بیس (سکرین شاٹس دیکھ کر لگتا ہے کہ) اردو محفل ، اردو لائبریری اور اردو سیارہ کے بلاگز سے ٹیکسٹ لے کراس کا تجزیہ کرکے بنائی گئی ہے۔
میرے بلاگ کی ایک پوسٹ کا اردو تجزیہ اور میرے علم کے مطابق اس میں بہتری کی گنجائشیں۔

سوموار، 27 اگست، 2007

شہرنامہ

سانحہ لال مسجد پر احمد فراز کا تازہ کلام


وہ عجیب صبحِ بہار تھی


کہ سحر سے نوحہ گری رہی


مری بستیاں تھیں دُھواں دُھواں


مرے گھر میں آگ بھری رہی


میرے راستے تھے لہو لہو


مرا قریہ قریہ فگار تھا


یہ کفِ ہوا پہ زمین تھی


وہ فللک کہ مشتِ غبار تھا


کئی آبشار سے جسم تھے


کہ جو قطرہ قطرہ پگھل گئے


کئی خوش جمال طلسم تھے


جنھیں گرد باد نگل گئے


کوئی خواب نوک سناں پہ تھا


کوئی آرزو تہِ سنگ تھی


کوئی پُھول آبلہ آبلہ


کوئی شاخ مرقدِ رنگ تھی


کئی لاپتہ میری لَعبتیں


جو کسی طرف کی نہ ہوسکیں


جو نہ آنے والوں کے ساتھ تھیں


جو نہ جانے والوں کو روسکیں


کہیں تار ساز سے کٹ گئی


کسی مطربہ کی رگ گُلُو


مئے آتشیں میں وہ زہر تھا


کہ تڑخ گئے قدح و سَبُو


کوئی نَے نواز تھا دم بخود


کہ نفس سے حدت جاں گئی


کوئی سر بہ زانو تھا باربُد


کہ صدائے دوست کہاں گئی


کہیں نغمگی میں وہ بَین تھے


کہ سماعتوں نے سُنے نہیں


کہیں گونجتے تھے وہ مرثیے


کہ انیس نے بھی کہے نہیں


یہ جو سنگ ریزوں کے ڈھیر ہیں


یہاں موتیوں کی دکان تھی


یہ جو سائبان دھوئیں کے ہیں


یہاں بادلوں کی اڑان تھی


جہاں روشنی ہے کھنڈر کھنڈر


یہاں قُمقُموں سے جوان تھے


جہاں چیونٹیاں ہوئیں خیمہ زن


یہاں جگنوؤں کے مکان تھے


کہیں آبگینہ خیال کا


کہ جو کرب ضبط سے چُور تھا


کہیں آئینہ کسی یاد کا


کہ جو عکسِ یار سے دور تھا


مرے بسملوں کی قناعتیں


جو بڑھائیں ظلم کے حوصلے


مرے آہوؤں کا چَکیدہ خوں


جو شکاریوں کو سراغ دے


مری عدل گاہوں کی مصلحت


مرے قاتلوں کی وکیل ہے


مرے خانقاہوں کی منزلت


مری بزدلی کی دلیل ہے


مرے اہل حرف و سخن سرا


جو گداگروں میں بدل گئے


مرے ہم صفیر تھے حیلہ جُو


کسی اور سمت نکل گئے


کئی فاختاؤں کی چال میں


مجھے کرگسوں کا چلن لگا


کئی چاند بھی تھے سیاہ رُو


کئی سورجوں کو گہن لگا


کوئی تاجرِ حسب و نسب


کوئی دیں فروشِ قدیم ہے


یہاں کفش بر بھی امام ہیں


یہاں نعت خواں بھی کلیم ہے


کوئی فکر مند کُلاہ کا


کوئی دعوٰی دار قبا کا ہے


وہی اہل دل بھی ہیں زیبِ تن


جو لباس اہلِ رَیا کا ہے


مرے پاسباں، مرے نقب زن


مرا مُلک مِلکِ یتیم ہے


میرا دیس میرِ سپاہ کا


میرا شہر مال غنیم ہے


جو روش ہے صاحبِ تخت کی


سو مصاحبوں کا طریق ہے


یہاں کوتوال بھی دُزد شب


یہاں شیخ دیں بھی فریق ہے


یہاں سب کے نِرخ جدا جدا


اسے مول لو اسے تول دو


جو طلب کرے کوئی خوں بہا


تو دہن خزانے کے کھول دو


وہ جو سرکشی کا ہو مرتکب


اسے قُمچیوں سے زَبُوں کرو


جہاں خلقِ شہر ہو مشتعل


اسے گولیوں سے نگوں کرو


مگر ایسے ایسے غنی بھی تھے


اسی قحط زارِ دمشق میں


جنھیں کوئے یار عزیز تھا


جو کھڑے تھے مقتلِ عشق میں


کوئی بانکپن میں تھا کوہکن


تو جنوں میں قیس سا تھا کوئی


جو صراحیاں لئے جسم کی


مئے ناب خوں سے بھری ہوئی


تھے صدا بلب کہ پیو پیو


یہ سبیل اہل وفا کی ہے


یہ نشید نوشِ بدن کرو


یہ کشید تاکِ وفا کی ہے


کوئی تشنہ لب ہی نہ تھا یہاں


جو پکارتا کہ اِدھر اِدھر


سبھی مفت بر تھے تماشہ بیں


کوئی بزم میں کوئی بام پر


سبھی بے حسی کے خمار میں


سبھی اپنے حال میں مست تھے


سبھی راہروانِ رہِ عدم


مگر اپنے زعم میں ہست تھے


سو لہو کے جام انڈیل کر


مرے جانفروش چلے گئے


وہ سکوُت تھا سرِ مے کدہ


کہ وہ خم بدوش چلے گئے


کوئی محبسوں میں رَسَن بہ پا


کوئی مقتلوں میں دریدہ تن


نہ کسی کے ہاتھ میں شاخ نَے


نہ کسی کے لب پ گُلِ سخن


اسی عرصہء شب تار میں


یونہی ایک عمر گزر گئی


کبھی روز وصل بھی دیکھتے


یہ جو آرزو تھی وہ مرگئی


یہاں روز حشر بپا ہوئے


پہ کوئی بھی روز جزا نہیں


یہاں زندگی بھی عذاب ہے


یہاں موت بھی شفا نہیں


مشکل الفاظ


لعبت:: گڑیاں، مورتیاں، کھلونے


مطربہ: خوش کرنے والا، قوال


گلو: حلق، کنٹھ، گردن


دُزد: چور، سرقہ


قمچیوں: چابک، چھڑی، ہنٹر


قدح و سبو: بڑا پیالہ اور صبح کی شراب


باربُد: یونانی موسیقار جو المیہ دھنیں بناتا تھا


چکیدہ: ٹپکا ہوا


تاک: انگور


خم بدوش: شراب کا مٹکا اٹھانے والا


محبسوں: حساب کتاب کرنے والا

ہفتہ، 25 اگست، 2007

پھرتیاں

کچھ عرصہ پہلے میں نے اپنے ایک دوست کو مشورہ دیا کہ ٹیوٹا کے بنائے گئے ووکیشنل ٹرینگ انسٹیٹیوٹ میں داخلہ لے لے۔ یہ دوست بی کام میں میرے ساتھ تھا لیکن پھر کچھ مسائل کی وجہ سے پڑھائی چھوڑ گیا آج کل پھر پڑھنے کے چکروں میں تھا۔ میں نے کہا کہ ووکیشنل ٹرینگ انسٹی ٹیوٹ میں چلا جا۔ پیسے بھی بچیں گے اور تکنیکی تعلیم کا تو جواب ہی نہیں۔ لیکن اس وقت مجھے بھی یاد نہیں تھا کہ یہ پاکستان ہے اور وہ بھی بھول گیا۔
پہلے دس بارہ دن بڑی دلچسپی سے پڑھایا گیا۔ پھر ان کے کاغذات یہ کہہ کر رکھوا لیے گئے کہ آپ کورس آدھا چھوڑ کر بھاگ نہ جائیں اس لیے ضمانت کے طور پر ہے۔ اب یہ حال ہے کہ روز طلباء وہاں جاتے ہیں اور گپیں مار کر آجاتے ہیں۔ ٹیچرز سے پڑھانے کا کہا جائے تو کہتے ہیں یار پورا سال پڑا ہے کہاں جانا ہے تم نے۔ اگر چھاپہ قسم کا وزٹ ہو تو سٹوڈنٹ سب ٹھیک ہے کی رپورٹ دیتے ہیں ٹیچرز کے ساتھ پورا سال رہنا ہے کوئی مذاق تو نہیں۔ کہ مگرمچھ سے بیر لے لیں۔ یہ چودہ ماہ کا کمپیوٹر ہارڈوئیر میں ڈپلومہ ہے۔ کمرہ جس میں یہ بیٹھتے ہیں کباڑ خانے سے کچھ اونچی چیز معلوم ہوتا ہے۔ ابھی تک انھیں ٹولز تک نہیں ملے  جو سٹوڈنٹس کے گروپ کو حکومت کی طرف سے ایشو کیے جاتے ہیں۔
اس کا کہنا ہے کہ دوسرے چھوٹے ڈپلومے اچھی حالت میں ہیں۔ اچھے کلاس روم ہیں اور پڑھائی بھی ہوتی ہے۔ لیکن میرا نہیں خیال کہ ایسا ادھر بھی ہوتا ہو۔
اور ہماری حکومت اسی بل پر ناچ رہی ہے کہ ہنرمند پیدا کیے جارہے ہیں۔ یہ جس قسم کے ہنرمند ہیں وہ تو آپ ملاحظہ کرچکے ہیں۔
آہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا زندگی ہے اس قوم کی بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جمعرات، 23 اگست، 2007

آتے جاتے

لو جی آج پھر چار دن کے کوکے کے بعد نیٹ پر واپس آئے ہیں۔ رات ہی  انٹرنیٹ چلا ہے اور ہم صبح بانگاں ویلے نیٹ پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ محب علوی کی فرمائش ہم سے پوری نہیں ہورہی ایک عدد تھیم اردو کرنا ہے۔ انشاءاللہ آج لگ جائے گا۔ 

ہفتہ، 18 اگست، 2007

فائر فاکس کا مفید پلگ ان

یہ پوسٹ بطور نمونہ لکھی جارہی ہے۔ ہمیں آج ہی ایک عدد فائر فاکس اضافت ملی ہے جس نے ہمارے بلاگ جیسے تھکے ہوئے سرور سے بھی رابطہ کرلیا۔ اب اس کے ذریعے ہم اپنے بلاگ میں داخل ہوئے بغیر پوسٹیں فرما سکیں گے۔ آپ بھی ٹرائی فرمائیں۔ اور ہمیں دعائیں دیں۔
سیٹنگ بہت آسان ہے کسٹم بلاگ چنیں اور اس میں سے ورڈ پریس پہلے سے منتخب ہوگا نہیں تو منتخب کرلیں اور اپنا بلاگ  ایڈریس دیں۔ یہ یادرہے کہ آپ نے xmlrpc نامی فائل کو کچھ نہیں کہنا اسے ایسے ہی رہنے دیں بس اپنے بلاگ کا ڈومین لکھ دیں اس کے شروع میں نمونے کا ایڈریس مٹا کر۔
اپنا یوزر نیم اور پاس ورڈ دیں اور لاگ ان ہوکر پوسٹ فرمائیں۔
لیکن آپ اسے حاصل کیسے کریں گے۔ یہ لیجیے
سکرائب فائر
موج کریں اور ہمیں دعائیں دیتے رہیں۔
وسلام

سوموار، 6 اگست، 2007

قصہ ہماری “کرنٹ” مصروفیات کا


یوں تو آج کل کرنٹ یعنی بجلی کا کافی کال شال پڑا ہوا ہے۔ جب چاہے بجلی آنکھ بند کرلیتی ہے۔ لیکن ہم نے سوچا ان دنوں کی کچھ مصروفیات کا ذکر کرتے چلیں۔


یونیورسٹی کھل چکی ہے، ہم ہیں اور اساتذہ کی ظالم اسائنمنٹس۔ ہمارا امتحانی نظام دوہرا سا ہے۔ ایک آدھ اسائنمٹ مبلغ پچیس فیصد نمبر کی ہر مضمون میں گھسیڑی ہوئی ہے۔ سمسٹر کے آخر پر سب کو ان کی پڑ جاتی ہے۔ چناچہ اب سارے اساتذہ ہم پر دانت تیز کررہے ہیں۔ کچھ نے اسائنمنٹس دے دی ہیں کچھ دینے کی باتیں کررہے ہیں۔ اور ہم جیسے نئے پنچھی منہ چَک کر دیکھ رہے ہیں کہ کریں تو کیا کریں۔ ساتھ ایک عدد پریزینٹیشن بھی ہے۔ یعنی نمائش غریباں بہ روئے رقیباں۔ سوال کرنے کے بھی نمبر ہیں اور یار لوگوں نے سوال کرکر کے سب رٹا شٹا بھلا دینا ہے۔ دعا کیجیے گا کہ اللہ ہمیں اس "امتحان" سے بخیر مکتی دے۔ ابھی فائنل کا امتحان پڑا ہے۔ آہ!!!!


آہ سے یاد آیا آہا اپنے مکی بھائی آج کل لینکس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہوئے ہیں۔ دھڑا دھڑ ڈسٹروز اتار رہے ہیں اور رائٹ کررہے ہیں۔ ڈی وی ڈی رائٹر کیا لے لیا ان کی تو چاندی ہوگئی۔ کوئی درجن بھر ڈسٹروز اتار چکے ہیں۔ اور کئی ایک قطار میں لگی اپنی باری کی منتظر ہیں۔ خود بھی کبھی فیڈورا استعمال کررہے ہوتے ہیں کبھی مینڈ(ر)ک۔ آج کل سلیک وئیر کو اتار رہے ہیں۔ ہمیں بھی مشورہ دیتے ہیں کہ ڈی وی ڈی ریڈر ہی کم از کم لے لو تاکہ فیڈورا نصب کرسکو۔ ہم بس ایک ٹھنڈی آہ سی بھر کر رہ جاتے ہیں۔ ابھی فرصت اور ہمت کہاں اتنی۔ لیکن امیدہے جلد ہی سب ٹھیک ہوجائے گا۔ بس اس سمسٹر کا بخیر اختتام ہوجائے اور ہماری چنگی سے وہ بن جائے(پتا نہیں اسے کیا کہتے ہیں سی جی پی اے شاید) چلیں جو بھی ہے۔ بس بن جائے۔


دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ اور بلاگ کا لے آؤٹ انشاءاللہ جلد ہی بدل دوں گا فی الحال گزارہ کریں۔


وسلام

ہفتہ، 4 اگست، 2007

آہ !!!! آخر کار


آداب عرض ہے!!


امید ہے احباب بخیریت ہونگے۔ یہ ڈیڑھ ماہ جس طرح گزرا ہے مجھے ہی پتا ہے۔ جیسے اندھا بہرا کرکے بٹھا دیا گیا ہو۔ انٹرنیٹ خراب رہا پھر پی سی جواب دے گیا۔ اب اللہ اللہ کرکے کچھ سلسلہ بنا ہے تو دعا کیجیے گا کہ اب حاضر ہوتا رہوں۔ اگرچہ بہت سی مصروفیت بھی ہے لیکن امید ہے کچھ نہ کچھ چلتا رہے گا۔


اس عرصے میں اچھے خاصے دردناک واقعات ہوگئے۔ اللہ اس قوم کواپنے حفظ امان میں رکھے۔ عجب فتنہ انگیزی اس پر حملہ آور ہے۔