ہفتہ، 29 مارچ، 2008

وزیراعظم کا سو ایام کا پلان

یوسف رضا گیلانی نے اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد تقریر کرتے ہوئے متعدد انقلابی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔ جیسے طلباء یونینز کی بحالی، میڈیا یونینز کی بحالی اور قبائلی علاقوں سے ایف سی آر کے خاتمے کا اعلان بلاشبہ تاریخی اقدامات ہیں۔ لیکن یہ اور اس طرح کے دوسرے اعلانات جو وزیر اعظم نے کیے ہیں ان کے لیے بہت دھیرج سے عمل درآمد ہوسکے گا۔ اعلانات تو ہوگئے ہیں لیکن ان کے لیے قانون سازی کرنا اور متبادل نظام لانا ایک بڑا چیلنج ثابت ہوگا۔ ایف سی آر اگرچہ کالا قانون تھا لیکن اس کے بعد قبائل عوام تھانہ کچہری کلچر بھی قبول نہیں کریں گے۔ اس کی بجائے وہ اپنے جرگہ سسٹم کو مزید فعال دیکھنا چاہیں گے۔ حکومت کو اس کا بہترین ممکن متبادل مہیا کرنا ہوگا ورنہ بات تعمیر سے تخریب کی طرف جاسکتی ہے۔ قبائلی علاقوں میں ڈیڑھ صدی سے موجود وہ مراعات یافتہ طبقہ جو پولیٹیکل ایجنٹ کہلاتا ہے اس صورت حال پر اچھا خاصا تلملائے گا اور اس کی مخالفت ضرور کرے گا۔

طلباء اور میڈیا یونینوں پر پابندی کا خاتمہ اچھی چیز ہے لیکن اس کے لیے بھی مناسب قانون سازی کی ضرورت ہے۔ ہمارا تو دور ہی گزر گیا دو سال انٹر کے اور دو سال گریجویشن کے اور ہمیں پتا ہی نہ تھا کہ یونین بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ لیکن اب الیکشنوں کا حکم دے دیا گیا ہے لیکن اس کے لیے مناسب ضابطہ اخلاق ضرور تشکیل دینا چاہیے۔ کہیں کالج اور تعلیمی ادارے سیاسی اکھاڑے ہی نہ بن جائیں۔ ہم ویسے بھی ہر معاملے کو بگاڑنے اور اس کی ممکنہ منفی حد تک لے جانے میں مہارت کاملہ رکھتے ہیں۔ پابندی تھی تو کیا حال تھا اب جانے کیا ہو۔۔۔

دعا ہے کہ جو وعدے کیے گئے ہیں ان پر عمل بھی کیا جائے۔

جمعرات، 27 مارچ، 2008

اوپن سوسی کے ساتھ پہلا دن

اوپن سوسی پہلی ڈِسٹرو ہے جسے اوبنٹو کے بعد ہم نے کئی بار دل کرنے پر بھی اڑایا نہیں۔ پہلی بار سی ڈی پر برن کرنے کے بعد انسٹال کیا شاید ہمارے اناڑی پن کی وجہ سے انسٹالر ایک جگہ جاکر اڑ گیا۔ ہم نے سسٹم بند کیا، ونڈوزسے بوٹ کروایا اور پھرے سے سی ڈی پر آئسو امیج کو برن کیا۔ اس کے بعد انسٹالیشن خیریت سے ہوئی۔ اوبنٹو کے انسٹالر کے مقابلے میں خاصا پیچیدہ سا انسٹالر ہے اس کا اور وقت بھی زیادہ لیتا ہے۔

خیر انسٹالیشن کے بعد لاگ ان ہوئے اور کوئی ستر بار تو کوشش کرہی لی ہوگی ریزولوشن بدلنے کی لیکن مجال ہے جو 1024 ضرب 768 سے ایک انچ آگے پیچھے ہوجائے۔ اصل میں ونڈوز پر تو یہ ٹھیک ہے لیکن لینکس پر ہمارا گرافکس کارڈ مسئلہ کرجاتا ہے اور سکرین ایک طرف کو چلی جاتی ہے اور سکرین کا سائز بھی کافی چھوٹا ہوجاتا ہے جیسے ونڈوز پر 800 بائی 600 کی ریزولوشن پر ہوتا ہے۔ اوبنٹو پر گسٹی کے بعد ریزولوشن بدلنے کا بڑا اچھا سسٹم آگیا تھا سوسی کو ابھی تک کوئی توفیق نہیں ہوئی۔

خیر اس کو بھی چھوڑتے ہیں ہم ایک کچھ کرلیں گے اس کا ایک طرف ایک پینل لگا دینے سے شاید کام بن جائے اوپن سوسی کا ورژن 11 جلد ہی آرہا ہے شاید وہاں معاملہ ٹھیک ہوجائے۔ آگے کی سنیے ہمیں پیکج منجر کی سمجھ نہیں آرہی تھی۔ یاسٹ اپنے پلے تو نہیں پڑاعجیب سی چیز ہے۔ جی ٹی کے میں اس کا موجہ ہے اور سوسی والوں نے سارا کے ڈی ای کنٹرول سینٹر اس میں گھسیڑ دیا ہے۔ سارے سسٹم کی کنفگریشن یہیں سے ہوسکتی ہے لیکن سافٹویر کا انتظام مجھے پسند نہیں آیا۔ ہم تلاش میں تھے کہ ایڈوانسڈ پیکجنگ ٹول مل جائے کہیں سے۔ آخر ہمیں آفیشل دستاویزات سے اس کا ایک حل مل ہی گیا ہے۔ انشاءاللہ آج رات بیٹھ کر ہم اسے اور سنیپٹک کو انسٹال کرلیں گے۔اس کے بعد سسٹم کو اپڈیٹ کریں گے تاکہ کچھ کام کا سلسلہ بن سکے۔

اس میں وہی پرانا مسئلہ ہے فائر فاکس کا جو کبھی اوبنٹو میں تھا دو سال پہلے جس کی وجہ سے اردو کے فونٹس ٹھیک رینڈر نہیں ہوتے تھے۔ مجھے نعمان کے بلاگ پر ایک بار پھر جانا ہوگا لگتا ہے۔ لیکن پہلے اپگریڈ کروں گا سسٹم کو شاید کام بن جائے ایسے ہی ورنہ پھر پینگو کو ڈس ایبل کروں گا۔

دعا کیجیے اس کا اور میرا ساتھ بن جائے۔ میں اس بار بڑے خشوع و خضوع سے اوبنٹو کو چھوڑ کر آیا ہوں۔ ورنہ اس کی چاٹ ایسی لگی ہے کہ کوئی اور ڈسٹرو ایک دن سے زیادہ میرے پاس ٹکی ہی نہیں۔ ایک آپس کی بات بتاؤں لینکس میں میرا سب سے زیادہ تجربہ اے پی ٹی استعمال کرنے کا ہے اور اوبنٹو کو بار بار انسٹال کرنے کا۔ اور کچھ نہیں آتا مجھے۔ باقی ادھر ادھر سے ٹیوٹوریل پکڑ کر گزارہ کرلیا کرتا ہوں۔ ;)

منگل، 25 مارچ، 2008

امید

آٹھ سال پہلے، جب مجھے اتنا ہوش نہیں تھا مجھے یاد ہے دوسرے ہم وطنوں کی طرح میں نے بھی لڈیاں ڈالی تھیں۔ بس اب سب ٹھیک ہوجائے گا۔ نوازشریف کی ایسی تیسی اس نے یہ کردیا وہ کردیا۔ ایک عرصے تک میں مشرف کا فین رہا اور اسے بابا مشرف سمجھتا رہا۔ پھر فیشن بدلا اور مشرف کو برا کہنے کا دور آیا۔ میں بھی نئے فیشن کے ساتھ بدل گیا اور اب میں مشرف کو برا بھلا کہتا ہوں۔

نئی حکومت آگئی ہے اور ہر کسی کی طرح مجھے بھی اس حکومت سے ہزاروں توقعات وابستہ ہیں۔ بجلی سستی ہوجائے گی۔ آٹا ملا کرے گا۔ گیس بھی سستی ہوجائے گی۔ گھی کے ایک کلو کے لیے گھنٹوں خوار نہیں ہونا پڑے گا اور لوڈ شیڈنگ ختم ہوجائے گی نیز جج بحال ہوجائیں گے۔ سمجھ لیں ہر وہ کام جو "ہو" سکتا ہے مملکت خداداد میں اور ہم اس کے "ہونے" کے منتظر ہیں مجھے اس کے"ہونے" کی اس نئی حکومت سے امید ہے۔


لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ امید کتنی درست ہے۔ لگا تو ہم لیتے ہیں۔ جاوید چوہدری کے ایک کالم میں اس نے کچھ ایسی ہی بات کی کہ ہر نئے وزیراعظم کے آنے پر لوگ نئے سرے سے اس کی شان میں بھجن گانا شروع ہوجاتے ہیں لیکن جب وہ چلا جاتا ہے تو انداز کلام بدل جاتا ہے اور الفاظ الٹ ہوجاتے ہیں میں نے تو یہ کہا تھا لیکن اس نے سنی ہی نہیں ۔۔۔۔


امید لگانا درست ہے لیکن بے جا امیدیں لگانا اور پھر خون جلانا بے کار ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس وقت ملک کی معیشت کی جو حالت ہے اس میں ریٹ اوپر تو جاسکتے ہیں نیچے آنے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں۔ ہمیں ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی ک"ا اشارہ" مل چکا ہے۔ ہماری برآمدات اور درآمدات کا فرق ہر ماہ نئی بلندیاں دیکھتا ہے۔ توانائی کے بحران نے ہماری صنعت کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ لے دے کر ایک کراچی اسٹاک ایکسچینج ہے جو نئی حکومت کے آنے پر تیزی دکھا سکتی ہے لیکن کراچی سٹاک ایکسچینچ سے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے؟ ہاں خزانہ بھی بھرا ہوا ہے لیکن ان ڈالروں سے ہم اپنا مزار بھی نہیں بنوا سکتے یہ اسی طرح خزانے شریف میں سڑتے رہیں گے۔


چناچہ امید ذرا ہولی رکھیے۔ جج تو بحال ہوجائیں گے انشاءاللہ۔ لیکن نچلی سطح پر انصاف کا بول بالا شاید ہی ہوسکے۔ جانے کب تک مزید کچہریوں میں جھوٹے مقدمات میں برسوں ذلیل ہونا پڑے گا ابھی۔ گھی بھی دستیاب ہونا شروع ہوجائےگا لیکن یہ بھول جائیں کہ اس کی قیمت سو روپے سے کم ہوگی۔ بجلی کی قیمت میں اضافہ اور لوڈ شیڈنگ میں کمی کا ہونا بھی کوئی مستقبل قریب کی بات نہیں لگتی۔ اس میں "ترقی" ہی نظر آتی ہے۔


امید لگائیے لیکن ایسی نہیں کہ بعد میں خون جلانا پڑے۔ یہی حقیقت ہے کہ یہ حکومت اگر اتفاق سے ایماندار نکل بھی آئی تو اس جیسی کئی حکومتیں درکار ہونگی ہمیں ساٹھ سال کا گند دھونے کے لیے۔

سوموار، 24 مارچ، 2008

الحمد اللہ

اللہ کریم کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں معزز ججوں کی رہائی دیکھنا نصیب کی۔ دعا ہے کہ اب انھیں بحال بھی اسی طرح کروادیا جائے۔۔۔

کاش ہماری اعلٰی عدلیہ کی طرح نچلی سطح پر موجود منصف بھی ٹھیک ہوجائیں۔ہمارا نظام انصاف بہت بگڑ چکا ہے اتنا کہ پھوڑے سے ناسور بن گیا ہے۔ مقدمے بازی کا مطلب ہے کہ آپ کے پاس جو کچھ ہے وہ عدالتی کارندوں کو جمع کروا دیں۔ ہمارے ایک عزیز ایک دو ناجائز مقدموں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ فرماتے ہیں ہر بار قریب کی تاریخ لینے کے لیے بھی رشوت مانگتے ہیں۔ پچھلی بار دوسرا فریق آیا ہی نہیں اور انھیں پھر تاریخ قریب کی ڈلوانے کے لیے رشوت دینا پڑی۔۔

اتنی مہنگائی اور کاروبار میں بے تحاشا مندی کے ساتھ ایسے خرچے ۔۔۔ غریب آدمی کیسے جی سکتا ہے۔۔ اب گیس والوں نے بھی فی یونٹ ساڑھے تین روپے اضافے کی درخواست اوگرا کو دے دی ہے۔ گیس کا بل جو کبھی ڈیڑھ سو سے زیادہ نہیں آیا کرتا تھا پچھلے چار پانچ سالوں میں تین گنا ہوچکا ہے۔ اور آگے جانے کتنا بڑھے گا۔

ملک میں افراط زر نے متوسط طبقے کے لیے حساس اعشاریوں کو خطرناک حدوں تک پہنچا دیا ہے۔ عام آدمی کی قوت خرید اس بری طرح متاثر ہوئی ہےکہ دوکاندار سارا دن بیٹھ کر مکھیاں مارا کرتے ہیں۔ لیکن کیا کریں کھانا تو ہے ڈیڑھ سو روپے کلو مرچ نہیں لے سکتے لیکن سو روپے کلو کے قریب ریٹ کی کوئی سبزی تو لینی ہی ہوگی جو پاپی پیٹ کی آگ بجھا سکے۔

پتا نہیں ترقی کہاں ہوئی ہے ہمیں تو کہیں نظر نہیں آتی۔ اتنی بھوک میں نے اپنی اس مختصر سی زندگی میں پہلی بار دیکھی ہے۔ گھی کے ایک پیکٹ کے لیے گھنٹوں کی خواری، کبھی آٹے کے ایک تھیلے کے لیے ذلالت مقصد صرف یہ کہ کچھ پیسے بچ جائیں۔ دل خون کے آنسو روتا ہے۔

عالمی سطح پر توانائی اور خوراک کے بحران نے اس صورت حال کو مہمیز کیا ہے۔ تیل تو جو مہنگا تھا سو مہنگا تھا ہی گھر کی توانائی بھی کم پڑتی جارہی ہے۔ بجلی اب صرف 20 گھنٹے کی رہ گئی ہے اور یہ پنجاب کے شہری علاقوں کی بات ہے کراچی اور دوسرے دیہی علاقوں میں یہ 20 گھنٹے بھی نہیں آتی۔ ملک کو پچھلے آٹھ سالوں میں ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر چلایا گیا ہے۔ ان آٹھ سالوں کا خمیازہ جانے ہمیں کتنے عشرے بھگتنا پڑے۔

ہمارے ملک میں ذرائع رلتے پھرتے ہیں لیکن کسی کو خیال نہیں۔ میں کئی بار یہ سوچ چکا ہوں اور اپنے دوستوں سے ذکر بھی کرچکا ہوں کہ ہمارے پاس اتنی دھوپ ہوتی ہے کہ کئی کالاباغ ڈیم بھی اتنی بجلی پیدا نہیں کرسکتے۔ اگر شمسی توانائی کی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی طرف توجہ دی جائے تو کیا بعید ہے کہ ایک دو سال میں ہی بجلی کا بحران غائب ہوجائے۔ لگژری کے لیے قرضہ دیا جاتا ہے، الم غلم خریدنے کے لیے کریڈٹ کارڈز موجود ہیں کیا اس کام کے لیے بینک قرضے نہیں دے سکے؟ یہ ٹیکنالوجی ابھی مہنگی ہے لیکن اس کے فوائد بھی تو دیکھیں۔ متبادل توانائی بورڈ چند پائلٹ پراجیکٹ شروع کرکے جانے کہاں غائب ہے۔ آٹھ دس پون چکیاں اور ایک آدھ گاؤں میں شمسی بجلی کے لیے پائلٹ پراجیکٹ چلانے سے توانائی کا بحران کم تو نہیں ہوجائے گا۔ ہمارے حکمران ساری دنیا سے کشکول اٹھائے بھیک مانگتے پھرتے ہیں ایک بار یہ بھی مانگ لیں۔

میں جارہا ہوں

میں اوبنٹو کو چھوڑ رہا ہوں۔ چونکہ میں اب معتبر ہوچلا ہوں اور سی شارپ سیکھ رہا ہوں اور آج کل میرا عشق مونو کے ساتھ چل رہا ہے جس کا نیا ورژن اوبنٹو پر دستیاب نہیں ہوتا۔ اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں نویل کی لینکس ڈسٹرو اوپن سوسی پر منتقل ہوجاؤں۔ اسی دوران اوبنٹو ہارڈی ہیرون 8.04 بھی آجائے گا۔ اگر مجھے وہ ڈسٹرو پسند نہ آئی تو پھر واپس اوبنٹو پر آجاؤں گا۔ مجھے بے وفا نہ سمجھا جائے یہ سمجھوتہ ہے جیسے "شریف" لوگ کرتے رہے ہیں۔

جمعرات، 20 مارچ، 2008

عید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج سے کوئی بیس برس پہلے تک اس بات کا تصور تک موجود نہیں تھا کہ کوئی عید میلاد بھی ہوسکتی ہے۔ ہم ایک جذباتی قوم ہیں اورہمیں کھیلنے کے لیے ایک آدھ کھلونا لازمی چاہیے ہوتا ہے۔ اب عید میلاد کے نام پر ہمارے ہاتھ میں ایک چھنکنا آچکا ہے اور ہم اسے ہر سال اچھی طرح بجا کر خوش ہوجاتے ہیں۔

عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دعوٰی کسے نہیں ہے؟ سب کو ہے مجھے بھی ہے۔ ہر سال کوئی نیا شوشہ ہی چھوٹتا ہے اس معاملے میں۔ اب پچھلے کچھ عرصے سے محفل نعت منعقد ہوتی ہے جس میں ایک خوش نصیب کو عمرے کا ٹکٹ بذریعہ قرعہ اندازی دیا جاتا ہے۔ کیا عشق کے لیے عمرے کا ٹکٹ ضروری ہے؟

جن کوٹھوں پر چند دن پہلے بسنت کے نعرے لگائے گئے تھے اور رات بھر غل غپاڑہ کیا گیا انھی پر اب سبز جھنڈے لگا دئیے گئے۔۔۔یہ کیسا عشق ہے جو سبز جھنڈے لگانے،  رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتی والے نقش سینے پر لگانے اور نعرے لگانے تک محدود ہے؟

آج رات تو مجھے یوں لگا جیسے یہ 12 ربیع الاول کی شب نہیں شب قدر ہے۔ سرکاری ٹیلی وژن پر ایک سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کانفرس ہورہی ہے شاید اس میں ایک بندہ کاغذوں کے پلندے سے سبق پڑھ کر سنا رہا تھا اور باقی ڈھیر سارے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ کئی تو اپنے سبق یاد کرنے میں اردگرد سے بے خبر تھے۔ یہ کیسا عشق ہے؟

ڈنمارک والے کچھ عرصے بعد تیلی لگا دیتے ہیں اور پھر گھر جلنے کا تماشا دیکھتے ہیں۔ ہم بھی پھونکیں مار مار کر اپنا ہی آشیانہ جلا ڈالتے ہیں۔ کل کسی جگہ خبر پڑھی کہ اب تک ہونے والے مظاہروں میں 50 مسلمان راہی ملک عدم ہوچکے ہیں۔

ہم سے پہلے کے مسلمان عشق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر کہاں جا پہنچے اور ہم ہیں کہ ہر سال اتنا اہتمام کرتے ہیں پھر بھی تنزلی ہی تنزلی ہے ترقی کہیں نظر نہیں آتی۔۔۔۔ہر شے سے برکت اٹھتی جاتی ہے۔۔۔قتل غارت گری ہر سال بڑھتی جاتی ہے یہ کیسا عشق ہے ہمارا جس کا فیضان ہمیں نصیب نہیں ہوتا؟

کہیں ہم غلط تو نہیں کسی جگہ؟

بدھ، 19 مارچ، 2008

اوپن سورس کی حکمت عملی

میں پچھلے کچھ دنوں سے اس بارے میں پڑھ رہا ہوں سوچا آپ سے شئیر کرتا چلوں۔ رات الف نظامی سے بات ہوئی تو کہنے لگے تقسیم کرو اور فتح کرو کی پالیسی پر چلو۔ انھوں نے تو یہ سی شارپ سیکھنے کے تناظر میں کہا تھا لیکن میں اسے اوپن سورس کے تناظر میں دیکھتا ہوں۔

آزاد مصدر پراجیکٹس زیادہ دیر نہ چل سکنے کے سلسلے میں خاصے بدنام ہیں۔ اکثر پراجیکٹ جو بہت مشہور ہوئے ان کی وجہ یہ ہے کہ انھیں اچھی سپانسر شپ حاصل ہے اور وہ مارکیٹ میں جگہ بنا چکے ہیں۔ ایک اور چیز جو میں نے ان مقبول پراجیکٹس کے بارے میں نوٹ کی وہ ان کی حد سے بڑھی ہوئی سہولیات ہیں۔ غضب خدا کا آپ کو ہر چیز کا حل مل جاتا ہے۔ اب فائر فاکس کو ہی لے لیں اضافتوں کے نام پر آپ فائر فاکس کو جانے کیا کیا روپ دے سکتے ہیں۔ ایف ٹی پی ٹرانسفر کی سہولت، اس میں بیٹھ کر بلاگ لکھیں، آنلائن بک مارکس محفوظ کریں اور جانے کیا کیا۔۔

یہ اضافتوں والا سلسلہ بہت اچھا ہے۔ آپ پروگرامر کو ایک حد تک اجازت دے دیتے ہیں کہ وہ سافٹویر میں قابل تبدیلی اضافے کردے۔ اس حکمت عملی کی کامیاب مثالیں فائر فاکس اور ورڈپریس ہیں۔ اس کو بنیاد بنا کر اب کئی دوسرے پراجیکٹس بھی اس طرف آرہے ہیں۔ اوپن آفس مشہور زمانہ آزاد مصدر آفس پروگرام ہے۔ یہ پچھلے کچھ عرصہ سے اضافتوں کے سلسلے میں آگے آرہا ہے ۔اگرچہ یہ ابھی انگلیوں پر گنی جاسکتی ہیں لیکن اوپن آفس 3 جو کہ ستمبر اکتوبر کے قریب مارکیٹ میں آرہا ہے میں اضافتوں کے لیے اچھا فریم ورک مہیا کیا گیا ہے۔ امید کرتے ہیں کہ اس سے اوپن آفس میں بہت زیادہ سہولیات میسر آجائیں گی۔ اس وقت اوپن آفس میں بہت سی چیزیں سرے سے موجود ہی نہیں جو اس کے کمرشل متبادل مائیکروسافٹ آفس کے پانچ سال پرانے ورژنز میں بھی ہیں۔ عام سی مثال ایک عدد کلپ بورڈ ٹول ہے جو آپ کو فعال ہونے پر 24 کاپی کرنے کی اجازت دیتا ہے جنھیں آپ ترتیب وار ایسے ہی ورڈ فائل میں پیسٹ کرسکتے ہیں۔

مونو اور مونو ڈویلپ آج کل میرےعشق میں شامل ہیں اور میں سوتے میں بھی ان کے بارے میں سوچتا ہوں۔ یہ ایک الگ داستان ہے کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔ مونو ڈویلپ بھی پلگ انز کی طرز پر خصوصیات اور فیچرز میں اضافے پر عمل پیرا ہے۔ اس وقت اگرچہ اس کے پلگ ان نوویل کے ہی تیار کردہ ہیں لیکن مستقبل میں امید کی جاسکتی ہے کہ لوگ ایویں کھیڈ تماشے کے لیے اس کے پلگ ان تشکیل دے دیا کریں گے۔

اتوار، 16 مارچ، 2008

اردو میں بلاگ کس کے لیے لکھیں؟

ہمارے ایک نئے اردو بلاگر خرم شہزاد خرم نےمحفل پر ایک پوسٹ میں گلہ کیا ہے کہ پرانے بلاگرز نئے بلاگروں کے بلاگ پڑھتے نہیں اور تبصرے نہیں کرتے۔ بلکہ آپس میں ہی تو میرا حاجی بگو اور میں تیرا حاجی بگویم کرتے رہتے ہیں۔

مجھے ان سے اختلاف ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ ہم ہر اس تحریر پر تبصرہ کرتے ہیں جو اچھی لگتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ تبصرہ نہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو پڑھا نہیں جارہا اور تیسری بات یہ کہ آپ خود بھی دوسروں کے بلاگز پر تبصرے کریں گے تو لوگ آپ کے بلاگ پر تبصرے کریں گے۔

تبصرے حاصل کرلینا بلاگنگ کی معراج نہیں ہے۔ ایک وقت تھا جب مجھے تبصرہ نہ ہونے کا بہت قلق ہوا کرتا تھا۔ لیکن آہستہ آہستہ میں نے تبصرے کی توقع ہی چھوڑ دی۔ اب کوئی تبصرہ کرے یا نہ کرے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نئے بلاگرز کے لیے میری کچھ تجاویز ہیں اگرچہ بدتمیز پہلے ہی اس سلسلے میں تجاویز دے چکا ہے۔

تبصروں کی آس نہ رکھیں۔ اس کی بجائے آپ اگر کلک کاؤنٹر جیسے پلگ ان استعمال کریں تو آپ کو پتا لگے گا کہ آپ کو پڑھا جارہا ہے۔ اپنی ویب سائٹ کے اعدادو شمار کسی بھی ویب سائٹ کاؤنٹر سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ گوگل اینالیٹکس کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ کو پتا چلے گا کہ کون کون آپ کا بلاگ پڑھ رہا ہے اور کہاں سے پڑھ رہا ہے۔

تحاریر لکھتے رہیں۔ اگر داد وصولنی ہے تو انوکھے موضوعات چنیں۔ یہ موضوع میں نے پہلی بار ضمیمہ پر دیکھا اور اس پر تبصرہ کرنے پر مجبور ہوگیا۔

سیاست پر لکھیں، یا کسی اور موضوع پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں۔ بس لکھ ڈالیں لیکن یہ بھی نہ ہو کہ آپ بلاگنگ کے نشئی ہوجائیں۔

بلاگ پر وہ لکھیں جو لوگ پڑھنا چاہتے ہیں۔ میرے بلاگ پر ورڈپریس اور لینکس کے کئی ٹیوٹوریلز موجود ہیں۔ میں نے یہ سب خود سیکھا اور پھر آگے سکھانے کے لیے لکھا۔ ان تحاریر کی وجہ سے اب بھی کئی نئے قاری میرے بلاگ پر آتے ہیں بلکہ اگر کوئی لینکس کے بارے میں پوچھے تو میں اپنے بلاگ کا ربط بلاتکلف دے دیا کرتا ہوں۔ آپ بھی کچھ ایسا لکھیں جو قاری کو سیکھانے کی نیت سے لکھا گیا ہو۔

بلاگ آپ کی ذاتی ڈائری ہے جو آنلائن آگئی ہے۔ اس سے بہت زیادہ توقعات لگانا خاصا پریشان کرتا ہے بعد میں۔ بس اسے اپنی روٹین بنا لیں ایک ایسی جگہ جہاں آپ دل کی بھڑاس نکال سکتے ہیں۔ کم از کم میں تو ایسا ہی کیا کرتا ہوں۔

اور ایک آخری بات زبان کے سلسلے میں۔ مجھے یہ احساس بڑی شدت سے ہورہا ہے کہ اردو کی خدمت کے نام پر ہم اس کی ٹانگ توڑ رہے ہیں انٹرنیٹ پر۔ اردو میں املاء کی غلطیاں بہت زیادہ کی جارہی ہیں۔ اردو بلاگرز سے التماس ہے کہ لکھنے کے بعد تین چار بار پوسٹ کو پڑھ لیا کریں۔ ہم ذ کو ز اور ز کو ذ بنا رہے ہیں۔ ت اور ط کی تمیز ختم ہوتی جارہی ہے۔ براہ کرم اردو املاء کا خیال رکھیے۔ اگر آپ کی زبان معیاری ہوگی تو قاری پر اچھا اثر پڑے گا اس کا بھی۔ عجلت میں کی گئی پوسٹ پھوہڑ پنے کو ظاہر کرتی ہے۔  خود میرا یہ حال ہے کہ دو تین بار پڑھنے کے باوجود غلطیاں رہ جاتی ہیں جنھیں پوسٹ کرنے کے بعد پھر مدون کرکے درست کیا کرتا ہوں۔

وسلام

بدھ، 12 مارچ، 2008

میرے مولا یہ کیسی بستی ہے

میرے مولا یہ کیسی بستی ہے

جہاں زندگی جینے کو ترستی ہے

میرے مولا یہ کیسی بستی ہے

جہاں دہشت مکینوں پہ ہنستی ہے

میرے مولا یہ کیسی بستی ہے

جہاں صبح و شام آگ برستی ہے

میرے مولا یہ کیسی بستی ہے

میرے مولا یہ کیسی بستی ہے

سوموار، 10 مارچ، 2008

اور کتنی آزمائشیں میرے مولا :((

اور کتنی آزمائشیں میرے مولا

اور کتنی آزمائشیں میرے مولا

کب تک ہم بے گناہوں کے لاشے اٹھاتے رہیں گے

کب تک اپنے ہیرے جیسے جوانوں کے مردہ جسم اپنے کاندھوں پر ڈھوتے رہیں گے

کب تلک یہ آزمائشیں میرے مولا

کب تک

یہ آنکھیں تیری رحمت کے انتظار میں پتھرا گئی ہیں

رحم اے رب ذ الجلال

رحم فرما اے اللہ ہم پر رحم فرما۔۔

ارحم الرٰحمین اب سکت نہیں ہے۔

اب حوصلہ نہیں رہا

اے مالک ہم یہ بوجھ نہیں اٹھا سکتے

تجھے تیرے پیاروں کا واسطہ ہم پر کرم فرما۔۔

رحم اے مالک دو جہاں :((

اے دین کے ٹھیکیدارو

ہمیں کیوں روکتے ہو

کیا ہم نے کبھی یہ کہا کہ تم نے دین میں رسمیں ایجاد کرلیں؟

کیا ہم نے کبھی یہ کہا کہ تم 360 دنوں میں ایک دن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کرکے اپنے فرض سے بری الذمہ ہوجاتے ہو؟

کیا ہم نے کبھی تمہارے جھنڈے لگانے پر اعتراض کیا؟

جو تم اب شاہ کے پیسے کھا کر ہم پر کرتے ہو؟

آخر ہم کیوں سیاہ جھنڈے نہ لہرائیں؟

کیا تمہیں یاد نہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کیا ہے؟

"جس قوم میں انصاف نہ رہے وہ قوم تباہ ہوجاتی ہے"

کیا تم اندھے، گونگے بہرے ہو کہ تمہیں نظر نہیں آتا؟

کیا تمہیں یہ بربادی اپنی آنکھوں سے دکھتی نہیں؟

تو پھر ہمیں کیوں روکتے ہو؟

کیوں شاہ کا پیسہ کھا کر فتوٰی دیتے ہو کہ سیاہ جھنڈا لہرانا گناہ ہے؟

ہم ماتم کیوں نہ کریں؟

اپنی قوم کی بربادی پر ماتم کیوں نہ کریں؟

جس سے انصاف بھی چھن گیا۔۔۔

ہم آخر ماتم کیوں نہ کریں۔۔۔۔ ؟

سوموار، 3 مارچ، 2008

تازہ ترقیاں

میری چھوٹی بہن کل کہنے لگی کہ نوٹ تو ہم خود چھاپتے ہیں تو انھیں زیادہ سے زیادہ کیوں نہیں چھاپا جاتا تاکہ سب امیر ہوجائیں؟

میں نے اسے سمجھایا بیٹا نوٹوں کو کونسا کھا لینا ہے۔ نوٹ چھاپنے سے پہلے ان کے پیچھے بطور ضمانت سونا رکھا جاتا ہے یا ڈالر یورو رکھے جاتے ہیں۔ نوٹ ہونگے اور ان سے خریدنے کے لیے چیزیں نہ ہونگی تو نوٹ کونسا پیٹ بھر دیں گے۔ اسے یہ بات سمجھ آگئی لیکن میرے لیے سوچ کا ایک در وا ہوگیا۔

ابھی دو دن پہلے ہی تیل کی قمیتیں بڑھائی گئی ہیں۔ پٹرول 3 روپے اور ڈیزل 5 روپے۔ ابھی کرم فرما کہتے ہیں کہ یہ مزید بڑھیں گی۔ میں نے جب یہ سوچا کہ اس "دیباچے" کا ہم پر کیا اثر پڑے گا تو بڑی سادہ سی تصویر ابھری۔ پیداواری لاگتیں بڑھ جائیں گی۔ خصوصًا لانے لے جانے یعنی نقل و حمل کے اخراجات بڑھ جائیں گے جس کے نتیجے میں کھانے پینے کی چیزوں کی قمیت سے لے کر کرایے تک سب کچھ بڑھ جائے گا۔

اس سلسلے میں مطلع واپڈا نے عرض کردیا ہے۔ بجلی کی قیمت 9 فیصد تک بڑھا دی گئی ہے۔ ہم ہر سال کی طرح اس بار بھی گرمیوں میں ہر اس چیز کو بند کرتے پھر رہے ہونگے جو "چل" رہی ہو بجلی سے نہیں ہمارے خون سے۔ لیکن بل اس بار بھی تین ہزار سے کم نہیں آئے گا بلکہ شاید 4000 تک پہنچ جائے ۔

ملک میں افراط زر کی شرح اس وقت 8 فیصد کے قریب ہے جو حالیہ تیل کی قیمتیں بڑھانے سے 10 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ یعنی "پیسے بڑے کھانے کو کچھ نہیں"۔  ملک کی برآمدات میں مناسب کمی دیکھنے میں آئے گی اور ہوسکتا ہے کچھ عقلمند آجر فیکٹریوں سے سرمایہ نکال کر کراچی سٹاک ایکسچینچ میں لگا کر منافع کمانے کی سوچیں۔

ملک میں اس وقت جو سیکٹر ترقی کررہا ہے وہ آئی ٹی ہے۔ لیکن آئی ٹی سب کا پیٹ نہیں بھر سکتی۔ انٹرنیٹ کے ریٹس وہ واحد چیز ہیں جو سستے ہورہے ہیں۔ کاش ان کے کھانے سے پیٹ بھر جاتا تو میں 1024 کلو بٹس کی ایک ڈی ایس ایل لائن 1199 روپے مہینہ میں لے کر اس جھنجھٹ سے ہی جان چھڑا لیتا۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا کچھ نہیں۔ یا پھر کاروں کی قیمت بھی کم ہوگئی ہے یہی کوئی 34 ہزار روپے فی کار تک۔ اگر اس سے روزی روٹی کا کوئی بندوبست ہوسکتا تو میں ضرور ایک عدد کار لے لیتا اور قصہ ہی تمام ہوتا۔

ملک میں بیرون ممالک کے ری کنڈیشنڈ آلات تھوک کے حساب سے آرہے ہیں۔ گاڑیاں، بسیں، کاریں، کمپیوٹر، مانیٹر، کمپیوٹر کے لوازمات، موبائل فون اور نہ جانے کیا کچھ۔ آپ نے اگر کچھ کمانا ہے تو ان میں سے کسی کاروبار سے منسلک ہوجائیں۔ یا اپنی زرعی زمین بیچ کر شہر آجائیں۔ اگر شہر کے قریب زمین کے مالک ہیں تو کھیتوں کو ہموار کروا کر ایک کالونی کا منصوبہ شروع کرلیں۔ بلدیہ کو روکڑا لگوا کر آپ کی گیس بھی منظور ہوجائے گی، بجلی بھی اور پانی سیورج بھی۔ زمینیں بیچیں اور گھر بیٹھ کر کھائیں۔ یہ نہ سوچیں اس قیمتی اراضی سے جو ہر سال گندم ہوتی تھی وہ کہاں سے آئی گے۔ گندم تو باہر سے آہی رہی ہے۔ اللہ کا بڑا فضل ہے پچھلے سال وافر گندم ہونے کے باوجود ملک خداداد کے رہنے والے آتے کو ترستے رہے اور کئی کئی دن چاول کھا کر گزارہ کرتے رہے۔

کشکول ٹوٹ گئے ہیں۔ اب اگر آئی ایم ایف نے ترقیاتی اخراجات میں 100 ارب روپے کی کٹوتی کا کہا ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ روشن خیال حکومت تو چلی گئی اب آنے والوں نے کیا کرلینا تھا؟ اس لیے بہتر ہے یہ غیر ضروری اخراجات ختم ہی کردئیے جائیں۔ ٹیکس وصولیوں کے ہدف میں کمی کردی گئی ہے اس کو بھی سنجیدگی سے نہ لیں اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔  ڈیموں میں ایک ہفتے سے بھی کم کا پانی رہ گیا ہے اس کی بھی فکر نہ کریں آپ۔

بس آپ اپنے آپ کو تیار کرلیں کرایوں میں اضافے کے، سبزیاں سو روپے کلو تک خریدنے کے، "ڈھیر سارے پیسے" کے لیے، بجلی کی سردیوں سے بھی بدترین لوڈ شیڈنگ کے لیے (جو کہ انشاءاللہ ایک ماہ میں شروع ہوا چاہتی ہے)۔