اتوار، 18 جنوری، 2009

تم آؤ تو

میری پہلی باضابطہ نظم۔ اگرچہ آزاد لیکن محترم وارث صاحب اور جناب اعجاز اختر کی تصدیق کے ساتھ کہ یہ وزن میں ہے۔
---
تم آؤ تو
یوں کہ جیسے
صدیوں بعد
تپتے تھر میں
بارش برسے
تم آؤ تو
یوں کہ جیسے
بنجر تن میں
خوشیاں اتریں
تم آؤ تو
یوں کہ جیسے
ویراں من میں
نغمے بکھریں
تم آؤ تو
یوں کہ جیسے
ٹکڑے جاں کے
پھر جڑ جائیں
تم آؤ تو
یوں کہ جیسے
سارے دُکھ یہ
پھُر اڑ جائیں
تم آؤ تو
یوں کہ جیسے
کالی شب میں
چندا اترے
تم آؤ تو
یوں کہ جیسے
سوہنے رب کی
رحمت اترے
تم آؤ تو
یوں کہ جیسے
امّیدوں کا
سورج نکلے
تم آؤ تو
یوں کہ جیسے
کلیاں باغوں
میں مسکائیں
تم آؤ تو
یوں کہ جیسے
تپتے تھر میں
بارش برسے
----

سوموار، 12 جنوری، 2009

حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر یومیہ ایک ارب 55 کروڑ 48 لاکھ 42 ہزار روپے ٹیکس وصول کر رہی ہے

پشاور ۔ حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر یومیہ ایک ارب 55کروڑ 48لاکھ 42ہزار روپے ٹیکس وصول کر رہی ہے ۔ جس میں ایک ارب16کروڑ58لاکھ62ہزار روپے پٹرولیم لیوی(ایل ای وائی)اور 38کروڑ89لاکھ79ہزار روپے سیلز ٹیکس کی مد میں صارفین سے وصول کئے جا رہے ہیں۔جبکہ حکومت نے نئی پیٹرولیم پالیسی کا اعلان بھی کردیا ہے جس کے تحت اب پندرہ روز کے بجائے مہینے کے مہینے کو قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔ حکومت نے پٹرولیم منصوعات کو زیادہ سے زیادہ ریونیو وصولی کا ذریعہ بنا لیا ہے ۔مصنوعات پر ملک میں پہنچ درآمدی قیمت سے دوگنے ٹیکسز وصول کئے جا رہے ہیں ۔حکومت یکم جنوری سے پندرہ جنوری 2009ء تک مجموعی طور پر 23ارب32کروڑ26لاکھ34ہزار روپے وصول کرے گی جس میں 17ارب48کروڑ79لاکھ38ہزار روپے پٹرولیم لیوی اور پانچ ارب83کروڑ46لاکھ96ہزار روپے سیلز ٹیکس کی مد میں ہوں گے ۔اوگرا فارمولے کے مطابق پٹرول کی ملک میں پہنچ درآمدی قیمت 20.83روپے فی لٹر ہے جبکہ ریٹیل قیمت 57.66روپے فی لٹر،لائٹ ڈیزل کی ملک میں پہنچ آرمدی قیمت 28.29روپے جبکہ ریٹل قیمت 48روپے ،مٹی کے تیل کی ملک میں پہنچ آرمدی قیمت30.70روپے جبکہ ریٹیل قیمت51.87روپے فی لٹر،ہائی اوکٹین کی ملک میں پہنچ درآمدی قیمت 22.99روپے جبکہ ریٹیل قیمت 72.08روپے فی لٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی ملک پہنچ درآمدی قیمت 32.59روپے ہے جبکہ ریٹیل قیمت 57.14روپے فی لٹر ہے ۔حکومت فی لٹر پٹرول پر 35.27روپے ریونیو وصول کر رہی ہے جس میں 27.32روپے پٹرول لیوی اور 7.95روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔فی لٹر مٹی کے تیل پر 20.10روپے ریونیو وصول کیا جا رہا ہے جس میں 12.92روپے پٹرول لیوی اور 7.15روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔فی لٹر ہائی سپیڈ ڈیزل پر 23.56روپے ریونیو وصول کیا جا رہا ہے جس میں 15.68روپے پٹرول لیوی اور 7.88روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔فی لٹر لائٹ ڈیزل پر 18.72روپے ریونیو وصول کیا جا رہا ہے جس میں 12.10روپے پٹرول لیوی اور 6.62روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔فی لٹر ہائی اوکٹین پر 47.36روپے ریونیو وصول کیا جا رہا ہے جس میں 37.43روپے پٹرول لیوی اور 9.94روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی اوسط یومیہ کھپت چار کروڑ41لاکھ59ہزار816لٹر ہے جس میں پٹرول کی یومیہ کھپت اکتیس لاکھ20ہزار213لٹر ،مٹی کے تیل کی پانچ لاکھ77ہزار792لٹر،ہائی سپیڈ ڈیزل کی ایک کروڑ98لاکھ54ہزار179لٹر،لائٹ ڈیزل کی تین لاکھ 75ہزار888لٹر اور ہائی اوکٹین کی دو کروڑ2لاکھ31ہزار744لٹر ہے ۔حکومت پٹرول پر یومیہ گیارہ کروڑ49ہزار912روپے ریونیو وصول کر رہی ہے جس میں آٹھ کروڑ52لاکھ44ہزار219روپے پٹرول لیوی اور دو کروڑ48لاکھ5ہزار693روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔یکم جنوری سے پندرہ جنوری تک حکومت کو پٹرول پر ایک ارب 65کروڑ 7لاکھ48ہزار680روپے وصول کرے گی۔مٹی کے تیل پر یومیہ ایک کروڑ16لاکھ13ہزار618روپے کا ریونیو حاصل کیا جا رہا ہے جس میں 74لاکھ82ہزار406روپے پٹرولیم لیوی اور 41لاکھ31ہزار212روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔مٹی کے تیل پر سترہ کروڑ42لاکھ4ہزار282روپے کا ریونیو وصول کرے گی۔ہائی سپیڈ ڈیزل پر یومیہ 46کروڑ77لاکھ64ہزار 456روپے کا ریونیہ وصول کیا جا رہا ہے جس میں 31کروڑ13لاکھ526روپے پٹرولیم لیوی اور پندرہ کروڑ64لاکھ50ہزار930روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔ہائی سپیڈ ڈیزل پر سات ارب ایک کروڑ64لاکھ66ہزار848روپے کا ریونیو حاصل کرے گی۔لائٹ ڈیزل پر یومیہ ستر لاکھ36ہزار622روپے کا ریونیووصول کیا جا رہا ہے جس میں 45لاکھ48ہزار244روپے پٹرول لیوی اور 24لاکھ88ہزار378روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں ۔لائٹ ڈیزل پر مجموعی طور پر دس کروڑ55لاکھ 49ہزار338روپے کا ریونیو حاصل کرے گی۔ہائی اوکٹین پر یومیہ 95کروڑ83لاکھ77ہزار712روپے کا ریونیو وصول کیا جا رہا ہے جس میں 75کروڑ72لاکھ74ہزار177روپے پٹرولیم لیوی اوربیس کروڑ11لاکھ3ہزار535روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں۔ہائی اوکٹین پر مجموعی طور پر چودہ ارب37کروڑ56لاکھ65ہزار کا ریونیو وصول ہو گا۔


ماخذ

ہائے گرامر

میرے احباب کا گلہ ہے کہ میں کچھ لکھتا کیوں نہیں۔  میں کیا لکھوں۔۔۔

پچھلے پندرہ دن سے میرا انٹرنیٹ بند تھا۔ بجلی بند تھی۔ موبائل فون ایک ہفتہ بند رہا۔۔ آہ آپ کو کیا بتاؤں لگتا تھا کسی ظالم نے بندش کروا دی ہے۔ خیر اس بندشوں کے موسم میں ہم کیسے جیے۔ تو سنیے


لمبی داستان ہے لیکن مختصر کیے دیتے ہیں۔ قصہ شروع ہوتا ہے گرامر سے۔ گرامر۔۔۔ ہمارے ایم ایس سی اپلائیڈ لنگوئسٹکس کے پہلے سمسٹر میں ایک یہ کورس بھی ہے۔ گرامر اور وہ بھی انگریزی کی۔ وہ زبان جو میرے لیے آج بھی اجنبی ہے۔ تو صاحبو ان تمام دنوں میں ہم یہ مصرع گنگناتے رہے۔


ہم ہیں اور گرامر کے غم ہیں دوستو


مرحوم شاعر یا غیر مرحوم شاعر سے معذرت کے ساتھ۔ ہم نے مصرعے میں گرامر ٹانک کر اسے حسب حال کرلیا۔ پندرہ دن کہنے کو تو چھٹیوں کے تھے۔ لیکن ہمیں چھٹیوں کا کام دے کر بھیجا گیا تھا۔ کام اتنا سا تھا کہ 234 عدد مشقیں کرنا تھیں۔ جی گرامر کی ہی۔ بڑی مشہور اور پرانی انگریزی کی گرامر ہے ہائی سکول انگلش گرامر اس کی اڑھائی سو مشقیں۔ آہ۔۔۔ نام تو اس کمبخت کا ہائی سکول ہے لیکن اس نے یونیورسٹی کے طلباء کو سکول یاد کروا دیا۔


ہم و ہمارے ہم جماعت اب بھی اس صدمے کے زیر اثر ہیں۔ رات کو خوابوں میں ایک عرصے سے گرامر آتی ہے۔ گرامر نہ آئے تو انگریزی کے فقرے دھمال ڈالتے ہیں۔ آ ہمارا تجزیہ کر۔ تجزیہ؟ نہیں سمجھے۔۔ میں سمجھاتا ہوں۔ تجزیہ یعنی اینالسس بطور لسانیات کے طالب علم ہونے کے ہمیں آنا چاہیے۔ چونکہ زبان فرنگ زبان تعلیم بھی ہے اس لیے اسی کی گرامر سکھائی جاتی ہے۔ اور اسی کے فقروں کا تجزیہ بھی سکھایا جاتا ہے مقصد اتنا ہے کہ ہم آگے اسے اچھی طرح پڑھانے کے قابل ہوجائیں۔ ان اڑھائی سو مشقوں کا مقصد بھی ہماری مومیائی نکالنا اور ہمیں انگریزی گرامر کی مبادیات سے آگاہ کرنا تھا تاکہ ہم تجزیہ بہتر انداز میں کرسکیں۔ تجزیہ جو ہمارے لیے ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ فقرہ لکھا ہے۔


چاچے پھجے نے مامے تاج دین کو کیوں مارا۔


ماسی کرشیداں کے وڈے منڈے کے چھوٹے صاحب زادے کو بخار کس وجہ سے چڑھا۔


یہ لوکل ورژن ہے جی انگریزی کے فقرے بھی کچھ ایسے ہی تھے۔ ایک فقرہ کسی مرے ہوئے شاعر کے دیوان سے دوسرا کسی ڈرامے سے اور تیسرا خود سے بنایا ہوا۔ ہر فقرہ جلیبی کی طرح سیدھا۔ پہلے کلاز clause نکالو پھر اس کے اندر فاعل، فعل ، مفعول بتاؤ۔ پھرمزید آگے جاکر ان کے اندر موجود الفاظ کا زمرہ بتاؤ۔ صفت ہے، نام ہے، فعل ہے ۔۔۔۔آہ یہ گرامر ہے کہ جیل ہے۔۔ بس صاحبو کیا بتائیں ہمارے تو گوڈوں میں گرامر ایسی بیٹھی کہ ساری چھٹیاں اسی میں گزر گئیں۔ اور ابھی ڈیڑھ ماہ باقی ہے۔ تین مارچ کو پرچے ہیں اور تب تک ہم نے گرامر کی مزید تین اسائنمنٹ کرنی ہیں۔ کچھ اسی طرح  کی جیسی ان چھٹیوں میں کی۔ مجھے تو شک ہے کہ اس سمسٹر کے بعد ہم انسان بھی رہیں گے یا چیر پھاڑ سپیشلسٹ بن جائیں گے۔ اس گرامر کے صدقے اچھے بھلے شعر کی معنی آفرینی اور ندرت خیال کی بجائے ہمیں اس میں فاعل فعل مفعول نظر آتے ہیں۔ جیسے ڈاکٹر کو بندہ نہیں پھیپھڑوں، جگر اور دل گردے کا مجموعہ انسان کی شکل میں نظر آتا ہے۔


اتنی بک بک بہت ہے امید ہے میرے احباب کا گلہ دور ہوگیا ہوگا۔ اگر بور ہوگئے ہیں تو معذرت نہیں کروں گا۔


اتنا ہی کہوں گا کہ ہور چوپو۔۔۔ تہانوں کیا کنھیں سی کے ایس پوسٹ نوں پڑھو۔