جمعہ، 30 اپریل، 2010

sudo apt-get upgrade -d

اگر اوبنٹو کا ایک نیا ورژن آچکا ہے اور آپ سیدھے طریقے سے اس پر اپگریڈ نہیں کر پارہے، اپگریڈ مینجر کو کوئی سیاپا پڑ گیا ہے تو میری طرح یہ کام کیجیے۔ چونکہ اس بار میرے پکے ارادے کے باوجود کہ ٰصراط مستقیمٰ پر چل کر اپگریڈ کرنی ہے، پر نئیں۔ لو جی فیر اپگریڈ کرو دیسی انداز وچ۔
Alt+F2 دبا کے رن باکس وچ لکھو

sudo gedit /etc/apt/sources.list
اب 'karmic' کو 'lucid' سے تمام کا تمام بدل دیں اور ٹرمینل میں لکھیں۔

sudo apt-get update

اور پھر

sudo apt-get upgrade -d
اور اسے ڈاؤنلوڈنگ پر لگا کر خود سو جائیں۔ امید ہے صبح تک ہوجائے گا۔ لو جی فیر اسیں وی سون لگے۔

اتوار، 18 اپریل، 2010

جلدی جلدی کچھ باتیں

فیصل آباد کل سے بدترین لوڈ شیڈنگ کی زد میں ہے۔ صبح آٹھ سے بارہ تک بجلی بند رہی، پھر دو سے پانچ تک اور اس کے بعد آٹھ بجے سے بھی پہلے بند ہوکر رات دس بجے کے بعد آئی۔ گیارہ ساڑھے گیارہ بند ہوئی تو اب صبح چار بج  کر 25 منٹ پر آئی ہے اور یہ بھی پانچ بجے تک بمشکل ہوگی۔ فیصل آباد کے ساتھ تو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا وعدہ کیا تھا وفاقی وزیر نے لیکن لگتا ہے پھر ہڑتال کی کال دینی پڑے گی۔
پچھلی تحریر کی پسندیدگی کا شکریہ۔ وہ واقعی میرے اندر سے نکلی تھی اور میں ایسے ہی فرسٹریٹ ہوتا ہوں جب میرے پاس کام نہ ہو۔ احباب کے مشوروں اور دعاؤں کا بہت بہت شکریہ۔
خاور صاحب آپ نے خبروں کا ترجمہ کروانا ہو تو ست بسم اللہ جب کروانا ہو بتا دیجیے گا۔ ریٹ آپ سے طے کرلیں گے۔ گوروں سے 4 روپے فی لفظ تک لیتے ہیں اس سے کم لیں تو ویب سائٹ والے بلاک کردیتے ہیں کہ مقابلے کا ماحول خراب کررہا ہے لیکن ایک پاکستانی صاحب کے ساتھ کوئی ڈیڑھ ماہ کام کیا، ان سے قریب پچیس پیسے فی لفظ لیے تھے۔ آج کل وہ کام نہیں کرراہے مجھ سے۔
نعمان کا خصوصی شکریہ جنہوں نے میری تحریر اپنے بلاگ پر لگائی اور اتنی ساری تعریف بھی کی۔
بدتمیز نے ایک خصوصی تحریر میں میری اس تحریر کا تذکرہ کیا اور اپنے مخصوص بے لاگ سٹائل میں اس کے بخیے ادھیڑے۔ آداب عرض ہے، اس جراحی کو۔ میں نے آج تک کبھی ڈیٹا اینٹری، آرٹیکل رائٹنگ یا ری رائٹنگ نہیں کی۔ بس میری خواہش ہوتی ہے کہ ترجمے کا کام مل جائے چونکہ وہ میری اپنی فیلڈ لسانیات سے بھی متعلق ہے۔ یہ دوسرے کام تو بس ایویں دل پشوری کو دیکھ لیا کرتا ہوں شاید کوئی پسند آجائے لیکن آج تک کوئی پسند نہیں آیا، بلکہ میں آج تک کسی گاہک کو پسند نہیں آیا۔ کئی بار بلاگ شروع کرنے کا بھی دل کیا لیکن بلاگ کے لیے بھی لکھنا پڑتا ہے، میں تو فری لانسر کے طور پر نہیں لکھتا بلاگ کے لیے کیا لکھوں۔ پچھلے چار سال سے انگریزی بلاگ شروع کرکے چھوڑ دیتا ہوں۔ اب پھر شروع کیا ہے شاید اس بار کچھ مستقل مزاجی رہ جائے۔
اچھا تو میں آخر کرتا کیا ہوں پھر؟ میں نے عرض کیا تھا کہ لسانیات سے متعلق پراجیکٹس کبھی مل جاتے ہیں جیسے پنجابی کا کوئی کورس ڈویلپ کرنا۔ پچھلے دنوں ایسی ایک جاب ملتے ملتے رہ گئی، رقم بڑی تگڑی تھی لیکن انھیں چاہیے گورمکھی ایکسپرٹ تھا جو پنجابی کے ڈائلاگز لکھ کر دے سکے انھیں۔ میں شاہ مکھی جانتا تھا بس، چناچہ مجھ سے واپس لے لی انھوں نے ورنہ مجھ سے بہتر چوائس ان کے پاس نہیں تھی۔ خیر قسمت میں نہیں تھی۔ ایسا ہی ایک پراجیکٹ پنجابی کے طلباء کی سننے کی صلاحیت جاننے کے لیے ریکارڈنگز تیار کرنا ہے۔ میں پنجابی چینلز سے ریکارڈنگ کرتا ہوں پھر انھیں 30 سیکنڈ سے 120 سیکنڈ تک کے ٹکڑوں میں تقسیم کرنا ہوتا ہے، ایک ریکارڈنگ کسی ایک موضوع پر ہوسکتی ہے اور پھر اس کا انگریزی ترجمہ اور پنجابی ٹرانسکرپشن کرکے بھیجتا ہوں۔ وہ منظور ہوجائے تو اچھے پیسے مل جاتے ہیں، انھیں پیسوں میں سے پچھلے ماہ دوست کو ادھار دیا تھا۔ پچھلے چھ ماہ سے ایک یہی پراجیکٹ ہے میرے پاس جسے مستقل کہا جاسکتا ہے اور وہ بھی اختتام کی طرف جارہا ہے، لیکن مجھے امید ہے جاتے جاتے مجھے یہ ایک لیپ ٹاپ دے جائے گا انشاءاللہ۔
اور جاتے جاتے یہ کہ میں نے گریجویٹ اسیسمنٹ ٹیسٹ دیا تھا۔ یہ پاکستان کا لوکل جی آر ای ہے۔ جب شروع ہوا تھا بہت مشکل ہوتا تھا اب تو بہت آسان کردیا ہے انھوں نے نا انگریزی کے الفاظ مشکل ہوتے ہیں اور نا ریاضی کے سوال ہی مشکل ہوتے ہیں۔ خیر میں نے ایم ایس سی کے بعد جو اس سال اگست تک ہوجائے گی، ایم فل میں داخلہ لینا ہے جس کے لیے یہ ٹیسٹ ضروری ہوتا ہے۔ تو میں نے اسے بغیر تیاری کیے پاس کرلیا ہے، جس کی مجھے ککھ بھی امید نہیں تھی۔ نمبر میرے 74 آئے ہیں اور پرسنٹائل 99 بنتا ہے یعنی میں 99 فیصد طلباء سے بہتر ہوں۔ یہی مطلب ہوتا ہے نا پرسنٹائل کا؟
یہ چند باتیں جلدی جلدی آپ سے شئیر کنا تھیں۔ باقی پھر سہی۔

منگل، 13 اپریل، 2010

کام کرو جی کام

دنیا پاگل ہے جی روٹی کی تلاش میں۔ اور انٹرنیٹ پر تو لوگ باؤلے ہورہے ہیں۔ کام کام کام مجھے کام بتاؤ میں کیا کروں میں کس کو کماؤں۔ ہر طرف بس یہی ہاہا کار ہے۔ میرے جیسے کنویں کے مینڈک بھی ہر طرف تاکتے جھانکتے پھرتے ہیں ترجمہ کروا لو، پروف ریڈنگ کروا لو، ڈیٹا اینٹری کروا لو، آرٹیکل لکھوا لو۔۔ کہ شاید کہیں سے کوئی آواز پڑے اوئے چھوٹے ادھر آ یہ بوٹ تو پالش کردے۔
سائیں انٹرنیٹ پر یہ چھوٹے موٹے کام بوٹ پالش کرنے جیسے ہی ہیں۔ فری لانسر ایسی قوم کا نام ہے جسے آپ عام زندگی میں دیہاڑی دار کے نام سے یاد کرتے ہیں، دیہاڑی دار یعنی رنگساز جو برش کو رنگ کے ڈبے پر رکھ کر سارا دن اڈے پر بیٹھا رہتا ہے اور دن ڈھلنے پر انتظار کر کر کے اور بارہ ٹہنی کھیل کر گھر چلا جاتا ہے، فری لانسر وہ راج مستری ہے جو اوزاروں والا تھیلا سارا دن سامنے رکھ کر انتظار کرتا ہے اور روزگار نہ ملنے پر سارا دن بیٹھ کر سر جھکائے گھر چلا جاتا ہے، فری لانسر وہ مزدور ہے جو بوڑھا ہوچکا ہے اور اب صرف ہتھوڑی چلا کر اینٹوں کی روڑی بنا سکتا ہے لیکن لمبے دستے والی ہتھوڑی لیے سارا دن بس بیٹھا ہی رہ جاتا ہے اور اسے کوئی بھی نہیں پوچھتا۔ تو صاحبو ہم بھی فری لانسر ہیں۔ انٹرنیٹ کی گلیوں آواز لگاتے پھرتے ہیں ہے کوئی جو ترجمہ کرالے، ہے کوئی جو ڈیٹا انٹری کروا لے ہے کوئی جو پروف ریڈنگ کروا لے ، ہے کوئی جو آرٹیکل رائٹنگ ہی کروا لے، ہے کوئی جو۔۔۔۔۔۔۔۔ کام دے دے۔
ابا جی کہا کرتے ہیں "گھنڈ چُک لیا تے نچن توں ڈرنا کی"۔ تو کام کرنا تو شرم کیا۔ ہاں ہم مزدور ہیں اس میں کونسا کوئی شک ہے۔ ہم کام کرتے ہیں، اور معاوضہ لیتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کبھی کام ملتا ہے کبھی نہیں ملتا۔ صاحبو انٹرنیٹ پر میرے جیسے لاکھوں ہیں۔ انڈیا، فلپائن، بنگلہ دیش اور پاکستان۔ لاکھوں لوگ جو ایک وقت میں آنلائن ہوتے ہیں اور معمولی سے معمولی معاوضے پر بھی جھپٹ پڑتے ہیں۔ صاحب ہم یہ کام کرسکتے ہیں، صاحب کم سے کم ریٹ دیں گے، صاحب ہمارے پاس پوری ٹیم ہے، 24 گھنٹے کی سروس صاحب، بہترین کوالٹی صاحب۔ اور صاحب کی مرضی کہ وہ کس کو چنتا ہے۔ صاحب کیپچا کی تصاویر کی ڈیٹا انٹری کے لیے پونا ڈالر دیتا ہے، صاحب ایک آرٹیکل لکھنے کا ایک ڈالر دیتا ہے، صاحب ایک آرٹیکل ری رائٹ( ارے جناب اسی کو اپنے الفاظ میں لکھنے) کے ایک سے ڈیڑھ ڈالر دیتا ہے، صاحب ٹرانسکرپشن کرانے کے کم سے کم پیسے دیتا ہے۔ صاحب گورا ہے، صاحب امریکی ہے، صاحب یورپی ہے، صاحب کی ویب سائٹ ہے، صاحب چھان بورے سے آٹا بنوا کر پھر روٹیاں لگواتا ہے اور اپنی دوکان پر سجا لیتا ہے، صاحب اپنی سائٹ کی تشہیر کے لیے ای میل ایڈریس پر سپیم بھیجنے کے پیسے دیتا ہے، صاحب فیس بک اور ٹویٹر پر فین اور فالورز مانگتا ہے، صاحب سب کچھ کروا سکتا ہے، صاحب کے پاس پیسا ہے، وہ فحش کہانیاں بھی لکھوا سکتا ہے، فحش ویڈیوز بھی بنوا سکتا ہے اور ان میں اداکاری بھی کرواسکتا ہے۔ فری لانسر مزدور ہے، کرتا ہے، ہر کام کرتا ہے، پیسے کے لیے کرتا ہے۔ ای میل ایڈریس بیچتا ہے، کیپچا کی ہزار تصویریں دیکھ کر ٹائپ کرکے پونا ڈالر لیتا ہے، آرٹیکل ری رائٹ کرکے ایک ڈالر لیتا ہے، فورمز اور بلاگز پر سپیم پوسٹنگ کرکے پیسے لیتا ہے، سپیم میلز بھیجتا ہے، مزدور ہے نا، بھوکا ننگا ہے اور ڈالر آتے ہیں، کم آتے ہیں تو کیا ہوا آتے تو ہیں، یہاں تو وہ بھی نہیں ملتے، تو مزدور سب کچھ کرتا ہے، سب کچھ بیچتا ہے، عزت بھی بیچنی پڑے تو بیچتا ہے، کیا ہے انٹرنیٹ پر کسی کو کیا پتا چلے گا اگر کسی فحش فلم کے لیے اپنی آواز دے بھی دی تو؟
صاحبو بھوک بڑی ظالم ہے۔ رب بھی بھلا دیتی ہے، جو پالنہار ہے۔ بھلا دیتی ہے سائیں سب کچھ بھلا دیتی ہے، بڑی ظالم ہے یہ بھوک ۔ جب آنکھوں میں ڈالروں کے سپنے اتر آئیں تو پھر حلال حرام کس کو دکھتا ہے۔ سب چاہتے ہیں کہ بس کھانے کو مل جائے، ارے کھانے کو تو ملے، جہاں بھوک برستی ہو وہاں کون دیکھتا ہے کہ آرٹیکل کو ری رائٹ کرکے وہ کسی کی امانت چوری کررہا ہے، وہاں کون دیکھتا ہے کہ "آنلائن جابز: ایڈسینس، ڈیٹا اینٹری، فارم فلنگ جابز" تو یہ دیکھے سوچے بغیر کہ حلال ہے کہ حرام بس چھ ہزار، دس ہزار کی انٹری فیس جمع کرا کے دھڑا دھڑ ڈالر بنانے میں لگ جاتا ہے۔ جیوے ڈالر، اعداد و شمار کا کھیل، جب تک ڈالر سائیں ہے تب تک موج ہے، ڈالر سائیں نہ ہوگا تو دیکھا جائے گا۔ سائیں یہ سب کچھ اعداد کا ہی تو کھیل ہے۔ اتنے کلک ہوگئے تو اتنے عدد ملیں گے۔ اب وہ کلک کسی نے کیسے بھی کیے ہوں، چار دوست مل کر اپنی ہی ویب سائٹ پر روزانہ ایک ایک کلک کرلیا کریں تو کون دیکھتا ہے جی، پر رب تو دیکھتا ہے نا۔ پر کون دیکھے اس دیکھنے کو، یہاں تو پوری پوری کمپنیاں بنی ہوئی ہیں اس کام کے لیے، آنلائن جاب کرو جی، ڈالر کماؤ جی، دس ہزار سے تیس ہزار کماؤ جی۔ لوگ کماتے ہیں جی۔ ابھی پچھلے ماہ میرا دوست میرے پاس آیا شاکر پاء جی گھر میں آٹا لانے کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں۔ انجینئیر ہے وہ، ٹیکسٹائل انجینئیر۔ ابا جی کو گولڈن ہینڈ شیک ملا تھا نیشنل بینک سے تو انھوں نے ملنے والی رقم اس کی تعلیم پر لگا دی اب اسے نوکری بھی نہیں ملتی۔ کہنے لگا پاء جی اس میں حقیقت ہے کہ نہیں؟ میں بہن کا زیور رکھوا کر اس کی فیس دوں گا اور یہ کام کرنا ہے۔ میں نے کہا بھائی مجھ سے پیسے لے لو، زیور نہ رکھواؤ وہ مکر جائے تو کون ذمہ دار ہوگا۔ اسے چھ ہزار دیا اور اس نے چھ ماہ کی ممبر شپ لی۔ پتا نہیں اب کام کررہا ہے کہ نہیں۔ مجھے کوئی امید نہیں میری رقم واپس ہوجائے گی، پر بھوک بڑی ظالم ہے سائیں۔ اور زندگی بڑی اوکھی ہے۔ اس کا احساس آج بڑی شدت سے ہورہا ہے۔
ابا جی رکشہ چلاتے ہیں، چنگ چی رکشہ جسے لوڈر رکشہ کہتے ہیں۔ آٹھ بازاروں میں ایک جوتوں کی مارکیٹ میں ہوتے ہیں، سیزن ہو، جیسے آج کل سکول کھل رہے ہیں پھر سے، تو اچھا کام مل جاتا ہے لوڈنگ کا۔ سیزن نہ ہو، جیسے اگلے ایک آدھ ماہ میں ہوجائے گا، تو سارا سارا دن وہاں کھڑے رہنا پڑتا ہے کوئی کام نہیں ملتا۔ پھر وہ گھر آکر فرسٹریشن نکالتے ہیں، آج سارا دن کوئی کام نہیں ملا، پریشانی، کیا بنے گا ہمارا۔ تو ہم انھیں تسلی دیتے ہیں کہ ایسے بھی ہوتا ہے، انسانوں کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ ہوجائے گا ٹھیک۔ آج یہ کیفیت مجھ پر طاری تھی۔ میری جوتوں کی مارکیٹ انٹرنیٹ ہے جہاں میں اپنی ہتھ ریڑھی لیے بیٹھا رہتا ہوں، آنے جانے والوں کو تکتا رہتا ہوں، شاید کوئی کام مل جائے، شاید کوئی پرانا گاہک ہی بلا لے، شاید کہیں سے پھنسی ہوئی رقم آجائے، شاید۔۔۔۔۔۔۔ زندگی شاید پر چلتی ہے، فری لانسنگ ویب سائٹس کو کھنگالتے ہوئے، نئے نئے کام تلاشتے ہوئے، شاید یہ بھی میں کرسکوں، ہاں ٹرانسکرپشن کرسکوں گا، چلو ٹرائی کرتے ہیں، ری رائٹنگ مشکل تو نہیں چلو ٹرائی کرتے ہیں، کیوں نا کیپچا ڈیٹا اینٹری کا ہی کرلیا جائے پونا ڈالر تو مل ہی جاتا ہے ایک گھنٹے کا، اور اگر کبھی ترجمے کی کوئی جاب نکل آئے تو وہاں اپنا ریزیومے بھیجنا، جہاں سے اکثر جواب ہی نہیں آتا۔
زندگی بڑی مشکل لگتی ہے، ایک ایسے فیز میں جب آپ زیر تعمیر ہوں۔ میرے جیسا جو جاب بھی چاہتا ہے اور جس کے پاس کوئی قابل ذکر ہنر بھی نہیں۔ گرافکس ڈیزائننگ؟ نہیں جی۔، ویب ڈویلپمنٹ؟ نہیں جی ورڈ پریس تھوڑا سا جانتا ہوں جی لیکن ویب ڈویلپمنٹ نہیں جی، پروگرامنگ؟ سی شارپ تھوڑی سی آتی ہے جی پر کبھی پروفیشنل ٹیسٹ یا کام نہیں کیا جی بس ٹیکسٹ پروسیسنگ کرتا ہوں جی کارپس لنگوئسٹکس کے لیے سوری جی،۔ تو پھر پیچھے یہی رہ جاتا ہے کہ ترجمہ کرلیا جائے، تو ترجمہ کرتا ہوں لیکن یہ کام کم کم ملتا ہے بہت سارے لوگ ہیں اس میں بلکہ بڑے پروفیشنل لوگ ہیں، میرے جیسے کئی دھکے کھاتے پھرتے ہیں "پروفیشنل ٹرانسلیٹر" کا ٹیگ لگائے پھرتے ہیں، ترجمہ نہ ملے تو پھر کیا کریں؟ لسانیات کے حوالے سے کبھی کوئی جاب نکل آتی ہے اردو یا پنجابی کا کورس ڈویلپ کرنا یا ایسا کوئی کام۔۔۔ایک آدھ ملا بھی لیکن کبھی چھوٹ بھی جاتا ہے۔ پنجابی کی بات کرو تو گورمکھی کی بات ہوتی ہے، سکھوں والی پنجابی، اردو کی بات ہی کم ہوتی ہے ہندی کی بات ہوتی ہے زیادہ یعنی پھر ادھورا پن۔ لے دے کر پھر رائٹنگ، ری رائٹنگ، ڈیٹا انٹری، کیپچا ڈیٹا اینٹری، ورچوئل اسسٹنٹ، یہ رہ جاتی ہیں لیکن ان کے لیے درکار وقت بہت زیادہ ہوتا ہے۔ میرے جیسا پارٹ ٹائمر نہیں کرسکتا۔ سو چپ رہ جاتا ہے لیکن منصوبے بنانے سے نہیں ٹلتا چل یار اپنا بلاگ شروع کرتے ہیں۔ باقاعدہ لکھا کریں گے، گوگل ایڈسینس لگائیں گے اور کمائیں گے، لیکن دل نہیں مانتا، یا لکھا نہیں جاتا، انگریزی میرے لیے کوئی نئی چیز نہیں، پر لکھا نہیں جاتا۔ نہ ادھر ہوا جاتا ہے نہ ادھر۔ اسی دُبدھا میں زندگی گزرتی جاتی ہے۔ عجیب زندگی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوموار، 12 اپریل، 2010

لانگ آرم سٹیچو

عامر ہاشم خاکوانی کا آج کا کالم پڑھنے کے لائق ہے۔ اس میں انھوں نے توہین رسالت کے بارے میں آئین پاکستان میں ایسی شق شامل کرنے کی تجویز دی ہے جس کے ذریعے پاکستان کو اسرائیل کی طرح یہ اختیار حاصل ہو کہ دنیا میں جہاں بھی توہین
رسالت کا ارتکاب کیا جائے ہم اس ملک سے اس مجرم کی حوالگی اور مقدمہ چلانے کا مطالبہ کرسکیں ایسے ہی جیسے اسرائیل ہولوکاسٹ سے انکار کرنے والوں کے سلسلے میں کرتا ہے۔ ہمیں یہ سب کرنا ہی ہوگا۔
اب آپ یہ کہیں گے کہ پہلے کونسا توہین رسالت کے موجودہ قوانین کا انتہائی غلط استعمال ہورہا ہے تو ایک اور قانون۔ تو عرض اتنی سی ہے کہ یہ ہماری بے وقوفانہ جذباتیت اور نیتوں کا کھوٹ ہے جو ان قوانین کا غلط استعمال کراتا ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر جان بھی قربان ہے اور اس میں کوئی شک شبہے والی بات ہی نہیں۔

جمعہ، 2 اپریل، 2010

ترقی؟


لو جی اوبنٹو کے بابا جی مارک شٹل ورتھ نے نئے نسخے میں ایک "انقلابی" قسم کی تبدیلی کی ہے۔ اب ونڈو کو بند کرنے والے بٹن دائیں کی بجائے بائیں ہوا کریں گے۔ ملاحظہ کیجیے۔
ملاحظہ کریں اور سر دھنیں۔ یہ اپریل فول نہیں ہے۔ 10.04 میں ایسا ہی ہوگا۔ لیکن شکر ہے یہ ایک دو طے شدہ تھیمز میں ہوگا۔ باقی تھیم "سیدھے" راستے پر ہی چلیں گے اور بٹن دائیں طرف ہی ہونگے۔ اس میں کیا مصلحت ہے ہماری ناقص عقل اس کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ البتہ ایک اڑتی اڑتی یہ سنی تھی کہ ایک عدد مینیو جیسا کہ بائیں جانب آئکن پر کلک کرنے سے سامنے آتا ہے دائیں طرف شامل کردیا جائے گا۔ یعنی منہ کا ذائقہ بدلا جارہا ہے۔ یاد رہے ونڈو بند کھولنے والے یہ بٹن بائیں طرف ہونا میکنٹوش کا انداز ہے۔
پر سانوں کی۔۔۔ ہماری طرف سے انھیں نیچے لے آئیں۔ ہم نے تو اسے واپس اس کی جگہ پر پہنچا لینا ہے۔ یہی تو لینکس کا فائدہ ہے۔ لیجیے ابھی یہ سب کچھ ہونے کی اطلاعات ہی ہیں تو اس کا توڑ بھی موجود ہے۔ مووبٹنز یہ سہولت دیتا ہے کہ بڑا، چھوٹا اور بند کرنے والے بٹنوں کوجیسے مرضی اور جہاں مرضی ترتیب دیں۔