جمعہ، 30 جولائی، 2010

ڈاکٹر حمید اللہ

وہ دس زبانیں جانتا تھا اور سات زبانوں کا لکھاری تھا۔ اس کی 150 کتابوں میں سے سب سے زیادہ مشہور شاید اسلام کا تعارف ہے۔ اس کو 22 زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔ اس کا فرانسیسی میں قرآن کی تفسیر کے ساتھ ترجمہ اس زبان میں کسی بھی مسلمان کی ایسی پہلی کوشش تھی، اور اس کے بعد اس کے قریبًا بیس ایڈیشن شائع ہوئے۔ کتاب مقدس کے اس فرانسیسی ترجمے اور اس کی ان تھک کوششوں نے یورپیوں خصوصًا فرانسیسیوں کو بڑی تعداد میں اسلام کی طرف مائل کیا۔ بہت سے اس تعداد کو تیس ہزار بیان کرتے ہیں جو کہ شاید مبالغہ ہے۔ انھوں نے یورپی جامعات سے دو پی ایچ ڈی کی اسناد حاصل کیں اور  اپنی زندگی اسلام اور مسلم معاشرے کے لیے وقف کرتے ہوئےعشروں تک درس و تدیس کی۔

جہاں تک احادیث کی بات ہے، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر فرانسیسی میں دو جلدی کتاب لکھنے اور ان ﷺ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر بڑی تعداد میں مختلف زبانوں میں تھقیقی مضامین لکھنے کے علاوہ، ان کی عظیم محققانہ دریافت وہ تیرہ سو سال پرانا نسخہ تھا جو احادیث کا ایک مجموعہ تھا۔ انھوں نے اس انتہائی نایاب کتاب کو برلن لائبریری کے اندھیرے کونوں میں دریافت کیا اور اسے روشنی میں لے کر آئے۔

احادیث کے سب سے پہلے لکھے ہوئے مجموعوں میں شمار ہونے والی یہ دستاویز صحیفہ همام بن منیبہ کے طور پر جانی جاتی ہے جسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے (58 ہجری بمطابق 677 عیسوی) اپنے طلباء کو پڑھانے کے لیے تیار کیا تھا۔ اس عظیم محقق کا نام جس نے پیرس میں زاہدانہ زندگی گزاری، ڈاکٹر محمد حمید اللہ تھا۔

میں نے ڈاکٹر حمید اللہ کی کچھ کتابیں پڑھی ہیں اور خصوصًا ان کی کتاب خطبات بہاولپور سے بہت متاثر ہوا، اس کا انگریزی میں ترجمہ  اسلام کی آمد کے نام سے کیا گیا ہے۔ چناچہ دسمبر 2002 میں ان کی موت کی المناک خبر سن کر میں ایک نجی جامعہ میں یہ غم اپنے طلباء کے ساتھ شئیر کرنا چاہتا تھا۔ ان کے بارے میں میرے تاثرات حیرت اور لاعلمی سے سنے گئے۔ جب انھوں نے بتایا کہ وہ ڈاکٹر حمید اللہ جیسے عظیم محقق کو نہیں جانتے تھے، تو میں نے پوچھا کیا وہ یہ جانتے ہیں کہ امیتابھ بچن کون ہے؟ اب کی بار آواز بہت بُلند اور مشترکہ ہاں تھی۔

ڈاکٹر حمید اللہ 19 فروری 1908 میں حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمد خلیل اللہ بھی ایک ادیب اور عالم تھے۔ ان کے دادا محمد صبغت اللہ نے 29 عربی، 24 فارسی اور 14 اردو کتابیں لکھیں اور ان کا شمار عظیم علماء میں ہوتا ہے۔ اسلام علم قانون میں ایم اے اور ایل ایل بی کی سند جامعہ عثمانیہ سے 1930 میں حاصل کرنے کے بعد محمد حمید اللہ نے ایم فل کی ڈگری بون یونیورسٹی جرمنی سے حاصل کی اور پی ایچ ڈی کی ڈگری سوربون یونیورسٹی پیرس سے۔ 1935 میں اپنے آبائی شہر آنے کے بعد انھوں نے جامعہ عثمانیہ میں بطور لیکچرر اور اسسٹنٹ پروفیسر 1948 تک خدمات سرانجام دیں۔

جس سال انڈیا نے ریاست حیدرآباد پر قبضہ کیا، ڈاکٹر حمید اللہ ڈاکٹر یوسف حسین کے ساتھ یورپ چلے گئے تاکہ ریاست کا کیس اقوام عالم کے سامنے پیش کیا جاسکے۔ واپس آتے ہوئے حمید اللہ پیرس میں اس کام کے لیے (جو انھوں نے اپنی بقیہ زندگی سرانجام دیا، یعنی اسلام کی خدمت) ٹھہر گئے۔ پیرس میں انھوں نے نیشنل سینٹر آف سائنٹیفک ریسرچ میں شمولیت اختیار کرلی اور جرمنی، فرانس، ترکی کی جامعات میں بطور گشتی پروفیسر پڑھانا شروع کردیا۔

1949 میں بہت سے علماء کو پاکستانی حکومت کی آئین سازی کے معاملے میں رہنمائی کرنے کے لیے دعوت دی گئی۔ ان علماء میں علامہ محمد اسد اور ڈاکٹر حمید اللہ بھی شامل تھے۔ یہ گہرے دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ کچھ ہی عرصے بعد دونوں پاکستانی بیوروکریسی کی آئیں بائیں شائیں سے تنگ آکر پاکستان سے چلے گئے۔ لیکن پاکستان میں اپنے مختصر قیام کے دوران، انھوں نے نیک نیتی سے پاکستان کی خدمت کرنے کی کوشش کی اور کراچی میں ’حیدرآباد کی جلاوطن حکومت‘ قائم کرنے میں بھی مدد کی۔ اس اقدام کو ہماری وزارت خارجہ نے شرف قبولیت نہ بخشا اور یہ باب ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔ ڈاکٹر حمید اللہ پیرس میں مقیم ہوگئے اگرچہ وہ فرانس کے شہری نہ تھے اور نہ ان کے پاس وہاں کا پاسپورٹ تھا۔ وہ اپنے آخری وقت تک بےوطن رہے۔ درھقیقت ان کو ایک بین الاقوامی پناہ گزین قرار دے دیا گیا تھا، اور اس طرح وہ ہر دیس کے شہری بن گئے۔

انگریزی میں ڈاکٹر صاحب کی تصنیفات میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگیں، دنیا کا پہلا لکھا ہوا آئین، ریاست کا اسلامی رویہ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، مسلم خاتون، روزہ کیوں رکھیں؟، حدیث کی سب سے پہلی تدوین اور بہت سی کتب شامل ہیں۔ وہ اپنے تحقیقی کام کے بارے میں کوئی فخر و غرور نہ رکھتے تھے، اگرچہ انھوں نے تن تنہاسات زبانوں میں تھقیقی کام کیا۔ ان کے کچھ تحقیقی کام منفرد نوعیت کے تھے جو پہلے کبھی نہ کیے گئے، جیسا کہ ابتدائی ترین احادیث کا مخطوطہ۔

1980 میں بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی میں ان کے دئیے لیکچرز اسلام کے کچھ بنیادی پہلوؤں اور اس کی ابتدائی تاریخ کا احاطہ کرتے ہیں۔ فی البدیہہ دئیے جانے والے یہ لیکچرز برسوں کی تحقیق اور دوسرے علم کا فی الواقع آسان زبان میں نچوڑ تھے۔ اردو میں سن کر لکھے جانے والے اور خطبات بہاولپور کے نام سے چھپنے والے یہ لیکچرز دوسری کئی چیزوں کے علاوہ اس بات پر مشتمل تھے کہ قرآن و حدیث کو  کیسے جمع کیا گیا اور ان کی تدوین کی گئی۔

ان کے دوسرے تھقیقی کام فرانسیسی، جرمن، عربی، فارسی اور ترکی زبان میں ہیں۔

ان کے سائنسی اور تحقیقی کاموں نے مستشرقین اور یورپی قارئین کو اسلام کے ایک مختلف نظارے سے روشناس کروایا جو کہ ان کی بنائی ہوئی اسلام کی یکطرفہ تصویر سے یکسر مختلف تھا، جس میں صوفیانہ رواجوں پر زور، گھومتے درویش اور دیومالائی قسم کے نظریات شامل تھے۔ ڈاکٹر حمید اللہ اپنی تحاریر میں اسلام کے گرد کھڑی دیومالاؤں کو پاش پاش کردیتے ہیں اور قاری کو یہ دکھاتے ہیں کہ اسلام کتنا انسان شناس، سائنسی اور منطقی مذہب ہے۔ وہ اسلام کے ایک خاموش سپاہی اور اسلامی دنیا میں منفرد عالم تھے۔ اگرچہ انھوں نے اسلام اور علم و ادب کی خدمت بہت سارے طریقوں سے کی اور سب سے پہلے لکھے جانے والے احادیث کے مجموعے کی دریافت شاید ان کی خدمات میں سب سے اہم تھی، تاہم انھوں نے طبع زاد عربی تصانیف کی تدوین، ترجمہ اور اشاعت بھی کی اور انھیں ان زبانوں کے ماہرین علم و ادب کے سامنے پیش بھی کیا۔

یہ بہت حوصلہ افزاء تھا کہ ان کی وفات کی بعد نہ صرف ان کے تحقیقاتی کاموں کو دوبارہ شائع کیا گیا، بلکہ انھیں انڈیا اور پاکستان کے سکالروں نے اپنی کتابوں میں ولولہ انگیز خراج تحسین بھی پیش کیا۔ کچھ پرچوں نے ان پر خصوصی نمبر نکالے۔ ان میں سے نمایاں یہ ہیں: معارف اسلامی، دعوہ، فکر و نظر، اورئینٹل کالج میگزین، شاداب۔ ان کی زندگی اور علمی کام پر تین کتابیں لکھی اور شائع کی گئی ہیں: ڈاکٹر محمد حمید اللہ از راشد شیخ، آثارِ ڈاکٹر حمید اللہ از صفدر حسین اور مجددِ علومِ سیرت از غتریف شہباز۔ اسی طرح سید قاسم محمود، محمد عالم مختارِ حق اور کچھ دوسرے سکالرز نے بھی ان پر مضامین اور تحقیقی مضامین لکھے اور انھیں کتابی شکل میں شائع کیا۔ لیکن انسان محسوس کرتا ہےڈاکٹر صاھب کے سینکڑوں مضامین جو بکھرے ہوئے ہیں اور عام قاری کی پہنچ سے باہر ہیں، انھیں جمع اور شائع کیا جائے کیونکہ ان کے رتبے کا عالم، علماء میں بھی کم ہی دیکھنے میں آتا ہے اور ان کا ہر لفظ بہت قیمتی اور سنبھال لیے جانے کا متقاضی ہے۔

 وہ 17 دسمبر 2002 کو جیکسن ولا، فلوریڈا، یو ایس اے میں وفات پا گئے اور انھیں چیپل ہِل، فلوریڈا کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔
نوٹ: یہ تحریر میرے انداز میں نہیں لکھی گئی، اتنا تو آپ سمجھ گئے ہونگے۔چونکہ فدوی مترجم کا کام بھی کرتا ہے اور یہ ہماری مترجمانہ افتاد طبع کا نتیجہ ہے۔ اصل تحریر ڈان کا ایک آرٹیکل تھا جس کا اردو ترجمہ عدنان مسعود کی اس تحریر سے متاثر ہوکر کیا گیا۔ ایک عرصے سے ترجمہ شدہ تحاریر کو زینت بلاگ بنانے کا ارادہ تھا آج اس کی شروعات ہو ہی گئی۔ اور اس سلسلے میں عادت مجھے روشنی میگزین نے ڈالی ہے کہ آرٹیکلز و مضامین کا ترجمہ کرکے شائع کیا جائے۔ روشنی میگزین اردو زبان میں علم و دانش کے فروغ کے لیے ایک اچھی کاوش ہے، اور میں ان کی ویب سائٹ لانچ ہونے سے پہلے سے ان کے ساتھ بطور مترجم وابستہ ہوں۔ میری ترجمہ کی گئی تحاریر کونسی ہیں، وہاں جاکر پڑھ لیں شاید آپ میرا اُسلوب پہچان سکیں۔۔ چونکہ یہ تحاریر ان کی ملکیت ہیں اس لیے میں یہ بھی نہیں بتاؤں گا کہ کونسا ترجمہ میں نے کیا ہے۔ میرے بلاگ پر میری اپنی منتخب شدہ تحاریر کا ترجمہ شائع ہوگا، جو مجھے اچھی لگا کریں گی۔ اس تحریر کا ترجمہ کرنے کا ایک اور مقصد یہ درخواست بھی تھی کہ اگر کسی دوسر کے پاس ڈاکٹر صاحب کی کتب کی ای بکس ہوں، انگریزی کتب کی، کسی آنلائن لائبریری سے دلا سکیں یا سکین کرکے مہیا کرسکیں، تو میں مشکور ہونگا، میں ان کا ترجمہ کرنا چاہتا ہوں۔ اس سے میرا علم بھی بڑھے گا اور اردو و اسلام کی خدمت بھی ہوگی۔ اور ہاں آپ مجھ سے ترجمہ کروانا چاہیں تو میرا کام ہی یہ ہے۔ :-)

پانی کی صورت حال

آج کی خبر پانی نہیں سیلاب کے متعلق ہے۔ سینکڑوں میں جاں بحق ہوگئے اور ہزاروں میں بے گھر۔ لیکن جس بات کو میں دیکھ رہا ہوں وہ بارشوں کا ٹائم فریم ہے۔ اس وقت یہ کہا جارہا ہے کہ بارشوں کا 60 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ اصل میں ایسے کئی ریکارڈ اب ٹوٹیں گے اور ہر سال ٹوٹیں گے۔ پاکستان میں بارشوں کا ٹائم فریم اور بارشوں کے مقامات شفٹ ہورہے ہیں۔ ڈیر غازی خان کی طرف بارشیں کم ہوتی جارہی ہیں۔ جس کی وجہ سے وہاں خشک سالی بڑھ رہی ہے جبکہ پہاڑی علاقوں میں بارشیں بڑھ رہی ہیں۔ لیکن یہ بارشیں بھی صرف برسات کے ایک ماہ میں ہوا کریں گی اس کے بعد خشک تپتا بے رخ موسم ہوا کرے گا۔ اس وقت جو سیلاب سے مر رہے ہیں چند ماہ بعد وہی پانی کی کمی سے کُرلا رہے ہونگے۔ ہمارے دونوں ڈیم بھر گئے اور؟ باقی پانی سمندر میں جائے گا۔ مجھے نظر آرہا ہے کہ اگلے دس سالوں میں ہمارا نوے فیصد انحصار ڈیموں پر ہوگا۔ ورنہ پانی نہیں ملے گا۔ پانی صرف بارہ ماہ میں میں ایک بار برسا کرے گا، اور اتنا برسا کرے گا کہ موت کا پیغام بر بن جایا کرے گا۔ ہمالیہ کے گلیشئیرز؟ نہ آپ بچے ہیں نہ میں، ہمیں پتا ہی ہے کہ یہ تیزی سے ختم ہورہے ہیں اس کے بعد پیچھے سنگلاخ پہاڑ رہ جائیں گے گلگت بلتستان میں۔
کاش ہم آنے والے سخت ترین حالات کی پلاننگ کرسکیں۔

منگل، 27 جولائی، 2010

پھوڑے پھنسیاں

پھوڑے یا پھنسیاں  برصغیر پاک و ہند میں برسات میں بہتات میں ہوجاتے ہیں۔ جلد پر کسی جگہ درد شرو ع ہوتی ہے، وہ جگہ سوج جاتی ہے اور سرخ ہوجاتی ہے اور پھر وہاں سے ایک سر یا منہ نمودار ہونے لگتا ہے۔ جس پر ہاتھ لگانے سے شدید درد ہوتا ہے۔ یہی چیز پھوڑا کہلاتی ہے۔ پھوڑا بننے کی بڑی وجوہات جلد  میں آجانے والےکریکس ہیں۔ جلد ہمارے لیے ایک غلاف کی طرح ہوتی ہے جو بیرونی دشمنوں کے خلاف پہلی ڈھال کا کا م کرتی ہے۔ بعض اوقات بلاوجہ خارش کرتے ہوئے، یا کوئی ننھا سا زخم یا کٹ لگ جانے کی صورت میں جلد میں شگاف پڑ جاتا ہے۔ ہم اسے نظر انداز کردیتے ہیں لیکن ہمارے دشمن اس میں آکر ڈیرا جما لیتے ہیں اور اپنی تعداد بڑھانے لگتے ہیں۔ یہ دشمن یعنی بیکٹیریا گھس بیٹھیے ہوتے ہیں جن کا مقصد جلد سے گزر کر جسم میں داخل ہونا ہوتا ہے ۔ لیکن ہمارے جسم کا دفاعی نظام انھیں ایسا کرنے نہیں دیتا۔ چناچہ خون فورًا اپنے سفید خلیات کو ان سے مقابلہ کرنے کے لیے بھیجنے لگتا ہے۔ متعلقہ مقام کی ناکہ بندی کردی جاتی ہے تاکہ کوئی بھی جسیمہ وہاں سے اندر کی طرف نہ آسکے۔ خون کے سفید خلیات بیکٹریا سے لڑتے ہیں اور اپنے آپ کو قربان کرتے چلے جاتے ہیں۔ اس سارے عمل کے دوران اس جگہ شدید سوزش، درد اور ابھار بنتا ہے۔ یہ ابھار جو انگریزی میں ہیڈ اور اردو میں پھوڑے کا منہ کہلاتا ہے اصل میں بیکٹیریا کو باہر نکالنے کے لیے بنتا ہے۔ خون کے سفید خلیات کے مردہ اجسام اور بیکٹریا نیز کچھ اور  اینٹی باڈیز وغیرہ سے مل کر بنا یہ مادہ جسے پیپ کہتے ہیں پھوڑے میں جمع ہوتا ہے۔ اسے باہر نکالنے کے لیے پھوڑا باہر کی طرف بڑھتا ہے اور آخر کار ایک مقرر وقت پر بہہ نکلتا ہے۔ اسے پھوڑے کا پک جانا بھی کہتے ہیں۔ بعض اوقات پھوڑا ایک ہی بار بہہ نکلتا ہے اور اس کو کسی جراثیم کش سے دھو کر زخم صاف کرلینےسے آرام آجاتا ہے۔ بعض اوقات پیپ سے بنا ہوا سخت مادہ جسے اردو میں کیل کہا جاتا ہے اس کے اندر ہی رہ جاتا ہے۔ یہ سخت مادہ بڑے بوڑھے دبا کر نکالنے کے حق میں ہوتے ہیں۔ جبکہ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ یہ سخت مادہ دو تین دن میں خودبخود ہی  وقفے وقفےسے بہہ نکلتا ہے۔ احتیاط صرف یہ کی جانی چاہیے کہ پھوڑے کا زخم جراثیم کش سے دن میں تین چار بار صاف کرتے رہیں اور اس کے منہ کو کھلا رکھیں۔ اگر منہ بند ہوجائے گا تو یہ پھر سے بھرنے لگے گا اور پھر درد اور اکڑاؤکا باعث ہوگا۔ پھوڑے کے مقام پر گرمائش دینے سے بھی یہ جلدی پک جاتا ہے اور بہہ نکلتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ  گرمی دینے سے سفید خلیات کی جراثیم کو ہلاک کرنےصلاحیت بڑھ جاتی ہے۔  بعض اوقات پھوڑا خود نہیں بہتا بلکہ جراح کو دکھانا پڑتاہے جو وہاں سن کرنے والی دوا استعمال کرکے جراحی کرکے گند نکال دیتا ہے۔ تاہم جراحی کسی ہسپتال سے ہی کرانی چاہیے۔ پھوڑوں کے علاج کے لیے ہمارے ہاں نیم  کا عرق نکال کر پیا جاتا ہے جو قدرتی جراثیم کش ہے۔ انگریزی دواؤں میں اینٹی بائیوٹکس  استعمال کرائی جاتی ہیں۔ تاہم پھوڑا بننے سے پہلے ہی یہ دوائیں کارآمد ثابت ہوتی ہیں۔ جب منہ بننا شرو ع ہوجائے تو اینٹی بائیوٹکس یا دیسی دوائیں بے کار ہوجاتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ایک بار پیپ بن جانے کے بعد اس کا جسم سے نکلنا ضروری ہوجاتا ہے جس کے لیے پھوڑے کا منہ ہی ذریعہ اخراج ہوتا ہے۔ تاہم پھوڑا بننے سے قبل ہونی والی درد اور سوزش  کے وقت ہی اگر دوا لینی شروع کردی جائے تو متاثرہ جگہ حملہ آور بیکٹیریا اندر ہی اندر ہلا ک کردئیے جاتے ہیں چناچہ پھوڑا نہیں بنتا، اور اضافی تکلیف سے نجات مل جاتی ہے۔ پھوڑا اصل میں ہمارے دفاعی نظام کا ایک اہم ہتھیار ہے جس کی وجہ سے وہ گھس بیٹھیوں کو جسم سے نکال باہر کرتا ہے۔ تاہم اگر پھوڑے کی وجہ سے بخار ہورہا ہو، یا وہ کسی نازک مقام جیسے کمر ، بغل یا زیر ناف ہو تو ڈاکٹر کو دکھانا اشد ضروری ہوجاتا ہے۔

جمعہ، 23 جولائی، 2010

لے دس

ابھی ہم بلاگر کے نئے فیچرز کا جائزہ لے رہے تھے۔ ان میں ایک تو سٹیٹ کا نیا ٹیب ہے جو شاید گوگل اینالیٹکس سے ہی مستعار شدہ ہے، اس کے علاوہ نئے شئیر بٹن بھی شامل کیے گئے ہیں میری پوسٹ کے نیچے دیکھیں، اور پیش منظر کو بھی نیا کردیا گیا ہے، اب نئے صفحے پر کھل کر پیش منظر نظر آئے گا۔
گوگل بلاگر پر پچھلے چند دنوں سے بہت فعال ہے اور خاصی تبدیلیاں دیکھنے میں آرہی ہیں۔ خیر ایسا کرنا چاہیے بھی تھا، گوگل پتا نہیں کیسی سبز قدم کمپنی ہے جب بھی سوشل ویب میں آئی وہ پروجیکٹ ڈوبا ہی ڈوبا، بلاگر، آرکٹ اور ایسی کئی چیزیں۔
لے دس کے عنوان تلے آپ کو بتانا یہ تھا کہ سٹیٹ چیک کرتے ہوئے میں نے مطلوبہ کی ورڈز بھی دیکھے، جن کے تحت لوگ میرے بلاگ پر سرچ کرتے ہوئے آئے۔ اور ان میں سے ایک یہ بھی تھا۔
پاکستانی اردو ٹرپل ایکس فلم
کمبخت گوگل صرف میرا اور ایک اور ویب سائٹ کا ربط دیتا ہے۔ اس میں ایکس اصل میں ایکس پی والا ایکس ہے، یار ایدے وچ میرا کی قصور اے۔
ہیں جی؟

منگل، 20 جولائی، 2010

دی کراٹے کڈ

لو جی ساڈے ذاتی مشاہدے دے مطابق اج کل کی فلموں میں نوعمر ہیرو ہیروئن فیشن ہیں۔ جیسے آج سے چالیس سال قبل کی فلموں میں آنٹیاں ہیروئن آجایا کرتی تھیں، آج کل جوان بی بیاں امیوں کے کردار وچ آندی ہیں۔ ہُن تسیں کہو گے او کِنج۔ تے اسیں تہانوں دساں گے او اِنج کہ اساں ہُنیں ہُنیں کراٹے کڈ ویکھی ہے۔ ہُن تُسیں پُچھو گے اے کی ہے؟ تے اسیں تہانوں دساں گے کہ اے ایک فلم ہے۔ مزید معلومات لئی گوگل نوں زحمت دو۔ تب تک ہم آپ کو ایک دو فوٹو دکھا دیتے ہیں۔


تے کیسی لگی جی آپ نوں فوٹو؟ مزید فوٹو کے لیے فیر گوگل کو زحمت دیں۔ ہمارا تو کہنے کا مطبل بس اتنا تھا کہ ہم نے بڑے عرصے بعد جیکی چن اور بروس لی سٹائل کی مووی دیکھی ہے۔ ہیرو پہلے رج کے ذلیل ہوتا ہے پھر اسے ایک ماسٹر مل جاتا ہے جو اسے کنگفو سکھاندا ہے اور پھر ہیرو ولن کا مقابلہ بیٹھتا ہے۔ مقابلہ بھی ایک ٹورنامنٹ میں، جیسا کہ اکثر ایک امریکی ہیرو کی فلموں میں ہوا کرتا تھا۔ کیا بھلا سارا ناں سی پائی دا یاد نہیں آرہا ایس ویلے۔ خیر اس فلم میں بچہ جی یعنی ہیرو جی کی اماں جی ڈیٹرائٹ امریکہ سے چین میں لینڈ فرماتی ہیں۔ بچہ جی کو ایک بچی جی یعنی ہیروئن جی چنگی لگتی ہیں۔ پہلے دن ہی، کیسی گل ہے نا جی ایڈوانس جنریشن،۔ لیکن پہلے دن ہی ہیرو جی کی ٹھکائی ہوجاندی اے ولن جی کے ہتھوں، حسب معمول ولن جی ہیروئن کا قریبی عزیز ہے۔ اس کے بعد بچہ جی سوری ہیرو جی کچھ وقت ذلیل ہوتے ہیں دو ایک بار دب کے کُٹ کھاتے ہیں اس کے بعد فیر جیکی چن جی آجاتے ہیں۔ ہائے  ہائے وہ بھی کیا دن تھے جب ہم جن تھے اب ہم دیو ہیں جنوں کے پیو ہیں۔ جیکی چن جی کبھی خود ایسی فلموں میں ماسٹر کے ہاتھوں جلییییییییییییییل ہورہے ہوتے تھے۔ ماشٹر عجیب و غریب انداز میں ٹریننگ دیتا اور انھیں لینی پڑتی، کیا کرتے ہیرو جو تھے۔ اس فلم میں موصوف اپنا سارا غصہ بچہ جی سوری ہیرو جی پر کڈتے ہیں۔ کیسے کڈتے ہیں آپ فلم دیکھ کر ملاحظہ کیجیے۔ بس اتنا سمجھ لیے کہ ہیرو جی ٹورنامنٹ سے پہلے تیار ہوجاتے ہیں۔ پھر حسب معمول فائنل کشتی ہیرو جی اور ولن جی کی بندھتی ہے۔ اور فیر ہوتا ہے مقابلہ۔ لیکن ٹھہریں، ایک واری فیر حسب معمول ہیرو جی کو بجی، ارے اپاہج کو کہتے ہیں جی پنجابی میں، کرنے کی سازش ہوتی ہے اور ہیرو کی ایک ٹانگ پر ولن جی کا ساتھی جان بوجھ کر ضرب لگا کر انھیں لنگڑا کردیتا ہے۔ ماسٹر جی اس کا دیسی چینی علاج کر تو دیتے ہیں پر پاء جی سٹ تے سَٹ ہوتی ہے جی۔ سو ہیرو جی لنگڑاتے ہوئے مقابلے میں واپس آتے ہیں جب کہ ولن جی تقریبًا جیت چکے ہوتے ہیں۔ اور فیر ہندی ہے ایک دھانسو قسم کی فےٹ۔ ہائے ہائے، اس کے ایشکن تے تُساں کو سکرین پر ہی چنگے لگیں گے۔ چناچہ تشریف لے جاؤ تے فلم ویکھو، اگر ڈالر ہیں تے سینما وچ ویکھو نہیں ہیں تے ٹورنٹ توں ڈاؤنلوڈ کرکے۔
ہیں جی؟

سوموار، 19 جولائی، 2010

آخر بھارت کو راہداری مل گئی

جیسا کہ آج کے اخبارات سے ظاہر ہے، بھارت کو افغانستان تک راہداری کے لیے معاہدہ طے پاگیا ہے۔ پہلے پاکستان اس پر تیار نہیں ہورہا تھا لیکن جیسے بچے کو کڑوی دوا اماں اپنے ہاتھوں سے خود پلاتی ہے اسی طرح ہیلری کلنٹن نے خود یہ معاہدہ کروایا ہے۔ اس کے نقصانات کیا ہونگے، ویسے تو کئی لال بُجھکڑ بیٹھے ہیں میڈیا میں اور اُرے پرے۔ ہمارے اپنے ذاتی خیال میں اس کا سب سے پہلا نقصان یہ ہے کہ بھارتی سامان افغانستان جانے کی بجائے پاکستان میں ہی رہ جایا کرے گا۔ جیسا کہ پہلے بھی افغانستان جانے والا مال پاکستان میں رہ جایا کرتا ہے اور اکثر رہ جایا کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ مقامی صنعت کی تباہی اور ٹیکس کی مد میں کروڑوں شاید اربوں کا نقصان ہوگا۔
اگرچہ یہ کہا گیا ہے کہ بھارت کو راہداری نہیں دی گئی بلکہ وہ سامان پاکستانی ٹرکوں یا افغانی ٹرکوں پر لد کر جائے گا۔ سائیں کان ادھر سے پکڑیں یا اُدھر سے بات تو وہی ہے، بھارت کو راہداری مل گئی۔ ان کی موجیں۔ ہاں یہ ٹرکوں کی ادلا بدلی سے اتنا ہوگا کہ پاکستانی ٹرانسپورٹرز کی چاندی ہوجائے گی۔

ہفتہ، 17 جولائی، 2010

کچھ یادیں

حالات کچھ عجیب سے ہیں لوگ لکھنے کی بجائے کچھ اور ہی کررہے ہیں۔ تو میں نے سوچا چلو کچھ لکھا جائے ورنہ عام حالات میں مَیں ایک خاموش اور ممکنہ بلاگر ہوں جو کسی بھی وقت اٹھ کر کچھ بھی لکھ سکتا ہے لیکن یہ لکھنا بعض اوقات مہینوں کے وقفے کے بعد معرض وجود میں آتا ہے۔ آج بھی کچھ نہیں تھا لیکن میں نے سوچا چلو کچھ یادیں شئیر کروں۔ اپنی بلاگنگ کی ہسٹری بتاؤں۔
میرے بلاگ پر سب سے پہلی پوسٹ پر نو اکتوبر دو ہزار پانچ کی تاریخ پڑی ہے۔ شکر کیجیے اس کا عنوان ہے اور بڑی نستعلیق سی پوسٹ ہے۔ شروع میں بلاگنگ سے میری مراد یہی تھی کہ اچھی اچھی پوسٹس لکھی جائیں۔ اب اچھی سے کیا مراد ہے مطلب آرٹیکلز قسم کی چیز، یا کوئی افسانہ۔ اسی بلاگ پر آپ کو انھی دنوں کے کچھ افسانے بھی مل جائیں گے، اور کچھ بے بحری اور بعد میں بحری شاعری بھی۔ ان دنوں گلوبل سائنس میں بھی لکھا، چاند میں بھی اور بعد میں کمپیوٹنگ میں بھی۔ سو دل کرتا تھا کہ بندہ ویسا ہی بلاگ پر لکھے۔ کوئی سالا شائع نہیں کرتا تو نہ سہی اپنا بلاگ  تو ہے، پرسنل پبلشنگ پلیٹ فارم۔ جو مرضی لکھو۔
بلاگنگ سے پہلے میں اردو ویب محفل سے متعارف ہوا تھا اور وہی سے قدیر احمد اور زیک وغیرہ کے بلاگ دیکھ کر شاکر کا بلاگ بنایا۔
پھر ورڈپریس کا چاء چڑھا۔ اسے ترجمہ کیا، اور کئی بار کیا پھر تھک ہار کر چھوڑ دیا ۔سالا ہر تین ماہ بعد پھر ترجمہ کرنے والا ہوجاتا تھا، نیا ورژن، اب اتنا ٹائم کس کے پاس ہے وہ بھی مفت میں کہ ترجمہ ہی کرتا جائے۔ تو ہم نے اسے انگریزی میں ہی استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک اور وجہ بلاگر پر پابندی تھی جو اس وقت گستاخانہ خاکوں کی وجہ سے لگی تھی۔ ہم فری ہوسٹ پر چلے گئے۔ یو ای یو او کئی سارے ہوسٹس میں بہترین تھا۔ یہ ایڈز لگاتا تھا آپ کی سائٹ پر لیکن آپ اپنی مرضی کے ایڈز منتخب کرسکتے تھے، یہ ورڈپریس انسٹال کرکے بلاگر سے امپورٹ کی اجازت دیتا تھا جو اکثر فری ہوسٹس نہیں دیتے تھے۔ اور یہ سب ڈومین بھی دیتا تھا۔ میں نے اس پر بلاگ بنا لیا جو کوئی دو سال چلا۔ شاید زیادہ چلا ہو۔ یا کم۔ لیکن چلتا رہا۔ ہم نے ڈنڈی یہ ماری کہ ایڈز نہ لگائے۔ ایک عرصے تک کمپنی کو پتا نہ چلا اور ایک دن جب انھیں پتا چل گیا تو انھوں نے پالیسی کے مطابق میرا پورا  کھاتہ اُڑا دیا۔ ایک اردو بلاگ گیا اور ایک انگریزی بھی۔ کھاتا تو پھر بنا لیا لیکن پھر دل نہ کیا جانے کو واپس اور ہم پدھارے بلاگر پر واپس۔
ورڈپریس کی بیک اپ کو ادھر اُدھر سے سرچ کرکرا کے گوگل ایپلی کیشن انجن کے ایک اطلاقیے سے بلاگر کی ڈیٹابیس فائل میں بدلا اور چڑھا لیا۔ تب سے ادھر ہی ہیں۔ ابھی تک اپنے ڈومین کی توفیق نہیں ہوئی، عرصہ پانچ سال سے اسی کی خواہش ہے۔ لیکن یہ خواہش ابھی حسرت ہے دیکھیں کب پوری ہوتی ہے۔ شاید اسی سال کہ میری ایم ایس سی پوری ہورہی  ہے اور جاب بھی مل ہی جائے گی کوئی چھوٹی موٹی، پھر اپنی ویب سائٹ بھی بنانی ہے، ریزیومے بھی رکھنا ہوگا، اور لینگوئج سے متعلق بہت سا کام کرنے کا بھی ارادہ ہے۔ دیکھو کیا بنتا ہے۔
اللہ کریم توفیق دے۔
نئے بلاگرز جو اپنا ڈومین چاہتے ہیں، فری ہوسٹس سے بچ بچا کر، ہم ایک عرصے سے ان کے سحر سے آزاد ہوئے۔ یا تو آپ کا اپنا ڈومین قابل اعتبار ہے یا پھر بلاگر۔ فری ہوسٹس، پاکستانی ہوسٹس، سب بے کار ہیں، کسی بھی وقت آپ کا ڈیٹا اللہ کو پیارا ہوسکتا ہے۔
اور ہاں فری ہوسٹ اور بلاگر کے دوران ہم مکی کے ساتھ  بھی رہے۔ مکی نے ایک پاکستانی ہوسٹنگ ری سیلر سے سپیس لی تھی، ہم مل کر ارد کوڈر لینکس فورم اور اپنے بلاگز اس پر چلا رہے تھے لیکن ایک یا ڈیڑھ سال جو ہم اس پر رہے ذلیل ہی ہوئے۔ عجیب سلسلہ تھا ہر چند ماہ بعد سائٹ منظر عام سے غائب ہوجاتی تھیں۔ پھر مکی نے ڈومین کی اونر شپ اور کمپنی کے ذریعے خرید لی اور ان کی ہوسٹنگ چھوڑ دی، اس دوران ہم اردو ویب کے مہمان رہے۔ نبیل نے ہمیں سپیس فراہم کی لیکن انھیں دنوں اردو ویب کو بھی سپیڈ کے مسائل پیش آنے لگے اور کبھی ہماری سائٹ کھلتی کبھی نہ کھلتی اور کبھی یہ ہوتا کہ پرابلم کا ماخذ معلوم کرنے کے لیے زیک باری باری سائٹس کو آفلائن کردیتے، اور ہماری سائٹ بھی آفلائن چلی جاتی۔ اس سارے سے تنگ آکر میں نے اپنا بلاگ اس ہوسٹنگ سے پھر بلاگر پر منتقل کیا۔ اوپر دیا گیا لنک آج بھی اسی بلاگ پر ری ڈائرکٹ کرتا ہے، نبیل اور مکی کا شکریہ یہ سب ڈومین اب تک کارآمد ہے۔اردو کوڈر اب بھی اردو ویب کی ہوسٹنگ پر چلتا ہے لیکن اب اس کے منتظمین مصروف ہیں جیسا کہ اردو کی ویب سائٹس کا حال ہوتا ہے۔ مکی کو روزگار کے لالے پڑگئے اور مجھے پڑھائی کے۔ چناچہ ہم اپنی راہوں پر اور اردو کوڈر کبھی کبھار چل ہی جاتا ہے، محمد سعد اچھا بندہ ہے لینکس کا اچھا لور۔ میری طرح نہیں کہ لینکس انسٹال کرلیا اور پھر ونڈوز ہی استعمال کرتے رہے۔ 

بدھ، 14 جولائی، 2010

آخر لکھنا ہی پڑا

میں پچھلے ایک ماہ سے چلنے والی بکواسیات سے دامن بچا کر گزر رہا تھا لیکن آج معاملے کی انتہا سی ہوگئی ہے۔ ایک خاتون بلاگنگ چھوڑ کر جارہی ہیں اور اردو کے ایک بابے بلاگر نے بھی ان کے حق میں پوسٹ لکھ ماری ہے۔ تو میرا بھی فرض بنتا ہے کہ بابا جی کی پیروی میں ایک پوسٹ لکھوں جس میں اس کی مذمت کی گئی ہو۔ رب جانے یہ بکواس کہاں سے شروع ہوئی تھی، لیکن سادہ الفاظ میں ایسی کسی بھی بکواس کی مذمت کرنا اور اس پر لعنت بھیجنا بھی پسند نہیں کرتا۔ میری نظر میں اس سارے ڈرامے کی اتنی اوقات ہے۔ اب جبکہ اس ڈرامے کا اینڈ ہونے جارہا ہے تو کچھ "ہمدردوں" نے، جیسا کہ پاکستانی معاشرے کی خاصیت ہے کہ خاتون کے بھائی ہر طرف سے نکل آتے ہیں اور جوق در جوق نکل آتے ہیں، ہمدردی کرتے ہوئے پھر اپنی زبان پلید کرنی شروع کردی ہے۔ پھر کمینہ وغیرہ وغیرہ قسم کی اصطلاحات استعمال ہورہی ہیں اور پھر لوگوں کے لیے تفریح کا سامان پیدا ہورہا ہے۔ لوگ آتے ہیں پڑھتے ہیں، اچھا یہ بات تھی، لطف لیتے ہیں، ایک تیلی اور پھینکتے ہیں اور نکل لیتے ہیں۔ ڈرامے کے اینڈ پر ایک اور ڈرامہ لگ گیا ہے۔ کس قسم کی اجتماعی فطرت ہے ہماری اور کتنی گندی فطرت ہے یہ۔
اس پوسٹ پر کوئی تبصرہ نہیں ہوگا، معذرت کے ساتھ میں اپنے بلاگ پر ایک اور ڈرامہ نہیں لگانا چاہتا۔

ہفتہ، 10 جولائی، 2010

دل کے ارماں

صاحبِ دل تو ہم اس وقت سے تھے جب اس دنیا فانی میں تشریف آوری ہوئی، لیکن آج مریضِ دل ہوتے ہوتے رہ گئے۔ اب آپ پوچھیں گے او کِداں؟ تو ہم آپ کو دسیں گے۔ او ایداں کہ ہمیں ایک عرصے سے دل کے مقام پر درد کی شکایت ہے۔ کبھی کبھار یہ اچانک چھڑ جاتی ہے، یوں لگتا ہے جیسے کوئی پٹھا کھنچنے سے یہ شروع ہوجاتی ہے لیکن کمبخت عین دل کے مقام پر ہوتی ہے اور ہوتی ہی چلی جاتی ہے۔ ناقابل برداشت نہیں ہوتی لیکن اس کا ہونا ہی "عین ہونا" ہے، اس سے بالکل اُلٹ جیسا کہ عابدہ پروین کوک سٹوڈیو کے ایک گانے میں فرماتی ہیں۔ تو ہم بات کررہے تھے درد کی، اس کے ساتھ ساتھ کبھی دل کی دھڑکن اچانک اتنی بڑھ جاتی ہے کہ دھڑکتا محسوس ہونے لگتا ہے۔ اور کبھی بہت سانس بھی چڑھ جاتی ہے۔ دو تین دن پہلے یہی نامُراد درد پھر چھڑا۔ شومئی قسمت ایک کلاس فیلو کے والد کا انتقال بھی اسی مرض میں پرسوں ہوا ہے۔ آج ان کے قُل سے واپسی پر یہ سوچ کر کہ کہیں عنقریب ہمارے قُل بھی نہ اس مرض میں ہوجائیں ہم فیصل آباد انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو نکل لیے۔
 وہاں پہنچے تو کیا دیکھا۔ کیا دیکھنا تھا عمارت دیکھی۔ نویں نکور عمارت جسے مشرف دور کے کسی وزیر کی گرانٹ ملی تھی۔ آج کل اس کے نام کا کتبہ ہٹا دیا گیا ہے۔ سائیکل کھڑا کرکے اوپر سے او پی ڈی میں گئے اور اندر داخل ہوتے ہی ٹھنڈ پے گئی بادشاہو۔ ساری عمارت سینٹرلی ائیر کنڈیشنڈ۔ سواد آگیا بادشاہو۔  استقبالیے پر جاکر آمد کا مقصد بتایا تو انھوں نے مبلغ تیس روپے لے کر ایک عدد کاپی تھما دی۔ اس کے بعد سامنے والے کمرے میں جانے کا اِذن ملا۔ وہاں پہنچے سے ایک صاحب نے ہمارے ابا جی سے لے کر ہمارا سب بائیو ڈیٹا پوچھ ڈالا۔ ابا جی کیا کرتے ہیں، تم کیا کرتے ہو، کتنا کماتے ہو۔ پہلے تو ہم سمجھے نہیں بتاتے گئے بعد میں پتا چلا "کیٹیگری" لاؤنی سی۔ یہاں یہ صاحب آمدن کے حساب سے مریضوں کو ایک مہر لگا کر دیتے تھے کاپی پر۔ اس کی بنیاد پر آگے چاجز لگتے ہیں۔ ہم نے تو کہہ دیا جی پارٹ ٹائم جاب کرتے ہیں پر پیسے کئی کئی ماہ بعد آتے ہیں۔ انھوں نے جھٹ سے "پوؤر" کی مہر لگا دی۔ لو جی ہم سرکاری طور پر غریب غربا قرار پاگئے۔
اگلا حُکم ملا کہ روم نمبر اٹھارہ وچ ونجو۔ ہم وہاں ونجے تو آگے ای سی جی والے نے ہمارا استقبال کیا۔ اس کے علاوہ خاصے مریض بھی تھے۔ لیکن ای سی جی جلدی جلدی ہورہی تھی۔ جوتے اتارو، اوپر لیٹو، بازؤں کے بٹن کھولوں سینہ ظاہر کرو۔ وہ صاحب کوئی گوند سی چپچپی چیز لگاتے پھر ای سی جی مشین کی تاریں سینے پر جوڑنے لگتے۔ ہم سے پہلے چار لوگوں کا ہوا پھر ہماری باری آئی۔ ہم نے بڑی شان سے اپنا سینا دکھایا تودیکھنے والے ہماری پسلیاں دیکھ کر کہنے لگے تہانوں وی دل دی بیماری اے؟ تو ہم نے کہا صاحب دل ہیں، بیماری کے لیے ایک عدد دل ہونا ضروری ہے جس کے مالک ہم شروع دن سے ہیں چناچہ حیرت کاہے کی   ؟
خیر ہمارا ای سی جی ہوا جسے متعلقہ بندے نے ہمارے اعمال نامے میں لگا کر روم نمبری 13 کی طرف دھکیل دیا۔ وہاں پہلے ای سی جی کرانے والے حضرات بیٹھے تھے۔ اور کمرے کی رکھوالی ایک مثلِ لیلی خاتون کے سپرد تھی جو رجسٹر کھولے مریضوں کا اندراج کررہی تھیں۔ ہمارا بھی اندراج کرکے انھوں نے کہا "بھائی بیٹھ جاؤ"۔ اور ہم بالکل ہی بہہ گئے، یعنی لیلی بھی تھی اور بے مروت بھی، سیدھا بھائی بنا ڈالا۔ خیر ہم انتظار میں بیٹھ گئے۔ پہلے حکم ملا کہ چودہ میں چلے جاؤ۔ وہاں گئے تو اندر سے حکم ملا پانچ منٹ بعد آئیے گا ڈاکٹر صاحبہ مصروف ہیں۔ ہم باہر آگئے۔ اس دوران ہم سے پیچھے والے صاحب بھی اندر آچکے تھے۔ دونوں سے اعمال نامے واپس لیے اور پھر بٹھا دیا۔ جب دوبارہ باری آئی تو ہم سے پچھلے کی باری پہلے آگئی۔ وہ باہر آئے تو ہم نے پوچھا بھیا کیا بنا۔ کہنے لگے شوگر چیک کرانے کا کہا ہے اور گولیاں لکھ دی ہیں۔ ہم جل تو جلال تو کا ورد کرتے اندر گئے تو پھر حکم ہوا پانچ منٹ بعد آئیں۔ شاید ہماری شکل پر ہی لکھا ہوا تھا کہ "انھیں پانچ منٹ بعد بُلایا جائے، اور ہر بارایسے ہی بُلایا جائے"۔۔
خیر پانچ منٹ بعد خود ہی بُلاوہ آگیا ہم اندر پدھارے۔ ایک شوخ سی ڈاکٹر صاحبہ مع ایک عدد ایکسٹرا قسم کی نرس کے ساتھ میز کی اِس جانب بیٹھی تھیں۔ شاید پروفیسر صاحب خود کہیں گئے ہوئے تھے او ریہ ان کی جگہ مریض بھُگتا رہی تھیں۔ بیٹھتے ہی ڈاکٹر صاحبہ نے ہمیں اُٹھا دیا ادھر جاکر اپنا بلڈ پریشر چیک کروائیں۔ ہم اُدھر گئے تو نرس صاحبہ نے چپس کرچتے ہوئے ہمارا بلڈ پریشر چیک کیا۔ پھر ڈاکٹر صاحبہ نے ہمارا ای سی جی دیکھا، اور پھر ہمیں دیکھا۔ "کیا مسئلہ ہے" اور ہم نے مسائل بتائے، جو اوپر بتا چکے ہیں۔ انھوں نے لمبے لمبے سانس دلوائے اور سٹیتھوسکوپ سے دل سے رازونیاز کیے۔  پھر ہماری بتائی ہوئی تفصیلات اعمال نامے پر لکھیں، جنہیں ہم آخر تک گولیوں کے نام سمجھتے رہے۔ پوچھنے لگیں سگریٹ پیتے ہوں؟ عرض کیا نہیں، پوچھا شوگر بلڈ پریشر عرض کیا نہیں۔ تو کہنے لگیں آپ کے دل کو کوئی مسئلہ نہیں، بلاوجہ دوائیں  نہ کھائیں تو بہتر ہے۔ مزید چیک اپ کروانا ہو تو سول یا الائیڈ میں کروالیں۔ وہ درد دل کا درد نہیں ہے۔
اور ہم خوشی خوشی گھر کو پدھارے۔ یہ سوچتے ہوئے کہ چار دن کی چاندنی ہے پھر اندھیری رات ہے۔ پہلے ائیر کنڈیشنر خراب ہونگے، پھر عمارت ، جس کا نقشہ مسترد ہوگیا ہے پہلے ہی، کے آسے پاسے اترنے لگیں گے، پھر رنگ روغن اڑنے لگے گا، مشینیں خراب ہونگی، اور پھر یہا ں بھی سول اور الائیڈ والا حال ہوگا۔ یعنی کتنے سارے مریض، تھوڑے سے ڈاکٹر اور مزید تھوڑی سی سہولیات۔ ہاہاہاہا ہے نا گندی پاکستانی سوچ، کیا کریں دل جو پاکستانی ہے، اور جانتا ہے کہ جو چیز پاکستان میں بن جاتی ہے اس کی دیکھ بھال تو ہونی نہیں ہوتی تو پیشن گوئی کرنا کونسا مشکل کام ہے۔
تو یہ تھا ہمارا مریض ِ دل نہ ہوسکنے کا ماجرا۔ دیکھیں اگلی بار کب جانا ہوتا ہے  ہسپتال۔