سوموار، 30 جنوری، 2012

اردو سے انگریزی لغت (ڈکشنری)

ایک عرصے سے ارمان تھا کہ اردو سے انگریزی لغت ہو۔ تاکہ اردو سے انگریزی ترجمہ کرتے ہوئے جہاں انگریزی ختم ہو جائے وہاں لغت کی مدد لی جا سکے۔ تاہم اگر کوئی حل دستیاب بھی ہوا تو وہ آنلائن تھا، آفلائن حل کوئی نہ تھا۔ کلین ٹچ جیسی لغات بھی دستیاب ہیں لیکن مفت خورے ان کی طرف کیوں دیکھیں۔ خیر دو دن پہلے بخار سے اٹھے تو لغت پر جا پڑے۔ اور اردو ٹرانسلیٹر گلاسری ، جو کہ اردو ویب لغت کی ڈیٹا بیس فائل کو ہی سادہ ٹیکسٹ میں تبدیل کر کے اومیگا ٹی میں استعمال کے قابل بنائی گئی تھی، کے بعد اب پیش ہے ایک عدد اردو سے انگریزی لغت۔
اس سے ہزار گنا بہتر پروگرام لکھا جا سکتا تھا، فہرست الفاظ میں بےشمار غلطیاں ہونے کے قوی امکانات ہیں، اور ہو سکتا ہے سافٹویر ہی چلنے سے انکاری ہو جائے۔ تاہم ایک نیم حکیم سے اسی کی توقع کیجیے۔ ہم نے کوئی راکٹ سائنس استعمال نہیں کی بس اردو ویب  لغت کی انگریزی  سے اردو والی ورڈ لسٹ کو اردو سے انگریزی کے لیے قابل استعمال بنا دیا۔ کچھ کچھ قابل استعمال، اب یہ آفلائن مقاصد خاصی حد تک پورے کر سکتی ہے۔ اور اردو سے انگریزی متبادل مہیا کر سکتی ہے۔
اردو سے انگریزی لغت
سی شارپ میں لکھی گئی ہے۔ اور بڑا سادہ سا کام ہے۔ اردو حرف دیں تو پہلے تو یہ حرف بحرف انٹری دیکھے گی۔ اگر ہوئی تو پہلی انٹری وہی شو ہو گی۔ اس کے بعد تلاش کردہ لفظ سے شروع ہونے والے تمام اندراجات سامنے نکال کر رکھ دے گی۔ دوسرا آپشن "حرف بحرف" پہلے کا ہی آدھا ورژن ہے، یعنی اگر حرف بحرف ملتے لفظ ہوئے تو کچھ ملے گا ورنہ چھٹی۔ نبیل نقوی کے تیارہ کردہ اردو ڈاٹ نیٹ کنٹرولز کو استعمال کرتے ہوئے اردو لکھنے کی سہولت دی ہے۔ باقی سادہ سا انٹرفیس ذاتی تیار کردہ ہے۔ لغت اطلاقیہ سی شارپ میں لکھا گیا ہے، ونڈوز سیون 64 بٹ اور شارپ ڈویلپ ورژن 4۔ اس پوسٹ کے ساتھ اس کی ایگزی فائل اور سورس پراجیکٹ شامل ہیں۔ اگر ایگزی نہ چلے تو خود سے کمپائل کر لیں۔ لغت کا فونٹ جمیل نوری نستعلیق ہے، چناچہ بہتر ہے کہ فونٹ بھی انسٹال ہو۔
اردو انگریزی لغت
اردو انگریزی لغت شارپ ڈویلپ پراجیکٹ
اپڈیٹ:
شاکر القادری صاحب کے تعاون سے القلم اردو انگریزی لغت کا ڈیٹا مجھے مل گیا تھا۔ اسے بھی اس میں ڈال دیا ہے۔ اس کے ساتھ ڈاٹ نیٹ کا ورژن بھی 2 کرنے کی کوشش کی تھی، کامیاب ہوئی یا نہیں کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اگر ڈاٹ نیٹ 2 پر نہ چلے تو تین انسٹال کر کے چلا لیں۔ اور ایک وضاحت لغت میں *اعراب* والے الفاظ *اعراب کے بغیر* ٹائپ کریں ورنہ تلاش نہیں ہو گی۔ اس کی وجہ تلاش کی تکنیک کی خامیاں تھیں، چناچہ اعراب کو اڑانا پڑتا ہے، تاہم شو کرواتے ہوئے اعراب نظر آتے ہیں۔ اسکرین شاٹ ملاحظہ ہو۔
اردو سے انگریزی لغت القلم کے ساتھ
علاوہ ازیں اب "حرف بحرف" تلاش کو طےشدہ (ڈیفالٹ) حیثیت دے دی ہے۔ یہاں دونوں لغات نظر آ رہی ہیں۔ جبکہ ملتے جلتے الفاظ کے آپشن میں صرف اردو ویب لغت ہی استعمال ہوتی ہے۔ اردو ویب لغت کے اندراجات قریباً دو لاکھ الفاظ کے ہیں، جبکہ القلم کے اندراجات تیس ہزار کے قریب ہیں۔
اردو انگریزی لغت

اردو انگریزی لغت سورس کوڈ

اپڈیٹ:

اردو انگریزی لغت ڈراپ باکس لنک

اردو انگریزی لغت سورس ڈراپ باکس لنک

بدھ، 18 جنوری، 2012

خود شناسی

خود شناسی کا دعوی کرنا اور خود شناس ہونا دو مختلف چیزیں ہیں۔ اور اس کا اندازہ مجھے پچھلے کچھ عرصے میں ہونے والے پے در پے انکشافات کے بعد ہوا۔ ایک عرصے سے میرا خیال تھا کہ میں خاصا مثبت سوچ رکھنے والا انسان ہوں۔ اسی طرح کے کئی ایک بت جو میں نے اپنی ذات کے بارے میں اپنے ذہن میں تراش رکھے تھے۔ ان بتوں کو حالیہ دنوں میں منہ کے بل گرنا پڑا۔ اور مجھے احساس ہوا کہ میں جو دنیا کو جاننے کا دعوے دار بنتا ہوں، چھبیس سال تک اپنے آپ کو ہی اچھی طرح سے نہیں جانتا تھا۔

خود شناسی شاید اس سے بھی ارفع چیز ہے۔ لیکن میں شاید اتنا تو کہہ ہی سکتا ہوں کہ اپنے آپ سے تھوڑی سی واقفیت ہو گئی ہے۔ بڑی بیسک لیول کی واقفیت۔ جیسے دو چار ملاقاتوں میں کسی اجنبی سے آپ ہلکی سی شناسائی پیدا کر لیں۔ تو پچھلے دنوں میں مجھ پر آنے والے کچھ زلزلوں نے بڑے بڑے بت گرا دئیے ، اور اب مطلع صاف ہونے پر جو حقیقت حال سامنے آئی تو اس 'میں' سے اب میری تھوڑی تھوڑی سی شناسائی ہوئی ہے۔ پہلی شناسائی تو یہ ہوئی ہے کہ میں جو اپنے آپ کو جاننے کا  زعم رکھتا تھا،  اب مجھے یہ پتا چل گیا ہے کہ میں اپنے آپ کو بالکل بھی نہیں جانتا تھا، شاید اب بھی نہیں جانتا۔ بس کہیں کہیں کچھ دھندلے دھندلے سے نقوش ہیں، کچھ ادھوری ملاقاتوں کے نتائج جن سے اپنے بارے میں نتائج اخذ کیے ہیں۔ کہ شاید یہ بندہ ، جو میرے اندر بیٹھا ہوا ہے، ایسا ہے۔

مجھے کچھ معاملات میں شدید ناکامی کے بعد احساس ہوا کہ میں رسک ٹیکر نہیں ہوں۔ میں اپنے آپ کو محتاط تو سمجھتا تھا، لیکن کئی معاملات میں بزدلی کی حد تک کی احتیاط نے مجھے ٹھوکروں کا منہ دکھایا تو احساس ہوا کہ میں محتاط سے بڑھ کر کچھ چیز ہوں۔ اپنی ذات کا ذرا  مزید سخت ہو کر تجزیہ کیا تو احساس ہوا کہ زندگی کے اکثر معاملات میں میرا رویہ ہمیشہ پتلی گلی سے نکل لینے والا ہوتا ہے۔ جب مجھے احساس ہوا کہ میرے سامنے رکاوٹ آ رہی ہے، میں نے نسبتاً آسان راستہ اختیار کر لیا۔ چاہے وہ تعلیمی کیرئیر ہو، یا زندگی کا کوئی اور معاملہ۔ اسی عادت سے منسلک ایک اور عادت معاملات کو لامتناہی طور پر پس پشت ڈالنے کی عادت بھی ہے۔ جس نے مجھے بہت سے برے دن دکھائے، خاص طور پر حالیہ دنوں میں میرے احباب اور میری اپنی ذات نے قدم قدم پر مجھے احساس دلایا کہ میں شدید طور پر ریت میں سر دے کر سب اچھا ہے کی گردان کرنے والا ایک شتر مرغ ہوں۔ میری یہ فرض کرلینے کی عادت کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، اس کی وجہ سے جو منہ کی کھانا پڑی وہ الگ کہانی ہے۔ تاہم اس شترمرغ والی عادت نے بہت سے معاملات میں میرے لیے راہ ہموار کرنے کی بجائے دشوار اور بعض اوقات بند ہی کر دی۔ انتظار کرنے کی پالیسی شاید ایک حد تک تو ٹھیک ہو، لیکن ہمیشہ انتظار کرتے رہنا آپ کو کہیں بھی نہیں لے کر جاتا، بلکہ آپ وہیں رہ جاتے ہیں اور دنیا آگے بڑھ جاتی ہے۔ اور میں نے یہ تجربہ کر لیا ہے کہ انتظار لامتناہی ، انتظار لا حاصل ہے۔ کم از کم مجھے یہی تجربہ حاصل ہوا ہے کہ جہاں میں نے سوچا کہ انتظار بہتر رہے گا، وہیں انتظار آخر میں تباہ کن ثابت ہوا، دنیا آگے بڑھ گئی اور میں وہیں کھڑا دیکھتا رہ گیا۔ کبھی کبھی مجھے اسی لیے اپنا آپ جی ٹی روڈ کے کسی ٹول پلازے پر بیٹھے کلرک کی ذات لگتا ہے۔ جو گاڑیوں کو جاتے دیکھتا رہتا ہے، دیکھتا رہتا ہے، منزل مقصود پر روانہ کرتا رہتا  ہے اور خود ساری عمر اسی ٹول پلازے پر گزار دیتا ہے۔ یہی کچھ مجھے بھاری قیمت چکاتے ہوئے اپنے آپ کے بارے میں محسوس ہوا۔ کہ میں بھی فطری طور پر ایک جگہ بیٹھ کر دھوپ سینکنے کا عادی ایک کچھوا ہوں جو  خطرے کو دیکھ کر گردن اندر کر لیتا ہے، ورنہ مزے سے دھوپ سینکتا رہتا ہے اور آنے جانے والوں کو تکتا رہتا ہے۔ا ور جب وقت گزر جاتا ہے تو بھاگنے کی کوشش میں اپنا گِٹا نکلوا بیٹھتا ہے۔

ایک کرم فرما نے مجھے بار بار احساس دلایا کہ میں انتہائی قنوطی طبیعت کا انسان ہوں اور یہی کچھ میری تحاریر سے بھی چھلکتا ہے۔ میں پہلے پہل یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھا ، اپنے آپ کو بڑا شاکر قسم کا انسان سمجھتا تھا لیکن اب یہ روز روشن کی طرح عیاں ہو چکا ہے کہ میں اکثر منفی رخ دیکھنے کی سعی زیادہ کرتا ہوں۔ بلکہ اب تو اتنی عادت ہو چکی ہے کہ سعی بھی نہیں کرنی پڑتی۔ کسی بھی چیز کے نقائص فوراً سامنے آ جاتے ہیں۔ اور پھر ان پر طنز، طنز بھی ایک مسئلہ ہے۔ فیصل آبادی پھکڑ پن نے مجھے کہیں کا  نہیں چھوڑا۔ لوگ کہتے ہیں فیصل آبادی بڑے ہنس مکھ اور جگت باز ہوتے ہیں۔ میں نے لوگوں کے کہے میں آ کر خود کو اس سانچے میں فٹ کر لیا۔ ایک عرصے تک میں اپنے آپ پر ہنستا رہا، دنیا پر ہنستا رہا، لوگوں کو ہنساتا رہا۔ اتنا ہنسایا کہ لوگ ا ب مجھ سے مزاح، کاٹ دار جملے یا کسی تیکھی بات کی توقع کرتے ہیں۔ میں نے اپنی ذات کے بھرم کو اپنی ہی ہنسی اور ٹھٹھے میں اڑا دیا۔ اور جب مجھے اس شخص نےیہ کہا، کہ جس سے میں نے شاید زندگی میں سب سے زیادہ سنجیدگی برتی تھی، کہ شاکرتمہارا رویہ بہت غیر سنجیدہ ہے، نان سیرئیس ہے، تو تم سے کیا توقع لگائی جا سکتی ہے؟ مجھے اپنے پھکڑ پنے سے سب سے پہلی نفرت وہاں محسوس ہوئی، شدید قسم کی نفرت۔ کہ لوگ مجھ سے کیا توقع رکھتے ہیں، مجھے سرکس کا جوکر سمجھتے ہیں اور میں بزعم خود ایک سنجیدہ، متین قسم کا بندہ بنا پھرتا ہوں۔ اگر میں اتنا ہی سنجیدہ تھا تو  میں نے شو کیوں نہ کروایا۔ اس فیصل آباد پھکڑ پن نے میرے منہ پر ایسا طمانچہ لگایا کہ شاید میں ساری عمر اس کے شاک سے باہر نہ نکل سکوں۔ لیکن یہ پھکڑ پن پھر بھی نہیں جائے گا۔ میں تو اپنی مرگ پر بھی دو چار کاٹ دار جملے پھینکتا ہوا کوچ کروں گا۔ یہ فیصل آبادی پن میرے اندر ، میرے خون کے اندر، میرےا لفاظ میں، میری تحاریر میں اتنا رچ بس گیا ہے کہ اب اس کے بغیر زندگی ایسے ہی ہے جیسے ہیروئن کے بغیر نشئی کی زندگی۔ چاہے اس کی وجہ سے روح زندگی میری زندگی سے جدا ہو گئی، لیکن یہ پھکڑ پن اب سانس کے ساتھ ہی جائے گا۔

کہتے ہیں کہ خود پر برسر عام طنز کے تیر چلانا بہت جرات کا کام ہے۔ اور ایک عرصے تک مجھے یہ زعم رہا کہ میں چار لوگوں میں بیٹھ کر بڑے موثر انداز میں اپنی ہی مٹی پلید کر سکتا ہوں، اپنے آپ کو سامنے بٹھا کر دوسروں کو اس پر ہنسا سکتا ہوں، اور خود بھی ہنس سکتا ہوں کہ دیکھو شاکر کتنا پاغل بندا ہے۔ لیکن یہ احساس مجھے کل تک بھی نہیں ہوا تھا کہ میں اپنی ذات پر دوسروں کی تنقید برداشت نہیں کر سکتا۔ جو اپنے آپ کو دوسروں کے سامنے ڈی گریڈ کر سکتا ہو، اسے دوسروں کی اپنی ذات کے لیے یہی اپروچ تو برداشت کرنی چاہیے۔ لیکن میرے اندر برداشت کے مادے کی بہت کمی ہے۔ انتظار میں اس وقت کرتا ہوں جب کوئی راستہ نہ مل رہا ہو، اصل لفظ استعمال کروں تو کوئی آسان راستہ نہ مل رہا ہوں۔ ورنہ میں برداشت نہیں کرتا، تنقید بھی نہیں، ناکامی بھی نہیں، ہر بار میری تان شکوے پر آکر ٹوٹتی ہےکہ مولا میرے ساتھ ہی ایسا کیوں؟ حالانکہ اس میں اکثر و بیشتر قصور میرا ہوتا ہے۔ میں دوسروں کی باتیں ، تنقید برداشت نہیں کر سکتا۔ بہت جلد غصے کا شکار ہو جاتا ہوں۔ اور غصے کا تو ایک ہی کام ہے کہ رہے سہے اوسان بھی سلب کر لے، تو ایسا اکثر ہوا کہ میں نے غصے میں، اپنی فطری عجلت پسندی میں نتائج اخذ کر لیے، اور اکثر منفی نتائج اخذ کر لیے اور پھر انھی کو بنیاد بنا کر کمیونیکیشن کی جس نے بعد میں یا تو میری شخصیت اگلے بندے کی نظر میں بےوقعت سی کر دی، یا پھر میرے لیے مسائل سے پیدا کر دئیے۔ اثر اوقات لوگوں خاص طور پر اجنبیوں سے پہلی ملاقات کے دوران میرا انداز  انتہائی بے رخا قسم کا رہا، جس کی وجہ سے وہ بے چارے یہ سمجھے کہ بندہ کھسکا ہوا ہے، یا خبطی ہے۔

بات چل نکلی ہے تو ایک اور بات یاد آ گئی۔ کہ کام کرنے کا میرا انداز ہی نرالا ہے۔ ایک نہیں چار کام شروع کرتا ہوں، چومکھی لڑتا ہوں اور دو دن میں ہار مان کر بیٹھ جاتا ہوں۔ پھر چاروں کام ویسے ہی پڑے رہیں، اور وہی پس پشت ڈالنے کی عادت سامنے آ جاتی ہے۔ چھڈ یار قسم کا رویہ، تو میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کسی اور کام کی طرف لگ جاتا ہوں، اور وہ زیرتعمیر منصوبے وہیں بیٹھے میری جان کو روتے رہتے ہیں۔

ابھی تو اپنے آپ سے ملاقات کے ابتدائی دن ہیں۔ ابھی اور کئی انکشافات متوقع ہیں۔ لیکن اپنی ذات کے جتنے چہرے میں نے تراش رکھے تھے، وہ سارے ماسک نکلے اور ان کے نیچے سے سامنے آنے والے چہروں نے مجھے اتنا ہانٹ کیا کہ میں پھر سے کاغذ قلم اور بلاگ کا سہارا لینے پر مجبور ہو گیا۔ یہ شاید خودشناسی ہی ہے، یا خودشناسی کی طرف پہلا قدم، لیکن مجھے اس کی بڑی بھاری قیمت چکانا پڑی۔  زندگی کے اہم ترین معاملات میں ناکامی کے بل پر آپ کو ادراک ذات ملے تو سمجھ نہیں آتی کہ دکھ ہو یا افسوس ہو۔ دکھ ناکامی پر، اور افسوس اپنے آ پ پر کہ کیا سوچتے رہے اور میاں تم کیا نکلے۔ ایسے معاملات پر کہ جہاں سیکنڈ چانس کا بھی کوئی امکان نہ ہو، جہاں ناکامی ساری عمر کا پچھتاوا بن کر عجائب گھر برائے ناکامیاں کے ایک شو کیس میں سج جائے۔ پتا نہیں ایسے ادراک ذات پر خوشی منائیں کہ سر پکڑ کر روئیں۔ سمجھ سی نہیں آتی۔

اتوار، 8 جنوری، 2012

خالی پن

احساس تو نیا نہیں۔ بچپن سے ہی کئی بار یہ کیفیت طاری ہوئی۔ سمجھ نہیں آیا کرتی تھی کہ کیا کیا جائے۔ عجیب بےبسی کی سی کیفیت، سب کچھ مگر اپنا آپ خالی سا، اندر سے جیسے کچھ کم ہے۔ چھبیس سال کے بعد آج آکر اس احساس کو نام ملا۔ اسے خالی پن کہتے ہیں، بھری پری دنیا میں اپنا آپ عجیب سا لگتا ہے۔ یہ نہیں کہ اردگرد کوئی مسئلہ ہے۔ سب کچھ خیریت سے اللہ کی رحمت، ہر کوئی خوش لیکن اندر سے کوئی خوش نہیں۔ نہیں بلکہ خوشی نہ ہونا اور چیز ہے، وہ تو غم ہوتا ہے، یہ تو عجیب سی چیز ہے، جیسے سینے میں کوئی چھوٹا موٹا خلا ہو، اصلی والے خلا کا کمپیکٹ ایڈیشن۔ اور پھر خلا ہی نہیں، غور سے دیکھنے پر ایک ہستی اس میں تشریف فرما نظر آتی ہے، اپنی ہی ذات شریف۔ عجیب سا احساس ہے یہ، جیسے موبائل فون میں سگنل آنے بند ہو جائیں تو وہ بےمقصد ہو جائے، جیسے ٹیلی وژن کے رنگ کوئی چرا لے اور پیچھے بلیک اینڈ وائٹ تصویر رہ جائے، جیسے کوئی زندگی کا مقصد چھین لے اور جینے والا چلتا پھرتا روبوٹ بن جائے۔ ہاں یہ آخری والی بات ٹھیک لگتی ہے۔ لیکن روبوٹ بھی نہیں اب اتنی بھی لُٹ نہیں پڑی ہوئی۔ کام ہوتا ہے، ہر کام ہو رہا ہے، آنیاں جانیاں ہیں۔ ابھی کل لاہور کا چکر لگا اتنی ساری مصروفیت رہی آئیلٹس کا ٹیسٹ دیا۔ بارہ چودہ گھنٹے کا سخت مصروف دن گزارا۔ آج کا دن بھی دوکان پر ابو کے ساتھ کام کرواتے، لیپ ٹاپ کا میز بنواتے، ادھر اُدھر، اُدھر ادھر جاتے گزرا۔ لیکن عجیب کیفیت ہے، جیسے قسط وار ڈراما لگا ہو اور ہر پندرہ منٹ بعد مشہوری آ جاتی ہو۔ ایسے ہی کام کرتے رہو تو مشہوری کا سماں ہوتا ہے۔ کام ختم کرو تو "گذشتہ سے پیوستہ" پھر وہی قسط شروع ہو جاتی ہے وقفے کے بعد۔ "ہاں تو ہم کہاں تھے؟ُ ہاں تو ہم خلا میں تھے" اور وجود پھر اسی خلا میں بےمقصد تیرنے لگتا ہے، سینے میں وہ بےبس کردینے والی میٹھی سی کسک شروع ہو جاتی ہے اور دماغ پھر وہیں اٹک جاتا ہے۔ اچھا تو یہ مسئلہ تھا اور پھرا سی مسئلے پر بےمقصد سوچ شروع ہو جاتی ہے۔ عجیب سی کیفیت ہے، بھئی دماغ اچھا خاصا پڑھا لکھا قسم کا دماغ ہے اور اچھی خاصی معلومات کا حامل ہے۔ اردگرد کو جاننے کا دعویدار، مطالعہ کے ذریعے زندگی کا تجزیہ کرنے والا، یہ جاننے والا کہ زندگی کسی ایک شخص سے جڑنے کا نام تو نہیں، یہ تو معاشرے میں رہنے سہنے کا نام ہے جس میں روزانہ درجنوں اور پوری زندگی میں سینکڑوں ہزاروں لوگ آتے جاتے رہتے ہیں۔ لیکن عجیب دماغ ہے اس کے دماغ میں یہ بات ہی نہیں آتی، خلا میں سے باہر آنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ جیسے کوئی مجذوب اپنے آپ سے بھی بےگانہ ہو جائے وہی حال دماغ کا ہوتا ہے کہ عجیب لایعنی سوچیں گھیراؤ کر لیتی ہیں۔ سوچیں بھی عجیب کہ اوپر لایعنیت کی تہہ ہے، اور نیچے وہی احساس اور اس احساس کے مرکز میں خالی پن، اور بےکیفی۔ نماز پڑھو تو پڑھتے پڑھتے رکعت بھول جائے، سجدہ سہو کرو، نماز پوری کرو لیکن فلم وہیں کی وہی چل رہی ہے۔ الحمد اللہ رب العلمین "اچھا تو ہم کہاں تھے ہاں خالی پن"، ساتھ نماز چل رہی ہے ساتھ قسط وار ڈرامہ بھی وقفے وقفے سے چل رہا ہے۔ کام میں پناہ ڈھونڈو تو پناہ نہیں ملتی پھر سوچ آتی کہ سب کو بتاؤ میں کتنا مصروف ہوں۔ سب کو باآواز بلند اعلان کر کے سنایا جاتا ہے" یار میں نے کام کرنا ہے" اگلا بندہ چڑ کر کہتا ہے جا بھائی جا کے کام کر پھر۔ اور جب کام کرنے بیٹھو تو "ہاں تو ہم کہاں تھے ہاں خالی پن۔۔۔" فلم پھر سے شروع، وہی کٹی پتنگ جیسی کیفیت کہ دل کبھی ادھر ڈولے کبھی ادھر ڈولے، ارے بھائی کہیں اٹک بھی جا اب۔ لیکن نہیں اٹکتا، اٹکن بھی کوئی نہیں بس خلا کا ایک فرنچائز  کھلا ہوا ہے جس میں وجود ہلکورے لیتا پھر رہا ہے۔ اور پھر یہ بھی نہیں کہ یہ ہلکورے بےوزنی کی کیفیت میں انجوائےمنٹ کے ساتھ لیے جا رہے ہیں۔  ہلکورے لیتے ہوئے بھی وزن کا احساس ہے، تکلیف کا بھی احساس ہے اور ربط کا جس کا ٹوٹنا مقدر تھا، ڈور جہاں سے ٹوٹی وہاں سے چاہے خون کا ایک قطرہ بھی نہ نکلا ہو لیکن پتنگ کو احساس ہے کہ ربط کٹ گیا اب کوئی مقصد نہیں۔ عجیب سی کیفیت ہے، اور عجیب احساس ہے۔ حالانکہ پتا بھی ہے کہ یہ تو ہونا ہی تھا، آج نہیں تو کل، پر امید تو تھی۔ آس اور امید کیا کیا کروا سکتی ہے اس کا آج آ کر احساس ہوا، کہ آس بھی نہ رہے تو کیا ہوتا ہے۔ جب یہ پتھر پر لکیر ہو جائے کہ اب کچھ نہیں ہو گا، تب جو احساس ہوتا ہے وہ آج ہو رہا ہے۔ اور اسی احساس میں کہیں امید بھی چھپی ہوئی ہے، خوش فہمی کہتے ہیں اس کو، کہ شاید۔۔۔لیکن یہ خوش فہمی جو پہلے ہر بار دلاسہ دے جاتی تھی وہ بھی آج کام نہیں آتی۔ اور خلا کا فرنچائز پھر اردگرد پھیلنے لگتا ہے، اور وجود اس میں کٹی پتنگ کبھی ادھر کبھی ادھر، اور ربط کٹ جانے کا احساس، ہلکی سی تکلیف جیسی سوئی چبھنے پر ہوتی ہے، شاید گلا کٹنے پر بھی اتنی ہی ہوتی ہو، اس کے بعد سکون آ جاتا ہو۔ پر ادھر تو سکون بھی نہیں ہے، عجیب بےبسی کا تڑکا لگا ہوا سکون ہے، بےکسی کے ریپر میں لپٹا ہوا سکون کہ سکون سے دور بھاگنے کو دل کرتا ہے۔ لیکن دور بھاگ کر کہاں جایا جائے ہر جا تو وہی ننھا منا سا سیلف میڈ خلا موجود ہے اور پھر وہی بےمقصدیت، کٹی پتنگ اور ۔۔۔۔۔۔۔
پتا نہیں یہاں تک کون پڑھے، اور پڑھ بھی لے تو لکھنے والے کو لعن طعن ہی کرے، کہ کیا بےمقصد لکھا ہے۔ پر لکھنے والا کیا کرے، عجیب سی بےمقصدیت چھائی ہے، کہ جہاں وجود کے موجود ہونے کے مقصد پر ایک "کیوں" کا سانپ بیٹھ جائے وہاں لکھنے والا کیا کرے۔ پڑھنے والا شاید یہ بھی کہے کہ مقصد تو عبادت ہے۔ پر لکھنے والا کیا کرے، اسے تو مقصد کی بھی سمجھ نہیں، بس بےمقصدیت کا پتا ہے جس کا انکشاف تازہ اس پر آج ہی ہوا ہے۔ مقصد کیا اور کاہے کا مقصد جب سیٹلائٹ لنک اٹھانے کی صلاحیت ہی نہ ہو تو پھر لوکل سگنل پر ہی گزارہ کرنا پڑتا ہے۔ اور لوکل سگنل بھی جواب دے جائے، آؤٹ آف رینج ہو جائے تو پھر مقصد کہاں رہ جاتا ہے۔

اتوار، 1 جنوری، 2012

سالنامہ

تو بات یہاں پہنچی کہ نیا سال چڑھ آیا۔ اتنا چڑھا آیا کہ سر پر چڑھ آیا لگتا ہے۔ اور ہم اس نئے سال میں ڈرے ڈرے بیٹھے ہیں کہ اس سے نیا سال نصیب ہو گا یا نہیں ہوگا۔ لیکن اس سے نئے سال کی فکر کی بجائے ذرا پرانے سال پر نظر ڈالتے چلیں۔ چونکہ یہ ہمارے بلاگ کا سالنامہ ہے، جیسے سیارہ ڈائجسٹ یا حکایت یا شکایت یا ولایت ڈائجسٹ وغیرہم سالنامہ نکالا کرتے ہیں۔ تو ہم نے بھی سوچا کہ سالنامہ نکالا جائے، ویسے بھی یہ روایت سی ہو گئی ہے جملہ اردو بلاگران میں کہ کچھ لکھا جائے۔ تو سائیں ہم لکھ رہے ہیں، اور جیسا کہ آپ پڑھ رہے ہیں۔ تو فالتو میں پڑھنے کی بجائے کوئی کام کی بات پڑھ لیں۔
کام کی بات سے یاد آیا کہ اس، معذرت کے ساتھ پچھلے سال ہمیں اکثر ایسا لگا کہ ہم کسی کام کے نہیں ہیں۔ ہم کئی جگہ انٹرویو سے فیل ہوئے۔ آخری جگہ سے انٹرویو میں جو فیل ہوئے تو ہم نے انٹرنیٹ پے بھی خاصا اُدھم مچایا، اور پھر کورٹ بھی گئے۔ وہاں سے کیس جیت کر بھی ہم نے کہا لعنت بھیجو جی، ایویں متھا لگانے کا کیا فائدہ، مزہ تو چکھا دیا۔ خیر مزہ چکھایا یا نہیں، ہم گھر بیٹھے رہے۔ تو اس سال ہمیں شدت سے احساس ہوا کہ ہم کسی کام کے نہیں۔
خیر یہ بیان بھی مکمل طور پر درست نہیں۔ اس، سوری پچھلے سال ہم نے کچھ کامیابیاں بھی سمیٹیں۔ کچھ ایسے احباب ملے جن سے مستقبل میں بہت سی رہنمائی کی توقع ہے۔ مثلاً ایک کامیابی تو یہ ملی کہ ہم گلوبل سائنس میں لکھنے لگ گئے۔ پہلے ہم رک رک کر لکھتے تھے، لیکن اب مستقل اور رواں ہو گئے ہیں۔ اس سے ذرا خود کو لکھاری سا محسوس کرنے کو دل کرنے لگ گیا۔ ایک اور سلسلہ یہ ہوا کہ ہم اسکول کی نوکری چھوڑ چھاڑ مکمل طور پر ترجمے پر آگئے۔ اور ترجمے پر ہی چلے جاتے ہیں، جیسے گاڑیاں سی این جی پر چلی جاتی ہیں۔ اللہ کا کرم ہے الحمد اللہ، وہ دے رہا ہے۔ دئیے جا رہا ہے اور ہم لیے جا رہے ہیں۔
اسی سال ہمیں کچھ احباب سے شرف ملاقات حاصل ہوا۔ پہلے تو جناب عزت مآب (مجھے پتا ہے انہیں یہ القابات ہضم نہیں ہوں گے، عادت نہیں ہے) جعفر حسین مدظلہ ہمارے غریب خانے تشریف لائے۔ ہم نے بیٹھ کر ڈھیروں ساری باتیں کیں۔ خوشی اس بات کی ہے کہ جعفر پائین ہماری فیصل آباد گالیاں بھی مسکرا کر پی گئے اگرچہ اب انہیں فیصل آباد کی عادت نہیں رہی، صرف بلاگ پر دل پشوری کر لیتے ہیں۔ لیکن ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر انہیں فیصل آباد کا سواد آیا ہو گا۔ یہ ملاقات اصل میں فیصل آباد بلاگرز ایسوسی ایشن کے قیام کے سلسلے میں کی جانے والی میٹنگز کے سلسلے کی پہلی کڑی بھی تھی۔ امید ہے کہ اگلے سال تک اردو بلاگرز ایسوسی ایشن فیصل آباد کا قیام عمل میں آ جائے گا جس کے صدر کے لیے ہم نے اپنا نام پیش کر دیا ہے، جنرل سیکرٹری کے لیے جناب جعفر حسین سکنہ فیصل آباد مقیم متحدہ عرب امارات کا نام تجویز کیا جاتا ہے۔ باقی عہدے پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر فیصل آبادی بلاگروں اور فیس بُکیوں کو الاٹے جا سکتے ہیں۔ اپنا نام آج ہی لکھوائیں۔
اس کے علاوہ دسمبر میں ہمیں جناب ڈاکٹر تفسیر احمد سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ ہم ان کے ممنون ہیں کہ انہوں نے اتنی دیر تک ہمیں برداشت کیا، سموسے کھلائے اور اسٹوڈنٹ بریانی سے تواضع کی۔ اگرچہ اس کا بل مصطفی بھائی نے دیا تھا، اور ہم ان کے بھی مشکور ہیں۔ ان احباب سے مل کر ہمیں احساس ہوا کہ پاء جی کتھے کھلوتے او، دنیا چن تے پہنچ گئی اے۔ تو پھر ہم نے موجودہ سال سے رمکے رمکے چاند کی طرف سفر کا آغاز کیا ہے، دیکھیں ہمارا چن کم تک ہمارے سامنے آ جاتا ہے۔ یہاں چند سے مراد ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی جائے فی الحال۔ اس کے علاوہ کوئی چن دستیاب نہیں ہے۔
مدیر گلوبل سائنس جناب علیم احمد سے ہماری یاد اللہ ہو گئی ہے۔ اللہ انہیں خوش رکھے، اور آباد رکھے۔ کیونکہ وہ یہ سب کچھ ہوں گے تو ہماری روزی روٹی بھی چلتی رہے گی۔ اور ساتھ ہمیں لکھنے لکھانے میں رہنمائی بھی ملتی رہے گی۔
پچھلے سال نے ہمیں بہت کچھ سکھایا ہے۔ اور بہت کچھ سمجھایا بھی ہے۔ ہمیں یہ سمجھ آ گئی ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں اور کیا نہیں کر سکتے۔ چناچہ ہم آئندہ سال اپنی صلاحیتوں کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش کریں گے، اور اپنے ویک پوائنٹس کو دور کریں گے۔ خاص طور پر ہماری ازلی "ان سوشل نیس"، اور دس بائی دس کے کمرے میں ساری عمر گزار دینے کی فطری "کھچ"۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ کل کو ہمیں بیرون شہر بلکہ بیرون ملک دھکے کھانے پڑ سکتے ہیں، جس کی تیاری ابھی سے ضروری ہے۔
اور آخر میں ہمارا اس سال کا سب سے اہم گول یہ ہے کہ ہم نے پی ایچ ڈی میں داخلہ لے کے دکھانا ہے، باہر لے کے دکھانا ہے اور مفتو مفت لے کے دکھانا ہے۔ اس کے علاوہ ہم نے اپنے آپ کو بطور مترجم مزید سیٹل کرنا ہے، اور بطور لکھاری ذرا رگڑائی شگڑائی کرانی ہے۔ اگرچہ ہم ٹیکنالوجی پر ہی لکھتے ہیں، لیکن لکھتے تو ہیں۔
اور سب سے آخر میں دعا کہ اللہ سائیں ہمارے خاندان خصوصاً والدین کو صحت و تندرستی عطاء کرے۔ رزق روزی میں فراخی اور برکت عطا ہو، اور دینے والا ہاتھ کھلا رکھنے کی توفیق ہو۔ اور شکر کی توفیق ہو۔
اور آخر میں ایک دعا ایک پرانے سجن کے لیے۔ اللہ اسے خوش رکھے، ہمارے اندر ایک گوشہ اسی کے دم سے آباد ہے۔ اور جب ہم تھک ٹُٹ کے، دنیا اور دنیا والوں سے اک کے، اکیلے میں اپنے آپ سے ملتے ہیں، تو اسی گوشے میں، اُس کے روبرو ہماری اپنے آپ سے اور اس سے ملاقات ہمیں سارے غم بھُلا دیتی ہے۔
اور سجنو تے بیلیو نیا سال مبارک، اسلامی سال تو ایک ماہ سے بھی اوپر کا ہو چکا ہے، وہ بھی مبارک۔ اللہ سائیں اس ملک پر یہ سال مبارک کر دے۔ آمین۔