سوموار، 21 اگست، 2006

غیروں کی مشابہت : خبردار ہوشیار اس سے بچو

5 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 2:19 AM ,
غیروں کی مشابہت سے بچیں۔ جی ہاں بالکل ایسا کریں۔
اب دیکھیں نا غیر انٹیل کے پی سی استعمال کرتےہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ان کو استعمال نہ کریں۔ نہیں کرسکتے؟؟ چلیں ایسا کریں جہاں سٹکر لگا ہوتا ہے "انٹیل انسائڈ" وہاں پر "ساختہ پاکستان " کا سٹکر لگا دیں۔ جہاں بھی انگریزی میں کچھ پرنٹ ہوا ہو اسے چھری سے کھرچ دیں۔ اس طرح آپ یقینًا غیروں کی مشابہت سے بچ سکتے ہیں۔
لیکن ٹھہریے ۔ یہ سب کچھ تو غیر بھی استعمال کرتے ہیں بھئی ونڈوز وغیرہ ۔ تو ان کی مشابہت سے بھی بچیں ۔ غیر لائسنس لے کر اور پیسے لگا کر اسے خریدتے ہیں ہمیں چاہیے کہ ونڈوز کے چوری شدہ ورژن خریدیں جو سستے بھی مل جاتے ہیں۔ اس طرح آپ یقینًا غیروں کی مشابہت سے بچ سکتے ہیں۔
لیکن ہم یہ سب استعمال ہی کیوں کریں۔ کمپیوٹر غیروں کی ایجاد، سافٹ ویرز ان کی ایجاد۔ اس طرح تو ہم غیروں سے مشابہہ ہورہے ہیں۔ اس لیے اٹھیں اپنے پی سی کو بند کریں اور اٹھا کر گلی میں پھینک دیں۔ مبارک ہو آپ غیروں کی مشابہت سے بچ گئے۔ آپ فلاح پانے والوں میں سے ہوگئے۔
ارے یہ کیا آپ ٹی وی بھی دیکھتے ہیں۔ چاہے اس پر کیو ٹی وی اور پیس ٹی وی ہی دیکھتےہیں۔ چلیں چلیں اسے بھی اٹھائیں اور گلی میں پھینکیں۔ بھئی یہ بھی غیروں کی مشابہت ہے۔ یہ جو نادان لوگ ہر وقت ان چینلوں پر بولتے رہتے ہیں یہ تو منافق ہیں۔ سچے مسلمان تو ہم ہیں جو ہر لحظہ غیروں کی مشابہت سے بچنا چاہتے ہیں۔
ارے آپ موٹر سائیکل چلا رہے ہیں؟؟ اسے ون ویل پر چلائیں ورنہ اتریں اس سے ۔اتریں اتریں ۔ آگ لگائیں کمبخت کو یہ تو غیروں کی مشابہت ہوگئی۔ بھئی ہمیں منع کیا گیا ہے اس سے۔
ہاں جی بالکل کوئی دن ون بھی نہیں منانا ہم نے۔ آخر جی غیروں کی مشابہت ہے یہ۔ کوئی یوم آزادی اور 14 اگست نہیں آگے سے ۔
منانا ہے؟؟ چلیں ہم ان کی طرح نہیں مناتے۔
غیر تو اپنے ان دنوں میں عہد کرتے ہیں کہ ہم آگے بڑھیں گے اپنے جذبے تازہ کرتے ہیں۔ہمیں کیا۔ ہمیں کونسا حکم ہے کہ اپنے گھوڑے تیار رکھو۔ ہم تو ایسے اپنا دن نہیں منائیں گے۔ ہم تو گھوڑے تیار رکھنے کا عزم نہیں کریں گے۔ بھئی ہم مسلمان ہیں ہمیں ان دنوں سے کیا۔ ہمیں جذبہ تازہ کرنے سے کیا۔ہم تو ویسے ہی بھرے بیٹھے ہیں۔ اپنے آپ پر،اپنے ملک پر اور اپنوں پر۔ ہمیں ان دنوں سے کیا۔ ہم تو اسے اور ہی طرح منائیں گے۔ موٹر سائیکلوں کے سائلنسر نکلوا کر، بتیاں لگا کر، اونچی آواز میں کار میں گانے چلا کر اور ٹی وی دیکھ کر اور حکومت کو گالیاں دے کر ہم یہ دن منائیں گے۔ یہ غیروں کی مشابہت تھوڑا ہوئی۔ یہ تو شیطان کی مشابہت بھی نہیں اس سے بھی آگے کی چیز ہے۔ لیکن ہمیں تو غیروں کی مشابہت سے بچنا ہے ناں۔ سو ٹھیک ہے۔
تو صاحبو ٹوٹ پڑو ہر اس چیز پر جو غیروں سے مشابہہ ہے۔ ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ کوئی چیز اچھی ہے یا بری ہمیں صرف اتنا پتا ہے کہ ہمیں غیروں کی مشابہت سے منع کیا گیا ہے۔ ہمیں کونسا اچھی چیز اختیار کرلینے کا حکم ہے۔ مٹا دیں ہر وہ نقش جو غیروں سے ملتا جلتا ہوں۔ ہمیں اپنی الگ دنیا بسانی ہے۔ ان سب کافروں سے الگ۔ ان بے دینوں ملحدوں سے الگ۔ ہمیں اپنی ڈیڑھ اینٹ کی دنیا الگ بسانی ہے ان سے ۔ دیواریں کھڑی کردو، منہ موڑ لو ہمیں ان سب سے بچنا ہے کہیں انجانے میں ان کی مشابہت نہ ہوجائے۔
عقلمند را اشارہ است۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوموار، 14 اگست، 2006

جشن آزادی کے موقع پر

1 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 9:13 AM ,
جشن آزادی کے موقع پر مجھے اپنا ہی لکھا ہوا ایک مضمون یاد آگیا۔ وہی دوبارہ پیش کررہا ہوں۔ اس دعا کے ساتھ کہ اللہ اس مملکت کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی دے۔ اور تمام اہل وطن کو جشن آزادی مبارک۔
مجھےپاکستان سے کبھی اتنی الفت محسوس نہیں ہوئی تھی جتنی اب ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے ۔ آپ کو اس کا پس منظر بتاتا ہوں۔
زیادہ پرانی بات نہیں۔ یہی گزرے رمضان کی بات ہے۔ میرے ایک دوست نے مجھ سے کہا:شاکر مجھے ممتاز مفتی کی کتاب تلاش خریدنا ہے اپنے لائبریرین سے کہہ کر منگوا دو میں عید پر گھر آیا تو لے جاؤں گا۔ میں نے حسب وعدہ کتاب وقت مقرر سے پہلے منگوا کر رکھ لی۔ میں ازلی کتابوں کا بھوکا۔ ایک کتاب سامنے پڑی ہو اور اسے پڑہوں نا چناچہ میں نے ایک یا دو نشستوں میں وہ ساری کتاب چاٹ ڈالی۔ اس سے پہلے میں نے ممتاز مفتی کو کبھی نہیں پڑھا تھا۔ کبھی کبھار رسالوں میں ڈائجسٹوں میں اس کی تحریروں سے اقتباسات چھپتے رہتے تھے. میں اسے صوفی ٹائپ بندہ سمجھتا تھا۔ یہ کتاب پڑھی تو پتا لگا یہ بندہ تو مولویوں کے خلاف ہے۔ مولویوں کی مخالفت ہر نوجوان کی طرح میرا پسندیدہ موضوع ہے۔
کچھ اقتباسات اپنے الفاظ میں آپ کو سناتا ہوں۔
اللہ کو حلق کے نچلے پردوں سے اس طرح نکالتے ہیں کہ اللہ ہا بن جاتا ہے۔ جیسے ان کا اللہ ہمارے اللہ سے مختلف ہو جیسے اس نے سر پر بھاری ":
"سا جبہ دستار اور یہ بڑی بڑی داڑھی رکھی ہوئی ہو
میں بہت ہنسا تھا اس کے اللہ کو اللہ ہا کہنے پر ۔ پہلے کبھی غور ہی نہیں کیا تھا اس بات پر مولاناؤں کی محافل میں بیٹھتا تھا یہ سب سنتا بھی تھا مگر کسی نے اتنی جرأت کبھی نہیں دکھائی تھی۔ میں نے سوچا بندہ یہ اپنی برادری کا لگتا ہے اسے پڑھنا چاہیے۔
میں نے اگلے دن ہی اپنے لائبریرین سے ممتاز مفتی کی کتابوں کی فرمائش کر دی۔ ایک دوافسانوں کے مجموعے پڑھے،اچھا لکھا تھا نفسیات موضوعِ بحث ہوتی تھی مگر وہ چیز نہیں جو میں چاہتا تھا۔ میں تو اس بات کہ تلاش میں تھا کہ یہ بابوں ،مولویوں اور اسلام کی بات چھیڑے۔ پھر میرے لائبریرین نے مجھے علی پور کا ایلی پڑھنے کے لیے دی۔ اس میں بابوں کا کچھ ذکر تھا۔ پڑھ تو میں نے لی مگر اس نے میرے کئی طبق روشن کردیے۔خصوصٌٌا عورتوں کے بارے میں مفتی کے مشاہدات اور ارشادات۔ یہ سب بھی پہلی بار سنا تھا۔
خیر اسی ناول میں پہلی بار میں نے شعوری طور پر نصاب سے ہٹ کر تاریخ پاکستان کا مطالعہ کیا۔ اس بارے میں مفتی کے مشاہدات جانے :اورپھر جیسے جیسے ان پر سوچا یقین کیجیے مجھے ان سے ایک فیصد بھی اختلاف محسوس نہ ہوا۔ مفتی کہتا ہے
ہندو بڑی شائستہ قوم ہیں۔ میں ان کا بہت احترام کرتا ہوں۔ اچھے انسان ہیں اور کاروباری تو بہت ہی اچھے ہیں ۔مگران کو جب بھی موقع ملے یہ مسلمانوں کو نقصان پہچانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ ان کی اس خوبی کا میں معترف ہوں کہ انتقام کو ہماری طرح ایک ہی بار ظاہر نہیں کر دیتے اسے دل میں چھپا کر رکھتے ہیں سینت سینت کر پھر جب موقع ملتا ہے تو مسلمانوں پر کاری وار کرتے ہیں۔ ہندوؤں نے کبھی پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔آل انڈیا کانگرس کی کمیٹی کی قرار داد کے وہ الفاظ آج بھی ریکارڈ پر موجود ہیں جن میں
:یہ کہا گیا ہے کہ
انڈیا جیسا ہے جہاں ہے ہمیشہ ویسا ہی رہے گا اور اس کی جغرافیائی حدود کو تبدیل کرنے کا کسی کو حق حاصل نہیں اگر ایسا ہو جاتا ہے تو یہ ہمارا فرض ہے کہ اسے اسکی اصل کی طرف لوٹائیں۔
پھر مفتی چھرا بازی کے واقعات بارے سناتا ہے جو اس جیسے برائے نام مسلمان کے اندر کو بھی جنجھوڑ دیتے ہیں اور اسےیہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ بھی مسلمان ہے۔
اسی طرح ناول میں کچھ بابوں کا بھی ذکر ہے۔ دلی کے حاجی صاحب اور پاگ بابا۔ اور پھر بڈھا جو مفتی کا انتظار کر رہا ہے۔جس کے بارے میں پاگ بابا اسے بتاتا ہے۔
اس کے بعد مفتی کی آپ بیتی کا دوسرا حصہ الکھ نگری پڑھی اور یہاں سے پاکستان کے بارے میں میری سوچ میں کئی تبدیلیاں ہوئیں۔ الکھ نگری تھوڑی سی مفتی نامہ اور باقی پاکستان نامہ اور پاکستان کے حوالے سے بابے نامہ اور شہاب نامہ ہے۔
مفتی الکھ نگری میں پاکستان اور قدرت اللہ شہاب کے گرد ناچتا ہے دیوانہ وار ناچتا ہے لوگوں کو بتاتا ہے دیکھو یہ جو پاکستان نظر آرہا ہے یہ ایسے ہی نہیں ہو گیا اس کے پیچھے بڑے بڑے لوگوں کا ہاتھ ہے۔
مفتی کو بڈھا مل جاتا ہے۔جسے وہ مرشد تو نہیں بناتا مگر اس کااحترام ضرور کرنے لگتا ہے۔ مفتی جیسا اڑیل احترام بھی ڈنڈے کھا کر کرتا ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ بابا اس پر رونا مسلط کر دیتا ہے۔ یوں ہی بیٹھے بیٹھے چلتے پھرتے مفتی بھوں بھوں کر کے رونا شروع کردیتا ہے۔ یہ سلسلہ کئی دن چلتا ہے۔ اور یہ سب ایک ایسے بندے کے ہاتھوں وقوع پذیر ہو رہا ہے جو اس دنیا میں موجود نہیں آخر مفتی ہار مان لیتا ہےاور بابے کےحلقے میں شامل ہوجاتاہے۔
پھر مفتی کو پاکستان بارے کئی باتوں کا پتا چلتاہے۔ جیسے بھائی جان جو کہ بڈھے کے مرید خاص ہیں اسے بتاتے ہیں کہ پاکستان کے منصوبے کے روحانی طور پر چیف کوآرڈینیٹر بابا جی تھے۔ انھوں نے ریاست دکن کے نواب کو پیغام بھیجا تھا کہ آؤ تمہیں ایک اسلام ریاست کا وزیراعظم بنا دیں۔ پھر یہ پتا چلتا ہے کہ پاکستان کے منصوبے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی اجازت سے زیر عمل لایا گیا۔
مفتی ایک دن بیٹھے بیٹھے بھائی جان سے پوچھ لیتا ہے کہ پاکستان کا کیا بنے گا تو اسے بتایا جاتاہے کہ وہ پاکستان کی فکر کرنا چھوڑ دے اس کی فکر کرنے والی بڑی بڑی اونچی ہستیاں ہیں۔ وہ بس یہ خیال رکھے کہ کوئی کام ایسا تو نہیں کر رہا جس سے پاکستان کو نقصان پہچنے کا احتمال ہے۔
یہاں سے مجھے پتا چلا کہ پاکستان کی فکر کرنے والی بڑی بڑی اونچی ہستیاں ہیں ۔ پھر میں بھی مفتی کی طرح پاکستان کی محبت میں مبتلا ہوگیا۔ مجھے اس سے محبت تو پہلے سے ہی تھی مگر اب کچھ اور قسم کی ہے۔ کیونکہ میرے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس سے محبت ہے اس لیے مجھے بھی اس سے محبت ہے۔ میں جب یہ سوچتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ سے پاکستان کو بنانے کا اذن ملا تھا تو میرا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے جسے وہاں سے اجازت مل جائے اسے کیا چاہیے۔
خیر ذکر مفتی کا ہو رہا تھا تو اسی طرح چلتے چلتے مفتی شہاب کو داستان میں گھسیٹ لیتا ہے۔ بڈھا،بھائی جان اور بڑی بڑی ہستیاں قدرت اللہ شہاب کا ذکر احترام سے کرتی ہیں۔اور پھر مفتی قدرت اللہ شہاب کے عشق میں گرفتار ہو جاتا ہے۔پاکستان سے تو اسے محبت تھی ہی اور یہ محبت شہاب کے توسط سے دوہری ہوجاتی ہے۔ پھر اسی دوران اس پر کئ انکشافات ہوتے ہیں ۔پاکستان کی ترقی بارے،پاکستان کی عظمت بارے اور وہ اپنی تحریروں میں جابجا پاکستان کا ذکر اس طرح کرتا ہے جیسےپاکستان کوئی بزرگ ہے۔
صاحبو سچ پوچھو تو مفتی کی ان ہی تحریروں نے میرے گوڈوں میں پاکستان کا عشق اس طرح بٹھا دیا ہے جس طرح گھٹیا کے مریضوں میں درد بیٹھ جاتے ہیں۔ مفتی جابجا اس طرح پاکستان کی عظمت کی کلیاں ٹانکتاہے اور اس کی آنے والی شان کے بارے میں راگ الاپتا جاتا ہے کہ میں مسحور ہو تا جاتا ہوں اور اب میرا یہ حال ہے کہ کوئی پاکستان کے بارے میں خدشے کا اظہار کرتا ہے تو مجھے وہ بچہ محسوس ہوتاہے میرا جی کرتاہے کہ چیخ چیخ کر اسے بتاؤں فکر نہ کرو اس کی فکر کرنے والی ہستیاں ہیں تم بس اپنے آپ کو ٹھیک کرلو۔
مفتی شہاب کے ساتھ فیصل آباد کے ایک قصبے میں ایک بزرگ سے ملنے جاتا ہے تو وہ برزگ دو ڈھائی سو لوگوں کے مجمع میں کہتے ہیں لوگو ایک دن ایسا آئے گا جب یواین کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے پاکستان سے پوچھے گا تم وہ دن دیکھوگے ہاں ہم نہیں ہونگے اگر ایسا نہ ہوا تو تم میری قبر پر آکر تھوکنا
مفتی کا ایک دوست ڈاکٹریٹ کے سلسلے میں ہالینڈ جاتا ہے وہاں ایک اسلامی نایاب کتب کی لائبریری میں دوران ریسرچ اس پر کھلتا ہے کہ حضرت بری امام رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ ہمارے قدموں میں ایک عظیم اسلامی مملکت کا شہر آباد ہوگا۔بری امام کا مزار تو آپ جانتے ہیں نا اسلام آباد سے زیادہ دور نہیں جس کی طرف جانے والی سڑک سی ڈی اےوالوں نے توڑ دی تھی اور وہاں جانے والے ٹانگوں کا اسلام آباد سے گزرنا منع ہے۔
مفتی حضرت امداد اللہ مہاجر مکی رحمتہ اللہ علیہ کا ذکر بھی کرتا ہے جب انھیں انگریز جنگ آزادی کی ناکامی پر گرفتار کر لیتے ہیں اور ان کی وہ ریاست جو انھوں نے پنجاب میں قائم کی تھی ختم ہوجاتی ہے تو بوقت گرفتاری مجمع سے ایک مجذوب باہر آکر انھیں تسلی دیتا ہے کہ نوے سال بعد اسی سرزمین پر ایک عظیم اسلامی مملکت قائم ہوگی۔
پھر پینسٹھ کی جنگ جس میں پاکستانی فوجیوں کے ساتھ چھوٹے قد والے سرخ اور سفید لباس والے اور سفید گھوڑوں والے اور برق پاش تلواروں والے بھی لڑے۔
پاکستان کی ایک خاتون جو کہ عرصے سے مدینہ میں روضہ رسول کے قریب مقیم تھیں دیکھتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح روضہ مبارک سے باہر آۓہیں کہ ان کی زلفیں پریشان ہیں اور یوں لگتا ہے جیسے پاکستان جہاد کے لیے جارہے ہیں۔
مفتی اس طرح کی کئی باتیں کرتا ہے۔
پھر ایک شاہ صاحب کا تذکرہ جو صاحب کشف ہیں بتانے ہیں کہ انڈیا پاکستان میں ایک بڑی جنگ ہوگی لاکھوں لوگ مارے جائیں گے پھر پاکستان کو عروج حاصل ہوگا۔
سبز آنکھوں والا ایک حکمران جو شاید افریقہ یا یورپ سے ہے آۓ گاا ور سب کو سیدھا کر دے گا پھر پاکستان اسلامی دنیا کو لیڈ کرےگا۔
اس قسم کی بے شمار حکائتیں۔جو ممتاز مفتی بیان کرتاچلا جاتا ہےاور میرے جیسا بندہ جو پاکستان کے عشق میں گوڈے گوڈے دھنس چکا ہےپڑھ پڑھ کر خوش ہوتا ہے۔
یہ سب آپ سے شئیرکرنے کامقصد کیا ہے؟
یہ کہ آپ لوگ نراش نہ ہوں۔ ہمت نہ چھوڑیں ۔ اس ملک کی فکر کرنے والے موجود ہیں ہمیں بس یہ کرناہے کہ اسکی ترقی کے لیے کام کریں ثمر اللہ دے گا۔ بس بیج ڈالنے کی ضرورت ہے پھل تو آنے کو بے تاب کھڑا ہے۔ ہمارے اس ملک نے آگے چل کر ایک ذمہ داری اٹھانی ہےایک ععظیم مقصد پورا کرنا ہے اور وہ ہے اسلامی دنیا کی قیادت۔ جانےیہ عظمت اسے کس کے طفیل ملے گی مگر ساتھ ہم جیسوں کی بھی چاند ہوجائے گی۔ اس لیے مایوسی نہیں بس کام کرنا ہے پاکستان کے لیے اس کی ترقی کے لیے۔
ے کو عظمت ملےگی انشأءاللہ ضرور ملے گی جانے کس کی برکت ترقی اب بھی تو کم نہیں۔ پاکستان جس کا ایک نام ہے۔ باوجود بے شمار اندورنی بیرونی خطرات کےباوجود یہ پھلتا جارہا ہے پھولتا جارہا ہے۔ اسکے دشمنوں کے اندر جل رہے ہیں یہ کیا ہو رہا ہے یہ پاکستان ترقی کر ہا ہے۔ وہ یہ برداشت نہیں کرسکتے اس لیےکبھی وہ ہمیں اندر سے بلوچستان اور اس جیسے کئی دوسرے طریقوں سے تنگ کرتے ہیں تو کھبی براہ راست وار کرتے ہیں
مگر دشمنوں کے واویلے کے باوجود کیا پاکستان ایٹمی طاقت نہیں بنا۔ کتنے عرصے سے یہ لوگ اسلامی بم اسلامی بم چِلا رہے تھے اب اسلامی بم ان کےسروں پر تلوار بن کر لٹک رہا ہے اور وہ صرف پیچ وتاب کھا سکتے ہیں۔ میزائل ٹیکنولوجی میں بے مثال ترقی، کروز میزائلوں کی طرف قدم اور خلا کی تسخیر کے منصوبے۔
اس مملکت کی عظمت کے گواہ ہیں۔ کام صرف اتنا ہےکہ انفرادی سطح پر اپنے آپ کو درست کر لیں پھر جب اللہ کا کرم ہوگا تو دنیا دیکھے گی کرم تو اس کا اب بھی ہےمگر ہماری کوتاہیاں اس کا اثر موڑ دیتی ہیں اسکی رحمت کو ناراض کردیتی ہیں۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں پاکستان سے محبت نہیں عشق کرنے کی توفیق دے۔ اتنا عشق کہ ہمیں ہر طرف پاکستان ہی نظر آئے۔ ہم سب سے پہلے پاکستان سوچیں باقی سب بعد میں ۔ ہم میں جذبہ نہیں قدرت اللہ شہاب کے بقول جنون پیدا ہوجائے اپنےملک کے لیے تعصب پیدا ہوجائے فخر پیدا ہوجائے پھر انشاءاللہ وہ وقت دور نہیں ۔ جب دنیا دیکھے گی کہ پاکستان ہے ہاں عظیم پاکستان ہے۔
اللہ کریم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے ہم پر اور ہمارے ملک پر اپنا رحم و کرم نازل کرے اور کرتا رہے آمین یا رب العٰلمین۔

بدھ، 2 اگست، 2006

جشن آزادی کیسے منائی جائے گی

2 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 5:14 AM ,
اگست کا مہینہ شروع ہوگیا ہے۔ محفل پر ایک دوست نے پوچھا کہ جشن آزادی کس طرح منائیں تو یہ فی البدیہہ "نظم نما" جواب میں وارد ہوئی۔ جو بلاگ پر بھی پیشِ خدمت ہے۔
جشن آزادی کیسے منائیں۔
سوال تو اچھا ہے۔
ادھر تو یہ ہوگا۔
جھنڈیاں لگیں گی۔
جھنڈے لگیں گے۔ (ساتھ والوں‌ سے غیر اعلانیہ شرط لگا کر کہ بانس اور جھنڈا دونوں کس کے بڑے ہیں)
بچے سٹکر خریدیں گے۔ بڑے بیج لگائیں گے۔
ٹی وی والے ترانے گائیں گے۔
14 اگست والے دن وطن کی محبت میں سرشار نواجوان۔۔۔۔
موٹر سائیکلوں پر جھنڈے لگائے۔
ٹنڈوں پر جھنڈے بنوائے
سائنلنسر کی بانسریاں نکلوائے۔۔
پورے شہر میں گشت فرمائیں‌ گے۔۔
اس کے بعد جھنڈے یا تو اتر جائیں‌ گے یا بارشوں‌ میں گل جائیں گے۔
جھنڈیاں کئی دنوں تک کوڑے کے ڈھیروں‌ پر یا پیروں تلے رلتی پھریں گی۔
جذبے ٹھنڈے ہوجائیں‌ گے۔
اور مادر وطن بھی ہمیشہ کی طرح ایک ٹھنڈا سانس لے کر پھر کسی مسیحا کے انتظار میں لگ جائے گی کہ شاید۔۔۔۔
شاید ۔۔۔ کوئی اٹھے اور اس قوم کی تقدیر بدل دے ۔ اس ملک کی تقدیر بدل دے جس کی نگاہیں 60 سالوں سے اس انتظار میں پتھرا گئی ہیں۔

جشن آزادی کیسے منائی جائے گی

0 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 4:56 AM ,
اگست کا مہینہ شروع ہوگیا ہے۔ محفل پر ایک دوست نے پوچھا کہ جشن آزادی کس طرح منائیں تو یہ فی البدیہہ "نظم نما" جواب میں وارد ہوئی۔ جو بلاگ پر بھی پیشِ خدمت ہے۔
جشن آزادی کیسے منائیں۔
سوال تو اچھا ہے۔
ادھر تو یہ ہوگا۔
جھنڈیاں لگیں گی۔
جھنڈے لگیں گے۔ (ساتھ والوں‌ سے غیر اعلانیہ شرط لگا کر کہ بانس اور جھنڈا دونوں کس کے بڑے ہیں)
بچے سٹکر خریدیں گے۔ بڑے بیج لگائیں گے۔
ٹی وی والے ترانے گائیں گے۔
14 اگست والے دن وطن کی محبت میں سرشار نواجوان۔۔۔۔
موٹر سائیکلوں پر جھنڈے لگائے۔
ٹنڈوں پر جھنڈے بنوائے
سائنلنسر کی بانسریاں نکلوائے۔۔
پورے شہر میں گشت فرمائیں‌ گے۔۔
اس کے بعد جھنڈے یا تو اتر جائیں‌ گے یا بارشوں‌ میں گل جائیں گے۔
جھنڈیاں کئی دنوں تک کوڑے کے ڈھیروں‌ پر یا پیروں تلے رلتی پھریں گی۔
جذبے ٹھنڈے ہوجائیں‌ گے۔
اور مادر وطن بھی ہمیشہ کی طرح ایک ٹھنڈا سانس لے کر پھر کسی مسیحا کے انتظار میں لگ جائے گی کہ شاید۔۔۔۔
شاید ۔۔۔ کوئی اٹھے اور اس قوم کی تقدیر بدل دے ۔ اس ملک کی تقدیر بدل دے جس کی نگاہیں 60 سالوں سے اس انتظار میں پتھرا گئی ہیں۔