آج دوپہر قیلولہ کرنے کے لئے لیٹا ہوا تھا تو پتا نہیں کہاں سے ذہن کی عمیق گہرائیوں میں دفن ایک یاد تحت الشعور سے نکل کر شعور کے پردے پر آ براجمان ہوئی. پانچویں جماعت کے بعد والد صاحب کی خواہش تھی کہ میں قرآن پاک حفظ کروں اور اس کام کے لئے مجھے ایک مدرسہ میں ڈال دیا گیا تھا. کچھ مہینوں کے بعد میرے اندر کے شیطان نے ادھم مچایا تو میں نے مدرسے جانے سے انکار کر دیا تھا اور اس کی پاداش میں تشریف پر گھوڑے ہانکنے والے چھانٹے والی چھڑی سے ٹکور کے ساتھ ساتھ میری چھٹی بھی بند کر دی گئی تھی. چناں چہ مجھے پورا ہفتہ رات اور دن وہیں مدرسے میں گزارنا تھے. رات کو گرمی ہونے کی وجہ سے چار منزلہ مدرسے کی چھت پر زمین پر صفیں یا چٹائیاں اور ان پر گھر سے آیا ہوا بستر جو ایک عدد دری تکیہ اور کھیس وغیرہ پر مشتمل تھا بچھا کر سونا ہوتا تھا. اس یاد کا تعلق شاید اس چھٹی بند ہونے کی پہلی یا کسی اور رات سے ہے. قاری صاحب اور ان کے اہل خانہ بھی طلبہ کے ہمراہ چھت پر سویا کرتے تھے. سونے سے پہلے کبھی کبھار طلبہ پر مہربانی کرکے انہیں کچھ کھانے کے لیے منگوا کر دیا جاتا تھا جسے عرف عام میں پنجابی بچوں کے لئے چیجی اور انگریزی ماڈرن لوگ کینڈی وغیرہ کہتے ہیں. آج اس نیم نیند کی کیفیت میں یاد آگیا کہ اس رات میں مدرسے کی چھت پر حالتِ سزا میں اپنے بستر پر سونے کے لیے لیٹا تو قاری صاحب نے ایک مقیم طالب علم کو بلا کر اسے کچھ روپے تھمائے اور طلبہ کے لیے کون آئسکریم منگوائی. مجھے نہ جانے کیوں ایسا لگا کہ اس میں میرے لیے بھی کچھ حصہ ہو گا. تاہم جب آئسکریم آئی اور سب میں تقسیم ہوئی اور مجھے یکسر نظر انداز کر دیا گیا تو ایک بارہ تیرہ سال کے بچے کی وہ خِفّت شاید کسی بہت بھاری پتھر سے بندھ کر ذہن کی گہرائیوں میں جا بیٹھی تھی. اور قریباً اٹھارہ برس کے بعد آج اس پتھر سے بندھی رسی کمزور ہوئی تو یہ یاد بھی کہیں دُور گہرائی سے نکل کر سطح پر آ گئی. یہ سب لکھنے کا مقصد اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ ایک یاد کو اس بلاگ پر شیئر کیا جائے. اس کے علاوہ کوئی چھپا ہوا مقصد موجود نہیں ہے یا شاید اس مقصد کو سامنے آنے کے لئے اٹھارہ برس مزید درکار ہوں.
بچپن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
بچپن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
بدھ، 15 نومبر، 2017
جمعہ، 12 اگست، 2011
بارشیں
کہتے ہیں جی کہ بھرے پیٹ والوں کو عجیب عجیب باتیں سوجھتی ہیں۔ نئے نئے کپڑے، کاریں، شوق اور انجوائے منٹ۔ ایسی ہی انجوائے منٹ بارش بھی ہے۔ لوگ بڑا انجوائے کرتے ہیں کہ بارش ہورہی ہے، پکوان بنتے ہیں، پارٹیاں ہوتی ہیں، موج مستی ہلا گُلا ہوتا ہے۔ آج سے چند سال پہلے تک میری کیفیت بڑی عجیب سی ہوا کرتی تھی بارش ہونے پر۔ دل کرتا تھا کہ بارش ہوجائے، خوب ہوا چلے اور خوب بارش ہو تاکہ موسم ٹھنڈا ہوجائے اور پوڑے پکیں (میٹھے آٹے کی روٹیاں)۔ لیکن پھر مجھے ابو جی کا خیال آتا تو دل چور ہوجایا کرتا۔ ابوجی ناشتے کی ریڑھی لگایا کرتے تھے ان دنوں۔ اس کا طریقہ کار بہت سادہ سا تھا۔ ہم گھر سے سالن اور روٹیاں پکا کر انھیں باندھ دیتے تھے، اس کے بعد وہ سائیکل پر یہ سب کچھ (پیچھے بندھے ایک اسٹینڈ میں رکھ کر) اپنے اڈے پر پہنچایا کرتے تھے۔ میرا کام یہ ہوتا کہ ان سے پہلے وہاں جا کر اڈہ سیٹ کروں۔ اور جس دن موسم خراب ہوتا، ہمیں بہت دشواری ہوتی۔ تیز ہوا چل رہی ہوتی تو چھتری لگانا دشوار ہوجاتا، بار بار اُڑنے لگتی، باندھنی پڑتی اور کبھی بہت تیز ہوا آجاتی تو اس کا ایک آدھ بانس ٹوٹ جایا کرتا یا کپڑا پھٹ جایا کرتا۔ ایسے ہی تیز ہوا کے بگولے کبھی وہاں پڑا سامان چھابیاں، پتیلوں کے ڈھکن بھی اڑا لے جایا کرتے۔ بارش ہوتی تو حالت اور بری ہوجایا کرتی۔ شروع شروع میں صرف چھتری ہوتی تھی اور پلاسٹک کی شیٹ نہیں لی تھی۔ ابو بارش میں بھیگ جایا کرتے تھے اور سارا سامان بھی بھیگ جاتا۔ پھر پلاسٹک کی شیٹ لے لی اور بارش سے پہلے وہ چھتری کے اوپر ڈال کر باندھ دی جاتی۔ لیکن پھر بھی بارش یا چمب (بارش کے سائیڈ سے پڑنے والے چھینٹے) راستہ بنا ہی لیتے۔ میں ادھر ہوتا تو گھر بھاگنے کی کرتا کہ بارش میں بھیگ نہ جاؤں، گھر ہوتا تو خیال آتا کہ ابو کیسے گزارہ کررہے ہونگے۔ میرا دل آج بھی اسی انداز میں بٹا سا رہتا ہے۔ بارش ہو تو مجھے اچھی بھی لگتی ہے، اور اپنی چھتری کا ٹپکنا بھی یاد آجاتا ہے۔ آج بھی جب میں بارش ہونے کی دعا کرتا ہوں، تو نہ جانے کتنے لوگ بارش نہ ہونے کی دعا کرتے ہیں۔ میں جسے انجوائے منٹ سمجھتا ہوں وہ جانے کس کس کے سر کی چھت چھین لینے والی چیز ہے، کسی کی چھت ٹپک رہی ہو، کسی ریڑھی والے کا کاروبار بارش کی وجہ سے ٹھپ ہورہا ہو، کسی کے مکان کی چھت ہی بیٹھ جائے، کسی کا مال و متاع بارش سے آنے والا سیلاب بہا لے جائے، اس کے محسوسات کا تھوڑا سا آئیڈیا ہے مجھے۔ میری زندگی کا ایک خاصا عرصہ اسی طرح گزرا ہے جب میرا گھر بھی بارش نہ ہونے کی دعا کیا کرتا تھا، کہ بارش ہوتی تھی تو کام بند ہوتا تھا، لیٹ ہوجاتا تھا، سامان بچ کر گھر آتا تھا، اس دن دیہاڑی نہیں بنتی تھی اور امی جی کے چہرے پر جھنجھلاہٹ ہوتی تھی، ان کے چہرے کی جھریاں کچھ اور نمایاں ہوجایا کرتی تھیں خرچوں کا سوچ کر، ہماری فیسوں، کھانے اور بجلی فون گیس کے بلوں کا سوچ کر، اور اس بچے ہوئے کھانے کو ٹھکانے لگانے کا سوچ کر جو ہم نے اصل میں کھانا ہی ہوتا تھا۔ اس دن گھر میں ہانڈی نہیں پکا کرتی تھی۔
باقی پھر سہی۔ میں نے یہ سب اس لیے لکھا کہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔ کل کو اگر میں ڈاکٹر ہوجاؤں، پی ایچ ڈی ہولڈر ہوجاؤں تو میرے لکھے ہوئے الفاظ ہی مجھے میری اصل کا پتا دیں، میں کہیں بھول نہ جاؤں کہ میرے ماں باپ نے مجھے کیسے پالا تھا، میرا بچپن کیسے گزرا تھا اور مجھ پر رب کریم کے کتنے احسانات ہیں۔
یا اللہ تیرا شکر ہے، تیری رحمت، تیرا کرم میں تیری رحمت کا محتاج تیرے کرم کا امیدوار۔ میرا ہر سانس، میرا ہر بال تیری رحمت تیرے کرم کا منتظر۔ میرا ہونا ہی تیری مجھ پر رحمت کی نشانی ہے مولا، ورنہ میری کیا اوقات میرے مالک۔
یا اللہ تیرا شکر ہے
اتوار، 16 اگست، 2009
میرا بچپن
سب سے پہلے تو ان تمام احباب کا شکریہ جنہوں نے مجھے پرچوں کے سلسلے میں کامیابی کی دعائیں دیں۔ الحمداللہ پرچے بہت اچھے ہوگئے امید ہے اس بار بھی پچھلے سمسٹر کی طرح پہلی پوزیشن میری ہی ہوگی۔
اس کے بعد عرض ہے کہ مصروفیت نے ایک عرصے سے اردو بلاگنگ سے کنارہ کش کردیا ہے۔ اس عرصے میں بہت سی نئی آوازیں اور لہجے شامل ہوئے اور خوب شامل ہوئے۔ اردو بلاگرز اب بالغ نظر ہوتے جارہے ہیں۔ خیر یہ تو بات سے بات تھی۔ اصل بات وہی عنوان والی ہے۔ اگرچہ اس بار بھی دل تھا کہ سیدہ شگفتہ کی فرمائش اور پھر منظر نامہ کے ذریعے اس تجویز کا تفاذ دیکھ کر پھر سے کھسک لوں کہ اس بار بھی کچھ نہیں لکھنا۔ لیکن۔۔۔۔ پھر دل نے کہا کہ اپنے لیے نہیں کمیونٹی کے لیے لکھو۔۔۔ سو لکھ رہا ہوں۔
تو صاحبو اوپر کے سارے وعظ کے بعد بات اتنی سی ہے کہ ہمارے بچپن کا کوئی ایسا واقعہ نہیں جو آپ کو ہنسا سکے۔۔۔ یا رُلا سکے۔ بڑا سادہ سا اور انتہائی عام سا بچپن گزرا ہے جس کی یادیں ساری بلیک اینڈ وائٹ ہیں اور دھندلی دھندلی سی۔۔۔ خیر کھینچ کھانچ کر ایک پرانی پوسٹ سے متعلق ہی ایک تفصیلی واقعہ نکالا ہے یادوں کے کباڑخانے سے۔ ملاحظہ کیجیے۔
میرا پلان بالکل مکمل تھا۔ لیٹرین کے ساتھ ٹینکی نما چیز کو دیکھ کر ہی یہ پلان میرے ذہن میں آیا تھا کہ بس اب تو اپنی جان چھوٹی ہی چھوتی۔ تو صاحبو ہم نے وضو کرنے کا بہانہ بنایا ٹینکی سے لیٹرین پر اور وہاں سے دیوار پر اور اس کے بعد چھ سات فٹ سے ہم نے چھلاگ لگا دی اور نکل لیے۔
خیر آپ کو کیا سمجھ آئی ہوگی۔ اوپر دئیے ربط پر چلے جائیں تو شاید کچھ سلسلہ جڑ جائے۔ اصل میں ہم پانچویں کے بعد مدرسے میں ڈال دئیے گئے تھے حفظ قرآن کے لیے۔ کچھ عرصہ تو سکون سے گزرا ہم اچھا خاصا حفظ کرتے رہے لیکن پھر ہم سے پڑھائی کا شیڈول برداشت نہ ہوا اور ہم نے بغاوت کردی۔: او میں نئیں پڑھناں ہور ہُن۔۔ تو اس کا حل قاری صاحب نے یہ نکالا کہ ہماری ٹانگیں ایک دوسرے لڑکے کو پکڑوا کر ہماری تشریف پر گدھے ہنکانے والی بید کی سوٹی سے ٹکور کی۔ اور اسی ٹکور کے دوران ہم پر انکشاف ہوا کہ یہ ساری کاروائی شیطان کی تھی ہمارا کوئی قصور نہیں ہم نے چیخ چیخ کر قاری صاحب کو یہ باور کرانے کی کوشش کی لیکن قاری صاحب نے ٹریٹمنٹ پورا کرکے ہی جان چھوڑی۔ خیر اس علاج کے بعد کچھ ماہ سکون سے گزرے اور پھر ہم نے جو کارنامہ سرانجام دیا وہ اوپر تحریر ہے۔ اس دوران ہماری چھٹی بند تھی۔ قاری صاحب ایسے بچے کی پہلے روزانہ کی چھٹی بند کرکے ہفتہ وار کرتے تھے اگر پھر بھی نصیحت نہ آتی تھی تو عید کے عید ہی ملتی تھی چھٹی۔
خیر تو ہم بھاگ پڑے۔ چھوٹا بھائی کھانا دینے آرہا تھا اس نے ہمیں بھاگتے دیکھ لیا کچھ دور تک وہ ہمارے پیچھے بھاگا پھر واپس گھر چلا گیا۔ اور ہم ۔۔۔ ہم پہنچے سیدھے نشاط آباد سٹیشن پر۔ یہ فیصل آباد کے بڑے سٹیشن کے بعد لاہور کی طرف جاتے ہوئے دوسرا سٹیشن ہے۔ ابا جی کو چونکہ ہماری ساری گیم کا پتا تھا انھوں نے ہمیں وہاں سے جا لیا اور پھر ہماری دھلائی بھی ہوئی اور ہاتھ باندھ کر سائیکل پر بٹھا کر گھر لایا گیا۔
قصہ مختصر عزیزان گرامی ہم نے ایسے دو ایک اور ڈرامے کھیلے اور ہمیں مدرسے سے نجات مل گئی۔ ہم نے آخری پانچ پارے حفظ کرلیے تھے چھٹا پاؤ ہو گیا تھا لیکن سب کچھ چھوٹ گیا۔ اس واقعے نے ہماری زندگی کا رخ موڑ ڈالا۔ شاید اس وقت ایسا نہ ہوتا تو ہم آج بلاگر نہ ہوتے۔۔ ہوتے بھی تو اتنے ۔۔۔۔ نہ ہوتے۔
اس کے بعد عرض ہے کہ مصروفیت نے ایک عرصے سے اردو بلاگنگ سے کنارہ کش کردیا ہے۔ اس عرصے میں بہت سی نئی آوازیں اور لہجے شامل ہوئے اور خوب شامل ہوئے۔ اردو بلاگرز اب بالغ نظر ہوتے جارہے ہیں۔ خیر یہ تو بات سے بات تھی۔ اصل بات وہی عنوان والی ہے۔ اگرچہ اس بار بھی دل تھا کہ سیدہ شگفتہ کی فرمائش اور پھر منظر نامہ کے ذریعے اس تجویز کا تفاذ دیکھ کر پھر سے کھسک لوں کہ اس بار بھی کچھ نہیں لکھنا۔ لیکن۔۔۔۔ پھر دل نے کہا کہ اپنے لیے نہیں کمیونٹی کے لیے لکھو۔۔۔ سو لکھ رہا ہوں۔
تو صاحبو اوپر کے سارے وعظ کے بعد بات اتنی سی ہے کہ ہمارے بچپن کا کوئی ایسا واقعہ نہیں جو آپ کو ہنسا سکے۔۔۔ یا رُلا سکے۔ بڑا سادہ سا اور انتہائی عام سا بچپن گزرا ہے جس کی یادیں ساری بلیک اینڈ وائٹ ہیں اور دھندلی دھندلی سی۔۔۔ خیر کھینچ کھانچ کر ایک پرانی پوسٹ سے متعلق ہی ایک تفصیلی واقعہ نکالا ہے یادوں کے کباڑخانے سے۔ ملاحظہ کیجیے۔
میرا پلان بالکل مکمل تھا۔ لیٹرین کے ساتھ ٹینکی نما چیز کو دیکھ کر ہی یہ پلان میرے ذہن میں آیا تھا کہ بس اب تو اپنی جان چھوٹی ہی چھوتی۔ تو صاحبو ہم نے وضو کرنے کا بہانہ بنایا ٹینکی سے لیٹرین پر اور وہاں سے دیوار پر اور اس کے بعد چھ سات فٹ سے ہم نے چھلاگ لگا دی اور نکل لیے۔
خیر آپ کو کیا سمجھ آئی ہوگی۔ اوپر دئیے ربط پر چلے جائیں تو شاید کچھ سلسلہ جڑ جائے۔ اصل میں ہم پانچویں کے بعد مدرسے میں ڈال دئیے گئے تھے حفظ قرآن کے لیے۔ کچھ عرصہ تو سکون سے گزرا ہم اچھا خاصا حفظ کرتے رہے لیکن پھر ہم سے پڑھائی کا شیڈول برداشت نہ ہوا اور ہم نے بغاوت کردی۔: او میں نئیں پڑھناں ہور ہُن۔۔ تو اس کا حل قاری صاحب نے یہ نکالا کہ ہماری ٹانگیں ایک دوسرے لڑکے کو پکڑوا کر ہماری تشریف پر گدھے ہنکانے والی بید کی سوٹی سے ٹکور کی۔ اور اسی ٹکور کے دوران ہم پر انکشاف ہوا کہ یہ ساری کاروائی شیطان کی تھی ہمارا کوئی قصور نہیں ہم نے چیخ چیخ کر قاری صاحب کو یہ باور کرانے کی کوشش کی لیکن قاری صاحب نے ٹریٹمنٹ پورا کرکے ہی جان چھوڑی۔ خیر اس علاج کے بعد کچھ ماہ سکون سے گزرے اور پھر ہم نے جو کارنامہ سرانجام دیا وہ اوپر تحریر ہے۔ اس دوران ہماری چھٹی بند تھی۔ قاری صاحب ایسے بچے کی پہلے روزانہ کی چھٹی بند کرکے ہفتہ وار کرتے تھے اگر پھر بھی نصیحت نہ آتی تھی تو عید کے عید ہی ملتی تھی چھٹی۔
خیر تو ہم بھاگ پڑے۔ چھوٹا بھائی کھانا دینے آرہا تھا اس نے ہمیں بھاگتے دیکھ لیا کچھ دور تک وہ ہمارے پیچھے بھاگا پھر واپس گھر چلا گیا۔ اور ہم ۔۔۔ ہم پہنچے سیدھے نشاط آباد سٹیشن پر۔ یہ فیصل آباد کے بڑے سٹیشن کے بعد لاہور کی طرف جاتے ہوئے دوسرا سٹیشن ہے۔ ابا جی کو چونکہ ہماری ساری گیم کا پتا تھا انھوں نے ہمیں وہاں سے جا لیا اور پھر ہماری دھلائی بھی ہوئی اور ہاتھ باندھ کر سائیکل پر بٹھا کر گھر لایا گیا۔
قصہ مختصر عزیزان گرامی ہم نے ایسے دو ایک اور ڈرامے کھیلے اور ہمیں مدرسے سے نجات مل گئی۔ ہم نے آخری پانچ پارے حفظ کرلیے تھے چھٹا پاؤ ہو گیا تھا لیکن سب کچھ چھوٹ گیا۔ اس واقعے نے ہماری زندگی کا رخ موڑ ڈالا۔ شاید اس وقت ایسا نہ ہوتا تو ہم آج بلاگر نہ ہوتے۔۔ ہوتے بھی تو اتنے ۔۔۔۔ نہ ہوتے۔
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)