بدھ، 30 دسمبر، 2015

قصہ ہماری ایک کچیچی کا

والدہ کہا کرتی ہیں کہ تیرے تایا عبد الرشید کے ماتھے پر پیدا ہوتے ہی تیوری چڑھی ہوئی تھی۔ اللہ سائیں تایا عبد الرشید کو صحت و تندرستی عطاء فرمائے ، میرے والد صاحب سے بڑے چار بھائیوں میں سے اب یہ اور تایا جمیل ہی حیات ہیں۔ تایا جی کی تیوری کچھ ایسی ہی چیز ہے جیسے کسی کمپنی کا رجسٹرڈ ٹریڈ مارک ہو۔ مائیکروسافٹ ونڈوز کے چار ڈبے، پیپسی کا نیلا اور سرخ دائرہ اور، انٹیل کا نیلا اسٹیکر دور سے ایک نظر میں پہچانا جاتا ہے۔ اسی طرح ہمارے تایا جی کا ٹریڈ مارک ان کے متھے کی چار لکیریں جنہیں اردو میں تیوری  اور پنجابی میں گھُوری کہتے ہیں، دور سے ہی نظر آ جاتی ہیں۔ ابھی میں نے آپ کو بتایا ہی نہیں کہ والدہ کو یہ کہنا یاد کیوں آیا کرتا ہے۔ تو اس کی وجہ میری ذات شریف ہے۔ پچھلے تیس برسوں میں روز افزوں وسیع ہوتے متھے کے ساتھ جو چیز میں نے بڑے نازوں سے اپنے ساتھ پالی ہے وہ میرے متھے کی چار لکیریں ہیں۔ اب تو اتنی عادت ہو گئی ہے کہ کبھی کبھی ہنستے ہوئے بھی متھا گھُورنے لگ جاتا ہے۔ والدہ کہتی ہیں کہ گھُوری تم نے اپنے تائے سے لی ہے۔

گھُوری میں تایا جی اور والد صاحب کے غصے کا دخل ہو سکتا ہے کہ یہ وراثتی معاملہ ہے۔ لیکن کچیچی اس میں قطعاً ہماری ذاتی ایجاد ہے۔ کچیچی کا اردو ترجمہ دانت پیسنا بنتا ہے لیکن پنجابی والے معانی اس میں عنقا ہیں۔ کچیچی ایک کیفیت کا نام ہے جو کسی بھی بندے کو کسی بھی وقت چڑھ سکتی ہے۔ یہ صرف ایک فعل نہیں، ایک حالت ہے۔ جب کچیچی چڑھتی ہے تو دانت پیسنے کے ساتھ ساتھ کچھ اور افعال بھی سرزد ہو جاتے ہیں۔ جیسے ماتھے پر گھُوری، جبڑوں کا بھینچ جانا، کان سرخ اور آنکھوں سے آگ برسانے کی کوشش، اور پھر خون کا نقطہ کھولاؤ کے قریب پہنچ جانا۔ ان ساری کیفیات سے یہ ناتواں اپنے ابتدائی ایام سے واقف ہے۔ اس ناتواں وجود پر فرانسیسی فلسفی رینے دیکارت کا قول ("میں سوچتا ہوں اس لیے میں ہوں") کچھ ترمیم و اضافے کے بعد ایسے فِٹ ہو سکتا ہے کہ "میں کچیچتا ہوں اس لیے میں ہوں"۔ شاید فدوی کو اپنے ہونے کا احساس ہی کسی اوّلین کچیچی سے ہوا تھا۔ اس حوالے سے ایک تھیوری یہ بھی ہے کہ اس دنیا میں پیدا کرنے کے مرکزی مقصد یعنی اللہ کی عبادت  کے علاوہ ہمیں خالق نے جو اضافی ذمہ داریاں سونپیں ان میں سے ایک کچیچنا بھی تھا۔ اور اللہ کے فضل سے پچھلے تین عشروں سے ہم عبادت کا فرض انجام دینے میں چاہے کوتاہی کر جائیں، کچیچی کا فرض بہ احسن و خوبی سرانجام دیتے چلے  آ رہے ہیں۔

فنکاروں، اداکاروں اور مشاہیر سے پوچھا جاتا ہے کیا بچپن سے ہی یہ بننا چاہتے تھے؟ پہلی بار کیسے احساس ہوا کہ آپ کے اندر ایک فلاں چھپا بیٹھا ہے؟ اسی فلو میں ہم سے پوچھا جائے کہ پہلی کچیچی کب لی تھی، تو اس کا جواب دینا مشکل ہو گا۔ چونکہ ہمارے لیے کچیچی روزمرہ کے معمولات کا ایک حصہ رہی ہے۔ کچیچی لینا ہمارے لیے کچھ ایسا ہی نارمل عمل تھا جیسے بکری کے بچے (میمنے) کے لیے بے بے کرنا۔ ایک عرصے تک ہم بھی کچیچنے کو ہوا، پانی اور روٹی کی طرح زندگی کی ضرورت سمجھتے رہے۔ یادوں کے افق پر اس کی نفی کرتی ہوئی پہلی رنگین تصویر جو نقش ہے وہ ہمارے گیارہویں کے ٹیوشن پڑھانے والے پروفیسر صاحب تھے۔ پی ایچ ڈی اسسٹنٹ پروفیسر جو جامعہ زرعیہ فیصل آباد میں استاذ تھے اور ساتھ ہومیو پیتھی کا شغل فرمایا کرتے تھے۔ انہوں نے ہمارے چہرے پر طاری رہنے والی اس مستقل کیفیت کو دیکھ کر ایک دن ہمیں پکڑ کر زبردستی بٹھا لیا، اپنی ہومیو پیتھی والی کتاب کھول لی اور ہم سے سوال جواب کرنے کے بعد ایک انتہائی کڑوی دوائی کے چند قطرے حکماً ہماری زبان پر ٹپکائے۔ اس دن ہمیں ایسا لگا کہ ہماری کچیچیی ہی دوائی کی صورت میں ہمارے سامنے آ گئی ہے۔ اللہ ان پروفیسر صاحب کا بھلا کرے، وہ ہمارا علاج تو نہ کر سکے لیکن علاج کرنے کی کوشش ضرور کی۔ اللہ انہیں نیت کا ثواب عطاء فرمائے۔

گیارہویں کے بعد بھی ظاہر ہے ہم زندہ و جاوید رہے اور ابھی تک بفضل تعالٰی شریکوں کے سینوں پر مونگ دلتے ہشاش بشاش، اور ہٹے کٹے (چلیں اس کا دس فیصد کر لیں) ہیں۔ اور ہمارا یہ شغل بھی ویسے ہی جاری و ساری ہے۔ اللہ نے وجود بھی دھان پان سا دے رکھا ہے، یا اس کو دھان پان رکھنے میں ہماری کچیچیوں کا عمل دخل ہے۔ ایک تھیوری یہ پیش کی جاتی ہے کہ کچیچیوں سے ہم اپنا خون اتنا جلا لیتے ہیں کہ وجود دھان پان سے آگے ہی نہیں بڑھ پاتا۔ اس سلسلے میں کتنی سچائی ہے اس کا جواب تو وقت ہی دے گا، ہم نے اپنی ایک کچیچی پر یہ سب لکھنے کا فیصلہ کیا تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آوے۔

کل کچھ احباب کے ساتھ کہیں پھرنے پھِرانے کا پروگرام تھا اور حسبِ عادت کسی بات پر ہمیں کچیچی چڑھ گئی۔ آج صبح  سو کر اٹھے تو کچیچی جا چکی تھی۔ اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ہم نے چند سطریں گھسیٹ ڈالیں۔ اپنی کچیچیوں سے ہی ہم نے سیکھا ہے کہ کچیچی کوئی اچھی چیز نہیں ہے۔ کچیچی میں خون مسلسل دھیمی آگ پر کھولتا رہتا ہے جسمانی و نفسیاتی درجۂ حرارت میں اضافہ اگر دیر تلک چلتا رہے تو صحت کے لیے قطعاً کوئی اچھی چیز نہیں ہے۔ ثبوت کے لیے آپ ہمارے فیس بُک صفحے پر ڈھیر ساری تصاویر ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ کچیچنا ایک آرٹ ہے لیکن اس سے اتنی ہی جلد نجات حاصل کر لینا اس سے بھی بڑا آرٹ ہے۔ اور ہمارے نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی کہ اس سلسلے میں اکسیر کا درجہ رکھتا ہے کہ غصہ آنے پر اندازِ نشست (کھڑے ہیں تو بیٹھ جائیں، بیٹھے ہیں تو لیٹ جائیں۔۔۔) تبدیل کر لیا جائے، وضو کر لیا جائے یا میں نے جھگڑا کرتے وقت سعودی عربوں کے طرزِ عمل بارے سنا ہے کہ چھڑانے والے لڑنے والے فریقین کو صلو علی الحبیب کے الفاظ سے درود شریف کی تلقین کرتے ہیں۔ اور نبی ﷺ کا تو نامِ نامی ہی ایسا ہے کہ زبان پر آتے ہی دل نرم پڑ جاتا ہے۔ اللہم صل علی محمد و اٰل محمد و اصحاب محمد۔

اپنی کچیچیوں سے تنگ آ کر ایک دن ہم بابا جی سرفراز اے شاہ صاحب کی خدمت میں چلے گئے جو کسی بابے کی خدمت میں حاضری کا اوّلین موقع تھا۔ ہم نے عرض کیا سر غصہ بہت آتا ہے جواباً انہوں نے دعا کر کے ایک ٹافی عنایت فرما دی۔ یہ ان کی دعا کا اثر ہے یا ہماری ڈھلتی عمر کا تقاضا ہے، وسیلہ جو بھی ہو ، اللہ کریم کی خاص رحمت ہے کہ اب احساس ہو جاتا ہے اور ہم اپنے آپ کو لعن طعن کر کے اس کیفیت سے نکلنے کی کوشش کر لیتے ہیں۔ جس طرح سٹنٹ سین کے نیچے لکھا ہوتا ہے کہ گھر پر ٹرائی مت کریں، اسی طرح آپ قارئین سے بھی التماس ہے کہ گھر پر غصہ ٹرائی مت کریں بلکہ نبوی ﷺ نسخہ آزمائیں، اور میری گزارش تو یہی ہو گی کہ درود شریف پڑھنے سے غصہ چلا جاتا ہے۔
اور آخر میں فیض کا ایک شعر
قرب کے نا وفا کے ہوتے ہیں
سارے جھگڑے انا کے ہوتے ہیں

جمعہ، 25 دسمبر، 2015

تاثرات

کرسمس کے باضابطہ آغاز میں ابھی کچھ وقت باقی ہے۔ شہر کے گرجا گھروں کے گھنٹے مسیح کی ولادت کی خوشی میں ہر کچھ عرصے بعد بجنے لگتے ہیں۔ میری کھڑکی پر ابھی ابھی ہونے والی بارش کے ان گنت قطرے ایسے بکھرے ہیں جیسے دور بہت دور میرے دیس پاکستان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں بیس برس پہلے کی راتوں میں آسمان پر ستارے بکھرے ہوا کرتے تھے۔ میرے سامنے والی عمارتوں میں کہیں کہیں جگنو نما ننھی ننھی روشنیاں نظر آ رہی ہیں ۔ ایک دو جگہ ہشت رخ ستارے بھی روشن ہیں۔ سٹریٹ لائٹ  کی روشنیاں درختوں کے سائے، دھندلے سائے میری بصارتوں تک پہنچا رہی ہیں۔ ٹنڈ منڈ درخت جنہیں دن کی روشنی میں ذرادور سے دیکھنے پر ہریالی کا گمان ہوتا ہے لیکن قریب جانے پر احساس ہوتا ہے کہ بارشوں کی زیادتی نے ان پر کائی کی مستقل تہہ چڑھا رکھی ہے۔ دن ابھی روشن ہو تو کبھی کبھار کوئی اجنبی سا پرندہ قریب سے اڑتا چلا جاتا ہے اور اس کے پیچھے پیچھے یادوں کے پرندے بھی اڑان بھر کر اندر ہلچل مچا دیتے ہیں۔ میرے شہر فیصل آباد کی گرد اور دھواں، اور گرد بھرے درختوں پر چہچہاتی چڑیاں، کوے ، کبوتر بازوں کے کبوتر سب اڑان بھرنے چلے آتے ہیں۔ اور میں ہزاروں میل دور ہو کر بھی وہیں جا پہنچتا ہوں جہاں ایک ماہ پہلے میرے بھائی کی شادی کا ہلا گلا تھا، اور پھر میں یہاں آنے کے بارے میں اندر ہی اندر بے قرار تھا۔

یہ شہر بہت اچھا ہے۔ صاف ستھرا ، نیٹ اینڈ کلین، قانون انکل کے سامنے مؤدب اور فرمانبردار۔ لیکن اس سب کے باوجود جب بھی اس کے بارے میں سوچوں تو اجنبی، سرد، سرمئی جیسی صفات جیسے اوپر ہی کہیں رکھی ہوتی ہیں فوراً سامنے آن موجود ہوتی ہیں۔ ایک اجنبی دیس کا اجنبی شہر جس کی اجنبی زبان میں سیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ سو تک گنتی، سبزیوں اور پھلوں کے نام، نشست و برخاست کے کلمات اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہر روز گھر سے نکل کر اسی راستے پر، اسی عمارت میں پہنچتا ہوں اور پھر وہیں واپسی جہاں سے صبح چلا تھا۔ جیسے ایک دائرے کا سفر۔۔۔رہائش سے اسکول ۔۔۔مسجد ۔۔۔گروسری کی چند دوکانیں ۔۔۔گھر۔۔۔اسکول۔۔۔اور دائرہ مکمل ہو جاتا ہے۔ اس دائرے میں کہیں کہیں دراڑ اس وقت پڑتی ہے جب ہم چودہ لوگوں کا گروپ کوئی پارٹی ارینج کر لے۔ آج بھی پاکستان کے ان ہونہار ترین لوگوں میں بیٹھا تو جیسے پاکستان کی جانب ایک کھڑکی کھلی رہی۔ ہنسی، قہقہے، چھیڑ چھاڑ ، دیر سے آنے پر غصہ اور پھر کھانا۔۔۔۔اور بیچ میں میری چولیں۔۔۔میرے پرانے احباب کے خیال میں میری تعلیم ایم فِل لسانیات نہیں ایم فِل میراثیات ہے۔ شاید ان کا کہنا بھی ٹھیک ہی ہے کہ میں نے اپنے اوپر ایک خاص کیفیت کچھ ایسے طاری کر رکھی ہے کہ  تین عشروں بعد بھی آج بے تُکا، بے ڈھنگا، بے ہدائیتا، کھلنڈرا اور مورکھ ، بدتمیز شرارتی بچہ نظر آتا ہوں جس کی نظر ہمیشہ دوسرے بچے کو تنگ کرنے پر ہوتی ہے۔ اتنے قابل ترین لوگوں میں بیٹھ کر بھی مجھے ہدایت نصیب نہیں ہوئی اور نہ ہونے کی کوئی امید نظر آتی ہے۔

چارلی چپلن کہتا ہے کہ مجھے بارش میں چلنا پسند ہے تاکہ کوئی میرے آنسو نہ دیکھ سکے۔ یوں لگتا ہے کہ ہر زمانے میں کچھ ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو خلوت اور جلوت میں دو الگ الگ چہروں کے حامل ہوتے ہیں۔ دوہرے چہرے والے لوگ، ان کے اندر کیسے ہی الاؤ روشن ہوں، دکھ کا سرما پھیلا ہو یا اداسی کی خزاں اتری ہو، اوپر سے ہمیشہ پُر بہار نظر آتے ہیں۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ میں بھی ایسے ہی دو چہرہ لوگوں میں سے ہوں۔ اصل چہرے پر نقاب چڑھا کر اس بات کے آرزومند لوگ کہ دیکھنے والا "اگنور" کا بٹن دبا کر نقاب کو پرے کر دے اور براہِ راست اصل چہرے سے ہم کلام ہو۔

منگل، 15 دسمبر، 2015

132 بچے

ہاں 132 بچے تھے اور 16 دسمبر کا دن تھا۔ پچھلے برس بھی جب یہ خبر میرے سامنے آئی تھی تو میں کلاس پڑھا رہا تھا۔ پھر جیسے جیسے شام ہوتی گئی قطرہ قطرہ کر کے غم برداشت سے باہر ہوتا گیا اور میری آنکھیں برس پڑی تھیں۔ یہ تحریر انہیں لمحات میں لکھی گئی تھی۔
آج ایک دن کم ایک برس بعد میرے اندر لگے الارم کلاک نے پھر وہی کیفیت تازہ کر دی ہے۔ آج میں اپنے وطن سے ہزاروں میل دور ایک سرد اور اجنبی سرزمین پر تنہا بیٹھا اسی غم میں ڈوبا ہوا ہوں۔ 132 بچے اور ان میں ایک ننھی سی بچی بھی تھی۔ میرا کوئی بچہ نہیں ہے، اس لیے شاید مجھے احساس نہیں ہے کہ بیٹے اور بیٹیاں کھو دینے کا دکھ کیا ہوتا ہے۔ لیکن میں اس غم کا ایک اربواں حصہ شاید محسوس کر سکتا ہوں جو ان بچوں کے ماں باپ پچھلے ایک برس سے جھیل رہے ہیں۔ جوان اولاد کھونے کا دکھ تو میرے ماں باپ بھی سہہ چکے ہیں اس لیے شاید میں اس اذیت کا عینی شاہد ہوں جو تاعمر ماں باپ کے جھریوں زدہ چہروں میں پیوست ہو جاتی ہے۔ جوان اولاد کی موت کا دُکھ بہت بڑی اور بُری چیز ہے۔ کمر توڑ دیتا ہے، بال سفید کر دیتا ہے، قویٰ میں سے جان نکال لیتا ہے اور زندگی بھر کا روگ لگا جاتا ہے۔ ہر عید شبرات اور خوشی پر تازہ ہو جانے والے زخم دے جاتا ہے۔ ماں باپ کو اولاد کبھی نہیں بھولتی چاہے رب اور کتنے ہی دے دے۔ ماں باپ کو بنایا ہی ایسا گیا ہے۔
اور میں یہاں بیٹھا قطرہ قطرہ پگھل رہا ہوں۔ شاید یہ ان معصوم طلبہ کا دکھ ہے، یا ان سے پہلے اس جنگ کا ایندھن بننے والے ہزارہا معصوموں کا دکھ ہے یا میرا اپنا بازو ٹوٹ جانے کا دکھ ہے۔ میں جذباتی ترانے سنتا ہوں تو میرے اندر سے غم اُبل اُبل کر باہر آتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی مرے ذہن میں بیٹھا ایک اور شخص جمع تفریق بھی کر رہا ہے۔
پچھلے ایک برس میں کیا بدلا ہے؟
آتش و آہن کے کھیل کو روکنے کے لیے آتش و آہن کے استعمال کے علاوہ ہم نے اور کیا کِیا ہے؟
تعلیم اور تربیت، ذہن سازی اور قوم سازی کے لیے ہم نے کیا کِیا ہے؟
ابھی کل ہی لاہور حفیظ سنٹر پر ایک مذہبی اقلیت کے نازیبا کلمات ہٹانے کے خلاف ہونے والے احتجاج کی خبر پڑھ کر میں حیران ہو رہا تھا کہ آخر بدلا کیا ہے؟ کیا رویے بدل گئے ہیں؟ کیا برداشت پیدا ہو گئی ہے؟
کیا تیس برس قبل ہم نے نفرت و عداوت اور شدت پسندی کا جو کوڑھ کاشت کرنا شروع کیا تھا اسے آج ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا چکے ہیں؟
کیا ہم نے اپنے ماضی سے سبق سیکھا ہے؟
برداشت، رواداری، حسنِ سلوک اور محبت یہ وہ جادوئی رویے ہیں جو ہمیں پھر سے یکجا کر سکتے ہیں۔ آج ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ صرف آتش و آہن سے ہی نہیں کسی اور محاذ پر بھی ایک ضربِ عضب کی ضرورت ہے۔ اور اس کے لیے ہمیں اپنے اپنے ذہنوں میں قانون سازی کرنی ہو گی۔ ہمارے ادارے (خدا کرے کہ یہ خیال درست ہو) اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ چکے ہیں، بحیثیت قوم اور افراد ہمیں سبق سیکھنا اور اپنے رویوں کی اصلاح کرنی ہے۔ وگرنہ ہمارا کام ہر سفاکی کے بعد اس کو کفار کی سازش ثابت کرنا ہی رہ جائے گا جیسے پچھلے دنوں امریکی شہر میں ہونے والے قتل عام میں ملوث پاکستانی خاتون کے معاملے میں ہوا ہے۔
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِيْرِنَا وَکَبِيْرِنَا وَذَکَرِنَا وَاُنْثَانَا. اَللّٰهُمَّ مَنْ اَحْيَيْتَه مِنَّا فَاَحْيِه عَلَی الْاِسْلَامِ وَمَنْ تَوَفَّيْتَه مِنَّا فَتَوَفَّه عَلَی الإِيْمَانِ.
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ لَنَا فَرَطاً وَّاجْعَلْهُ لَنَا اَجْرًا وَّذُخْرًا وَاجْعَلْهُ لَنَا شَافِعًا وَّ مُشَفَّعًا.
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهَا لَنَا فَرَطاً وَّ اجْعَلْهَا لَنَا اَجْرًا وَّ ذُخْرًا وَّ اجْعَلْهَا لَنَا شَافِعَةً وَّ مُشَفَّعَةً.
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ 
اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

ہفتہ، 19 ستمبر، 2015

اینڈرائیڈ کے لیے انگریزی اردو اور اردو انگریزی لغت Urdu English and English Urdu Dictionary for Android

احباب کی ایک عرصے سے خواہش تھی کہ اینڈرائیڈ کے لیے اردو انگریزی اور انگریزی اردو لغت مہیا ہو جو لالچی اشتہار بازوں سے بھی پاک ہو۔ اس سلسلے میں دو برس پہلے ایک کوشش کی تھی۔ لیکن اس سلسلے میں دو خرابیاں تھیں ایک تو یہ سرچ ایپ بہت پرانی ہو چکی تھی، دوسرے استعمال ہونے والی ڈکشنری ڈیٹابیس کافی محدود سی تھی۔ پچھلے دنوں پی سی کے لیے گولڈن ڈکشنری کے پورٹیبل ورژن میں اردو انگریزی اور انگریزی اردو لغات ڈالیں۔ آج فیس بُک اردو بلاگر گروپ پر برادرم نعیم سواتی کے ایک سوال پر خیال آیا کہ گولڈن ڈکشنری اینڈرائیڈ کے لیے بھی تو ہے۔ لیکن مجھے یہ پتا نہیں تھا کہ قیمتاً کے علاوہ ایک مفت ورژن بھی موجود ہے۔ چنانچہ آج قیمتاً کو خریدتے خریدتے مفت والے ورژن کا پتا چلا جو جھٹ سے اتار کر میں نے تو اپنی لغت چالو کر لی ہے۔ آپ بھی کریں۔
  • یہاں سے گولڈن ڈکشنری ایپ مفت والی اتار لیں۔
گولڈن ڈکشنری نصب ہو گئی ہے۔
  • یہاں سے ڈکشنری ڈیٹابیسز اتار لیں۔ اس میں اردو انگریزی اور انگریزی اردو دونوں موجود ہیں۔
  • اب آپ نے اپنے ایس ڈی کارڈ یا فون اسٹوریج میں ایک نیا فولڈر بنانا ہے اور فون کو پی سی سے جوڑ کر یہ ڈیٹابیس فائلیں اس فولڈر میں ان زپ کر دیں۔
  • میں نے UrduDictionary نامی فولڈر بنا کر اس میں ساری ڈیٹا بیسز کاپی کر دی تھیں۔ اس کے بعد گولڈن ڈکشنری ایپ چلائی۔ پہلی مرتبہ چلانے پر آپ کو Preferences میں جا کر لغات کے لیے ایڈیشنل ڈائریکٹری شامل کرنا پڑے گی یعنی جہاں آپ نے اردو ڈکشنری ڈیٹابیسز رکھی ہیں۔
اس وقت پریفرینسز میں موجود ہیں۔
میں نے متعلقہ فولڈر منتخب کر لیا ہے۔
یہاں ساری ڈکشنری ڈیٹابیسز نظر آ رہی ہیں۔ اردو انگریزی والی بھی اور انگریزی اردو والی بھی۔
ڈکشنریاں انڈیکسنگ کے لیے تیار ہیں۔
انڈیکسنگ جاری ہے۔
 انڈیکسنگ مکمل ہو چکی ہے۔ ہر ڈکشنری میں اندراجات کی تعداد بھی نظر آ رہی ہے۔
ملاحظہ فرمائیں انگریزی سے اردو تلاش کا ایک نمونہ۔
اردو سے انگریزی تلاش کا ایک نمونہ۔
اور آخر میں اتنا ہی کہ یہ سب جگاڑ ہے۔ امید ہے آپ کا گزارہ کرے گی جیسے میرا گزارہ کر رہی ہیں۔

جمعہ، 18 ستمبر، 2015

جنت کی پوشاکیں



ڈبلیو بی ییٹس کی ایک نظم کے ساتھ کھلواڑ، ایک نثری اور کافی سارا بے تُکا ترجمہ۔


جنت کی پوشاکیں

کاش میرے پاس جنت کی پوشاکیں ہوتیں،
سنہری اور نقرئی کرنوں سے بُنی،
شوخ اور ہلکے آسمانی رنگ کی پوشاکیں،
سیاہ اور سفید رنگوں میں گُندھی؛
تو میں یہ سب تمہارے قدموں میں بچھا دیتا:
لیکن میرے دامن میں خوابوں کے علاوہ کچھ نہیں؛
میں نے اپنے خواب ہی تمہارے قدموں میں بچھا دئیے ہیں؛
دیکھو! سنبھل کر چلنا کہ تم میرے خوابوں پر چل رہے ہو۔
ترجمہ: بقلم خود
The Cloths of Heaven




Had I the heaven's embroidered cloths,
Enwrought with golden and silver light,
The blue and the dim and the dark cloths 
Of night and light and the half-light;
I would spread the cloths under your feet:
But I, being poor, have only my dreams;
I have spread my dreams under your feet;
Tread softly because you tread on my dreams.

W. B. Yeats

جمعرات، 17 ستمبر، 2015

ڈسکورس یا کلامیہ

ڈسکورس کی اصطلاح ادب، تنقید نگاری، عمرانیات، علومِ ترجمہ، سیاسیات وغیرہ وغیرہ میں بکثرت استعمال کی جاتی ہے۔ اس شعبے کے ماہرین اور طلبہ اس سے اپنے اپنے انداز میں واقفیت رکھتے ہیں۔ ڈسکورس کو ترجمہ کریں تو بیانیہ، کلامیہ یا خطابت کا لفظ مناسب لگتا ہے جن میں سے کلامیہ مجھے اس لیے پسند ہے چونکہ یہ پہلے کسی اور معانی کے لیے مستعمل نہیں۔ بیانیہ آج کل ہمارے کالم نگار بڑی شد و مد سے نیریٹِوْ کے اردو متبادل کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ جبکہ خطابت کا لفظ فصاحت و بلاغت اور تقریر و خطبہ کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ تو قارئین ڈسکورس یا کلامیہ ہم زبان کے ایک درجہ کو کہتے ہیں۔

 زبان آواز سے شروع ہوتی ہے۔ آوازیں مل کر بامعنی ٹکڑے بناتی ہیں جنہیں صرفیے کہا جاتا ہے۔ اردو (اور عربی) گرامر میں صرف الفاظ کی ساخت سے متعلق علم کو کہا جاتا ہے۔ چنانچہ صرف و نحو (گرامر) کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ صرف کے بعد لفظ آتے ہیں۔ اور پھر جیسا کہ آپ پڑھ چکے ہیں نحو یعنی گرامر کا درجہ آتا ہے۔ اس کے بعد معنیات اور پھر سیاقی معنیات جسے انگریزی میں پریگمیٹکس کہا جاتا ہے، آتی ہے۔ جب بات فقرے کی حدود سے ماوراء ہو جاتی ہے تو پھر ہم زبان کو ڈسکورس یا کلامیہ کہہ دیتے ہیں۔

کلامیہ زبان و بیان کا ایک ایسا ٹکڑا ہے جسے ابلاغی طور پر مکمل سمجھا جاتا ہے۔ یعنی زبان کا ایک خود انحصاری ٹکڑا، جو اپنے اندر ساختی اور معنیاتی تانے بانے کے ساتھ بڑی مضبوطی سے بندھا ہوتا ہے۔ اس کی مثال مولوی صاحب کا وعظ، سیاستدان کی تقریر، کمنٹیٹر کا رواں تبصرہ، فیس بک کی ایک پوسٹ، کسی بلاگر کی ایک تحریر، مستنصر حسین تارڑ یا کسی بھی مصنف کی ایک کتاب یا ناول یا افسانہ، کسی شاعر کی نظم یا دیگر صنفِ شاعری، کسی کالم نگار کا کالم، ایک خبر یا خبری مضمون، ایک اداریہ، کسی استاد کا لیکچر، دو یا زیادہ لوگوں کا مکالمہ وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔ ان سب میں سے آپ کوئی بھی ابلاغی ٹکڑا اٹھا لیں وہ اپنے آپ میں بڑی حد تک مکمل ہو گا۔ اس میں آپ کو ساختی یعنی گرامر کی سطح پر ایسے روابط ملیں گے جو اسے باندھے رکھتے ہیں۔ مثلاً اسمائے ضمیر کا استعمال علی ایک لڑکا ہے۔ وہ کام کرتا ہے۔ وہ اسکول جاتا ہے۔۔۔۔ ان تین فقروں میں پہلا اور اس کے بعد ہر فقرہ آپس میں مربوط ہیں چونکہ اسمائے ضمیر پہلے فقرے کے اسم کی طرف اشارہ کناں ہیں۔ اسی طرح معنیاتی لحاظ سے بھی ان میں ربط موجود ہے۔ علی ایک لڑکا ہے۔ وہ سرخ رنگ کی ہے۔ اس رنگ کا ہیلمٹ ابو کل لے کر آئے تھے۔۔۔ میں ساختی لحاظ سے تو روابط شاید موجود ہوں، معنیاتی لحاظ سے تینوں جملے تین مختلف جگہوں سے اٹھائے گئے ہیں۔ چنانچہ ان کا کوئی ربط نہیں بن رہا اور ہر جملہ ہماری توقعات کو ٹھوکر مار کر ایک نیا مضمون متعارف کروا رہا ہے۔ ایسے بارہ پندرہ جملے پڑھنے کے بعد خاصا امکان ہے کہ آپ لکھنے والے کے سر پر بال (اگر کوئی باقی ہے بھی تو) نہ رہنے دیں۔ تو اب تک نتیجہ یہ ہے کہ ہماری زبان صرف فقرات تک ہی محدود نہیں ہوتی بلکہ فقروں سے اوپر ایک درجہ کلامیے کا بھی ہے جو ہماری زبان کو روزمرہ میں ابلاغ کے قابل بناتا ہے۔ ایک عام اہلِ زبان کو ان سارے درجات سے قطعاً کوئی سروکار نہیں چونکہ وہ زبان جانتا ہے اور یہ اس کے لیے کافی ہے۔ لیکن ماہرینِ لسانیات چونکہ ویلے ہوتے ہیں، اور کوئی کام نہیں ہوتا اس لیے پچھلی ایک ڈیڑھ صدی سے وہ بیٹھے یہی کام کر رہے ہیں یعنی لسانیات کی شاخیں متعارف کروانا اور ایسے درجات تعمیر کرتے رہنا۔ تو آپ اگر ابھی تک میرے ساتھ ہیں تو بسم اللہ۔ اگر اس سے پہلے ہی چھوڑ چکے ہیں تو پھر لیٹ اللہ حافظ قبول فرمائیں۔

تو میرے باقی ماندہ قاری/ئین ہم چلتے ہیں کلامیے کے ایک اور پہلو کی طرف جو تنقید اور انتقادی لسانیات کا موضوع ہے۔ اوپر ہم نے کلامیے کو نیوٹرل نقطہ نظر سے دیکھا ہے۔ لیکن کلامیہ (یا دوسرے لفظوں میں زبان) نیوٹرل نہیں ہوتی۔ زبان میں ہمیشہ سیاست ملوث ہوتی ہے، ہر لفظ کے پیچھے ایک ایجنڈا ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کلامیے کے ذریعے لوگ کسی کی حق تلفی کر سکتے ہیں، کسی کو پاکباز اور کسی کو شیطان پیش کر سکتے ہیں، کسی کے حقوق سلب کر سکتے ہیں، کسی کو سچا اور کسی کو جھوٹا ثابت کر سکتے ہیں، کسی کو برتر اور کسی کو ادنٰی ثابت کر سکتے ہیں۔ یہ سب کھلم کھُلا نہیں ہوتا۔ یہ سب زبان کی میکانیات کے ذریعے ڈھکے چھپے انداز میں کیا جاتا ہے۔ مثلاً صنفی برابر کی مثال ہی لے لیں۔ پدرسری معاشروں کی وجہ سے انگریزی اور اردو جیسی زبانوں میں مذکر غائب اسمِ ضمیر کا استعمال عام رہا ہے۔ انگریزی میں تو ہِی کی جگہ دے اور شی کا استعمال کافی عام ہو چکا ہے لیکن اردو جیسی زبان میں اب بھی ڈیفالٹ مذکر اسمِ ضمیر مستعمل ہے مثلاً میں ترجمہ کرتے وقت لکھتا ہوں "کوئی اور اس دستاویز کی تدوین کر رہا ہے" جبکہ میں اس کی جگہ 'رہی ہے' بھی برت سکتا ہوں جو کہ میں لاشعوری طور پر نہیں کرتا۔ اس بحث سے قطع نظر کہ اس سے صنفی برابری کو کتنا نقصان پہنچتا ہے، یہاں مقصد تنقیدی نقطہ نظر بارے بات کرنا تھا۔ کلامیے کا تجزیہ ایک پورا شعبۂ علم ہے جسے کلامیے کا انتقادی تجزیہ کہا جاتا ہے۔ صنفی مطالعات (خصوصاً تانیثیت)، نسلی رواداری کے حوالے سے (تارکینِ وطن کے حوالے سے مستعمل کلامیہ)، سیاسیات اور سیاسی بیانات، اخبارات اور ٹیلی وژن، اور دیگر میڈیا سے پیدا ہونے والے کلامیے کا انتقادی تجزیہ ایک کثیر الشعبہ جاتی میدان ہے۔ سیاسیات، لسانیات، ادب، اور عمرانیات وغیرہ میں اس پر بے تحاشا کام ہو چکا ہے اور ہو رہا ہے۔

انتقادی نقطہ نظر رکھنے والے کہتے ہیں کہ کلامیہ معاشرے کو سانچے میں ڈھالتا ہے۔ کلامیے کے ذریعے آپ عدم کو بھی موجود ثابت کر سکتے ہیں۔ اس کی آسان مثال وہی کہ اتنا جھوٹ بولو کہ سچ سمجھ لیا جائے۔ اسی طرح سماج بھی کلامیے کی تشکیل کرتا ہے۔ اس نقطہ نظر سے دیکھیں تو کلامیہ اوپر بیان کردہ تعریف کے مطابق صرف ایک ابلاغی عمل کا نام نہیں۔ بلکہ کلامیہ تو ایک لہر ہے جو کئی ابلاغی اعمال (تقریر، وعظ، گفتگو، مکالمہ، بلاگ، کالم، فیس بک اسٹیٹس) سے مل کر بنتی ہے۔ ہمارے سماج میں اور اس عالمی گاؤں میں کلامیے کی کئی لہریں پائی جاتی ہیں۔ ایک کلامیہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ہے، ایک کلامیہ جہاد اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا ہے، ایک کلامیہ مسلمان دہشت گرد نہیں ہوتے کا ہے، ایک کلامیہ پاکستان کے سارے سیاستدان کرپٹ ہیں کا ہے، ایک کلامیہ فوج سارے مسائل کے حل کا ہے، ایک کلامیہ اسلاموفوبیا کا ہے، ایک کلامیہ اخوت و بھائی چارہ اب جرمنی منتقل ہو چکا ہے کا ہے، ایک کلامیہ پناہ گزینوں کو پناہ دینے کے حق میں ہے اور ایک اس کی مخالفت کا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔الغرض یہ دنیا ابلاغ کا ایک سمندر ہے۔۔ابلاغ زبان کے ذریعے ہوتا ہے اور زبان کے ذریعے کلامیہ تشکیل دیا جاتا ہے۔۔۔اور پھر ایک رنگا نہیں رنگ برنگا، لہر در لہر کوئی پچاس فٹ اونچی لہر ہے کوئی بمشکل ایک فٹ اونچا اٹھ پاتی ہے۔۔۔کلامیے کی یہ رنگ برنگی اور متنوع لہریں بہتی رہتی ہیں، ادھر سے اُدھر چلتی رہتی ہیں۔ اور جب ہم زبان میں کوئی ابلاغی ٹکڑا لکھتے ہیں یا بولتے ہیں تو ہم کسی نہ کسی انداز میں ان میں سے ایک یا زیادہ کلامیاتی لہروں پر سواری کر رہے ہوتے ہیں۔ اب تک میں نے جسے ابلاغی ٹکڑے کہا اسے اب متن یا ٹیکسٹ کہوں تو آپ کی سمجھ میں آسانی سے آ جائے گا۔ متون ہوا میں تخلیق نہیں ہوتے، متون آپس میں ربط و توافق کے حامل ہوتے ہیں جسے انگریزی میں انٹرٹیکسچویلٹی کہا جاتا ہے۔ ہر متن میں دوسرے متون کا عکس ظاہراً یا باطناً موجود ہوتا ہے۔ ہر نیا متن، متون کے طویل سلسلے کی تازہ ترین مثال یا نمونہ ہوتا ہے۔ ہر متن اپنے آپ کو منوانے کے لیے، اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے، اپنی جواز دہی کے لیے دوسرے متون کا سہارا لیتا ہے۔ تو پھر جو کچھ ہم لکھتے ہیں یا بولتے ہیں وہ ایک ربط و توافق کے ایک ایسے لامحدود نیٹ ورک سے منسلک ہوتا ہے کہ ہم لاشعوری طور پر کبھی اس پر غور کرنے کی زحمت ہی نہیں فرماتے۔

تو اب تک بات یہاں پہنچی کہ کلامیہ اور معاشرہ ایک دوسرے کی تشکیل کرتے ہیں۔ اور ہمارے سماج میں زبان کی صورت میں کلامیے لہر در لہر ادھر سے اُدھر بہتے رہتے ہیں۔ اور ہم اور دیگر افراد یا گروہ (چاہے وہ غالب ہوں یا مغلوب، ظالم ہوں یا مظلوم) اپنی پسند کی کلامیاتی لہروں پر سوار ہو کر اپنی اپنی بھیرویں بجاتے پھرتے ہیں۔ میڈیا کلامیہ کی ترسیل کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ کلامیہ کے ذریعے لوگوں کے دل و دماغ بدل کر غلط کو صحیح اور صحیح کو غلط ثابت کیا جاتا ہے، اسٹیٹس کو برقرار رکھا جاتا ہے، برتری (انگریزی میں hegemony) تخلیق کی جاتی ہے۔ اور میڈیا اس سب میں بہت بڑا کھلاڑی ہے۔ کلامیہ ہی ہے نا جس نے دو ہفتے پہلے جرمنی کو انصارِ مدینہ کا جانشین ثابت کر دیا، اور اب بھی کلامیہ ہی ہے جو سرحدیں بند کرنے پر سب "نیوٹرل" موڈ میں دکھا رہا ہے۔

اس تحریر کے پسِ پُشت تین چار محرکات تھے، ان میں تازہ ترین آج ایک بلاگر کی پوسٹ کا اقتباس تھا۔ لکھاری نے مثال ناروے میں قتل کرنے والے شدت پسند عیسائی سائیکو کی دی ہوئی تھی اور ان کا متن اسلاموفوبیا کے کلامیے پر سواری کی کوشش کر رہا تھا یعنی جب بھی مسلمان ہو تو دہشت گرد ہوتا ہے، اور غیر مسلم ہو تو زیادہ سے زیادہ پاگل قرار دے دیا جاتا ہے جیسے ناروے کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو ان کی اس کھچڑی سی تحریر سے مجھے یہ تحریر لکھنے کا خیال آ گیا جو میں اب لکھ کر ختم کر رہا ہوں۔ اور یہ ختم ہو گئی۔ آپ کے پلے کچھ نہ پڑا ہو تو اس میں میرا بھلا کیا قصور ہے؟

منگل، 18 اگست، 2015

پہلی نظر

پہلی نظر، پہلی ملاقات اور پہلا لمس کبھی نہیں بھولتے۔ پہلی نظر کے بعد باقی رہ جانے والی تشنگی، پہلی ملاقات کے بعد بھی رہ جانے والے ان دیکھے فاصلے اور پہلے لمس میں چھپی اجنبیت صرف ایک مرتبہ کا احساس ہوتے ہیں۔ لیکن یہ احساس کبھی نہیں جاتا۔ پھر چاہے تشنگی مٹانے کو جام بھر بھر کر ملیں، فاصلے ایسے مٹیں کہ قربتوں کو رشک آنے لگے، اجنبیت ایسے دور ہو کہ جنم جنم کا ساتھ لگنے لگے، لیکن وہ پہلی نظر، پہلی ملاقات اور پہلا لمس کبھی نہیں بھولتے۔
میں جب کسی شہر سے، کسی شخص سے، یا کسی راستے سے پہلی بار ملتا ہوں تو میری کوشش ہوتی ہے کہ بس کترا کر گُزر جاؤں۔ میرا انداز ایسا ہوتا ہے بس یہ وقت گزر جائے اور اللہ کرے دوبارہ ان سے آمنا سامنا نہ ہو۔ اگر قسمت میں لکھا ہو اور ساتھ طویل ہو جائے تو پھر دھیرے دھیرے میں ان پر اور یہ مجھ پر کھُلتے ہیں۔

کسی شہر میں پہلی بار داخل ہوں تو میرا انداز بتیاں دیکھنے شہر آنے والے پینڈو جیسا ہوتا ہے۔ ہر اجنبی چیز، عمارت، نشانِ راہ کو ایسے دیکھتا ہوں جیسے ایسی کوئی چیز پہلے کبھی نہ دیکھی ہو۔ ہر چیز کوری کنواری لگتی ہے۔ جیسے میرے ہی انتظار میں پڑی ہو کہ میں آؤں، دیکھوں اور اس دیکھنے سے اُسے بھی اُس کے ہونے کا احساس دلاؤں۔ کسی شہر سے پہلی ملاقات میں موجود اجنبیت، سرد مہری، ہلکا سا کٹھور پن اور پردیسی ہونے کا احساس حواسوں پر بہت مختصر عرصے کے لیے وارد ہوتا ہے، لیکن یادداشت میں برسوں تروتازہ رہتا ہے جیسے کل ہی کی بات ہو۔ بڑی طویل پیاس کے بعد ملنے والے ٹھنڈے پانی کا احساس بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ پہلے گھونٹ کی اجنبیت اور ذائقہ بس ایک مِلی سیکنڈ کی گیم ہوتی ہے، لیکن وہ احساس یاد کی صورت میں ہمیشہ کے لیے دماغ میں کہیں محفوظ ہو جاتا ہے۔

گجرات شہر میں میرا پہلا دن جب شروع ہوا تو دن ڈھل چکا تھا۔ اس لیے پہلا احساس اجنبی اور ملگجا سا ہے۔ اس کے بعد مسلسل بارش، نمی اور ہوا کی ٹھنڈک میرے اندر آج بھی کہیں بسی ہوئی ہے، اور آج اتنی بارشوں کے بعد بھی وہ پہلی بارش ان سب سے جدا ہے۔ ملازمت کے انٹرویو سے پہلے کا ایک انجانا سا خوف بھی اس پہلی ملاقات کا ایک اٹل حصہ ہے۔ پھر یونیورسٹی کو جانے والا راستہ اور اس پر سفر کرتے ہوئے مسلسل لگنے والے جھٹکے، ہر جھٹکے میں موجود ایک تیکھا کٹھور پن آج بھی یادداشت کا حصہ ہے۔ آج لگ بھگ ایک برس بعد ان گڑھوں سے اتنی مانوسیت ہو چکی ہے کہ چلتے چلتے کترا کر گزر جاتا ہوں۔ ان کا شکار بھی بن جاؤں تو روٹین کی بات ہے۔ لیکن وہ پہلا سفر جو میں نے اس راستے پر کیا، یونیورسٹی اور اس کے اندر اور پھر انٹرویو کے بعد گیٹ تک پیدل مارچ، ستمبر کی بے موسمی لگاتار برستی بارش میں چلتے چلتے  اردگرد کے منظر کو جب میں نے پہلی بار اپنی یادداشت میں قید کیا، بارش کا پانی کس طرف جا رہا ہے، گرین بیلٹ کہاں ختم ہو رہی ہے، کہیں ایک برگد کا درخت ہے اور اس کے نیچے مزار ہے، کہیں ایک کھیل کا میدان نظر آ رہا ہے اور وہ سامنے ہاں وہی سامنے والا گیٹ ہے جہاں سے میں اندر داخل ہوا تھا۔ اور اس گیٹ پر تعینات سیکیورٹی گارڈ، ان کی نیلی وردیاں اور ان سے دس فٹ کی دوری سے ہی آتا ہوا سگنل کہ "پرے ہٹ کے"۔ اس پہلے دن کی ہر بات، ہر منظر جو بہت مختصر مدت کے لیے میرے اندر جی کر اب کسی حنوط شدہ ممی کی طرح ذہن کے کسی تہہ خانے میں محفوظ ہے، آج اتنی مانوسیت ہونے کے باوجود میں اس اجنبیت بھرے احساس کو بہت مِس کرتا ہوں۔

گجرات بہت چھوٹا سا شہر ہے۔ ان گزرے مہینوں میں بہت حد تک اس شہر کا مزاج آشنا ہو چکا ہوں۔ راستوں کی اونچ نیچ میرے دماغی سکیما (schema) میں فِٹ ہو چکی ہے۔ اندرونِ شہر کی چھوٹی گلیاں، کھانا کھانے کے چند ایک مخصوص سپاٹ، چند بڑی سڑکیں، ایک لاری اڈا جہاں سے ہر ہفتے دو بار آنا جانا ہوتا ہے، کچہری چوک، جیل چوک، لاہور اور اسلام آباد جانے والی جی ٹی روڈ سب کچھ ایک روٹین بن چکا ہے۔ اور آج پہلی بار لگ رہا ہے کہ اس روٹین کے دن گِنے جا چکے ہیں۔ بہت جلد یہ روٹین بھی استعمال شدہ کپڑوں کی طرح کسی نچلے خانے میں رکھ دی جائے گی۔

میں لوگوں سے، شہروں سے اور راستوں سے اتنی جلدی بے تکلف نہیں ہوتا۔ کوشش ہوتی ہے کہ ان سے بس کترا کر، دور دور رہ کر، بس کام کی بات کر کے چلا جاؤں، دور ہو جاؤں۔ اجنبیت برقرار رہے، دوری قائم رہے، وہ جو عدم مانوسیت کی وجہ سے ایک سرد مہری ہوتی ہے وہ ختم نہ ہونے پائے۔ اس سے مجھے تحفظ کا احساس ہوتا ہے، جیسے کسی جنگجو کو آہنی لباس کے پیچھے ایک تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ میں کتراتا ہوں، بچتا ہوں، اس سب سے چونکہ مجھے پتا ہے کہ اگر قربت بڑھی، اجنبیت کی خندق کو مانوسیت کی مٹی نے پاٹ دیا تو احساسات پیدا ہوں گے، سوچنے کے مواقع ملیں گے، اجنبی خوامخواہ اندر آن گھُسے گا۔ اور جب کوئی اندر فروکش ہو جائے تو اسے دیس نکالا دینا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ وہ نکلنے پر آمادہ ہو بھی تو اس عمل میں ہونے والی تکلیف بہت شدید ہوتی ہے جسے برداشت کرنا بڑے حوصلے کا کام ہے۔

اسی لیے میں اجنبیوں سے بے تکلف نہیں ہوتا، چاہے ہو لوگ ہوں،  شہر ہوں یا راستے۔ مجھے پتا ہوتا ہے کہ ایک نہ ایک دن میرے مقدر کا چکر مجھے کہیں اور لے جائے گا۔ یہ سب وہیں رہ جائیں گے، اپنی اپنی جگہ پر اور میں کہیں اور دربدر ہو جاؤں گا، لیکن میرے سامان میں اضافہ ہو جائے گا۔ ایک خلاء جو کبھی پورا نہیں ہو گا۔ ایک سلو پوائزن جیسا میٹھا احساس، ایک کسک، ایک پھانس جو ہمیشہ کے لیے میرے دل میں چبھ جائے گی۔ میرے سامان میں ایک گٹھڑی ان یادوں کی شامل ہو جائے گی جو میں نے اس شخص، اس شہر اور اس راستے کی معیت میں گزارے۔ اور میرے وجود کا ایک ٹکڑا وہیں کہیں رہ جائے گا۔ میری روح کا ایک حصہ قیامت تک اس کے طواف کے لیے وقف ہو جائے گا۔ میں کچھ اور کم ہو جاؤں گا، اور میری یادیں کچھ اور وزنی ہو جائیں گی۔ اسی لیے میں اجنبیوں سے بے تکلف نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بدھ، 29 جولائی، 2015

ہنرمند

ابو جی کے پاس کوئی ہنر نہیں تھا۔ مڈل بھی مکمل نہیں کیا تھا۔ سب سے چھوٹے تھے۔ والدین ضلع ہوشیار پور سے ہجرت کر کے آئے تھے، انہوں نے بھی تعلیم پر توجہ نہ دی۔ ساری عمر مختلف کام کیے۔ کبھی ٹیکسٹائل مل میں کام کیا، کبھی رکشہ چلایا، کبھی پولٹری فارم ، کبھی کپڑے کی دوکان، کبھی کریانے کی دوکان، کبھی گول گپے، پلاسٹک کے برتن ریڑھی پر اور جمعہ/اتوار بازاروں میں، ناشتے کی ریڑھی، لوڈر رکشہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اچھے دنوں میں جب رکشے کا کام ابھی مندا نہیں پڑا تھا، اور پھر بعد میں جب ناشتے سے اچھے پیسے بن جاتے تھے تو ابوجی نے دو مرتبہ مکان کی توسیع کروائی۔ غریب کے مکان کی توسیع یہی ہوتی ہے کہ پہلے ایک منزل ڈلوا لی، پھر پلستر کروا لیا، پھر دوسری منزل ڈلوا لی اور پھر ہمت ہوئی تو تیسری منزل۔ ابو جی نے اس طرح کر کے تین چار بار مکان میں ترمیم و اضافہ کیا تاکہ بڑھتے ہوئے خاندان کے رہن سہن میں آسانی پیدا ہوتی۔

ہر بار ابو جی کو مستری ڈھونڈنا پڑتا تھا۔ پہلے پہلے جب میں چھوٹا تھا تو یہ مسئلہ بہت زیادہ علم میں نہیں تھا۔ ماموں کے گاؤں سے مستری اور مزدور آ گئے اور اوپر والی منزل تعمیر ہو گئی، سارے مکان کو پلستر بھی ہو گیا۔ اس کے بعد دو تین بار جب بھی ضرورت پڑی تو ہر مرتبہ مستری کی تلاش ایک الگ جدوجہد رہی۔ خواہش ہوتی تھی کہ فلک شیر یعنی پرانا مستری ہی کام کر جائے، لیکن وہ لاہور شفٹ کر گیا، پھر واپس آیا تو اس کے پاس وقت نہیں ہوتا تھا۔ بڑی مشکل سے وقت ملتا، جلدی جلدی کام کر کے چلا جاتا۔ 

آخر ہر مرتبہ فلک شیر ہی کیوں؟ مسئلہ اس کا یا ہمارا نہیں، اس کے ہنر کا تھا۔ وہ بندہ سمجھدار تھا، ہاتھ میں صفائی تھی اور لوگ اس کے آگے پیچھے قطار میں کھڑے نہ بھی رہتے ہوں کم از کم آئندہ کئی مہینوں کے لیے وہ بُک ہوا کرتا تھا۔ ہم ہر بار فلک شیر کے ہنر سے مجبور ہو کر اس کے پاس جاتے تھے۔ ورنہ مستری تو میرے محلے میں کئی تھے، میرے محلے کے باہر اڈے پر ہر روز سو ڈیڑھ سو مستری مزدور کھڑا ہوتا تھا اور آج بھی ہوتا ہے۔ لیکن ان سے کام کروانے کو دل نہیں مانتا تھا۔

میں نے اپنی مختصر سی زندگی میں سیکھا کہ پیشہ ورانہ اعتماد قائم کرنا ایک بہت ہی اہم خصوصیت ہے۔ ایک آپ کا کلائنٹ/کسٹمر/گاہک آپ پر کام چھوڑ کر مطمئن ہے تو سمجھ لیں کہ آپ کبھی بھوکے نہیں مریں گے۔ اس کے لیے میں نے مستری فلک شیر سے یہ سیکھا کہ اتنے ہنرمند ہو جاؤ کہ دوسروں کی ضرورت بن جاؤ۔ لوگ دروازے پر آ کر کام کی درخواست کریں۔ 

مجھے نہیں پتا اس کو اور پُراثر انداز میں کیسے لکھا جا سکتا ہے۔ لیکن اپنے طلبہ کو ہمیشہ یہی مشورہ دیتا ہوں  کہ ہنرمند بن جائیں۔ چاہے موٹرمکینک ہوں، انجینئر ہوں، پی ایچ ڈی ہوں، اگر آپ ہنرمند نہیں ہیں تو آپ میں اور آپ کے گلی محلے کے باہر راج مستریوں کے اڈے پر بیٹھنے والے ان مستریوں اور مزدوروں میں کوئی فرق نہیں۔ وہ روز سامان اٹھا کر اڈے پر آتے ہیں۔ کبھی کام ملتا ہے اور کبھی نہیں۔ مل جائے تو ایک دو دیہاڑیوں کا ہوتا ہے۔ نہ ملے تو سارا دن وہیں بیٹھے بیٹھے بارہ ٹہنی کھیل کر گھر کو لوٹ جاتے ہیں۔ 

میں نے اپنی مختصر سی زندگی میں یہ سیکھا کہ میں اپنے کلائنٹ کو جو کچھ کر کے دوں اس پر اُسے اعتماد ہو۔ جیسے مستری فلک شیر عین نوے کے زاویے پر دیوار اٹھاتا ہے، پلستر میں کہیں اونچ نیچ نہیں آنے دیتا اور آج بھی اس کا لگایا ہوا فرش کہیں سے اکھڑا نہیں۔ ویسے ہی میں ترجمہ کروں تو میرے کلائنٹ کو بہت کم ضرورت پڑتی ہے کہ اُس پر نظر ثانی یا تصحیح کروائے۔ گزرے برسوں میں مَیں نے بہت کم معاوضے پر بھی کام کیا۔ رات کو اُٹھ اُٹھ کر بھی کام کیا۔ لیکن اب میں تھوڑا کام کرتا ہوں، تھوڑا لیکن سُتھرا۔ میں ترجمہ کرتے وقت پاکستان کے اندر کا کام نہیں پکڑتا، مجھے پتا ہے یہاں لوگ اچھی ادائیگی نہیں کرتے۔ غیر ملکی جب کام کرواتے ہیں تو پیسے اچھے دیتے ہیں۔ وہاں اور یہاں کے کام میں ایک بمقابلہ چار کا فرق سمجھ لیں۔ اگر یہاں روپیہ ملے تو وہ چار روپیہ بھی دے دیتے ہیں۔ تو مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ میں اب  معاوضے میں بہت کم رعایت دیتا ہوں، لیکن اس کے بدلے میرا کام معیاری ہوتا ہے۔ لیکن یہ معیار اور ساکھ بنانے، اپنے آپ کو زیادہ معاوضے کے قابل بنانے میں مجھے ایک دو سال نہیں آٹھ نو سال لگ گئے ۔

دوسری جانب میں تدریس کے حوالے سے بھی اسی بات پر عمل پیرا ہوں کہ اپنے آپ کو اس مقام پر لے جاؤں جہاں میرے جیسے کم ہی متبادل دستیاب ہوں ۔ اگر ایسا ہو سکا تو ہی میں ایک اچھی ملازمت یا کام کی امید کر سکتا ہوں۔ اس کے لیے آج سے دس برس پہلے پی ایچ ڈی کرنے کا عزم کیا تھا۔ اور وہ عزم آج بھی تازہ ہے۔ انشاءاللہ اس عزم کو مکمل بھی کرنا ہے۔ لیکن پی ایچ ڈی منزل نہیں، صرف نشانِ منزل ہو گی۔ مختصر یہ کہ میری ذات پر سے "زیرِتعمیر" کا بورڈ کبھی نہیں اترے گا۔ میری دعاؤں میں مستقلاً شامل دعا رَبِّ زِدْنِي عِلْما بھی ہے۔ اور جیسے جیسے میری عمرِ عزیز کا اختتام قریب آتا جاتا ہے، مجھے یہ احساس زیادہ شدت سے ہوتا جاتا ہے کہ مجھے کچھ نہیں معلوم۔ علم دراصل اپنی جہالت کا ادراک کرنے کا نام ہے، اور وہ ادراک دھیرے دھیرے ہوتا جا رہا ہے۔ اور یہ احساس بھی کہ یہ جو کچھ دیا ہے، یہ سب اُس کی کرم نوازی ہے۔ کہ میرے بس میں تو کبھی  کچھ بھی نہیں تھا، آج میں جس جگہ بھی کھڑا ہوں، یہ سب اُس کی رحمت ہے۔

تو آپ بھی اگر ابھی یونیورسٹی سے چوندے چوندے ماسٹرز کی ڈگری لے کر نکلے ہیں، یاکسی شعبے میں داخل ہو رہے ہیں، دنیا کو فتح کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔۔۔۔ یکدم چھلانگ نہ لگائیں۔ اللہ کی رحمت پر نگاہ رکھیں اور یادر کھیں کہ کامیابی ایک دو دن یا مہینے نہیں برسوں کا کھیل ہے۔ دس برس کا ہدف رکھیں اور محنت کریں۔ اپنے آپ کو اس قابل کر لیں کہ دوسرے آپ کے دروازے  پر آپ سے کام کروانے کی درخواست لے کر آئیں۔ دوسروں کی ضرورت بن جائیں۔ یاد رکھیں کامیابی کا اگر کوئی شارٹ کٹ ہوتا بھی ہے تو وہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ سب پیدائشی جینئس نہیں ہوتے۔ ہاں چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر محنت کرتے چلے جانا سب کے اختیار میں ہوتا ہے۔ چنانچہ محنت کریں، کچھوا چال ہی سے کریں لیکن محنت کرتے چلے جائیں، اور ایک ہی سمت میں آگے بڑھتے چلے جائیں۔ ہنرمند  ہو جائیں تو آپ کے دلدر دور ہو جائیں گے۔ Jack of all trades, master of none کے مقولے کو ذہن میں رکھیں۔ ایک شعبہ ایسا ضرور ہونا چاہیئے جس کے ماسٹر آپ ہوں۔ باقی شوق تو کئی پالے جا سکتے ہیں، لیکن روزی روٹی کے لیے ایک یا دو شعبے ایسے ہونے لازمی ہیں جن میں آپ کی مہارت پر آنکھ بند کر کے اعتبار کیا جا سکے۔ اللہ سائیں آپ پر اپنی رحمت رکھے۔

ہفتہ، 25 جولائی، 2015

میں اور ترجمہ

آج سے کوئی آٹھ  برس قبل میرے گھر میں ایک بابا جی تشریف لائے۔ ان سے پہلے زندگی میں کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ اردو محفل کے توسط سے دعا سلام تھی اور بس۔ اتنی واجبی سی دعا سلام کے باوجود وہ کمال شفقت سے نہ صرف میرے غریب خانے پر تشریف لائے بلکہ انہوں نے کچھ ایسے گراں قدر مشوروں سے بھی نوازا جنہوں نے آج کے شاکر کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ اللہ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ عطاء فرمائے۔ محمد اصغر صاحب جو اردو محفل پر تلمیذ  کی عرفیت سے جانے جاتے تھے، مورخہ 18 جولائی 2015 بروز عید الفطر  اس دنیا سے پردہ فرما گئے۔ جس نے بھی سُنا سناٹے میں رہ گیا۔ اللہ مغفرت فرمائے۔ وہ چلے گئے ، لیکن انہوں نے مجھ جیسے کئی نوجوانوں  کو گائیڈ کیا۔ انشاءاللہ اس صدقہ جاریہ کا اجر انہیں ملتا رہے گا۔

تو جناب  اصغر صاحب نے پہلی مرتبہ مجھے آگاہ کیا کہ آنلائن ترجمہ کر کے پیسے کمائے جا سکتے ہیں، اور اچھے خاصے پیسے کمائے جا سکتے ہیں۔ 2007 میں ابھی میں ایک گواچی گاں جیسی چیز تھا۔ بی کام کے بعد ایم بی اے کا داخلہ بھیج کر واپس منگوا چکا تھا، اور ایک عدد پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ اِن انگلش لنگوئسٹکس فرما رہا تھا۔  مالی حالت پتلی تو ہمیشہ سے تھی، ٹیوشن  اور چھوٹے موٹے کاموں پر گزارا تھا۔ اصغر صاحب نے کھُل کر کہا کہ آپ اپنے والدین کے ساتھ مل کر بوجھ اٹھائیں اور اس کے لیے فری لانس ترجمہ ایک اچھا پیشہ ہے۔ آپ فلاں فلاں ویب سائٹ پر تشریف لے جائیں، اپنی پروفائل اور سی وی تیار کر کے ٹرانسلیشن ایجنسیوں کو تعارفی ای میل کے ساتھ بھیجا کریں۔ تو یہ وہ برس تھا جب میں نے یہ کام شروع کیا۔ اور آج آٹھ برس بعد جب میں اپنے آپ کو مترجم بتاتا ہوں تو اس وقت سے شروع کرتا ہوں جب میں نے اپنے آپ کو مترجم کہنا شروع کیا تھا۔  پہلی پیمنٹ دو یا ایک برس بعد ملی تھی اٹھانوے ڈالر جس سے ایک  پی فور کمپیوٹر لیا۔

فاسٹ فاورڈ ٹو 2015، آج فری لانس ترجمے میں آٹھ برس ہو گئے۔  سافٹویئر، آئی ٹی اور خبروں کا ترجمہ میرے بائیں ہاتھ  کا کھیل ہے۔ ترجمے کی رفتار ایک زمانے میں ایک عام مترجم سے  کوئی دوگنی تو ہو گی۔ اب بھی اچھے دنوں  کے کچھ اثرات باقی ہوں شاید۔ لیکن اب کام کبھی کبھی ملتا ہے، وہ روزانہ ہزار پندرہ سو الفاظ ترجمہ کرنے والا زمانہ گزر گیا۔ لیکن آج بھی میں اگر اپنے آپ کو کچھ سمجھتا ہوں تو لسانیات +ترجمہ جیسی کسی چیز کا طالبعلم سمجھتا ہوں۔ لسانیات میرا شوق ہے اور ترجمہ میر اپیشہ۔ لسانیات اور ترجمہ کا گہرا تعلق ہے۔ نقصِ امن کے خطرے سے میں علومِ ترجمہ کو لسانیات کی ذیلی شاخ قرار نہیں دے رہا چونکہ اب پاکستان میں بھی علومِ ترجمہ کے الگ سے شعبے قائم ہو رہے ہیں۔ 

تو جناب میں مترجم ہوں، ترجمہ میرا پیشہ ہے، میری روزی روٹی کا ذریعہ ہے۔ میں پچھلے آٹھ برس میں خدا جھوٹ نہ بلوائے تو کوئی دس لاکھ الفاظ ترجمہ کر چکا ہوں جن میں سافٹویئر لوکلائزیشن، ویب سائٹ ترجمہ، خبریں اور مضامین، قوانین اور ایکٹ وغیرہ، خطوط، سرٹیفکیٹس اور جرنل آرٹیکلز وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔ اس بلاگ کو پڑھنے والے اور انٹرنیٹ پر مجھ سے شناسائی رکھنے والے احباب "جوانی" سے "بڑھاپے" کے اس سفر کو جانتے ہیں۔ آج سے چھ برس پہلے جو بندہ اردو وکی پیڈیا کی  جناتی اصطلاحات کے بارے میں لکھتا رہا، آج وہ کچھ اسی طرح کا کام کر کے اپنی روزی روٹی چلاتا ہے۔

فرانس کا ایک سماجی مفکر مِشل فُوکُو (یا شاید کوئی اور سڑیل بابا)کہتا ہے کہ میں کُتا نہیں جو ہر مرتبہ ایک ہی انداز میں بھونکے۔ بابے کے کہنے کا مطلب ہے  کہ انسان ارتقاء پذیر چیز ہے۔ چنانچہ پچھلے آٹھ برس میں آنے والی بہت سی تبدیلیوں میں سے ایک تبدیلی بطور مترجم میری سوچ میں بھی آئی۔ مَیں نے ترجمہ کر کے ترجمہ کرنا سیکھا ہے۔ اس کے لیے خاور کی ویب سائٹ پر میں نے جو ترجمہ کر کے سیکھا، وہ ہمیشہ بطور مترجم میری بنیاد رہے گا۔ میں نے اپنے کلائنٹس سے ، مارکیٹ سے، اور ٹھوکریں کھا کر سیکھا کہ ترجمہ میں کیا کرنا چاہیئے۔ اور پاکستان میں ترجمہ کا کیا مستقبل ہے۔ اتنی لمبی تمہید کے بعد بھی اگر آپ میرے ساتھ ہیں تو آپ کی مہربانی ہے چونکہ یہ  نشاندہی کرتا ہے کہ آپ کے پاس آج ضائع کرنے کے لیے کافی وقت ہے۔ چنانچہ اب ہم کام کی بات شروع کرتے ہیں۔

پاکستان میں ترجمہ کا مستقبل کیا ہے؟ سچی بات بتاؤں تو پاکستان میں ترجمہ کا مستقبل آج سے چند برس پہلے(اور آج بھی)  ایک ٹکے کا بھی نہیں تھا۔ سارا کام بھارت کی ایجنسیاں لے جاتیں (آج بھی ایسا ہی ہے)۔ یہاں میری اکثر مثالیں سافٹویئر لوکلائزیشن کے حوالے سے ہوں گی ، چونکہ میرا بنیادی فیلڈ یہی  ہے۔ 2003  کے اطراف میں ایکس پی کا ترجمہ کرلپ لاہور نے کیاا ور اس کے بعد سارا کام غیر ملکی ایجنسیوں کے پاس چلا گیا۔ مائیکروسافٹ اپنے ہر سافٹویئر (آفس2007 سے اب تک ہر ورژن، ونڈوز وسٹا سے آج تک ہر ونڈوز) کا ترجمہ اردو میں کرواتا رہا ہے۔ اور یہ کام پاکستان کے فری لانسرز نے تو شاید کیا ہو، کوئی ادارہ اس میں کم ہی ملوث رہا ہے۔ (اب مائیکروسافٹ پاکستانی پنجابی میں بھی سافٹویئر کا ترجمہ کرواتا ہے۔) انفرادی سطح پر تو لوگ کچھ کما سکتے تھے، لیکن ادارہ جاتی پشت پناہی نہ ہونے، سرکاری سطح پر ترجمہ کی پالیسی نہ ہونے کے باعث پاکستان میں ترجمے کی صنعت پنپ ہی نہیں سکی۔ آج  تک اس ملک میں شاید دو ہندسوں میں بھی ایسے ادارے نہ ہوں جو پیشہ ورانہ سطح پر ترجمہ کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ میں کورٹ کچہری کے احاطے میں بیٹھے مترجمین کی بات نہیں کر رہا ، ایسا مترجم تومیں بھی ہوں۔ لیکن آج 2015 میں، مجھے کچھ امید ہے کہ شاید اگلے چند برسوں میں پاکستان میں ادارہ جاتی سطح پر ترجمہ کی سپورٹ شروع ہو جائے، چونکہ پاکستان کی کم از کم تین جامعات میرے علم کے مطابق علومِ ترجمہ کے چار سالہ بیچلرز پروگرام شروع کر چکی /کرنے جا رہی ہیں۔ اور یہ سب لوگ مترجم ہوں گے، سند یافتہ مترجم۔ اب سادہ  ایم اے اردو یا ایم اے انگریزی کی دال نہیں گلے گی۔ علومِ ترجمہ کے فارغ التحصیل یا کم از کم قانون، طب، مالیات وغیرہ وغیرہ کے مخصوص شعبوں میں ترجمہ کی معتبر اسناد/ڈپلومہ رکھنے والے امیدوار آئندہ ایک دو برس میں سامنے آنے لگیں گے۔ جس سے ترجمہ کا معیار بھی بہتر ہو گا اور ادارے یعنی ٹرانسلیشن ایجنسیاں بھی وجود میں آئیں گی۔ سرکاری سطح پر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے احکامات کے موجب بہت سی بہتریوں کی توقع ہے۔ کم از کم ، کچھ نہ کچھ دستاویزات ترجمہ ہونے لگیں گی۔ اور امید ہے کہ اردو کو سرکاری سطح پر انگریزی کے ہم پلہ کچھ نہ کچھ رتبہ ملے گا۔

یہ تو بطور ترجمہ صورتحال پر کچھ رائے، امیدیں اور تجزیہ تھا۔ اب ذرا صارفین یعنی جن کے لیے ترجمہ پیدا کیا جاتا ہے، ان کے حوالے سے کچھ حالات پر نظر ڈالی جائے۔ سرکاری سطح پر اردو کو اس کا جائز مقام دینے سے ترجمہ کی روایت کی داغ بیل پڑے گی اور اس سے عام عوام کو بھی فائدہ ہو گا کہ انہیں قومی زبان میں دستاویزات کا مطالعہ نصیب ہو گا۔ نجی شعبے کو بھی ترجمے کی کچھ نہ کچھ تحریک ملے گی۔ اگر سافٹویئر لوکلائزیشن کے حوالے سے بات کی جائے تو بہت سے ادارے پہلے ہی اپنے سافٹویئر اردو، سندھی، پشتو وغیرہ میں پیش کر رہے ہیں۔ مارکیٹ سے اینڈرائیڈ کا کوئی موبائل خرید لیں اس میں کم از کم گرافیکل یوزر انٹرفیس (جی یو آئی یا صارف مواجہ) اردو میں کرنے کا آپشن ضرور ملے گا۔ سام سنگ، لینووو، اوپو، ہاوے/ہواوے وغیرہ وغیرہ اور مائیکروسافٹ سب اردو زبان میں سافٹویئر دکھانے کی سہولت دیتے ہیں۔ اور تو اور ٹوئٹر، فیس بُک اور گوگل کی آنلائن ویب سائٹس/ایپس بھی اردو میں دستیاب ہیں۔ لیکن کیا صارفین اس کے لیے تیار ہیں؟

ایک لفظی جواب دوں تو "نہیں"۔ پاکستانی صارفین ایک ترجمہ شدہ صارف مواجہ استعمال کرنے کے لیے سو میں  سے زیادہ سے زیادہ دس فیصد تیار ہیں۔ اس کی وجہ/وجوہات کیا ہیں؟

اول تو یہ کہ ترجمہ غیر معیاری ہے۔ مختلف اوقات میں مختلف اداروں، ٹرانسلیشن ایجنسیوں اور فری لانسر مترجمین نے ترجمہ اور اصطلاح سازی کے ساتھ کھلواڑ کی جس سے غیر معیاری، کھچڑی ترجمہ وجود میں آیا۔ بطورِ خاص اصطلاحات سازی کا کوئی معیار مقرر نہیں، اور نجی سطح پر اردو وکی پیڈیا جیسے اداروں کو ایسی کسی بھی کوشش میں منہ کی کھانی پڑی۔ ان کی پیش کردہ اصطلاحات بری طرح مسترد ہوئیں۔ میرے دو تین مضامین اس سلسلے میں یہاں موجود ہیں۔ غیر معیاری ترجمے کی ایک اور وجہ اللہ واسطے کے تراجم ہیں۔ گوگل جی میل اب آپ کو اردو میں ملے گی۔ لیکن اس کا موازنہ آپ فیس بُک کے اردو مواجہ سے کریں۔ آپ کو فرق معلوم ہو جائے گا۔ فیس بُک اور ٹوئٹر اللہ واسطے ترجمہ کرواتے ہیں۔ جہاں مترجم کو بیج وغیرہ دے کر ٹرخا دیا جاتا ہے۔ گوگل سخت معیارات کے تحت پیشہ ور ایجنسیوں اور مترجمین سے ترجمہ کرواتا ہے ا س لیے کچھ نہ کچھ بہتری کی امید ہوتی ہے۔

ترجمہ کے لیے تیار نہ ہونے کی دوسری وجہ صارفین میں پائی جانے والی نامانوسیت ہے۔ جو چیز مانوس نہیں، وہ مضحکہ خیز ہوتی ہے۔ ہم اس کی بھد اڑاتے ہیں، ہنسی ٹھٹھول کرتے ہیں۔ ترجمہ کو جب کوئی پہلی مرتبہ دیکھتا ہے اور لنک=ربط،  فارمیٹنگ = وضع کاری، کنفگریشن = تشکیل جیسے تراجم پڑھتا ہے تو پہلے حیران ہوتا  ہے پھر ہنستا ہے اور آخر میں دوسروں کو دکھانے کے لیے ایک طنزیہ پوسٹ کے ساتھ شیئر کر دیتا ہے۔ صارف کے ورلڈ ویو (world view)  یعنی دنیا کو سمجھنے کی طرزِ فکر میں یہ بات ہی فٹ نہیں بیٹھتی کہ سافٹویئر کا ترجمہ بھی ہو سکتا ہے، اور انگریزی کے علاوہ بھی ونڈوز کو کسی اور زبان میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کی وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اردو کو سرکاری زبان کے طور پر شاید کبھی ہمارے بابوں کو بھی دیکھنا نصیب نہیں ہوئی، ہم تو آج قیامِ پاکستان کی ستر سال بعد والی نسل ہیں جس کے سر پر انگریزی ہی انگریزی سوار ہے (کمپیوٹر کے علاوہ بھی ہر جگہ)۔ ایک اور وجہ یہ کہ صارفین کو علم ہی نہیں کہ سافٹویئر جیسی کسی چیز کے تراجم بھی دستیاب ہیں۔ اس لاعلمی کی وجہ سے وہ اس کے استعمال سے محروم رہ جاتے ہیں۔

اور آخر میں تھوڑی سی بات اصطلاح سازی کے حوالے سے کرنا چاہوں گا۔ دو انتہائیں ہیں۔ یا تو آپ جناتی اصطلاحات تخلیق کریں جیسے اردو وکی پیڈیا نے کیا، یا پھر آپ دسویں تک کے اردو سائنسی نصاب کے ساتھ سرکار نے کچھ برس پہلے کیا وہ کریں یعنی جو کچھ بھی "سائنسی" یا "اصطلاح" سا لگے اسے نقلی حرفی کر کے لکھ دیں۔ حروف اور گرامر اردو کی ہو لیکن لکھی انگریزی ہو۔ سادہ لفظوں میں حروفِ جار کے علاوہ ساری انگریزی۔ "ای میل سینڈ کریں"، "ای میل بھیجیں"، "برقی چٹھی ارسال کریں" جیسے تراجم سے میری مختصر سی پیشہ ورانہ زندگی میں کئی مرتبہ واسطہ پڑا ہے۔ پہلا ترجمہ کسی اردو سے نابلد، غیر پیشہ ور اور بدنیت مترجم کا ہے جس کا مطلب صرف پیسے کمانا ہے۔ دوسرا ترجمہ کسی میرے جیسے آدھے تیتر آدھے بٹیر کا ہے جو انگریزی بھی رکھنا چاہتا ہے اور اردو بھی چھوڑنا نہیں چاہتا۔ اور تیسرا ترجمہ اردو میں  گردن گردن دھنسے کسی اردو دان کو زیادہ سوٹ کرتا ہے۔ میں ہمیشہ دو انتہاؤں کے درمیان چلنے کو ترجیح دیتا ہوں۔ اصطلاح سازی میں ہم بہت سے تراجم پر تقریباً متفق ہو چکے ہیں۔ مثلاً سنکرونائزیشن کا ترجمہ مائیکروسافٹ کے ہائر کردہ مترجمین نے آج سے چند برس قبل "ہم وقت ساز کریں" کیا۔ اب میری کوشش ہوتی ہے کہ یہی ترجمہ استعمال کروں چونکہ سام سنگ، لینووو کے پچھلے تراجم میں ان گناہگار آنکھوں نے اسی ترجمہ کو استعمال ہوتے دیکھا ہے۔ تو ترجمے کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے میں یہی ترجمہ استعمال کرتا ہوں چونکہ تسلسل ہو گا تو معیار بندی اور مانوسیت ہوتی جائے گی۔ اس کا ترجمہ "ہم آہنگ" اور "مطابقت پذیر" بھی ہو سکتا تھا لیکن یہ ترجمہ "کمپیٹبلٹی" کے لیے پہلے ہی مختص ہو چکا تھاچنانچہ ایک امتیاز روا رکھنے کے لیے نئی اصطلاح تشکیل دی گئی۔ یہ سارا عمل بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اوپر بیان کردہ سارے مسائل کے باوجود، ایک مترجم جب ترجمہ کرنے بیٹھتا ہے تو اس کے سامنے ایک زبان کے مافی الضمیر کو دوسری  زبان میں بیان کرنا ہوتا ہے۔ اس کے سامنے کچھ اصول، کچھ پیشہ ورانہ پریکٹسز، کلائنٹ کے تقاضے، اپنی زبان کووسیع  (اِنرچ) کرنے کی خواہش، ترجمے میں معیاری بندی اور تسلسل کا قیام جیسی کئی اور چیزیں ہوتی ہیں۔ مترجم ہمیشہ یلل بللڑ نہیں ہوتا کہ آنکھیں بند  کر کے ترجمہ کر دیا۔ فیس بُک اور ٹوئٹر جیسے اللہ واسطے کے تراجم میں بھی آپ لاکھ کیڑے نکال لیں لیکن اس پر انسانی گھنٹے صرف ہوئے ہیں۔ آپ کا دل اگر اپنی قومی زبان میں سافٹویئر استعمال کرنے کو نہیں کرتا تو اس میں جتنا ترجمے کا مسئلہ ہے اتنا ہی آپ کی سوچ کا مسئلہ بھی ہے۔ آپ ترجمہ استعمال کریں، اس پر فیڈ بیک دیں تو یقیناً یہ ترجمہ بہتر ہو سکتا ہے۔ (رضاکارانہ تراجم میں کام ایسے ہی چلتا ہے۔ کمپنیوں کے کروائے گئے تراجم میں ان کا کوالٹی کنٹرول کا اپنا طریقہ کار ہوتا ہے اور میرے تجربے کے مطابق یہ طریقہ کار خاصا سخت اور مؤثر ثابت ہوتا ہے۔)

پچھلے دنوں ہمارے ایک محترم و مربی اور استاد جناب ڈاکٹر تفسیر احمد صاحب نے ایک فیس بُک پوسٹ شیئر کی جس پر دو تین تبصروں کے بعد زیرِ نظر بلاگ پوسٹ کا خیال آیا۔ جس میں ادھر اُدھر کی کئی باتوں کے علاوہ مذکورہ فیس بُک پوسٹ کے حوالے سے بھی کچھ باتیں بھی زیرِ بحث آ گئیں۔ امید کرتا ہوں کہ آج سے چند برس بعد ترجمہ کی صورتحال بہت بہتر ہو گی، مشینی ترجمہ کی ترقی، اصطلاحات کی معیار بندی اور تسلسل ،مانوسیت بڑھنے سے ترجمہ کردہ اورمقامیائے گئے سافٹویئر کا استعمال بڑھے گا۔ اور صارفین کی شکایات کم ہوں گی۔

جمعرات، 2 اپریل، 2015

دل نگر

یوں توں دل نگر میں داخل ہونے پر روشنیاں، خوشیاں، قلقاریاں، مُسکراہٹیں اور مسرتیں ہی نظر آتی ہیں۔ عمارتوں کا ایک وسیع جہان آباد ہے۔ ہر طرف روشنی پھیلی ہے۔ چراغاں  ہی چراغاں، ہر سُو میلے کا سا سماں۔ دن رات میں تمیز مشکل ہو جاتی ہے۔ ہر وقت انجوائے منٹ کا وقت لگتا ہے۔ پہلی مرتبہ آنے والوں کو جنت کا شبہ بھی ہو جاتا ہے۔ بار بار آنے والے البتہ یہ سمجھ جاتے ہیں کہ جگہ تو اسی دنیا میں کہیں ہے، بس ذرا ماحول پکنک سپاٹ والا بنا رہتا ہے۔ ہر وقت ہلا گُلا جاری رہتا ہے۔ ابھی یہاں کیک کٹا تھا، اس کی مٹھاس اور تالیاں ہوا میں سے تحلیل بھی نہیں ہوئیں تو ایک اور ایونٹ چلا آتا ہے۔ ادھر دیکھیں تو اس دفتر نما عمارت میں کوئی نہ کوئی پارٹی چلتی ہی رہتی ہے۔ ذرا پرے اُدھر دیکھیں ۔۔ارے یہ تو کوئی گھر ہے اور یہاں بھی خوشیوں کے ڈیرے دور سے نظر آ رہے ہیں ۔ فضا میں کچھ دعائیں موجود ہیں۔ نیک روحوں کو ادھر اُدھر رحمتوں کی موجودگی بھی محسوس ہو جاتی ہے۔ 
ان عمارتوں، خوشیوں، مسرتوں اور قلقاریوں سے پرے ذرا مزید بائیں کو مڑیں تو روشنیاں دھیرے دھیرے دھیمی پڑنے لگتی ہیں۔ دیکھنے والا سجاوٹیں دیکھتا دیکھتا اتنی دور چلا آتا ہے کہ اسے دھیرے دھیرے دھیمی پڑتی روشنی کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ جب احساس ہوتا ہے تو واپس مڑنے میں دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ بستی کے بائیں طرف موجود بڑے احاطے کا پھاٹک یکدم ہی سامنے آ جاتا ہے۔ جیسے ابھی ابھی عدم سے وجود میں آیا ہو۔ بڑا سا سیاہ پھاٹک، جس پر ایک بار نظر ڈالنے والا دوسری نظر تو ضرور ڈالتا ہے۔ اور اکثر یہ دوسری نظر اچنبھے کی ہوتی ہے۔ حیرت بھری نظر۔۔۔۔ قریباً ہر کوئی خوشیوں بھری بستی کی طرف نگاہ ڈالتا ہے اور پھر بڑے پھاٹک کی طرف نگاہ دوڑاتا ہے۔ پھر کوئی بڑبڑاتا ہے، کوئی  بدبداتا ہے اور کوئی صرف سوچ کر ہی رہ جاتا ہے۔ لیکن  آواز ہو یا نہ ہو، تاثرات سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس نے کیا کہا ہو گا' ارے ایسی جنت نظیر بستی میں اس بھوت محل کا کیا کام؟'۔ اور پھر یہ سوچ کر ہی وہ واپس نہیں مڑ جاتا۔ اکثر اوقات یہ ہوتا ہے کہ آنے والے کے قدم سیاہ پھاٹک کی سمت اٹھنے لگتے ہیں۔ جیسے لوہا مقناطیس کی طرف کھنچتا ہے، ایسے ہی آنے والا حیرت، تجسس اور جستجو کے کچے دھاگے سے بندھا کھنچا چلا آتا ہے۔ ہولے ہولے سے پھاٹک تک پہنچتا ہے۔ اپنی آنکھیں نیم ملگجے اندھیرے سے مانوس کرتا ہے۔ پہلے اُچک کر اندر جھانکنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اندر کا دھندلا اندھیرا اس کی جستجو کو مہمیز دیتا ہے۔ اور پھاٹک تک آنے والا بالآخر اندر قدم دھر ہی دیتا ہے۔
نیم ملگجے سے اندھیرے میں تھوڑی سی اور سیاہی ڈال دیں تو ایسی روشنی بڑے پھاٹک کے احاطے میں پھیلی ہوتی ہے۔ آنکھیں اس سے مانوس ہونے میں چند لمحے لے لیتی ہیں۔ اور جب آنے والے کی نگاہیں کچھ دیکھنے کے قابل ہوتی ہیں تو اکثر کو چھوٹا موٹا جھٹکا ضرور لگتا ہے۔ جھٹکا کیوں نہ لگے سامنے ہی تو تین چار ڈھیریاں ہیں۔ ایک آدھ گڑھا بھی موجود ہے جیسے ابھی ابھی گورکن نے زمین کا سینہ چاق کیا ہو۔ آنے والے کو یو ں لگتا ہے جیسے وہ قبرستان میں گھُس آیا ہے۔ کئی ایک تو ڈر کے مارے یہیں سے بھاگ جاتے ہیں۔ کچھ بہادر مقدس آیات کا ورد کر کے نادیدہ بلاؤں سے تحفظ کا حصار باندھتے ہیں۔ کچھ ڈھیٹ روحیں اپنے تجسس کے ہاتھوں مجبور قدم آگے بڑھا لیتی ہیں کہ چلو یہاں تک آ گئے تو بقیہ کام بھی نپٹاتے ہی چلیں۔ کچھ تو دور سے ہی ڈھیریوں کو سلام کر کے دیگر معائنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ کچھ قریب جا کر بغور جائزہ لیتے ہیں۔ ذرا قریب سے دیکھنے پر احساس ہوتا ہے کہ یہ ڈھیریاں واقعی قبریں ہی ہیں۔ کوئی پرانی اور پکی ہے، کوئی ذرا نئی اور کچی ہے، کوئی چند برس پرانی ہے اور کوئی چند ماہ پرانی ہے۔ اکثر کا تبصرہ یہی ہوتا ہے کہ ارمانوں کا قبرستان لگتا ہے۔ کبھی کوئی زیادہ غور کے موڈ میں ہو تو تازہ کھدی قبر  پر بھی نگاہ ڈال  کر اندازہ لگانے کی کوشش  کر ڈالتا ہے کہ یہاں بھلا کون سا ارمان دفن ہو گا۔۔۔ کچھ تو یہیں سے واپس مُڑ جاتے ہیں۔ اور کچھ بڑے احاطے کو میوزیم سمجھ کر باقاعدہ سیر پر اُتر آتے ہیں۔
قبروں سے پرے دائیں جانب ایک ادھوری سی عمارت ہے۔ دیواریں کھڑی ہیں، ایک طرف ریت کی ڈھیری بھی لگی ہے۔ چھت موجود نہیں۔ 'شاید کوئی ادھورا منصوبہ ہو گا'، اکثر کا یہی تبصرہ ہوتا ہے۔ قبروں کے بائیں جانب زمین پر کھدائی کے نشان نظر آتے ہیں۔ جیسے کوئی عمارت تعمیر کرنے کا ارادہ بنا تھا لیکن ٹھیکیدار بھاگ گیا، یا مالک کا خیال بدل گیا۔ بڑے احاطے کی زمین تو آدھے ادھورے ارمانوں کا قبرستان ہے، اس کی فضا میں بھی سوگ جیسے ٹھہرا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ دور، کافی دور بستی کے روشنیوں بھرے محلے میں، جہاں ہوا بھی چلتی ہے تو  ناچ کر، اِٹھلا کر چلتی  محسوس ہوتی ہے۔ یہاں  ہوا چلتی نہیں، بس ٹھہری رہتی ہے۔ جیسے سرما میں دھند چلتی نہیں، بس ٹھہری رہتی ہے۔ لیکن دھند میں اور اس سوگ بھری فضا میں فرق درجہ حرارت کا ہے۔ دھند سردی کا تاثر دیتی ہے، یہاں ایسی کوئی بات نہیں ہوتی۔ بس فضا میں کچھ ٹھہرا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ سردی کی بجائے ہلکی سی گرمی کا احساس ہوتا ہے۔ جیسے کچھ فاصلے پر بھٹی جلنے سے حدت اردگرد کو نیم گرم سا کر دیتی ہے۔ ایسے ہی بڑے احاطے کی فضا نیم حزن و ملال، پشیمانی اور اداسی کے ملے جلے سے احساسات پیدا کرتے ہوئے نیم گرم سی محسوس ہوتی ہے۔ کچھ آنے والوں کو تو ماں کی گود جیسا احساس ہونے لگتا ہے۔ کئی ایک تو ایک جانب ہو کر ادھوری عمارت کے ڈھانچے میں کوئی جگہ تلاش کر کے بیٹھ بھی جاتے ہیں اور کئی گھنٹے بیٹھے ہی رہتے ہیں۔ جانے کس سوگ میں بیٹھے رہتے ہیں۔ شاید بڑے احاطے کے ادھورے ارمانوں کا سوگ مناتے ہیں۔ کون جانے۔۔۔۔
دل نگر میں بڑے احاطے کی حیثیت وہی ہے جیسے پوش علاقے کے پچھواڑے میں ایک کچی بستی کی ہوتی ہے۔ عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل لیکن بستی کا ایک لازمی جزو۔ یہ کچی بستی نہ ہو تو سامنے والا حصہ زیادہ خوبصورت کیسے معلوم ہو۔ امتیاز ختم  ہو جائے تو شناخت ختم ہو جائے۔ بڑا احاطہ دل نگر کا ایک  ناگزیر حصہ ہے۔  سُنا ہے کہ ہر دل نگر میں ایک بڑا احاطہ موجود ہوتا ہے۔ ساری روشنیوں، خوشیوں، قلقاریوں، مُسکراہٹوں اور مسرتوں سے کچھ ہی دور، ذرا ایک طرف کر کے ایک بڑا احاطہ ہوتا ہے۔ جس میں کچھ ادھورے ارمان دفن ہوتے ہیں، کچھ ادھوری خواہشیں فضا میں ٹھہری ہوتی ہیں، کچھ ادھورے منصوبے ادھر اُدھر بکھرے ہوتے ہیں۔ سُنا ہے کہ دل نگر کے مکین اکثر بڑے احاطے کا پھاٹک تالا لگا کر بند ہی رکھتے ہیں تاکہ باہر سے آنے والوں کی نظر نہ پڑے اور انہیں کوئی ایسا ویسا تاثر نہ ملے۔ لیکن کبھی کبھی  بڑے احاطے کے کواڑ کھُلے بھی رہ جاتے ہیں۔ اور تب  کوئی ڈھیٹ قسم کا نڈر مہمان بلا دھڑک بڑے احاطے میں جا گھُستا ہے۔ اور اسے چار لفظ لکھنے بھی آتے ہوں تو وہ اس تحریر کی طرح مشاہدہ قلم بند بھی کر ڈالتا ہے۔ لیکن اکثر دل نگر کے مکین باہر سے آنے والوں کو اپنی خوشیاں ہی دکھاتے ہیں۔ ہنسی ہنسوڑ پن میں ہی اتنی مہمان نوازی کر دیتے ہیں کہ آنے والے کو اور کوئی تمنا ہی نہیں رہتی۔ لیکن کبھی کبھی شاید یہ خوشیاں دکھاوا لگتی ہیں۔۔۔کوئی زیادہ ہی چالاک قسم کا مہمان اپنی مدد آپ کے تحت سیر کرنے نکل پڑتا ہے۔۔۔۔اور پھر ایسی کوئی تحریر وجود میں آ جاتی ہے۔۔۔سنا ہے کبھی کبھی دل نگر میں داخل ہونے پر ایک ہی عمارت سے واسطہ پڑتا ہے ۔۔بڑے احاطے سے۔۔۔اور باقی سب کچھ اس کے اندر ہوتا ہے۔۔۔۔لیکن آدھا ادھورا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہفتہ، 28 مارچ، 2015

گولڈن ڈکشنری بمع دو انگریزی اردو لغات

اردو کے حوالے سے پچھلے کچھ برسوں میں کافی ساری لغات آنلائن دستیاب ہو گئی ہیں۔ بعض اوقات آفلائن استعمال کے لیے اچھی لغت دستیاب نہیں ہوتی۔ اسی مشکل کے پیشِ نظر میں نے اپنے اور اپنے ادارے (دار السنہ و علوم ترجمہ، جامعہ گجرات) کے لیے دو آنلائن لغات کو آفلائن میں منتقل کیا تھا۔ اس سلسلے میں اردو محفل کے احباب ابن سعید، محمد سعد وغیرہم کا تعاون شاملِ حال رہا۔ مندرجہ ذیل ربط سے آپ کو پورٹیبل گولڈن ڈکشنری ایپلی کیشن بمع لغات مل جائے گی۔ اس کے content نامی فولڈر میں دو مشہور انگریزی اردو لغات کی ڈیٹابیسز موجود ہیں۔ ساتھ انگریزی ورڈ نیٹ بھی شامل ہے۔ امید ہے اس سے انگریزی کو بلائے جان سمجھنے والوں کے کچھ مسائل کا حل نکلے گا۔
گولڈن ڈکشنری


اپڈیٹ: 

دو عدد اردو انگریزی لغات تیار کی ہیں۔
یہاں سے ڈاؤنلوڈ کر کے content نامی فولڈر میں ان زپ کر دیں۔ اب آپ اردو الفاظ کی انگریزی تلاش کرنے کے قابل بھی ہوں گے۔
لیکن یاد رہے کہ یہ انگریزی اردو لغات کے ڈیٹا کو تبدیل کر کے بنائی گئی ہیں۔ اس لیے اسے جگاڑ ہی سمجھا جائے۔ اردو سے انگریزی لغت (جیسے آکسفورڈ کی لغت یا دیگر لغات جو بطور خاص اردو سے انگریزی کے لیے تیار کی گئی ہیں) کا مقابلہ شاید ممکن نہ ہو۔

اتوار، 22 مارچ، 2015

مقتدرہ فرہنگِ اصطلاحاتِ لسانیات (انگریزی اردو)

کسی مترجم کے لیے لغات اور فرہنگیں بالکل وہی حیثیت رکھتی ہیں جو راج مستری کے لیے ہتھوڑی چھینی یا فوجی کے لیے بندوق کی ہوتی ہے۔ ترجمے کے میدان میں کسی بھی قسم کے کارہائے نمایاں و غیر نمایاں سرانجام نہ دے سکنے کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ دوسرے مترجمین اور ان کے ساتھ اپنا بھی بھلا کر لیا جائے۔ اسی بھلے کے سلسلے میں مقتدرہ قومی زبان کی مذکورہ بالا فرہنگِ لسانیات انتہائی بدمعاشی اور کسی بھی قسم کے کاپی رائٹس کا خیال نہ کرتے ہوئے اسکین کی گئی ہے۔ مقصد اردو لسانیات کی کتب ترجمہ کرنے والوں کے لیے اصطلاحات کا کم از کم ایک معیار مہیا کرنا ہے، تاکہ مترجم کو ترجمے کے ساتھ ساتھ اصطلاحات کا پہیہ بھی دوبارہ ایجاد نہ کرنا پڑے۔ اصطلاحات سازی میں معیار بندی ہی دراصل وہ کلید ہے جو چند برسوں کے اندر اندر اس ملک میں ایسے مترجم اور ترجمہ ساز ادارے قائم کر سکتی ہے جن کی ترجمہ شدہ کتب کو پڑھنے کے لیے قاری کو اردو انگریزی لغت کا سہارا نہ لینا پڑے، یا جس کے چند صفحات پڑھ کر وہ کانوں کو ہاتھ لگا کر واپس انگریزی کی جانب کُوچ نہ کر جائے۔
اتنی لمبی تمہید کے بعد قبول فرمائیں ایک عدد پی ڈی ایف۔ اس کا فائدہ صرف اتنا ہے کہ پی ڈی ایف کھول کر Ctrl + F دبائیں اور انگریزی لفظ لکھ کر سرچ فرما لیں۔ اردو الفاظ مٹے مٹے ہوئے لگیں گے جو شاید انگریزی او سی آر کی شرارت ہے، لیکن ابتدائی قدم ہے اس لیے درگزر فرمائیں۔ اسی کو ٹیب سے الگ شدہ فہرست کی صورت میں بھی ٹائپ کروا رہا ہوں، دعا فرمائیں کہ جلد ہو جائے۔ اس کے دیر سویر کے خیال سے ہی میں نے یہ اپنے اور دوسرے احباب کے لیے تیار کی ہے۔
نوٹ: اس کی اسکین تصاویر (300 ڈی پی آئی) پر موجود ہیں، جو احباب اوپن سورس او سی آر سسٹم پر کچھ کرنا چاہ رہے تھے انہیں یہ تصاویر مل سکتی ہیں۔ ایک صفحے پر انگریزی اور اردو دونوں آمنے سامنے کالم میں ہیں۔

سوموار، 16 مارچ، 2015

احساسِ رحمت

رب کی رحمت بھی عجیب چیز ہے سائیں۔ ہر وقت اس کی رحمت کا حصار رہتا ہے۔ ہر لمحہ اس کے کرم کی بارش برستی رہتی ہے۔ لیکن بندہ ناسمجھ، ناقص العقل نہیں سمجھتا۔ آنکھیں ہوتی ہے لیکن دیکھ نہیں پاتا۔ بینا ہوتے ہوئے نابینا ہو جاتا ہے۔ یہ اس کی رحمت کے صدقے ہی ہوتا ہے کہ اس کی رحمت کا احساس مل جائے۔ اور جس کو اس کی رحمت کا احساس مل جائے اس کے کیا ہی کہنے۔ لگتا ہے جیسے کوئی یار سجن بیٹھا ہے۔ یہیں ساتھ  ہی کہیں، یہیں پاس ہی کہیں بیٹھا ہے۔ ہر لحظہ اس کی عطاء کی آرزو رہتی ہے۔ اس کے کرم کی تمنا رہتی ہے۔ اور جب اس کا کرم ہو جائے، جب دعائیں ویسے قبول ہو جائیں جیسے بندے نے چاہا تھا، تو اندر جیسے بہار آ جاتی ہے۔ جیسے عید پر سارا جہاں مُسکرا اُٹھتا ہے۔ جیسے اندر باہر شادیانے بجنے لگتے ہیں۔ ہر طرف ہر چیز جیسے کھلکھلانے لگتی ہے۔ ہر سُو اسی کی عطاء نظر آتی ہے۔ بڑا پُر لُطف تجربہ ہوتا ہے۔ اس کی رحمت ہو جانا، اور پھر یہ احساس ہو جانا کہ اس کی رحمت ہوئی ہے۔ یہ اسی کا کرم ہوا ہے، اے بندے ورنہ تُو کس قابل تھا ۔ اور پھر رحمت کے بعد سر کا جھُک جانا۔ اس عطاء و کرم و فضل و رحمت پر سر جھُک جانا، نظر جھک جانا اور اس کی مزید رحمت ہو جائے تو دو قطرے آنسوؤں کے، اظہارِ عجز کے، اظہارِ بندگی کے، اظہارِ لاچاری کے۔ دو قطرے ٹپک پڑنا کہ مالک میں بھلا کس قابل تھا، یہ سب تیرا ہی تو دیا ہے۔ یہ جو کچھ میرے تن پر ہے، جو کچھ میرے اندر ہے، میرے پاس ہے یہ سب تیرا ہی تو دیا ہے۔ میرا تو ہونا ہی مجھ پر تیری رحمت ہے مولا۔ میں حقیر،ارذل، ادنیٰ، گھٹیا، گناہوں کی پوٹ اور تیری عطاء۔ کس منہ سے تیرا شکر کروں۔ مجھے تو شکر کرنا بھی نہیں آتا۔ یہ سب تیرے نبی ﷺ کے پیروں کی خاک کا صدقہ سائیں۔ تو سخی تیرے نبی ﷺ کی ذات سخی۔ اور میں تیرے در کا گدا۔ تُو بادشاہ مالک اور میں تیرے بُوہے پر بیٹھا منگتا۔ بھلا منگتے کی کیا اوقات کہ اس پر یہ عطاء ہو جاتی۔ یہ تو تیری کمال مہربانی ہے سائیں، تُونے اپنی نبی ﷺ کا صدقہ، آلِ نبیﷺ کا صدقہ، اصحابِ نبی ﷺ کا صدقہ مجھ پر یہ جو عطاء کردی بھلا میں کس قابل تھا۔

بڑا پُر لطف تجربہ ہے جی۔ کبھی کر کے دیکھیں۔ رب سے رحمت مانگ کر دیکھیں۔ بس رحمت کے طلبگار ہوں۔ اور شکر کریں، ہر نعمت پر۔ اگر یہ کرم ہو جائے، اوریہ کرم ہو جاتا ہے آہستہ آہستہ دھیرے دھیرے اپنی بے کسی اور بے بسی اور اس کی رحمت کا احساس وسیع تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ پھر جو کچھ بھی پیش آئے، جو بھی اچھا پیش آئے، پہننے، کھانے، پینے یا زندگی میں جو کچھ بھی ملے بس آسمان کی جانب نظر اُٹھتی ہے۔ یہ سب تو اُس کی رحمت ہے۔ یہ تو مولا کا کرم ہے۔ اور اپنا آپ اور حقیر لگنے لگتا ہے۔ اس کے لاشمار احسانوں میں ایک اور کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کی محبت کا احساس فزوں تر ہو جاتا ہے۔ اس پر یقین اور مان بڑھ جاتا ہے۔
کاش رب یہ مقامِ شکر عطاء کر دے۔

سوموار، 2 فروری، 2015

مالک اور بندہ

بندے اور مالک کا تعلق بڑا عجیب سا ہے۔۔ ۔مالک بے غرض ہے۔ بندہ خود غرض ہے ۔بندہ مانگتا بھی ہے تو اپنی غرض سے مانگتا ہے۔ مالک دیتا ہے تو بے غرض دیتا ہے، بے حساب دیتا ہے ، خوشی دیتا ہے، رزق دیتا ہے، نعمتیں دیتا ہے۔ بندہ حساب رکھتا ہے، ابھی اتنا غم ملا تھا، ابھی اتنا رزق ملا تھا ، ابھی اتنا دے دیا تھا ۔ مالک شہنشاہ ہے، بندہ گدا ہے۔ مالک سخی ہے ، بندہ منگتا ہے۔ مالک کہتا ہے مانگ، کیا مانگتا ہے۔ میں دیتا ہوں۔ بندہ جب جان پر پڑے تبھی مانگنے کی جانب آتا ہے ۔ مالک تو اتنا سخی ہے کہ آدابِ بندگی بھی سکھاتا ہے۔ بندہ خود غرض ہے، اپنی غرض کے لیے بھی آدابِ بندگی نہیں سیکھتا۔ اس لیے جب دربار ِ خداوندی میں جاتا ہے تو اسے ٹھیک طرح سے مانگنا بھی نہیں آتا۔ غرض پڑے، سر پر مصیبت آن پڑے تو رب کے حضور حاضری ہوتی ہے۔ دعا کے لیے ہاتھ اُٹھتے ہیں اور اگر اُس کی توفیق ہو جائے تو دو آنسو بھی نکل پڑتے ہیں۔ بندہ رب کو بھی ایموشنل بلیک میل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
تُو سخی مولا۔
تیرا نبی ﷺ سخی مولا 
تیرے نبی ﷺ کا گھرانہ سخی مولا
سخیوں کا واسطہ سخیا، میری جھولی بھر دے
تُو تو مالک ہے مولا
تو شہنشاہ
میں تیرے در کا گدا
تُو اپنے نبی ﷺ پیروں کی خاک کا صدقہ ۔میری جھولی بھر دے
تُو تو بادشاہ ہے مولا
تیرے خزانوں میں بھلا کیا کمی آ جائے گی
تو یہ مُجھے دے دے۔ باقیوں کو اس سے بہتر دے دیجیو
تُو تو آل اِن آل ہے مالک۔ تُجھے کسی نے بھلا کیا پُوچھنا۔ 
یہ فیور کر دے نا مالک۔ تُو تو۔۔۔۔۔۔
بندہ گناہگار ہے۔ سیاہ کار ہے۔ جب ہاتھ اُٹھا کر مانگتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ اُس کے پلے تو کچھ نہیں ہے۔ ایک ایک گناہ یاد آتا ہے ۔ ہر گناہ جو چھڈ یار خیر اے کہہ کر کیا ہوتا ہے، تو سر ندامت سے جھکتا چلا جاتا ہے۔ دل کرتا ہے کہ زمین پھٹ جائے اور اس میں سما جائے۔ دُعا کے لیے اُٹھے ہاتھ نیچے زمین پر ٹک جاتے ہیں۔ سرِ ندامت جھُکتے جھُکتے وہاں جا لگتا ہے جہاں اس کا اصل مقام ہے۔ بندہ سجدے میں روتا ہے۔ زار زار روتا ہے۔ اپنے گناہوں پر روتا ہے۔ اور پھر اپنی خواہشات پر اور زیادہ روتا ہے ۔رب کو اس کی ستاری کا واسطہ دیتا ہے۔ غفاری کا واسطہ دیتا ہے۔ اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے۔ اور ساتھ مان بھرے انداز میں مانگتا بھی ہے۔ پتہ ہے کہ دینا تو اُس نے ہی ہے۔ رب تو مالک ہے۔ بندہ اس کے در کاسگ۔ سگ بھی ایک وفادار جانور ہے اپنے مالک کا بُوہا نہیں چھوڑتا۔ بندہ تو بندہ ہو کر بھی سگ سے نہیں سیکھتا۔ سارا پِنڈ پھرتا ہے۔ لُور لُور پھرتا ہے۔ پھر جب بھوک لگتی ہے تو مالک کے در پر آ بیٹھتا ہے کہ اب روٹی ملے گی۔ یہیں سے ملے گی۔ بندہ ایسا سگ ہے جو خواہش پوری کروانی ہو تو مالک کے در پر آ بیٹھتا ہے۔ پتہ ہے کہ عطاء تو یہیں سے ہونی ہے۔ اگر یہاں سے فائل پر سائن ہو گئے تو پھر ڈر کاہے کا۔ یہی تو بڑا دفتر ہے۔ یہیں کیس داخل ہے۔ یہیں سے منظوری ہو گی۔ بندہ  مانگتا ہے، بے قرار ہو کر مانگتا ہے، تڑپتا ہے اور پھر شرمندہ بھی ہوتا ہے کہ کیا مانگ رہا ہے۔ بجائے کہ رب سے رب کو ہی مانگ لے۔ بندہ ایسا سگِ دنیا ہے کہ دنیا کو مانگتا ہے، دنیا والے مانگتا ہے، دنیاوی فائدے مانگتا ہے۔ بندہ رذیل ہے، کمینہ ہے۔ کمینے کو جس دن دیہاڑی مل جائے اُس دن وہ خود کوچوہدری سمجھتا ہے۔ جب تک جیب گرم رہے وہ کسی کو گھاس نہیں ڈالتا۔ جب جیب خالی ہو جائے تو اپنی اوقات پر واپس آ جاتا ہے۔ بندہ بھی جب تک رب سے کوئی غرض نہ  ہو خود کو چوہدری سمجھتا ہے۔ جب رب سے غرض آ پڑتی ہے تو اوقات پر واپس آ جاتا ہے۔ بندے کی بِلٹ ان رذالت اسے کہیں کا نہیں چھوڑتی۔ پر بندہ  تو بندہ ہے جی۔ وہ رب کے پاس نہیں جائے گا تو کہاں جائے گا؟ رب ہی تو ہے سب کچھ۔ اُسی کے در سے سب مِلا ہے اور سب ملے گا۔ اُسی سے تو سب کو ملتا ہے۔ تو بندہ بھی اُسی سے مانگتا ہے۔ اپنی سیہ کاریوں، رذالتوں اور گناہوں کے باوجود بندہ اُسی سے مانگتا ہے۔ بندہ اور کر بھی کیا سکتا ہے۔ مانگ تو سکتا ہے نا۔ اور مالک سے مانگتا ہے۔ مانگتا چلا جاتا ہے۔ اب مالک کی مرضی ہے۔ دے یا نہ دے۔ دھُتکار دے، یا روٹی ڈال دے۔ یہ تو مالک کی مرضی ہے نا۔ بندہ چاہے جتنا بھی ذلیل اور کمینہ ہو، بڑی اچھی طرح جانتا ہے کہ مالک سے ہی سب کچھ ملے گا۔ اس لیے بندہ اس کے در پر بیٹھا رہتا ہے، جھڑکی بھی ملے تو ذرا پرے ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔ نگاہیں بُوہے سے ہی چپکی رہتی ہیں۔ ندامت بھری نگاہیں، جھُکی جھُکی نگاہیں، شرمندہ اور پُر ندامت نگاہیں۔ ساتھ اگر آنسوؤں کا نذرانہ بھی ہو جائے تو سونے پر سہاگہ ہو جاتا ہے۔ امید بھری نگاہیں رب کے در پر لگائے رکھتا ہے۔ کرم کا منتظر رہتا ہے، رحمت کا منتظر رہتا ہے، عطاء کا متلاشی رہتا ہے۔ بھلا یہ کم رحمت ہے کہ رب مانگنے کی توفیق  ہی دے دے۔ ورنہ بندے کی کیا اوقات اگر اسے توفیق ہی نہ ملی تو؟