جمعرات، 20 مارچ، 2008
عید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دعوٰی کسے نہیں ہے؟ سب کو ہے مجھے بھی ہے۔ ہر سال کوئی نیا شوشہ ہی چھوٹتا ہے اس معاملے میں۔ اب پچھلے کچھ عرصے سے محفل نعت منعقد ہوتی ہے جس میں ایک خوش نصیب کو عمرے کا ٹکٹ بذریعہ قرعہ اندازی دیا جاتا ہے۔ کیا عشق کے لیے عمرے کا ٹکٹ ضروری ہے؟
جن کوٹھوں پر چند دن پہلے بسنت کے نعرے لگائے گئے تھے اور رات بھر غل غپاڑہ کیا گیا انھی پر اب سبز جھنڈے لگا دئیے گئے۔۔۔یہ کیسا عشق ہے جو سبز جھنڈے لگانے، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتی والے نقش سینے پر لگانے اور نعرے لگانے تک محدود ہے؟
آج رات تو مجھے یوں لگا جیسے یہ 12 ربیع الاول کی شب نہیں شب قدر ہے۔ سرکاری ٹیلی وژن پر ایک سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کانفرس ہورہی ہے شاید اس میں ایک بندہ کاغذوں کے پلندے سے سبق پڑھ کر سنا رہا تھا اور باقی ڈھیر سارے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ کئی تو اپنے سبق یاد کرنے میں اردگرد سے بے خبر تھے۔ یہ کیسا عشق ہے؟
ڈنمارک والے کچھ عرصے بعد تیلی لگا دیتے ہیں اور پھر گھر جلنے کا تماشا دیکھتے ہیں۔ ہم بھی پھونکیں مار مار کر اپنا ہی آشیانہ جلا ڈالتے ہیں۔ کل کسی جگہ خبر پڑھی کہ اب تک ہونے والے مظاہروں میں 50 مسلمان راہی ملک عدم ہوچکے ہیں۔
ہم سے پہلے کے مسلمان عشق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر کہاں جا پہنچے اور ہم ہیں کہ ہر سال اتنا اہتمام کرتے ہیں پھر بھی تنزلی ہی تنزلی ہے ترقی کہیں نظر نہیں آتی۔۔۔۔ہر شے سے برکت اٹھتی جاتی ہے۔۔۔قتل غارت گری ہر سال بڑھتی جاتی ہے یہ کیسا عشق ہے ہمارا جس کا فیضان ہمیں نصیب نہیں ہوتا؟
کہیں ہم غلط تو نہیں کسی جگہ؟
پیر، 1 اکتوبر، 2007
حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور لسانیات
ہمارے اگلے سمسٹر میں ایک مضمون پڑھایا جائے گا ہمیں جس کا نام سٹائلسٹکس ہے۔ اردو ترجمہ کریں تو انداز بیاں۔ اس کا کام یہ ہے کہ مختلف لوگوں کے انداز بیاں کا کھوج لگائے۔ یہ انداز کسی لکھاری کا بھی ہوسکتا ہے جیسے آپ ممتاز مفتی کو اس کی تحریر سے پہچان لیتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ وہ کچھ مخصوص الفاظ، کچھ گرامر کے پیٹرنز کا بے تکلفانہ استعمال کرتا ہے۔ گرامر کے پیٹرن کا ایک رف سا خاکہ یہ ہوسکتا ہے کہ محی الدین نواب کو پڑھنے والے جانتے ہیں کہ وہ گئی، گیا نہیں لکھتا ہمیشہ یہ لکھے گا کہ چلتی ہوئی گئی، چلتا ہوا گیا۔ یہ چلتا ہوا گیا جو کہ ایک فعل گیا کی جگہ استعمال ہورہا ہے ایک خاص گرامر پیٹرن ہے۔۔کم از کم میں فورًا پہچان جاتا ہوں کہ یہ بندہ محی الدین نواب ہے۔
اگر ہم عمومی سٹائلسٹکس کی بات کریں تو یہ انداز کسی خاص شعبہ زندگی کے لوگوں کا ہوسکتا ہے۔ جیسے قانون سے تعلق رکھنے والوں کی ایک مخصوص پیشہ ورانہ زبان ہوتی ہے۔ جسے وہ عدالتوں، کچہریوں میں استعمال کرتے ہیں۔ ہم ان کو بھی ان کے انداز بیاں سے پہچان لیتے ہیں۔
کسی بندے کا تکیہ کلام اس کے انداز بیاں کا حصہ ہے چناچہ اکثر آپ تکیہ کلام کے بل پر دوسرے بندے کو پہچان لیتے ہیں۔ سٹائلسٹکس میں کئی مثالیں موجود ہیں جن میں کسی بے نام لکھاری کی تحاریر کو اس تجزے کی بنیاد پر شناخت کرلیا گیا۔ کام صرف اتنا تھا کہ بے نام لکھاری کی تحاریر کا سٹائلسٹکس تجزیہ کیا جائے، کس قسم کے الفاظ استعمال کرتا ہے، فعل زیادہ یا اسماء زیادہ، کونسے گرامر پیٹرن زیادہ استعمال کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ پھر اس کام کو ان لکھاریوں کی تحاریر کے تجزیے سے ملایا گیا جن کے بارے میں کنفرم تھا کہ اس تحریر کا لکھاری یہی ہے۔ اس طرح گمنام لکھاریوں کو انداز بیاں ایک ہونے کی بناء پر جانے مانے لکھاری سے ملایا گیا اور بعض اوقات سو سال بعد یہ بات ثابت ہوئی کہ یہ گمنام تحریر فلاں لکھاری کی ہے۔
اسی بنیاد پر میں نے آج سوچا کہ اگر حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی سٹائلسٹکس تجزیہ کیا جائے تو کیسا رہے؟ یہ خیال مجھے محفل پر کئی ماہ تک پڑی رہنے والی کھپ کی وجہ سے آیا جس میں یار لوگوں نے حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سچ ہونے پر انگلیاں اٹھائیں۔
اس تجزیے کے لیے ایک ایسا بندہ درکار ہوگا جو عربی اور لسانیات کی اس شاخ یعنی سٹائلسٹکس پر عبور رکھتا ہو۔ نیز عربی کا مشینی تجزیہ کرنے کے لیے کئی سافٹویر بھی درکار ہونگے۔ یعنی اچھا خاصا ایک پراجیکٹ بن سکتا ہے۔ لیکن ہمارا کام تو تجویز دینا تھا۔ پتا نہیں یہ قابل عمل بھی ہے یا نہیں۔ چونکہ احادیث کو جانچنے کے کئی معیارات صدیوں سے مستعمل ہیں۔ اسماء الرجال اور شاید صرف و نحو بھی۔ ان میں شاید انداز بیاں کا تجزیہ جیسی کوئی چیز بھی ہو۔
آپ کا کیا خیال ہے اس بارے میں؟
منگل، 4 ستمبر، 2007
مجھے کوئی شک نہیں
شک کرنا ٹھیک ہے۔ لیکن ہٹ دھرمی الگ قسم کی چیز ہے۔
میں نے آج سے دو سال پہلے ایک کتاب پڑھی تھی "طلاق؟" صاحب کا نام یاد نہیں لیکن انھوں نے طلاق کے سلسلے کے سارے احکام براہ راست قرآن کریم کی آیات کے تراجم سے اخذ کیے۔ مجھے بڑا عجیب سا لگا۔ چونکہ وہ ایک جگہ ترجمے سے یہ ثابت کررہے تھے کہ طلاق ہوجانے کے بعد بھی جب چاہیں میاں بیوی نکاح کرسکتے ہیں۔ میری مراد تین طلاقوں کے بعد سے ہے۔ لیکن مجھے بڑا عجیب سا لگا تھا۔ بعد میں غور کیا تو انکشاف ہوا یہ صاحب قرآن سے ڈائریکٹ فیض لینے کے قائل ہیں۔
تب سے اب تک ایک بات پلے سے بندھی ہوئی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو بائی پاس کرکے قرآن کو سمجھنا ایک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے خلاف ہے نعوذ بااللہ، دوسرے پھر رحمت زحمت بن جاتی ہے۔ کہیں کی بات کہیں جانکلتی ہے۔
ایسے لوگوں کا خیال ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی ایک بھی چیز خالص نہیں موجود۔ شاید دوسرے مذاہب کی طرح جنھوں نے اپنے انبیاء علیھم اسلام کی زندگیوں کو دیو مالا بنا ڈالا۔ لیکن وہ یہ بھول جاتے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری طرح انسان کہا گیا ہے اور ان کی زندگی کا ایک ایک پل ہمارے سامنے موجود ہے۔
یہ حجت کرنا کہ جانے کیا کیا ہوگیا ہوگا، یہ ہوگیا ہوگا، وہ ہوگیا ہوگا دل کے مرض کی نشانی ہیں۔ ہونے کو تو کچھ بھی ہوسکتا ہے، لیکن ہستی وہ ہے جس پر کم از کم تمام مسلمان متفق ہیں۔۔صلی اللہ علیہ وسلم۔۔واقعہ کربلا پر میں یہ دلیل مان سکتا ہوں کہ اس میں ہر ایک نے من پسند انداز میں تبدیلیاں کرڈالی ہونگی ۔۔۔لیکن حدیث رسول کے سلسلے میں کبھی نہیں۔۔۔۔ہاں کچھ احادیث ہوسکتا ہے قرآن سے میل نہ کھاتی ہوں اور وہ یقینًا ضعیف ہیں جن پر کئی کئی بار تحقیق ہوچکی ہوگی۔۔۔سو ان کو نہ لیا جائے۔۔۔لیکن یہ کیا کہ پوری کی پوری کتاب کو مسترد کردیا جائے۔۔۔۔
مجھے تو اتنا معلوم ہے جتنا بھی بے غیرت ہوں۔--بہت گنہار ہوں--لیکن اپنے رسول سائیں سے مجھے بہت محبت ہے ۔۔۔میں نے انھیں نہیں دیکھا بس ان کے بارے میں سنا ہے لیکن پھر بھی مجھے ان سے بہت محبت ہے۔۔
اور وہ جنھوں نے ان کو دیکھا۔۔صلی اللہ علیہ وسلم۔۔جنھوں نے ان کے دیکھنے والوں کو دیکھا۔۔۔۔۔صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ان کی محبت کیسی ہوگی۔۔۔بے شک وہ مجھ سے بہتر ہونگے۔۔بے شک انھوں نے ان کی زندگی کا ایک ایک پل محفوظ کرنے کے لیے محنت کی ہوگی۔۔۔
مجھے کوئی شک نہیں کہ میرے رسول سائیں صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی میرے سامنے ایسے ہے جیسے میں انھیں کھاتے پیتے چلتے پھرتے تصور کرسکتا ہوں۔۔۔
مجھے کوئی شک نہیں کہ وہ سراپا قرآن تھے اور ان کے چاہنے والوں نے ان کی زندگی کو بعد میں آنے والوں تک پہنچانے کے لیے نہایت مخلصانہ اور محبانہ کوششیں کیں۔۔۔
اتوار، 5 نومبر، 2006
میں۔۔۔
صاحبو یہ میرے انٹینا کی خرابی کہہ لیں یا میرے نفس کی آوارگی۔ ایک دن یونہی اذان کے وقت بیٹھے بیٹھے مجھے “میں“ کے سگنل وصول ہونے لگے۔
سب سے پہلے ایک مسجد سے اذان کی آواز بلند ہوئی اور میرے کانوں میں آوازیں گونجنے لگیں“حضرات یہ فلاں فلاں مسجد اہلحدیث ہے۔ ہم سڑے ہوئے نظریات اور نام نہاد فقہ کو نہیں مانتے۔ ہم قرآن و حدیث سے براہ راست استدلال کرتے ہیں۔ ہماری مسجد کو پہنچاننا ہو تو یہ دیکھ لیں کہ سب سے پہلی اذان کہاں سے ہورہی ہے۔ اور اب آئیں ہم نماز پڑھ لیں۔“
ایک اور مسجد سے صلوۃ سلام کے بعد اذان کی آواز بلند ہوئی“ حضرات ہم آپ سے فلاں فلاں مسجد اہلسنت ولجماعت حنفی بریلوی سے مخاطب ہیں۔ ہمارے آقا و مولٰی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور ان سے سب سے زیادہ محبت ہم ہی کرتے ہیں جس کا ثبوت ہر اذان کے ساتھ صلوۃ سلام کا ورد ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بشر کہنے والوں کو ہم دین اسلام سے خارج سمجھتے ہیں ہماری مسجد کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ اذان اور ہر اعلان کے ساتھ ہم صلوۃ سلام کا ورد ضرور کرتے ہیں آئیے اب ہم نماز بھی پڑھ لیں۔“
پھر ایک اور مسجد سے صدائے حق بلند ہوئی“ دیکھیں جناب یہ مسجد فلاں فلاں اہلسنت حنفی دیوبندی ہے۔ ہم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو رسول کریم کے بعد سب سے اونچا مقام دیتے ہیں۔ ہم پیر پرستی اور قبر پرستی سے بیزار ہیں اور ہاں ہماری مسجد کی پہچان یہ ہے کہ ہماری اذان سب سے مختصر ہوتی ہے۔ ہم کسی اور کلمے کا اضافہ نہیںکرتے ۔ آئیں اب نماز پڑھ لی جائے۔“
سب سے آخر میں ایک طرف سے اذان کی آواز بلند ہوتی ہے“ جناب ہم اہل تشیع ہیں۔ ہم اہل بیت کے سب سے بڑے محب ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اہل بیت کا عاشق ہم سے زیادہ کون ہوگا۔ ہماری مسجد کی نشانی یہ ہے کہ ہم صرف تین بار اذان دیتے ہیں اور ہماری اذان میں کچھ مزید کلمات کا اضافہ بھی ہوتا ہے جس سے آپ باآسانی ہمیں پہچان سکتے ہیں۔ تو آئیے ہم بھی نماز پڑھتے ہیں۔“
مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے یہ اذانیں نیہں بلکہ نفس بول رہے ہیں۔ میری طرف دیکھو میں دیوبندی ہوں، ارے ادھر کدھر ادھر دیکھ میں ہوں شیعہ ہوں ہم سے بہتر کون مسلمان ہے۔ اوئے ادھر کیا دیکھتا ہے ادھر دیکھ یہ تو کافر ہیں ان کے عقائد ہی ہم سے نہیں ملتے ہم بڑے مسلمان ہیں ہمارا فرقہ بہترین ہے۔ مجھے لگ رہا تھا جیسے یہ لوگ مخلوق خدا کو اللہ کی طرف نہیں اپنی طرف بلا رہے ہیں۔
آؤ ہماری طرف آؤ اہلحدیث ہوجاؤ اسی میں فلاح ہے۔
آؤ بریلویت کی طرف یہی کامیابی کی راہ ہے۔
آؤ ادھر آؤ ادھر آؤ ہم سب سے بڑے ہیں۔
آؤ ہم ہی جنتی ہیں۔
ادھر آجاؤ۔
اور پھر ایسا ہوا کہ میرے اردگرد کھڑی مسجدیں غائب ہوگئیں اور ان کی جگہ بڑے بڑے گلیور نمودار ہوگئے۔ ہاتھوں میں تسبیحیں پکڑے، اپنے فرقے کی کتابیں اٹھائے، سر پر ٹوپیاں لیے لمبی لمبی ڈاڑھیاں رکھے اور عمامے باندھے، شلواریں ٹخنوں سے اونچی کیے، آپس میں لڑتے نہیں اسے ہماری طرف آنے دو نہیں میری طرف، نہیں میری طرف، اور میں ایک بونا، جو ان کے پیروں کے نیچے آنے سے بچ رہا ہوں کبھی ادھر ہوتا ہوں کبھی ادھر ہوتا ہوں اور آخر ایک طرف بھاگ نکلتا ہوں۔
میری طرف۔۔۔ نہیں ۔۔۔میری طرف۔۔۔ نہیں۔۔ میری طرف۔۔۔۔۔۔۔ یہ ساری آوازیں معدوم ہوتی جارہی ہیں اور پھر سب کچھ ختم ہوجاتا ہے۔ جیسے میں نہیں رہتا، کوئی بھی نہیں رہتا اور میرے سامنے میرا رب ہے۔ میں دھیرے سے اپنے رب سائیں سے پوچھتا ہوں۔
“سائیں یہ سب لوگ اتنا لڑ کیوں رہے ہیں۔ آپ کے نام پر ہی ایک دوسرے سے لڑتے ہیں ایسا کیوں ہے سائیں۔ آپ تو سراپا محبت ہونا۔ آپ تو اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ محبت کرتے ہو۔ سائیں تو پھر یہ لوگ کیوں لڑتے ہیں آپ کے نام پر ہی۔ انھیں تو مل جل کر محبت سے رہنا چاہیے۔“
اور مجھے ایسا لگا جیسے میرے اللہ سائیں مسکرا دیے ہیں جیسے کہہ رہے ہیں یہ سب تو پاگل ہیں، نادان ہیں۔ میری کتاب کو اور میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو سمجھ نہیں سکتے۔ ان کی عقلیں محدود ہیں۔ اپنی محدود عقلوں سے جو اندازے لگا لیتے ہیں ان پر ڈٹ جاتے ہیں۔ اپنے آپ کو فرعون سمجھنے لگتے ہیں ان کا خیال ہے سب کچھ انھیں کو عطاء ہوگیا ہے باقی سب جاہل مطلق ہیںاور ان کی عقلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔ان کی میں انھیں جینے نہیں دیتی۔ اس لیے کسی دوسرے کو خاطر میں نہیں لاتے۔
منگل، 31 اکتوبر، 2006
یونہی گزرا تو سوچا۔۔
اور میںکانپ کررہ گیا۔ پتا نہیں میرا نصیب اتنے سوار بھی ہیں یا نہیں، کفن بھی نصیب ہوگا یا نہیں۔ اپنے وطن کی مٹی میں مل سکوں گا یا نہیں۔
ان سارے خدشوں نے کوڑیالے سانپوں کی طرح پھن اٹھا لیے۔ اور پھر ایک اور سانپ اٹھا ان سب سے بڑا۔ بولا جو جہاں بھی جائے گا آئے گا تو اسی کے پاس نا۔ وہ جس کی رحمت اور کرم کے تو گن گاتاہے جبار و قہار بھی ہے۔ کبھی تو نے سوچا کہ اس وقت تیرا کیا حال ہوگا۔ جب تیرے پاس کچھ زاد راہ نہیں ہوگا۔
پہلے میں صرف کانپا تھا اب مجھے جاڑے کے بخار کی طرح پھریریاں آنے لگیں۔ میں نے بے اختیار اس کے لیے دعائے مغفرت کی جو خوش نصیب تھا اسے سوار تو نصیب ہوئے تھے، اسے کچھ لوگ تو نصیب ہوئے تھے جو اس کے لیے ہاتھ اٹھانے والے تھے۔ اور میں؟؟ میرے سامنے اپنے اعمال تھے اور بےیقینی تھی کہ کوئی میرے لیے بھی ہاتھ اٹھائے گا یا نہیں۔
پھر دل نے صلاح دی۔ تو اگردوسروں کے لیے ہاتھ اٹھائے گا تو کوئی تیرے لیے بھی ہاتھ اٹھانے والا ضرور ہوگا۔ اس دن سے میرا معمول ہے جب بھی کسی قبرستان کے قریب سے گزروں ان کے لیے دل ہی دل میں دعائے مغفرت کی ایک عرضی اوپر روانہ کردیا کرتا ہوں۔ کہ شاید اس طرح میری بخشش کا کوئی وسیلہ بن جائے۔ اتنے ساری سیاہ اعمالیوں میں کوئی کمی پیدا ہوجائے۔
یہ قبرستان ہمارا مقدر ہیں، ایسا مقدر جس سے ہم ساری عمر دور بھاگتے ہیں لیکن اصل میں ہمارا رخ انھی کی طرف ہوتا ہے بالآخر کسی قبر میں بڑے آرام سے جاکر لیٹ جاتےہیں۔ صاحبو یہ سب لکھنے سے مراد یہ نہیںکہ میںجوگی ہوگیا ہوں، نہ میری فٹ بھر کی داڑھی نکل آئی ہے۔ بس ایک احساس پیدا ہوا تو یہ سب لکھ ڈالا۔ اس جذبے کے تحت کے آپ بھی جب ان قبرستانوں کے قریب سے گزریں تو دعائے مغفرت کے لیے ہاتھ ضرور اٹھا دیا کریں، چاہے دل میں ہی گزرتے گزرے دعا کردیا کریں۔ شاید یہ عمل ہی ہماری بخشش کا ذریعہ بن جائے۔
آئیے ایک بارسب مسلمین کے لیے دعائے مغفرت کرلیں۔
یا اللہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقہ جتنے بھی مسلمان مرد و عورت وفات پاچکے ہیں ان کی مغفرت فرما آمین۔
و صلی اللہ تعالٰی علٰی حبِیبِہِ سیًدنا محمد وسلم
اتوار، 13 نومبر، 2005
محبت
مگر آپ یہ ضرور پوچھیں گے کہ محبت کس طرح کی جائے ہم جو اللہ کی عبادت کرتے ہیں نمازیں پڑہتے ہیں یہ محبت ہی تو ہے۔ صدقہ دیتے ہیں۔ زکٰوتہ دیتے ہیں یہ محبت ہی تو ہے۔
یہ محبت نہیں۔ کبھی سوچا آپ نے آپ ایسا کیوں کرتے ہیں۔
آپ ایسا اس لیے کرتے ہیں کہ آپ کو اللہ سے لالچ ہے۔ اللہ جی یہ کام نکلوادو تو اتنے پیسے صدقہ دوں گا۔ اللہ جی یہ کام کروا دو اتنے نفل پڑھوں گا۔
اور فرائض کی جہاں تک بات ہے تو ہمارے دلوں میں یہ لالچ بٹھادیا گیا ہے کہ آپ کو جنت میں حوریں اور دودھ،شہد شراب کی نہریں ملیں گی۔ ہم اسی لالچ میں نماز پڑھتے ہیں اور پڑھتے چلے جارہےہیں زکٰوتہ دیتے ہیں اور حج پر حج کرتے چلے جاتے ہیں۔
کبھی سوچا آپ نے آپ رب کی عبادت کرتے ہیں کہ اس کے ساتھ بیوپار اور کاروبار کرتے ہیں۔ یہ تو بنیے کاکام ہے ہم مسلمان ہو کر ایسے۔ عجیب بات نہیں ۔
اللہ کہتا ہے میری طرف ایک قدم بڑھاؤ میں تمہاری طرف دو قدم بڑھاؤں گا۔ مگر اس قدم میں اخلاص تو ہو۔ جو بندہ جو چاہتا ہے اللہ اس کو دے دیتے ہیں ۔
جو دنیا کی آرزو رکھتا ہے اسے دنیا ملتی ہے اور جو جنت اور حوروں کی آرزو رکھتا ہےاسے بھی ہہ ہی ملیں گی۔اور جو اللہ کی خواہش کرتے ہیں کبھی سوچا انھیں کیا ملے گا۔
انھیں اللہ ملے گا۔ آپ ہم صوفی نہیں۔ ہم تو دنیا دار بندے ہیں۔ ہم کہاں اللہ کو پا سکتے ہیں ۔مگر کوشش تو کی جاسکتی ہے۔ مانا کہ راہِ عشق میں ٹھوکریں بہت ہیں ۔ ہم یہ سب برداشت نہیں کر سکتے کہ وہ بڑے لوگ تھے داتا صاصب اور خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیھم جیسے، جو اللہ کو راضی کرتے تھے۔
جن کو بخار چڑھتا تھا اور اللہ سے شفا کرنے کی دعا کرتے تو جواب آتا کہ بخار بھی ہمارا اور بندہ بھی ہمارا پھر تو کون بولنے والا۔
مگر ہم اللہ کو دوست تو بنا سکتے ہیں۔ اس سے اپنے لیے رحمت تو مانگ سکتے ہیں ۔ اس کو اپنے ساتھ تو رکھ سکتے ہیں ۔ کھانے میں ، پہننے میں ، چلتے پھرتے اور سوتے ہوئے اسے یاد تو رکھ سکتے ہیں۔
اللہ بہت رحیم ہے مانا کہ وہ جبار قھار بھی ہے مگر رحیم اور رحمان بھی تو ہے۔تو اسکو اپنی زندگی میں شامل رکھیے۔ نماز پڑھ کر اللہ کو مسجد میں نہ چھوڑ آیے۔ اسے اپنے ساتھ رکھیے۔ یہ احساس رکھیے کہ وہ آپ سے ساتھ ہے پھر دیکھیے جینے کا مزہ کس طرح آتا ہے۔
جب آپ اپنی چھوٹی چھوٹی باتیں اس کے ساتھ شیئر کرنے کے عادی ہو جائیں گے تو وہ بھی آپ کی سننے لگے گا پھر یہ گلہ بھی ختم ہو جائے گا کہ اللہ سنتا نہیں ۔کوئی کام ہو گیا تو اس کا شکر کیجیے، نہیں ہوا تو پھر سے دعا کیجئے رحمت اللعالیمین صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے دعا کیجئے وہ کس طرح نہیں سنے گا ضرور سنے گا۔ اگر کام نہیں ہوتا تو اس سے صبر کی دعا کیجیے کہ کامیابی نہیں تو صبر دے دے۔
بخدا زندگی بالکل ایسے ہو جائے گی جیسے جنت ہو۔ کبھی آزما کر دیکھیے گا۔
منگل، 25 اکتوبر، 2005
عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم
سر نے جواب دیا ایک دو لڑکوں نے اپنے عقیدے کے مطابق جواب دیا کہ رسول کرم صلی اللہ علیہ وسلم درود شریف کا جواب دیتے ہیں یا ایک فرشتہ ہمارا درود ان تک پہنچاتا ہے۔
اور میں سوچتا رہا ہم سب یہ کن بحثوں میں پڑے ہوئےہیں۔
کیا عاشق اس بات کو سوچتا ہے کہ محبوب سامنے ہے یا نہیں۔
وہ تو عشق کیے جاتا ہے۔ عشق کیا جانے ان چیزوں کو اس کا تو دل مدینہ ہوتا ہے۔ اور جس کے عشق میں وہ سرتاپاغرق ہے وہ اسےنا جانے یہ کہاں لکھا ہے۔ ہم صرف بے معنی باتوں میں الجھے ہیں۔ عشق کر کے تو دیکھیں آپ ان چیزوں سے بے نیاز ہو جائیں گے۔ عاشق کو تو محبوب کی رضا چاہیے اور یہ آپس میں لڑ لڑ کر ہلکان ہو رہے ہیں۔
جمعرات، 20 اکتوبر، 2005
پاگل دل
“مالک کیا ہم اتنے ہی بے وقعت ہیں جو آئے روند کر چلا جائے ۔تُو تو سنتا ہے ہم نے تمہیں پکارا مگر ہماری کیوں نہیں سنتا! دکھ دینا تھا تو صبر دے دیتا یہ اتنا سارا دکھ کہاں لے جائیں“
دل اور بھی شکوہ کرتا نادان تھا نا مگر عقل نے روک دیا۔
“رک کیا کر رہا ہے۔ کفر بکتا ہے اللہ تم پر مہربان ہے بھلا وہ تمہاری کیوں نہ سنےگا“
دل پھر مچلا
“مگر پھر یہ کیوں! کیا اسے سنتا نہیں کیا اسے دکھتا نہیں کوئی کتنی تکلیف میں ہے “
اس سے آگے سوچنے کی مہلت نہ ملی ۔ عقل نے ایک نیا زاویہ دکھایا۔
“کیا ہے تیرا دکھ اپنی من پسند چیز نہیں ملی تو اس کے احسان بھلا دیے ایک ایسی چیز کے لیے اس کے غضب کو آواز دیتا ہے جو سراسر دنیاوی ہے“
“تیرا دکھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دکھ سے تو بڑا نہیں یاد کر جب انھوں نے کہا تھا ہمیں دکھ ہے مگر ہم رو نہیں سکتے۔ یاد کر وہ وقت جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا قاسم اس دنیا سے چلا گیا۔ کیا تیرا دکھ اس سے بڑا ہےایک باپ کے دکھ سے جس کے سامنے اس کی اولاد چلی جائے وہ بھی بیٹا۔ اور پھر بھی وہ آنکھ سے آنسو نہیں ٹپکنے دیتے کہ اللہ کی رضا اسی میں تھی“
دل اب پشیمان ہو گیا“ میرا غم تو کچھ بھی نہیں اس کے آگے۔“ پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دکھ کو محسوس کیا تو آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انسان بھی تو تھے ایک باپ بھی تو تھے انھوں نے کیا محسوس کیا ہوگا مگر پھر بھی اللہ کی رضا کے آگے سر تسلیم خم کر دیا ۔
“اور تو ایک دنیاوی چیز کے نہ ملنے سے بلک رہا ہے۔
ان کی حالت دیکھ جن کے عزیز ان سے بچھڑ گئے گھر اجڑ گئے اولاد والے بے اولاد ہو گئے بچے یتیم ہو گئے اپنے دکھ کےساتھ انکے دکھ کو بھی تو رکھ کر دیکھ وہ بھی تو انسان ہیں وہ تو شکوہ نہیں کرتے وہ تو اب بھی شکر کرتے ہیں اور تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ناشکرا انسان“
عقل نے اب سختی اختیار کی تھی اور دل ۔۔۔۔۔۔دل اپنے دکھ کو اس دکھ کے سامنے ہیچ محسوس کر رہا تھاجو ہزاروں دل جھیل رہے ہیں۔
پھر عقل نے پیار سے سمجھایا
“پاگل دنیا میں ہر چیز نہیں مل جاتی ۔ کہیں اپنی منوائی جاتی ہے کہیں اسکی رضا پر چلنا پڑتا ہے۔ نہ چلےگا تو پھر کیا کر لےگا چلا تو لے گا وہ تجھے اپنی رضا پر! تو اپنی رضا سے چل۔۔۔ مفت میں اسکے سامنے نمبر بن جائیں گے ۔۔۔یہ بھی تو سوچ جو تجھ پر بیتی ہے اس میں تیرا کتنا ہاتھ ہے۔ کبھی تو نے سوچا کہ میں اس کے حقوق پورے ادا کروں اپنے حقوق کی فکر ہے تجھے۔کبھی سوچا کتنا گنہگار ہے اور وہ تجھے ڈھیل دیے جا رہا ہے اور تو پھر۔۔۔۔۔۔۔ “
دل و دماغ کی اس جنگ نے کئی عقدے سلجھا دیے۔ اگر دکھ جھیلنا ہے تو اپنے دکھ کا موازنہ دوسروں کے دکھ کے ساتھ کرو اپنا دکھ بھول جاؤ گے اپنے دکھ پر دکھی ہوتے شرم آئے گی اتنا ہیچ ہو جائے گا۔
پھر بے اختیار دل سے دعا نکلی
“مالک! ہم خطاکار،سیاہ کار،گناہ گار! تیری رحمت کے طلبگار باوجود کہ اس کے لائق نہیں پھر بھی ہم پراپنا رحم کرم اور فضل فرما۔ رحمتہ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے ہم سے رحمت بھرا سلوک فرما۔ ہم تجھ سے اپنے گناہوں کی توبہ مانگتے ہیں ہماری توبہ قبول فرما ہمیں اس مصیبت کی گھڑی میں جو ہمارے بہن بھائیوں پر آئی ہے ان کی مدد کرنے کی توفیق عطاء فرما اور ان کو صبرِ جمیل عطاء فرما آمین یا ربّ العالمین “
اتوار، 9 اکتوبر، 2005
شکر کیجئے
کتنے چھوٹے چھوٹے اعمال ہیں جو ہم بھولتے جارہے ہیں ۔ جن پر کوئی توانائی خرچ نہیں ہوتی مگر کوئی دھیان تو کرے۔ میں واعظوں کی طرح مسواک کرنے،داڑھی رکھنے یا شلوار کو ٹخنوں سے اونچا کرنے کی بات نہیں کررہا ۔ بلاشبہ انکی اپنی اہمیت ہے مگر یہاں بات رویوں کو درست کرنے کی ہو رہی ہے۔
عام زندگی میں ہم ہر اس شخص کے شکر گزار ہوتے ہیں جو ہم پر کوئی چھوٹا سا بھی احسان کرے۔ مگر ہم اپنے سب سے بڑے محسن کو بھولتے جارہے ہیں ۔رسمی طور پر تو اسکا شکر ہر کوئی ادا کرتا ہے جیسے :
"اسلم بھائی کیا حال ہے"
"اللہ کا شکر ہے ارشد بھائی "
"کاروبار کا سنائیں"
"بس یار نہ ہی پوچھو بس گھسیٹ رہے ہیں"
عجیب بات ہے نا۔ ایک طرف تو اللہ کا شکر دوسری طرف شکوہ۔یہ عام سی بات ہے کوئی بھی اپنی طرزِ زندگی سے مطمئن نہیں ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ ہم شکر نہیں کرتے۔ سوچیں اللہ جس کی رحمت لمحہ لمحہ ،ہر سانس کے ساتھ ہم پر برس رہی ہے وہ تھکتا نہیں ہمیں نوازتا اور ہم،اس کا شکر بھی ادا نہیں کرسکتے؟ مگر اس سے کیا ہوگا؟ شائد یہ سوال کچھ دلوں میں اٹھے تو اس سے یہ ہو گا کہ آپ کے ہر اس کام میں برکت دے دی جائے گی جس بارے شکر کیا جائے۔ شکر کا اصول ہے کہ جس بارے یہ کیا جائے اللہ اس کام میں بڑہوتری دے دیتے ہیں ۔ تو احساس رکھیں کہ کوئی ہے جس کی رحمت ہر لمحہ ہم پر سایہ فگن ہے۔ جب یہ احساس رہے گا تو شکر گزاری کے جذبات بھی پیدا ہو نگے اور شکر کے چند الفاظ ہماری زندگیوں میں انقلاب لے آئینگے کہ ہم پر خدا کی رحمت ہو گی۔ اور جس پراس کی رحمت ہو وہ بھلا کبھی ناکام ،بے بس ، مجبور ، پریشان ،بے زار ہوسکتا ہے ؟
نہیں کبھی نہیں ۔
تو آئیے شکر ادا کریں ۔ یا اللہ تیرا شکر ہے تو نے ہمیں مسلمان بنایا۔ یا اللہ تیرا شکر ہے تو نے ہمیں محمدکا امتی بنایا۔ یا اللہ تیرا شکر ہے تو نے ہمیں بغیر عیب کے پیدا کیا۔ یا اللہ تیرا شکر ہے تو نے ہمیں لاکھوں سے بہتر زندگی دی۔ یا اللہ تیرا شکر ہے تو نے ہمیں پاکستان عطاءکیا۔ یا اللہ تیرا شکر ہے تو نے ہمیں رزق دیا۔ یا اللہ تیرا شکر ہے ۔ یا اللہ تیرا شکر ہے۔ آئیے آئندہ سے شکر کرنے کا عہد کریں اللہ ہمیں شکر کرنے کی توفیق دے آمین۔