شاکر میاںالسلام علیکممضمون ارسال کرنے کا بے حد شکریہ؛ حمزہ کا مسئلہ بھی حل ہوگیا! آپ کا بہت شکریہ۔آپ کی ارسال کردہ تحریر ڈی او سی ایکس فارمیٹ میں ہے؛ اور میرے پاس صرف پرانا ایم ایس ورڈ۲۰۰۰ اور اوپن آفس ہی موجود ہے۔ دونوں سافٹ ویئر ہی ڈی او سی ایکس فارمیٹ کو سپورٹ نہیں کرتے۔ اگر ممکن ہو تو یہ مضمون مجھے اوپن آفس میں ارسال کردیجئے۔آپ کی کتابوں کی تلاش جاری ہے۔ فی الحال تمام جگہوں سے معذرت ہی سننے کو مل رہی ہے؛ لیکن اُمید ہے کہ ان شاء اللہ کامیابی مل ہی جائے گی۔ کیا آپ کے پاس مولوی عبدالحق کی اُردو املا والی کتاب ہے؟آپ کے فورم سے کچھ احباب نے رابطہ کیا تھا؛ لیکن بعد میں کوئی ای میل نہیں آئی۔ اگر ممکن ہو تو گلوبل سائنس کی طرف سے معاضوں کا اعلان اپنی ویب سائٹ پر رکھ دیجئے؛ تاکہ وہاں آنے والے احباب کے ذہنوں میں تازہ ہوتا رہے۔سردست میری نظر چند ایسے موضوعات پر ہے جو شاید آپ جیسے ماہر لوگوں کے لیے معمولی ہوں؛ مگر مجھ جیسے پینڈووں کے لیے بہت اہم ہیں۔ مثلاًکانٹینٹ مینجمنٹ سسٹم (کیا ہوتے ہیں؛ کیسے کام کرتے ہیں؛ اور ویب سائٹ کی تیاری میں ان سے کیونکر استفادہ کیا جاسکتا ہے)۔بلاگنگ (یعنی بلاگنگ کی ابتداء سے لے کر آج تک کی تاریخ؛ فوائد و نقصانات؛ دنیا کے مقبول بلاگز اور ان کے موضوعات؛ اردو بلاگنگ کے مقدار و معیار پر ایک طائرانہ نظر؛ بلاگنگ میں معاون مختلف سافٹ ویئر؛ اچھے یا معیاری بلاگ کی اہم ترین خصوصیات؛ انگریزی میں بلاگ کیسے بنایا جاسکتا ہے؛ اُردو میں بلاگ بنانے کے لیے اس کے علاوہ مزید کیا کرنا ہوگا وغیرہ)۔اُردو زبان میں انٹرنیٹ سے بہتر استفادہ کرنے کے لیے دستیاب آن لائن ’’اوزار‘‘ (یعنی ٹولز)؛ ان کی خوبیاں اور خامیاں؛ استعمال کے طریقے اور ان کے مختلف ورژنز وغیرہ۔کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی دنیا میں اردو کا ماضی حال اور مستقبل؛ چبھتے ہوئے سوالات: کیا اب بھی رومن اُردو کی ضرورت باقی رہ گئی ہے؟ کیا اب بھی یہ اصرار کیا جانا چاہیے کہ محض انگریزی ہی کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی زبان ہے؟ کیا اس جدید دور میں ادیبوں اور شعراء میں اتنی اہلیت ہے کہ وہ اردو زبان کو ترقی دینے کے تقاضے پورے کرسکیں؟ کیا صرف اردو ویب سائٹس؛ بلاگز اور اردو ٹولز ہی اردو کو ترقی دینے کے لیے کافی ہیں یا ہمیں کچھ اور بھی کرنا ہوگا؟ وغیرہ۔اُمید ہے کہ اس حوالے سے بھی بہت جلد آپ کی طرف سے کچھ نہ کچھ سننے کو ضرور ملے گا۔ ویسے اگر آپ چاہیں تو پہلے کی طرح اس بار بھی میرے اس خط کو اپنے بلاگ پر شامل کرسکتے ہیں۔ گر قبول افتد؛ زہے عز و شرف۔آخر میں ایک بات اور: میں اپنی فطرت میں رجائیت پسند (آپٹمسٹ) ہوں؛ اور مایوسی کو کفر کے مترادف خیال کرتا ہوں۔ لیکن میری ناقص رائے میں؛ اس جذبے کی ترویج کے لیے آپ اور آپ جیسے احباب سے رابطہ رہنا اور گفت و شنید کا سلسلہ جاری رہنا بھی اشد ضروری ہے تاکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی بھی لائی جاسکے۔اُمید ہے کہ اس بار بھی تعاون ملے گا۔جواب کا منتظرعلیم احمدفون: 02132625545
ای میل: globalscience@yahoo.com
ای میل لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
ای میل لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
منگل، 5 جولائی، 2011
مدیر اعلی کی طرف سے ایک اور خط
لو جی میرا بلاگ ڈاکیے کا کام کررہا ہے گلوبل سائنس اور اردو بلاگرز میں۔ کل ایک مضمون لکھا تھا، امید ہے اس کے بدلے ایک اچھا ڈنر کرسکوں گا اگلے ماہ۔ اس کے جواب میں مدیر اعلی کا خط آیا ملاحظہ کریں۔ اور اردو بلاگرز سے درخواست ہے کہ گلوبل سائنس کو لائٹ نہ لیں، آپ کے بلاگ کی تحاریر ہی اس میں شائع ہوتی رہیں تو آم کے آم گٹھلیوں کے دام ہوجائیں گے۔
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)