انتخاب لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
انتخاب لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 30 اگست، 2008

صدارت اور آصف علی زرداری

بطور صدارتی امیدوار آصف علی زرداری کی عوام میں غیر مقبولیت کو اب ایک اور انداز میں ایک کالم نگار پیش کررہے ہیں۔ پی پی پی کو ایک ہی چیز کی فکر ہے اور وہ ہے کہ 12 سال کے بعد جو اقتدار ملا ہے اس پر ہر طرف سے گرفت مضبوط کرلی جائے۔ باقی ستے خیراں ہیں۔  ججوں کو بھی پی سی او کے تحت بحال کیا جارہا ہے۔ زرداری جی جن کے نازک کندھوں پر پورے ملک کی ذمہ داری ہے اب ایوان صدر میں بیٹھ کر اسے بہ احسن سرانجام دے سکیں گے۔


مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی جب صدر ایک علامتی عہدہ ہے، صرف وفاق کی علامت تو اس کے لیے زرداری جی اتنے کشٹ کیوں اٹھا رہے ہیں۔ اپنی بے عزتی خراب کروارہے ہیں اور پارٹی کی الگ درگت بن رہی ہے۔ صدر بن کر زرداری کو کیا مل جائے گا؟ صدر پی پی پی کا ہوجائے گا، ایوان صدر سے کوئی مداخلت نہیں ہوسکے گی، پانچ سال کی آئینی مدت پوری ہونے کے امکانات روشن ہوجائیں گے۔ وغیرہ وغیرہ اس کے جواب ہوسکتے ہیں۔ سوال یہ ہے اگر سترہویں ترمیم ختم کردی جاتے ہے تو صدر کی طرف سے مداخلت کا خدشہ پھر بھی ختم ہوجاتا ہے۔ لیکن اب یہ ختم نہیں ہوگی۔ زرداری صاحب اب گولف کھیلنے اور تقاریب کا افتتاح کرنے تو جائیں گے نہیں۔ کوئی دھوم دھڑکا پاس ہونا چاہیے چاہے وہ 58-2بی ہی ہو۔


اوپر ذکر کیے گئے کالم نگار مخالفت کو پھر پنجابی اسٹبلشمنٹ کی کارستانی قرار دے رہے ہیں۔ پنجاب نے یہ کردیا، پنجاب نے وہ کردیا۔ اب پنجاب ایک چھوٹے صوبے سے صدر بھی نہیں بننے دے رہا۔  میرا ذاتی طور پر خیال تھا کہ پی پی پی اب بلوچستان سے صدر لائے گی۔ جو سندھ سے بھی زیادہ مستحق صوبہ ہے۔ لیکن وائے قسمت وڈے سائیں راضی نہ ہوئے۔ کھٹک تو اسی وقت لگ گئی تھی جب موصوف نے ضمنی انتخابات نہ لڑے اور 3 ماہ کے وزیر اعظم بعد میں بھی حاضر سروس رہے۔


ن لیگ سے اتحاد واقعی غیر فطری تھا اور اسے ختم ہونا ہی تھا۔ لیکن پارٹی کا طرز عمل اور زرداری جی کے لارے لپوں نے نواز شریف کو یہ سب پہلے ختم کرنے پر مجبور کردیا۔ پی پی پی کی فکر کہ اقتدار مضبوط ہوجائے امید ہے چھ ماہ کے بعد اگلے ماہ مُک ہی جائے گی۔ اب دیکھتے ہیں معیشت کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ سعودی عرب سے قرضے کی بات بھی ہوگئی ہے۔ عالمی بینک بھی "امداد" دے رہا ہے۔ امید ہے اس بھیک سے کچھ عرصہ تو گزرے گا ہی۔

جمعہ، 28 دسمبر، 2007

بےنظیر چلی گئی۔۔۔۔۔

بی بی سی پر تازترین میں‌ بینظیر کی ہلاکت کی خبر موجود ہے۔ ابھی سرکاری ٹیلی وژن نے بھی یہی خبر دی ہے۔ میں بے نظیر سے نظریاتی اختلاف رکھتا تھا اور بے شک میں‌ اسے ووٹ بھی نہ دیتا۔ لیکن ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ کبھی بھی نہیں۔ وہ جیسی بھی تھی ایک لیڈر تھی۔ لیڈر میں‌ پوری قوم کی جان ہوتی ہے۔ لیڈر کی موت قوم کے اندر ایسے نامٹنے والے زخم چھوڑ جاتی ہے جو ناسور بن کر قوم کو کھا جاتے ہیں۔ بے نظیر بھٹو کی موت ایک سیاسی عمل کی موت ہے۔ اگر پہلے انتخابات سے ہمیں‌ کچھ بہتری کی امید بھی تھی تو بھی نہیں‌۔ بے نظیر ایک ایسے طبقہ فکر کی نمائندہ تھی جو ملک کو ترقی کی راہوں پر گامزن دیکھنا چاہتا تھا۔ بے شک اس کی موت کا خلاء کبھی بھی پورا نہیں ہوسکے گا۔
بےنظیر ایک جینوئن لیڈر تھی۔ بلاشک ذولفقار علی بھٹو نے اپنی بیٹی کی تربیت ایسے ہی کی تھی۔ اس کے اندر اظہار کی جرات تھی اور مذہبی انتہاپسندی کے خلاف اس کا موقف بہت سخت اور واضح تھا۔ یہی موقف اس کی موت کا سبب بن گیا۔ لعنت ہے ایسی حکومت پر جو ایک لیڈر کو سیکیورٹی بھی فراہم نہ کرسکی۔ یہ سب کچھ مشرف کی ناعاقبت اندیشانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ اس ایک ہلاکت کے ردعمل میں کیا کیا فتنے سراٹھائیں‌گے ان کا تصور ہی لرزہ طاری کردیتا ہے۔ اب پیچھے رہ ہی کیا گیا ہے لوٹے اور چمچے۔
اللہ سائیں لواحقین کو صبر جمیل عطاء کرے اور مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام نصیب فرمائے۔ یاللہ ہمیں‌ استقامت اور حق کا ساتھ دینے کی توفیق عطاء‌فرما۔ آمین

ہفتہ، 24 نومبر، 2007

لینکس کی ہلکی پھلکی ڈِسٹروز

لینکس میں اس وقت کئی تصویری مواجے دستیاب ہیں۔ جیسے گنوم ، کیڈی اور ایکس ایف سی ای۔ اول الذکر دو ڈیسکٹاپ ماحول نسبتًا ماڈرن پی سی کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ ان میں تبدیلیاں بہت تیزی کے ساتھ آتی ہیں اور ان کا بنیادی مقصد صارف کو ایک مکمل تصویری مواجہ فراہم کرنا ہے۔ تاکہ وہ ہر کام اپنے لینکس سسٹم ہر رہتے ہوئے کرسکے۔ چناچہ ان تصویری مواجوں کو استعمال کرنے والے بھی زیادہ ہیں اور ان کی "پیدائیشی" ڈویلپمنٹ کٹس میں تیار کئے گئے اطلاقیے لینکس دنیا میں تھوک کے حساب سے مل جاتے ہیں۔ چونکہ ان کا مقصد ہر سہولت تصویری مواجے میں‌ فراہم کرنا ہے اس لیے پرانے پی سی جیسے پی ٹو 450 میگا ہرٹز پر ان کا چلنا خاصا اوکھا کام ہے۔ خصوصًا کیڈی تو پرانے پی سی کا ویری ہے ذرا سی میموری کم ہے یا سپیڈ کم ہے تو سسٹم اڑیل ٹٹو کی طرح بار بار کھڑا ہوجاتا ہے۔
دوسری طرف لینکس کے لیے کچھ ایسے تصویری مواجے بھی دستیاب ہیں جو یا تو بہت ہی ہلکے پھلکے ہیں یا پھر ان کے اطلاقیے نسبتًا سادہ اور کام چلاو پالیسی کے تحت بنائے گئے ہیں۔ ایسے مواجے عمومًا فائل مینجر کہلاتے ہیں۔ کیڈی اورگنوم میں بھی فائل مینجر ہوتے ہیں لیکن ان کے ساتھ جہیز میں اور بھی بہت کچھ آجاتا ہے۔ ان کی عام مثال فلکس باکس
Free Image Hosting at www.ImageShack.us
اور انلائٹمنٹ وغیرہ ہیں۔ یہ فائل مینجر سادہ، آسان اور ہلکے پھلکے ہیں چناچہ اگر آپ کا پی سی دادا پڑدادا قسم کا ہے تو اچھی رفتار کے حصول کے لیے انھیں استعمال کیجیے۔
جہاں تصویری مواجے کی سطح پر یہ تحریک چل رہی ہے وہیں ڈسٹرو کی سطح پر بہت سی ہلکی پھلی ڈسٹروز موجود ہیں۔ کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ پرانے 486 سسٹم پر بھی یہ ڈسٹروز چل جاتی ہیں۔ پپی لینکس اس قسم کی ڈسٹروز کی مثال ہے۔
پپی لینکس سے قطع نظر چونکہ ہم بھی 486 کو اب کوڑے کی زینت بنانا پسند کریں گے ہم آپ کو پی ٹو اور تھری سسٹمز کے لیے ایک آدھی اچھی اور ہلکی پھلی ڈسٹرو کا مشورہ دیں گے۔ اوبنٹو کے ایک عاشق نے فلکس باکس کو اوبنٹو پر لگا کر ایک نئی ڈسٹرو بنائی ہے۔
فلکس بنٹو
اوبنٹو کی روائیتی آزادی اور فلکس باکس کے "ہلکے پن" کے ساتھ پرانے پی سی کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے۔ اس کی تنصیب کوئی مشکل کام نہیں۔ سادہ سا ٹیکسٹ بیسڈ انسٹالر استعمال کرنے میں بہت آسان ہے۔
اسی قسم کی ایک اور تحریک مینڈریوا کے فورمز پر بھی چل رہی ہے۔
جہاں مینڈریوا کا ایک ہلکا پھلکا بہروپ تیار کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
اگر دیسی چیز استعمال کرنے کا ارادہ ہے تو اردو سلیکس بھی استعمال کرسکتے ہیں جسے محمد علی مکی نے کچھ فونٹس اور وال پیپرز ڈال کر "مسلمان" کیا ہے۔

جمعہ، 23 نومبر، 2007

منظر نامہ

اس میں کوئی شک والی بات نہیں کہ "گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دو" کا نعرہ لگانے والے ایک بار پھر سے اسی دیوار میں چن دئیے گئے ہیں۔ پرویز مشرف نے ایک بار پھر سے میدان مار لیا ہے۔ ایمرجنسی لگانے کا وقت اس سے بہتر ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ ملک میں عام انتخابات قریب تھے۔ امن و امان کا بہانہ موجود تھا چناچہ ملک پر ایمرجنسی لگا دی گئی۔ اس کے ساتھ ہی مشرف نے "ناپسندیدہ" ججوں اور میڈیا والوں نے نجات حاصل کرلی۔ اگرچہ اس کا خمیازہ پاکستان کو معاشی ترقی میں سست رفتاری اور دولت مشترکہ کی رکنیت کی ایک بار پھر معطلی کی صورت میں بھگتنا پڑا ہے لیکن یہ تو پھر سے ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔
اس وقت جبکہ عام انتخابات نزدیک ہیں ہر پارٹی ان میں سے اپنا حصہ لینے کے لیے دانت تیز کررہی ہے۔ بات جہاں تک اصول کی ہے تو پہلے کس نے یہاں اصول پر سیاست کی ہے۔ بی بی اور نواز شریف کہاں چاہیں گے کہ ان کا حریف انتخابات میں ہو اور وہ آؤٹ ہوں۔ اپوزیشن کا ایک نکتے پر متفق ہوکر انتخابات کا بائیکاٹ کرنا جوئے شیر لانے سے بھی اوپر کی چیز لگ رہا ہے۔ مشرف کی سعودی عرب یاترا کے بعد نواز خاندان کی واپسی کے اشارے مل رہے ہیں۔ اگر وہ واپس آرہے ہیں‌ تو اس کا مطلب ہے کہ انتخابات میں بھی حصہ لیں گے۔ ن لیگ اگر حصہ لیتی ہے تو باقی کون ہے جو پیچھے ہٹے گا بی بی تو ویسے ہی امریکہ سیاں کی لاڈلی ہے۔ پیچھے ایم ایم اے رہ جاتی ہے تو وہ بھی اس دوڑ میں چاہے آخری نمبر پر آئیں حصہ ضرور لیں گے۔
ایسا لگ رہا ہے کہ سول سوسائٹی کے چند دردمند لوگ، وکلاء اور صحافیوں کی قربانیوں اور احتجاج کا کوئی ثمر نہیں ملنے والا۔ عمران خان جیسا ایک آدھ پاگل ہی شاید اور ہے جو انتخابات کے بائیکاٹ کی بات کرتا ہے۔ لیکن اس کی کون سنے گا۔ اگرچہ اس کی تعریفیں ہورہی ہیں لیکن تعریف سے پیٹ نہیں بھرتا بات ووٹ کی ہے۔ عام ووٹر ایک عرصے سے * لیگ اور * پارٹی کا عادی ہے اور اس بار بھی انھیں ہی ووٹ ڈالے گا۔ مشرف یافتہ لیگ اس بار بھی پالا مارنے کے چکر میں ہے آکر پانچ سال جم کر شہنشاہ کا ساتھ دیا ہے۔ موجودہ حکومت اور مقامی حکومتیں ان پر ضرور اپنی "رحمتیں" نازل کریں گی۔
وہ ساٹھ جج جو اسیری کے دن کاٹ رہے ہیں شاید ان کی قربانیاں رائیگاں جائیں، اور اگلی بار کسی افتخار چوہدری اور بھگوان داس کو حلف نہ اٹھانے کی جرات نہ ہوسکے۔

جمعرات، 22 نومبر، 2007

ایک نیا کھلونا

مجھے اچھی طرح یاد ہے آج سے کوئی دس سال پہلے میرے ماموں کی بیٹھک میں ڈاکٹر قدیر خان کا ایک پورٹریٹ ہوا کرتا تھا۔ جس پر لکھا تھا محسن پاکستان ڈاکٹر قدیر خان۔ ایک عرصے تک ڈاکٹر قدیر خان ہمارا ہیرو رہا۔ ہم اس کے گن گاتے رہے۔ پھر مشرف آیا اور اسے بند کردیا۔ ہم نے کچھ عرصہ تک احتجاج کیا۔ دبی دبی کراہیں بلند ہوئیں اور معاملہ دب دبا گیا۔ کبھی کبھی کوئی اخبار والا بین کردیتا ہے اور فرض کفایہ ادا ہوجاتا ہے۔
پھر اس سال مارچ میں ہمیں ایک اور کھلونا مل گیا۔ یہ افتخار محمد چوہدری تھا۔ پرویز مشرف نے اس کے خلاف ریفرنس کیا بھیجا ساری قوم کو جیسے آگ لگ گئی اور پھر تاریخ نے دیکھا کہ ملک کے پھنے خاں صدر نے بھی ہاتھ کھڑے کردئیے۔ افتخار چوہدری جو اس سے پہلے ایک عام سا چیف جسٹس تھا ہمارے لیے بہت خاص بن گیا۔ جیسے یہی اس قوم کا مسیحا ہو۔ اخبار، میڈیا اور میرے جیسوں کی زبانیں اس کی تعریف میں سہرے کہنے لگیں۔ لیکن حالیہ ایمرجنسی نے ہم سے ہمارا یہ کھلونا بھی چھین لیا۔ اب افتخار چوہدری کوئٹہ میں نظر بند پڑا ہے۔ کبھی کبھار اس کے بارے میں کوئی ذکر کرلیتا ہے اور بات ختم۔
اب ہمیں اک نیا کھلونا مل گیا ہے۔ پوجنے کے لیے ایک نیا چہرا۔ عمران خان، گریٹ خان پاکستان کا سابق کپتان اور پاکستان تحریک انصاف کا صدر۔ امید باندھنے والوں کو تو بس ایک آس چاہیے ایک ہلکی سی آس سو انھوں نے اس کے ساتھ لگا لی ہے۔ عمران خان ہی شاید مسیحا ہے میرے جیسے یہ سوچتے ہیں۔ عمران خان ظلم کے خلاف سیسہ پلائی دیوار ہے سچا کھرا انسان ہے وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔ ہر کوئی اپنے انداز میں اس کی تعریفیں کررہا ہے۔ ان عام انتخابات میں --اگر ہوئے تو-- اس کی پارٹی اچھی خاصی نشستیں‌ جیتنے کی امید کرسکتی ہے۔
بات کرنے کا مقصد یہ تھا کہ مجھے لگا شاید ہم پچاری ہیں۔ محمد بن قاسم کی آمد سے بھی پہلے کے پچاری، بس بت بدل گئے ہیں۔ جلدی جلدی بدلنے لگے ہیں یا ہم کسی بت سے جلد ہی اکتا جاتے ہیں۔ ہمارا کام بس پوجا کرنا ہے، یا کھیلنا۔ یہ ہمارے کھلونے ہیں جن سے ہم کھیلتے ہیں اور جب ایک چھن جاتا تو ہم دوسرا تراش لیتے ہیں۔
ہم بچے ہیں، نادان بچے جنھیں اپنے کھلونے سے غرض ہے، بس ایک کھلونا ملا رہے اور اس ایک کھلونے کے بل پر ہم اپنے خوابوں خیالوں میں جانے کیا کیا کرگزرتے ہیں۔

منگل، 2 اکتوبر، 2007

نیوز پورٹل

یہ تھیم اس وقت مورخہ 7 جنوری 2007 کو ہمارے بلاگ کے زیر استعمال ہے۔ اس تھیم میں ایک آدھ ناقابل غور غلطیوں کے علاوہ اور کوئی غلطی موجود نہیں۔مکمل اردو ترجمہ شدہ ہے اور ویب پیڈ اس بار ہم نے تھیم کے فولڈر میں ہی رکھ دیا ہے اب صارف کو صرف اسے حاصل کرکے ورڈپریس کی /wp-contetn/themes ڈائرکٹری میں چڑھانے کی زحمت کرنا پڑے گی اور کچھ نہیں۔ اس تھیم میں قدیر احمد رانا کی مہربانی سے ایک اور چھوٹی سی خوبی بھی شامل کی گئی ہے کہ اس کا فونٹ اپنی پسند کے مطابق بدلا جاسکتا ہے۔ یہ کھڑاگ اس لیے پھیلانا پڑا کہ ہم جو پاک نستعلیق کے بڑے دعویدار بنے پھرتے تھے لینکس پر اس کے درست نظر نہ آنے کا سن کر جھاگ کی طرح بیٹھ گئے۔ اور مجبوًا اردو نسخ ایشیا ٹائپ کو بنیادی فونٹ بنانا پڑا دوبارہ سے۔ البتہ اس جاوا سکرپٹ میں پاک نستعلیق کا انتخاب بھی شامل کردیا گیا ہے۔ دعا ہے کہ پاک نستعلیق کا لینکس پر پیشکش کا مسئلہ جلد حل ہو اور ہم اپنے بلاگ اور آئندہ تھیموں کا بنیادی فونٹ اسے بنا سکیں۔ اگر آپ کو اچھا لگے تو دعاؤں میں یاد رکھیئے گا۔ وسلام Free Image Hosting at www.ImageShack.us اتارنے کے لیئے یہاں کلک کریں متبادل ربط


 

جمعہ، 22 جون، 2007

انتخاب

پھڑ نقطہ چھڈ حساباں نُوں


چھڈ دوزخ گر عذاباں نوں


کر بند کفر دیاں کتاباں نوں


کر صاف دلے دیاں خواباں نوں


گل ایسے گھر وچ ڈھکدی اے


اک نقطے وچ گل مکدی اے


ایویں متھا نئیں زمیں تے گھسائی دا


پالما محراب دکھائی دا


پڑھ کلمہ لوک ہسائی دا


دل اندر سمجھ نہ لائی دا


کدی سچی گل وی لُکدی اے


اک نقطے وچ گل مکدی اے


اک جنگل بحریں جاندے نیں


اک دانہ روز دا کھاندے نیں


بے سمجھ وجود تھکاندے نیں


گھر آون ہوکے ماندے نیں


چلیاں اندر جند سکدی اے


اک نقطے وچ گل مکدی اے


کئی حاجی بن بن آئے جی


گل نیلے جامے پائے جی


حج ویچ، ٹکے لے کھائے جی


پر ایہہ کھل کینہوں بھائے جی


کتھے سچی گل وی رُکدی اے


اک نقطے وچ گل مُکدی اے


بلھے شاہ

جمعرات، 17 مئی، 2007

حکمرانوں کی بوکھلاہٹیں

میڈیا کے جرات مندانہ کردار نے حاکموں کو چیخنے پر مجبور کردیا ہے۔ کل مشرف صاحب اخبار میں فرما رہے تھے کہ میڈیا کے ساتھ سختی سے پیش آیا جائے گا. مشرف صاحب کو اب اپنے اقتدار کی جتنی شدید فکر پڑ گئی ہے پہلے کبھی نہ تھی۔ اب تو امریکہ بہادر بھی خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ اتحادی جماعتوں کو مشرف صاحب نے صدارتی انتخابات کی تیاریاں کرنے کی ہدایت کردی ہے۔


 جاوید چوہدری کا کہنا ٹھیک ہی تھا یوں لگتا ہے حاکم اب ڈرے ہوئے ہاتھی ہیں جو اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو روندتے جاتے ہیں۔

پیر، 7 مئی، 2007

ہم بے حس نہیں ہوئے

عرصہ ہوا میں نے سیاست پر لکھنا چھوڑا ہوا تھا۔ عمومی عوامی شعور کی طرح میں بھی سو واٹ اور پنجابی کے فیر کی ہوجائے گا کے چکر میں پڑا ہوا تھا۔ لیکن اب مجھے لگتا ہے کہ بہت کچھ ہوسکتا ہے۔ اصل میں پرویز مشرف و حواریوں کے خلاف لاوا اندر ہی اند پک رہا تھا۔ ایک عرصے سے پک رہا تھا۔ میں اپنی روزمرہ کی نشستوں میں اسے بخوبی محسوس بھی کررہا تھا۔ لیکن بات یہ تھی کہ کوئی رہبر نہیں تھا۔ کوئی ایسی سوئی جی اس غبارے کو پھاڑ دیتی۔ پرویز مشرف کی بدقسمتی کہ ایک ناعاقبت اندیشانہ فیصلے نے اس سوئی کا کام کیا۔ عوام کے ہاتھ ایک بہانہ آگیا ہے۔ یہ جو آپ سب دیکھ رہے ہیں یہ سالوں کی فرسٹریشن ہے جو چیف جسٹس کے بت کو چڑھاوے چڑھا کر نکل رہی ہے۔
اگرچہ میرے کچھ دوست اس سلسلے میں خفیہ ہاتھ کی موجودگی کے خدشات کا اظہار کررہے ہیں۔ لیکن میرے خیال میں عوام کہ بہانہ چاہیے تھا کہ حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور وہ بہانہ انھیں مل چکا ہے۔ میں چیف جسٹس کی حلف برداری اور مشرف کی حاشیہ برداری کی طرف نہیں جارہا ہوسکتا ہے ان کی بھی اہمیت ہو لیکن میرے لیے اتنا کافی ہے کہ میری قوم ابھی مردہ نہیں ہوئی۔ وہ حق کے لیے لڑنا جانتی ہے۔ میں حق صرف یہ سمجھتا ہوں کہ اب اس حکومت کو چلے جانا چاہیے۔ بس بہت ہوچکا۔ بلکہ میرا تو خیال ہے کہ چیف جسٹس کو ہی صدر کا انتخاب لڑنا چاہیے۔ اگر آرمی کا چیف جو سیکرٹری دفاع کے عہدے کا حامل ہے آٹھ سال ہم پر مسلط رہ سکتا ہے تو ملک کی اعلٰی ترین آئینی شخصیت کیوں نہیں۔
آخر جرنیلوں میں کونسے سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں کہ پچھلے ساٹھ سال سے ہمارے سروں پر گدھوں کی طرح منڈلا رہے ہیں۔ ہماری آمدن کا آدھے سے زیادہ فوج کو اور اس کا بیشتر یہ لوگ کھا جاتے ہیں۔ کسی چیز کا حساب نہیں دیتے مانگا جائے تو ملکی دفاع کا کہہ کر خاموش کردیا جاتا ہے۔ ان کی وجہ سے آج ہم خودکش حملوں کو بھگت رہے ہیں۔ ان کی روشن خیالی کے ردعمل میں ایک غریب حجام تک کو دھمکیاں ملنا شروع ہوگئی ہیں۔ یہ اسلام آباد میں روشن خیالی کی تبلیغ کررہے ہیں اور باقی ملک میں اسلام کے ڈنڈہ بردار اور بم بردار پیدا ہورہے ہیں۔
دو وقت کی روٹی مشکل کردی گئی ہے۔ بجلی بس استعمال ہی کی گئی ہے نا کہ مزید پیدا کرنے کا کچھ کیا جاسکتا۔ عوام کو آسائشوں کے نام پر اور ملک کو ترقی کے نام پر قرضوں کے جال میں پھنسایا جاچکا ہے اور جارہا ہے۔ ساتھ یہ نعرے لگائے جاتے ہیں کہ کشکول ٹوٹ گیا۔ کس کشکول کی بات کرتے ہیں یہ لوگ۔
مجھے خوشی ہے کہ میری قوم میں ابھی جرات باقی ہے۔ اور مجھے اس بات کی بھی خوشی ہے کہ پنجابیوں نے چیف جسٹس کا استقبال کرکے ثابت کردیا کہ پنجابی بھی حق کے ساتھ ہیں۔ ہاں ہم حق کے ساتھ ہیں۔ ہم وزیرستان اور بلوچستان میں اپنوں کے ہاتھوں کھیلی جانے والی خون کی ہولی کے خلاف ہیں۔ بخدا وہ ہم میں سے نہیں جنھیں پنجابی سمجھا جارہا ہے وہ تو چند غنڈے ہیں جو عوامی نمائندوں کے بھیس میں ہمارے بھی سروں پر مسلط ہیں۔مجھے رب کریم سے امید ہے کہ اب وہ دن دور نہیں جب اس ملک پر آزادی کا سورج طلوع ہوگا۔
ڈکٹیٹر شپ سے آزادی کا، نا انصافی اور ظلم سے آزادی کا، وڈیروں جاگیرداروں اور ظالموں سے آزادی کا۔ ہاں وہ دن دور نہیں۔بس جدوجہد کی ضرورت ہے۔

ہفتہ، 24 فروری، 2007

کے اوبنٹو کی تنصیب

بہت دنوں بعدہمارا ذہن اس طرف آیا ہے سوچا آج کے اوبنٹو کی تنصیب کے بارے میں لکھ ہی ڈالیں۔ اس کی تنصیب کوئی مشکل کام نہیں۔ سب سے پہلے تو یہ کریں کہ اپنے بایوس میں جائیں اور وہاں فرسٹ بوٹ ڈیوائس کو سی ڈی روم کرلیں۔


 


اس کے بعد کبنٹو کی سی ڈی سی ڈی روم میں ڈالیں اور سسٹم کو روبارہ سے سٹارٹ کرلیں۔ آپ کا سسٹم سی ڈی سے بوٹ ہوگا۔ کبنٹو کی نیلے رنگ کی تصویر اور اس کے نیچے کچھ اس قسم کے اختیارات نظر آرہے ہونگے۔


 



آپ نے حسب تصویر بوٹ فرام سی ڈی کو ہی منتخب کرنا ہے۔ اس کے بعد قریبًا تین سے چار منٹ میں(آپ کے سسٹم کی سپیڈ پر منحصر ہے) آپ کا لینکس بوٹ ہوکر ڈیسکٹاپ پر چلا جائے گا۔ اس کا منظر کچھ یوں ہوگا۔


اس میں آپ کو صرف دو آئیکن نظر آرہے ہیں۔ انسٹال والے پر کلک کریں اور تنصیب کا عمل شروع ہوجائے گا۔


لیکن اس سے پہلے آپ مختلف اطلاقیے چلا کر اپنی تسلی کرسکتے ہیں کہ آٰیا سب ٹھیک ہے یا نہیں۔ لیکن کسی بھی اطلاقیے کو لوڈ ہونے میں وقت لگے گا چونکہ یہ سارا کچھ براہ راست سی ڈی سے ہورہا ہے۔


تنصیب پر کلک کرنے سے آپ کے سامنے کچھ یہ چیز کھل جائے گی۔ یہاں سے آپ کو اپنی زبان منتخب کرتا ہوتی ہے چونکہ ابھی اردو لینکس کا کوئی حساب کتا ب نہیں اس لیے آپ انگریزی کو ہی منتخب کرلیجیے۔


Free Image Hosting at www.ImageShack.us


 


یہ کام کرنے کے بعد اگلی سکرین آپ کے سامنے کچھ یوں ہوگی۔


Free Image Hosting at www.ImageShack.us یہاں سے اپنا منطقہ وقت منتخب کرلیجیے۔ کراچی امید ہے آپ پہچان لیں گے جس کے ساتھ ہی آپ کا وقت جی ایم ٹی جمع پانچ پر سیٹ ہوجائے گا۔ جاری پر کلک کریں اور آگے کچھ یوں ہوگا۔ Free Image Hosting at www.ImageShack.us


اس جگہ آپ نے اپنا کی بورڈ منتخب کرنا ہے جو کہ طےشدہ ہوگا نئے سسٹم کے لیے۔ چونکہ ہم نے اردو کی سپورٹ وغیرہ سسٹم کی مکمل تنصیب کے بعد کرنی ہے اس لیے اس لیے انگریزی ہی منتخب کریں اور آگے پر کلک کردیں


 


Free Image Hosting at www.ImageShack.us


اس تصویر میں آپ سے آپ کا اسم صارف پوچھا جارہا ہے جو آپ نے نئے سسٹم کے لیے طےشدہ اسم صارف ہوگا۔ اپنی پسند کا نام رکھیں اور نچلے خانے میں آپ کے نام کی مناسبت سے آپ کے سسٹم کا نام بھی بن جائے گا جسے آپ بدل بھی سکتے ہیں۔


اگلے پر کلک کریں اور اب صحیح کام شروع ہوا ہے۔


Free Image Hosting at www.ImageShack.us


یہاں پر آپ نے ایک عدد ہارڈڈسک پارٹیشن یش کرنی ہے جس کی گردن پر چھری پھیر کر لینکس وہاں اپنا مکان تعمیر کرے گا۔ اگر آپ تصویر پر غور کریں تو اس میںhda5 کا کچھ ذکر ہے جس کو ری سائز کیا جانے کا کہا جارہا ہے۔


بنیادی طور پر یہاں تین انتخابات موجود ہیں اب آپ کی مرضی ہے کہ کونسا منتخب کریں۔ پہلا آسان ہے اس میں آپ کو پہلے بس اتنا کرنا ہے کہ اپنے سسٹم کی ایک ڈرائیو کو اتنا خالی کرلیں کہ وہ قریب قریب 70 فیصد خالی ہو بلکہ ہمارا تو خیال ہے کہ ساری ہی خالی کرلیں تاکہ ڈیٹا کھونے کا ڈر نہ رہے ہم یہ کم ڈی کسے ساتھ کیا کرتےہیں جو اسی صورت میں ظاہر ہوتی ہے یعنی ایچ ڈی اے 1۔ اصل میں لینکس میں سی سے مراد ہوتی ہے ایچ ڈی اے 1 اس کے بعد 3 مزید سی بن سکتی ہیں۔ اس کے بعد اگلی ڈرائیو شروع ہوتی ہیں۔ سو ڈی کے لیے 5 ، ای کے لیے 6 اور ایسے ہی آگے۔ اس طرح پرائمری ماسٹر کے لیے ایچ ڈی اے، اس کے بعد ایچ ڈی بی پرائمری سلیو کے لیے اور ایسے ہی آگے سی اور ڈی۔


اب آپ کے لیے ہمارا آسان سا مشورہ یہ ہے کہ اپنی ڈی پر چھری پھیر لیں جو کہ پہلے سے ہی منتخب شدہ ہوگی(چونکہ آپ نے اسے خالی کیا ہوا ہے اس لیے پارٹیشنر خودہی اس کو منتخب کرلے گا ورنہ جو آپ نے خالی کی ہوگی یا جس میں زیادہ سے زیادہ فیصد جگہ خالی ہوگی اسے ری سائز کرنے کا کہا جائے گا)۔


اب اگر آپ نے یہ کرلیا ہے تو آگے بڑھنے کے حقدار ہوگئے ہیں لیکن اگر آپ خود سے سارا کام کرنا چاہتے ہیں یعنی لینکس کو خود تیارکرکے ایک عدد پارٹیشن عنایت کرنا چاہتے ہیں تو اسی تصویر میں تیسرے انتخاب پر چلے جائیں۔ ویسے اگر آپ ونڈوز سے اتنے ہی تنگ ہیں تو اپنی ساری ہارڈڈسک کو فارمیٹ بھی مار سکتے ہیں۔


;)


اب ان اصحاب کے لیے ذرا الگ سے جو پارٹیشن کو خود سے کانٹ چھانٹ کر اس پر لینکس کی تنصیب کرنا چاہتے ہیں۔


اوپر والی تصویر میں نظر آنے والا تیسرا اختیار منتخب کرلیں۔ آپ کو اس تصویر کی طرح ایک نئی ونڈو نظر آئے گی۔ اس میں آپ کی تمام پارٹیشنن نظر آرہی ہونگی۔ آپ نے اپنی پسند کی پارٹیشن جس کو چھری پھیرنا ہے پر کلک کریں اور اس کو ڈیلیٹ کے آئکن پر کلک کرکے اڑا دیں۔ اس کے بعد اگلا کام آپ کو دو پارٹیشن بنانے کا کرنا ہے۔ لینکس میں ویسےتو تین پارٹیشن بھی ایک ہی تنصیب کے لیے استعمال ہوتی ہیں جن میں ایک سویپ، ایک روٹ جس میں آپ کا تمام کا تمام لینکس سسٹم نصب شدہ ہوتا ہے اور ایک ہوم پارٹیشن جس میں آپ کا ذاتی ڈیٹا ہوتا ہے ونڈوز والے اسے مائی ڈاکیومنٹس کی طرح سمجھ لیں۔ یہ ہوم والی پارٹیشن اضافی چیز ہے چاہے تو بنائیں نہیں تو روٹ والی میں ہی ایک ہوم فولڈر بن جائے گا۔ سویپ لینکس میں ہارڈڈسک پر میموری کی فائلیں رائٹ کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ خیر آپ نے نئی پارٹیشن تشکیل دینی ہے روٹ کے لیے پانچ جی بی کی سپیس بہت بہترین خیال کی جاتی ہے اس کے سائز کو منتخب کریں اور لیبل میں تصویر کے مطابق ہیش / ڈال دیں۔ لینکس میں اس سے مراد ہوتی ہے روٹ پارٹیشن جس میں سارا سسٹم نصب ہوتا ہے۔ اس کے بعد آپ نے ایک عدد سویپ بھی اسی طرح بنا لینی ہے اس کا ٹائپ آپ نے لینکس سویپ دے دینا ہے۔یاد رہے سویپ کم از کم 800 میگا بائٹ کی ہونی چاہیے اگرچہ ریم سے دوگنا رکھنے کی سفارش کی جاتی یعنی اگر 256 میگا بائٹ کی ریم ہے تو 512 میگا بائٹ کی سویب اور طےشدہ یا بنیادی تنصیب میں جس میں سارا کام خود کارانہ ہوتا ہے سویپ کا سائز آپ کی ریم کے مطابق ہی ہوتا ہے یعنی 256 کی ریم ہے تو سویب بھی 256 کی۔ لیکن یہ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ اس صورت میں سسٹم کی رفتار بہت کم ہوتی ہے چناچہ میرے پاس جو سویپ ہے اس کا سائز 800میگا بائٹ کے قریب ہے۔اور یہ میں نے کئی تنصیبوں کے بعد خود سے پارٹیشن بنانے کا اختیار منتخب کرکے کیا تھا۔


یہ کرنے کے لیے شکل کچھ اس قسم کی نکلے گی۔


Free Image Hosting at www.ImageShack.us


آپ سے کی تمام پارٹیشن اس میں نظر آئیں گی۔ اللہ کا نام لے کر ایک پارٹیشن کو چھری پھیریں اور اس سے بچنے والی خالی سپیس کو لینکس میں دونوں ہاتھوں سے لٹا ڈالیں۔


ایک روٹ پارٹیشن تخلیق ہورہی ہے۔


Free Image Hosting at www.ImageShack.us اس میں ایک سویپ پارٹیشن تخلیق کی جارہی ہے جس کا سائز بالا ہدایات کے مطابق رکھا جائے گا۔ Free Image Hosting at www.ImageShack.us اور اب اگر آپ کے پا س کافی ساری سپیس خالی ہے اورلٹانے خواہشمند ہیں تو ایک عدد ہوم پارٹیشن تشکیل دے ڈالیں ورنہ طےشدہ طور پر ایک ہوم فولڈر روٹ میں ہی بن جائے گا۔ Free Image Hosting at www.ImageShack.us اب آپ کی کی گئی تبدیلیاں اس قسم کی ونڈو میں نظر آئیں گی۔ Free Image Hosting at www.ImageShack.us آپ کے اس کے بعد جاری پر کلک کردینا ہے ایک عدد برخیزہ (چھوٹی ونڈو) نمودار ہوکر خبردار کرے گی لیکن اس کی باتوں میں نہ آئیں اور ہاں کردیں۔ آپ کی مرضی کے مطابق سارا کام ہوجائے گا ۔ Free Image Hosting at www.ImageShack.us اس کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے جب آپ مزید جاری رکھیں گے تو نئی ونڈو نمودار ہوگی اور آخر کار آپ کی متعلقہ پارٹیشن کا تیا پانچہ کر ڈالے گی اور اگر آپ نے کچھ غلط کام کرلیاہے تو یہی وقت ہے کہ سر پکڑ لیں۔۔;) Free Image Hosting at www.ImageShack.us اس کے بعد اگلا کام ان کا ماؤنٹ پوائنٹ منتخب کرنا ہے۔ لینکس روٹ، سویپ ہوم اگر بنائی ہے اور دوسری ونڈوز کی فےٹ 32 یا این ٹی ایف ایس پارٹیشن کے لیے ان تصاویر کے مطابق بکسے ظاہر ہونگے آپ نے ان کی ترتیب کے مطابق انھیں ماؤنٹ کرنا ہے۔ پہلی تصویر میں تو لینکس والی پارٹیشن کو فارمیٹ کرنے کا پوچھے گا اور اس کے بعد آپ نے تمام پارٹیشن کو ان کے نمبر کے مطابق ماؤنٹ کردینا ہے۔ بہتر ہوگا کہ نمبر ایک سے شروع کریں۔ماؤنٹ پوائنٹ منتخب کریں اور اس کے بعد اس کے سامنے اس کے مطابق پارٹیشن کا نام منتخب کرلیں۔ جیسے روٹ کے لیے اس نمبر اس سبق میں وہ hda5 ہے۔


ونڈوز کی پارٹیشن کا ماؤنٹ پوائنٹ (وہ فولڈر جہاں پر ونڈوز پارٹیشن کا سارا حجم ظاہر ہوگا) کے لیے لینکس میں /media کے نام سے ایک فولڈر ہوتا ہے چناچہ ونڈوز کی ایک پارٹیشن جس کا نمبر


hda7ہے کی صورت میں اس کا ماؤنٹ پوائنٹ کچھ یوں ہوگا۔


/media/hda7


امید ہے اب آپ کی سمجھ میں یہ گورکھ دھندا آٰگیا ہوگا لیکن ہمارا مشورہ ہے کہ پہلی بار سارا کام خود کار ہی ہونے دیجیے گا بعد میں تجربے کرنے میں حرج نہیں۔ اس مثال میں ماؤنٹ پوائنٹ کو پہلے بے ترتیب انداز میں پھر سائز کے اعتبار سے (جو آپ نے پارٹیشن کرتےہوئے رکھا تھا) اور لیبل دے کر اس کا ماؤنٹ پوائنٹ سیٹ کیا جارہا ہے۔ Free Image Hosting at www.ImageShack.us Free Image Hosting at www.ImageShack.us


یہاں یاد رکھنے کی بات صرف یہ ہے کہ پارٹیشن کے سائز کے مطابق اور اس کے لیبل کے مطابق آپ نے ماؤنٹ پوائنٹ منتخب کرنا ہے یاد رہے کہ ایک کو اگر دو جگہ پر دینے کی کوشش کریں گے تو ایرر آئے گا۔ مزید یہ کہ جتنی پارٹیشن ہونگی اتنے ہی ماؤنٹ پوائنٹ ہونگے اور فارمیٹ آپ نے انھی پارٹیشن کو کرنا ہے جو لینکس سے متعلق ہونگی۔ ویسے بھی طےشدہ میں صرف لینکس والی پارٹیشن کو ہی فارمیٹ کیا جائے گا۔


اب ہم بڑھتے ہیں اپنے اگلے مرحلے کی طرف۔


Free Image Hosting at www.ImageShack.us اس تصویر میں آپ کی دی گئی تفاصیل نمائش کرکے تصدیق کی جائے گی۔ آپ کی بورڈ، بنیادی صارف نام، اس کے علاوہ وہ پارٹیشن جو فارمیٹ ہونے جارہی ہیں آپ یہاں تصدیق کرنے کے بعد جاری پر کلک کردیں اور بنیادی نظام کی تنصیب کا عمل شروع ہوجائے گا۔ Free Image Hosting at www.ImageShack.us <یہ آپ کے سسٹم کی رفتار پر منحصر ہے کہ لینکس کتنی جلدی نصب ہوتا ہے میرے پاس یہ پچیس منٹ سے زیادہ نہیں لیتا۔ ہوسکتا ہے آپ کو اس دوران ایرر دے کہ سیکیورٹی تازہ کاریوں(اپڈٰیٹس) تک رسائی نہیں ہوسکی آپ پرواہ نہ کریں چونکہ یہ ایک آنلائن سسٹم کے لیے ہے آپ کا سسٹم اس کے بغیر بھی نصب ہوگا باقی کام ہم اس کو چلانے کے بعد کریں گے Free Image Hosting at www.ImageShack.us۔


تنصیب کے بعد آپ سے پوچھا جائے گا کہ لائیو سی ڈی مزید استعمال کرنا چاہتے ہیں یا سسٹم کو ری سٹارٹ کرلیا جائے۔ میں ہمیشہ ری سٹارٹ ہی کرلیا کرتا ہوں چانکہ اب سی ڈی کا کام ختم ہوچکا ہے۔ تو اس پر مزید سکریچ ڈالنے کا موقع پیدا کرکے اس کی عمر کیوں کم کی جائے۔


لیجیے جناب یہ تھا ماڑا چنگا لینکس کی تنصیب کا ویب سبق۔ اس کو پورا ہفتہ لگا کر ہم نے لکھا ہے ہر بار کوئی نہ کوئی مسئلہ کھڑاہو جاتا تھا۔ دو بار اس کو لکھتے ہوئے بجلی بند ہوگئی ایک بار مکمل کیا ہوا محفوظ کیا تو ٹھیک طرح محفوظ نہ ہوسکا۔ لیکن ہم نے بھی آخر اس کو مکمل کر ہی ڈالا اس کی تصاویر اور دوسری چھوٹی موٹی مدد ہم نے اس ٹیوٹوریل سے لی ہے۔

بدھ، 7 فروری، 2007

سوِفٹ فاکس(Swiftfox) فائرفاکس کا لینکس روپ

موزیلا فائر فاکس اس وقت مقبول عام آزاد ویب براؤزر ہے۔ ونڈوز لینکس کسی بھی پلیٹ فارم پر اسے ہی استعمال کرنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے موزیلا نے لینکس کے لیے فائر فاکس کو ٹھیک طرح پالش نہیں کیا جس کی وجہ سے بعض اوقات لینکس پر چلتے ہوئے فائر فاکس رک رک کر چلتا ہے اور کم رفتار سے چل کر سسٹم کو بھی وخت ڈال دیتا ہے۔


اس صورت حال کو اوبنٹو والوں نے اپنی فائر فاکس اشاعت بنا کر پورا کیا ہے۔ شاید باقی قسموں نے بھی کوئی اسی قسم کا حل نکالا ہو جس میں فائر فاکس کو متعلقہ ماحول کے تحت بہتر طریقے سے وضع کیا گیا ہو۔ لیکنہمارے پیش نظر اس وقت اوبنٹو ہے۔ اوبنٹو کا بنا ہوا فائر فاکس استعمال تو کرلیا جائے لیکن انھوں نے اس کی خودکار تازہ کاری کا انتخاب معطل کررکھا ہے جس کی وجہ سے بڑا مسئلہ ہوتا ہے ونڈوز پر تو سیدھے سبھاؤ فائر فاکس خود ہی سارا کام کرکے آپ کو صرف اتنا بتاتا ہے کہ تازہ کاری اتر گئی نصب کرنے کے بارے میں بتائیں ابھی کریں گے یا ذرا ٹھہر کر۔


لیکن ہائے رے اوبنٹو۔ اوبنٹو کی ہر رگ ہی نرالی ہے۔ ہر چیز پر پہرے بٹھا رکھے ہیں انھوں نے۔


لیکن وہ کیا کہتےہیں کہ لوگ بھلا بعض آتے ہیں۔ صاحبو ہم بھی صدا کے ضدی ہیں وہ کام کرتے ہیں جو کرنے سے روکا جائے۔ اس لیے ہم بجائے کہ طےشدہ ورژن استعمال کرتے سوِفٹ فاکس نصب کرلیا۔فائر فاکس کی ہر نئی اشاعت کی کانٹ چھانٹ اور رنگ روغن کرکے سوفٹ فاکس بنا لیا جاتا ہے جو ہے تو فائر فاکس بس نام بدلا ہوا ہے۔ لینکس قسم کی قید سے آزاد یہ براؤزر فائر فاکس سے بہتر نتائج دیتا ہے خصوصًا جب فائر فاکس کو گنوم کے علاوہ استعمال کرنا ہو یعنی کے ڈی ای میں۔


اس کے ریلیز والے صفحے پر جائیں اپنے سی پی یو کے مطابق تنصیب کار سکرپٹ اتاریں اور ٹرمینل سے چلا لیں۔ سوفٹ فاکس اتر کر نصب ہوجائے گا خودکار تازہ کاریوں کو فعال کرنا ہے تو روٹ کھاتے سے داخل ہوکر اس کی ترجیحات میں جاکر اس انتخاب کو نشان زد کردیں آئندہ یہ خودبخود تازہ ہوتا رہے گا۔


اگر ایسا نہیں کرنا تو آٹومیٹکس اس کا بہترین حل ہے۔یہ آپ کے لینکس ورژن(یعنی اوبنٹو کبنٹو ورژن) اور سی پی یو سپیڈ کے مطابق سوفٹ فاکس اتار کر نصب کردیتی ہے ساتھ ہی اس کے دخیلوں یعنی پلگ ان نصب کرنے کا بھی آپشن ہے لگے ہاتھوں وہ بھی نصب کرلیں اور فائر فاکس کے مزے لوٹیں۔ لیکن دخیلے کچھ دیر لے سکتے ہیں جیسے ہمیں کوئی اڑھائی گھنٹے ہونے کو آرہے ہیں ابھی تک اترے ہی نہیں یہی کوئی 50 ایم بی ڈیٹا اتر چکا ہے۔


;)


 


 

ہفتہ، 3 فروری، 2007

How to Upgrade Wordpress?ورڈپریس کو جدید کس طرح کریں؟

کئی دن کی کھجل خواری اور ڈر ڈر کے آخر دو دن پہلے ہم نے ورڈپریس کو جدید کر ہی لیا۔ پہلے ہمارے پاس ورڈ پریس 2.0.4 تھا لیکن جب ورڈپریس 2.1 آیا تو اس میں موجود خوبیاں دیکھ کر ہمارا دل بے اختیار للچا اٹھا چناچہ ہم نے متعلقہ سائٹ سے ورڈپریس کو جدید کرنے کے بارے میں معلومات اکٹھی کیں اور اللہ کا نام لے کر پرسوں صبح بیٹھ کر یہ کام کرہی ڈالا۔ الحمد اللہ ہمارا ورڈپریس بالکل وَل چل رہا ہے۔ بس ایک مسئلہ ہے نبیل بھائی کا ویب پیڈ اب اس کے پوسٹ پیج پر کام نہیں کرتا چونکہ اس میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں ہم نے کافی زور آزمائی کی لیکن بات نہ بنی۔ خیر امید ہے یہ کام بھی ہوجائے گا بقول نبیبل بھائی کے وہ ویب پیڈ کی شمولیت مزید آسان بنانے کے لیے اس کو جدید کررہے ہیں اللہ کرے یہ آسانی سے شامل ہوجائے ورڈپریس میں۔


لو جی اتنی ساری بک بک سننے کے بعد آپ لازمًا بور ہوگئے ہونگے سو آپ کی بوریت کو دور کیے دیتے ہیں اور لیے چلتے ہیں آپ کو بطرف ورڈ پریس کی جدت۔


ویسے تو ورڈپریس کو جدید کرنے کے لیے پیشہ ورانہ سایٹ پر ہدایات موجود ہیں۔لیکن ہم آپ کو دیسی اور آسان طریقہ بتاتے ہیں جو کہ اخذ وہیں سے کیا گیا ہے لیکن ذرا دیسی سٹائل میں اس کا بیان آپ کو سمجھنے میں آسانی مہیا کردے گا۔


سب سے پہلا کام جو آپ نے ورڈپریس کو جدید کرنے کے لیے کرنا ہے وہ یہ ہے کہ اس کی ویب سائٹ سے ورڈپریس اتار لینا ہے۔


اگلا کام یہ کریں کہ اپنی ڈیٹابیس کی پشتادہ نقل یعنی بیک اپ کرلیں تاکہ اگر کوئی گڑبڑ ہوجائے تو مسئلہ نہ ہو۔ ورڈپریس والے تو ساری کی ساری فائلوں کو نقل کرلینے کا مشورہ دیتے ہیں لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا بہرحال یہ آپ کے وسائل پر منحصر ہے ویسے احتیاط اچھی بات ہوتی ہے۔ اور ہاں ورڈپریس کی ڈیٹابیس کی نقل لینا کوئی مشکل کام نہیں پلگ انز میں جاکر ڈیٹابیس بیک اپ کے دخیلے کو فعال کریں پھر مینج میں جاکر اس سے پشتادہ نقل تیار کرلیں۔ یہ دخیلہ ورڈپریس میں طےشدہ طور پر موجود ہوتا ہے۔


لوجی ورڈپریس اتنی دیر میں اتر گیا ہوگا اور آپ نے یقینًا ڈیٹابیس اور متعلقہ فائلوں کی پشتادہ نقل تیار کرلی ہوگی۔ اگلا کام اب یہ ہے کہ آپ نے ورڈپریس کنفگ پی ایچ پی فائل جو کہ روٹ میں ہی موجود ہوتی ہے کو ہوبہو نقل کرکے نئے ورڈپریس فولڈر میں ڈال دینا ہے اور اس میں پہلے سے موجود فائل جو کہ wp-sample-config.php کے نام سے ہوگی کو اڑا دینا ہے اس فائل میں آپ کی ڈیٹابیس کی معلومات محفوظ ہوتی ہیں سو اس کو نہیں چھیڑتا۔


اس کے بعد آپ نے اپنے تمام کے تمام فعال دخیلے یعنی پلگ انز ورڈپریس ناظمی پینل کے پلگ ان نامی ربط میں جاکر باری باری غیر فعال کردیتے ہیں۔


اگلا کام جو آپ نے کرنا ہے وہ یہ ہے کہ فائل زیلا یا اپنے کسی بھی پسندیدہ ایف ٹی پی مینجر سے ورڈپریس 2.1 کو اٹھا کر اپنے سرور پر چڑھا دینا ہے لیکن ٹھہریں آپ نے /wp-content نامی فولڈر کو سرور پر کچھ نہیں کہنا۔


اس فولڈر میں آپ کے پسندیدہ ورڈپریس حلیے یعنی تھیم اور دخیلے ہوتے ہیں اس کو ایسے ہی رہنے دینے کے لیے ہم نے یہ کیا تھا کہ ورڈپریس 2.1 جو سرور پر چڑھانا تھا کے فولڈر میں سے وپ کونٹینٹ والا فولڈر ہی اڑا دیا اور باقی سب کو منتخب تمام کرکے سرور پر چڑھا دیا۔ اس دوران آپ کا ایف ٹی پی ناظم پوچھے گا کہ کیا پرانی فائلوں کو اوور رائٹ کردوں آپ نے ہاں کردینی ہے بلکہ ہر بار کی زحمت س بچنے کےلیے آپ نیچے دئیے ہوئے ہمیشہ ایسا کریں کے بکس کو نشان زد کردیجیے۔ کوئی دو میگا بائٹ کے قریب ورڈپریس کی چڑھائی آپ کے کنکشن کی رفتار پر منحصر ہوگی۔ اس کو آدھ گھنٹے سے زیادہ نہیں لینا چاہیے ویسے۔


لیجیے جب یہ کام ہوگیا تو اگلا کام آپ نے اپگریڈ پی ایچ پی فائل کو چلانے کا کرنا ہے۔ اس کی مثال یہ ہوسکتی ہے۔


( http://example.com/wordpress/wp-admin/upgrade.php )


یہاں مثال کی جگہ اپنا بلاگ پتہ لکھ دیں اور اسی کو چلالیں۔ فائل چلے گی اور آپ کو بلاگ جدید کرنے کو کہا جائے گا آپ اللہ کا نام لے کر اس بٹن پر کلک کردیں۔ اگلے مرحلے پر سب کچھ ہوجائے گا اور آپ کو انجوائے اٹ کا ایک ربط نظر آئے گا اس پر کلک کریں اورآپ کا بلاگ جدید ہوگیا۔ ایڈمن پینل میں جائیں آپ کو واضح تبدیلیاں نظر آئیں گی۔۔ اگر کوئی گڑبڑ محسوس ہو تو صفحے کو ایک بار تازہ کرلیں امید ہے مسئلہ حل ہوجائے گا۔ اب اپنے دخیلے دوبارہ سے فعال کرلیں اور آپ تیار ہیں تازہ ترین ورڈپریس استعمال کرنے کے لیے۔


اور ہاں یہ تو میں بھول ہی گیا آخر ورڈپریس 2.1 میں نیا ہے کیا۔ اس میں ویسے تو کافی ساری خوبیاں ہیں جن کا ذکر پیشہ ورانہ ویب سائٹ پر موجود ہے لیکن میرے خیال سے جو بہترین خوبیاں اس میں اس بار شامل کی گئی ہیں ان میں نمبر ایک تو پوسٹ لکھتے ہوئے اس کا خودکار انداز میں ایک مخصوص وقت کے بعد سرور پر محفوظ ہوتے جانا ہے یہ ایک عرصے سے مطالبہ تھا ورڈپریس کے صارفین کی طرف سے جس کو اس اشاعت میں پورا کیا گیا ہے۔اس طرح لکھنے والا بار بار محفوظ کرنے کے عذاب سے بچا رہتا ہے ۔


دوسری چیز جو اس سے بھی زیادہ اچھی ہے وہ ہے ورڈپریس سے ورڈپریس بلاگ میں ڈیٹا برآمد کرنا۔ پہلے یہ سہولت غیر پیشہ ورانہ دخیلے کی صورت میں دستیاب تھی جس کو میں نے ٹرائی کیا بھی لیکن وہ کچھ اتنی خاص نہ تھی اور اس پر مزید کام کی ضرورت تھی۔ اب ورڈپریس میں درآمد اور برآمد دونوں کے انتخابات موجود ہیں۔


مینج میں جائیں اور ایکسپورٹ پر کلک کردیں۔ آپ کے سامنے ایک صفحہ کھل جائے گا جس میں کسی ایکس ایم ایل فائل بنانے کی بات کی گئی ہوگی۔ آپ کو صرف ایک بٹن پر کلک کرنا ہے اور آپ کے تمام کے تمام ورڈپریس ڈیٹا کی نقل آپ کے کمپیوٹر میں ایک ایکس ایم ایل یا آرایس ایس فائل کی شکل میں اتر جائے گی یہ فائل صرف ورڈپریس ہی استعمال کرسکے گا۔


اس کے بعد جب بھی آپ تحاریر دوبارہ سے واپس لانا چاہیں چاہے یہ کہیں کسی بھی ورڈپریس بلاگ پر ہو بس اسی ایکسپورٹ کے ساتھ والے ربط امپورٹ پر کلک کرکے تمام تحاریر، تبصرے، زمرے اور سب کچھ واپس حاصل کرلیں جو آپ کے پچھلے بلاگ میں موجود تھا۔ ہم یہ تجربہ ذاتی طور پر فرما چکے ہیں ملاحظہ کیجیے۔


مزے دار چیز ہے نا؟ وہ احباب جن کو اپنے ورڈپریس ڈیٹا کی فکر تھی اب بے فکر رہیں اب کچھ نہیں ہوگا اب آپ کسی بھی فری ہوسٹ پر بے دھڑک ورڈپریس بلاگ بنا سکتے ہیں۔ لیکن ایک حد شاید لگ جائے وہ ہے فائل چڑھانے کی حد۔ میرے سرور پر یہ حد ایک میگا بائٹ ہے شاید جس کی وجہ سے ورڈپریس کے درآمد کنندہ نے مجھے ایک میگا بائٹ زیادہ سے زیادہ فائل سائز کا اشارہ دیا تھا۔ خیر جب ایک میگا بائٹ ہوگا ہم کہیں اور اڑ چکے ہونگے۔ فی الحال تو چلنے دیں۔


تو یہ تھا جناب ورڈپریس کے بارے میں ہمارے تازہ ترین تجربات اور جاتے جاتے ایک خبر بھی سن لیجیے ورڈپریس والوں نے بھی اوبنٹو کی طرح مخصوص دورانیے کے بعد اپنے نئے نسخے جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور ان کا اگلا اہم نسخہ شاید اپریل کے آخر میں منظر عام پر آجائے گا۔


ورڈپریس جدید ہوتا جارہا ہے اور ہماری بدقسمتی ہم ہر بار اردو محفل پر صرف اس کا ترجمہ ہی جدید کرتے ہیں ایک اردو ورڈپریس پیکج بنانے کا خواب تھا جانے کب تعبیر بن سکے۔ :(


ہماری تو یہی دعا ہے کہ اللہ آزا د مصدر کو یونہی ترقی دے چاہے وہ لینکس کی صورت میں ہو یا ورڈپریس کی شکل میں۔


جئے آزاد مصدر جئیں آزاد مصدر کے چاہنے والے۔


دعاؤں میں یاد رکھیے گا


وسلام


 


 

اتوار، 7 جنوری، 2007

لینکس کونسی قسم نصب کی جائے اور اس کا حصول

تو جناب اب بات کرتے ہیں کہ لینکس کو نصب کس طرح کیا جائے۔ نہیں اس سے پہلے بھی ایک کام ہے اور وہ ہے کہ آخر کونسا لینکس نصب کیا جائے۔
لینکس کی کئی اقسام ہیں۔ یہ لوگ اسے ڈسٹریبیوشن یا ڈِسٹرو بولتے ہیں۔ کوئی ایک ہزار سے زیادہ اقسام کے لینکس میں سے اپنی پسند کا لینکس چننا بہت مشکل ہے۔ ہر لینکس قسم کا اپنا ایک منشور ہے کوئی صارف کو آسانی مہیا کرنا چاہتا ہے، کوئی مفت سافٹویر کا نعرہ لگاتا ہے، کوئی قسم کاروباری پیمانے پر استعمال کے لیے قیمتًا جاری کی جاتی ہے۔ہم نے چونکہ اپنے ذاتی استعمال کے لیے لینکس نصب کرنا ہے اس لیے میں آپ کو دو قسموں کا مشورہ دوں گا اور وہ ہیں اوبنٹو اور کے اوبنٹو۔
اصل میں یہ ایک ہی کمپنی کے جاری کردہ ہیں۔ اصل پراجیکٹ اوبنٹو ہے لیکن کے ابنٹو یا مختصرًا کبنٹو اس کا بچہ بچونگڑا ہے جس میں کرنل وہی ہے لیکن ڈیسکٹاپ ماحول مختلف ہے۔
ڈیسکٹاپ ماحول کیا ہوتا ہے؟
لینکس اصل میں باہر سے بن کر آنے والے آٹو پارٹس کی طرح ہے جن کو پاکستان میں اسمبل کیا جاتا ہے۔ سمجھ لیں کہ ہر لینکس قسم والے نے اسمبلنگ کا کارخانہ لگا رکھا ہے۔ جس میں وہ باہر سے آنے والے پرزے جوڑ کر اپنی قسم تیار کرلیتے ہیں۔
ہر خدمتگار نظام( آپریٹنگ سسٹم) دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک اس کا مغز یعنی کرنل جو کہ سی پی یو سے براہ راست رابطہ رکھتا ہے اور کمانڈز کو اس تک پہنچاتا ہے دوسرا وہ تصویری مواجہ (گرافک یوزر انٹرفیس) ہے جو صارف کو نظر آتا ہے اور جس کے ساتھ کھیلنے کی صارف کو کھلی چھوٹ ہوتی ہے۔ لینکس میں کرنل الگ بنایا جاتا ہے اس کے مختلف ورژن ہیں جبکہ اس کے اوپر کام کرنے کے لیے مختلف ڈیسکٹاپ ماحول ہیں۔ ان میں سے کچھ کمرشل ہیں کچھ مفت لیکن مشہور اقسام دو تین ہی ہیں۔



ہوتا یہ ہے کہ ہر قسم کو تیار کرنے کے لیے پہلے ایک عدد لینکس کرنل لیا جاتا ہے اس کے بعد ڈیسکٹاپ ماحول کا انتخاب ہوتا ہے ان کو ملایا جاتا ہے ڈیسکٹاپ ماحول میں اپنی مرضی کے مطابق یا سمجھ لیں کمپنی کی پالیسی کے مطابق کچھ تبدیلیاں کرکے نئی خوبیاں ڈالی جاتی ہیں اور قسم جاری کردی جاتی ہے۔ ہر نئی اشاعت پر نیا لینکس کرنل ورژن، نیا ڈیسکٹاپ ماحول ورژن اور دوسرے عمومی استعمال کے اطلاقیے جو اس میں‌ موجود ہیں کے نئے ورژن ڈال کر نیا ورژن اتارنے کے لیے رکھ دیا جاتا ہے۔ آپ یقینًا سوچ رہے ہونگے اتنا آسان کام؟ ادھر ادھر سے چیزیں‌ اکٹھی کرو اور نیا لینکس نکال دو۔ اصل میں‌ یہ سب اتنا بھی آسان نہیں چونکہ تکنیکی معاونت مہیا کرنا، مختلف پراجیکٹس شروع کرنے کے لیے معاونت دینا،نئی خوبیوں کے مطالبات پر غور کرنا، تازہ کاریوں (اپڈیٹس) اور اصل ورژن کے اتارنے کے لیے سرور کمپیوٹر مہیا کرنا ایک لمبا درد سر ہے اور یہ کام وہی بندہ کرسکتا ہے جو خواب میں بھی لینکس کی کمانڈز میں بات کرے۔ :D :D
اصل میں اوبنٹو کو منتخب کرنے کی کچھ وجوہات ہیں۔ اگرچہ بڑے بڑے بابے لینکس موجود ہیں لیکن اوبنٹو کے کچھ فائدے ہیں جو ہم آپ کو آئندہ سطور میں بتاتے ہیں پہلے آپ کو کچھ مشہور اقسام کے نام بتائے دیتے ہیں۔


    لِن سپائر جو کبھی لنڈوز کے نام سے مارکیٹ میں آیا تھا اور اس کا مفت اور آزاد مصدر ورژن فری سپائر

اب بات کرتے ہیں‌ کہ اوبنٹو ہی کیوں؟
پہلی بات تو یہ کہ اوبنٹو کے تین ورژن اس وقت موجود ہیں جو کہ تین مختلف ڈیسکٹاپ ماحول استعمال کرتے ہیں۔ اوبنٹو میں گنوم استعمال ہوتا ہے، کے اوبنٹو میں کے ڈی ای اور ایکس اوبنٹو میں ایکس ایف سی ای۔ زیادہ مشہور اقسام پہلی دو ہی ہیں تیسری قسم کم ہی استعمال ہوتی ہے۔ ان تمام اقسام میں‌ کرنل ایک ہی ہے اور ہر نئی اشاعت پر ہر قسم کا نیا ورژن نکالا جاتا ہے جس میں بنیادی قسم کی چیزیں ہر ایک میں ایک جیسی ہوتی ہیں۔ جیسے شٹ ڈاؤن کے انتخابات( آپشن) تینوں میں ایک جیسے ہونگے۔جبکہ دوسری اقسام کے لینکس کوئی ایک ہی ماحول استعمال کرتے ہیں جیسے فیڈورا کور میں گنوم استعمال ہوتا ہے یا ان کی مختلف ماحولات کے لیے الگ سے اشاعتیں‌ موجود نہیں۔
اوبنٹو کی بہت خاص خوبی اس کا ہر چھ ماہ کے بعد نیا ورژن آنا ہے جو کوئی بھی اور لینکس ڈسٹرو والے نہیں کرتے۔
اوبنٹو کی بہت ہی منظم برادری موجود ہے اس کی چوپالوں پر ہر درد کی دوا موجود ہے۔
اوبنٹو کی ایک خوبی جس کے لیے میں نے اسے پسند کیا تھا اس کی سی ڈیز کا پاکستان میں مفت مہیا کیا جانا تھا۔اگرچہ اب یہ لوگ اسے بند کررہے ہیں لیکن اس کے طویل مدتی معاونت شدہ ورژن اوبنٹو 6.06 کے لیے اب بھی یہ سہولت موجود ہے۔
اوبنٹو کی تازہ کاریاں بڑی باقاعدگی سے وارد ہوتی رہتی ہیں جس کی وجہ سے سسٹم کسی بھی قسم کے خطرے سے بچا رہتا ہے نیز سافٹویر کی تازہ کاریوں سے تازہ ترین ورژن نئی نئی خوبیوں کے ساتھ آپ کی دسترس میں‌ ہوتا ہے۔
ہاں آپ کو اس سلسلے میں کچھ مسائل درپیش ہوسکتے ہیں ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ اوبنٹو میں طےشدہ طور پر روٹ یعنی سسٹم کے منتظم ایڈمن صاحب کا کھاتہ بند ہے جس کی وجہ سے سافٹویر کی تنصیب میں‌ مشکلات ہوسکتی ہیں لیکن صارف اس کا عادی ہوجاتا ہے۔ اور ہاں اس کو کھولا بھی جاسکتا ہے ہم ذاتی طور پر اس کی تنصیب کے بعد پہلا کام روٹ کھاتہ کھولنے کا کرتے ہیں اور یہ گر آپ کو بھی بتا دیں‌ گے۔
دوسری مشکل جو درپیش ہوسکتی ہے وہ ہے گانوں اور عمومی نوعیت کی ویڈیو فائلز چلانے میں‌ دشواری چونکہ ان کے کوڈکس ایک ملکیتی مال ہیں اس لیے اوبنٹو کی بنیادی تنصیب کے ساتھ یہ نصب نہیں‌ ہوتے۔ صارف کو یہ بعد میں اتار کر نصب کرنا ہوتے ہیں لیکن یہ بھی کوئی مسئلہ نہیں رہنمائیاں موجود ہں صرف ان پر عمل کرنے میں یا اتارنے میں وقت لگتا ہے بلکہ ایک بار پیکج اتار کر آپ اسے دوبارہ استعمال کے لیے محفوظ کرسکتے ہیں سی ڈی بنا سکتے ہیں۔
خیر یہ تو تھا اوبنٹو لینکس بمقابلہ دوسرے لینکس اب ہم بات کرتے ہیں اوبنٹو کو حاصل کس طرح کیا جائے۔
اوبنٹو کو اگر سی ڈی پر حاصل کرنا ہے تو آپ اوبنٹو شپ اٹ یا کے اوبنٹو شپ اٹ پر چلے جائیں۔وہاں مندرج ہوکر سی ڈیز کا آرڈر دے دیں اور سی ڈیاں آپ کے گھر پہنچ جائیں گی لیکن یہ کچھ وقت لے گا کوئی چار سے چھ ہفتے۔ لیکن ہوگا سب مفت اگر آپ نے جلدی حاصل کرنا ہے تو اس کی سی ڈی امیج اتار کر خود سے سی ڈی رائٹ کرسکتے ہیں۔ اگر کچھ پیسے خرچ کرنے کا موڈ ہے تو ان کے عالمی تقسیم کار موجود ہیں جو پیسے لے کر سی ڈی آپ کے گھر پہنچا دیں گے۔ پاکستان میں لینکس کی تمام اقسام کے تقسیم کار یعنی لینکس پاکستان والوں سے بھی اوبنٹو کی سی ڈیاں حاصل کی جاسکتی ہیں اور انتہائی سستے داموں صرف 35 روپے میں۔(مختلف قسم کے لیے ریٹس مختلف ہوسکتے ہیں) لیکن ان کا دفتر کراچی میں‌ ہے۔ اگر آپ خود کراچی نہیں رہتے تو اپنے کسی دوست سے جو کراچی میں رہتا ہو رابطہ کرکے سی ڈی حاصل کرسکتے ہیں۔ ہمارا مشورہ تو یہ ہے کہ سی ڈی خود ہی اتار کر اسے رائٹ کیجیے گا۔
اور آخر میں آپ کو بتاتے چلیں کہ تنصیب اور وضع قطع کے سارے مراحل کے اوبنٹو( اگرچہ تازہ ترین ورژن 6.10 ہے لیکن ہم سارا کام 6.06 والے ورژن پر کریں گے جو کہ زیادہ استحکام پذیر ہے اور یہ 2009 تک معاونت شدہ بھی ہے۔) پر طے ہونگے۔چونکہ ہم بنیادی طور پر کبنٹو کے صارف ہیں۔ اگرچہ اوبنٹو بھی اچھی چیز ہے لیکن کے ڈی ای کا سواد جس کو لگ جائے وہ کم ہی گنوم کی طرف دیکھتا ہے۔

جمعہ، 29 دسمبر، 2006

لینکس تعارف( لینکس کی تنصیب سلسلے کا پہلا سبق)

کمپیوٹر استعمال کرنے والوں نے لینکس کا نام اکثر سنا ہوگا۔۔ لینکس ایک اوپن سورس یعنی آزاد مصدر خدمتگا نظام( آپریٹنگ سسٹم) ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ آزاد مصدر ہے اور خدمتگار نظام بھی ہے تو اس کا ہمیں کیا فائدہ ہے۔ جب ونڈوز موجود ہے اور چل رہا ہے ،ہر کوئی اس کو استعمال کرنا جانتا ہے ہر چیز نارمل ہے تو پھر لینکس ہی کیوں؟ اس لیے کہ: لینکس استعمال کرتے ہوئے آپ کسی قسم کی چوری کے مرتکب نہیں ہوتے۔۔چوری؟ جی ہاں چوری! آپ جانتے ہیں کہ ونڈوز ایکس پی یا 2000 یا 98 کی سی ڈی جو آپ 20 سے 30 روپے میں حاصل کرتے ہیں ان کی اصل قیمت کیا ہے؟ ان کی اصل قیمت ہزاروں میں ہے۔اور ہم ان کی پائریٹڈ یا آسان الفاظ میں غیر قانونی طور پر کی گئی نقول استعمال کرتے ہیں۔ اگر ایکس پی کی سی ڈی 10000 روپے کی ہے تو آپ کتنے روپے کی چوری کے مرتکب ہورہے ہیں؟ حقیقت آپ کے سامنے ہے۔ یہ بحث کہ سب ہی ایسا کرتے ہیں، کون دیکھتا ہے اس کو، انگریز بھی تو ہمارا مال کھا رہے ہیں بالکل بودے بہانے ہیں اور حقیقت سے فرار کی لاحاصل کوششیں ہیں۔ لینکس استعمال کرتے ہوئے آپ کو کسی بھی قسم کا سیکیورٹی رسک لاحق نہیں ہوتا۔ہمارا مقصد ونڈوز کی برائیاں کرنا نہیں لیکن یہ بات ثابت شدہ ہے کہ لینکس کی تمام قسمیں ونڈوز سے ہزاروں گنا زیادہ محفوظ ہیں۔ لینکس کی کسی بھی قسم کی بنیادی تنصیب (انسٹالیشن) کے ساتھ ہی درجنوں عمومی ضرورت کے سافٹویر نصب ہوجاتے ہیں جن کے لیے ونڈوز میں کئی جگہ دھکے کھانے پڑتے ہیں۔جیسے سی ڈی برنر لینکس پر کسی کی اجارہ داری نہیں اس لیے اس کو کوئی بھی تقسیم کرسکتا ہے، بدل سکتا ہے جس کی وجہ سے اس میں جتنی جلد ترقی ہوتی ہے کسی دوسرے نظام میں کم ہی ممکن ہے۔ یہ کچھ فائدے تھے جولینکس استعمال کرنے والے کو ملتے ہیں۔۔لیکن اگر آپ بطور مسلمان سوچیں تو حلال راستہ یہی ہے کہ یا تو ونڈوز خرید کر استعمال کیا جائے یا اگر استطاعت نہیں تو لینکس جیسا کوئی نظام استعمال کیا جائے جو قانونًا ایسی کوئی پابندی نہیں رکھتا کہ اسے خریدا ہی جائے۔ چلیں یہ تو قصیدے تھے جو ہم نے لینکس کی شان میں پڑھے اب ہم دیکھتے ہیں کہ ایک عام صارف کو یا سیدھے لفظوں میں ایک ونڈوز کے صارف کو لینکس استعمال کرتے ہوئے کیا مشکلات پیش آئیں گی۔ لینکس بنیادی طور پر ایک انتہائی غیر صارف دوست خدمتگار نظام کے طور پر مشہور ہے۔ایک لطیفہ کبھی گلوبل سائنس کے صفحات پر ہی پڑھا تھا کہ ایک صاحب کمپیوٹر لینے چلے گئے۔ ڈیلر نے پوچھا سر کونسا آپریٹنگ سسٹم پسند کریں گے صاحب بولے کوئی بھی کردو۔ ڈیلر بڑا متاثر ہوا کہ لائق بندہ ہے اس نے لینکس آپریٹنگ سسٹم نصب کردیا۔ صاحب کمپیوٹر لے کر گھر چلے گئے ۔ کچھ دنوں بعد ان ڈیلر کا گزر ایک جگہ سے ہوا تو ایک جگہ ایک پاگل نظر آیا جو لی لو لی لوکررہا تھا اور بچے اس کو پتھر مارتے تھے۔ حال دریافت کرنے پر پتا چلا کہ یہ صاحب کمپیوٹر لینے گئے تھے اور اس پر لینکس نصب کروا لیا۔ کچھ ہی دن میں یہ حال ہوگیا کہ ہر بات کے جواب میں لی لو لی لو کرتے ہیں۔ خیر یہ تو ایک فکاہیہ تھا اصل میں لینکس اتنا مشکل بھی نہیں۔ ہمارے ایک لینکس دار دوست فرمایا کرتے ہیں کہ لینکس مشکل نہیں مختلف ہے۔ اور ہم ان کی بات سے متفق ہیں۔ لینکس میں یہ ضرور ہے کہ اب بھی کچھ گُرو تصویری مواجے( گرافک انٹرفیس) کی جگہ تحریری مواجے ( کمانڈ لائن انٹرفیس) کو ترجیح دیتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ لینکس سارا ایم ایس ڈوس جیسی کوئی چیز ہے۔ آج سے کوئی آٹھ دس سال پہلے ایسا ہی تھا لیکن اب وہ زمانے لد گئے اب آپ اسی فیصد سے زیادہ کام تصویری مواجے میں رہ کر کرسکتے ہیں۔ لیکن تحریری مواجے کو پھر بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی ایک وجہ بھی ہے اور وہ یہ کہ لینکس والوں کے خیال میں جو کام ایک سطر کی کمانڈ سے کیا جاسکتا ہے اس کے لیے آٹھ دس کلک وقت کا ضیاع ہے۔ لیکن یہ آپ کی مرضی پر ہوتا ہے کہ آپ کیا استعمال کرنا پسند کرتے ہیں۔ جیسا دیس ویسا بھیس کے مصداق آپ جوں جوں لینکس کو استعمال کرتے جاتے ہیں یہ سب کچھ نارمل لگنے لگتا ہے۔ لینکس کے بارے میں ایک اور غلط فہمی یہ ہے کہ اس کی تنصیب بہت مشکل ہے۔ اس کے لیے ایک عدد سویپ پارٹیشن چاہیے ہوتی ہے جس کو بنانے سے ہارڈ ڈسک پر ڈیٹا اڑ سکتا ہے،یا کوئی اور مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ آج کل لینکس کے اتنے آسان تنصیب کار آگئے ہیں جو دس منٹ میں تنصیب کردیتے ہیں اور پارٹیشن بنانے کا کام بھی خود ہی کرلیتے ہیں۔ لینکس پر سافٹویر نہیں ملتے۔ یاہو میسنجر کو ہی لے لیں اس کا لینکس ورژن کوئی تین سال پرانا ہے اور فیچر بھی محدود سے دیتا ہے جبکہ ونڈوز پر اس کا ورژن آٹھ دستیاب ہے اب۔ یہ بات بجا ہے کہ لینکس کے سلسلے میں سافٹویر ساز کمپنیاں سوتیلے پن کا سا سلوک کرتی ہیں لیکن لینکس والوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ہر سافٹویر کے متبادل بنا لیے ہیں اس لیے کسی سافٹویر کی کمی کم ہی محسوس ہوتی ہے۔ لینکس پر سافٹویر کی تنصیب جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ لینکس کے فورم پر جائیں تو آگے کمانڈ کا ڈھیر رکھ دیا جاتا ہے یہ کر لو وہ کرلو۔ صارف چکرا جاتا ہے بلکہ چکرا کر بھاگ جاتا ہے۔ اصل میں لینکس میں سافٹویر کی تنصیب ایک خاص انداز سے ہوتی ہے ۔ ونڈوز والے ایک عدد تنصیب کار کی توقع کرتے ہیں جو ڈبل کلک سے چلے اور نیکسٹ نیکسٹ کرکے سب کچھ نصب کردے۔ لینکس میں ہر ایرے غیرے کو منہ اٹھا کر نظام میں گھسنے کی اجازت نہیں۔ لینکس کی ہر قسم(ڈِسٹرو) کے ذمہ داران اپنی ڈسٹرو کے لیے آنلائن سافٹویر رکھتے ہیں۔ یہ سافٹویر مختلف سرورز پر رکھے جاتے ہیں اور ان کو مختلف زمروں میں بانٹا گیا ہوتا ہے ا
ور یہ ریپازٹری کہلاتے ہیں۔چناچہ صارف کو جو بھی نصب کرنا ہوتا ہے وہ پیکج مینجر کے ذریعے تلاش کرکے اسے نصب کرنے کا آرڈر دے دیتا ہے اور آگے کام پیکج مینجر کا ہوتا ہے کہ وہ اتارے اور نصب کرے۔ پیکج مینجر جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ ایسا سافٹ ویر جو پروگرام اور اطلاقیوں ( ایپلی کیشنز) کو نصب کرنے اور ختم کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ لینکس میں اگر کوئی سافٹویر باہر سے نصب کرنے کے لیے حاصل کر بھی لیں تو نصب نہیں ہوتا کہ اس کی انحصاریتیں مکمل نہیں ہوتیں۔ انحصاریت یعنی ڈیپینڈینسی کا مطلب ہے کہ سافٹویر جس جس چیز پر انحصار کرتا ہے۔ جیسے ایم پی تھری گانے چلانے کے لیے کسی میڈیا پلئیر کو ایک عدد ایم پی تھری ڈی کوڈر کی ضرورت ہوگی۔ یا ڈاٹ نیٹ پر مشتمل اطلاقیوں کو چلانے کے لیے ونڈوز پر م س ڈاٹ نیٹ فریم ورک نصب کرنا پڑتا ہے۔ اس سب سے بچنے کے لیے ہمیشہ پیکج مینجر استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے یا اکثر سافٹویر کی ریڈ می میں بتایا گیا ہوتا ہےکہ اس سافٹویر کو چلانے کے لیے فلاں فلاں انحصاریت چاہیے چناچہ صارف اسے نصب کرلیتا ہے سو یہ بھی کوئی ایسی بات نہیں۔ لینکس پر ایک بہت بڑا مسئلہ ڈرائیورز کی عدم دستیابی ہے۔ ڈرائیور ہارڈ ویر کو چلانے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں لینکس چونکہ آزاد خدمتگار نظام ہے اس لیے اس کو کمپنیاں کم ہی سپورٹ کرتی ہیں چونکہ انھیں لینکس کی طرف سے کسی رائلٹی کی توقع نہیں ہوتی دوسری طرف ونڈوز میں ہر قسم کےہارڈ ویر کی سپورٹ موجود ہوتی ہے اور اس کی ڈرائیور ڈیٹابیس بہت بڑی ہوتی ہے۔ یہ ایک مسئلہ تو ہے لیکن اتنا بڑا نہیں۔ اگر آپ کا سسٹم بہت زیادہ پرانا نہیں(یعنی پی ون یا پی ٹو یا اس کے سن کا نہیں) تو فکر مند نہ ہوں اس کے سارے ڈرائیورز کا لینکس میں موجود ہونے کا اسی فیصد امکان ہے۔ آپ ان کو سسٹم کی تنصیب کے بعد بھی حاصل کرکے نصب کرسکتے ہیں۔مزید تسلی کے لیے آپ ان کے فورمز پر جاکر اپنی ہارڈویر کی تفاصیل دے کر ان کی سپورٹ کے بارے میں استفسار بھی کرسکتے ہیں۔ بلکہ اچھی قسمیں جیسے اوبنٹو وغیرہ کی ویب سائٹس پر یہ سہولت موجود ہے کہ آپ اپنے ہارڈویر کی سپورٹ کے بارے میں معلومات حاصل کرلیں۔ لینکس چلے گا تو میرے ونڈوز سسٹم کا کیا ہوگا؟ یا میں اگر ونڈوز کو بھی ساتھ ہی استعمال کرنا چاہوں تو؟ اس کا بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ دوہرا یعنی ڈوئل بوٹ لینکس میں عام سی بات ہے۔ ایک ڈرائیو میں ونڈوز نصب ہے اور کسی بھی دوسری ڈرائیو میں لینکس نصب کرلیں۔ لینکس کا بوٹ لوڈر گرب یا لی لو آپ کو یہ سہولت دیتے ہیں کہ ونڈوز سسٹم کو بھی بوٹ مینیو میں فعال رکھیں اور یہ سارا کام بوقت تنصیب خودکار انداز میں ہوتا ہے چناچہ اگر ونڈوز کا کوئی ورژن پہلے سے نصب شدہ ہے تو وہ بھی بوٹ کے وقت ایک آپشن کے طور پر ظاہر ہوجاتا ہے چاہے لینکس چلائیں یا ونڈوز ایسے ہی جیسے کبھی ایکس پی اور 98 کا ڈوئل بوٹ بہت مقبول ہوا تھا۔ اور آخری مشکل جو صارف کو پیش آسکتی ہے وہ ہے لینکس کا انٹرنیٹ پر بہت زیادہ انحصار اور عمومًا نیٹ ورک ایڈمنز کا اسے انٹرنیٹ تک مکمل رسائی نہ دینا(ڈائل اپ کی صورت میں یہ مسئلہ نہیں ہوتا یہ کیبل نیٹ کی بات ہورہی ہے)۔ لینکس کی عمومی اور مقبول قسمیں تنصیب کے بعد سب سے پہلے تازہ کاری یعنی اپڈیٹ کا مشورہ دیتی ہیں۔ نیز عمومی نوعیت کے کئی سافٹویر جو بنیادی تنصیب میں شامل نہیں ہوتے براہ راست سرور سے حاصل کرنا پڑتے ہیں چونکہ لینکس کے سافٹویر سی ڈیز پر کم از کم ہمارے ہاں تو دستیاب نہیں۔ہمارے ڈائل اپ صارفین کے لیے یہ کافی مشکل ہوسکتا ہے لیکن ڈاؤنلوڈ مینجر سے اس کا کچھ نہ کچھ حل نکل آتا ہے دوسر ے پیکج مینجر بھی ایک بار جتنا پروگرام اتار لے اگلی بار وہیں سے آگے اتارنا شروع کرتا ہے (یاد رہے پہلے اتارا جاتا ہے پھر نصب کیا جاتا ہے اور آپ کے پاس یہ انتخاب ہوتا ہے کہ پیکج کو صرف اتاریں نصب بعد میں کریں)۔ کیبل نیٹ پاکستان میں بہت مقبول ہورہا ہے اور چھوٹے شہروں میں بھی ڈی ایس ایل پر کیبل نیٹ چلایا جارہا ہے۔ اس کے ساتھ لینکس سسٹم منسلک کرنا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنا ہے۔ یہ نیٹ ورک خالصتًا ونڈوز پر چلتے ہیں اور ان کے منتظمین بھی ونڈوز کلائنٹ کو رکھنا پسند کرتے ہیں یا لینکس کے لیے سیٹنگ میں مناسب تبدیلی کرنے کے بارے میں لاعلم ہوتے ہیں۔ لیکن ڈھونڈنے سے تو خدا بھی مل جاتا ہے تو کوئی نہ کوئی ایسا نیٹ ورک مل جاتا ہے جو لینکس سے بھی مکمل انٹرنیٹ استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے یا آپ کے لیے اپنی سیٹنگ اتنی تبدیل کرلیتا ہے۔ اگر آپ کو ایسا مسئلہ درپیش ہے تو ہم کچھ نسخے بتائیں گے جس سے کافی افاقے کی امید ہے لیکن یہ سب بنیادی وضع قطع کے بعد ہوگا۔خود ہم ذاتی طور پر کیبل نیٹ استعمال کرتے ہیں اور لینکس سے کرتے ہیں ہمارے نیٹ ورک ایڈمن نے ہمیں روٹر سے براہ راست رسائی دے رکھی ہے جس پر ہم اس کے بہت مشکور ہیں۔ یہ لینکس کا ہلکا سا تعارف تھا اور اس کے بارے میں وہ چند غلط فہمیاں جو عمومًا پائی جاتی ہیں یا پائی جانے کا امکان ہے۔ اگلی بار ہم انشاءاللہ اس کی کسی مقبول قسم کو لے کر اس کی تنصیب اور بعد میں مکمل وضع کرنے(کنفگریشن) تک تفصیل سے جانیں گے۔


 

اتوار، 22 اکتوبر، 2006

فری ہوسٹ پر ورڈپریس کی تنصیب(پہلا سبق)

محترم عادل جاوید چوہدری نے میرے بلاگ کی تعریف کے ساتھ ساتھ ایک ورڈپریس بلاگ بنانے کے سلسلے میں مدد کی درخواست کی تو میرے اس خیال کو مہیمز ملی کہ جو کچھ ورڈپریس کی تنصیب کے دوران سیکھا ہے اسے آگے پہنچاؤں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی یہ تحریر ہے۔
انٹرنیٹ پر بلاگنگ اب اردو والوں کے لیے اجنبی نہیں۔ بلاگنگ کیا ہے سب جانتے ہیں۔ اردو بلاگرز البتہ بلاگز کو شاعری وغیرہ کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس وقت کوئی پچاس سے زیادہ اردو بلاگ موجود ہیں۔ جن میں اضافہ ہی ہورہا ہے۔ بلاگنگ کی مشہور خدمات بلاگر، بلاگ سم اور ورڈپریس ڈاٹ کوم جیسی ویب سائٹس فراہم کرتی ہیں۔ کچھ چھوٹی موٹی اور بھی کمپنیاں ہیں۔ بلکہ ان میں بھی بلاگر ممتاز ہے۔ میں نے بھی اپنا بلاگ بلاگر پر ہی بنایا تھا۔ چند ماہ پہلے بلاگر پر پاکستان میں پابندی لگا دی گئی اور ساتھ ہی اردو بلاگرز یتیم ہوگئے۔ بہت سے ٹوٹکے آزمائے گئے کبھی پی کے بلاگ سائٹ بنائی گئی۔ کبھی پراکسی سائٹس ٹرائی کی گئییں مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی۔ مزہ جاتا رہا ۔ خود میں بلاگنگ سے ایسا بے زار ہوا کہ مہینوں کے بعد جا کر ایک آدھ پوسٹ ہوتی وہ بھی صرف اپنی موجودگی ثابت کرنے کے لیے۔ آہستہ آہستہ اردو بلاگروں نے بلاگ سم اور ورڈپریس ڈاٹ کوم کی طرف ہجرت شروع کردی۔ لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔ ان عمومی مستعمل خدمات پر بھی کسی دن پابندی لگ جائے گی اور حال وہی۔ تو کیوں نہ کوئی مستقل حال نکالا جائے۔ مستقل حل یہ ہے کہ اپنی جگہ خرید کر یا کسی فری ہوسٹ پر ورڈپریس نصب کرکے اردو بلاگنگ شروع کردی جائے
اسی خیال کا نتیجہ کہ میں اب اس پر بلاگنگ کررہا ہوں۔ اگرچہ میں پس دید میں اس کا انگریزی ورژن استعمال کررہا ہوں لیکن ہم اردو محفل پر اس کے اردو ورژن پر بھی کام کررہے ہیں۔ ترجمہ مکمل ہے بس اس کی سٹائل شیٹ اور تدوینی قطعات میں ویب پیڈ شامل کرنے کی کسر رہ گئی ہے۔ انشاءاللہ وہ بھی جلد ہی پوری ہوجائے گی۔ تب تک ہم انگریزی ورژن پر ہی طبع آزمائی کرتے ہیں اور آپ کو اسی سے سارا طریقہ کار سکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک عدد ویب سائٹ بنانے کے لیے سب سے پہلی چیز ایک عدد ہوسٹ ہے یعنی انٹرنیٹ پر کچھ جگہ کی فراہمی جہاں ویب سائٹ رکھی جاسکے ایک بلاگ کے لیے 50 میگا بائٹ کی جگہ بہت ہوگی۔ آپ کسی بھی ہوسٹ سے یہ جگہ خرید سکتے ہیں۔ ورڈپریس کی پیشہ ورانہ ویب سائٹ اپنے کچھ شرکائے کار کا بھی ذکر کرتی ہے جیسے ڈریم ہوسٹ، یاہو ویب ہوسٹ وغیرہ تاہم آپ اپنی پسند کے ہوسٹ پر جگہ اور اپنا ڈومین نیم خریدیں۔ نہیں‌استطاعت رکھتے تو فری ہوسٹ ہمارے لیے ہی ہیں۔ خود ہمارا بلاگ ایک فری ہوسٹ پر چل رہا ہے۔ یہاں آپ کو اردو کے لحاظ سے بہترین فری ہوسٹ بتا رہا ہوں۔ایک تو
www.ueuo.com اور دوسرے www.ifastnet.com۔ بہت تحقیق و جستجو کے بعد انھیں ہی بہترین پایا ہے۔ بلکہ اول الذکر تو سب سے اعلٰی سمجھ لیں۔ اس پر اشتہار بازی نہیں( کم از کم اب تک اس کا چکر کیاہے وہ آگے کھاتا بنانے کے دوران بتاتے ہیں) یہ کرل اضافت کی سپورٹ کرتا ہے فقط اتنا سمجھ لیں کہ آپ اس طرح اپنے بلاگر بلاگ سے تحاریر درآمد کرسکیں گے صرف ایک سنگل کلک سے۔ آئی فاسٹ نیٹ بھی اچھی سروس ہے اس کا اچھا پن صرف اشتہار نہ دینے تک ہے یہ اعلانیہ اشتہار کے بغیر ہوسٹنگ مہیا کرتے ہیں۔ لیکن یہاں پر بندہ بلاگر ہوسٹ سے اپنی تحاریر درآمد نہیں کرسکتا۔ مزید یہ ایک کلک سے ورڈپریس کی تنصیب کی سہولت بھی مہیا کرتے ہیں جس کے استعمال کا ہمیں ذاتی طور پر اتفاق نہیں ہوا چونکہ ہمیں اول الذکر بہت پسند آیا تھا۔
خیر آپ اپنی پسند کا کوئی اور ہوسٹ بھی چن سکتے ہیں گوگل اس سلسلے میں مددگار ہوگا اگر کوئی اچھا ہوسٹ ملے تو ہم سے بھی ذکر کیجیے گا تاکہ اسے اس فہرست میں شامل کیا جاسکے۔ تو صاحبو بسم اللہ کرتے ہیں۔
ueuo.com پر چلے جائیں اور صفحے کے آخر میں جاکر اپنی پسند کا سب ڈومین لکھ کر Proceed دبا دیں۔ تمام اندراجات کو احتیاط سے پر کریں۔ دو تین مراحل میں آپ کا اندراج ہوجائے گا(جب ایڈز یعنی اشتہارات کا انتخاب سامنے آئے توManual کا انتخاب کیجیےگا)۔برقی پتہ دھیان سے دیں کیونکہ اسی پر آپ کو فعالی کوڈ موصول ہوگا ہمارا مشورہ ہے کہ جی میل استعمال کریں خیر کوئی بھی چلے گا۔ کھاتہ فعال ہونے کے بعد جو سب سے پہلا کام آپ نے کرنا ہے وہ ہے ایک عدد کوائفیہ (Database) بنانے کا کام۔ یہ مائی ایس کیو ایل میں بنے گا۔ جو مقبول عام ویب بیسڈ کوائفیہ پروگرام ہے۔ ایک بات اور جب آپ نے ہوسٹ یا فری ہوسٹ ورڈپریس بلاگنگ کے لیے چننا ہے تو اس میں مائی ایس کیو ایل ڈیٹابیس اور پی ایچ پی 5 کی سہولیات لازمی دیکھ لینی ہے۔ پی ایچ پی ایک سکرپٹنگ زبان ہے اگر اس کی معاونت نہ ہوئی تو ورڈپریس نہیں چلے گا جو سارے کا سارا ورڈپریس پر مشتمل ہے۔
اچھا تو ہم کوائفیہ بنانے جارہے تھے۔ یہ سارا کام یک سنگل کلک کا ہے۔ اس تصویر میں جو کنٹرول پینل آپ کو نظر آرہا ہے اسی سے ہم نے سارا کام کرنا ہے۔
DataBase
دائرہ لگے انتخابات پر غور کریں ان میں سے پہلے والا یعنی بائیں طرف والا جب آپ کا کھاتہ ابھی نیا بنا ہوگا اس پیغام پر مشتمل ہوگا کہ کوائفیہ بنائیں۔ بٹن پر کلک کریں اور اگلے صفحے پر کوائفیے کی تفاصیل ہونگی جو آپ کو ورڈپریس میں داخل کرنی ہیں۔ انھیں سنبھال لیں یہ ضروری ہے۔
کوائفیہ بنا لیا۔ اب اگلا کام ہے فائلیں چڑھانا ۔ ایسا کریں یہاں جائیں اور فائل زیلا اتار لیں۔ یہ ایک عمومی مستعمل اور بہترین نتائج دینے والا آزاد سافٹویر ہے اور اسی کو ہم فائلیں چڑھانے کے لیے استعمال کریں گے۔
اگلی قسط میں ورڈپریس کی بنیادی وضع قطع(Configuration) اس کو چڑھانا اور اس کی تنصیب کے اسباق شامل ہونگے۔
وسلام

جمعہ، 20 اکتوبر، 2006

ایڈمن ہونا

ایڈمن نامی مخلوق ہمارے اردگرد عام پائی جاتی ہے۔ وہ نیٹ ورک ایڈمن ہو، دفتر میں فنانس ایڈمن جیسی کوئی چیز ہویا انٹرنیٹ پر فورم کے ایڈمن ہوں۔ ایڈمن ہونا ایک اعزاز بھی ہے اور ایک امتحان بھی۔ فی الحال ہمارا پیش نظر فورم کے ایڈمن ہیں۔ ایڈمن کیسے ہواجاتا ہے اس کی خصوصیات کیا ہوتی ہیں اور ایڈمین برادری کے مسائل کیا ہیں یہ ہمارا مطمع نظر ہے۔
صاحبو انٹرنیٹ پر کوئی بھی ایڈمن بن سکتا ہے اس کے لیے آپ کو جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ ایک عدد فورم سافٹویر ہے اور ایک عدد فری ویب سپیس اس کے بعد آپ کی موجیں آپ بن گئے ایڈمن۔ لیکن ٹھہریے ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔
صرف فورم کے ایڈمن بن جانے سے بات نہیں بنتی ایڈمن کوئی مذاق نہیں ہوتا۔ ہم نے حاسد سے پوچھا تو ان کا جواب تھا۔ ان کا مزید ارشاد یہ تھا کہ ایڈمین فورم کا ٹریڈ مارک ہوتا ہے اس لیے اسے ذرا منہ متھے لگنے والا بندہ ہونا چاہیے۔ ہم نے ٹریڈ مارک پر اعتراض کیا جسے مسترد کردیا گیا۔ خیر ہم نے حاسد کا کہا ہو بہو نقل کیا ہے۔
صاحبو ایڈمن ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کا اوتار اس قسم کا ہو کہ دور سے ہی چہرے پر ایک ابدی ٹھہراؤ محسوس ہو۔اب آپ پوچھیں گے کہ ابدی ٹھہراؤ کس طرح محسوس ہوتو ہمارا مشورہ ہے اوتار کے لیے تصویر ایسی بنوائیں جیسی پچاس کے نوٹ پر قائد اعظم کی ہوتی ہے۔خبردار کبھی بھی لمبے بالوں کے ساتھ، بڑھی مونچھوں کے ساتھ تصویر کو بطور اوتار نہ لگائیں ورنہ اراکین کے مختلف قسم کے تبصرے آپ کو چین نہیں لینے دیں گے۔ اوتار کو مختلف اوقات میں بدلتے رہیں اپنی تصویر سے نہیں، کبھی پھول لگا دیے کبھی کوئی اینی میشن پھر اپنی تصویر تاکہ اراکین کو آپ کا اوتار ہضم کرنے میں آسانی ہو۔
اس کے ساتھ آپ کو اپنی گفتگو میں ٹھہراؤ، وقار اور شائستگی پیدا کرنا ہوگی۔
یہاں ایک واقعہ سے سمجھانے کی کوشش کی جائے گی کہ ٹھہراؤ کا مطلب کیا ہے۔ ایک جماعت کے استاد نے اپنے شاگردوں سے کہہ رکھا تھا کہ ہر اہم بات کرنے سے پہلے سو تک گنتی ضرور گنیں اور اس کے بعد شائستہ الفاظ میں مدعا بیان کریں۔ ایک دن کیا ہوا کہ استاد صاحب حقے کا شوق فرما رہے تھے چلم سے ایک بد نیت اور بد طینت چنگاری اڑی اور جناب کی ٹنڈ اطہر پر موجود ٹوپی پر جاپڑی سب شاگردوں نے تیزی سے سو تک گنتی گنی اور اس کے بعد ایک شاگرد اٹھ کر کچھ یوں ہم کلام ہوا۔
“جناب استاد محترم ایک بدطینت و شرارتی چنگاری حضور کی چلم سے پرواز کرکے سر مبارک پر لینڈ کرچکی ہے اس سے پہلے کہ حضور کے سر انور کو کوئی نقصان۔۔۔“
ابھی شاگرد یہیں پر تھا کہ استاد محترم ساری شائستگی بھول کر چلا اٹھے اور اپنی ٹنڈ مبارک سہلانے لگے ناہنجاز و بدبخت چنگاری اس دوران اپنا وار کرچکی تھی اس شاگرد کا باقی جماعت کا اس کے بعد استاد گرامی کے ہاتھوں کیا حال ہوا یہ ہمارا موضوع نہیں ہمارا موضوع ہے ایڈمن کے لیے شائستگی کی ضرورت۔ تو اصحاب آپ نے اوپر بیان کردہ واقعے جیسی شائستگی نہیں دکھانی۔ شائستگی سے مراد ہے کہ آپ نہایت سکون سے تمام خطوط کا جواب دیں، الفاظ کا انتخاب ٹھونک بجا کرکریں بلکہ ہوسکے تو انتہائی ثقیل قسم کے چند الفاظ تحریر میں گھسیڑ دینے سے اراکین فورم پر آپ کا رعب بڑھے گا۔
دوسری چیز ہے سنجیدگی۔ پوسٹ میں حتی لامکان ایسے الفاظ استعمال کریں جس سے قاری کو محسوس ہو کہ ایڈمن صاحب بہت ہی سنجیدہ اور متین بندے ہیں۔ چلبلی مسکراہٹوں کا استعمال کم سے کم کریں تاکہ آپ کا رعب قائم رہے۔
اپنے مشاغل ایسے منتخب کریں کہ عام رکن کو اس کی الف بے کا بھی پتہ نہ ہو۔وقتًا فوقتًا اس قسم کی کوئی پھلجھڑی قسم کی پوسٹ چھوڑ کر اسے اپنے مشغلے کا نام دے دیا کریں۔اس طرح اراکین آپ کو بہت اونچی شخصیت سمجھیں گے۔
بطور ایڈمن اگر آپ بیرون ملک مقیم ہیں تو یہ اور پلس پوائنٹ ہوگا۔
ایڈمن کی تعلیم بہت ضروری ہے۔ اس لیے کوشش کریں کہ آپ کم از کم پی ایچ ڈی شدہ ہوں۔ سو ٹھہریے اگر آپ پی ایچ ڈی شدہ نہیں تو پہلے پی ایچ ڈی کرکے آئیں ویسے ایڈمن بننا بے فائدہ رہے گا۔
ایڈمن کو کچھ مزید ضمنی خصوصیات کا مالک بھی ہونا چاہیے۔ مثلاً اسے ایک اچھا ویب مکینک ہونا چاہیے۔ وقتًا فوقتًا فورم کو بند کرکے اس پر اپگریڈ کے لیے بند ہے کا بورڈ آویزاں کرنا خوامخواہ اراکین کو زیر دست کردے گا۔ فورم کی بھی واہ واہ اور آپ کی بھی واہ واہ ہوگی۔ کبھی کبھار کوئی خرابی آجائے تو اسے ٹھیک کرکے بڑے فخر سے اعلان کرنا، اگر ایسا نہ ہوسکے تو خود سے کوئی خرابی پیدا کرکے اس کو ٹھیک کرنے کا اعلان آپ کو ایک اچھا ویب مکینک ثابت کردے گا۔
اس کے علاوہ آپ کو اراکین کی بھی مدد کرنا ہوگی۔ مثلًا آپ کی ایڈمن ٹول کٹ میں ایسے ٹوٹکے، مشورے اور نسخے موجود ہونے چاہیئں جس سے کسی رکن کے بلاگ یا ویب سائٹ کا بخار اتارا جاسکے، اس کی اڑچن ختم کی جاسکے، کوئی نیا فیچر شامل کیا جاسکے وغیرہ وغیرہ۔
یہ سب اراکین کو آپ کا احسانمند کردے گا جو آپ کے وقار میں اضافے کا باعث بنے گا۔
صاحبو فورم پر پوسٹ کرنے کے موسم ہوا کرتے ہیں۔ کبھی شعر و شاعری کا غلغلہ ہے اور ہر کوئی منہ اٹھائے شعر پر شعر لٹائے چلا جارہا ہے۔ کبھی نثر کا رواج ہے اور ایک دوسرے پر فقرے بازی ہورہی ہے کبھی اراکین غائب ہوجاتے ہیں لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ خزاں آجاتی ہے۔ یہ خزاں اس وقت آتی ہے جب فورم پر کوئی سیاسی ایشو زیر بحث آجاتا ہے۔ان حالات میں ایڈمن کا صحیح امتحان شروع ہوتا ہے۔ ایک اچھا ایڈمن اس موضوعات سے اجتناب کرتا ہے۔ اگر اس سے رائے پوچھی جائے تو کنی کترا جاتا ہے یا سیاسی قسم کا بیان دیتا ہے جس سے کسی کی بھی فیور نہ ہوتی ہو۔ آپ کو ایک واقعے سے سمجھانے کی کوشش کی جائے گی کہ ایسا نہ کرنے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔
ایک بندہ حج کرنے چلا گیا۔ سارے مناسک حج پورے ہونے کے بعد جب شیطان کو کنکرمارنے کی باری آئی تو سب کے ساتھ یہ بھی تھا۔ باقی سب مارتے رہے تو کچھ نہ ہوا۔ اس نے کنکر مارا تو آواز آئی یار توُ تو ہمارا بندہ تھا۔
اسی طرح کاحال ایڈمن کا ہوتاہے جس کی بھی طرف داری ہوجائے دوسری پارٹی اسی طرح حیرت بھرے انداز میں کہتی ہے“ایڈمن صاحب ہم تو آپ کو اپنا بندہ سمجھتے تھے“۔ اس لیے ایک اچھا ایڈمن ایک کول مائنڈڈ بندہ ہوتا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے رمیض راجہ کی انضمام الحق کے بارے میں کمنٹری سنی جائے جس میں وہ انضمام کو کوُل لائک کوکمبر کا خطاب دیتا ہے۔
لیکن ٹھہریں ایڈمن کا کام یہاں ہی ختم نہیں ہوجاتا۔ ایسی صورت میں جب بات جذباتی رنگ اختیار کرنے لگے اور اراکین آپس میں‌ بکروں کی طرح ڈھڈیں لڑانے کا ارادہ کرتے ہوئے سروں کو جھکا لیں ایک اچھے ایڈمن کا فرض ہے کہ اس کی ٹول کٹ میں قفل موجود ہو۔ جیسے ہی کوئی دھاگہ جذباتی رنگ اختیار کرنے لگے فورًا اس پر ایک انتظامی قسم کا نوٹ لکھ کر اسے مقفل کردیا جائے۔ اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ اراکین اس قفل سے دو چار دن ٹکریں ماریں گے اور ان کا غصہ ٹھنڈا ہوجائے گا۔ زیادہ سے زیادہ کسی اور دھاگے میں اپنی بھڑاس نکال لیں گے اور فورم کا ماحول پھر پرسکون ہوجائے گا۔
ایڈمن فورم کا آڈیٹر ہے جو فورم کے پیغامات کو جانچتا ہے کہ آیا پالیسی کے مطابق ہیں یا نہیں۔ اگر آپ دیکھیں کہ کوئی پیغام آپ کے نظریے کے مخالف ہے تو آپ بڑی آسانی سے اس کو پالیسی کی خلاف ورزی کی آڑ میں ختم کرسکتے ہیں۔ متعلقہ رکن کو ایک عدد ذپ کرکے اس بارے میں خبردار کریں اور احسان عظیم کرتے ہوئے اسے ایک اور موقع عنایت کرتے ہوئے تنبیہہ کریں کہ اگلی بار اس پر پابندی بھی لگائی جاسکتی ہے۔ بے چارہ رکن اتنے میں ٹھنڈا ہوجائے گا یعنی ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آئے۔ اگر کچھ زیادہ ہی غصہ ہے تو متعلقہ رکن کو ہی بین کردیں نہ رہے بانس نہ رہے بانسری ایسے ایڈمن جو تنگ نظر ہیں اس کلیے کو با آسانی اپنا سکتے ہیں، بعد میں ایک عدد تعزیتی قسم کی پوسٹ جس میں شکوہ کیا گیا ہو کہ فلاں رکن آج کل نہیں آرہے اللہ خیر کرے وغیرہ وغیرہ آپ کے دامن کو اجلا رکھنے میں مدد گار ثابت ہوگی۔
ایڈمن ہونے کے لیے آپ کو اپنے جذبات کو مارنا ہوگا۔ ایڈمن ہونے کی آئیڈیل سچویشن یہ ہے کہ آپ شادی شدہ ہوں۔ اس طرح آپ پر صنف نازک سے تعلق رکھنے والی اراکین کا اعتماد زیادہ ہوگا۔ اگر آپ ابھی تک شادی شدہ نہیں تو آپ کو بہت محنت کرنا ہوگی۔ مثلًا آج سے ہی “ابھی تو میں جوان ہوں“ یا “پریتو میرے نال ویاہ کرلے“ جیسے گانے چھوڑ کر “اے وطن کے سجیلے جوانو میرے نغمے تمہارے لیے ہیں“ اور “اے پتر ہٹاں تے نئیں وِکدے“ قسم کے گانے سننا شروع کردیں تاکہ بوقت ضرورت آپ کے جذبات کنٹرول رہیں اور کسی بدمزگی سے بچا جاسکے۔ فورم پر آپ سب کے بھائی بن جائیں تو آپ کی شرافت سند یافتہ ہوجائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ سب اراکین خصوصًا خواتین کے ساتھ ایک بزرگانہ قسم کا رویہ اختیار کریں اس طرح آپ کی خصوصی عزت ان کے دلوں میں پیدا ہوجائے گی۔
صاحبو آپ نے دیکھا کہ ایڈمن بننا کتنا مشکل کام ہے۔ لیکن حاسد کا کہنا ہے کہ آج کا ایڈمن کل کا ناظم ( بابے مشرف والا ناظم) اور پرسوں کا وزیراعظم۔ اور آگے وزیر اعظم کی قسمت کہ اسے مشرف نہ ٹکر جائے۔
ایڈمن کا ذکر ہوا تو ایڈمن کے چمچے کا بھی ذکر بھی ہوجائے۔ چمچہ پیار سے ایسے بندے کو کہتے ہیں جو کسی بڑی شخصیت کا خوشامدی درباری ہوتا ہے۔فورم پر ایڈمن کا چمچہ بننے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ اس کی نظروں میں آجائیں۔ اس طرح ہوسکتا ہے کل کو آپ بھی ایڈمن بن جائیں ورنہ ناظم (بابے مشرف والا نہیں) بن ہی جائیں گے۔ ایڈمن کی نظروں میں آنے کا منفی طریقہ تو یہ ہے کہ آپ آتے ہی تھرتھلی مچا دیں تین چار سنجیدہ قسم کے دھاگوں میں‌ بیٹھ کر ڈھول بجانا شروع کردیں۔ خواتین اراکین سے خصوصًا چھیڑ چھاڑ کریں۔ فورم کے ماحول کا مشاہدہ کرکے کوئی ایسا موضوع چھیڑ دیں جس کو اچھا نہ سمجھا نہ جائے اور سب چونک جائیں۔ یہ آزمودہ نسخہ ہے آپ دنوں میں زبان زد عام ہونگے۔
مثبت طریقہ ذرا لمبا ہے۔ مثلًا آپ کو سب کو سلام کرنے عادت ڈالنی ہوگی۔ ہر دھاگے پر بنفس نفیس حاضر ہوکر وہاں کے موضوع کے مطابق شائستگی سے کلام کرنا ہوگا، اپنے آپ کو ایک اچھا ادب نواز ثابت کرنے کے لیے آپ کو شعر و شاعری کے دھاگوں میں‌اپنی دھاک بٹھانی ہوگی، اگر اس کے ساتھ ساتھ اگر آپ کی ایک آدھ غزل بھی فورم کی زینت بن جائے( چاہے سرقہ شدہ ہی ہو) اور دو اراکین ہی اسے پسند کرلیں تو آپ کا نمبر لگ گیا سمجھیں۔ ایڈمن کی ہاں میں ہاں ملائیں خصوصًا ایڈمن کے شروع کردہ دھاگوں کی تاک میں رہیں اور وہاں جواب ضرور دیں چاہے “جواب“ ہی ہو۔ فورم کی پالیسی یا آئندہ منصوبوں کے بارے میں رائے دیں۔ ہوسکے تو اپنی طرف سے کوئی منصوبہ پیش کردیں۔ چلنے والے منصوبوں کے لیے اپنی خدمات پیش کردیں اس طرح آپ بہت جلد ایڈمن کے قریب ہوجائیں گے اور اگر آپ کی قسمت ہوئی تو کوئی عہدہ بھی مل جائے گا۔
تو اصحاب یہ تھا ہمارے تجربات کا نچوڑ اسے پڑھ کر عمل کرنے والے اپنے برے بھلے کے ذمہ دار خود ہونگے چونکہ یہ صرف نظریات ہیں ان کا ثبوت موجود نہیں۔ اسے آزاد مصدر اجازت نامے کے تحت بغیر کسی وارنٹی و گارنٹی کے جاری کیا جاتا ہے۔ فقط صرف آپ کا۔۔۔۔

اتوار، 29 جنوری، 2006

ایم کیوایم کیا؟کیوں؟کیسے؟

میں‌نے یہ تحریر کیوں‌لکھی:
ایم کیو ایم سے مجھےکوئی ذاتی بیر نہیں‌مگر پچھلے کچھ عرصے سے یہ نام کچھ اس طرح‌میرے سامنے آیا ہے کہ مجھے مجبورًا اس کی طرف متوجہ ہونا پڑا۔ حکومت میں ایم کیو ایم کی شمولیت۔ میرے شہر فیصل آباد میں‌ایم کیوایم کے دفتر کے قیام کی خبر۔ پھر زلزلے کی حوالے سے ایم کوایم کی سرگرمیاں‌ اور اس کے بعد اردو ویب آرگ پر ایم کیوایم کےبارے میں‌بحث۔
اس بحث کی وجہ سے میں‌مجبور ہوا کہ ایم کیوایم کے بارے میں‌جانوں‌اور اس کے بارے میں‌کچھ لکھوں‌، میرے جیسے کئی ہونگے جو اس کے بارے میں‌نہیں‌جانتے ہونگےاورجاننے کے خواہش مند ہونگے اسی لیے میں‌یہ تحریر لکھ رہا ہوں۔ اس کو لکھنے کے لیے جن کتب سے استفادہ کیا گیا ہے ان میں‌ایک تو الطاف حسین جو ایم کیوایم کاقائد بھی ہے کی آپ بیتی “سفر زندگی “ (جنگ پبلشرز)اور دوسری کتاب “ایم‌کیو ایم“از منیر احمد ہے(نگارشات لاہور) ۔مَیں‌کوشش کروں‌گا کہ اس تحریر میں‌جذبات سے بالاتر ہوکر صرف حقائق بیان‌ کرنے کی کوشش کروں‌۔
ایم کیو ایم کے قیام کی وجوہات:
الطاف حسین 17 ستمبر 1953میں کراچی میں‌پیداہوا۔ 1969 میں‌بوائز سکینڈری سکول جیل روڈ سے میٹرک کرنے کے بعد سٹی کالج سے انٹر سائنس کے ساتھ کیا۔ اس کے بعد 1972 میں‌اسلامیہ کالج سے بی ایس سی کی۔اسی دوران کچھ ایسے واقعات و حالات پیش آئے جس سے آئندہ ایم کیوایم کے قیام کے حالات پیدا ہوئے۔
1970میں ‌نیشنل کیڈٹ سروس کے تحت الطاف حسین نے بھی فوجی تربیت حاصل کی۔ خود الطاف حسین کا بیان ہے کہ وطن کی حفاظت کا جذبہ اس قدر شدید تھا کہ جی کرتا اڑکر سرحدوں‌پر پہنچ جائیں۔ اس دوران کچھ ایسے واقعات پیش آئے جنھوں‌نے الطاف کا دل فوج سے کھٹا کر دیا حالانکہ اس کی بچپن سے خواہش تھی کہ فوج میں‌بھرتی ہوکر وطن کی خدمت کرے۔ دوران تربیت امتیازات کا ایسا ایسا مظاہرہ ہوا کہ وہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ شاید کراچی والے اچھوت ہیں۔ انھیں‌کمزور اور شہری ہونے کے طعنے دیے جاتے دوران تربیت اور مشقوں‌میں‌بھی انھیں‌ایسا کام دیا جاتا جو نسبتًامشکل ہوتا۔ اس سب سے گھبرا کر اور اکتا کر اطاف حسین نے فوج چھوڑ دی۔
بی ایس سی کے بعد بی فارمیسی میں داخلہ لیا۔ یہ کیسے ملا یہ بھی ایک الگ داستان ہے۔ ان کا نتیجہ دیر سے آیا اور یونیورسٹی نے داخلے دینے سے انکار کردیا۔ آخر نوماہ کے طویل احتجاج کے بعد داخلہ ملا۔ بی فارمیسی میں‌ داخلے کے بعد جب الطاف حسین یونیورسٹی(جامعہ کراچی) میں‌داخل ہوا تو اس کی وطن پرستانہ سوچ پر ایک اور ضرب اس وقت پڑی جب اس نے جگہ جگہ پنجابی سٹوڈنٹ فیڈریشن،پختون سٹوڈنٹ‌فیڈریشن،گلگتی سٹوڈنٹ فیڈریشن،بلوچ سٹوڈنٹ فیڈریشن اور اسی طرح‌کے دوسرے قوم پرستانہ ناموں‌پر مشتمل طلبہ یونینوں‌ کے بینر دیکھے۔ الطاف حسین کو یہ پتا چلا کہ بڑی یونینیں‌جیسے جمعیت اور پروگریسوسٹوڈنٹ وغیرہ ان علاقائی ناموں پر مشتمل تنظیموں‌سے دوران انتخابات اتحاد کرنے پر مجبور ہیں۔ اس سب اور پھر مہاجر طلبہ سے امتیازات دیکھ کر الطاف حسین نے اے پی ای ایس او قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔
الطاف حسین نے تحریک نظام مصطفٰی میں بھی بطور کارکن کام کیا۔ سٹوڈنٹ ایکشن کمیٹی میں اہم عہدے پر رہا۔ مگر یہاں بھی تلخ تجربات ہوئے سازش کے ذریعے عہدے سے سبکدوش کیا گیا۔ جس کے نتیجہ میں الطاف حسین کے ذہن میں مہاجر قومیت کا تصور مزید مضبوط ہوا۔
آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹ آرگنائزیشن کا قیام 11جون 1978 کو عمل میں‌آیا۔ اس سے پہلے دوسال تک صرف خفیہ میٹینگز ہوئیں‌تھیں۔‌‌‌قیام کے وقت الیکشن کے ذریعے الطاف حسین کو چئیرمین اورعظیم طارق (بعد میں ایم کیوایم کا چئیر مین بھی بنا پھر کراچی کے فسادات میں ‌قتل ہوا) کو جنرل سیکرٹری مقرر کیا گیا۔
اے پی ایم ایس او اصل میں‌طبل جنگ تھا۔ اس نے آگے ایم کیوایم کے قیام کی راہیں‌ہموار کیں۔ اے پی ایم ایس او کے قیام کے بعد الطاف حسین کو جن مشکلات اور صدموں‌سے گزرنا پڑا انھوں نے آگے چل کر ایم کیوایم کے قیام کی راہ ہموار کی۔جعیت جو جماعت اسلام کی ذیلی تنظیم ہے سے الطاف حسین کے اختلافات اسی دور میں شروع ہوئے آج بھی جماعت اسلامی اور ایم کیوایم میں‌ایسا بیر موجود ہے جس کی مثالیں‌دی جاسکتی ہیں۔
الطاف حسین نے اپنی تحریک کے فروغ کے لیے بہت جدوجہد کی۔ سائیکل پر کام کیا۔ چندہ جمع کرکے تنظیم کے اخراجات پورے کیے۔ ٹیویشن پڑھا کر اپنے تعلیمی اور تنظیمی اخراجات میں‌چندہ دیا۔ اس دوران اتنی تکالیف برداشت کرنا پڑیں‌کہ تنطیم کے اراکین جو قیام کے وقت ڈیڑھ سو تھے پینتیس چالیس رہ گئے۔الطاف حسین کو اسی دوران سرمایہ داروں نے چندہ کے سلسلے میں‌بہت مایوس کیا حالانکہ وہ سب بھی مہاجر تھے۔ تنظیم پر سب سے زیادہ سختیاں‌جمعیت نے کیں‌۔ تھنڈر سکواڈ سے اراکین کو ہراساں‌کیا گیا۔ جھگڑے ہوئے ہر حد پارکر دی گئی۔
پہلے الیکشن میں‌تنظیم کو خاص کامیابی نہ ملی ۔ دوسرے الیکشن میں نو سو ووٹ، تین کونسلر اور ایک فیکلٹی کا نمائندہ کامیاب ہوا۔ اس دوران داخلہ مہم میں‌طلبہ نے تنظیم پر اپنے اعتماد کا بے پناہ اظہار کیا۔ اسی دوران مہاجرسٹوڈنٹ فیڈریشن کا شوشہ بھی چھوڑا گیا جو کامیاب نہ ہوا۔ داخلہ مہم میں ‌جمعیت نے کھلی چھیڑ چھاڑ کی حتٰی کہ الطاف حسین پر قاتلانہ حملہ ہوا جس کی ایف آئی آر بھی درج نہ کروائی جاسکی۔
ایم کیوایم کا قیام:
اے پی ایم ایس او کی مقبولیت سے خوفزدہ ہوکر ارباب اختیار اور دوسری حریف تنظیموں‌نے ایسے اقدامات کیے کہ اسے تعلیمی اداروں سے نکال دیا گیا۔ جامعہ کراچی اور دوسرے تعلیمی اداروں میں‌تنظیم کے اراکین پر بے پناہ سختی کی گئی۔ تنظیم کے تعلیمی اداروں‌سے اخراج کے بعد الطاف حسین اور ساتھیوں‌کو اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنا پڑی۔ اب انھوں نے اپنی تنظیم کو گلی کوچوں کی سطح پر منظم کرنے کا کام شروع کردیا۔عوامی سطح‌پر اے پی ایم ایس او کے منشور کی مقبولیت کے بعد 18 ماچ 1984 میں‌ ایم کیو ایم یعنی مہاجر قومی موومنٹ کا قیام عمل میں‌آیا۔
اپنے قیام کے دوسال تک اس پارٹی نے خاموشی سے کام کیا۔ الطاف حسین اور ساتھیوں نے جماعت کی تنظیم سازی ،آئین،اس کا علاقائی ڈھانچہ تیار کرنے میں‌یہ دو سال گزارے۔ تنظیم نے اپنے اخراجات چلانے کے لیے آزمودہ طریقہ کار یعنی چندے کا سہارہ لیا۔ پاکستان کی تاریخ میں‌ایم کیو ایم شاید واحد جماعت ہے جو عوامی چندے پر چلی اور چلتی ہے۔ 1986 میں‌کراچی میں‌سیاسی سرگرمیوں‌کا آغاز ہوا تو ایم کیو ایم کے کارکنان نے بھی نشتر پارک کراچی میں جلسہ کرنے کی خواہش کی۔ یہاں‌سے ایم کیوایم نے اپنے سیاسی کیرئیر کا باقاعدہ آغاز کیا اور معاصرین کے لیے خطرے کی گھنٹی بجائی۔ لاکھوں‌افراد کے اس اجتماع نے کراچی کے عوام میں‌جماعت کی مقبولیت ثابت کردی۔جلسے کے انتظامات کے سلسلے میں رقم چندے سے جمع کی گئی تھی۔
اس کے بعد حیدر آباد کے کارکنان نے بھی اسی قسم کاجلسہ کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ یہاں‌تک تو شاید سب ٹھیک تھا۔ مگر یہ وہ نقطہ ہے جہاں‌سے ایم کیو ایم کو ہتھیار اٹھانے پر مجبور کر دیا گیا۔ 31 اکتوبر 1986 کو جماعت کے لوگوں‌ کے حیدر آباد جلسے میں‌جاتے ہوئے سہراب گوٹھ کے قریب فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ بقول الطاف حسین یہ ڈرگ مافیا کی ایجنسیوں‌کے اشارے پر کاروائی تھی تاکہ مہاجروں اور پختونوں‌کو لڑایا جاسکے۔ یاد رہے اس علاقے میں‌ پختونوں‌کی اکثریت آباد ہے۔(بعد میں اسی طرح کے اور کئی واقعات ہوئے جن میں‌پنجابیوں‌،سندھیوں‌ اور دوسری قوموں‌کو ایم کیوایم کے خلاف کرنے کی کوشش کی گئی۔ الطاف حسین ان سب کو ایم کیوایم کے خلاف سازش سے تعبیر کرتاہے۔ حقیقت تو خدا جانتا ہے تاہم ان واقعات اور پریس کی مہربانیوں‌سے ایم کیوایم کے خلاف پنجاب اور سرحد میں‌بالخصوص اور پورے ملک میں‌بالعموم نفرت پھیلی۔) کئی لوگ مارے گئے کئی زخمی ہوئے مگر حیدر آبادکا جلسہ ناکام نہ کرایا جاسکا۔ اس روز واپسی پر گھگھر پھاٹک کے قریب الطاف حسین کو گرفتار کر لیا گیا جب وہ مقتولین سہراب گوٹھ کے جنازے میں شرکت کرنے کراچی جارہا تھا۔
14 اور 15 دسمبر1986 کا دن شایداہل کراچی کبھی نہ بھلا سکیں‌جب علی گڑھ کالونی اور قصبہ کالونی میں‌بدترین قتل عام کیا گیا۔مخالف رائے دستیاب نہیں مگر الطاف حسین کے بقول مساجد کے سپیکروں‌سے دہشت گردوں کو گائیڈ کیا جاتا رہا۔ بچے بوڑھے اور جوان کی تخصیص کے بغیر قتل عام کیا گیا۔یہ سب ڈرگ مافیا کے ذریعے کیا گیا۔ حتٰی کہ ایک جگہ ایک خاتون کے جنازے پر بھی حملہ ہوا۔
ان تمام مشکلات کے باوجود ایم کیوایم نے بلدیاتی انتخابات میں بے مثال کامیابی حاصل کی۔جو کراچی اور حیدرآبادکے لوگوں کی الطاف حسین سے والہانہ محبت کا ثبوت تھا۔اس کے بعد ایم کیو ایم کے کونسلروں کو کام سے روکنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے جو کہ ہماری سیاست کی ریت بھی ہے۔
جب روشنیوں‌کا شہر کراچی جلا:
ایم کیو ایم کی مقبولیت روکنے کے لیے ہر دور حکومت میں‌کام ہوا۔ بے نظیر کے دور حکومت میں‌خصوصًا ایم کیوایم پر بے پناہ ظلم و ستم کیا گیا1988 کے انتخابات کے بعد بے نظیر کی حکومت بنی اس حکومت میں ایم کیوایم بھی معاہدہ کراچی کے تحت شامل تھی۔(ایم کیو ایم کے سیاسی معاہدے آگے ایک اور سرخی کے ذیل میں‌تفصیلًا بیان کیے جائیں گے)۔ بے نظیر نے ہمیشہ ایم کیو ایم کو اپنے لیے خطرہ سمجھا اور بہانے بہانے سے ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کیا۔
بے نظیر کے پہلے دور حکومت میں جب حکومت کے مظالم حدسے بڑھ گئے تو الطاف حسین نے بھوک ہڑتال کا اعلان کردیا۔ مگر حکومتی یقین دہانیوں‌کے باعث ختم کردی۔ مگر پھر بھی مطالبات تسلیم نہ کیے گئے۔ بے نظیر کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ اس سے پہلے ہی الطاف حسین اس کے رویےسے مایوس ہوکر نواز شریف سے معاہدہ کرچکا تھا۔نواز شریف کے دور حکومت میں‌1990 سے1992 تک ایم کیوایم اقتدار میں شامل رہی۔
جون 1992 میں‌نواز شریف کے دور حکومت میں ایم کیوایم کے خلاف خوفناک آپریشن شروع ہوا۔فوج کے جنرل آصف نواز نے ایم کیو ایم کے خلاف پوری طاقت استعمال کی نواز شریف کے بقول اس بات سے اسے لاعلم رکھا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ یہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن ہے۔
اسی آپریشن اورماضی کی زیادتیوں‌سے مجبورہو کر ایم کیو ایم نے تشدد کا راستہ اپنایا۔ اگرچہ الطاف حسین تنظیم کے کسی عسکری ونگ کی موجودگی سے ہمیشہ انکاری رہا ہے تاہم یہ عسکری ونگ کی موجودگی بعیداز حقیقت نہیں‌۔
اس سے پہلے نواز شریف بطور وزیر اعظم الطاف حسین سے مل کر ایم کیو ایم کے جرائم جن میں‌غنڈہ ٹیکس اور ماردھاڑ ،عقوبت خانے وغیرہ شامل تھے کی نشاندہی کرچکا تھا۔ الطاف حسین کے علم میں‌کچھ جرائم تھے بھی تاہم اس کے چہرے کا رنگ ایک بار ضرور بدلا تھا۔اسی دور میں‌ایم کیو ایم سے کچھ لوگوں‌کو اس الزام کے تحت الگ کیا گیا کہ وہ مجرمانہ سرگرمیوں‌میں‌ملوث‌ہیں۔اسی دوران راء کے دہشت گرد ایم کیوایم میں گھس آئے اور انھوں‌نے تنظیم کے لیڈروں‌کی قربت حاصل کرلی۔ حتٰی کہ بعض لیڈر بھی ان کی موجودگی جدوجہد اور تنظیم کے لیے ضروری قراردینے لگے۔
فوج اگرچہ پہلے ایم کیو ایم کی حامی تھی ضیاءالحق کے دور میں ایم کیوایم کی پرورش اینٹی پیپلز پارٹی کے طور پر کی گئی تاہم بعد میں‌کچھ وجوہات کی بنا پر فوج اس کے خلاف ہوگئی ۔ انھی وجوہات میں‌ کراچی سیکٹر کے ایک میجر کلیم کا ایم کیوایم کے کارکنوں‌کے ہاتھوں‌اغواء بھی بتایا جاتاہے۔ان باتوں سے تنگ آکر جنرل آصف نواز نے ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کا آغاز کردیا۔
فوج کے آپریشن اور ایم کیو ایم میں‌جرائم پیشہ لوگوں‌کی شمولیت کا اگر کسی کو کچھ نقصان ہوا تو وہ کراچی کے معصوم عوام تھے۔ان پر زندگی دوبھر کردی گئی۔ ایک طرف قانون نافذ کرنے والے ادارے دوسری طرف دہشت گرد چکی کے دوپاٹوں میں‌عوام گندم کی طرح‌پس کر رہ گئی۔
فوج اور ایجنسیوںنے الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی جاسوسی شروع کردی۔ اسی دوران جناح‌پورکی سازش منظر عام پر آئی جو بقول حکومت علیحدہ ملک بنانے کی سازش تھی اور الطاف حسین اسے ایجنسیوں کی چال قرار دیتا ہے۔اس دوران الطاف حسین علاج کی غرض‌سے لندن جاچکا تھا جس کےبعد وہ وہیں‌کا ہوکر رہ گیا۔
فوج کے سربراہ جنرل آصف نواز نے برملا اس بات کہ اظہار کیا کہ اگر مسلم لیگ میں دھڑے بندیاں‌ہو سکتی ہیں‌تو ایم کیو ایم میں‌کیوں‌نہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلاکہ ایم کیوایم حقیقی کے نام سے عامر اور آفاق جنھیں‌الطاف حسین نے پارٹی سے جرائم پیشہ سرگرمیوں کی بناء بر نکال دیا تھا(بقول ایم کیو ایم ذرائع) ایک پارٹی کھڑی کر لی۔ اس کے بعد آگ اور خون کا جو کھیل شروع ہوا اس سے سب ہی واقف ہیں۔ یوں‌حالات پیدا ہوگئے جیسے ایم کیو ایم (جسے حکومتی ادارے الطاف گروپ کہتے تھے) اور حقیقی کے مابین گینگ وار شروع ہوگئی ہو۔ نواز شریف کے دور میں‌تو کچھ بچت رہی۔تاہم بے نظیر نے اس کا خوب استعمال کیا۔
اسی دوران آصف نواز کا انتقال ہو گیا اور نئے فوجی سربراہ جنرل وحید نے فوج کو واپس بلانے کا عندیہ دیا۔ اسے ایم کیوایم سے کوئی دلچسپی نہیں‌ تھی مزید جنرل وحید کو احساس تھا کہ فوج کے وقار کو آپریشن نے نقصان پہنچایا ہے۔ نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ اور غلام اسحاق خان کے دور صدارت کا خاتمہ ایم کیو ایم کے لیے بدترین سانحے لے کر آیا۔
بے نظیر نے 1993حکومتیں‌اور اتحاد قائم کرنے کےبعد جو کام کیا وہ ایم کیو ایم کےخلاف آپریشن تھا۔ اس بار اسے جنرل(ر)نصیر اللہ بابر کا بطور وزیر داخلہ تعاون حاصل تھا۔ پیپلز پارٹی کا صدر ہونے کی وجہ سے فاروق لغاری نے بھی غفلت برتی جس کا خمیازہ غریب عوام نے بھگتا۔
ایم کیوایم اور حقیقی کے مابین ہونے والی گینگ وار میں‌ نہ صرف ان کے کارکن مارے جاتے رہے بلکہ عوام بھی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے ہر حربہ اختیار کیا جو کوئی مہذب ذہن سوچ بھی نہیں سکتا۔عامر اور آفاق اس دوران سرکاری سرپرستی حاصل کرنے میں‌کامیاب ہوچکے تھے۔ فوج اوررینجرز کے ٹرکوں‌پر بیٹھ کر یہ لوگ ایم کیو ایم کے دفاتر پر حملہ آور ہوتے اور ان پر قبضہ کر لیتے۔ کارکنوں‌کو مارتے اور سامان لوٹتے۔ ایم کیو ایم کے ذرائع کا بیان ہے کہ اس دوران کروڑوں‌روپے کا سامان بھی ایم کیو ایم کے دفاتر سے لوٹا گیا۔
بے گناہ بچیوں‌کی عزتوں‌سے کھیلا گیا انھیں‌اغوا کیا گیا۔ ہر وہ ناجائز حربہ اختیار کیاگیا جو سوچا جاسکتاہے۔ اس دوران کراچی کے عوام تنگ آچکے تھے۔ آئے دن کے محاصرے،فائرنگ اور حملے۔ کراچی کے کچھ ضلعے خصوصًا وسطی،غربی کا پچاس فیصد اور شرقی کا قریبًا پینتیس فیصد علاقہ دہشت گردوں‌کی لپیٹ میں‌تھا۔ ملیر کے کچھ علاقے بھی اس میں‌شامل ہیں۔
یوں‌لگتا تھا جیسے ایم کیوایم والوں‌کے علاوہ ایک تیسرا گروہ بھی ہے جو ان دونوں دھڑوں‌‌کے کارکنوں‌کو نشانہ بنا رہا ہے۔ الطاف حسین نے ہمیشہ اسے ڈرگ مافیا اورایجنسیوں‌کی کارستانی قرار دیا۔ تاہم یہ بات قرین قیاس ہے کہ اس میں‌بیرونی ہاتھ ضرور ملوث تھا جس نے بہتی گنگا میں‌ہاتھ دھونا اپنا فرض‌سمجھا۔
جنرل نصیر اللہ بابر نے اپنے انٹرویوز اور تقاریر میں‌ایم کیوایم کو علیحدگی پسند تنظیم قرار دیا۔ اور اس بات کا برملا اظہار کیا کہ ایم کیو ایم کو بھارت سے امداد ملتی ہے۔ اس نے یہ دعوٰ ی بھی کیا تھا کہ ایجنسیوں‌نے اس بات کا سراغ لگایا ہے کہ بھارت ان کے پچاس پچاس لوگوں‌کے ٹولوں‌کے دریائے گومتی کے کنارے ٹریننگ دیتا ہے۔
بات کوئی بھی ہو اس کا نتیجہ عوام کے حق میں‌برا نکلا۔ بے پناہ قتل و غارت گری آئے دن فائرنگ کے واقعات جیسے معمول بن گئے تھے۔ ایدھی کے مطابق ان دنوں میں‌حیدر آباد اور کراچی سے چار سو مسخ‌شدہ لاشیں‌برآمد ہوئیں۔ بوریوں‌میں‌بند لاشیں‌ملنا معمول کی بات تھی۔
بقول وزیر داخلہ انھی دنوں‌کھجی گراونڈ‌کو آزاد کروایا گیا۔ گلبہار اور گولی مار کے علاقے میں‌تنگ مکانات اور گلیوں‌کے پیچھے یہ گراؤنڈ دھشت گردوں‌کا گڑھ بن چکی تھی۔ پولوں‌سے زنجیریں‌باندھ کر اور سڑکوں‌میں‌گڑھے ڈال کر کاروں‌اور گاڑیوں‌کی آمدو رفت کو روکا گیا تھا۔ ہر وقت اس جگہ 60سے70دہشت گرد موجود رہتے تھے۔پولیس اور رینجرز نے کاروائی کرکے اس علاقے کودہشت گردوں‌سے پاک کیا ۔ بعد میں‌بی بی سی کے نامہ نگار کو کچھ مقامیوں‌نے بتایا کہ وہ اکثر لوگوں‌کے چیخنے کی آوازیں‌یہاں‌سے سنا کرتے تھے۔
کہا جاتا ہے اس جگہ لوگوں‌پر نشانہ بازی کی مشق کیجاتی تھی کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں‌یہ “قائد“ کے غدار لوگ ہوتے تھے۔ بعد میں‌عقوبت خانے اور اسلحہ وغیرہ میڈیا کو دکھایا گیا۔
ٹی وی پر گرفتار دہشت گردوں کو دکھایا جاتا اسی دوران عظیم طارق چئیرمیںن ایم کیوایم کے قتل کی منصوبہ بندی کا بھی انکشاف ہوا۔
اکتوبر 1993 سے لے کر نومبر 1994 تک فوج کی موجودگی میں‌مارے جانے والے لوگوں‌کی تعداد 701 اور زخمی ہونے والوں‌کی تعداد 1056 ہے۔ اس میں‌غالب تعداد عام شہریوں‌کی ہے تاہم آرمی اور دیگر اداروں اور دوسری جماعتوں‌ کے لوگ بھی شامل تھے۔
فوج کے جانے کے بعد 30 نومبر 1994 سے لے کر 30ستمبر 1995 تک ہلاک ہونے والوں‌کی تعداد پہلے سے دوگنی سے بھی زیادہ 1759 اور زخمی ہونے والے چارگنا4128 تھے۔ اس میں‌غالب تعداد(1103و2500) ایم کیوایم کے لوگوں‌کی ہے جو ہلاک اور زخمی ہوئے اس طرح بے نظیر حکومت کی بدنیتی اور ظلم سامنے آجاتا ہے۔
الطاف حسین کے سیاستدانوں سے معاہدے:
الطاف حسین کو ہمیشہ سیاستدانوں‌نے دھوکا دیا۔ سیاست کے میدان میں‌اناڑی ہونے کی وجہ سے سب نے اس کے ساتھ مل بیٹھ کر اپنا الوسیدھا کیا اور چل دیے۔الطاف حسین ایک طاقتور آدمی تھا بے شک ایک وقت ایسا بھی تھا کہ سیاستدان اس سے ملاقات کرنے کے لیے وقت مانگا کرتے تھے۔مگر وہ اپنی سیاسی طاقت کو صحیح‌طرح‌استعمال نہیں‌کر سکا۔
ایم کیوایم کا پہلا معاہدہ بے نظیر سے ہوا۔ 1988 کے انتخابات کے بعد مسلسل بارہ روز کے مذاکرات کے بعد یہ 59 شقوں پر مشتمل معاہدہ طے پایا۔ جس پر عمل کبھی بھی نہ ہوسکا۔ اس معاہدے میں‌بھی بقول ایک سیاستدان ایم کیو ایم کی ناتجربہ کاری کے باعث ان کا بنیادی مطالبہ یعنی مہاجر قومیت کو تسلیم کرنا بھی معاہدے سے متفقہ طور پر نکال دیا گیا۔ ان 59 مطالبات یا شقوں‌میں‌تمام کی تمام فروعی توعیت کی تھیں‌جو 6یا7 بنیادی نوعیت کے مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد پوری ہوجاتیں‌۔ تاہم بے نظیر نے اس کا بھی فائدہ اٹھایا اور ہر بار جب ایم کیو ایم نے احتجاج کی دھمکی دی بے نظیر نے اس معاہدے پر عمل کرنے کا اعلان کرکے اپنا مطلب نکال لیا۔
بے نظیر سے مایوسی کے بعد اسلام جمہوری اتحاد سے الطاف حسین کا معاہدہ ہوا۔ اس معاہدے کو کچھ عرصہ خفیہ رکھنے کے بعد منظر عام پر لایا گیا۔ اس معاہدے کے تحت ایم کیوایم نواز شریف کے ساتھ حکومت میں‌شامل بھی ہوئی۔ اسلامی جمہوری اتحاد کے ساتھ الطاف حسین کا معاہدہ بے نظیر کے دور حکومت میں‌ہی ہوگیا تھا۔ کیونکہ الطاف حسین بے نظیر سے مایوس ہوچکا تھا۔ نواز شریف نے ایم کیوایم کے بل بوتے پر کراچی اور حیدر آباد میں‌بڑے بڑے جلسے کیے۔ انتخابی ایڈجسٹمنٹ میں‌ کچھ گڑبڑ اس وقت ہوئی جب جماعت اسلامی نے کراچی میں‌اپنی نشستین‌ہارے بغیر چھوڑنے سے انکار کردیا۔ نواز شریف نے ایم کیو ایم سے ہر ممکن تعاون کیا حتٰی کہ جب اس کے سامنے ایم کیوایم کے جرائم کے ثبوت اور عقوبت خانوں‌کے بارے میں‌رپورٹین رکھی گئیں‌تو بطور وزیر اعظم الطاف حسین نے ملاقات کرکے اس بارے میں‌مطلع کیا۔ الطاف حسین نے تعاون کا یقین دلایا اور اس نے ایسا کیابھی تنظیم سے کئی ایسے عناصر کو نکالا بھی گیا۔
مگر شاید دیر ہوچکی تھی۔ فوج اور اسٹیبلیشمنٹ ایم کیوایم کے خلاف ہوچکی تھی۔ بعد میں‌نواز شریف کی حکومت کے خاتمے کے بعد حالات مزید ابتر ہوگئے کراچی میں‌خون کی ہولی کھیلی گئی جس کے شریک تمام لوگ کچھ نہ کچھ قصور وار تھے
ایم کیو ایم کے1993 کے انتخابات میں‌چند نشستوں پر امید وار کھڑے کرنے کی اجازت ملی تھی(فوج اور اسٹیبلیشمنٹ کی طرف سے) جس کے بعد انھوں‌نے قومی اسمبلی کے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا۔ مگر صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں‌ شرکت سے اس لیے نہ روکا گیا کیونکہ مقتدر قوتوں‌کو احساس ہوچکا تھا۔جیتنے والے امید وار لاکھوں‌کے حلقے سے چند ہزار ووٹ لے کر جیتے تھے جو لوگوں‌کی ایم کیو ایم سے محبت کا ثبوت تھا چناچہ ایم کیو ایم نے 24 گھنٹے کے نوٹس پر تیاری کر کے سندھ اسمبلی کے لیے شہری علاقوں سے میدان مار لیا۔
ایم کیو ایم بطور پارٹی:
ایم کیو ایم کی تنظیم سازی میں‌مرکز کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ اصل میں‌یہ تمام پارٹی الطاف حسین کے گرد گھومتی ہے۔پارٹی کے کارکنوں‌کے ذہنوں‌میں‌قائد کی محبت اور اطاعت راسخ ہے۔ جماعت اسلامی کے علاوہ پاکستان میں‌اگر کوئی تنظیم اس قدر منظم ہے تو وہ ایم کیوایم ہی ہے۔
ایم کیوایم کے حلف نامے میں‌واضح طور پر اللہ اور ماں‌کی قسم کھا کر پارٹی اور الطاف حسین سے وفاداری کا عہد کیا گیاہے۔ جس سے واضع ہوجاتاہے کہ الطاف حسین ایم کیوایم کے لیے کیا ہے۔کسی بھی قسم کی اطلاع جو پارٹی کے مفاد میں‌ ہو یا اس کے خلاف کوئی سازش فوری طور پر اس کی اطلاع مرکز یا قائد کو پہنچانے کی ہدایت ہے۔
الطاف حسین کے اس قدر اثر کی ہی وجہ سے شاید ایم کیوایم کے کارکن قائد کے خلاف ایک لفظ بھی برداشت نہیں‌ کرتے۔
ایم کیو ایم کی ایک اور خاص بات اور جس پر انھیں سب سے زیادہ فخر بھی ہے ان کی مڈل کلاس قیادت ہے۔ یہ بات بالکل قابل تعریف ہے کہ ایم کیوایم کی قیادت مڈل کلاس سے اٹھی اور مقبولیت حاصل کی۔ اب کا حال تو خدا جانتا ہے کیونکہ تازہ ترین دستیاب مواد بھی دس سال پرانا ہے اب شاید کچھ اور صورت حال ہو۔
ایم کیو ایم کا منشور:
بنیادی طور پر ایم کیوایم مہاجروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے وجود میں‌آئی۔الطاف حسین اور اس جیسے کئی دوسرے بانیانِ پارٹی جو معاشرے کے ڈسے ہوئے تھے نے سیاسی جدوجہد کے ذریعے اپنے حقوق حاصل کرنے کی ٹھانی ۔ اسی لیے اس کا منشور بھی مہاجر قومیت کو درپیش مسائل اور اکثر سندھ کی طرف سے مطالبات پر مشتمل ہے۔
مقامی غیر مقامی کی ایک مخصوص تعریف،کراچی کی ترقی کے لیے مطالبات،سندھ اور مرکز میں‌مہاجروں کی نمائندگی کے لیے حلقہ بندیاں‌اور دوسرے اقدامات،اندورن سندھ کے تعلیمی اداروں‌میں‌مہاجر طلبہ کا داخلہ،سرکاری ملازمتوں میں‌مہاجروں اور شہری سندھ کا کوٹہ،فوج میں سندھ کے لوگوں کی بھرتی کے لیے الگ معیارات،تعلیم کا بجٹ میں زیادہ حصہ اور اہم عہدوں‌پر مہاجروں‌کے تقرر بارے مطالبات اس کے منشور کا حصہ ہیں‌۔
ایم کیو ایم اب مہاجر قومی موومنٹ‌کی بجائے متحدہ قومی موومنٹ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ نام کی تبدیلی اور ملکی سطح‌پر سیاست میں‌آنے کا فیصلہ 14 اگست 1992 میں‌ہونا تھا مگر جنرل آصف نواز کے آپریشن کی وجہ سے (شاید) موخرکردیاگیا۔(اس سلسلے میں زیادہ تفصیل ان کتابوں‌میں‌موجود نہیں‌کیونکہ یہ 1995 تک کے حالات کا حاطہ کرتی ہیں)ایم کیو ایم کے کچھ مطالبات جو میرے علم کے مطابق پورے کیے جاچکے ہیں۔
فوج میں‌سندھ کے لوگوں‌کے لیے قدکا معیار کم کر دیا گیا ہے چونکہ سندھی عام طور پر پست قامت ہوتے ہیں۔
سندھ میں‌اس وقت ڈاکٹر عشرت العباد گورنر ہے جو مہاجر اور ایم کیوایم والوں میں‌سے ہے۔‌
تعلیم کے اخراجات ہر سال بجٹ میں‌بتدریج بڑھائے جارہے ہیں۔
ایم کیو ایم اچھی یا بری:
ایم کیو ایم پاکستان کی تاریخ‌کی انتہائی متنازعہ جماعت ہے ۔اس کے حامی حد سے زیادہ حامی اور مخالف بھی حد سے گزر جانے والے ہیں‌۔ الطاف حسین کے بقول ایم کیوایم کے بارے میں‌رائے عامہ بگاڑنے میں‌ایجنسیوں‌اور فوج کا ہاتھ رہا ہے۔ شاید یہ بات ٹھیک بھی ہو۔ تاہم ایم کیوایم سے خود بھی غلطیاں‌ہوئی ہیں۔دوسرے ایم کیو ایم نے کا پیغام عام آدمی تک صحیح‌طرح‌سے پہنچ نہیں‌سکا یعنی ایم کیوایم کا پروپیگنڈا یونٹ خاصا کمزور ہے۔ کراچی اور حیدر آباد کی بات اور ہے تاہم اگر ایم کیوایم نے ملکی سطح پر مقام پیدا کرنا ہے تو پورے ملک کو اس بارے آگاہی ہونی چاہیے۔
اردو ویب آرگ پر دوران بحث ایم کیو ایم کے کارکن کی طرف سے بدزبانی نے مجھے مہمیز کیا کے اس بارے جانوں‌گو میرا جذبہ بھی منفی تھا کہ اس کی برائیوں‌بارے جانوں‌تاہم عام آدمی جب اس حد سے زیادہ تنگ نظری کو دیکھے گا تو وہ اس بارے کچھ اچھی رائے قائم نہیں‌کرے گا اور صاف سی بات ہے کہ ایم کیو ایم کے نام سے ہی دور بھاگے گا۔
ایم کیو ایم اب متحدہ قومی موومنٹ ہے۔ اسے اپنے منشور میں‌وہ مسائل بھی شامل کرنے چاہیں‌ جو پاکستان کے دوسرے علاقوں‌کےعوام کو درپیش ہیں۔
بلاشبہ ایم کیو ایم کا یہ نعرہ کہ وہ وڈیروں جاگیر داروں کے مخالف ہیں غریب کے لیے کشش کا باعث ہے مگر بات عمل کی ہے۔
ایم کیو ایم غریب قیادت کا نعرہ تو لگاتی ہے مگر مشرف حکومت میں وزارتیں‌لے کر سکون سے بیٹھی ہے اور غریب ختم ہورہے ہیں‌۔ صرف کالا باغ اور بلوچستان کے مسائل پر ہمیں‌پتا چلا کہ ایم کیوایم بھی ہے ورنہ ان لوگوں‌نے چپ سادھی ہوئی ہے۔ شاید اب ان کی ترجیحات بدل گئی ہیں۔
بات کہاں‌سے چلی اور کہاں‌پہنچی۔ خلاصہ یہ کہ ایم کیوایم کی تاریخ‌آپکے سامنے ہے۔ میں نے حتٰی لامکان حقائق بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔اس کے ماضی اور حال کو دیکھ کر آپ بہتر فیصلہ کر سکیں‌گے کہ کیا صحیح‌اور کیا غلط ہے۔
اللہ ہمیں‌صرف اور صرف پاکستان کو سامنے رکھ کر سوچنے اورعمل کرنے کی توفیق دے۔آمین۔‌‌