ہفتہ، 18 دسمبر، 2010
لینکس کا ترجمہ، اوپن سورس وغیرہم پر ایک مکالمہ
شاکر: يار مکي پائين
شاکر: ميں نے کبھي يہ کام دل لگا کر نہيں
شاکر: کيا
شاکر: اسليے کہ
شاکر: ہر 3 ماہ بعد اس کا نيا ورژن آجانا ہے
شاکر: اور ايک بار ترجمہ کرنے کے بعد اس کي ديکھ بھال کے ليے پوري ٹيم چاہيے
شاکر: اور کوئي ماں کا لاڈلا اس کام کي زحمت کرنے کو تيار نہيں
شاکر: اس ليے مجھے يہ کام بے کار لگتا ہے
شاکر: اوپر سے اوبنٹو سائيں نے ڈيسکٹاپ کا حليہ بدل لينا ہے اگلے ورژن ميں
شاکر: بندہ کرے تے کي کرے
شاکر: تے کتھوں کتھوں کرے
شاکر: تے کنہوں کنہوں کرے
شاکر: يعني کھانا پينا بھي چھوڑ کر اعتکاف ميں بيٹھ جائے
شاکر: ايک ليپ ٹاپ لے کر
شاکر: اور ترجمہ ہي کرتا رہے ساري عمر، مفت والا
شاکر: خير ميں تہانوں dicourage نہيں کرريا
شاکر: تُسيں کرو اے کم
شاکر: تے ميں جو مدد کرسکيا ميں نال آں
شاکر: پر ساڈے کول کوئي نظام ہونا چائيدا اے
شاکر: ون مين شو د و چار سال چل سکدا اے
شاکر: لانگ ٹرم وچ نئيں چل سکدا
شاکر: ٹيپو سلطان ايک اي سي
شاکر: اوس توں بعد سارے ماں دے يار
شاکر: سالے حرامي ڈرپوک منافق يار مار دھرتي نال فراڈ کرن والے
شاکر: نتيجہ کہ کچھ نئيں بنيا
شاکر: محمد علي مکي وي ايک اے
شاکر: جد مکي نہ رہيا تے
شاکر: فير کي بنےگا؟
شاکر: سانوں بندہ نئيں بندے چائيدے نيں پاء جي
شاکر: جيدي اگلے پنج سال وچ وي گھٹ اي اميد اے
شاکر: سب نوں اپني روزي روٹي دي فکر اے
شاکر: کون کرے اے
شاکر: جد ويلے ہُندے نيں
شاکر: جيسے ميں تھا
شاکر: تو سب کرتے ہيں
شاکر: جب کام مل گيا
شاکر: تو سب بھاگ ليے دم دبا کر
شاکر: سپرٹ نہيں اے سائيں
شاکر: ايس چيز دي ضرورت اے
شاکر: خير چھڈو تُسيں
شاکر: کيہڑياں گلاں وچ پے گئے آں
شاکر: تُسيں انجوائے کرو
شاکر: بھيگي بھيگي رات
شاکر: اسيں وي چلئيے ہُن
مکی: آپ کی باتیں بجا ہیں..
مکی: مگر اب کوئی اس طرف نہ آئے تو کیا کیجیے...
مکی: یہ تو میں بھی سمجھتا ہوں کہ ایک شخص ناکافی ہے اس کام کے لیے..
مکی: مگر مجبوری ہے جی..
مکی: یہ کام ٹیموں کا ہی ہے
شاکر: چلو جي جد تک تُسين او
شاکر: تب تک سانوں کوئي ٹيم نئيں چاہيے
شاکر: تُسيں اپنے اندر ايک ڈويژن دے برابر او
شاکر: ون مين آرمي
شاکر: اينہوں جاري رکھو
شاکر: اسيں تہاڈے نال آں
مکی:
شاکر: گلاں وچ وي
شاکر: تے ہور جنہاں ہوسکے
شاکر: انشاءاللہ کردے رہواں گے
مکی: جہاں تک ابنٹو والوں کی بات ہے تو اسی وجہ سے ہم ڈیسٹرو بھی تو اپنی ہی بنا رہے ہیں..
مکی: تاکہ دوسری ڈیسٹروز پر انحصار نہ رہے..
شاکر: پاء جي اتنا بڑا سيٹ اپ نہيں چلے گا
شاکر: عريبين لينکس کي طرح سال بعد ٹھپ ہوجائے گا سب کچھ
شاکر: باہر سےکرسي لے کر اس کا رنگ ہي بدلنا ہے
شاکر: پر اس ميں بھي سياپا کم تو نہيں
شاکر: مسئلہ ہے يہ کہ کسي ڈسٹرو کے ساتھ ٹيم جڑي ہو
شاکر: جو ساتھ ساتھ ترجمے کو ديکھتي رہے
شاکر: تاکہ ايک بني بنائي چيز، جس کي کوالٹي بھي مسلمہ ہو مارکيٹ ميں ہو
شاکر: کم سے کم ايفرٹ ميں زيادہ سے زيادہ کام
شاکر: نہ کہ پہيہ دوبارہ ايجاد کرنا
شاکر: پھر سارے سياپے کرنا
شاکر: بگ آگيا جي
شاکر: او فلانياں اے نئيں ہُندا اوئے
شاکر: ٹيوٹوريل لکھنا
شاکر: يہ کرو وہ کرو
شاکر: اے ساڈے وس دا کم نئيں سائيں
شاکر: خير چھڈو جي
شاکر: اللہ خير کرسيں
شاکر: ميں چلاں سائيں فير
شاکر: تے اے گفتگو لگے گي ميرے بلاگ تے
شاکر: تہاڈي اجازت دے نال
مکی: جی بالکل لکھیں
شاکر: رب راکھا فير
مکی: رب راکھا جی..
ہفتہ، 17 جولائی، 2010
کچھ یادیں
میرے بلاگ پر سب سے پہلی پوسٹ پر نو اکتوبر دو ہزار پانچ کی تاریخ پڑی ہے۔ شکر کیجیے اس کا عنوان ہے اور بڑی نستعلیق سی پوسٹ ہے۔ شروع میں بلاگنگ سے میری مراد یہی تھی کہ اچھی اچھی پوسٹس لکھی جائیں۔ اب اچھی سے کیا مراد ہے مطلب آرٹیکلز قسم کی چیز، یا کوئی افسانہ۔ اسی بلاگ پر آپ کو انھی دنوں کے کچھ افسانے بھی مل جائیں گے، اور کچھ بے بحری اور بعد میں بحری شاعری بھی۔ ان دنوں گلوبل سائنس میں بھی لکھا، چاند میں بھی اور بعد میں کمپیوٹنگ میں بھی۔ سو دل کرتا تھا کہ بندہ ویسا ہی بلاگ پر لکھے۔ کوئی سالا شائع نہیں کرتا تو نہ سہی اپنا بلاگ تو ہے، پرسنل پبلشنگ پلیٹ فارم۔ جو مرضی لکھو۔
بلاگنگ سے پہلے میں اردو ویب محفل سے متعارف ہوا تھا اور وہی سے قدیر احمد اور زیک وغیرہ کے بلاگ دیکھ کر شاکر کا بلاگ بنایا۔
پھر ورڈپریس کا چاء چڑھا۔ اسے ترجمہ کیا، اور کئی بار کیا پھر تھک ہار کر چھوڑ دیا ۔سالا ہر تین ماہ بعد پھر ترجمہ کرنے والا ہوجاتا تھا، نیا ورژن، اب اتنا ٹائم کس کے پاس ہے وہ بھی مفت میں کہ ترجمہ ہی کرتا جائے۔ تو ہم نے اسے انگریزی میں ہی استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک اور وجہ بلاگر پر پابندی تھی جو اس وقت گستاخانہ خاکوں کی وجہ سے لگی تھی۔ ہم فری ہوسٹ پر چلے گئے۔ یو ای یو او کئی سارے ہوسٹس میں بہترین تھا۔ یہ ایڈز لگاتا تھا آپ کی سائٹ پر لیکن آپ اپنی مرضی کے ایڈز منتخب کرسکتے تھے، یہ ورڈپریس انسٹال کرکے بلاگر سے امپورٹ کی اجازت دیتا تھا جو اکثر فری ہوسٹس نہیں دیتے تھے۔ اور یہ سب ڈومین بھی دیتا تھا۔ میں نے اس پر بلاگ بنا لیا جو کوئی دو سال چلا۔ شاید زیادہ چلا ہو۔ یا کم۔ لیکن چلتا رہا۔ ہم نے ڈنڈی یہ ماری کہ ایڈز نہ لگائے۔ ایک عرصے تک کمپنی کو پتا نہ چلا اور ایک دن جب انھیں پتا چل گیا تو انھوں نے پالیسی کے مطابق میرا پورا کھاتہ اُڑا دیا۔ ایک اردو بلاگ گیا اور ایک انگریزی بھی۔ کھاتا تو پھر بنا لیا لیکن پھر دل نہ کیا جانے کو واپس اور ہم پدھارے بلاگر پر واپس۔
ورڈپریس کی بیک اپ کو ادھر اُدھر سے سرچ کرکرا کے گوگل ایپلی کیشن انجن کے ایک اطلاقیے سے بلاگر کی ڈیٹابیس فائل میں بدلا اور چڑھا لیا۔ تب سے ادھر ہی ہیں۔ ابھی تک اپنے ڈومین کی توفیق نہیں ہوئی، عرصہ پانچ سال سے اسی کی خواہش ہے۔ لیکن یہ خواہش ابھی حسرت ہے دیکھیں کب پوری ہوتی ہے۔ شاید اسی سال کہ میری ایم ایس سی پوری ہورہی ہے اور جاب بھی مل ہی جائے گی کوئی چھوٹی موٹی، پھر اپنی ویب سائٹ بھی بنانی ہے، ریزیومے بھی رکھنا ہوگا، اور لینگوئج سے متعلق بہت سا کام کرنے کا بھی ارادہ ہے۔ دیکھو کیا بنتا ہے۔
اللہ کریم توفیق دے۔
نئے بلاگرز جو اپنا ڈومین چاہتے ہیں، فری ہوسٹس سے بچ بچا کر، ہم ایک عرصے سے ان کے سحر سے آزاد ہوئے۔ یا تو آپ کا اپنا ڈومین قابل اعتبار ہے یا پھر بلاگر۔ فری ہوسٹس، پاکستانی ہوسٹس، سب بے کار ہیں، کسی بھی وقت آپ کا ڈیٹا اللہ کو پیارا ہوسکتا ہے۔
اور ہاں فری ہوسٹ اور بلاگر کے دوران ہم مکی کے ساتھ بھی رہے۔ مکی نے ایک پاکستانی ہوسٹنگ ری سیلر سے سپیس لی تھی، ہم مل کر ارد کوڈر لینکس فورم اور اپنے بلاگز اس پر چلا رہے تھے لیکن ایک یا ڈیڑھ سال جو ہم اس پر رہے ذلیل ہی ہوئے۔ عجیب سلسلہ تھا ہر چند ماہ بعد سائٹ منظر عام سے غائب ہوجاتی تھیں۔ پھر مکی نے ڈومین کی اونر شپ اور کمپنی کے ذریعے خرید لی اور ان کی ہوسٹنگ چھوڑ دی، اس دوران ہم اردو ویب کے مہمان رہے۔ نبیل نے ہمیں سپیس فراہم کی لیکن انھیں دنوں اردو ویب کو بھی سپیڈ کے مسائل پیش آنے لگے اور کبھی ہماری سائٹ کھلتی کبھی نہ کھلتی اور کبھی یہ ہوتا کہ پرابلم کا ماخذ معلوم کرنے کے لیے زیک باری باری سائٹس کو آفلائن کردیتے، اور ہماری سائٹ بھی آفلائن چلی جاتی۔ اس سارے سے تنگ آکر میں نے اپنا بلاگ اس ہوسٹنگ سے پھر بلاگر پر منتقل کیا۔ اوپر دیا گیا لنک آج بھی اسی بلاگ پر ری ڈائرکٹ کرتا ہے، نبیل اور مکی کا شکریہ یہ سب ڈومین اب تک کارآمد ہے۔اردو کوڈر اب بھی اردو ویب کی ہوسٹنگ پر چلتا ہے لیکن اب اس کے منتظمین مصروف ہیں جیسا کہ اردو کی ویب سائٹس کا حال ہوتا ہے۔ مکی کو روزگار کے لالے پڑگئے اور مجھے پڑھائی کے۔ چناچہ ہم اپنی راہوں پر اور اردو کوڈر کبھی کبھار چل ہی جاتا ہے، محمد سعد اچھا بندہ ہے لینکس کا اچھا لور۔ میری طرح نہیں کہ لینکس انسٹال کرلیا اور پھر ونڈوز ہی استعمال کرتے رہے۔
جمعرات، 13 مئی، 2010
فیس بُک ہائے ہائے
تو جناب اب فیس بُک کے حالیہ پرائیویسی کے خلاف اقدامات نے بہت سے لوگوں کے احتجاج پر مجبور کردیا۔ قصہ ان کا یہ ہے کہ فیس بُک اپنی پارٹنر ویب سائٹس کے ساتھ آپ کی پروفائل سے معلومات شئیر کرے گا چناچہ جب آپ فیس بُک سے وہاں تشریف لے جائیں گے تو آپ کی آںکھوں کے سامنے وہی چیزیں نچائی جائیں گی جنھیں آپ نے وش لسٹ میں رکھا ہوا ہے یا فیورٹ لسٹ میں جیسے کوئی کتاب جو آپ پڑھنا چاہ رہے ہیں۔ امریکی سینٹرز سے لے کر عام لوگوں تک سب نے اس بات پر فیس بُک کو لعن طعن کیا ہے لیکن فیس بُک نے نہیں مان کر دی۔ تو اب اوپن سورس والے میدان میں آگئے، چار طلباء نے مل کر ڈائیاسپورا تشکیل دینے کا سوچا ہے جو کہ فیس بُک کی طرح کی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ہوگی لیکن آپ کے کنٹرول میں، آپ کی مرضی کے مطابق پرئیویسی مہیا کرتے ہوئے۔ اور اس کام کے لیے انھوں نے فنڈ ریزنگ بھی شروع کی ہوئی ہے۔ فی الحال ان کے پاس اٹھاون ہزار ڈالر ہوچکے ہیں اور ابھی ان کے بیس دن باقی ہیں چندہ مہم کے۔ یعنی ایک لاکھ ڈالر سے اوپر ہوجائے گا اور اس کے بعد یہ نیٹ ورکنگ سائٹ شروع ہوگی۔ اور میں تو اس کا رکن دوڑ کر بنوں گا استعمال چاہے میں فیس بُک ہی کروں۔ آخر انگلی کٹا کر شہیدوں میں بھی تو شامل ہونا ہے۔ ہمیشہ کی طرح جیسے لینکس میرے پاس انسٹال ہوتا ہے استعمال کروں نا کروں، اوپن آفس بھی انسٹال ہوتا ہے استعمال کروں نا کروں، اس کی رکنیت بھی ہوگی استعمال ۔۔۔۔۔
فیس بُک کے باغی ڈائیاسپورا میں پناہ لے سکتے ہیں انھیں ویلکم کہا جائے گا، منیر عباسی ایک اور فیس بُک آگئی ہے ہر ڈومین سے فیس بُک نکلے گی تم کتنی فیس بُک چھوڑو گے۔
یہ معلومات یہاں سے چرائی گی ہیں۔
بدھ، 12 مئی، 2010
ہائے مائیکروسافٹ
عرض یہ کرنا تھا بعد اس تمہید کے، کہ اوپن آفس میں بھی چونکہ کام کرتا رہتا ہوں تو اوپن ڈاک فارمیٹ میں کچھ فائلیں بھی ہوتی ہیں ہمیشہ۔ اب م س کا 2010 آفس آگیا ہے جس میں اوپن ڈاک کی سپورٹ بھی ہے، اگرچہ یہ 2007 کے سروس پیک میں بھی فراہم کردی گئی تھی لیکن میرے پاس اس کا پرانا ورژن ہی تھا، تو میں اوپن ڈاک فائلیں بھی م س میں ہی کھول لیتا ہوں۔ لیکن کیلک کی فائل محفوظ کرتے وقت ایکسل ہر بار ایرر دیتا ہے۔ میری عادت ہے کہ ہر چند سیکنڈ کے بعد محفوظ کرنا ہوتا ہے چونکہ بجلی کا تو کوئی بھروسہ نہیں لیکن یہ ایرر بہت تکلیف دیتا ہے۔ ایرر بڑا سادہ سا ہے کہ یہ فائل فارمیٹ کچھ فیچرز کو سپورٹ نہیں کرتا۔
جمعہ، 2 اپریل، 2010
ترقی؟
لو جی اوبنٹو کے بابا جی مارک شٹل ورتھ نے نئے نسخے میں ایک "انقلابی" قسم کی تبدیلی کی ہے۔ اب ونڈو کو بند کرنے والے بٹن دائیں کی بجائے بائیں ہوا کریں گے۔ ملاحظہ کیجیے۔
ملاحظہ کریں اور سر دھنیں۔ یہ اپریل فول نہیں ہے۔ 10.04 میں ایسا ہی ہوگا۔ لیکن شکر ہے یہ ایک دو طے شدہ تھیمز میں ہوگا۔ باقی تھیم "سیدھے" راستے پر ہی چلیں گے اور بٹن دائیں طرف ہی ہونگے۔ اس میں کیا مصلحت ہے ہماری ناقص عقل اس کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ البتہ ایک اڑتی اڑتی یہ سنی تھی کہ ایک عدد مینیو جیسا کہ بائیں جانب آئکن پر کلک کرنے سے سامنے آتا ہے دائیں طرف شامل کردیا جائے گا۔ یعنی منہ کا ذائقہ بدلا جارہا ہے۔ یاد رہے ونڈو بند کھولنے والے یہ بٹن بائیں طرف ہونا میکنٹوش کا انداز ہے۔پر سانوں کی۔۔۔ ہماری طرف سے انھیں نیچے لے آئیں۔ ہم نے تو اسے واپس اس کی جگہ پر پہنچا لینا ہے۔ یہی تو لینکس کا فائدہ ہے۔ لیجیے ابھی یہ سب کچھ ہونے کی اطلاعات ہی ہیں تو اس کا توڑ بھی موجود ہے۔ مووبٹنز یہ سہولت دیتا ہے کہ بڑا، چھوٹا اور بند کرنے والے بٹنوں کوجیسے مرضی اور جہاں مرضی ترتیب دیں۔
اتوار، 17 جنوری، 2010
لینکس جابز
اتوار، 22 نومبر، 2009
لانچی
خیر جناب ادھر اُدھر کی چھوڑیتے مدعے پر آئیے۔ تو مدعا یہ ہے کہ ہمیں اوبنٹو پر جس چیز کا شوق ہوتا ہے وہ مونو پر مشتمل اطلاقیے ہیں۔ جیسے مونو ڈویلپ، بینشی، ایف سپاٹ اور میرا پیارا گنوم ڈُو۔
صاحبو گنوم ڈُو بڑی پیاری شے ہے۔ اگر چل جائے تو۔ لیکن یہ اس سسٹم پر کچھ مسائل کررہا ہے۔ چلتے چلتے ہینگ ہوجاتا ہے اور پھر سارے سسٹم کے ریسورسز کھانے لگتا ہے۔ نجانے کیا مسئلہ ہے اسے۔ اور اس کی ویب سائٹ سے لگ رہا ہے کہ آخری ورژن بھی جنوری میں جاری کیا گیا تھا۔ اب آپ سوچئیے کتنا بھی پیارا کیوں نہ ہو، جب تک اس کی ڈویلپمنٹ جاری رہے تب تک ہی پیارا لگتا ہے۔ آپس کی بات ہے اوپن سورس والے گرم گرم کھانے کے عادی ہوتے ہیں۔ یعنی تازہ تازہ جو پکا ہو، خستہ مزے دار سا۔ اس سے نئے فیچر بھی آتے رہتے ہیں اور پروجیکٹ زندہ ہونے کی وجہ سے صارف کو بھی ایک احساس رہتا ہے کہ وہ "کلّا ای نئیں پھسیا، ہور وی نیں"۔ گنوم ڈُو کے ساتھ نجانے کیا مسئلہ ہے، لیکن ہم تو اب اسے چھوڑ رہے ہیں۔ اگرچہ یہ بہت سادہ سا ہے، اور اس کی سادگی لیکن پُرکاری مار ڈالتی ہے، ننھی سی جان میں کیا کیا سموئے بیٹھا ہے جی میل کی ڈاک سے لے کر، پجن کے روابط، بک مارکس اور آپ کا ڈیسکٹاپ تو ہے ہی۔ اور پھر بڑی آسانی سے اسے وضع یعنی کنفگر کیا جاسکتا ہے جو اس کے دوسرے مدمقابل اطلاقیوں جیسے گنوم لانچ باکس میں ممکن نہیں۔
خیر صاحب یہ سب کچھ دیکھ کر ہم نے لانچی کا سوچا۔ جس کا لینکس ورژن بھی اب دستیاب ہے اور ہم نے اس ربط سے صرف ڈیبئین اتارا اور اوبنٹو نے اسے نصب کردیا مع کچھ انحصاری پیکجز کے۔ اگرچہ اس کا مواجہ کیو ٹی ٹول کِٹ پر مشتمل ہے، کام پُورا کرتا ہے۔ آپ بھی ٹرائی کیجیے گا۔
بدھ، 17 ستمبر، 2008
منگل، 2 ستمبر، 2008
اک "براؤزر" ہور
شاید اب جنگِ براؤزراں مزید دلچسپ ہوجائے۔ وجہ اس بیان کی یہ ہے کہ انٹرنیٹ ایکسپلورر، فائر فاکس، اوپیرا اور سفاری کے بعد اب وڈّے پاء جی نے بھی میدان میں آنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اور حسب معمول یہ براؤزر – جیسا کہ کمپنی کی پالیسی ہے- آنے والے 23 برسوں تک کے لیے بطور بی ٹا جاری کردیا جائے گا۔ نام کروم Chrome ہے۔اور گوگل کا یہ ویب براؤزر ویب کٹ پر مشتمل ہے۔ ویب کٹ ایک انجن ہے جو ایچ ٹی ایم ایل وغیرہ کرو رینڈر کرنے میں مدد دیتا ہے۔
حسب معمول و توقع اسے عمومی انداز میں متعارف کروانے کی بجائے گوگل نے یہ خبر باوثوق ذرائع کے ذریعے جاری کروائی ہے۔ یہ ویب کامک یہاں دیکھا جاسکتا ہے۔ 38 صفحات کے اس کامک میں گوگل نے براؤزر اور پروجیکٹ کے بارے میں تمام تفاصیل مہیا کی ہیں۔ ایک آزاد مصدر ویب براؤز بنام کروم Chrome
کچھ خصوصیات واقعی لائق توجہ ہیں۔ جیسے اس کا نیا جاوا سکرپٹ انجن وی 8 جو کثیر عملی(بیک وقت ایک سے زیادہ عمل کاری ) کا ڈیزائن استعمال کرتا ہے، شاید اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ پورے براؤزر کو چھیڑے بغیر انفرادی صفحات کو انفرادی طور پر ہی ختم کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے میموری کی کچھ قربانی البتہ دینا پڑتی ہے۔ ایک بلاگ پوسٹ میں گوگل نے مزید وضاحت کی کہ ہر صفحے کا اپنا ریت خانہ ہے یعنی اپنی دنیا جس میں طوفان آنے سے دوسرے کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اس میں وہی عام خصوصیات جیسے اینٹی فشنگ سے بچاؤ، ٹیب وغیرہ موجود ہونگی۔ اس کا ونڈوز ورژن آج جاری کیا جانا ہے جبکہ لینکس اور میک ورژن بعد میں آئیں گے۔ سکرین شاٹس پہلے ہی منظر عام پر آچکی ہیں۔ اور اس کا مواجہ دیکھ کر لگتا ہے جیسے گوگل کی بٹن اور ونڈو کے بارے میں اپنی ہی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ہے۔ ایسے ہی میکنٹوش نے سفاری کے ساتھ کیا تھا۔
ہفتہ، 2 اگست، 2008
ٹیگ ٹیگ اور ٹیگ
احباب پچھلے دو ماہ سے ٹیگ ٹیگ کھیل کر ہلکان ہوئے جاتے ہیں۔ میں ہوتا تو جنگلوں میں نکل جاتا سب چھوڑ چھاڑ کر۔ اتنی دیر میں تو ٹیگ بھی اک گئے ہونگے۔ مودبانہ گزارش ہے کہ پوسٹ لکھیں اور اس میں ایک دوسرے کی متعلقہ پوسٹ کے روابط دینے کی عادت ڈالیں۔ خیر ہمیں بھی ابوشامل نے کانٹوں سوری ٹیگوں میں گھسیٹ لیا سو ونگار پوری کررہے ہیں۔
ونڈوز یا لینکس؟
دونوں
ہالی وڈ یا بالی وڈ؟
دونوں ہی۔
پیپسی یا کوک؟
جو مل جائے
کراچی یا لاہور؟
فیصل آباد ;)
سیب یا انگور؟
غریب آدمی کو تو جو سستا مل جائے
پاپ یا راک؟
جس کا گانا پسند آجائے ورنہ ہلکے پھلکے رومانوی گانے و غزلیں۔
چائے یا کافی؟
چائے ہی۔
نہاری یا حلیم؟
حلیم کبھی کبھار۔
فورمز یا بلاگ؟
دونوں
دوست یا کزن؟
دوست
کرکٹ یا فٹ بال؟
کرکٹ
پرسکون یا پریشان؟
منحصر بہ وقت
چونکہ یہ کھیل ہر جگہ پھر چکا ہے اس لیے ہمیں مزید کوئی بندہ یاد نہیں آرہا۔ کسی نے تو اسے بند کرنا ہی تھا ہم بند کررہے ہیں۔ ابوشامل کے ٹیگ شدگان باقی چار اسے آگے بڑھانا چاہیں تو بسم اللہ۔۔۔
ہفتہ، 5 اپریل، 2008
اردو کوڈر فورم کا نیا فورم سافٹویر
خیر بات یہاں پہنچتی ہے کہ محمد علی مکی تو بسلسلہ روزگار آنلائن آنے سے معذور ہیں آج کل۔ تو نیم حکیم یعنی ہماری ذات شریف ہی پیچھے رہ جاتی ہے جسے فورم کی انتظامیہ کہا جائے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ فورم کا سافٹویر بدل دیا جائے۔ اس کے لیے دو سافٹویرز ہمارے زیر غور ہیں۔ پی ایچ پی بی بی تین جس کی بہترین مثال القلم ہے اور سمپل مشین فورمز جس پر اردو ٹیک فورمز بہترین طریقے سے چل رہے ہیں۔ پی ایچ پی بی بی کی ایک ساکھ ہے جبکہ ایس ایم ایف فورمز سافٹویر اپنی سادگی لیکن پرکاری کے لیے جانا جاتا ہے۔ اب آپ فرمائیں کہ نیا فورم سافٹویر کونسا ہو۔ فورم کی ڈیٹابیس ہم نے دونوں میں بدل کر دیکھ لی ہے۔ دونوں سافٹویرز بہترین چل رہے ہیں۔ ایس ایم ایف نے منتقلی کے دوران کچھ ایررز دئیے تھے لیکن میری آزمائشی تنصیب میں بہترین چل رہا ہے۔ ایک بات اور ایس ایم ایف کا ورژن 2 جلد ہی آرہا ہے (لیکن وہ اردو کردہ نہیں ابھی تک جبکہ پی ایچ پی بی بی 3 اردو شدہ موجود ہے۔ )۔ نیچے ہم اپنے بلاگ کا پہلا پول فٹ کررہے ہیں۔ رائے دیجیے تاکہ جلد از جلد اردو کوڈر کو پھر سے آنلائن کیا جاسکے۔پول 10 تاریخ تک آنلائن رہے گا اور پھر اس کے مطابق فیصلہ کرکے انشاءاللہ 10 کو ہی فورم آنلائن کردیا جائے گا۔
[poll=2]
جمعرات، 27 مارچ، 2008
اوپن سوسی کے ساتھ پہلا دن
خیر انسٹالیشن کے بعد لاگ ان ہوئے اور کوئی ستر بار تو کوشش کرہی لی ہوگی ریزولوشن بدلنے کی لیکن مجال ہے جو 1024 ضرب 768 سے ایک انچ آگے پیچھے ہوجائے۔ اصل میں ونڈوز پر تو یہ ٹھیک ہے لیکن لینکس پر ہمارا گرافکس کارڈ مسئلہ کرجاتا ہے اور سکرین ایک طرف کو چلی جاتی ہے اور سکرین کا سائز بھی کافی چھوٹا ہوجاتا ہے جیسے ونڈوز پر 800 بائی 600 کی ریزولوشن پر ہوتا ہے۔ اوبنٹو پر گسٹی کے بعد ریزولوشن بدلنے کا بڑا اچھا سسٹم آگیا تھا سوسی کو ابھی تک کوئی توفیق نہیں ہوئی۔
خیر اس کو بھی چھوڑتے ہیں ہم ایک کچھ کرلیں گے اس کا ایک طرف ایک پینل لگا دینے سے شاید کام بن جائے اوپن سوسی کا ورژن 11 جلد ہی آرہا ہے شاید وہاں معاملہ ٹھیک ہوجائے۔ آگے کی سنیے ہمیں پیکج منجر کی سمجھ نہیں آرہی تھی۔ یاسٹ اپنے پلے تو نہیں پڑاعجیب سی چیز ہے۔ جی ٹی کے میں اس کا موجہ ہے اور سوسی والوں نے سارا کے ڈی ای کنٹرول سینٹر اس میں گھسیڑ دیا ہے۔ سارے سسٹم کی کنفگریشن یہیں سے ہوسکتی ہے لیکن سافٹویر کا انتظام مجھے پسند نہیں آیا۔ ہم تلاش میں تھے کہ ایڈوانسڈ پیکجنگ ٹول مل جائے کہیں سے۔ آخر ہمیں آفیشل دستاویزات سے اس کا ایک حل مل ہی گیا ہے۔ انشاءاللہ آج رات بیٹھ کر ہم اسے اور سنیپٹک کو انسٹال کرلیں گے۔اس کے بعد سسٹم کو اپڈیٹ کریں گے تاکہ کچھ کام کا سلسلہ بن سکے۔
اس میں وہی پرانا مسئلہ ہے فائر فاکس کا جو کبھی اوبنٹو میں تھا دو سال پہلے جس کی وجہ سے اردو کے فونٹس ٹھیک رینڈر نہیں ہوتے تھے۔ مجھے نعمان کے بلاگ پر ایک بار پھر جانا ہوگا لگتا ہے۔ لیکن پہلے اپگریڈ کروں گا سسٹم کو شاید کام بن جائے ایسے ہی ورنہ پھر پینگو کو ڈس ایبل کروں گا۔
دعا کیجیے اس کا اور میرا ساتھ بن جائے۔ میں اس بار بڑے خشوع و خضوع سے اوبنٹو کو چھوڑ کر آیا ہوں۔ ورنہ اس کی چاٹ ایسی لگی ہے کہ کوئی اور ڈسٹرو ایک دن سے زیادہ میرے پاس ٹکی ہی نہیں۔ ایک آپس کی بات بتاؤں لینکس میں میرا سب سے زیادہ تجربہ اے پی ٹی استعمال کرنے کا ہے اور اوبنٹو کو بار بار انسٹال کرنے کا۔ اور کچھ نہیں آتا مجھے۔ باقی ادھر ادھر سے ٹیوٹوریل پکڑ کر گزارہ کرلیا کرتا ہوں۔ ;)
پیر، 24 مارچ، 2008
میں جارہا ہوں
اتوار، 16 مارچ، 2008
اردو میں بلاگ کس کے لیے لکھیں؟
مجھے ان سے اختلاف ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ ہم ہر اس تحریر پر تبصرہ کرتے ہیں جو اچھی لگتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ تبصرہ نہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو پڑھا نہیں جارہا اور تیسری بات یہ کہ آپ خود بھی دوسروں کے بلاگز پر تبصرے کریں گے تو لوگ آپ کے بلاگ پر تبصرے کریں گے۔
تبصرے حاصل کرلینا بلاگنگ کی معراج نہیں ہے۔ ایک وقت تھا جب مجھے تبصرہ نہ ہونے کا بہت قلق ہوا کرتا تھا۔ لیکن آہستہ آہستہ میں نے تبصرے کی توقع ہی چھوڑ دی۔ اب کوئی تبصرہ کرے یا نہ کرے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نئے بلاگرز کے لیے میری کچھ تجاویز ہیں اگرچہ بدتمیز پہلے ہی اس سلسلے میں تجاویز دے چکا ہے۔
تبصروں کی آس نہ رکھیں۔ اس کی بجائے آپ اگر کلک کاؤنٹر جیسے پلگ ان استعمال کریں تو آپ کو پتا لگے گا کہ آپ کو پڑھا جارہا ہے۔ اپنی ویب سائٹ کے اعدادو شمار کسی بھی ویب سائٹ کاؤنٹر سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ گوگل اینالیٹکس کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ کو پتا چلے گا کہ کون کون آپ کا بلاگ پڑھ رہا ہے اور کہاں سے پڑھ رہا ہے۔
تحاریر لکھتے رہیں۔ اگر داد وصولنی ہے تو انوکھے موضوعات چنیں۔ یہ موضوع میں نے پہلی بار ضمیمہ پر دیکھا اور اس پر تبصرہ کرنے پر مجبور ہوگیا۔
سیاست پر لکھیں، یا کسی اور موضوع پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں۔ بس لکھ ڈالیں لیکن یہ بھی نہ ہو کہ آپ بلاگنگ کے نشئی ہوجائیں۔
بلاگ پر وہ لکھیں جو لوگ پڑھنا چاہتے ہیں۔ میرے بلاگ پر ورڈپریس اور لینکس کے کئی ٹیوٹوریلز موجود ہیں۔ میں نے یہ سب خود سیکھا اور پھر آگے سکھانے کے لیے لکھا۔ ان تحاریر کی وجہ سے اب بھی کئی نئے قاری میرے بلاگ پر آتے ہیں بلکہ اگر کوئی لینکس کے بارے میں پوچھے تو میں اپنے بلاگ کا ربط بلاتکلف دے دیا کرتا ہوں۔ آپ بھی کچھ ایسا لکھیں جو قاری کو سیکھانے کی نیت سے لکھا گیا ہو۔
بلاگ آپ کی ذاتی ڈائری ہے جو آنلائن آگئی ہے۔ اس سے بہت زیادہ توقعات لگانا خاصا پریشان کرتا ہے بعد میں۔ بس اسے اپنی روٹین بنا لیں ایک ایسی جگہ جہاں آپ دل کی بھڑاس نکال سکتے ہیں۔ کم از کم میں تو ایسا ہی کیا کرتا ہوں۔
اور ایک آخری بات زبان کے سلسلے میں۔ مجھے یہ احساس بڑی شدت سے ہورہا ہے کہ اردو کی خدمت کے نام پر ہم اس کی ٹانگ توڑ رہے ہیں انٹرنیٹ پر۔ اردو میں املاء کی غلطیاں بہت زیادہ کی جارہی ہیں۔ اردو بلاگرز سے التماس ہے کہ لکھنے کے بعد تین چار بار پوسٹ کو پڑھ لیا کریں۔ ہم ذ کو ز اور ز کو ذ بنا رہے ہیں۔ ت اور ط کی تمیز ختم ہوتی جارہی ہے۔ براہ کرم اردو املاء کا خیال رکھیے۔ اگر آپ کی زبان معیاری ہوگی تو قاری پر اچھا اثر پڑے گا اس کا بھی۔ عجلت میں کی گئی پوسٹ پھوہڑ پنے کو ظاہر کرتی ہے۔ خود میرا یہ حال ہے کہ دو تین بار پڑھنے کے باوجود غلطیاں رہ جاتی ہیں جنھیں پوسٹ کرنے کے بعد پھر مدون کرکے درست کیا کرتا ہوں۔
وسلام
جمعہ، 29 فروری، 2008
اگلے چھ ماہ
اب پھر سے چھ ماہ کا ایک فل سٹاپ لگ گیا ہے میرے تعلیمی کیریئر میں۔ میرا حال بھی اس پینڈو جیسا ہے جو بتیاں دیکھ کر اس طرف چل پڑتا ہے۔ اچھا بھلا کامرس کا سٹوڈنٹ تھا کہ لسانیات میں ٹانگ اڑا لی۔ چلو یہ تو ٹھیک تھا لیکن جو کورس شروع کیا وہ صرف ایک سال کا تھا۔ اور جہاں یہ کروایا جارہا تھا وہ یونیورسٹی بھی زندہ باد ہے۔
اب وہ سال کا کورس ختم ہوجائے گا اور میں پھر ایم اے کے لیے چھ ماہ تک منہ اٹھا کر دیکھتا رہوں گا۔ ستمبر اکتوبر سے شروع ہونے والے سمسٹر سے میں مارننگ میں موجود اسی کورس کے جونیر بیچ میں بیٹھ سکوں گا جو ایم ایس سی کے ٹائٹل سے شروع کیا گیا ہے۔ ان چھ ماہ کو کیا کیا جائے؟
ڈھیر سارا سوچنے کے بعد میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان چھ ماہ میں مجھے سی شارپ سیکھنا ہوگی۔ اپنی انگریزی بولنی بہتر کرنا ہوگی اور ساتھ جاب کرنا ہوگی۔
بس یہ چھ ماہ اور مزید نہیں۔ میں ویلا رہ رہ کر اک گیا ہوں۔ اب دل کرتا ہے کہ کام کیا جائے اور دبا کر کیا جائے۔ والدین کو بھی سکون دیا جائے 23 سال سے میرے جیسا ڈشکرا پال رہے ہیں وہ جو صرف موج کرتا ہے۔
میں نے سوچا ہے کہ نبیل نقوی کے لکھے گئے اردو ایڈیٹر کو لینکس پر پورٹ کروں۔
اردو لغت اطلاقیے کو لینکس پر چلانے کا بندوبست بھی کروں۔
اور کارپس لنگوئسٹکس کے لیے پروگرامنگ کرنے کی کوشش کروں۔
اب اس میں کس حد تک کامیاب ہوتا ہوں یہ تو اگلے چھ ماہ ہی بتائیں گے۔ مجھے امید ہے یہ چھ ماہ مجھے بہت کچھ دے کر جائیں گے۔ زندگی میں پہلی بار میں نے پلان کیا ہے کچھ کرنے کے لیے۔۔دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔
جمعرات، 28 فروری، 2008
اوبنٹو کی دو خبریں
فُل سرکل اوبنٹو لینکس کا ترجمان ایک ای میگزین ہے۔ اس میں اوبنٹو لینکس کے مختلف ذائقوں، اس کے بارے میں ٹیوٹوریل اور خبریں وغیرہ شئیر کی جاتی ہیں۔فل سرکل کا شمارہ نمبر 10 منظر عام پر آچکا ہے اپنی کاپی اتاریں اور پڑھیں۔
بدھ، 19 دسمبر، 2007
مجلس سائنس
یہ خوشی کی بات ہے کہ اب عمومی انداز سے ہٹ کر مخصوص قسم کے فورمز بھی اردو میں بن رہے ہیں۔ اردو کوڈر پر بھی ہماری کوشش ہے کہ مقصد صرف اور صرف لینکس اور اوپن سورس ہی ہو لیکن ہمارے اراکین کا اصرار ہے کہ کچھ مزید زمرے بھی بنائے جائیں۔ ہم ان کی خواہشات کے احترام میں کچھ مزید فورمز تو بنا دیں گے لیکن بحیثیت انتظامیہ ہمارا فوکس لینکس اور اوپن سورس ہی ہوگا۔ اسی امید کے ساتھ کہ سعد بھی اپنے فورم کو پاکستان کا بہترین اردو سائنس فورم بنا دیں گے۔ اللہ انھیں مزید اچھا کام کرنے کی توفیق دے۔
اتنا سارا خطبہ سن لیا آپ نے اور مجلس سائنس کا وزٹ نہیں کیا۔ اب میں آپ کو کیا کہہ سکتا ہوں۔
:D
ہفتہ، 15 دسمبر، 2007
مونو (Mono) میری نظر سے
منگوئل ڈی اکازا صاحب جن کی جوہر شناس نظروں نے ڈاٹ نیٹ کے ابتدائی دور سے ہی بروا کے چکنے چکنے پات پہچان لیے تھے۔ اسی دوران انھوں میں سی شارپ میں بطور مشق سی شارپ کا ہی ایک عدد کمپائلر لکھا۔ کمپائلر وہ سافٹویر ہوتا ہے جو ہائی لیول لینگوئج جیسے جاوا، سی شارپ وغیرہ کو مشین کوڈ یعنی صفر ایک کے "قابل پڑھائی" کوڈ میں بدلتا ہے تاکہ کمپیوٹر اسے سمجھ سکے اور اس پر عمل بھی کرسکے۔ زیمین وہ کمپنی تھی جس میں یہ صاحب کام کررہے تھے۔ زیمین ایک مرحوم کمپنی ہے جو لینکس اور یونکس کے لیے آزاد سافٹویر بنانے میں خاصی مشہور تھی بعد میں اسے نووِل نے خرید لیا اور آج کل اس کے ڈویلپرز نووِل کے انڈر ہی کام کررہے ہیں۔ سو بات یہاں پہنچی کی زیمین کو بھی منگوئل صاحب کا آئیڈیا پسند آٰیا اور انھوں نے ڈویلپرز کی اکھاڑ پچھاڑ کرکے ایک عدد پراجیکٹ تشکیل دے ڈالا جس کا نام مونو رکھا گیا۔ اس کے بارے میں پہلا اعلان مورخہ 19 جولائی 2001 کو ایک کانفرنس میں کیا گیا۔
مونو کا پہلا ورژن تین سال کی محنت کے بعد 30 جون 2004 میں جاری کیا گیا جسے مونو 1.0 کہا جاتا ہے۔
مونو کا نشان ایک بندر ہے۔ ہسپانوی میں مونو بندر کو کہتے ہیں۔
مونو مائیکرو سافٹ ڈاٹ نیٹ فریم ورک کا آزاد مصدر متبادل ہے اور اس کا مقصد بھی یہی ہے کہ ڈاٹ نیٹ کو لینکس ،یونکس، بی ایس ڈی اور میک تک پھیلایا جائے۔ مائیکرو سافٹ کے ایک بیان کے مطابق وہ تحقیق و تلاش کے سلسلے میں مختص اپنے وسائل کا اسی فیصد ڈاٹ نیٹ پر خرچ کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاٹ نیٹ فریم ورک بہت تیزی سے ترقی کررہا ہے اور اس میں شامل زبانوں کا ڈھیر ہی لگتا جارہا ہے۔ ڈاٹ نیٹ فریم ورک ایک پھر دو، تین اور اب 3.5 موجود ہے۔ اس رفتار کا مقابلہ کرنا مونو جیسے پراجیکٹ کے لیے شاید ممکن بھی نہیں۔ تاہم اس وقت مونو کی صورت حال یہ ہے کہ اس کے تازہ ترین ورژن 1.2.6 بتاریخ 12 دسمبر 2007 میں سی شارپ 2 اور وژوئل بیسک ڈاٹ نیٹ مع سی شارپ 3 کی جزوی سپورٹ موجود ہے۔ ونڈوز ڈاٹ فارمز اور دوسری اے پی آئیز کی سپورٹ ابھی تک مکمل نہیں ہے۔ ڈاٹ نیٹ فریم ورک 3 کی سپورٹ تجرباتی ورژن بنام اولیو تلے ارتقائی مراحل میں ہے تاہم ابھی اس کو جاری کرنے کا کوئی امکان نہیں۔
میں تکنیکی باتوں میں جانے سے قاصر ہوں چونکہ اتنا علم میرے پاس نہیں کہ اس کی وضاحت کرسکوں۔ مونو کی تاریخ کے سلسلے میں معلومات انگریزی وکی پیڈیا اور اس کی آفیشل سائٹ سے لی گئی ہیں۔ میں اس کے دوسرے پہلوؤں پر کچھ گفتگو کرنا چاہوں گا۔
مونو مائیکرو سافٹ کے ملکیتی مال کی اوپن سورس نقل ہے۔ اور اس میں مائیکرو سافٹ کی ہی پینٹنٹ شدہ کچھ ٹیکنالوجیز بھی استعمال کی جارہی ہیں۔ اے ایس پی۔ نیٹ، اڈو۔ نیٹ اور ونڈوز فارمز نامی کئی حصے ایسے ہیں جو مونو میں اس لیے شامل ہیں تاکہ اسے ونڈوز کے ساتھ مشابہہ رکھا جاسکے۔ لیکن ان کی بنیاد پر مائیکرو سافٹ مونو پر مقدمہ بھی کرسکتا ہے۔ مونو کا سب سے بڑا سپانسر نوویل ہے۔ نوویل اوپن سورس حلقوں میں ایک متنازعہ کمپنی کے طور پر جانی جاتی ہے۔ ریڈ ہیٹ کی طرح یہ سوسی لینکس انٹر پرائز ایڈیشن کے نام سے ایک لینکس او ایس تیار کرتی ہے۔ سوسی لینکس کا ایک عدد کمیونٹی ورژن بھی ہے جو اوپن سورس کے عمومی فلسفے کے تحت مل جل کر تیار اور جاری کیا جاتا ہے۔ نوویل مائیکرو سافٹ کے ساتھ مل کر کام کرنے کو برا نہیں سمجھتی۔ اس سلسلے میں اس نے مائیکرو سافٹ سے کئی ایک معاہدے بھی کررکھے ہیں جیسے لینکس اور ونڈوز سرورز کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنے کا معاہدہ۔۔اس کے ساتھ مائیکرو سافٹ کئی کمپنیوں کے ساتھ ایک دوسرے پر پیٹنٹ مقدمات نہ کرنے کے معاہدے بھی کرچکی ہے جس میں نوویل بھی شامل ہے۔
اوپن سورس والوں کو اعتراض اس بات پر ہے کہ مائیکرو سافٹ پر اعتبار کیونکر کیا جائے۔ پچھلے بیس سالوں میں م س نے جب چاہا اپنے معیارات بدل ڈالے، اس کے معاہدوں کا اعتبار نہیں اور اسے صرف اپنی اجارہ داری قائم رکھنے سے غرض ہے تو ڈاٹ نیٹ کو اوپن سورس میں کیوں قبول کیا جائے۔ اوپن سورس کا یہ اعتراض کہ کل کو اگر م س نے اپنے اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مونو پر مقدمہ کردیا تو یہ پراجیکٹ تو ٹائیں ٹائیں فش ہوجائے گا۔ نیز مونو صرف اور صرف ڈاٹ نیٹ کی نقل ہے چناچہ م س جب چاہے اپنے معیارات آئندہ آنے والے ورژنوں میں بدل کر مونو کی ساری ترقی کا بیڑہ غرق کرسکتا ہے۔
لیکن بعض لوگ مونو کے سلسلے میں بہت پرامید ہیں۔ بلاشبہ م س نے ڈاٹ نیٹ میں اب تک کی تمام اہم زبانوں کی خوبیاں سمو دی ہیں۔ سی، سی پلس پلس اور جاوا کے بہترین فیچرز سی شارپ میں موجود ہیں۔ سب سے اہم بات ڈاٹ نیٹ کا جاوا کے بائٹ کوڈ کی طرح کا طرز عمل ہے۔ ڈاٹ نیٹ کی درجن بھر سے زیادہ زبانیں پہلے ایک انٹرمیڈیٹ لینگوئج میں ترجمہ ہوتی ہیں جہاں سے اس کو ڈاٹ نیٹ فریم ورک مشین کوڈ میں تبدیل کرتا ہے۔ یہ خوبی ان تمام زبانوں کے کوڈ کو ایک دوسرے کی کلاسز استعمال کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ جاوا میں یہی کام جاوا رن ٹائم انوائرمنٹ کرتا ہے لیکن اس میں صرف جاوا کا بائٹ کوڈ ہوتا ہے جو کہ پلیٹ فارم کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔ ڈاٹ نیٹ میں کوڈ نہ صرف پلیٹ فارم کی قید سے آزاد ہے بلکہ جاوا کی طرح صرف جاوا میں لکھنے کی قید نہیں۔ آپ سی شارپ استعمال کرسکتے ہیں، وی بی ڈاٹ نیٹ اپنی پیشرو وی بی 6 سے بہت حد تک ملتی جلتی ہے اسے آزمائیں۔ جاوا شارپ موجود ہے جو جاوا کو ڈاٹ نیٹ سے ملاتی ہے۔ پائتھون کے لیے بھی آئرن پائتھون کے نام سے ایک زبان موجود ہے۔
پچھلے چھ سال سے مونو لینکس یونکس مارکیٹ میں پہچانا جارہا ہے اور 3 سال سے اس کے مستحکم ورژن مارکیٹ میں موجود ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ لوگ اب بھی مونو کا نام ہی کیوں جانتے ہیں؟ اس سلسلے میں کئی قسم کی رکاوٹیں موجود ہیں۔ مونو کو اوپن سورس برادری کا اعتبار شاید ابھی مکمل طرح سے حاصل نہیں ہوسکا۔ اس میں کچھ بگز بھی موجود ہیں۔ بیگل ایک ڈیسکٹاپ تلاش گر ہے لیکن اکثر اوقات جب یہ چلے تو میموری لیک ہونے کی شکایت کی جاتی ہے۔ یعنی آپ کا سسٹم یکلخت کی میموری کے قحط میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ پچھلے دنوں میں نے ایک مونو میں بنا ہوا فائل مینجر اتارا۔ یہ چند کلو بائٹس کا ڈیبین پیکج تھا۔ لیکن جب میں نے اسے اپنے کبنٹو سسٹم پر انسٹال کرنے کےلیے چلایا تو موصوف نے مجھے 73 پیکجز کی ڈیپنڈنسی لسٹ پکڑا دی۔ لینکس میں ڈیپنڈنسی سے مراد وہ سافٹویرز یا پیکجز ہوتے ہیں جو پروگرام چلنے کے لیے مطلوبہ سپورٹ و ماحول فراہم کرتے ہیں۔ ان پیکجز میں مونو کے پیکج بھی شامل تھے۔ بتانا یہ مقصود تھا کہ مونو کو ابھی تک ڈسٹروز میں آفیشلی شامل نہیں کیا گیا۔ چاہیے تو یہ کہ اسے ڈسٹرو کی انسٹالیشن سی ڈی میں شامل کیا جائے نا کہ متعلقہ پروگرام کی تنصیب کے وقت صارف کو اسے اتارنا پڑے۔
مونو میں ابھی تک تجارتی استعمال کے لیے کوئی خاص اطلاقیہ سوائے آئی فولڈر کے نہیں لکھا جاسکا۔ البتہ ڈیسک ٹاپ کے لیے کافی اطلاقیے یعنی ایپلی کیشنز لکھی جاچکی ہیں۔ جو خاصے مقبول بھی ہوئے ہیں۔ کچھ دن ہوئے میں نے پالڈو کے بارے میں سنا جس کا پیکجنگ سسٹم یو پیکج نامی ایک نظام پر مشتمل ہے جو مونو اور ایکس ایم ایل کو استعمال کرتے ہوئے بنایا گیا ہے۔ کئی ایک اطلاقیے اور پروجیکٹس ایسے ہیں جن میں مونو کا استعمال جان کر آپ حیران رہ جائیں گے۔ ان میں وکی پیڈیا بھی شامل ہے جو اپنے تلاش کے نظام کے لیے مونو کی بنیاد پر بنے ہوئے اطلاقیوں سے کام لیتا ہے۔
مونو ابھی اتنا مقبول نہیں جتنا ڈاٹ نیٹ ہوچکا ہے۔ لیکن اس کی بنیاد پر بننے والے اطلاقیے اب منظر عام پر آرہے ہیں۔ مونو کا مستقبل بلاشبہ روشن ہے۔ اس پراجیکٹ نے مجھے متوجہ کیا کہ میں ڈاٹ نیٹ سیکھوں۔ پچھلے کچھ دن سے میں اس سلسلے میں کچھ کام کررہا ہوں۔ مونو کو بنیاد بنا کر شاید میں سی شارپ یا وی بی ڈاٹ نیٹ نہ سیکھ سکوں لیکن سیکھنے کے بعد میں مونو میں پروگرامز لکھنا پسند کروں گا۔ آپ بھی اسے ٹرائی کیجیے اور یقین کریں آپ مایوس نہیں ہونگے۔
جمعرات، 13 دسمبر، 2007
چین میں لینکس مارکیٹ
چینی حکومت کی سافٹویر قذاقی کے خلاف مہم نے اس سلسلے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حکومت نے اس سلسلے میں دو قانون پاس کیے تھے جن کے مطابق حکومتی ادارے اور مقامی حکومتیں چوری شدہ ملکیتی سافٹویرز کی جگہ اب کم قیمت لینکس سافٹویر استعمال کررہی ہیں۔ حکومت نے کم قیمت لینکس ڈیسکٹاپ پر اپنا خرچ بھی بڑھا دیا ہے۔ پچھلے سال یہ مہم صرف بڑے شہروں اور وہاں کی مقامی حکومتوں تک محدود تھی لیکن اب یہ گاؤں اور قصبوں تک پھیل گئی ہے۔ اس وقت حکومت لینکس سافٹویر مارکیٹ کے ایک چوتھائی کی خریدار ہے جس میں سب سے زیادہ حصہ چین کے اپنے بنائے گئے ریڈ فلیگ لینکس کا ہے۔
انڈسٹری کے صارفین جیسے ہوٹل، لاٹری سیلر اور ٹیلی مواصلاتی کمپنیوں نے بھی اس سال لینکس ڈیسکٹاپ کے سلسلے میں اپنے فنڈز کو بڑھا دیا ہے۔سی سی ڈبلیو ریسرچ کے مطابق چین کی ہوٹل انڈسٹری کے آنلائن کاروبار نے اس سال 30 فیصد سے زیادہ ترقی کی ہے جس نے یہاں کمپیوٹرز اور سستے لینکس سافٹویرز کی کھپت کو بڑھا دیا ہے۔
چین میں اکثر کمپیوٹرز لینکس کی تنصیب کے ساتھ فروخت کئے جارہے ہیں جن کی وجہ سے لینکس کا مارکیٹ میں حصہ مزید بڑھ جائے گا۔ لیکن اس سارے عمل کا تاریک پہلو یہ بھی ہے کہ صارفین کمپیوٹر خریدنے کے بعد لینکس کو اڑا کر ونڈوز کا چوری شدہ ورژن نصب کرلیتے ہیں۔ کمپیوٹر فروخت کرنے والے بھی صارفین کو لینکس اڑا کر ونڈوز کا چوری شدہ ورژن انسٹال کردیتے ہیں۔ دوسری طرف مائیکروسافٹ نے بھی ونڈوز کی قمیتیں چین میں بہت کم کردی ہیں جو قریبًا لینکس کمپنیوں کی سروس فیس کے برابر ہیں۔ چناچہ لوگ ونڈوز کو استعمال کرنا زیادہ پسند کررہے ہیں۔ تاہم یہ لینکس کی فتح ہے کہ مائیکروسافٹ کو اپنی پراڈکٹس کی قمیتیں کم کرنا پڑی ہیں۔
اتوار، 9 دسمبر، 2007
مونو(Mono): مونو کے ساتھ میں؟ چہ معنی دارد
2005 کی بات ہے شاید ستمبر تھا جب پہلی بار میں اردو محفل پر آیا۔ اس کے بعد جو میں نے یہ پنگا اور وہ پنگا یعنی پنگا در پنگا لینا شروع کیے۔ کبھی ورڈپریس کا ترجمہ، پھر بلاگنگ کی شروعات۔ اس کے بعد ورڈپریس پر بلاگنگ۔ فری ہوسٹس کے چکر۔ پھر لینکس کا بھوت سوا ہوا۔ لینکس چلائی، اڑائی پھر چلائی پھر اڑائی، کبھی اوپن آفس کی لغت بنائی۔ ان دوسالوں نے مجھے بدل دیا۔ میں جو ایک بی "کامی" کمین تھا میرا دن میں آدھے سے زیادہ وقت اس موئے نیٹ پر گزرنے لگا۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ میرا بی کام کے بعد ایم کام میں ایڈمیشن نہ ہوسکا اور اگلے چھ ماہ میں نے ٹیوشنز پڑھا کر اور انٹرنیٹ گردی میں گزارے۔ پھر ۔۔۔پھر یہ ہوا کہ مجھے دو فرشتے مل گئے۔ یہ میرے اساتذہ تھے سر عاصم اور سر راشد۔۔۔پی ایچ ڈی کی ریسرچ کررہے تھے اور موضوع تھا پاکستانی انگلش۔۔۔انھیں ایک بندہ چاہیے تھا جو ڈیٹا کی پروسیسنگ کا کام کرسکے۔ میں ویلا تھا سو میں نے حامی بھر لی۔ کہتے ہیں جی جو قسمت میں ہو مل ہی جاتا ہے جانا کدھر تھا اور آکدھر گیا۔ انھوں نے اوپن آفس کے لیے اردو ورڈ لسٹ کی شمولیت کے بارے میں جانا اور جب یہ پتا چلا کہ اس کی تیاری میں کچھ کوشش میری بھی شامل ہے تو مجھے لسانیات کی طرف آنے کا مشورہ دے دیا۔ اور میں تو جیسے تیار بیٹھا تھا۔ گھر مشورہ کیا دو ایک دن سوچا اور اللہ تیری یاری فیس جمع کروا دی۔ ایسا نہ ہوتا تو میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایم بی اے کررہا ہوتا۔
اس کے بعد مجھے احساس ہوا کہ دنیا کتھے وسدی ہے۔ ان کا شعبہ کارپس لسانیات تھا۔ انھوں نے تجزیے وغیرہ کے لیے کوئی بیس لاکھ الفاظ پاکستانی انگریزی کے اکٹھے کئے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ پاکستانی انگریزی کو بطور ایک ورائٹی تسلیم کروایا جائے۔ کارپس لنگوئسٹکس اور کمپیوٹیشنل لنگوئسٹکس میں بس تھوڑا سا فرق ہے۔ کارپس والے ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہیں اور اس کے لیے انھیں مختلف سافٹویر اور ٹول درکار ہوتے ہیں۔ ان سافٹویرز اور ٹولز کو بنانا ایک پروگرامر مع لنگوئسٹ کا کام ہے۔ یعنی جو ہر دو شعبوں میں مہارت رکھتا ہو۔ عمومًا ایسے لوگ بڑے "گوڑھے" پروگرامر ہوتے ہیں۔ ایپلی کیشن بنانا خالہ جی کا واڑہ نہیں۔ اور وہ بھی جس میں بہت ہی خاص قسم کی پروسیسنگ اور معیار و نتائج درکار ہوتے ہیں۔
میرے اساتذہ اس معاملے میں بالکل کورے تھے۔ چناچہ جب پاکستانی انگریزی کو پروسیس کرنے کا مرحلہ آیا تو اول تو درکار سافٹویرز دستیاب ہی نہ تھے جو دستیاب تھے ان کے استعمال کا پتا نہ تھا۔ نیز پاکستانی انگریزی کی "گھنڈیاں" ان سے سلجھائی ہی نہ جاسکتی تھیں۔ ( آپ کے لیے شاید انگریزی انگریزی ہی ہو جیسے سارے چینی اور جاپانی اور کورین ایک جیسے نظر آتے ہیں ویسے ہی ہر ملک کی انگریزی بس انگریزی ہے۔ لیکن اہل فن و علم جانتے ہیں کہ زبان میں کس کس لیول پر کس طرح کے تغیرات ہوسکتے ہیں اور ان کی بنیاد پر زبان کی مزید ذیلی اقسام کیسے بن جاتی ہیں۔ سادہ سی مثال وکلاء اور ججوں کی انگریزی ہے جو وہ فیصلوں میں لکھتے ہیں یا بائبل اور قرآن کے انگریزی تراجم جن کے الفاظ ہی عام مروج زبان سے مختلف اور بڑے روایتی قسم کے ہوتے ہیں) یہاں آکر مجھے پتا چلا کہ میں نے اگر لسانیات میں کچھ کرنا ہے تو مجھے پروگرامر بننا پڑے گا۔ کم از کم اتنا کہ لینکس میں بیٹھ کر دو چار سکرپٹس لکھ سکوں یا پہلے سے موجود پروگرامز میں کچھ تبدیلی کرسکوں جو میرے مقصد کے تحت کام آسکیں۔ شاید زندگی میں پہلی بار میں نے اس فیلڈ میں سوچ سمجھ کر قدم رکھا ہے۔ اور ساری کشتیاں جلا کر اس سپین میں داخل ہوا ہوں۔ اب میرے سامنے لسانیات کی وسیع و عریض دنیا ہے اور پیچھے مڑا تو شاید پتھر کا ہی ہوجاؤں۔ میرا مقصد یہ بھی تھا کہ اردو زبان کے لیے کچھ کام کیا جائے۔ گرامر پر کام کرنا ایک تو مجھے پسند ہے دوسرے اردو کی گرامر پر ابھی تک کوئی خاص کام نہیں ہوسکا اگرچہ اس پر کچھ محققین مختلف جگہوں پر کام کررہے ہیں لیکن یہ آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ کرلپ لاہور میں بہت قابل قدر کام ہورہا ہے اور اگر زندگی رہی اور جذبہ بھی رہا تو ڈاکٹر سرمد حسین سے بھی ضرور رہنمائی لوں گا۔ ان سب مقاصد کو مدنظر رکھ کر میری منزل یہ ہے کہ لسانیات میں ایم ایس سی تو کرنا ہی ہے ساتھ کوئی پروگرامنگ کورس وغیرہ بھی کروں۔ ایک عرصے سے اس سلسلے میں متجسس تھا۔ کل رات بھی سر سے اس سلسلے میں بات ہوئی تو پھر واپس آکر کافی دیر مونو اور ڈاٹ نیٹ کے بارے میں تحقیق کی۔
کمپیوٹنگ فورمز، اردو محفل پر جو وقت گزرا اس سے یہ پتا چلا کہ ڈاٹ نیٹ اس وقت آسان ترین لینگوئج ہے جس میں پروگرامنگ کی جاسکتی ہے۔ لینکس میرا شوق ہے اور ونڈوز میری مجبوری۔ چناچہ مونو کی طرف متوجہ ہونے کی وجہ یہی تھی کہ اس کی وجہ سے ونڈوز کی ایپلیکیشنز لینکس پر چلائی جاسکیں گی۔ اگرچہ ابھی پروگرامنگ کی دنیا میں میرے دودھ کے دانت بھی نہیں آئے اور مجھے پروگرامنگ کی الف بے کا بھی پتا نہیں سوائے وی بی سکس کے ان اسباق کے جو میں نے چھ سال پہلے میٹرک کرنے کے بعد کمپیوٹر پر اپنی ابتدائی کورس کے ساتھ دو تین ماہ ایویں مذاق ہی مذاق میں پڑھے تھے، لیکن میرا خیال ہے کہ بنیادی تصورات سیکھنے کے بعد مجھے ڈاٹ نیٹ کو ہی سیکھنا ہوگا اور اسی لیے میں نے مونو کے بارے میں رات تفصیلًا تحقیق کی۔ اور وہ تحقیق کیا تھی یہ اگلی کسی قسط میں ملاحظہ کیجیے۔ آپ کا شکریہ آپ نےاتنی دیر تک میری میں میں برداشت کی۔
ا