‏لاہور لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏لاہور لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 4 فروری، 2013

وزیرِ اعلی لاہور

سب سے پہلے تو میں یہ مطالبہ پیش کرتا ہوں کہ لاہور کی طرح فیصل آباد کو بھی ایک وزیر اعلی دیا جائے۔ تاکہ یہاں بھی سڑکیں بنوانے، گلیاں پکی کروانے اور انڈرپاس اوور ہیڈ بنوانے کے لیے ایک سیاسی نگران ہو۔ بلکہ میرا تو یہی خیال ہے کہ تحصیل کی سطح تک وزرائے اعلی منتخب کروائے جائیں۔ جن کی اپنی اسمبلیاں ہوں، اور اپنی کابینہ۔ ہاں اس صورت میں کابینہ میں یونین کونسل کے ناظم بھرتی کیے جا سکتے ہیں۔
لاہور میں تیس چالیس ارب سے جنگلہ بس سروس تیار ہو رہی ہے۔ لاہور کے لیے ترکی کی درآمد شدہ کوڑا اٹھاؤ گاڑیاں چل رہی ہیں۔ لاہور میں ہر مصروف سڑک پر اوور ہیڈ بن رہے ہیں۔ اور مصروف چوکوں میں انڈر پاس اور فلائی اوور بن رہے ہیں۔
جبکہ مقابلتاً میرے شہر فیصل آباد میں دس سال کے رنڈی رونے کے بعد، ایک چوک (عبداللہ پور چوک) میں انڈر پاس شروع کیا گیا۔ وہ بھی اس طرف جہاں ٹریفک کا رش کم ترین ہوتا تھا۔ اور جس روڈ پر ٹریفک کی تین چار سو میٹر لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں وہ ویسے کا ویسا ہی ہے۔ اس کی قسمت جگانے کے لیے ایک عدد وزیرِ اعلی کی اشد ضرورت ہے۔ تاکہ کلمہ چوک فلائی اوور، مسلم ٹاؤن فلائی اوور کی طرح ایک ڈیڑھ ماہ میں ایک عدد عبداللہ پور چوک فلائی اوور تیار ہو سکے۔
اس کے علاوہ فیصل آباد کا حق بھی ہے کہ یہاں ترکی والی کوڑا اٹھاؤ گڈیاں چلیں۔ اس کے لیے بھی ایک وزیر اعلی فوری طور پر یہاں بھی تعینات کیا جائے۔ وزیرِ قانون البتہ ثنا اللہ صاحب فیصل آبادی کو ہی رکھا جا سکتا ہے۔ انہیں بھی اپنے شہر میں کام مل جائے گا، اور عوام کا دیرینہ مطالبہ بھی پورا ہو جائے گا۔ اس کے جواب میں پیپلز پارٹی بھی راجہ ریاض کو ہوم ڈیوٹی اسائن کر سکتی ہے۔ اس طرح فیصل آباد بھی خبروں میں زیادہ آئے گا۔ اور ادھر گیس، بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر وزیر اعلی و کابینہ کی جانب سے پنجاب کے ساتھ زیادتیوں کے رونے زیادہ روئے جائیں گے۔
اور ہاں ہمارے ہاں بھی سڑک کنارے ایسکیلیٹرز لگوائے جائیں۔ ان کے لیے جنریٹر خریدے جائیں، اور گارڈز رکھے جائیں۔ تاکہ یہاں بھی لوگوں کو چُوٹے (جھولے) لینے کا موقع میسر آ سکے۔ مٹی گھٹے سے خراب ہونے کی صورت میں انہیں اچھے داموں کباڑیے کو فروخت کیا جا سکتا ہے۔
اور ہو سکتا ہے مقامی کابینہ کے کسی وزیر کے ذہن میں کوئی اور اچھوتا منصوبہ آ جائے، جس سے فیصل آباد پر مزید پیسے لگ سکیں۔
میرا وزیرِ اعلی لاہور سے پُر زور مطالبہ ہے کہ جلد از جلد فیصل آباد کو بھی ایک وزیرِ اعلی مہیا کیا جائے۔ تاکہ ہم بھی لاہور کے برابر آسکیں۔ بلکہ مرحلہ وار ہر ضلع اور تحصیل کو وزرائے اعلی الاٹ کیے جائیں، تاکہ عوام گٹر کا ڈھکن بدلوائی، گلی پکوائی، سڑک بنوائی، انڈرپاس کھدوائی اور دوسرے ضروری کاموں کے لیے ان سے رجوع کر سکیں۔
عین نوازش ہو گی۔
عرضے
رہائشیانِ فیصل آباد
منتظرانِ وزیر اعلی و کابینہ

منگل، 17 فروری، 2009

مرجائیں کیا؟

کیا کریں آپ ہی بتا دیں کیا کریں اب؟
سوات میں پھر سے وہی امن معاہدہ کرنا پڑا. جتھے دی کھوتی اوتھے آن کھلوتی.
ہاں فوج اس کو کنٹرول نہیں کرسکی.
ہاں وہاں عام لوگ زیادہ مارے جاتے رہے ہیں.
ہاں وہاں جاسوسی کا سارا سسٹم فیل ہوگیا.
ہاں وہاں اربوں کا نقصان ہوا.
آدھی آبادی ہجرت کرگئی.
باقی آدھی جہنم میں زندگی گزار رہی تھی.
پاکستان کے سوئٹزلینڈ کو جہنم لینڈ بنا دیا گیا.
ہاں وہ گروہ اتنے طاقتور ہیں کہ ان سے آخر کار پھر سے مذکرات ہی کرنے پڑے.
ہاں وہ شریعت جو نافذ ہونے جارہی ہے جو حل کم اور لالی پاپ زیادہ ہے
تو؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
تو کیا کریں؟
مرجائیں کیا؟
مذاکرات نہ کریں کہ جھکنا حکومت کا شیوہ نہیں؟
یا جس شریعت کے نفاذ کی بات کی جارہی ہے وہ شریعت بھی نافذ نہ ہونے دیں. بقول وڈوں کے اس لولی لنگڑی بلکہ اختلاف زدہ اور بلکہ "کونسی" شریعت کو بھی نافذ نہ ہونے دیں؟
سکولوں کو بم دھماکوں میں اڑنے دیں؟
بے گناہوں، ہیرے جیسے جوانوں اور ان جنگجوؤں کو جو بدقسمتی سے ہم میں سے ہی ہیں خاک و خون میں رلنے دیں؟
را، موساد اور سی آئی اے کو اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے دیں؟
ایک اور مکتی باہنی کھڑی کرلیں؟
کیا کریں...یہ جو میرے وڈے ہیں... یہ جو اتنی باتیں کرتے ہیں کہ یہ کردیا وہ کردیا وہ بتائیں کہ کیا کریں پھر ہم....اب کیا جئیں بھی نا؟؟ اگر یہ سب نہ کریں تو پھر تو مرنا ہی مقدر ہے وہ بھی حرام موت...ڈیرہ غازی خان اور میانوالی تک تو کینسر آگیا ہے لاہور، گوجرانوالہ اور فیصل آباد تک بھی آجائے گا...کراچی تک تو پہلے ہی پہنچ جانے کا واویلہ مچایا جارہا ہے..تو اس کو بندوق سے ہی حل کرتے رہیں تاکہ جو نہیں بھی صحیح وہ بھی صحیح لگنے لگے.... ہمیں جینے کیوں نہیں دیتی دنیا ایسے بھی اور ویسے بھی... ہر طرف سے گالیاں، طعنے، کوسنے، اختلافات، مفت کے مشورے...ہم نے یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا..اسلام کے نام پر بیس سال تک جو کھلواڑ اس ملک کے ساتھ ہوتی رہی تو دو سال کے آپریشن سے ٹھیک ہوجائے گی؟ کیسے توقع کرتے ہیں آپ کہ ہر مسئلے کا حل بمباری اور بندوق ہوگا؟ امریکیوں کا تو بنتا ہے کہ وہ آئیں ڈرون سے میزائل گرائیں اور چلے جائیں...لیکن ہم کہاں جائیں جن پر گرائیں وہ بھی اپنے جو گرائیں وہ بھی اپنے ہم پھر بچ کر کہاں جائیں؟؟ کوئی بتائے گا مجھے یہ؟؟ اتنے لمبے لمبے تجزیے، دہشت گردی یہ گردی وہ گردی، انتہا پسندی وغیرہ وغیرہ وغیرہ تو کیا کریں ہم اس کا آپس میں لڑ لڑ ہی مرجائیں اب ہم؟

جمعرات، 14 اگست، 2008

جشن آزادی مبارک

میری طرف سے بھی تمام احباب کو جشن آزادی مبارک۔

اللہ کریم اس ملک پر اپنا لطف و کرم رکھے۔ رات گیارہ بجے لاہور میں ایک خودکش بم دھماکے میں 10 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے۔

اتوار، 3 اگست، 2008

کمی کمین

خاور کا کہنا ہے کہ اس پوسٹ پر انھیں مسلم لیگ ن جاپان کے وڈوں نے دھمکیاں دی ہیں۔ بھئی خاور کو احتیاط کرنی چاہیے تھی اتنا سچ نہیں لکھنا چاہیے تھے۔ یہ ملک تو ہے ہی مسلم لیگ کا۔ نہ مسلم لیگ ہوتی نا پاکستان بنتا۔ اوپر سے ہر آمر کے ساتھ مسلم لیگ چمٹی رہی ہے۔ موجودہ اصلی تے وڈے مسلم لیگی تو بس ن لیگ والے ہیں۔ چاہے ق لیگ والے اپنے آپ کو پاکستان مسلم لیگ کہلواتے ہیں لیکن ان کی سنتا کون ہے۔ آٹھ سال کے بعد مسلم لیگ ن کی باری آئی ہے تو ان کا اتنا اکڑنا تو فرض بنتا ہے۔

لاہور میں وزیر اعلٰی شہباز شریف کے آنے کے بعد پولیس والوں نے بھی پارکوں اور باغوں سے فحاشی سے خاتمے کے لیے پھر سے مہم شروع کردی ہے۔ جوڑوں کو سرعام روک کر بے عزت کیا جاتا ہے۔ شادی ہالوں میں جاکر جوتے لگائے جاتے ہیں۔ تو باہر بھی تو ان کی ٹور ہونی چاہیے۔ آخر یہ ملک ان کے مامے کا ہے اور ہم کمی کمین غریب غرباء جنھیں جو چاہے آکر دبا دے، استحصال کردے، ظلم کرے۔ کون پوچھنے والا ہے۔

خاور کھوکھر نے غلطی کی۔ اسے تو چاہیے تھا جاپان میں بیٹھا ہے تو چپ چاپ بیٹھا رہے۔ یہ تو محفوظ ہے۔ خواہ مخواہ میں پنگا لے بیٹھا۔ اب بھی وقت ہے وڈوں سے معافی مانگ لے اور آئندہ ایسے کاموں سے توبہ کرلے۔

ہفتہ، 2 اگست، 2008

ٹیگ ٹیگ اور ٹیگ

احباب پچھلے دو ماہ سے ٹیگ ٹیگ کھیل کر ہلکان ہوئے جاتے ہیں۔ میں ہوتا تو جنگلوں میں نکل جاتا سب چھوڑ چھاڑ کر۔ اتنی دیر میں تو ٹیگ بھی اک گئے ہونگے۔ مودبانہ گزارش ہے کہ پوسٹ لکھیں اور اس میں ایک دوسرے کی متعلقہ پوسٹ کے روابط دینے کی عادت ڈالیں۔ خیر ہمیں بھی ابوشامل نے کانٹوں سوری ٹیگوں میں گھسیٹ لیا سو ونگار پوری کررہے ہیں۔


ونڈوز یا لینکس؟


دونوں


ہالی وڈ یا بالی وڈ؟


دونوں ہی۔


پیپسی یا کوک؟


جو مل جائے


کراچی یا لاہور؟


فیصل آباد ;)


سیب یا انگور؟


غریب آدمی کو تو جو سستا مل جائے


پاپ یا راک؟


جس کا گانا پسند آجائے ورنہ ہلکے پھلکے رومانوی گانے و غزلیں۔


چائے یا کافی؟


چائے ہی۔


نہاری یا حلیم؟


حلیم کبھی کبھار۔


فورمز یا بلاگ؟


دونوں


دوست یا کزن؟


دوست


کرکٹ یا فٹ بال؟


کرکٹ


پرسکون یا پریشان؟


منحصر بہ وقت


چونکہ یہ کھیل ہر جگہ پھر چکا ہے اس لیے ہمیں مزید کوئی بندہ یاد نہیں آرہا۔ کسی نے تو اسے بند کرنا ہی تھا ہم بند کررہے ہیں۔ ابوشامل کے ٹیگ شدگان باقی چار اسے آگے بڑھانا چاہیں تو بسم اللہ۔۔۔