جمعہ، 20 نومبر، 2009
گوگل کروم او ایس
گوگل نے کل آخر رحم کھا ہی لیا اور ان تمام افواہوں، قیاس آرائیوں اور الٹی سیدھی تنقید کا سلسلہ بند کروا دیا۔ جیسا کہ پیشن گوئی تھی کہ گوگل کا یہ او ایس لینکس پر مشتمل ہوگا۔ بالکل یہی حقیقت نکلی ہے۔ لیکن یہ خبر میرے جیسوں کے لیے مایوس کن ہے کہ گوگل کا یہ او ایس ایک خاص ہارڈ وئیر پر چل سکے گا۔ اگلے سال کے آخر تک گوگل اپنی ایک عدد نیٹ بُک لانچ کرے گا جس میں پہلے سے یہ او ایس نصب ہوگا، یعنی ڈیسکٹاپ پی سی کی چھُٹی۔ ایک اور بات یہ کہ یہ او ایس خالصتًا ویب اطلاقیوں پر مشتمل ہے۔ نیٹ بُک کو اٹھا کر کہیں بھی لے جائیں لیکن اس پر سارا کام ویب سے چلنے والے اطلاقیے کریں گے اور آپ کی ہر چیز انٹرنیٹ پر، ظاہر ہے گوگل کے سرورز پر، محفوظ ہوگی۔ اور ہمیں امید ہے کہ گوگل نے ایسا اور بہت سی وجوہات کے علاوہ پیسہ کمانے کی غرض سے بھی کیا ہوگا۔ چونکہ گوگل کا کام ہی آنلائن ہے اس لیے یہ عادت سے مجبور ہے۔ :)
اس او ایس کی سیکیورٹی کے بارے میں گوگل نے بڑے اونچے اونچے دعوے کیے تھے جن کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ لیکن اب جبکہ گوگل نے اس کا کوڈ آزاد مصدر کردیا ہے اور اس کے سیکیورٹی نظام کی تفصیلات بتائی ہیں تو یہ دعوے درست بھی لگ رہے ہیں۔ سب سے پہلے تو ویب اطلاقیے ہی اس کو محفوظ بنا دیتے ہیں۔ اس کا سارا روٹ فائل سسٹم صرف قابل پڑھائی بنایا گیا ہے یعنی اس پر کچھ بھی نہیں لکھا جاسکتا۔ او ایس کا کام صرف بنیاد فراہم کرنا ہے جس کے بل پر ویب اطلاقیے چل سکیں۔ باقی سب کچھ سرورز پر ہوگا۔ یعنی وائرس آ بھی جائے تو زیادہ سے زیادہ میموری میں دھمال ڈال سکتا ہے۔ اس کے علاوہ گوگل کا براؤزر کرومیم جو کہ اس او ایس کا بھی براؤزر ہوگا پہلے ہی اس صلاحیت کا حامل ہے کہ اس میں کھلنے والا ہر ٹیب دوسرے ٹیب سے جداگانہ طور پر کھلتا ہے۔ چناچہ اگر ایک ٹیب ہیلڈ ہوجائے، مسئلہ کرے یا کوئی ویب اطلاقیہ کام خراب کرے تو اتنے حصے کی جراحی کرکے باقی سارے جسم کو گزند پہنچائے بغیر کام جاری رکھا جاسکتا ہے۔ بقول گوگل کے بڑوں کے انھوں نے ویب اطلاقیوں کو ایک دوسرے سے لڑائی کرنے سے اور بنیادی سسٹم سے لڑائی کرنے سے روکنے کے لیے موثر انتظام کیا ہے۔ یعنی مہمان ویب اطلاقیے صرف بیٹھک تک آسکیں گے اس سے آگے نہیں، اور یہاں بھی ان کے لیے الگ الگ پورشن مخصوص ہوگا۔ گوگل نے بوٹ کرنے کے عمل کو بھی محفوظ بنانے کی کوشش کی ہے۔ بنیادی نظام کی ہر فائل کے ساتھ مخصوص دستخط جڑے ہیں، دوران بُوٹ ہر فائل کو اس کے دستخط کی بنیاد پر پہچانا جاتا ہے اگر کسی ایک میں بھی تھوڑی سی گڑبڑ ہو تو سسٹم ری سٹارٹ ہوجائے گا، نیٹ سے وہ فائل دوبارہ اتار کر نصب کرے گا، سیکیورٹی پیوند لگائے گا اور پھر نیا جیسا ہوجائے گا۔
یہ سب تو گوگل کے بارے میں تھا اب کنونیکل کی سنئیے، جو مقبول ترین لینکس ڈِسٹرو کی کمرشل اماں ہے۔ کنونیکل گوگل کے ساتھ ٹھیکے پر کام کررہی ہے تاکہ اسے کروم او ایس کے بارے میں مدد فراہم کرسکے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کروم او ایس اور اوبنٹو نوٹ بُک ری مکس کا کام ایک ہی ہے۔ یعنی نیٹ بُک کمپیوٹرز لیکن کنونیکل کے بقول کروم ویب پر انحصار کرے گا اور اوبنٹو نیٹ بُک ری مکس ڈیسکٹاپ اطلاقیے بھی چلاتا ہے۔
ویسے ہمیں تو خاصی مایوسی ہوئی ہے۔ گوگل نے وہی کیا جس کی اس سے امید تھی، یعنی پھر ویب پر لا کر پھنسا دیا، ساتھ اپنے ہارڈوئیر کی شرط لگا دی اور او ایس کو مینوفیکچرر تک محدود کردیا۔ ہم جو سمجھ رہے تھے کہ ہُن مزہ آئے گا جد گوگل تے مائیکرو سافٹ ککڑاں وانگ لڑ سن۔ پر کتھوں۔ ہمارا مفت کا تماشا گوگل نے لگنے
ہی نہیں دیا۔
منگل، 2 ستمبر، 2008
اک "براؤزر" ہور
شاید اب جنگِ براؤزراں مزید دلچسپ ہوجائے۔ وجہ اس بیان کی یہ ہے کہ انٹرنیٹ ایکسپلورر، فائر فاکس، اوپیرا اور سفاری کے بعد اب وڈّے پاء جی نے بھی میدان میں آنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اور حسب معمول یہ براؤزر – جیسا کہ کمپنی کی پالیسی ہے- آنے والے 23 برسوں تک کے لیے بطور بی ٹا جاری کردیا جائے گا۔ نام کروم Chrome ہے۔اور گوگل کا یہ ویب براؤزر ویب کٹ پر مشتمل ہے۔ ویب کٹ ایک انجن ہے جو ایچ ٹی ایم ایل وغیرہ کرو رینڈر کرنے میں مدد دیتا ہے۔
حسب معمول و توقع اسے عمومی انداز میں متعارف کروانے کی بجائے گوگل نے یہ خبر باوثوق ذرائع کے ذریعے جاری کروائی ہے۔ یہ ویب کامک یہاں دیکھا جاسکتا ہے۔ 38 صفحات کے اس کامک میں گوگل نے براؤزر اور پروجیکٹ کے بارے میں تمام تفاصیل مہیا کی ہیں۔ ایک آزاد مصدر ویب براؤز بنام کروم Chrome
کچھ خصوصیات واقعی لائق توجہ ہیں۔ جیسے اس کا نیا جاوا سکرپٹ انجن وی 8 جو کثیر عملی(بیک وقت ایک سے زیادہ عمل کاری ) کا ڈیزائن استعمال کرتا ہے، شاید اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ پورے براؤزر کو چھیڑے بغیر انفرادی صفحات کو انفرادی طور پر ہی ختم کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے میموری کی کچھ قربانی البتہ دینا پڑتی ہے۔ ایک بلاگ پوسٹ میں گوگل نے مزید وضاحت کی کہ ہر صفحے کا اپنا ریت خانہ ہے یعنی اپنی دنیا جس میں طوفان آنے سے دوسرے کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اس میں وہی عام خصوصیات جیسے اینٹی فشنگ سے بچاؤ، ٹیب وغیرہ موجود ہونگی۔ اس کا ونڈوز ورژن آج جاری کیا جانا ہے جبکہ لینکس اور میک ورژن بعد میں آئیں گے۔ سکرین شاٹس پہلے ہی منظر عام پر آچکی ہیں۔ اور اس کا مواجہ دیکھ کر لگتا ہے جیسے گوگل کی بٹن اور ونڈو کے بارے میں اپنی ہی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ہے۔ ایسے ہی میکنٹوش نے سفاری کے ساتھ کیا تھا۔
جمعہ، 23 فروری، 2007
گیلیون(Galeon) گنوم کا بنیادی ویب براؤزر فی الوقت (کے)اوبنٹو پر میرے لیے بہترین اردو سائٹ براؤزر
آج بہت دنوں بعد دوبارہ سے لینکس پر انٹرنیٹ فعال کرواسکا ہوں۔ میں اصل میں روٹر سے براہ راست انٹرنیٹ استعمال کرتا ہوں اور میرے کیبل نیٹ ورک پر آئی پی سسٹم سارے کا سارا DHCP کے تحت ہے یعنی خودکار پی سی جاگتا ہے سرور سے رابطہ کرتاہے اور اس کو ایک آئی پی الاٹ ہوجاتا ہے میرے کیبل نیٹ ایڈمن نے روٹر کی میری درخواست پر نیٹ ورک ہب سے منسلک کرکے مجھے نیٹ استعمال کرنے کی اجازت تو دے دی تھی لیکن اس سے ایک مسئلہ بن رہا تھا جب بجلی بند ہونے کے بعد دوبارہ آتی تو روٹر صاحب بھی جن کا DHCPبھی فعال تھا پراکسی سرور کے ساتھ آئی پی بانٹنے لگ جاتے جس کے نتیجے میں سرور کے فکسڈ آئی پی کے ساتھ اس وقت چلنے والے سسٹم کا آئی پی پھڈا پڑ جاتا ایک ہی آئی پی پر دونوں اپنا راگ الاپنے لگتے اور نیٹ ورک کا بیڑہ غرق ہوجاتا تین چار بار اس سلسلے کو بجلی کی بندش کے بعد آمد سے مسئلہ پیدا ہونے کی وجہ سے منقطع کرنا پڑا اور میں لینکس پر نیٹ کے سلسلے میں محدودہوجاتا آج میں نے آخر روٹر میں جاکر اس کا ڈی ایچ سی پی ہی غیرفعال کروادیا اب چاہے جتنی بار مرضی بجلی بند ہولے روٹر بے چارے کا منہ بند کیا جاچکا ہے۔
لو جی بات کیا کرنی تھی اور کہاں پہنچ گئی۔ ہوا یہ کہ میں نے آج فائر فاکس (اوبنٹو کی آفیشل رپازیٹری سے) اتار کر نصب کیا تو سوچا گیلیون بھی نصب کرکے دیکھ لوں شاید چل جائے آخری بار اسے نصب کیا تھا تو ساتھ فائر فاکس بھی چلا آیا تھا جیسے فلموں میں اداکاراؤں کے ساتھ نانیاں دادیاں چلی آتی ہیں۔ اللہ اللہ کرکے نصب ہوا تو اس نے پراکسی لینے سے انکار کردیا تھا مصر تھا کہ گنوم کو بھی بلایا جائے اب بندہ پوچھے اگر گنوم پر ہی دھکے کھانے تھے تو میں کے ڈی ای پر کیوں آتا۔ اب چونکہ ہمارا نیٹ بغیر پراکسی کے چلتاہے اس لیے یہ ہماری بات مان گیا اور اب ہم اس پر اردو کی سائٹس کو وزٹ کیا کریں گے خصوصًا محفل اور بلاگز جہاں پر ویب پیڈ کنکرر میں چلتا نہ تھا اور جن کا اردو نسخ ایشیا ٹائپ یا کوئی دوسرا فونٹ فائر فاکس میں صحیح نظر نہ آتا تھا۔ محفل کا گیلیون سے ایک منظر
بدھ، 7 فروری، 2007
سوِفٹ فاکس(Swiftfox) فائرفاکس کا لینکس روپ
موزیلا فائر فاکس اس وقت مقبول عام آزاد ویب براؤزر ہے۔ ونڈوز لینکس کسی بھی پلیٹ فارم پر اسے ہی استعمال کرنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے موزیلا نے لینکس کے لیے فائر فاکس کو ٹھیک طرح پالش نہیں کیا جس کی وجہ سے بعض اوقات لینکس پر چلتے ہوئے فائر فاکس رک رک کر چلتا ہے اور کم رفتار سے چل کر سسٹم کو بھی وخت ڈال دیتا ہے۔
اس صورت حال کو اوبنٹو والوں نے اپنی فائر فاکس اشاعت بنا کر پورا کیا ہے۔ شاید باقی قسموں نے بھی کوئی اسی قسم کا حل نکالا ہو جس میں فائر فاکس کو متعلقہ ماحول کے تحت بہتر طریقے سے وضع کیا گیا ہو۔ لیکنہمارے پیش نظر اس وقت اوبنٹو ہے۔ اوبنٹو کا بنا ہوا فائر فاکس استعمال تو کرلیا جائے لیکن انھوں نے اس کی خودکار تازہ کاری کا انتخاب معطل کررکھا ہے جس کی وجہ سے بڑا مسئلہ ہوتا ہے ونڈوز پر تو سیدھے سبھاؤ فائر فاکس خود ہی سارا کام کرکے آپ کو صرف اتنا بتاتا ہے کہ تازہ کاری اتر گئی نصب کرنے کے بارے میں بتائیں ابھی کریں گے یا ذرا ٹھہر کر۔
لیکن ہائے رے اوبنٹو۔ اوبنٹو کی ہر رگ ہی نرالی ہے۔ ہر چیز پر پہرے بٹھا رکھے ہیں انھوں نے۔
لیکن وہ کیا کہتےہیں کہ لوگ بھلا بعض آتے ہیں۔ صاحبو ہم بھی صدا کے ضدی ہیں وہ کام کرتے ہیں جو کرنے سے روکا جائے۔ اس لیے ہم بجائے کہ طےشدہ ورژن استعمال کرتے سوِفٹ فاکس نصب کرلیا۔فائر فاکس کی ہر نئی اشاعت کی کانٹ چھانٹ اور رنگ روغن کرکے سوفٹ فاکس بنا لیا جاتا ہے جو ہے تو فائر فاکس بس نام بدلا ہوا ہے۔ لینکس قسم کی قید سے آزاد یہ براؤزر فائر فاکس سے بہتر نتائج دیتا ہے خصوصًا جب فائر فاکس کو گنوم کے علاوہ استعمال کرنا ہو یعنی کے ڈی ای میں۔
اس کے ریلیز والے صفحے پر جائیں اپنے سی پی یو کے مطابق تنصیب کار سکرپٹ اتاریں اور ٹرمینل سے چلا لیں۔ سوفٹ فاکس اتر کر نصب ہوجائے گا خودکار تازہ کاریوں کو فعال کرنا ہے تو روٹ کھاتے سے داخل ہوکر اس کی ترجیحات میں جاکر اس انتخاب کو نشان زد کردیں آئندہ یہ خودبخود تازہ ہوتا رہے گا۔
اگر ایسا نہیں کرنا تو آٹومیٹکس اس کا بہترین حل ہے۔یہ آپ کے لینکس ورژن(یعنی اوبنٹو کبنٹو ورژن) اور سی پی یو سپیڈ کے مطابق سوفٹ فاکس اتار کر نصب کردیتی ہے ساتھ ہی اس کے دخیلوں یعنی پلگ ان نصب کرنے کا بھی آپشن ہے لگے ہاتھوں وہ بھی نصب کرلیں اور فائر فاکس کے مزے لوٹیں۔ لیکن دخیلے کچھ دیر لے سکتے ہیں جیسے ہمیں کوئی اڑھائی گھنٹے ہونے کو آرہے ہیں ابھی تک اترے ہی نہیں یہی کوئی 50 ایم بی ڈیٹا اتر چکا ہے۔
;)
منگل، 26 دسمبر، 2006
فاکس مارکس فائر فاکس کا ایک عمدہ دخیلہ
میں نے فورًا اس پر کلک کیا اور سیدھا متعلقہ صفحے پر پہنچ گیا۔ اور تو کوئی مجھے پسند نہ آیا لیکن فاکس مارکس واقعی کام کی چیز نکلی۔۔
یہ دخیلہ نصب ہونے کے بعد آپ کو بک مارکس سرور پر چڑھانے کی اجازت دیتا ہے۔۔اور مزے کی بات بالکل مفت۔۔
اسے نصب کریں اپنے براؤزر کو دوبارہ چلائیں اور ایک فاکس مارکس کا بھوتنا نمودار ہوجائے گا(وزرڈ کے لیے یہ لفظ ابھی ابھی ذہن میں آیا ہے۔ ;) ) اس پر آپ ایک نیا کھاتہ بنا لیں اور اس کے بعد فاکس مارکس ہمیشہ پس منظر میں کام کرتا رہے گا۔۔۔جیسے ہی آپ نیا نشان زدہ ربط شامل کریں گے یہ فورًا اسے سرور پر چڑھا دے گا۔۔اس کے بعد اس کے جہاں سے مرضی حاصل کرلیں جاکر۔۔
میرے ساتھ تو ایسے ہے کہ دو سسٹم ہیں ونڈوز بھی اور لینکس بھی سو مجھے دونوں پر اپنے نشان زدہ صفحات ایک جیسے رکھنا پڑتے ہیں اور اس کا یہ بہترین حل ہے۔۔بس نئے سسٹم پر جاکر فاکس مارکس سے داخل ہوکر وہ فائل اتارنا ہوگی جو یہ خود ہی اتار لے گا۔۔آپ کا کام صرف کلک کرنا ہے اور اس کے بعد جہاں جہاں جس طرح آپ نے نشان زدگیاں شامل کی تھیں ویسے ہی نمودار ہوجائیں گی۔۔جیسے بک مارک ٹول بار میں الگ سے اور بک مارک مینیو میں الگ سے۔۔
ایک اور بات اس کا دخولی نظام معاملاتی حساس قسم کا ہے چناچہ اگر آپ نے کھاتہ اس طرح بنایا ہے کہ اس میں بڑے اور چھوٹے دونوں انگریزی حروف شامل ہیں تو ہر بار داخل ہوتے وقت آپ کو ترتیب وہی رکھنا ہوگی ورنہ فاکس مارکس اسے اسم صارف کی غلطی سمجھے گا۔۔
موج کریں لیکن اپنے خرچے پر۔۔ ;) ;)
وسلام