جمعہ، 12 اگست، 2011
بارشیں
پیر، 9 مارچ، 2009
چیز ونڈی دی
یہ آواز کانوں میں پڑتے ہی گھر سے ہاتھ میں کوئی پلیٹ یا کولی لے کر نکل پڑتے اور آواز کے مخرج کا پتا لگا کر گائیڈڈ میزائل کی طرح وہاں جاکر گرتے۔ یہ بچپن کے دن تھے۔ فکر نہ فاقہ۔ کونڈوں کے ختم پر حلوہ پوری کے بٹنے کا انتظار رہتا۔ محرم پر میٹھے پانی اور کُجی ٹھوٹھیوں میں کھیر اور چاولوں کے بٹنے کا انتظار رہتا۔ ساتھ میٹھی یا نمکین لسی ہوا کرتی۔ محلے دار کبھی پیسے، کبھی ٹافیاں کبھی پھُلیاں بانٹتے تو بھی سب سے آگے ہوا کرتے۔
پھر عمر نے کچھ آگے قدم بڑھایا اور ہاتھ میں کولی پکڑ کر باہر جانے سے جھجک ہونے لگی۔ لوگ کیا کہیں گے۔ تو چھوٹوں سے کہا جاتا باجی سے کہنا میرے بھائی کا حصہ بھی دے۔ یا ایسے ہی ان سے دو چار نوالے لے لینا۔
آہ کتنے اچھے دن تھے۔ آج وہ دن پھر سے یاد آگئے۔ آج سماجی لسانیات کا پرچہ تھا۔ وہ دے کر اگلے پرچے کی تیاری کرتے رہے۔ شام پانچ بجے وہاں سے جان چھوٹی۔ کل شام سے پیٹ میں گڑ بڑ تھی اس لیے دودھ اور ایک کپ چائے کے ناشتے کے کچھ بھی نہیں کھایا تھا۔ دوپہر میں بھی کچھ نہیں کھایا تھا۔ واپسی پر ہمیں ایک جگہ چیز ونڈی دی نظر آگئی۔ ہاتھ میں موبائل تھا ایک کلاس فیلو کو سلیبس کے بارے میں میسج کا جواب دیا جارہا تھا، دیکھا پھر سوچا چھڈ یار لیکن پھر آگے جاکر سائیکل روک لی۔ کہ چھڈ یار چیز ونڈی دی لے ہی لے۔ سائیکل کو تالا لگایا، بیگ کندھے پر لٹکایا اور لائن میں لگ گئے۔ جتنی دیر میں میسج مکمل کرکے بھیجا ہماری باری آگئی۔ تازہ سا نان اور اس پر گھی سے بھرپور اچھا خاصا حلوہ۔۔ کچھ کھڑے ہو کر اور کچھ وہیں فٹ پاتھ پر سائیکل کے قریب بیٹھ کر کھایا۔ نہ پوچھیں اس کا جو سواد تھا۔ ہلکا سا نمکین نان اور میٹھا گھی سے ترتراتا حلوہ۔ چیز ونڈی دی کھانے کا اپنا ہی مزہ ہے۔ کبھی ٹرائی کیجیے گا۔ :razz:
بہت سی دوسری روایات کی طرح ہماری یہ روایت بھی مہنگائی، معاشی اور معاشرتی ناہمواری اور بڑے بڑے شہروں کی بے حسی کی نظر ہوتی جارہی ہے۔
کڑیو: اردو لڑکیو
والو: بال (بال بچے والا بال) کی بگڑی ہوئی شکل بالو یعنی بچو
چیز: اردو چیز
ونڈی: اردو بانٹنا سے بانٹی جانے والی، بٹنے والی
دی: اردو کی
کولی: اردو نہیں یاد آرہی :oops:
کُجی اور ٹھوٹھی: اول الذکر ننھی سی ہانڈی اور موخر الذکر ننھی سی پرات جیسی چیز جسے کنالی بھی کہتے ہیں مٹی کے برتن ہوتے ہیں یہ۔ کُجی میں لسی وغیرہ اور ٹھُوٹی میں چاول یا کھیر ہوا کرتی تھی۔ اب بھی ہوتی ہے لیکن کم کم۔
جمعرات، 30 اکتوبر، 2008
جرم
سہ پہر کا وقت تھا، ٹیوشن پڑھا کر اوپر آیا تو نظر بجلی کے بل پر پڑ گئی۔ اٹھایا رقم پڑھی اور رکھ دیا۔ والدہ کہنے لگیں آج پکانے کے لیے کچھ نہیں دال لے آؤ۔
"حنیف سے لے آؤں"
"نہیں وہ کم دیتا ہے شیخوں سے دونوں مکس لے آؤ بیس کی"
اور میں شیخوں کی دوکان سے دال لینے چلا گیا۔ وہاں کچھ اور گاہک موجود تھے۔ ایک لڑکا جس نے کوئی سودا لیا اور چلا گیا۔ ایک بچی جو چھٹی ساتویں کی طالبہ لگتی تھی اپنی ننھی سی بہن کے ساتھ وہاں تھی۔
"وہ ناں ہمیں آج سودا دے دیں"
"پیسے"
"آپ کو پتا ہے ابو بیمار ہیں آپ ادھار دے دیں مہینے کے مہینے پیسے مل جاتے ہیں آپ کو پہلے بھی"
"لیکن اب دو ماہ سے پیسے نہیں ملے"
"اصل میں بھائیوں کی ابھی تنخواہ نہیں ملی"
"تمہارا بھائی تو اس دن میں موٹر سائیکل پر ملا تھا اور کہہ رہا تھا کہ کھاتے سے میرے ابے کا تعلق ہے میرا نہیں"
شیخ جی کے چہرے پر تمسخرانہ سے مسکراہٹ تھی، اور بچی کے چہرے پر لجاجت۔۔ اس دوران شیخ جی نے میرے ہاتھ سے پچاس روپے پکڑ لیے۔
"کیا لینا ہے"
"بیس کی مونگ مسور ملا کر دے دیں"
میں نے کہا اور انتظار کرنے لگا۔ اس بچی کے الفاظ میرے دماغ پر ہتھوڑوں کی طرح بجنے لگے۔
"آج کا سودا ادھار دے دیں پیسے مہینے کے آخر میں دے دیں گے"
"آج کا سودا ادھار دے دیں پیسے مہینے کے آخر میں دے دیں گے"
میں نے شیخ جی سے سودا پکڑا اور بقایا تیس روپے بھی پکڑے۔ ایک بار سوچا کہ یہ پیسے اس بچی کو دے دوں تاکہ ان کا چولہا جل جائے۔ پھر میرے سامنے میرے گھر کے خرچے آگئے۔ فلاں چیز لانی ہے، فلاں چیز لانی ہے۔ بجلی کا بل 5 روپے 65 پیسے فی یونٹ کے حساب سے 333 کا 2400 روپے دینا ہے۔ میں نے اس بچی پر ترحم آمیز نگاہ ڈالی اور سرجھکا کر چلا آیا۔
شاید میری مجبوری تھی، یا زمانے کی بے رحمی تھی، لیکن میں اپنی نظروں میں گر گیا۔ میرے اندر اتنا دکھ بھر گیا کہ اگر میں اسے ان الفاظ کی صورت میں نہ ڈھالتا تو جانے کیا ہوجاتا۔
اتوار، 17 اگست، 2008
14 اگست
سیٹیوں کی عجیب و غریب بین کرتی ہوئی کریہہ آوازیں، جیسے بچہ رو رہا ہو۔
موٹر سائیکلوں کے سائلنسر سے نکلنے والا ناقابل برداشت اور نفرت انگیز شور، جو کان میں پڑتے ہی غصے کی لہر پیدا کررہا تھا۔
اور پٹاخے، چھوٹے بڑے اور درمیانے چلتے ہوئے پٹاخے، جو مرے پر سو درے کی طرح چاروں طرف سے یکساں آواز میں نازل ہورہے تھے۔
سونے پر سہاگہ اس کا دوست، جس نے اسے دیکھ کر آواز دے لی۔
"ہاں بھئی شہزادے کیا تیاری کی ہے جشن آزادی کی"۔ حسب توقع چھوٹتے ہی اس نے سوال کیا۔
جواب میں وہ کچھ لمحے بے تاثر انداز میں اسے دیکھتا رہا پھر بولا "تُو بتا تیرے پاس کیا تیاری ہے"۔
اور جواب میں اس کے دوست نے جیب سے ایک سیٹی نکال کر بجائی۔ بین کرنے کی کریہہ آواز اطراف میں پھیلتی چلی گئی۔
"اس بار یہ سیٹیاں چل رہی ہیں جشن آزادی پر شہزادے اس لیے میں نے بھی لے لی ہے۔ ورنہ تو ہمارا اصل آئٹم تو موٹر سائیکل والا ہوتا ہے۔ اس بار بھی سائیلنسر نکلوا لیا ہے۔ پٹاخے موجود ہیں۔"
"بس؟"
"ہاں اس بار جھنڈے والی شرٹ بھی سلوا لی ہے۔ شام کوکمپنی باغ چلیں گے پہن کر۔ ذرا موج میلا ہوجائے گا۔" اس کے دوست نے معنی خیز انداز میں آنکھ ماری اور بھونڈے انداز میں ہنسنے لگا۔
"مجھ سے پوچھے جارہا ہے، اپنی بتا تُو تو کئی دن سے پروگرام بنا رہا تھا"۔
"کچھ نہیں یار بس ساری تیاری ختم ہوگئی"۔
"کیوں؟ خیر تو ہے؟"
"بس یار آج ابے نے پٹاخے دیکھ لیے۔ اس نے میرے پٹاخے چلا دئیے"۔
"اوہو افسوس ہوا سن کر۔ میرا ابا کچھ نہیں کہتا۔ جو مرضی کرو۔ وہ تو کہتا ہے یہی دن انجوائے کرنے کے ہوتے ہیں۔ بچوں کو تنگ نہیں کرنا چاہیے۔ "
"بس یار میرا ابا عجیب قسم کا اباہے۔ کبھی تو لگتا ہے میرا ابا ہے ہی نہیں۔ کہتا ہے اگر جشن آزادی منانی ہے تو پڑھو۔ پڑھ کر ملک کی خدمت کرو۔ اور اچھے اچھے کام کرو۔ اس کے خیال میں یہ سارے کام اچھے کام نہیں"۔ آخری جملے پر اس کا لہجہ کٹیلا ہوگیا۔
"چل شہزادے تو فکر نہ کر۔ پٹاخے بھی مل جائیں گے۔ اور موٹر سائیکل تو اپنی ہے ہی تو بھی ساتھ آجا۔ کمپنی باغ چلتے ہیں۔ آنکھیں ٹھنڈی کرنے کئی سجن بیلی ہونگے وہاں ۔" اس کے دوست نے اس کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔ اور وہ بھی ابے کے چھتر بھول کر مسکرا دیا۔ پھر دونوں 14 اگست "منانے" کی تیاری کرنے لگے۔ ایک بار پھر بین کرنے جیسی سیٹی کی آواز ابھرنے لگی۔ جیسے وطن اپنی حالت پر بین کررہا ہو۔
ہفتہ، 12 مئی، 2007
آخر کب تک جنرل صاحب؟؟؟
کراچی میں گھروں سے جنازے اٹھ رہے تھے اور ان کی "عوامی" ریلی میں بھنگڑے ڈالے جارہے تھے ، ڈھول تاشے بج رہے تھے۔
آخر کب تک؟؟ کب تک جنرل صاحب ان کرائے کے ڈھول تاشوں اور کرائے کی عوامی طاقت کے بل بوتے پر جلسے بنا کر ان سے خطاب کرلیں گے۔
کبھی تو ظلم کی سیاہ رات چھٹے گی نا۔ کبھی تو آمریت ختم ہوگی۔ کبھی تو مفاد پرستوں کو سر عام ذلیل خوار کرکے اس دھرتی کو ان سے پاک کردیا جائے گا۔
اور یہ کبھی دور نہیں ۔۔۔۔وہ دن دور نہیں۔۔۔۔قافلے چل پڑے ہیں۔۔۔۔منزل نظر آرہی ہے۔۔انشاءاللہ صبح بہت قریب ہے۔ یااللہ ہمیں توفیق عطاء فرما ہم ظلم کے خلاف جہاد کرسکیں۔ آمین۔
جمعرات، 12 جنوری، 2006
غم
کیوں اجڑے اجڑے رہتے ہو
کیوں بکھرے بکھرے رہتے ہو
دل کا یہ غم
کسی سے کیوں نہیں کہتے ہو
تب وہ دھیرے سے بولا
کیا کیا سنو گے
کیا کیا سناؤں
چلتے چلتے یونہی اک دن
اک شخص ملا تھا
روٹھا روٹھا رویا رویا
اس دنیا سے
زندگی سے اسے گِلا تھا
اسے صرف غم ملا تھا
کانچ سا وہ شخص
اسے ٹکڑاٹکڑا میں نے جوڑا
زندگی سے اس کا ناتہ جوڑا
اسے پھر سے جینا سکھایا
پھر جانے کیسے یہ سب ہوا
پھولوں سا وہ شخص
آنکھوں میں اتر گیا
دل میں گھر کر گیا
پھر چپکے چپکے دھیرے دھیرے
سیپ کی طرح غم کے موتی اگل کر
وہ بندہوتا گیا
مجھ سے دور ہوتا گیا
دکھ میں بگھوتا گیا
میری محبت، میرا پیار سب بھول گیا
جیسے اجنبی ہوگیا
اور
پھراک دن چپکے سے میرے آشیاںسےاڑگیا
اتنا کہہ کر وہ مجھ سے بولا
شاکر یہ غم بھی عجب ہوتا ہے ناں
نفس کو نفس کا محتاج کردیتا ہے
اک دوجے کا گدا کر دیتاہے
اس کا ستم بھی عجب ہوتا ہے
جاتے جاتے بھی باز نہیں آتا
بے وفا کر دیتا ہے
سنومری اک بات مانو
کبھیکسیکےغمخواربنوتو
اتنے قریب نہ جانا
کہ اسکے غم سے دامن جلا بیٹھو
کوئی روگ لگا بیٹھو
اس کے غم کا سمندر پاٹتےپاٹتے
اپنی متاع لُٹا بیٹھو