گھر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
گھر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 12 اگست، 2011

بارشیں

کہتے ہیں جی کہ بھرے پیٹ والوں کو عجیب عجیب باتیں سوجھتی ہیں۔ نئے نئے کپڑے، کاریں، شوق اور انجوائے منٹ۔ ایسی ہی انجوائے منٹ بارش بھی ہے۔ لوگ بڑا انجوائے کرتے ہیں کہ بارش ہورہی ہے، پکوان بنتے ہیں، پارٹیاں ہوتی ہیں، موج مستی ہلا گُلا ہوتا ہے۔ آج سے چند سال پہلے تک میری کیفیت بڑی عجیب سی ہوا کرتی تھی بارش ہونے پر۔ دل کرتا تھا کہ بارش ہوجائے، خوب ہوا چلے اور خوب بارش ہو تاکہ موسم ٹھنڈا ہوجائے اور پوڑے پکیں (میٹھے آٹے کی روٹیاں)۔ لیکن پھر مجھے ابو جی کا خیال آتا تو دل چور ہوجایا کرتا۔ ابوجی ناشتے کی ریڑھی لگایا کرتے تھے ان دنوں۔ اس کا طریقہ کار بہت سادہ سا تھا۔ ہم گھر سے سالن اور روٹیاں پکا کر انھیں باندھ دیتے تھے، اس کے بعد وہ سائیکل پر یہ سب کچھ (پیچھے بندھے ایک اسٹینڈ میں رکھ کر) اپنے اڈے پر پہنچایا کرتے تھے۔ میرا کام یہ ہوتا کہ ان سے پہلے وہاں جا کر اڈہ سیٹ کروں۔ اور جس دن موسم خراب ہوتا، ہمیں بہت دشواری ہوتی۔ تیز ہوا چل رہی ہوتی تو چھتری لگانا دشوار ہوجاتا، بار بار اُڑنے لگتی، باندھنی پڑتی اور کبھی بہت تیز ہوا آجاتی تو اس کا ایک آدھ بانس ٹوٹ جایا کرتا یا کپڑا پھٹ جایا کرتا۔ ایسے ہی تیز ہوا کے بگولے کبھی وہاں پڑا سامان چھابیاں، پتیلوں کے ڈھکن بھی اڑا لے جایا کرتے۔ بارش ہوتی تو حالت اور بری ہوجایا کرتی۔ شروع شروع میں صرف چھتری ہوتی تھی اور پلاسٹک کی شیٹ نہیں لی تھی۔ ابو بارش میں بھیگ جایا کرتے تھے اور سارا سامان بھی بھیگ جاتا۔ پھر پلاسٹک کی شیٹ لے لی اور بارش سے پہلے وہ چھتری کے اوپر ڈال کر باندھ دی جاتی۔ لیکن پھر بھی بارش یا چمب (بارش کے سائیڈ سے پڑنے والے چھینٹے) راستہ بنا ہی لیتے۔ میں ادھر ہوتا تو گھر بھاگنے کی کرتا کہ بارش میں بھیگ نہ جاؤں، گھر ہوتا تو خیال آتا کہ ابو کیسے گزارہ کررہے ہونگے۔ میرا دل آج بھی اسی انداز میں بٹا سا رہتا ہے۔ بارش ہو تو مجھے اچھی بھی لگتی ہے، اور اپنی چھتری کا ٹپکنا بھی یاد آجاتا ہے۔ آج بھی جب میں بارش ہونے کی دعا کرتا ہوں، تو نہ جانے کتنے لوگ بارش نہ ہونے کی دعا کرتے ہیں۔ میں جسے انجوائے منٹ سمجھتا ہوں وہ جانے کس کس کے سر کی چھت چھین لینے والی چیز ہے، کسی کی چھت ٹپک رہی ہو، کسی ریڑھی والے کا کاروبار بارش کی وجہ سے ٹھپ ہورہا ہو، کسی کے مکان کی چھت ہی بیٹھ جائے، کسی کا مال و متاع بارش سے آنے والا سیلاب بہا لے جائے، اس کے محسوسات کا تھوڑا سا آئیڈیا ہے مجھے۔ میری زندگی کا ایک خاصا عرصہ اسی طرح گزرا ہے جب میرا گھر بھی بارش نہ ہونے کی دعا کیا کرتا تھا، کہ بارش ہوتی تھی تو کام بند ہوتا تھا، لیٹ ہوجاتا تھا، سامان بچ کر گھر آتا تھا، اس دن دیہاڑی نہیں بنتی تھی اور امی جی کے چہرے پر جھنجھلاہٹ ہوتی تھی، ان کے چہرے کی جھریاں کچھ اور نمایاں ہوجایا کرتی تھیں خرچوں کا سوچ کر، ہماری فیسوں، کھانے اور بجلی فون گیس کے بلوں کا سوچ کر، اور اس بچے ہوئے کھانے کو ٹھکانے لگانے کا سوچ کر جو ہم نے اصل میں کھانا ہی ہوتا تھا۔ اس دن گھر میں ہانڈی نہیں پکا کرتی تھی۔
باقی پھر سہی۔ میں نے یہ سب اس لیے لکھا کہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔ کل کو اگر میں ڈاکٹر ہوجاؤں، پی ایچ ڈی ہولڈر ہوجاؤں تو میرے لکھے ہوئے الفاظ ہی مجھے میری اصل کا پتا دیں، میں کہیں بھول نہ جاؤں کہ میرے ماں باپ نے مجھے کیسے پالا تھا، میرا بچپن کیسے گزرا تھا اور مجھ پر رب کریم کے کتنے احسانات ہیں۔
یا اللہ تیرا شکر ہے، تیری رحمت، تیرا کرم میں تیری رحمت کا محتاج تیرے کرم کا امیدوار۔ میرا ہر سانس، میرا ہر بال تیری رحمت تیرے کرم کا منتظر۔ میرا ہونا ہی تیری مجھ پر رحمت کی نشانی ہے مولا، ورنہ میری کیا اوقات میرے مالک۔
یا اللہ تیرا شکر ہے

پیر، 9 مارچ، 2009

چیز ونڈی دی

کڑیو والو چیز ونڈی دی لئی ی ی ی ی ی جاؤ
یہ آواز کانوں میں پڑتے ہی گھر سے ہاتھ میں کوئی پلیٹ یا کولی لے کر نکل پڑتے اور آواز کے مخرج کا پتا لگا کر گائیڈڈ میزائل کی طرح وہاں جاکر گرتے۔ یہ بچپن کے دن تھے۔ فکر نہ فاقہ۔ کونڈوں کے ختم پر حلوہ پوری کے بٹنے کا انتظار رہتا۔ محرم پر میٹھے پانی اور کُجی ٹھوٹھیوں میں کھیر اور چاولوں کے بٹنے کا انتظار رہتا۔ ساتھ میٹھی یا نمکین لسی ہوا کرتی۔ محلے دار کبھی پیسے، کبھی ٹافیاں کبھی پھُلیاں بانٹتے تو بھی سب سے آگے ہوا کرتے۔
پھر عمر نے کچھ آگے قدم بڑھایا اور ہاتھ میں کولی پکڑ کر باہر جانے سے جھجک ہونے لگی۔ لوگ کیا کہیں گے۔ تو چھوٹوں سے کہا جاتا باجی سے کہنا میرے بھائی کا حصہ بھی دے۔ یا ایسے ہی ان سے دو چار نوالے لے لینا۔
آہ کتنے اچھے دن تھے۔ آج وہ دن پھر سے یاد آگئے۔ آج سماجی لسانیات کا پرچہ تھا۔ وہ دے کر اگلے پرچے کی تیاری کرتے رہے۔ شام پانچ بجے وہاں سے جان چھوٹی۔ کل شام سے پیٹ میں گڑ بڑ تھی اس لیے دودھ اور ایک کپ چائے کے ناشتے کے کچھ بھی نہیں کھایا تھا۔ دوپہر میں بھی کچھ نہیں کھایا تھا۔ واپسی پر ہمیں ایک جگہ چیز ونڈی دی نظر آگئی۔ ہاتھ میں موبائل تھا ایک کلاس فیلو کو سلیبس کے بارے میں میسج کا جواب دیا جارہا تھا، دیکھا پھر سوچا چھڈ یار لیکن پھر آگے جاکر سائیکل روک لی۔ کہ چھڈ یار چیز ونڈی دی لے ہی لے۔ سائیکل کو تالا لگایا، بیگ کندھے پر لٹکایا اور لائن میں لگ گئے۔ جتنی دیر میں میسج مکمل کرکے بھیجا ہماری باری آگئی۔ تازہ سا نان اور اس پر گھی سے بھرپور اچھا خاصا حلوہ۔۔ کچھ کھڑے ہو کر اور کچھ وہیں فٹ پاتھ پر سائیکل کے قریب بیٹھ کر کھایا۔ نہ پوچھیں اس کا جو سواد تھا۔ ہلکا سا نمکین نان اور میٹھا گھی سے ترتراتا حلوہ۔ چیز ونڈی دی کھانے کا اپنا ہی مزہ ہے۔ کبھی ٹرائی کیجیے گا۔ :razz:
بہت سی دوسری روایات کی طرح ہماری یہ روایت بھی مہنگائی، معاشی اور معاشرتی ناہمواری اور بڑے بڑے شہروں کی بے حسی کی نظر ہوتی جارہی ہے۔
کڑیو: اردو لڑکیو
والو: بال (بال بچے والا بال) کی بگڑی ہوئی شکل بالو یعنی بچو
چیز: اردو چیز
ونڈی: اردو بانٹنا سے بانٹی جانے والی، بٹنے والی
دی: اردو کی
کولی: اردو نہیں یاد آرہی :oops:
کُجی اور ٹھوٹھی: اول الذکر ننھی سی ہانڈی اور موخر الذکر ننھی سی پرات جیسی چیز جسے کنالی بھی کہتے ہیں مٹی کے برتن ہوتے ہیں یہ۔ کُجی میں لسی وغیرہ اور ٹھُوٹی میں چاول یا کھیر ہوا کرتی تھی۔ اب بھی ہوتی ہے لیکن کم کم۔

جمعرات، 30 اکتوبر، 2008

جرم

سہ پہر کا وقت تھا، ٹیوشن پڑھا کر اوپر آیا تو نظر بجلی کے بل پر پڑ گئی۔ اٹھایا رقم پڑھی اور رکھ دیا۔ والدہ کہنے لگیں آج پکانے کے لیے کچھ نہیں دال لے آؤ۔


"حنیف سے لے آؤں"


"نہیں وہ کم دیتا ہے شیخوں سے دونوں مکس لے آؤ بیس کی"


اور میں شیخوں کی دوکان سے دال لینے چلا گیا۔ وہاں کچھ اور گاہک موجود تھے۔ ایک لڑکا جس نے کوئی سودا لیا اور چلا گیا۔ ایک بچی جو چھٹی ساتویں کی طالبہ لگتی تھی اپنی ننھی سی بہن کے ساتھ وہاں تھی۔


"وہ ناں ہمیں آج سودا دے دیں"


"پیسے"


"آپ کو پتا ہے ابو بیمار ہیں آپ ادھار دے دیں مہینے کے مہینے پیسے مل جاتے ہیں آپ کو پہلے بھی"


"لیکن اب دو ماہ سے پیسے نہیں ملے"


"اصل میں بھائیوں کی ابھی  تنخواہ نہیں ملی"


"تمہارا بھائی تو اس دن میں موٹر سائیکل پر ملا تھا اور کہہ رہا تھا کہ کھاتے سے میرے ابے کا تعلق ہے میرا نہیں"


شیخ جی کے چہرے پر تمسخرانہ سے مسکراہٹ تھی، اور بچی کے چہرے پر لجاجت۔۔ اس دوران شیخ جی نے میرے ہاتھ سے پچاس روپے پکڑ لیے۔


"کیا لینا ہے"


"بیس کی مونگ مسور ملا کر دے دیں"


میں نے کہا اور انتظار کرنے لگا۔ اس بچی کے الفاظ میرے دماغ پر ہتھوڑوں کی طرح بجنے لگے۔


"آج کا سودا ادھار دے دیں پیسے مہینے کے آخر میں دے دیں گے"


"آج کا سودا ادھار دے دیں پیسے مہینے کے آخر میں دے دیں گے"


میں نے شیخ جی سے سودا پکڑا اور بقایا تیس روپے بھی پکڑے۔ ایک بار سوچا کہ یہ پیسے اس بچی کو دے دوں تاکہ ان کا چولہا جل جائے۔ پھر میرے سامنے میرے گھر کے خرچے آگئے۔ فلاں چیز لانی ہے، فلاں چیز لانی ہے۔ بجلی کا بل 5 روپے 65 پیسے فی یونٹ کے حساب سے 333 کا 2400 روپے دینا ہے۔ میں نے اس بچی پر ترحم آمیز نگاہ ڈالی اور سرجھکا کر چلا آیا۔


شاید میری مجبوری تھی، یا زمانے کی بے رحمی تھی، لیکن میں اپنی نظروں میں گر گیا۔ میرے اندر اتنا دکھ بھر گیا کہ اگر میں اسے ان الفاظ کی صورت میں نہ ڈھالتا تو جانے کیا ہوجاتا۔


اتوار، 17 اگست، 2008

14 اگست

گھر سے باہر نکلتے ہی آوازیں مزید واضح ہوگئی تھیں۔
سیٹیوں کی عجیب و غریب بین کرتی ہوئی کریہہ آوازیں، جیسے بچہ رو رہا ہو۔
موٹر سائیکلوں کے سائلنسر سے نکلنے والا ناقابل برداشت اور نفرت انگیز شور، جو کان میں پڑتے ہی غصے کی لہر پیدا کررہا تھا۔
اور پٹاخے، چھوٹے بڑے اور درمیانے چلتے ہوئے پٹاخے، جو مرے پر سو درے کی طرح چاروں طرف سے یکساں آواز میں نازل ہورہے تھے۔
سونے پر سہاگہ اس کا دوست، جس نے اسے دیکھ کر آواز دے لی۔
"ہاں بھئی شہزادے کیا تیاری کی ہے جشن آزادی کی"۔  حسب توقع چھوٹتے ہی اس نے سوال کیا۔
جواب میں وہ کچھ لمحے بے تاثر انداز میں اسے دیکھتا رہا پھر بولا "تُو بتا تیرے پاس کیا تیاری ہے"۔
اور جواب میں اس کے دوست نے جیب سے ایک سیٹی نکال کر بجائی۔ بین کرنے کی کریہہ آواز اطراف میں پھیلتی چلی گئی۔
"اس بار یہ سیٹیاں چل رہی ہیں جشن آزادی پر شہزادے اس لیے میں نے بھی لے لی ہے۔ ورنہ تو ہمارا اصل آئٹم تو موٹر سائیکل والا ہوتا ہے۔ اس بار بھی سائیلنسر نکلوا لیا ہے۔ پٹاخے موجود ہیں۔"
"بس؟"
"ہاں اس بار جھنڈے والی شرٹ بھی سلوا لی ہے۔ شام کوکمپنی باغ چلیں گے پہن کر۔ ذرا موج میلا ہوجائے گا۔" اس کے دوست نے معنی خیز انداز میں آنکھ ماری اور بھونڈے انداز میں ہنسنے لگا۔
"مجھ سے پوچھے جارہا ہے، اپنی بتا تُو تو کئی دن سے پروگرام بنا رہا تھا"۔
"کچھ نہیں یار بس ساری تیاری ختم ہوگئی"۔
"کیوں؟ خیر تو ہے؟"
"بس یار آج ابے نے پٹاخے دیکھ لیے۔ اس نے میرے پٹاخے چلا دئیے"۔
"اوہو افسوس ہوا سن کر۔ میرا ابا کچھ نہیں کہتا۔ جو مرضی کرو۔ وہ تو کہتا ہے یہی دن انجوائے کرنے کے ہوتے ہیں۔ بچوں کو تنگ نہیں کرنا چاہیے۔ "
"بس یار میرا ابا عجیب قسم کا اباہے۔ کبھی تو لگتا ہے میرا ابا ہے ہی نہیں۔ کہتا ہے اگر جشن آزادی منانی ہے تو پڑھو۔ پڑھ کر ملک کی خدمت کرو۔ اور اچھے اچھے کام کرو۔ اس کے خیال میں یہ سارے کام اچھے کام نہیں"۔ آخری جملے پر اس کا لہجہ کٹیلا ہوگیا۔
"چل شہزادے تو فکر نہ کر۔ پٹاخے بھی مل جائیں گے۔ اور موٹر سائیکل تو اپنی ہے ہی تو بھی ساتھ آجا۔  کمپنی باغ  چلتے ہیں۔ آنکھیں ٹھنڈی کرنے کئی سجن بیلی ہونگے وہاں ۔" اس کے دوست نے اس کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔ اور وہ بھی ابے کے چھتر بھول کر مسکرا دیا۔ پھر دونوں 14 اگست  "منانے" کی تیاری کرنے لگے۔ ایک بار پھر بین کرنے جیسی سیٹی کی آواز ابھرنے لگی۔ جیسے وطن اپنی حالت پر بین کررہا ہو۔

ہفتہ، 12 مئی، 2007

آخر کب تک جنرل صاحب؟؟؟

جنزل صاحب بڑے بے خبر صدر ہیں۔ فرماتے ہیں یہ عوامی طاقت ہے۔ میں ایک تیسرے درجے کا شہری یہ بات جانتا ہوں کہ انھیں تین سو روپے فی بندے کے عوض پورے پنجاب سے اکٹھا کیا گیا ہے جنھیں یہ "عوامی" طاقت بتا رہے ہیں۔ انھیں اصل میں عوامی نہیں خزانوی طاقت کہنا چاہیے تھا۔ آخر خزانے میں بارہ ارب ڈالر ہوگئے ہیں کہیں تو خرچ ہونے تھے۔ اور اپنی حکومت کے لیے خرچ کرنا تو عین کار ثواب اور راہ نجات ہے۔
کراچی میں گھروں سے جنازے اٹھ رہے تھے اور ان کی "عوامی" ریلی میں بھنگڑے ڈالے جارہے تھے ، ڈھول تاشے بج رہے تھے۔
آخر کب تک؟؟ کب تک جنرل صاحب ان کرائے کے ڈھول تاشوں اور کرائے کی عوامی طاقت کے بل بوتے پر جلسے بنا کر ان سے خطاب کرلیں گے۔
کبھی تو ظلم کی سیاہ رات چھٹے گی نا۔ کبھی تو آمریت ختم ہوگی۔ کبھی تو مفاد پرستوں کو سر عام ذلیل خوار کرکے اس دھرتی کو ان سے پاک کردیا جائے گا۔
اور یہ کبھی دور نہیں ۔۔۔۔وہ دن دور نہیں۔۔۔۔قافلے چل پڑے ہیں۔۔۔۔منزل نظر آرہی ہے۔۔انشاءاللہ صبح بہت قریب ہے۔ یااللہ ہمیں توفیق عطاء فرما ہم ظلم کے خلاف جہاد کرسکیں۔ آمین۔

جمعرات، 12 جنوری، 2006

غم

اک دن میں نے اس سے پوچھا
کیوں اجڑے اجڑے رہتے ہو
کیوں بکھرے بکھرے رہتے ہو
دل کا یہ غم
کسی سے کیوں نہیں کہتے ہو
تب وہ دھیرے سے بولا
کیا کیا سنو گے
کیا کیا سناؤں
چلتے چلتے یونہی اک دن
اک شخص ملا تھا
روٹھا روٹھا رویا رویا
اس دنیا سے
زندگی سے اسے گِلا تھا
اسے صرف غم ملا تھا
کانچ سا وہ شخص
اسے ٹکڑاٹکڑا میں نے جوڑا
زندگی سے اس کا ناتہ جوڑا
اسے پھر سے جینا سکھایا
پھر جانے کیسے یہ سب ہوا
پھولوں سا وہ شخص
آنکھوں میں اتر گیا
دل میں گھر کر گیا
پھر چپکے چپکے دھیرے دھیرے
سیپ کی طرح غم کے موتی اگل کر
وہ بندہوتا گیا
مجھ سے دور ہوتا گیا
دکھ میں بگھوتا گیا
میری محبت، میرا پیار سب بھول گیا
جیسے اجنبی ہوگیا
اور
پھراک دن چپکے سے میرے آشیاںسےاڑگیا
اتنا کہہ کر وہ مجھ سے بولا
شاکر یہ غم بھی عجب ہوتا ہے ناں
نفس کو نفس کا محتاج کردیتا ہے
اک دوجے کا گدا کر دیتاہے
اس کا ستم بھی عجب ہوتا ہے
جاتے جاتے بھی باز نہیں آتا
بے وفا کر دیتا ہے
سنومری اک بات مانو
کبھیکسیکےغمخواربنوتو
اتنے قریب نہ جانا
کہ اسکے غم سے دامن جلا بیٹھو
کوئی روگ لگا بیٹھو
اس کے غم کا سمندر پاٹتےپاٹتے
اپنی متاع لُٹا بیٹھو