گھی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
گھی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 27 اگست، 2009

اوقات پر واپسی

مشرف دور کے آخری دن تھے اور پوری قوم آٹے، چینی، گھی کے لیے ترس رہی تھی۔ ایسی صورت میں جن لوگوں کی چاندی ہوئی ان میں یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن آف پاکستان بھی شامل ہے۔ اس ادارے نے سستی اشیاء کی فراہمی کی آڑ میں عوام کو گھی کے ساتھ ڈیٹول، چینی کے ساتھ ٹوتھ پیسٹ اور آٹے کے ساتھ قورمہ مصالحہ تک بیچ دئیے(۔ثبوت کے لیے آخری تصویر ملاحظہ ہو) یہی پچھلے سال کی بات ہے۔ مارچ 2008 کی کچھ تصاویر جن میں فیصل آباد کے ایک یوٹیلٹی سٹور پر گھی کے لیے لگی ہوئی قطاریں اور رش۔ یہ اس یاد دھانی کے لیے کہ یہ چینی اور آٹے کا بحران ہمارے لیے نیا نہیں۔
From آوازِ دوست
From آوازِ دوست
From آوازِ دوست
From آوازِ دوست
From آوازِ دوست
From آوازِ دوست
From آوازِ دوست
From آوازِ دوست
From آوازِ دوست
From آوازِ دوست
ہماری یادداشت بہت کمزور ہے۔ خاص طور پر حکمرانوں کو تو ہم ان کے جانے کے فورًا بعد ہی معاف کردیتے ہیں۔ کچھ محفلوں میں یہ سننے کو ملا کہ اس سے اچھا تو مشرف کا دور تھا۔ بس آخری دور میں اس کے خلاف سازشیں ہوئیں یہ مہنگائی بھی اسی کا نتیجہ تھی۔ اور یہ کہ اب پھر سے مشرف آوے ای آوے۔ یہ پوسٹ اور تصاویر اپنے آپ کو بھی اور اپنی قوم کو بھی یاد دہانی کرانے کے لیے کہ حالات اس وقت بھی ایسے ہی تھے جیسے اب ہیں۔ تھوڑے سے بدتر کرلیجیے۔ عوامی حکومت نے بھی کچھ نہیں دیا سوائے طفل تسلیوں کے۔ ہاں بجلی مل جائے گی لیکن دعا کیجیے اس بجلی کو استعمال کرکے بل دینے کے قابل بھی رہ جائیں آپ۔ یہ کرائے کے پاور پلانٹ ایک طرف حاکموں کے کمیشن کا ذریعہ ہونگے دوسرے پی پی پی نے نوے کی دھائی والا سین دوہرایا ہے یہاں۔ آئی پی پیز کی طرح یہ بھی گلے کی ہڈی بن جائیں گے نہ نگلی جائے گی نہ اگلی جائے گی۔ مہنگی ترین بجلی خریدنے کے معاہدے کرکے یہ تو رخصت ہوجائیں گے ہمارا ککھ نہیں رہے گا۔ اللہ ہم پر رحم کرے۔

پیر، 9 مارچ، 2009

چیز ونڈی دی

کڑیو والو چیز ونڈی دی لئی ی ی ی ی ی جاؤ
یہ آواز کانوں میں پڑتے ہی گھر سے ہاتھ میں کوئی پلیٹ یا کولی لے کر نکل پڑتے اور آواز کے مخرج کا پتا لگا کر گائیڈڈ میزائل کی طرح وہاں جاکر گرتے۔ یہ بچپن کے دن تھے۔ فکر نہ فاقہ۔ کونڈوں کے ختم پر حلوہ پوری کے بٹنے کا انتظار رہتا۔ محرم پر میٹھے پانی اور کُجی ٹھوٹھیوں میں کھیر اور چاولوں کے بٹنے کا انتظار رہتا۔ ساتھ میٹھی یا نمکین لسی ہوا کرتی۔ محلے دار کبھی پیسے، کبھی ٹافیاں کبھی پھُلیاں بانٹتے تو بھی سب سے آگے ہوا کرتے۔
پھر عمر نے کچھ آگے قدم بڑھایا اور ہاتھ میں کولی پکڑ کر باہر جانے سے جھجک ہونے لگی۔ لوگ کیا کہیں گے۔ تو چھوٹوں سے کہا جاتا باجی سے کہنا میرے بھائی کا حصہ بھی دے۔ یا ایسے ہی ان سے دو چار نوالے لے لینا۔
آہ کتنے اچھے دن تھے۔ آج وہ دن پھر سے یاد آگئے۔ آج سماجی لسانیات کا پرچہ تھا۔ وہ دے کر اگلے پرچے کی تیاری کرتے رہے۔ شام پانچ بجے وہاں سے جان چھوٹی۔ کل شام سے پیٹ میں گڑ بڑ تھی اس لیے دودھ اور ایک کپ چائے کے ناشتے کے کچھ بھی نہیں کھایا تھا۔ دوپہر میں بھی کچھ نہیں کھایا تھا۔ واپسی پر ہمیں ایک جگہ چیز ونڈی دی نظر آگئی۔ ہاتھ میں موبائل تھا ایک کلاس فیلو کو سلیبس کے بارے میں میسج کا جواب دیا جارہا تھا، دیکھا پھر سوچا چھڈ یار لیکن پھر آگے جاکر سائیکل روک لی۔ کہ چھڈ یار چیز ونڈی دی لے ہی لے۔ سائیکل کو تالا لگایا، بیگ کندھے پر لٹکایا اور لائن میں لگ گئے۔ جتنی دیر میں میسج مکمل کرکے بھیجا ہماری باری آگئی۔ تازہ سا نان اور اس پر گھی سے بھرپور اچھا خاصا حلوہ۔۔ کچھ کھڑے ہو کر اور کچھ وہیں فٹ پاتھ پر سائیکل کے قریب بیٹھ کر کھایا۔ نہ پوچھیں اس کا جو سواد تھا۔ ہلکا سا نمکین نان اور میٹھا گھی سے ترتراتا حلوہ۔ چیز ونڈی دی کھانے کا اپنا ہی مزہ ہے۔ کبھی ٹرائی کیجیے گا۔ :razz:
بہت سی دوسری روایات کی طرح ہماری یہ روایت بھی مہنگائی، معاشی اور معاشرتی ناہمواری اور بڑے بڑے شہروں کی بے حسی کی نظر ہوتی جارہی ہے۔
کڑیو: اردو لڑکیو
والو: بال (بال بچے والا بال) کی بگڑی ہوئی شکل بالو یعنی بچو
چیز: اردو چیز
ونڈی: اردو بانٹنا سے بانٹی جانے والی، بٹنے والی
دی: اردو کی
کولی: اردو نہیں یاد آرہی :oops:
کُجی اور ٹھوٹھی: اول الذکر ننھی سی ہانڈی اور موخر الذکر ننھی سی پرات جیسی چیز جسے کنالی بھی کہتے ہیں مٹی کے برتن ہوتے ہیں یہ۔ کُجی میں لسی وغیرہ اور ٹھُوٹی میں چاول یا کھیر ہوا کرتی تھی۔ اب بھی ہوتی ہے لیکن کم کم۔

منگل، 25 مارچ، 2008

امید

آٹھ سال پہلے، جب مجھے اتنا ہوش نہیں تھا مجھے یاد ہے دوسرے ہم وطنوں کی طرح میں نے بھی لڈیاں ڈالی تھیں۔ بس اب سب ٹھیک ہوجائے گا۔ نوازشریف کی ایسی تیسی اس نے یہ کردیا وہ کردیا۔ ایک عرصے تک میں مشرف کا فین رہا اور اسے بابا مشرف سمجھتا رہا۔ پھر فیشن بدلا اور مشرف کو برا کہنے کا دور آیا۔ میں بھی نئے فیشن کے ساتھ بدل گیا اور اب میں مشرف کو برا بھلا کہتا ہوں۔

نئی حکومت آگئی ہے اور ہر کسی کی طرح مجھے بھی اس حکومت سے ہزاروں توقعات وابستہ ہیں۔ بجلی سستی ہوجائے گی۔ آٹا ملا کرے گا۔ گیس بھی سستی ہوجائے گی۔ گھی کے ایک کلو کے لیے گھنٹوں خوار نہیں ہونا پڑے گا اور لوڈ شیڈنگ ختم ہوجائے گی نیز جج بحال ہوجائیں گے۔ سمجھ لیں ہر وہ کام جو "ہو" سکتا ہے مملکت خداداد میں اور ہم اس کے "ہونے" کے منتظر ہیں مجھے اس کے"ہونے" کی اس نئی حکومت سے امید ہے۔


لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ امید کتنی درست ہے۔ لگا تو ہم لیتے ہیں۔ جاوید چوہدری کے ایک کالم میں اس نے کچھ ایسی ہی بات کی کہ ہر نئے وزیراعظم کے آنے پر لوگ نئے سرے سے اس کی شان میں بھجن گانا شروع ہوجاتے ہیں لیکن جب وہ چلا جاتا ہے تو انداز کلام بدل جاتا ہے اور الفاظ الٹ ہوجاتے ہیں میں نے تو یہ کہا تھا لیکن اس نے سنی ہی نہیں ۔۔۔۔


امید لگانا درست ہے لیکن بے جا امیدیں لگانا اور پھر خون جلانا بے کار ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس وقت ملک کی معیشت کی جو حالت ہے اس میں ریٹ اوپر تو جاسکتے ہیں نیچے آنے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں۔ ہمیں ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی ک"ا اشارہ" مل چکا ہے۔ ہماری برآمدات اور درآمدات کا فرق ہر ماہ نئی بلندیاں دیکھتا ہے۔ توانائی کے بحران نے ہماری صنعت کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ لے دے کر ایک کراچی اسٹاک ایکسچینج ہے جو نئی حکومت کے آنے پر تیزی دکھا سکتی ہے لیکن کراچی سٹاک ایکسچینچ سے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے؟ ہاں خزانہ بھی بھرا ہوا ہے لیکن ان ڈالروں سے ہم اپنا مزار بھی نہیں بنوا سکتے یہ اسی طرح خزانے شریف میں سڑتے رہیں گے۔


چناچہ امید ذرا ہولی رکھیے۔ جج تو بحال ہوجائیں گے انشاءاللہ۔ لیکن نچلی سطح پر انصاف کا بول بالا شاید ہی ہوسکے۔ جانے کب تک مزید کچہریوں میں جھوٹے مقدمات میں برسوں ذلیل ہونا پڑے گا ابھی۔ گھی بھی دستیاب ہونا شروع ہوجائےگا لیکن یہ بھول جائیں کہ اس کی قیمت سو روپے سے کم ہوگی۔ بجلی کی قیمت میں اضافہ اور لوڈ شیڈنگ میں کمی کا ہونا بھی کوئی مستقبل قریب کی بات نہیں لگتی۔ اس میں "ترقی" ہی نظر آتی ہے۔


امید لگائیے لیکن ایسی نہیں کہ بعد میں خون جلانا پڑے۔ یہی حقیقت ہے کہ یہ حکومت اگر اتفاق سے ایماندار نکل بھی آئی تو اس جیسی کئی حکومتیں درکار ہونگی ہمیں ساٹھ سال کا گند دھونے کے لیے۔

پیر، 24 مارچ، 2008

الحمد اللہ

اللہ کریم کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں معزز ججوں کی رہائی دیکھنا نصیب کی۔ دعا ہے کہ اب انھیں بحال بھی اسی طرح کروادیا جائے۔۔۔

کاش ہماری اعلٰی عدلیہ کی طرح نچلی سطح پر موجود منصف بھی ٹھیک ہوجائیں۔ہمارا نظام انصاف بہت بگڑ چکا ہے اتنا کہ پھوڑے سے ناسور بن گیا ہے۔ مقدمے بازی کا مطلب ہے کہ آپ کے پاس جو کچھ ہے وہ عدالتی کارندوں کو جمع کروا دیں۔ ہمارے ایک عزیز ایک دو ناجائز مقدموں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ فرماتے ہیں ہر بار قریب کی تاریخ لینے کے لیے بھی رشوت مانگتے ہیں۔ پچھلی بار دوسرا فریق آیا ہی نہیں اور انھیں پھر تاریخ قریب کی ڈلوانے کے لیے رشوت دینا پڑی۔۔

اتنی مہنگائی اور کاروبار میں بے تحاشا مندی کے ساتھ ایسے خرچے ۔۔۔ غریب آدمی کیسے جی سکتا ہے۔۔ اب گیس والوں نے بھی فی یونٹ ساڑھے تین روپے اضافے کی درخواست اوگرا کو دے دی ہے۔ گیس کا بل جو کبھی ڈیڑھ سو سے زیادہ نہیں آیا کرتا تھا پچھلے چار پانچ سالوں میں تین گنا ہوچکا ہے۔ اور آگے جانے کتنا بڑھے گا۔

ملک میں افراط زر نے متوسط طبقے کے لیے حساس اعشاریوں کو خطرناک حدوں تک پہنچا دیا ہے۔ عام آدمی کی قوت خرید اس بری طرح متاثر ہوئی ہےکہ دوکاندار سارا دن بیٹھ کر مکھیاں مارا کرتے ہیں۔ لیکن کیا کریں کھانا تو ہے ڈیڑھ سو روپے کلو مرچ نہیں لے سکتے لیکن سو روپے کلو کے قریب ریٹ کی کوئی سبزی تو لینی ہی ہوگی جو پاپی پیٹ کی آگ بجھا سکے۔

پتا نہیں ترقی کہاں ہوئی ہے ہمیں تو کہیں نظر نہیں آتی۔ اتنی بھوک میں نے اپنی اس مختصر سی زندگی میں پہلی بار دیکھی ہے۔ گھی کے ایک پیکٹ کے لیے گھنٹوں کی خواری، کبھی آٹے کے ایک تھیلے کے لیے ذلالت مقصد صرف یہ کہ کچھ پیسے بچ جائیں۔ دل خون کے آنسو روتا ہے۔

عالمی سطح پر توانائی اور خوراک کے بحران نے اس صورت حال کو مہمیز کیا ہے۔ تیل تو جو مہنگا تھا سو مہنگا تھا ہی گھر کی توانائی بھی کم پڑتی جارہی ہے۔ بجلی اب صرف 20 گھنٹے کی رہ گئی ہے اور یہ پنجاب کے شہری علاقوں کی بات ہے کراچی اور دوسرے دیہی علاقوں میں یہ 20 گھنٹے بھی نہیں آتی۔ ملک کو پچھلے آٹھ سالوں میں ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر چلایا گیا ہے۔ ان آٹھ سالوں کا خمیازہ جانے ہمیں کتنے عشرے بھگتنا پڑے۔

ہمارے ملک میں ذرائع رلتے پھرتے ہیں لیکن کسی کو خیال نہیں۔ میں کئی بار یہ سوچ چکا ہوں اور اپنے دوستوں سے ذکر بھی کرچکا ہوں کہ ہمارے پاس اتنی دھوپ ہوتی ہے کہ کئی کالاباغ ڈیم بھی اتنی بجلی پیدا نہیں کرسکتے۔ اگر شمسی توانائی کی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی طرف توجہ دی جائے تو کیا بعید ہے کہ ایک دو سال میں ہی بجلی کا بحران غائب ہوجائے۔ لگژری کے لیے قرضہ دیا جاتا ہے، الم غلم خریدنے کے لیے کریڈٹ کارڈز موجود ہیں کیا اس کام کے لیے بینک قرضے نہیں دے سکے؟ یہ ٹیکنالوجی ابھی مہنگی ہے لیکن اس کے فوائد بھی تو دیکھیں۔ متبادل توانائی بورڈ چند پائلٹ پراجیکٹ شروع کرکے جانے کہاں غائب ہے۔ آٹھ دس پون چکیاں اور ایک آدھ گاؤں میں شمسی بجلی کے لیے پائلٹ پراجیکٹ چلانے سے توانائی کا بحران کم تو نہیں ہوجائے گا۔ ہمارے حکمران ساری دنیا سے کشکول اٹھائے بھیک مانگتے پھرتے ہیں ایک بار یہ بھی مانگ لیں۔

پیر، 11 فروری، 2008

تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

کل رات یونیورسٹی سے واپس آیا تو باتوں باتوں میں ذکر چھڑ گیا۔ ذکر کیا تھا والدہ کی زبانی سنیے۔۔

آج یوٹیلٹی سٹور پر عورتیں بی بی نظیراں کو بہت یاد کررہی تھیں۔ میں نے کہا وہ دن بھول گئے ہیں جب اس خصم نے اسی طرح قطاروں میں لگوا کر گھی کے ساتھ تین تین کلو پیاز دئیے تھے۔ جن سے دس فٹ کی دوری سے بدبو کے بھبھکے اٹھتے تھے۔۔

اب میں نے پوچھا یہ کیا قصہ ہے تو۔ والدہ کہنے لگیں اس وقت گھی 35 روپے کلو تھا جی سی پی بہت سے لوگوں کو یاد ہوگا جی سی پی بناسپتی جس کی ملیں یا تو بند ہوگئیں یا پرئیویٹائز کردی گئیں۔۔ تو بات ہورہی تھی قیمت کی اس وقت بھی گھی یوٹیلٹی سٹور سے سستا ملتا تھا عام مارکیٹ کی نسبت۔۔۔ بی بی کے بابو یعنی خصم ارجمند نے بھارت سے بڑی مقدار میں پیاز درآمد کئے۔۔وہ پیاز خراب ہورہے تھے بلکہ آدھےسے زیادہ گل سڑ چکے تھے اور پر یہ پیاز غریبوں کو گھی کے ساتھ تین تین کلو کرکے دئیے گئے۔۔ ورنہ گھی نہیں ملتا تھا۔۔۔

آج کل بھی یوٹیلٹی سٹور والے گھی کے پیکٹ کے ساتھ (چینی ہے تو یا آٹا ہے جس چیز کا بھی بحران ہو اس کے ساتھ) کوئی نہ کوئی چیز لازمی خریدنے پر مجبور کرتے ہیں ورنہ گھی نہیں ملتا۔۔ کبھی تکہ مصالحہ، کبھی لکس صابن، کبھی ٹوتھ پیسٹ اور کبھی فئیر اینڈ لولی جو چیز بھی سٹاک میں زیادہ ہو۔ اب ہم جیسے غریب غرباء جنھوں نے تکے کو دور سے ہی سلام کیا ہوتا ہے اس تکے مصالحے کا کیا کریں؟ سو اس دن امرودوں پر چھڑ کر کھایا اور مشرف کو دعائیں دیں۔

بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔۔ مقصد صرف اتنا تھا کہ ہم کتنی جلدی بھول جاتے ہیں نا؟ بی بی نظیراں فوت ہوگئی تو اب وہ فرشتی اور بہشتن ہوگئی ہے۔ زندہ باد بھئی اس قوم کے۔۔۔

اتوار، 16 دسمبر، 2007

میں 16 دسمبر 1971 کا نوحہ کہوں یا اپنے حال کا؟

آج سولہ دسمبر ہے۔ اہل دل اور اہل وطن یقینًا خون کے آنسو رو رہے ہیں۔ ہمارا بازو کٹ کر جدا ہوگیا۔ لیکن میں جو ایک عام آدمی ہوں اس پر کیا کہوں؟
کیا لکھوں؟
میرا حال یہ ہے کہ دو وقت کی روٹی ملنی مشکل ہوگئی ہے۔ سارا سارا دن یوٹیلٹی سٹور پر لائن میں کھڑے ہو کر چار کلو گھی اور ایک تھیلا آٹے کا ملتا ہے۔ ساتھ میں یوٹیلیٹی سٹور والا اور خریداری کے بغیر گھی اور آٹا بھی نہیں دیتا۔ کہتا ہے ہم نے یہ کہاں بیچنا ہے۔
ہر تین گھنٹے بعد بجلی بند ہوجاتی ہے۔ یہ آنکھ مچولی سارا دن جاری رہتی ہے میں کاروبار کیا خاک کروں؟
میرے ملک کے حکمران اس بات پر سراپا فخر و غرور ہیں کہ ایک کروڑ عوام کے پاس موبائل ہیں۔ موٹر سائیکلوں اور کاروں کی ریل پیل ہوچکی ہے اور خزانہ بھرا ہوا ہے۔ کیا یہ موبائل فون، یہ کاریں اور موٹر سائیکل مجھے دو وقت کی روٹی دے سکتے ہیں؟
مجھے کھانے کو نہ ملے تو کیا ان موبائل فونوں کو ہی چبانا شروع کردوں؟
میں کس بات کا نوحہ پڑھوں؟
اپنے اور اپنے خاندان کے فاقہ زدہ اور محروم چہروں کا یا چھتیس سال پہلے کا؟
کوئی بتائے مجھے میں کس کی نوحہ خوانی کروں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔