‏زرداری لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏زرداری لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 22 نومبر، 2009

این آر او

آج کی اخبارات اور خبروں کے مطابق این آر او کے تحت فائدہ اُٹھانے والے لوگوں کی فہرست جاری کردی گئی ہے۔ بی بی سی کی خبر کے مطابق اس میں بہت سے وڈوں کے نام بھی شامل ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ سب سے زیادہ سات ہزار کچھ افراد نے سندھ سے اس آرڈیننس سے فائدہ اُٹھایا۔ ملک کے اعلٰی ترین عہدوں پر بیٹھی شخصیات بعض اوقات درجنوں میں فوجداری اور کرپشن کے مقدمات میں نامزد تھیں جن کو اس آرڈیننس کے ذریعے تحفظ دیا گیا۔
این آر او پر ہونے والی پچھلے کئی ماہ کی بحث اور میڈیا بشمول عوام و حزب اختلاف کی حکومت پر لعن طعن کے بعد آخر کار پیپلز پارٹی نے یہ کہہ دیا کہ عدالت جو کچھ کہے گی ہم وہی کریں گے۔ اب کیا ہوگا؟ جیسا کہ تجزیہ کار بتاتے ہیں کہ حکومت میں موجود افراد کے خلاف مقدمات تو پھر بھی دائر نہیں کیے جائیں گے کم از کم صدر زرداری کے خلاف تو نہیں۔  یعنی درون خانہ کچھ بھی نہیں بدلے گا۔
اس سلسلے کا ایک قابل افسوس پہلو یہ ہے کہ پچھلے دس سالوں میں ان ہزاروں مقدمات میں سے بہت کم کو نمٹایا جاسکا ہے۔ سیاسی،انتظامی اور جانے کون کونسی وجوہات کی بنا پر انھیں ملتوی کیا جاتا رہا اور نوبت یہاں تک آپہنچی۔ اس سلسلے میں آصف علی زرداری جنھوں نے آٹھ دس سال بلا سزا ہی جیل کاٹی کا واقعہ ہمارے نظام انصاف پر ایک داغ ہے۔ یہ تو خیر صدر مملکت کی بات تھی ایسی ہزاروں مثالیں ہر جگہ موجود ہیں جہاں قیدی صرف جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں سالوں سے بند ہے اور اس کا مقدمہ ختم نہیں ہورہا۔ ہمیں اس سسٹم کو تبدیل کرنا ہوگا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مقدمات کو پہلی فرصت میں نمٹانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔ ورنہ اس سب کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ حکومت والے حکومت کرتے رہیں گے اور عوام انھیں کوستے رہیں گے۔ کاش ہم اس موقعے کو گنوائیں نہیں۔ لیکن اس کے لیے بہت سی ہمت درکار ہے۔ ہمارے سیاستدان وہ ہمت مجتمع کرپائیں گے؟
ابھی تک تو اس کا جواب نہیں لگ رہا ہے۔

بدھ، 18 نومبر، 2009

کیا ہے؟

کیا ہے ہمیں جو چین لینے نہیں دیتا؟
بابا مشرف تھا تو سارے اس کی ماں بہن ایک کرنے پر تُلے ہوئے تھے۔ اب وہ گیا ہے تو ہمارے وڈے بابے بڑا پکا سا منہ بنا کے کہتے ہیں
او نئیں جی مشرف تے بڑا چنگا سی اے جاگیرداراں ماں دیاں خصماں نے اوہدی مت مار چھڈی۔ آخری سالاں وچ اوہدے خلاف بڑیاں سازشاں ہوئیاں۔
اور میں چپ کرجاتا ہوں کہ بڑی اچھی یادداشت ہے ہماری۔ ہمیں اس کا چک شہزاد میں کروڑوں کی مالیت کا وہ فارم ہاؤس بھی دکھائی نہیں دیتا۔
اب زرداری بیٹھا ہے تو اب بھی پیٹ میں مروڑ اٹھتے ہیں۔ زرداری جاوے ای جاوے
زرداری ہائے ہائے۔
اچھا زرداری چلا گیا تے فیر کون آسیں؟
کوئی ہور ماں دا خصم؟ سادہ پنجابی میں یہی کہیں گے نا ہم۔ کہ جیسی قوم ہو ویسے ہی حاکم ملتے ہیں۔ تو آپ میں سب جانتے ہیں کہ ہم کتنی غیرت والی قوم ہیں۔
مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ ہم آخر چاہتے کیا ہیں؟ کیا حاکم بدلنا ہماری ہابی تو نہیں جیسے رنڈی ہر رات خصم بدلتی ہے؟

ہفتہ، 7 فروری، 2009

فنکشن

خلیل جبران کا کہنا ہے کہ آپ کی روحیں اس جگہ پر ہمیشہ منڈلاتی رہتی ہیں جہاں آپ نے زندگی کے پرلطف لمحات گزارے ہوں. یہ ضیاء کے آخری الفاظ تھے جو اس نے فنکشن کا اختتام کرتے ہوئے کہے.
ضیا یعنی ضیاء اللہ بدر بیچلر آف سائنس لنگوئسٹکس اینڈ لٹریچر کا طالب علم، ہمارا سینئیر اور کل رات ہونے والے فنکشن کا آرگنائزر، کمپئر اور پرفارمر.
ٹھہریں ذرا فلیش بیک کرتے ہیں. ایسے آپ کو سمجھ نہیں آئے گی.ہمارے سینئیرز یعنی علاوہ فرسٹ سمسٹر، تمام پروگرامز کے متعلقہ سمسٹرز کے فائنل امتحانات دو فروری سے شروع تھے. ڈیٹ شیٹ بن چکی تھی. ٹیچر پڑھا کر فارغ ہوچکے تھے. پریزنٹیشن اور اسائنمنٹس ہوچکی تھیں کہ اچانک امتحانات کو پندرہ دن کے لیے ملتوی کردیا گیا.
یہ پندرہ دن کا التواء پھر سے زندگی کی نوید لایا اور ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ہی فنکشن کروانے کا اعلان کردیا گیا. شعبے کا سالانہ فنکشن کہہ لیں، ڈنر کہہ لیں یا لٹریری ایوننگ. خیر پھر کیا تھا، پھر دھڑا دھڑ تیاریاں شروع ہوگئیں. پیسے جمع کرنے ہیں، آئٹمز تیار کرنے ہیں، یہ وہ..
اسی دوران ایک عدد نمائش ہونی تھی عنوان "میں کون ہوں" انگریزی میں
Who Am I جس میں آپ کچھ بھی بنا سکتے تھے. اس کو بھی فنکشن کے ساتھ ہی جوڑ دیا گیا. چناچہ ایک جانب تقریب جاری تھی دوسری جانب لوگ اس حصے میں آجارہے تھے جہاں طلباء کے چارٹس، پینٹگز، کارڈز، گڑیاں، سینریاں اور دوسری چیزیں لگی ہوئی تھیں. (ہم نے بھی بنایا تھا ایک چارٹ :oops: . ان اللہ علی کل شیء قدیر کو ہم نے انتالیس فونٹس میں لکھا اوپن آفس میں اور چھ عدد پرنٹ نکال کر چارٹ پیپر پر چسپاں کرلیے. آرٹ کا آرٹ ٹیکنالوجی کی ٹیکنالوجی :grin: )
ہمارا پروگرام ایم ایس سی اپلائیڈ لنگوئسٹکس ہے اور سمسٹر ابھی پہلا. مابدولت کلاس کے سی آر ہیں اور ساتھ میں سینئیر بھی کہ پہلے ایک عدد پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ یہیں سے کیا ہے. ہم نے بھاگم بھاگ ایک عدد نظم لکھی. نظم کیا تھی بس قذاقی اور ڈاکا تھی. ہم نے زاہد فخری کی "کدی تے پیکے جا نی بیگم" کو "کدی تے چھٹی جا نی میڈم" کرلیا. ایک دو الفاظ بدل کر ہم نے سارا مفہوم بیگم سے میڈم اور گھر سے لنگوئسٹکس کے کلاس روم تک پہنچا دیا. خیر یہ تو ہماری ذاتی کہانی تھی. ہماری کلاس....پہلا سمسٹر... سارے بی اے...زندگی میں پہلی بار مخلوط طرز تعلیم میں آمد...یونیورسٹی کے ماحول سے کافی حد تک کم ہوچکی لیکن ابھی بھی باقی اجنبیت ... وغیرہ وغیرہ کے مارے ہوئے.. ہمیں ہمارے سینئرز جو پہلے ہی ڈیڈ سولز (جی مردہ روحیں اردو میں) قرار دیتے ہیں. ہم نے یعنی سی آر صاحب نے زور لگایا یار کجھ کرلو. تہانوں اللہ دا واسطہ نک دا سوال اے. تو اللہ اللہ کرکے ایک عدد ڈرامہ لکھا گیا، تھوڑی بہت پریکٹس بھی ہوئی. (لیکن ہم اس میں نہیں تھے) وقت کی کمی کی وجہ سے آخری وقت میں اسے اڑا دیا گیا.. :roll: اس کے علاوہ ہماری کلاس سے دو اور لوگ گانے میں حصہ لے رہے تھے ایک لڑکا اور ایک لڑکی اور ... ایک دن میں نے اور باقی لڑکوں نے غصہ کھا کر ایک مزاحیہ سکرپٹ بھی تیار کرڈالا..آئیڈیا زرداری کا توا لگانے کا تھا... لیکن یہ سکرپٹ پھر ہماری ہی عدم دلچسپی اور ناتجربہ کاری کی وجہ سے پیش ہی نہ ہوسکا. ہماری کاسٹ دوسرے ڈرامے میں مصروف تھی، مکالمے جاندار نہ تھے اور ہمارے ڈائرکٹر صاحب کا انداز چھڈ یار قسم کا تھا. سو ہم نے کہا بھاڑ میں جاؤ ہم تو نظم پڑھ دیں گے.
خیر ہم اور میں سے باہر آئیں کہ فنکشن اس سے باہر باہر ہی ہوا. ہمارے انگلش ڈیپارٹمنٹ میں دو ذیلی شعبے ہیں. لنگوئسٹکس اور لٹریچر. لنگوئسٹکس میں چار کلاسیں بی ایس آنرز کی ہیں جو چار سال کا کورس ہے اور اس میں لٹریچر بھی پڑھایا جاتا ہے مع لسانیات. دو کورس ایک تھرڈ اور ایک فرسٹ ایم ایس سی اپلائیڈ لنگوئسٹکس اورلٹریچر میں چار کلاسیں ایم اے انگریزی صبح و شام اور فرسٹ و تھرڈ سمسٹر کی ہیں. خیر تو اتنی ساری کلاسوں میں سے کس نے زیادہ حصہ لیا. تو اس کا جواب ہے کہ بی ایس 7 اور ایم ایس سی 3 سمسٹر والوں نے. یہ دونوں کلاسیں اصل میں ایک ہی کمرے میں ہوتی ہیں وجہ کمروں کی کمی ہے، ان کے کورسز بھی ایک ہیں بس پروگرام کا نام مختلف ہے. یہ جی سی کے کھنڈ لوگ ہیں. ضیاء اللہ بدر، غلام دستگیر عرف جی ڈی، زین، امجد، قندیل اور حنان وغیرہ وغیرہ. ضیاء جانا مانا ڈرامہ نگار ہے. مجھے تو شکل سے ہی ڈرامے باز لگتا ہے. ہاتھ میں سگریٹ، عینک وہی بال، لگتا ہے ابھی آواز دے گا اوئے ابھی تک سیٹ نہیں لگا، جلدی کرو. اس نے پچھلے سال فنکشن پر شیکسپئر کے تین ڈراموں کی ہدایات دی تھیں. اس بار اس نے اپنا ڈرامہ لکھا اسٹیشن بستی سیداں والی. اچھا ڈرامہ تھا، لو سٹوری تھی. لیکن اچھا تھا اگرچہ اس کا مرکزی کردار وہ خود تھا، فیصل آباد کے گھنٹہ گھر کی طرح سارے راستے اسی کی طرف جاتے تھے، لیکن پھر بھی اچھا ڈرامہ تھا، محنت ہوئی تھی اس پر اور پسند کیا گیا. وائس چانسلر صاحب اسی دوران آئے تھے اور اس ڈرامے سے اتنا متاثر ہوئے کہ پانچ ہزار کے انعام کا اعلان کرگئے. خیر...یہ تو 7 سمسٹر والوں کا تھا ایک ڈرامہ لٹریچر والوں کی طرف سے تھا. ایک عدد قوالی تیار کی گئی تھی جس میں حسب توقع بی ایس 7، ایم ایس سی 3 اور بی ایس 3 کے لوگ شامل تھے. قوالی کا بنیادی مقصد لٹریچر والی کی مٹی پلید کرنا تھا. اور خوب کی گئی. ہوسکا تو اس کی ویڈیو پوسٹ کروں گا. بول کچھ ایسے تھے " لٹریچر والوں سے اللہ بچائے" حسن والوں سے اللہ بچائے کی طرز پر.
تو صاحب یہ پس منظر تھا، فنکشن پہلے چار کو ہونا تھا پھر چھ کو کردیا گیا. ہم یعنی سی آر صاحب نے بھی اپنا نام انتظامیہ میں لکھوا لیا کہ چلو اسی بہانے ذرا چوہدراہٹ بن جائے گی. لیکن ...آہ کیا بنا.. بنا یہ کہ کل ہمارے سیٹ کی ایک بیٹری جواب دے گئی اور ہمیں دوسری بیٹری نکال کر اسے چارج کرنا پڑا. اس کی چارجنگ پورٹ خراب ہے چناچہ چارجنگ تو موبائل آف.. اب وہاں ہمیں کال کیا جاتا ہے اور ہمارا موبائل بند.... ہم بھی کیا کریں ایک گھنٹے بعد ایک گھنٹے کے لیے بجلی آتی تھی جب آتی ہم موبائل چارجنگ پر لگا دیتے جب چلی جاتی تو اسے پھر آن کرلیتے. :roll: شام کو جب ہم وہاں تشریف لے جانے سے پہلے جی آر سے مخاطب ہوئے کہ میڈم وہ پاسز اور لسٹ لیتی آنا یاد سے تو آگے سے ہماری جو ہوئی :grin: .... نہ پوچھیں... اس بے چاری کی ہماری ٹیچر نے کی تھی کہ کم بخت نے انتظامیہ میں نام لکھوا لیا اور اب اس کا سیل بھی آف ہے. خیر ہم کیا کہتے عذر پیش کردیا جوکہ خاصا معقول بھی تھا... وہاں پہنچے تو پہلے زین اور قندیل نے واٹ لگائی... پھر جی آر نے ایک بار پھر سے... :oops: ...پھر دوران فنکشن جی ڈی نے بڑے پیار سےاور ابھی میڈم یعنی ہماری ٹیچر رہتی ہیں.. یا اللہ خیر :neutral:
تو جناب فنکشن شروع ہوتا ہے... کتنے بجے پانچ بجے لیکن پانچ بجے صرف انتظامیہ کے ٹانویں ٹانویں لوگ تھے وہاں اصل کام ساڑھے چھ شروع ہوا... آتے ہی پہلے تھیم سانگ چلا، تجھ سے نیناں لاگے پر 7 اور 3 سمسٹر کے چار لڑکوں کی گھمن گھیریاں، ہمیں تو ککھ سمجھ نہیں آئی کہ تھیم کیا تھا، خیر پھر ضیاء کا ڈرامہ جو تیس منٹ کی بجائے پونے گھنٹے سے اوپر لے گیا.. پھر ایک انگریزی ٹیبلو سا سنو وائٹ پیش کیا گیا. پھر دو گز کی چادر سٹیج ہوا. اسی دوران قوالی بھی ہوچکی تھی بس ضیاء کا ڈرامہ اور یہ قوالی ہی دیکھی ہم نے اور ادھر ادھر پھرتے رہے. تصاویر کھنچوانے، گروپ فوٹو بنوانے جو کہ بن ہی نہ سکی ہر بار دو چار بندے کم ہوجاتے..اور ہم یعنی شاکر میاں اپنی نظم پڑھنے کی باری کا انتظار کرنے ...ہان شہزاد بھی جس نے گانا گانا تھا اور اس کے لیے وہ اپنا مووی کیمرہ بھی لے کر آیا تھا اور مجھے سکھا بھی چکا تھا کہ مووی کیسے بنانی ہے. :oops:
آہ... لیکن حسرت ان غنچوں پہ جو بن کھلے مرجھا گئے. اس دوران دس بج گئے تھے، کئی لڑکیاں جاچکی تھیں اور کئی کو لے جانے والے آچکے تھے. چناچہ فنکشن کو مہمان خصوصی اور چئیر پرسن کے اختتامی کلمات کے ساتھ دی اینڈ کردیا گیا اور ہم دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے گاتے کھانے پر ٹوٹ پڑے. جیسا تیسا کھایا کہ ہم سے تو ایسے مواقع پر کھایا ہی نہیں جاتا... پھر آخر میں تھوڑا سا کام کروا دیا کہ تھوڑا سا ازالہ کردیں صبح نہیں اب تو کروایا ہے کام. آہ پھر واپسی.
اگرچہ:
ہماری کلاس کا ڈرامہ ریجیکٹ ہوگیا.. برا سا لگا
ہمارے دونوں گانے اور نظم شامل نہیں کی گئی.
فنکشن لیٹ شروع کرکے اس میں پرفارمنسز وہ کاٹی گئیں جو ہماری تھیں یا جہاں ایم ایس سی 3 اور بی ایس 7 کے لوگ نہیں تھے. :sad:
ہمیں کھانے کے دوران بوتل نہیں ملی :oops: چار بندوں نے ایک بوتل شئیر کی..
اور ہمارا نام انتظامیہ میں شامل نہ ہوسکا کہ ہم تو آئے ہی نہیں تھے..قسم سے ہمیں اپنی جی آر اور جی ڈی لوگوں سے ڈھیر سارا حسد محسوس ہوا جب وہ آرگنائزر کا کارڈ گلے میں ڈالے قریب سے گزرتے :cry:
لیکن:
اس کے باوجود یہ تقریب ایک اچھی یاد بن کر دل کے کینوس پر نقش ہوگئی.
ہم نے اسے انجوائے کیا.
بقول عاصم صاحب یہ لائف سائنسز ہیں آپ کو پہننے، اوڑھنے، کھانے، پینے کا سلیقہ دیتی ہیں یہ تقاریب. آپ کو آداب سکھاتی ہیں. چناچہ ہم نے بھی بہت کچھ سیکھا. ہم جو وہاں شاید سفید کرتے شلوار میں پہنچ جاتے لیکن ہمیں مت دی گئی کہ کاکے ڈنر میں گہرے رنگ چلتے ہیں، ٹو پیس کرلینا. چناچہ ہم نے پینٹ شرٹ گھر سے پہنی اور کوٹ ایک دوست کی مہربانی سے وہاں جاکر پہن لیا.. سنا ہے کہ خاصے معقول صورت بلکہ خوبصورت ہی لگ رہے تھے، تصویر مہیا کرنے کی کوشش کریں گے. :oops: :razz:
آج ہمیں لگ رہا ہے جیسے ہماری روح کا ایک حصہ وہیں رہ گیا ہے. جی سی کے اسی لان پر منڈلاتا ہوا، اس فنکشن کے اندر باہر آتا جاتا.. عجیب خالی پن سا لگ رہا ہے، جیسے یکدم آپ کسی بھیڑ والی جگہ سے خلا میں آجائیں جہاں پہلے سینکڑوں چیزیں اور لوگ تھے اب وہاں صرف آپ ہوں اور مہیب خلاء، بیکراں سناٹے اور ملگجا سا اندھیرا. شاید خلیل جبران نے ٹھیک ہی کہا کہ آپ کی روحیں اس جگہ پر ہمیشہ منڈلاتی رہتی ہیں جہاں آپ نے اپنی زندگی کے پرلطف لمحات گزارے ہوں.

ہفتہ، 13 ستمبر، 2008

پاکستان ایک بار پھر کشکول اٹھائے

اس وقت پاکستانی معیشت پھر سے دس سال پہلے والی پوزیشن پر کھڑی ہے۔ پچھلے ڈیڑھ سال سے ہونی والی ایجی ٹیشن، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور متحدہ بحرانوں نے معیشت کا جنازہ نکال دیا ہے۔ شوکت عزیز حکومت جس نے بڑے فخر سے کہا تھا کہ ہم نے کشکول توڑ دیا (جو اصل میں آئی ایم ایف سے چھٹکارے پر کہا گیا تھا ورنہ پاکستان عالمی بینک، ایشیائی بینک اور دوسرے ایسے اداروں سے اس کے بعد بھی قرض لیتا رہا ہے)۔ اب وہی کشکول پھر سے اٹھائے ہم کبھی ایک کی طرف دیکھ رہے ہیں کبھی دوسرے کی طرف۔


تیل کی سٹے بازی نے ہماری معیشت کا بھرکس نکال دیا اور اس وقت پاکستان اندرون و بیرون ملک اربوں ڈالر کا مقروض ہے۔ اندرونی جانب بجلی پیدا کرنے والے آزاد اداروں کا مقروض (کوئی ایک سو بیس ارب روپے کسی اخبار میں پڑھے تھے) اور بیرونی طرف سعودی عرب جیسے ممالک کے تیل کے بل کا۔ وزیر خارجہ اور دوسرے کئی لوگ حتی کہ ابتدائی دنوں میں نواز شریف اور زرداری جی نے بھی سعودیہ کا دورہ کیا تاکہ کچھ مہلت حاصل کی جاسکے۔


ہمارا روپیہ تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے، سٹاک مارکیٹ میں سے غیر یقینی حالات کی بنا پر غیر ملکی سٹے بازوں نے روپیہ نکال لیا ہے۔ افراط زر اس ماہ 25 فیصد کی شرح تک پہنچ چکی ہے۔ جس کی وجہ سے چیزوں کی گرانی انتہائی حدوں کو چھو رہی ہے۔


پانی کی کمی مرے پر سو درے ہیں۔ اس بار بارشیں ہونے کے باوجود دریاؤں میں پانی کم ہے اور پنجاب کے لیے بری خبر یہ کہ اس کو پچاس فیصد تک کم پانی ملنے کا خدشہ ہے۔ یعنی اگلی گندم کی فصل کے لیے پانی کی عدم دستیابی۔ اس بار بھی اکثر علاقوں میں کسانوں نے چاول اس امید پر کاشت کرلیے کہ بارشیں ہورہی ہیں۔ لیکن شیخوپورہ کے اردگرد (میرے ننھیال) کے علاقے میں زمینیں بارش کو ترستی ہی رہ گئیں۔ یہ علاقہ کبھی نہری پانی سے اچھا خاصا سیراب ہوا کرتا تھا اب پانی کے کھال آدھے سے بھی کم بھرے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے کسانوں کو مہنگا ڈیزل خرید کر فصلوں کو ٹیوب ویل کا پانی دینا پڑتا ہے۔ ان علاقوں میں چاول کی فصل کی نگہداشت بہت مشکل سے ہوپارہی ہے۔


اور آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی ہے۔ ان کا مقصد کیا ہے۔ سب کے سامنے ہے۔ کچھ قرض دینے کے لیے یہ لوگ اپی ڈھیروں شرائط منوائیں گے۔ جن میں (بشمول منافع بخش) حکومتی اداروں کی نجکاری، سبسڈی کا خاتمہ، ٹیکسوں میں اضافہ اور غیر ترقیاتی اخراجات میں میں کمی جیسی چیزیں شامل ہونگی۔ اس بار ترقیات بجٹ ویسے بھی کم رکھا گیا ہے، مزید کم خسارہ کم کرنے کے چکر میں ہوجائے گا۔


قبائلی علاقوں میں جاری جنگ اور امریکی حملوں نے سرمایہ کاری کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ سرمایہ دار زرافے کی سی خصلت والا جانور ہے جو خطرے کو کئی میل دور سے ہی محسوس کرکے بگٹٹ بھاگ لیتا ہے۔ پاکستان میں یہ حال ہے کہ یہاں سے سرمایہ دھڑا دھڑ دبئی اور یورپ منتقل ہورہا ہے۔ پچھلے سالوں میں اربوں ڈالر دبئی کی رئیل اسٹیٹ میں لگ چکے ہیں، وہاں ہمارے سرمایہ کار ٹھیکیداری کررہے ہیں، بزنس کررہے ہیں اور یہاں عوام مکانوں کو ترس رہے ہیں۔


بجلی کا بحران ابھی مزید سنگین ہوگا۔ اگلے ایک سال میں لوڈ شیڈنگ ختم کردینے کے دعوے پورے ہوتے نظر نہیں آرہے۔ ابھی ستمبر ہے مجھے خدشہ ہے کہ اکتوبر کے وسط سے ہی سردیوں کی لوڈ شیڈنگ شروع ہوجائے گی۔ اور یہ 8 دس گھنٹے نہیں 16 سے 20 گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ ہوگی۔ وجہ پانی کی کمی ہوگی۔ لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کے لیے جو ہنگامی انتظامات کیے جارہے ہیں ان میں سرفہرست کرائے کے بجلی گھروں کی فراہمی ہے۔ لیز پر لیے گئے یہ پلانٹ اچھے خاصے مہنگے پڑیں گے۔ جتنی ان کی لیز ادا کی جائے گی اتنے میں شاید نیا پلانٹ مہیا ہوجائے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ متعلقہ مینوفیکچررز سے نئے ٹربائن دستیاب ہی نہیں اور اس کا واحد حل یہ ہے کہ ڈیزل اور مٹی کے تیل سے چلنے والے کرائے کے ٹربائن حاصل کیے جائیں۔ ان سے بجلی کی کمی تو پوری ہوجائے گی لیکن اس کا اثر قیمتوں، معیشت اور صنعت پر کیا پڑے گا وہ اظہر من الشمس ہے۔ انڈیا کی طرز پر ہمیں کوئی بھی ایٹمی توانائی دینے کا نہیں۔ لے دے کر ایک چین رہ جاتا ہے۔ کاش ہمارے حکمران چین سے ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کرسکیں۔ صدر صاحب پہلا دورہ چین کا فرما رہے ہیں اللہ کرے اس میں دس بارہ ایٹمی ری ایکٹرز کی بات بن جائے۔ ایٹم بم تو ہم نے چوری کرکے بنا لیا لیکن ایٹمی توانائی سے بجلی بنانے کے معاملے میں ابھی بہت پیچھے ہیں۔ توانائی کے لیے ایران پاکستان، وسطی ایشیائی ریاستوں سے اور قطر سے گیس کی درآمد کو بھی جلد از جلد حتمی شکل دی جائے۔ پاکستان کے پاس اگلے بیس برس میں ملکی گیس کے نام پر شاید کچھ ہی بچے۔ استعمال تو پہلے ہی ہورہے تھے لیکن اب پٹرول کی بجائے گیس پر انحصار بہت زیادہ بڑھ گیا ہے یعنی گیس اتنی ہی جلدی ختم بھی ہوجائے گی۔


ہمیں متبادل ذرائع توانائی پر بھی غور کرنا ہوگا۔ شمسی توانائی ایک بہترین آپشن ہے۔ اگر اس سلسلے میں اقدامات اٹھائے جائیں تو بحران آدھے سے بھی کم رہ سکتا ہے۔ لیکن یہ سب تب ہی ہوسکتا ہے جب ہم مخلص ہوں اور اس جنگ سے ہماری جان چھوٹے۔ یوں لگ رہا ہے جیسے یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہمارے منہ سے نوالے بھی چھین لے گی۔

ہفتہ، 30 اگست، 2008

صدارت اور آصف علی زرداری

بطور صدارتی امیدوار آصف علی زرداری کی عوام میں غیر مقبولیت کو اب ایک اور انداز میں ایک کالم نگار پیش کررہے ہیں۔ پی پی پی کو ایک ہی چیز کی فکر ہے اور وہ ہے کہ 12 سال کے بعد جو اقتدار ملا ہے اس پر ہر طرف سے گرفت مضبوط کرلی جائے۔ باقی ستے خیراں ہیں۔  ججوں کو بھی پی سی او کے تحت بحال کیا جارہا ہے۔ زرداری جی جن کے نازک کندھوں پر پورے ملک کی ذمہ داری ہے اب ایوان صدر میں بیٹھ کر اسے بہ احسن سرانجام دے سکیں گے۔


مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی جب صدر ایک علامتی عہدہ ہے، صرف وفاق کی علامت تو اس کے لیے زرداری جی اتنے کشٹ کیوں اٹھا رہے ہیں۔ اپنی بے عزتی خراب کروارہے ہیں اور پارٹی کی الگ درگت بن رہی ہے۔ صدر بن کر زرداری کو کیا مل جائے گا؟ صدر پی پی پی کا ہوجائے گا، ایوان صدر سے کوئی مداخلت نہیں ہوسکے گی، پانچ سال کی آئینی مدت پوری ہونے کے امکانات روشن ہوجائیں گے۔ وغیرہ وغیرہ اس کے جواب ہوسکتے ہیں۔ سوال یہ ہے اگر سترہویں ترمیم ختم کردی جاتے ہے تو صدر کی طرف سے مداخلت کا خدشہ پھر بھی ختم ہوجاتا ہے۔ لیکن اب یہ ختم نہیں ہوگی۔ زرداری صاحب اب گولف کھیلنے اور تقاریب کا افتتاح کرنے تو جائیں گے نہیں۔ کوئی دھوم دھڑکا پاس ہونا چاہیے چاہے وہ 58-2بی ہی ہو۔


اوپر ذکر کیے گئے کالم نگار مخالفت کو پھر پنجابی اسٹبلشمنٹ کی کارستانی قرار دے رہے ہیں۔ پنجاب نے یہ کردیا، پنجاب نے وہ کردیا۔ اب پنجاب ایک چھوٹے صوبے سے صدر بھی نہیں بننے دے رہا۔  میرا ذاتی طور پر خیال تھا کہ پی پی پی اب بلوچستان سے صدر لائے گی۔ جو سندھ سے بھی زیادہ مستحق صوبہ ہے۔ لیکن وائے قسمت وڈے سائیں راضی نہ ہوئے۔ کھٹک تو اسی وقت لگ گئی تھی جب موصوف نے ضمنی انتخابات نہ لڑے اور 3 ماہ کے وزیر اعظم بعد میں بھی حاضر سروس رہے۔


ن لیگ سے اتحاد واقعی غیر فطری تھا اور اسے ختم ہونا ہی تھا۔ لیکن پارٹی کا طرز عمل اور زرداری جی کے لارے لپوں نے نواز شریف کو یہ سب پہلے ختم کرنے پر مجبور کردیا۔ پی پی پی کی فکر کہ اقتدار مضبوط ہوجائے امید ہے چھ ماہ کے بعد اگلے ماہ مُک ہی جائے گی۔ اب دیکھتے ہیں معیشت کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ سعودی عرب سے قرضے کی بات بھی ہوگئی ہے۔ عالمی بینک بھی "امداد" دے رہا ہے۔ امید ہے اس بھیک سے کچھ عرصہ تو گزرے گا ہی۔