جرمنی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
جرمنی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 9 مئی، 2016

بہار کی شام

آج کا سورج اپنی آخری سانسوں پر آ  کر آسمان کو سرخ کیے ہوئے ہے۔ لمحہ بہ لمحہ ماند پڑتی روشنی منظر کو دھیرے دھیرے رنگین سے بلیک اینڈ وائٹ میں منتقل کرتی جاتی ہے۔ ابھی مغرب کو عازمِ سفر ایک طیارہ سورج کی روشنی میں کسی غیر ارضی جسم کی طرح نظر آ رہا تھا، اور ابھی وہ آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔ پتوں سے بوجھل درخت ہوا سے ایسے لہلہاتے ہیں جیسے فقیر کو توقع سے بڑھ کر خیرات مل جائے تو وہ جھوم اُٹھتا ہے۔ پرندوں کی چہچہاہٹ اس تاریک پڑتے منظر میں نہ ہو تو دنیا گونگی ہو جائے۔

یہ منظر میری حسِ بصارت اور حسِ سماعت سے ٹکرا کر اتنا مجبور کر دیتا ہے کہ میں کامن روم کی بالکنی میں جا کھڑا ہوتا ہوں۔ اور تب مجھ پر اس منظر کی ایک اور جہت کھُلتی ہے، سوندھی سوندھی سی خوشبو۔ میرے وطن میں جب رُکھوں (رُکھ= درخت، شجر) پر بہار اترتی ہے تو بُور (ننھے پھول) کھِلتا ہے۔ ٹاہلی کے پھول، نیم کے پھول اور دھریک کے پھول۔ ان پھولوں کی مہک بھی ایسی ہی جاں فزا ہوتی ہے، سوندھی سوندھی، ہلکی ہلکی اور مسلسل۔ اس اجنبی دیس کی اجنبی فضاؤں میں گھُلی یہ مہک جب میری سانسوں سے ہم آغوش ہوتی ہے تو میں بے خود ہو کر اپنے دیس، دور اپنے سوہنے دیس اُڑ جانے کے لیے مچل اُٹھتا ہوں۔ لیکن میں ایک پر کٹا پرندہ صرف پھڑپھڑا کر رہ جاتا ہوں۔

لیکن میری سوچ کی اُڑان پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ یہ مہک، یہ بو باس مجھے ان گلی کُوچوں میں، کھیت کھلیانوں میں لے جاتی ہے، اس وقت میں لے جاتی ہے جب میرے دیس میں بہار اترتی تھی۔ اور دھریک پر ننھے ننھے پھول کھلا کرتے تھے۔ اور ان کی مست کر دینے والی خوشبو گرد و نواح کو مہکا دیتی تھی۔ کہتے ہیں کہ مہک اور بو باس کے ساتھ بھی یادیں وابستہ ہوتی ہیں۔ خوشی اور غم کے احساسات منسلک ہوتے ہیں۔ سائنس کی زبان میں کہوں تو مالیکیول جب ایک خاص تناسُب سے نتھنوں سے ٹکراتے ہیں تو خاص قسم کے برقی سگنل پیدا کرتے ہیں۔ جو دماغ میں عصبی خُلیوں کو متحرک کر دیتے ہیں۔ مہک محسوس کرواتے ہیں۔ اور اس سے وابستہ یادوں کو بیدار کر دیتے ہیں۔ آج ، اس وقت، یہ دھیرے دھیرے اترتی شام، گزرے برسوں کی بہاروں کی ان ہزاروں شاموں میں سے ایک شام بن کر مجھ پر اترتی ہے۔ اور میں اس خوشبو کو سانسوں میں بسا کر، پہلی تاریخوں کے ہلال کو دیکھ کر، اپنے رب سے اُس کی رحمت کا طلبگار ہوتا ہوں۔

بدھ، 4 مئی، 2016

دس منٹ

"اچھا وقت کتنی جلد ختم ہو جاتا ہے نا؟"، اس کے لہجے میں شکوہ نُما سوال چھُپا تھا۔
"وقت بھلا کہاں رُکتا ہے۔" جواباً میری افسوس زدہ سی آواز بلند ہوئی تھی۔
ابھی بسیں چلنے میں کچھ وقت تھا۔ ڈرائیور باہر کھڑے متوقع نظروں سے شرکاء کو دیکھ رہے تھے۔ ابھی اُمید باقی تھی، کہ ابھی وہ لمحہ نہیں آیا۔ کچھ لوگ الوداعی کلمات ادا کر کے سوار ہو چکے تھے۔ اور کچھ ہم جیسے لوگ جیسے کسی معجزے کے منتظر تھے، شاید ہونی ان ہونی ہو جائے۔ یا شاید چند لمحے اور چُرانے کے لالچ میں حقیقت سے آنکھیں چُرا رہے تھے۔
"مجھے فیس بُک پر ایڈ کر لینا یاد سے۔" اس نے تاکیداً کہا۔
"میں جلد ہی تمہارے شہر آؤں گا۔ اپنا شہر گھماؤ گی نا؟" میں نے غیر محسوس انداز میں بات پلٹی۔
"ہاں، ہاں ضرور۔۔۔" اس کی آنکھیں یکدم چمکیں اور آواز میں اُمید کی کھنکھناہٹ در آئی۔
دس منٹ، دس صدیاں تھے یا دس لمحے۔۔۔ گزرنے کا احساس تب ہوا جب ڈرائیور نے سٹیرنگ سنبھال لیا۔ مہلت ختم ہو گئی۔ اب جانا تھا۔ میں نے آخری بار اس کا ہاتھ دبایا۔ آخری مرتبہ نظریں ملیں، ایک دوسرے کے خال و خد جیسے حفظ کرنے کی آخری کوشش ہوئی۔ اور پھر میں کچھ کہے بغیر بس کی جانب پلٹ آیا۔
"اپنا خیال رکھنا۔۔۔" پیچھے سے اُس کی آواز میں لرزاہٹ اُتر آئی تھی، یا میرا وہم تھا۔
"تُم بھی اپنا خیال رکھنا۔۔۔" میں نے مُڑے بغیر کہا۔ اور بس میں سوار ہو گیا۔
میں نے دانستہ دوسری طرف کی نشست چُنی۔ دوبارہ نظر پڑتی تو صبر کا دامن ہاتھ سے چھُوٹ سکتا تھا۔ بس چل پڑی۔
"وہ بھی اپنی منزل کی جانب رواں ہو گئی ہو گی۔" میں نے سوچا۔
اور میرا ہاتھ موبائل سے کھیلنے لگا۔ "فیس بُک پر ایڈ کر لینا۔۔۔"۔ اُس کی ہدایت یاد آئی لیکن میں نے سُنی ان سُنی کر دی۔
اب میرے سامنے تصاویر تھیں۔ کانفرنس کے پہلے دن جب ہم ملے تھے۔ چائے پیتے ہوئے، لنچ کرتے ہوئے، لیکچر سُنتے ہوئے، اور پھر ان تصویروں میں وہ بھی آ شامل ہوئی تھی۔ اگلے دن چائے پر، لنچ پر اور پھر ڈنر پر جب ہم آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ اس نے ہاتھ میں سرخ وائن پکڑے جام سے جام ٹکراتے ہوئے مُجھے ٹوکا تھا "میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر۔۔۔" اور میں نے خجل ہو کر دوبارہ سے وہ عمل دوہرایا تھا۔ اُس کی مُسکراتی آنکھیں، جن کا سحر جوان ہوتی رات کے ساتھ ساتھ جوبن پر آتا چلا گیا تھا۔ اور پھر موسیقی کی لے تیز ہوئی تو اس نے مجھے بھی ساتھ کھینچ لیا تھا۔ میری رقص کرنے کی کوشش میں ناکامی پر اس کی رقص سکھانے کی کوشش بھی جب ناکام ہوئی، تو ہمارے مشترکہ قہقہے۔ اور پھر ڈی جے نے جب بھنگڑا میوزک لگایا تو ہر کسی کا مُڑ مُڑ کر میرا ذرا کم لڑکھڑاتا اور اس کا بہت زیادہ لڑکھڑاتا ہوا بھنگڑا دیکھنا۔۔۔اور پھر ہماری نقل کی کوشش کرنا۔۔۔ناکام ہونا اور پھر ہمارا کھِلکھِلانا۔۔۔۔
ان سب یادوں کے کچھ عکس محفوظ تھے۔ جیسے کوئی مووی چلتے چلتے رک گئی ہو اور کلک کرنے پر دوبارہ چل جائے، یونہی لگتا تھا کہ یہ منظر دوبارہ چل پڑے گا۔ میں نے ایک آخری بار اس کے چہرے پر نظر ڈالی۔ اور اس کے عکس حذف کر دئیے۔
"کاش کسی طرح اپنی یادوں سے بھی اس کے عکس مٹا سکتا"، میں نے موبائل بند کرتے ہوئے تمنا کی۔
بس آٹو بان پر فراٹے بھرتی میرے شہر کی طرف رواں تھی۔ دھوپ بھرا روشن منظر بس ایک لحظے کے لیے دھندلایا تھا۔ اور "آنکھ میں کُچھ پڑ گیا ہے"، بڑبڑاتے ہوئے میں نے آنکھیں رگڑ ڈالی تھیں۔
---
بابا مستنصر حسین تارڑ کے سفرناموں سے متاثر ہو کر لکھی گئی ایک تحریر۔ کرداروں اور مقامات کی مماثلت محض اتفاقیہ ہو گی۔

اتوار، 27 مارچ، 2016

اللہ کے فضل کی تلاش

میں نے جب یہ سنا کہ اللہ کو گِڑ گِڑانا بہت پسند ہے، ہاتھ پھیلائے اس کے در پر بھیک مانگو تو اسے دینا اچھا لگتا ہے، تو میں نے اپنی دعاؤں میں گِڑگِڑانا شروع کر دیا۔ جب پتا چلا کہ اس کا شکر کرنے سے وہ اور دیتا ہے، تومیں نے طوطے کی طرح شکر کا رٹا لگانا شروع کر دیا۔ جب معلوم ہوا کہ ادھار دو تو وہ دس گُنا بڑھا کر دیتا ہے، میں نے اُس کی راہ میں خرچ کرنا شروع کر دیا، اس نیت سے کہ اب مال دس گُنا ہو کر واپس آئے گا۔ اُس نے ہر طرح سے مجھے دیا۔ مانگنے پر دیا، شکر کرنے پر دیا اور اپنی راہ میں دینے پر اور زیادہ دیا۔ بابا جی سرفراز اے شاہ صاحب اللہ سائیں سے اس کا فضل اور کرم مانگنے کا کہا کرتے ہیں۔ میں نے جب یہ جانا تو اپنی دعاؤں میں پوری مصنوعی عاجزی طاری کر کے اور مسکین منہ بنا کر اس کا فضل، رحمت، کرم ، عطاء جو لفظ میری لغت میں اس کی رحمت کو ڈیفائن کرنے کے لیے موجود تھا سب استعمال کر کر کے اس سے مانگنا شروع کر دیا۔ تب اُس نے مجھے اور زیادہ عطاء کیا۔

میں پاکستان کی نوے فیصد آبادی کی طرح غربت کو دیکھ کر پلا بڑھا۔ پالنہار کی مہربانی اس نے کبھی بھُوکا نہیں سُلایا، لیکن اپنے والدین کو روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جب سخت جدوجہد کرتے دیکھا تو میرے سامنے خودبخود پہلی منزل یہ آ گئی کہ اتنا کمالوں کہ انہیں دوبارہ وہ دن نہ دیکھنے پڑیں۔ تو میں نے اللہ سے جب اس کا فضل مانگنا شروع کیا تو اس کے بیک اینڈ پر بھی یہی معنی ہوتے کہ اللہ جی بہت سا رزق یعنی روپیہ دے دیجیے۔ کافی زیادہ، بلکہ بہت زیادہ سا۔ اور اس نے مجھے دیا۔ پھر میں نے سنا کہ رزق صرف روپے کی صورت میں نہیں ملتا، اس کی اور بھی بے شمار صورتیں ہیں جیسے اولاد۔ اسی طرح اس کا فضل صرف روپے کی صورت میں نہیں ملتا اس کی بھی بے شمار صورتیں ہیں۔

آج ہمارا جرمن لینگوئج کورس باضابطہ طور پر ختم ہو گیا، ہمارا آخری ٹیسٹ بھی ہو گیا اور ہم یونیورسٹی جانے کے لیے آزاد ہو گئے۔ آج اپنے احباب کے درمیان ایک الوداعی سی تقریب میں وقت گزارا تو احساس ہوا کہ اہل علم کی صحبت بھی اس کا فضل ہے۔ پچھلے چار ماہ مُجھ پر پالنہار کا یہ فضل رہا کہ میں پاکستان کے بہترین دماغوں کے ساتھ اُٹھتا بیٹھتا رہا۔ ان میں سے ہر ایک جو اپنے شعبے کا ماہر ہے، جس کا اظہار ان کی گفتگو سے ہوتا۔ ان کے اندازِ تخاطب، نشست و برخاست اور طرزِ عمل سے پتا چلتا کہ یہ لوگ اس مقام کے حقدار تھے۔ یہ پاکستان میں جب اپنے اپنے شعبے میں، تدریس یا تحقیق جہاں بھی ہوتے ہوں گے تو وہاں اس کی ترقی کے لیے کتنے مؤثر ہوں گے۔ اور آج جب یہ یہاں ہیں، اور تین برس بعد واپس ڈاکٹر بن کر جائیں گے تو ان کی مہارت سے میرے ملک کو کتنا فائدہ ہو گا۔ تو مجھے بڑی شدت سے یہ احساس ہوا کہ ان کے ساتھ رہنا بھی باعثِ سعادت تھا۔ میں جو کسی زمانے میں اپنے والد کی ناشتے کی ریڑھی پر بیرا گیری کرتا تھا، آج مُجھے اُس کریم کی ذات نے کہاں لا بٹھایا ہے۔ تو مجھے احساس ہوا کہ مجھ پر اس کا کِتنا فضل اور رحمت ہے۔ اور جو میں طوطے کی طرح ہر دعا میں آموختہ دوہراتا ہوں کہ مولا میں تیری رحمت کا محتاج، مجھ پر اپنا کرم کر دے، فضل کر دے، عطاء کر دے، تو وہ دعائیں رائیگاں نہیں جا رہیں۔ اس کی بارگاہ میں قبولیت پا رہی ہیں۔ تو میرا سر اس کی رحمت کے احساس سے جھُک گیا۔

میں نے آج یہ سیکھا کہ اچھا حلقۂ احباب بھی اس کا فضل ہے۔ علمِ نافع بھی اس کا فضل ہے۔ چاہے وہ دنیا کا ہو یا دین کا۔ میں نے یہ جانا کہ میں اور میرے یہ سب ساتھی، واپس جا کر اپنے اپنے شعبے میں اپنے وطن کی ترقی کے لیے کچھ کام کرنا چاہتے ہیں۔ جس کا فائدہ عوام کا معیارِ زندگی بہتر ہونے کی صورت میں ہو گا۔ پالیسی سازی، قانون سازی، تدریس اور تحقیق میں اس کا بالواسطہ اور بلاواسطہ اثر ہو گا۔ ان سب کی نیت نیک ہے، تو ان کا علم حاصل کرنے کا عمل بھی ایک نیک عمل قرار پائے گا۔ اور اس کی توفیق بھی اُس ذات کا فضل ہے۔ میں اپنے رب سے دعا گو ہوں کہ وہ اپنے حبیب ﷺ کے صدقے ہم سب کو نیک نیتی کی توفیق دے، ہمیں اپنے اپنے شعبے کی بہتری کے لیے صدقِ دل اور دیانتداری سے کام کرنے کی توفیق دے۔ اور ہمارے اس علم کو اپنی مخلوق کی مدد کرنے کا آلہ، ان کی زندگی آسان بنانے کا ذریعہ اور ہمارے اہل و عیال کے لیے رزقِ حلال کے حصول کا وسیلہ بنا دے۔ آمین، یارب العالمین۔

جمعہ، 25 دسمبر، 2015

تاثرات

کرسمس کے باضابطہ آغاز میں ابھی کچھ وقت باقی ہے۔ شہر کے گرجا گھروں کے گھنٹے مسیح کی ولادت کی خوشی میں ہر کچھ عرصے بعد بجنے لگتے ہیں۔ میری کھڑکی پر ابھی ابھی ہونے والی بارش کے ان گنت قطرے ایسے بکھرے ہیں جیسے دور بہت دور میرے دیس پاکستان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں بیس برس پہلے کی راتوں میں آسمان پر ستارے بکھرے ہوا کرتے تھے۔ میرے سامنے والی عمارتوں میں کہیں کہیں جگنو نما ننھی ننھی روشنیاں نظر آ رہی ہیں ۔ ایک دو جگہ ہشت رخ ستارے بھی روشن ہیں۔ سٹریٹ لائٹ  کی روشنیاں درختوں کے سائے، دھندلے سائے میری بصارتوں تک پہنچا رہی ہیں۔ ٹنڈ منڈ درخت جنہیں دن کی روشنی میں ذرادور سے دیکھنے پر ہریالی کا گمان ہوتا ہے لیکن قریب جانے پر احساس ہوتا ہے کہ بارشوں کی زیادتی نے ان پر کائی کی مستقل تہہ چڑھا رکھی ہے۔ دن ابھی روشن ہو تو کبھی کبھار کوئی اجنبی سا پرندہ قریب سے اڑتا چلا جاتا ہے اور اس کے پیچھے پیچھے یادوں کے پرندے بھی اڑان بھر کر اندر ہلچل مچا دیتے ہیں۔ میرے شہر فیصل آباد کی گرد اور دھواں، اور گرد بھرے درختوں پر چہچہاتی چڑیاں، کوے ، کبوتر بازوں کے کبوتر سب اڑان بھرنے چلے آتے ہیں۔ اور میں ہزاروں میل دور ہو کر بھی وہیں جا پہنچتا ہوں جہاں ایک ماہ پہلے میرے بھائی کی شادی کا ہلا گلا تھا، اور پھر میں یہاں آنے کے بارے میں اندر ہی اندر بے قرار تھا۔

یہ شہر بہت اچھا ہے۔ صاف ستھرا ، نیٹ اینڈ کلین، قانون انکل کے سامنے مؤدب اور فرمانبردار۔ لیکن اس سب کے باوجود جب بھی اس کے بارے میں سوچوں تو اجنبی، سرد، سرمئی جیسی صفات جیسے اوپر ہی کہیں رکھی ہوتی ہیں فوراً سامنے آن موجود ہوتی ہیں۔ ایک اجنبی دیس کا اجنبی شہر جس کی اجنبی زبان میں سیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ سو تک گنتی، سبزیوں اور پھلوں کے نام، نشست و برخاست کے کلمات اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہر روز گھر سے نکل کر اسی راستے پر، اسی عمارت میں پہنچتا ہوں اور پھر وہیں واپسی جہاں سے صبح چلا تھا۔ جیسے ایک دائرے کا سفر۔۔۔رہائش سے اسکول ۔۔۔مسجد ۔۔۔گروسری کی چند دوکانیں ۔۔۔گھر۔۔۔اسکول۔۔۔اور دائرہ مکمل ہو جاتا ہے۔ اس دائرے میں کہیں کہیں دراڑ اس وقت پڑتی ہے جب ہم چودہ لوگوں کا گروپ کوئی پارٹی ارینج کر لے۔ آج بھی پاکستان کے ان ہونہار ترین لوگوں میں بیٹھا تو جیسے پاکستان کی جانب ایک کھڑکی کھلی رہی۔ ہنسی، قہقہے، چھیڑ چھاڑ ، دیر سے آنے پر غصہ اور پھر کھانا۔۔۔۔اور بیچ میں میری چولیں۔۔۔میرے پرانے احباب کے خیال میں میری تعلیم ایم فِل لسانیات نہیں ایم فِل میراثیات ہے۔ شاید ان کا کہنا بھی ٹھیک ہی ہے کہ میں نے اپنے اوپر ایک خاص کیفیت کچھ ایسے طاری کر رکھی ہے کہ  تین عشروں بعد بھی آج بے تُکا، بے ڈھنگا، بے ہدائیتا، کھلنڈرا اور مورکھ ، بدتمیز شرارتی بچہ نظر آتا ہوں جس کی نظر ہمیشہ دوسرے بچے کو تنگ کرنے پر ہوتی ہے۔ اتنے قابل ترین لوگوں میں بیٹھ کر بھی مجھے ہدایت نصیب نہیں ہوئی اور نہ ہونے کی کوئی امید نظر آتی ہے۔

چارلی چپلن کہتا ہے کہ مجھے بارش میں چلنا پسند ہے تاکہ کوئی میرے آنسو نہ دیکھ سکے۔ یوں لگتا ہے کہ ہر زمانے میں کچھ ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو خلوت اور جلوت میں دو الگ الگ چہروں کے حامل ہوتے ہیں۔ دوہرے چہرے والے لوگ، ان کے اندر کیسے ہی الاؤ روشن ہوں، دکھ کا سرما پھیلا ہو یا اداسی کی خزاں اتری ہو، اوپر سے ہمیشہ پُر بہار نظر آتے ہیں۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ میں بھی ایسے ہی دو چہرہ لوگوں میں سے ہوں۔ اصل چہرے پر نقاب چڑھا کر اس بات کے آرزومند لوگ کہ دیکھنے والا "اگنور" کا بٹن دبا کر نقاب کو پرے کر دے اور براہِ راست اصل چہرے سے ہم کلام ہو۔