مدرسہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
مدرسہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 15 نومبر، 2017

تحت الشعور سے ابھر کر آنے والی ایک یاد

آج دوپہر قیلولہ کرنے کے لئے لیٹا ہوا تھا تو پتا نہیں کہاں سے ذہن کی عمیق گہرائیوں میں دفن ایک یاد تحت الشعور سے نکل کر شعور کے پردے پر آ براجمان ہوئی. پانچویں جماعت کے بعد والد صاحب کی خواہش تھی کہ میں قرآن پاک حفظ کروں اور اس کام کے لئے مجھے ایک مدرسہ میں ڈال دیا گیا تھا. کچھ مہینوں کے بعد میرے اندر کے شیطان نے ادھم مچایا تو میں نے مدرسے جانے سے انکار کر دیا تھا اور اس کی پاداش میں تشریف پر گھوڑے ہانکنے والے چھانٹے والی چھڑی سے ٹکور کے ساتھ ساتھ میری چھٹی بھی بند کر دی گئی تھی. چناں چہ مجھے پورا ہفتہ رات اور دن وہیں مدرسے میں گزارنا تھے. رات کو گرمی ہونے کی وجہ سے چار منزلہ مدرسے کی چھت پر زمین پر صفیں یا چٹائیاں اور ان پر گھر سے آیا ہوا بستر جو ایک عدد دری تکیہ اور کھیس وغیرہ پر مشتمل تھا بچھا کر سونا ہوتا تھا. اس یاد کا تعلق شاید اس چھٹی بند ہونے کی پہلی یا کسی اور رات سے ہے. قاری صاحب اور ان کے اہل خانہ بھی طلبہ کے ہمراہ چھت پر سویا کرتے تھے. سونے سے پہلے کبھی کبھار طلبہ پر مہربانی کرکے انہیں کچھ کھانے کے لیے منگوا کر دیا جاتا تھا جسے عرف عام میں پنجابی بچوں کے لئے چیجی اور انگریزی ماڈرن لوگ کینڈی وغیرہ کہتے ہیں. آج اس نیم نیند کی کیفیت میں یاد آگیا کہ اس رات میں مدرسے کی چھت پر حالتِ سزا میں اپنے بستر پر سونے کے لیے لیٹا تو قاری صاحب نے ایک مقیم طالب علم کو بلا کر اسے کچھ روپے تھمائے اور طلبہ کے لیے کون آئسکریم منگوائی. مجھے نہ جانے کیوں ایسا لگا کہ اس میں میرے لیے بھی کچھ حصہ ہو گا. تاہم جب آئسکریم آئی اور سب میں تقسیم ہوئی اور مجھے یکسر نظر انداز کر دیا گیا تو ایک بارہ تیرہ سال کے بچے کی وہ خِفّت شاید کسی بہت بھاری پتھر سے بندھ کر ذہن کی گہرائیوں میں جا بیٹھی تھی. اور قریباً اٹھارہ برس کے بعد آج اس پتھر سے بندھی رسی کمزور ہوئی تو یہ یاد بھی کہیں دُور گہرائی سے نکل کر سطح پر آ گئی. یہ سب لکھنے کا مقصد اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ ایک یاد کو اس بلاگ پر شیئر کیا جائے. اس کے علاوہ کوئی چھپا ہوا مقصد موجود نہیں ہے یا شاید اس مقصد کو سامنے آنے کے لئے اٹھارہ برس مزید درکار ہوں.

اتوار، 16 اگست، 2009

میرا بچپن

سب سے پہلے تو ان تمام احباب کا شکریہ جنہوں نے مجھے پرچوں کے سلسلے میں کامیابی کی دعائیں دیں۔ الحمداللہ پرچے بہت اچھے ہوگئے امید ہے اس بار بھی پچھلے سمسٹر کی طرح پہلی پوزیشن میری ہی ہوگی۔
اس کے بعد عرض ہے کہ مصروفیت نے ایک عرصے سے اردو بلاگنگ سے کنارہ کش کردیا ہے۔ اس عرصے میں بہت سی نئی آوازیں اور لہجے شامل ہوئے اور خوب شامل ہوئے۔ اردو بلاگرز اب بالغ نظر ہوتے جارہے ہیں۔ خیر یہ تو بات سے بات تھی۔ اصل بات وہی عنوان والی ہے۔ اگرچہ اس بار بھی دل تھا کہ سیدہ شگفتہ کی فرمائش اور پھر منظر نامہ کے ذریعے اس تجویز کا تفاذ دیکھ کر پھر سے کھسک لوں کہ اس بار بھی کچھ نہیں لکھنا۔ لیکن۔۔۔۔ پھر دل نے کہا کہ اپنے لیے نہیں کمیونٹی کے لیے لکھو۔۔۔ سو لکھ رہا ہوں۔
تو صاحبو اوپر کے سارے وعظ کے بعد بات اتنی سی ہے کہ ہمارے بچپن کا کوئی ایسا واقعہ نہیں جو آپ کو ہنسا سکے۔۔۔ یا رُلا سکے۔ بڑا سادہ سا اور انتہائی عام سا بچپن گزرا ہے جس کی یادیں ساری بلیک اینڈ وائٹ ہیں اور دھندلی دھندلی سی۔۔۔ خیر کھینچ کھانچ کر ایک پرانی پوسٹ سے متعلق ہی ایک تفصیلی واقعہ نکالا ہے یادوں کے کباڑخانے سے۔ ملاحظہ کیجیے۔
میرا پلان بالکل مکمل تھا۔ لیٹرین کے ساتھ ٹینکی نما چیز کو دیکھ کر ہی یہ پلان میرے ذہن میں آیا تھا کہ بس اب تو اپنی جان چھوٹی ہی چھوتی۔ تو صاحبو ہم نے وضو کرنے کا بہانہ بنایا ٹینکی سے لیٹرین پر اور وہاں سے دیوار پر اور اس کے بعد چھ سات فٹ سے ہم نے چھلاگ لگا دی اور نکل لیے۔
خیر آپ کو کیا سمجھ آئی ہوگی۔ اوپر دئیے ربط پر چلے جائیں تو شاید کچھ سلسلہ جڑ جائے۔ اصل میں ہم پانچویں کے بعد مدرسے میں ڈال دئیے گئے تھے حفظ قرآن کے لیے۔ کچھ عرصہ تو سکون سے گزرا ہم اچھا خاصا حفظ کرتے رہے لیکن پھر ہم سے پڑھائی کا شیڈول برداشت نہ ہوا اور ہم نے بغاوت کردی۔: او میں نئیں پڑھناں ہور ہُن۔۔ تو اس کا حل قاری صاحب نے یہ نکالا کہ ہماری ٹانگیں ایک دوسرے لڑکے کو پکڑوا کر ہماری تشریف پر گدھے ہنکانے والی بید کی سوٹی سے ٹکور کی۔ اور اسی ٹکور کے دوران ہم پر انکشاف ہوا کہ یہ ساری کاروائی شیطان کی تھی ہمارا کوئی قصور نہیں ہم نے چیخ چیخ کر قاری صاحب کو یہ باور کرانے کی کوشش کی لیکن قاری صاحب نے ٹریٹمنٹ پورا کرکے ہی جان چھوڑی۔ خیر اس علاج کے بعد کچھ ماہ سکون سے گزرے اور پھر ہم نے جو کارنامہ سرانجام دیا وہ اوپر تحریر ہے۔ اس دوران ہماری چھٹی بند تھی۔ قاری صاحب ایسے بچے کی پہلے روزانہ کی چھٹی بند کرکے ہفتہ وار کرتے تھے اگر پھر بھی نصیحت نہ آتی تھی تو عید کے عید ہی ملتی تھی چھٹی۔
خیر تو ہم بھاگ پڑے۔ چھوٹا بھائی کھانا دینے آرہا تھا اس نے ہمیں بھاگتے دیکھ لیا کچھ دور تک وہ ہمارے پیچھے بھاگا پھر واپس گھر چلا گیا۔ اور ہم ۔۔۔ ہم پہنچے سیدھے نشاط آباد سٹیشن پر۔ یہ فیصل آباد کے بڑے سٹیشن کے بعد لاہور کی طرف جاتے ہوئے دوسرا سٹیشن ہے۔ ابا جی کو چونکہ ہماری ساری گیم کا پتا تھا انھوں نے ہمیں وہاں سے جا لیا اور پھر ہماری دھلائی بھی ہوئی اور ہاتھ باندھ کر سائیکل پر بٹھا کر گھر لایا گیا۔
قصہ مختصر عزیزان گرامی ہم نے ایسے دو ایک اور ڈرامے کھیلے اور ہمیں مدرسے سے نجات مل گئی۔ ہم نے آخری پانچ پارے حفظ کرلیے تھے چھٹا پاؤ ہو گیا تھا لیکن سب کچھ چھوٹ گیا۔ اس واقعے نے ہماری زندگی کا رخ موڑ ڈالا۔ شاید اس وقت ایسا نہ ہوتا تو ہم آج بلاگر نہ ہوتے۔۔ ہوتے بھی تو اتنے ۔۔۔۔ نہ ہوتے۔

بدھ، 6 فروری، 2008

ایک بھاگا ہوا بچہ

پانچویں جماعت پاس کی تو والدین نے بڑے دلار سے مدرسے میں داخل کروا دیا کہ بچہ قرآن حفظ کرلے تو سات پشتیں بخشی جائیں گی۔ بچہ بھی بہت خوش تھا کہ قرآن حفظ کرنا ہے۔ بڑے اہتمام سے موٹی مشین سے ٹنڈ کروائی اور خوشی خوشی مدرسے کو گیا۔ قاری جس کے بارے میں مشہور تھا کہ بہت مارتا ہے نے اپنے مخصوص انداز میں کچھ باتیں کرنے کے بعد داخل کرلیا۔ وقت دھیرے دھیرے گذرنے لگا۔

کوئی اڑھائی ماہ میں نورانی قاعدہ تجوید کے ساتھ پڑھ لیا۔ قاعدے کی گردان ہوئی۔ ایک نگران نے سنا اور اسے پاس کرکے اگلے درجے میں بھیج دیا گیا۔ اس کو سو روپے لانے کو کہا گیا جن کے عوض اسے آخر پانچ سپاروں کا سیٹ دے دیا گیا جو اکٹھے جلد کئے ہوئے تھے۔ آخری سپارہ حفظ کیا گیا۔ اس کی ترتیب ذرا مختلف تھی تاکہ نیا بچہ آسانی سے حفظ کرسکے۔ چناچہ آسان سے مشکل کی طرف والی اس ترتیب کو قرآن کی ترتیب کے مطابق کیا گیا۔۔

سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ کوئی ایک سات آٹھ ماہ میں دو سپارے ختم ہوچکے تھے جب اسے پہلا دورہ پڑا۔ میں نے پڑھنے نہیں جانا۔ ایک دن گھر واپسی پر وہ اڑ گیا۔ مدرسے کی ٹائمنگ صبح فجر سے رات عشاء تک تھی۔ آٹھ بجے ناشتے کی چھٹی آدھ گھنٹا۔ دوپہر ساڑھے بارہ سے ظہر اور شام عصر سے مغرب تک کی رخصت ملا کرتی تھی۔ لیکن بچے کو لگتا تھا جیسے اسے قید کردیا گیا ہے۔ سارا سارا دن دونواز بیٹھ کر قرآن کو رٹنا اوررات کو آکر سوجانا۔۔۔اس اڑی کا قاری کو پتا چلا تو اس نے پہلے کرسی لگوایا۔ پھر ٹانگیں اوپر کروا کر تشریف کی مزاج پرسی کی۔ بچے کو فورًا یاد آگیا کہ یہ سب شیطان کی کارستانی تھی ورنہ وہ تو اب بھی پڑھنے کو تیار ہے۔۔

بچہ سیدھا ہوگیا اور پڑھائی پھر سے چلنے لگی۔ کچھ مزید عرصہ گزر گیا۔ ایک بار پھر وہی بخار چڑھا تو قاری نے جمعرات اور جمعے کی اکلوتی ہفتہ وار چھٹی بند کردی۔ دو ہفتے چھٹی بند رہی تو بچہ پھر راہ راست پر آگیا۔ اس دوران قاری نے اپنا مدرسہ بنانے کے لیے زمین خرید لی اور پہلا مدرسہ جہاں وہ تنخواہ دار تھا چھوڑ دیا۔ اکثر طلباء اس کے ساتھ نئے مدرسے چلے گئے کچھ پرانے مدرسے میں رہ گئے۔ کچھ عرصہ پھر سکون سے گزرا اور پھر بچے کو دورہ پڑا۔ اب کے یہ بہت شدید تھا جمعے کے دن بچہ ریل پر بیٹھ کر اپنی نانی کے پاس پہنچ گیا۔ آخر گھر والے اسے سمجھا بجھا کر واپس لے آئے لیکن سکون عارضی ثابت ہوا۔ نیا مدرسہ عارضی سی عمارت تھی۔ چناچہ بچہ پھر سے دیوار پھلانگ کر بھاگ گیا۔ بھاگ کر سیدھا اسٹیشن پہنچ گیا لیکن گھر والوں کو پتا چل گیا اور اسٹیشن سے اسے پکڑ لیا گیا۔ گھر تک اس کی ٹھکائی ہوتی رہی۔ آخر گھر والوں نے ہتھیار ڈال دئیے اور اسے مدرسے سے ہٹا لیا گیا۔ بچے کی رٹ تھی کہ اور جگہ داخل کروا دیں یہاں نہیں پڑھوں گا۔۔۔آخر اسے ایک اور شہر میں اقامتی درسگاہ میں داخل کروادیا گیا۔ لیکن دو گھنٹے بعد ہی وہاں سے بھاگ کر پھر گھر آگیا۔ اب اس کی رٹ تھی کہ میں نے قرآن حفظ ہی نہیں کرنا۔ گھر والوں نے بہتیرا سمجھایا لیکن اس کے بھیجے میں بات نہ آسکی۔۔چناچہ اسے چھٹی میں داخل کروا دیا گیا۔ ذہین تھا آدھا سال ضائع ہونے کے باوجود دوسرے بچوں سے آگے نکل گیا۔۔۔

وہ بچہ آج بی کام ہے، لسانیات میں بہت کچھ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ اس کی محبوبائیں ہیں۔۔۔ وہ بچہ یعنی منکہ مسمی شاکر عزیز آپ کے سامنے اپنی زندگی کا ایک تلخ پہلو کھول رہا ہے۔ شاید کتھارسس کے لیے یا پھر اپنے آپ کو یاد کروانے کے لیے کہ اس کی اوقات کیا ہے۔۔ زندگی کا وہ ڈیڑھ سال میری شخصیت سازی میں بہت حصہ رکھتا ہے۔ اس وقت کا احساس اب تک میرے ذہن سے نہیں مٹتا کہ خادم القرآن کہلوانے والے اتنے سخت دل کیوں ہوتے ہیں۔ عجیب عجیب سزائیں کیوں دی جاتی ہیں۔ شاکر شاید آج حافظ شاکر ہوتا اگر وہ قاری اتنا مارنے والا نہ ہوتا، یا وہ شیڈیول اتنا ٹف نا ہوتا جو پڑھائی کی بجائے قید لگتا تھا۔۔یا شاید اس کی نیت ہی خراب تھی۔۔۔لیکن وہ ڈیڑھ سال اگر ضائع نہ ہوتا میں کہیں اور ہوتا۔۔۔۔وہ ڈیڑھ سال بس ایسے ہی ماضی کا وہ ورق بن گیا جسے الٹتے ہوئے بہت سی ٹیسیں اٹھتی ہیں۔۔۔اور احساس ہوتا ہے کہ میں کتنی بڑی نعمت سے محروم رہ گیا۔۔۔قرآن جسے میرے سینے میں نقش ہونا تھا نہ ہوسکا۔۔۔جو چند سپارے یاد تھے وہ بھی آہستہ آہستہ محو یادداشت ہوگئے۔ خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ قرآن یاد کرنے کو تم ایسے پاؤ گے جیسے اونٹ ہے جس کے گلے میں رسی ڈالی گئی ہو اور وہ اپنی گردن چھڑانے کی کوشش کرے۔۔ قرآن یاد کرنا اور اس کو یاد رکھنا بہت مشکل کام ہے اور میرے جیسے کے نصیب میں تھا ہی نہیں شاید۔۔آج جب مجھے یاد آتا ہے کہ میں نے ایک نہیں کئی خطائیں کی تھیں۔۔۔اللہ کی کتاب کو یاد نہ کرسکا جو یاد تھی اسے بھلا ڈالا تو میری زبان پر استغر اللہ الذی لا الہ الا ہوا الحی القیوم و اتوب الیہ کا ورد جاری ہوجاتا ہے۔ میرا مالک مجھے معاف کرے میں بہت گناہگار ہوں۔۔

یہاں لکھنا ٹھیک ہے یا نہیں۔۔۔میں نہیں جانتا۔۔۔ لیکن میں نے لکھ ڈالا، اس امید کے ساتھ کہ آپ اس سے سبق حاصل کریں گے اور اپنی دعاؤں میں مجھے بھی یاد رکھیں گے۔

وسلام