ایم ایس سی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
ایم ایس سی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 14 جون، 2010

ہائے تھیسز

ہمارے سر سنایا کرتے ہیں کہ جامعہ زرعیہ فیصل آباد میں تجربات کے بعد نتائج کو سگنیفیکنٹ significant ایسے بنایا جاتا ہے کہ شماریات کے فارمولے لگائے جاتے ہیں اگر فرق قابل ذکر نہ ہو تو پیچھے سے آواز آتی پے پُتر سگنیفیکنٹ کر ہور۔ اور اس کام کے لیے فریکوئنسی بڑھا دی جاتی ہے۔ اور یہ اس وقت تک بڑھائی جاتی رہتی ہے جب تک نتائج اصلی تے وڈے نہ ہوجائیں۔ چناچہ ایسے ہی ایک دفعہ کپاس کے پودوں کے اگاؤ وغیرہ پر کی گئی ریسرچ کے نتائج اتنے سگنی فیکنٹ تھے کہ ریسرچ میں سامنے آنے والے پودوں پر پھولوں کی تعداد جو 52 بنتی تھی، عملی طور پر کسی بھی پودے پر ممکن نہ تھی۔ اتنے پھول پودا سہار ہی نہیں سکتا۔ لیکن یار لوگوں نے ریسرچ میں یہ نتائج "نکالے" اور زبردستی نکالے۔
صاحبو ریسرچ بڑا اوکھا کام ہے ناک سے لکیریں نکلوا دیتی ہے یہ رسرچ۔ آج کل ہم جوگی ہوئے ہوئے ہیں، کن پڑوائے بغیر ہی جوگی۔ اور جوگن ہمارا تھیسز ہے۔
تھیسز تھیسز کردی نیں میں آپے تھیسز ہوئی
ہمارا ڈیٹا اینالیسس فیز چل رہا ہے لیکن دو ماہ سے چلے ہی جارہا ہے۔ کارپس پر مشتمل یہ ریسرچ پاکستانی اور برطانوی انگلش میں دو مونہے افعال (Ditransitive Verbs) کا موازنہ ہے۔ دومونہے ہم نے ابھی ایجاد کیا ہے لیکن امید ہے اردو وکی پیڈیا پر اس کا بڑا عالمانہ قسم کا ترجمہ موجود ہوگا فارسی کے تڑکے کے ساتھ۔ خیر یہ تو ایک پنجابی والی چُونڈی تھی۔ ریسرچ بڑا اوکھا کم ہے سائیں۔ ابھی 3 گھنٹوں سے صرف فریکوئنسیاں ہی نکال رہا ہوں اور دماغ لسی ہوگیا ہے۔ ابھی اس کام کے لیے میں اپنے ذاتی تیار کردہ سافٹویر استعمال کررہا ہوں۔ لیکن وہ جو کہتے ہیں نیم حکیم خطرہ جاں۔ تو جو کام میں سافٹویر سے اتنی دیر لگا کر، بار بار ڈی بگ کرکے، غلطیاں نکال نکال کر کرتا ہوں وہ شاید ہاتھ سے جلدی ہوجاتا۔  ;-D شاید نا ہو۔ چلو دل کو ڈھارس تو ہے کہ "جلدی" ہورہا ہے۔
میں اصل میں ٹیکسٹ پروسیسنگ کرتے ہوئے ریگولر ایکسپریشنز پر بہت انحصار کرتا ہوں۔ لالچ یہ ہوتا ہے کہ کام جلدی ہوجائے گا لیکن کام خراب بھی ہوجاتا ہے اور اکثر ہوجاتا ہے۔

بدھ، 7 اکتوبر، 2009

جونئیررز

ہماری یونیورسٹی کے نئے سمسٹر کی کلاسز شروع ہوگئی ہیں۔ اس بار نئے داخلے بھی ہوئے ہیں تو ہم سینئیر ہوگئے ہیں اور ایک عدد کلاس ہمارے نیچے بھی آگئی ہے بنام جونئیرز۔ بات کرنے سے پہلے میں تھوڑا سا تعارف کرواتا چلوں۔ ہمارے ہاں دو قسم کی کلاسز ہوتی ہیں۔ ایک بی ایس آنرزلنگوئسٹکس کی چار سالہ کلاس۔ اور ایک عدد ایم ایس سی اپلائیڈ لنگوئسٹکس کی دو سالہ کلاس۔ اول الذکر میں طلبا بارہ پڑھ کر آتے ہیں اور موخر الذکر میں بی اے کرکے یعنی چودہ پڑھ کے۔ اب ان دو کورسز کے لوگوں کے مابین فرق بھی قدرتی ہے۔ بی ایس والے زیادہ فعال ہوتے ہیں، زیادہ بے تکلف اور بے فکرے۔ چونکہ انھوں نے چار سال رہنا ہوتا ہے تو اساتذہ کے ساتھ بھی ان کی اچھی سلام دعا ہوتی ہے۔ یہ لوگ یونیورسٹی لائف سے زیادہ مانوس ہوتے ہیں۔ جی سی یو ایف میں مخلوط طرز تعلیم ہے چناچہ یہ لوگ اس ماحول سے بھی اچھی طرح مانوس ہوتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ایم ایس سی کے طلباء ہیں جو چودہ سال کسی بوائز یا گرلز کالج میں پڑھ کر آتے ہیں۔ ان میں پرائیویٹ بی اے کرنے والے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں۔ چناچہ ان کا یہ سماجی و تعلیمی پس منظر ان میں تھوڑی سی جھجک پیدا کردیتا ہے۔ انھوں نے صرف دو سال رہنا ہوتا ہے چناچہ یہ آنرز کے طلبا کے زیر سایہ رہ کر گزار دیتے ہیں۔ یہ لوگ مخلوط طرز تعلیم سے آشنا نہیں ہوتے چناچہ شروع میں لڑکیوں اور لڑکوں میں جھجک پائی جاتی ہے اور بطور کلاس یہ آپس میں کبھی بھی ویسے نہیں ہوسکتے جیسے آنرز کے طلباء چار سال کے عرصے میں ہوجاتے ہیں۔
یہ تو دو انتہائیں تھیں جن کا ذکر اس پوسٹ کے لیے ضروری تھا۔ (چلتے چلتے یہ بات بھی ہوجائے کہ چار سالہ آنرز اور دو سالہ ایم ایس سی کی اسناد برابر تصور کی جاتی ہیں اور انھیں کسی بھی ادارے میں مساوی درجہ دیا جاتا ہے۔ اگرچہ بہت سے احباب کے علم میں یہ بات ہوگی پہلے سے۔ چلیں اب موضوع کی طرف آتے ہیں۔)
موضوع ہے جونئیرز کو خوش آمدید کہنا اور ان کی فُولنگ کرنا۔ ہماری کلاسیں اسی ہفتے شروع ہوئی ہیں اگرچہ ابھی تک یہ بہت زیادہ باقاعدہ نہیں لیکن شروع ہوگئی ہیں۔ میں اپنی کلاس کا سی آر بھی ہوں تو ہم یہ پلان کررہے تھے کہ اپنے جونئیرز کو ویلکم کریں۔ لیکن ہمارے یہ سارے پلانز دھواں بن کر اس وقت اڑ گئے جب آج ہم وہاں پہنچے۔ قصہ سادہ سا ہے کہ ہمارے آنرز کے دوستوں نے ہمارے سوچتے سوچتے اس پر عمل کرڈالا۔ آنرز کی کلاسز صبح ساڑھے آٹھ سے ساڑھے بارہ ہوتی ہیں۔ انھوں نے پہلے آنرز فرسٹ سمسٹر کے طلباء کو ویلکم کہا اور پھر ان سے ان کا تعارف لیا۔ اب یہ تعارف کیسا تھا بس سمجھ لیں خاصا ان کمفرٹ ایبل قسم کا تعارف تھا۔ ایک ایک طالب علم کو سامنے بلایا جاتا، اس کا تعارف پوچھا جاتا اور پھر اس سے کچھ الٹے سیدھے سوالات کیے جاتے اس دوران ضمنی طور پر جگتیں اور فقرے بازی بھی چلتی رہتی۔ سنا ہے کہ کچھ طلباء واک آؤٹ بھی کرگئے۔ بے چارے :) ان کے ساتھ بہت اچھی نہیں ہوئی۔
صاحب اب ہماری انٹری ہوتی ہے تو آنرز والوں سے نمٹا جاچکا ہے اور ہمارے جاتے ہیں آنرز کے سینئیرز ہمیں لے کر ایم ایس سی کی کلاس میں جاگھسے۔ اس کے بعد آنرز کے جونئیرز والا سین یہاں بھی دوہرایا گیا۔ ہماری قریبًا آدھی کلاس مع مابدولت وہاں موجود تھی۔ اس سارے میں ہم نے بھی حصہ لیا لیکن سو میں سے بیس یا تیس فیصد کہہ لیں۔ چونکہ ہمیں رحم آجاتا تھا لیکن آنرز والے احباب نے کسی کو بھی نہیں بخشا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے ماسٹرز کے جونئیرز آخرمیں اچھے خاصے غصے ہوچکے تھے۔ چونکہ لسانیات کو آرٹس کے تحت سمجھا جاتا ہے اس لیے یہاں لڑکیاں عمومًا زیادہ ہوتی ہیں۔ اس کلاس میں بھی لڑکیاں زیادہ تھیں چناچہ انھوں نے اس بات کا خاصا برا منایا کہ ان پر فقرے بازی ہورہی ہے یا انھیں زبردستی شعر سنانے وغیرہ وغیرہ پر مجبور کیا جارہا ہے۔
اب بات کرتے ہیں میرے نکتہ نظر کی۔ اوپر جو سماجی پس منظر بیان کیا گیا ہے اس کی وجہ سے (میری نظر) میں ہمارے آنرز کے احباب کو یہ بات بالکل بھی محسوس نہیں ہوئی کہ وہ بعض جگہ زیادتی کررہے ہیں۔ جبکہ یہ بات میں نے بہت زیادہ محسوس کی۔ اس کی وجہ کیا تھی؟ اس کی وجہ وہی سماجی پس منظر تھا چونکہ یہ احباب پچھلے تین یا دو سال سے ہیں اس لیے وہ اس بے تکلفی کو روٹین کا حصہ سمجھ رہے ہیں۔ جبکہ ایک بی اے کرکے آنے والا لڑکا یا لڑکی جس نے اپنی ساری عمر مخلوط طرز تعلیم میں تعلیم حاصل نہیں کی اس بات کو بہت زیادہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی بے عزتی کی جارہی ہے اور صنف مخالف کے سامنے بے عزتی کی جارہی ہے۔ چناچہ ان میں عزت نفس مجروح ہونے کا احساس بہت شدید ہوتا ہے جسے ہمارے آنرز کے احباب محسوس نہیں کرسکے۔ ہم ایم ایس سی سینئیر نے یہ بات محسوس بھی کی تو ہم ان کو روک نہیں سکے۔ وجہ وہی ہے کہ ہم اپنے آپ کو ذرا دبا دبا سا محسوس کرتے ہیں یا ہمارے آنرز والے دوست مسلط ہونے کی زیادہ خوبیاں رکھتے ہیں۔ بہرحال صاحب بات یہاں پہنچی کہ اس سارے ڈرامے کے بعد جب ہم نے بعد میں اپنی کلاس میں یہ بیٹھ کر ڈسکس کیا تو میرا پہلا تبصرہ یہ تھا کہ یہ بہت زیادہ ہوگیا۔ بہت سارے لوگوں کا خیال تھا کہ واقعی آنرز والے احباب زیادہ ہی کرگئے۔ لیکن کچھ کے خیال میں ایسا ہونا چاہیے تھا یہ یونیورسٹی لائف کا حصہ ہے۔
اس سارے واقعے کی وجہ سے آج میں اچھا خاصا ٹینشن میں رہا اور مجھے اپنے ان مذاق اڑاتے فقروں پر بھی شرم آئی۔ اگرچہ وہ کچھ اس قسم کے تھے کہ دونی کا پہاڑہ سناؤ، نصیبو لعل کے کسی گانے کو انگریزی میں ٹرانسلیٹ کرو ( یہ لڑکے کو کہا گیا تھا) وغیرہم۔ تو جناب ہم نے جذباتی ہوکر یہ سوچا کہ کل جاکر اپنے ایم ایس سی فرسٹ سمسٹرز کے دوستوں سے معذرت بھی کریں اور انھیں اپنی کلاس کا تعارف بھی کروائیں اور ساتھ ویلکم بھی کردیں۔ اس سارے میں سے معذرت والی بات میرے ہم جماعتوں کو پسند نہیں آئی جبکہ باقی سب وہ کرنے کو تیار تھے۔ چناچہ ہم نے بھی اس کو فہرست سے نکال دیا۔ اب ہم کل جاکر انھیں اپنی طرف سے ویلکم کہیں گے اور اپنا تعارف دیں گے چونکہ ان کا تو آج لے ہی چکے :D
اس ساری رام کہانی کے بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ آپ سے رائے لی جائے۔ اوپر بیان کردہ واقعات آپ کے خیال میں ٹھیک تھے؟ اور کیا ہمیں یعنی ایم ایس سی تھرڈ سمسٹر کو معذرت کرنی چاہیے؟ یا یہ انٹروڈکشن لینا اور فُولنگ کرنا یونیورسٹی لائف کا حصہ ہے اور یہ ہر سینئیر کا پیدائشی حق ہوتا ہے؟ یہاں یہ بات بتاتا چلوں کہ ہم نے فولنگ کے اس سے بھی بدترین واقعات سن رکھے ہیں۔ اگرچہ ہمارے والے قصے میں فولنگ کی شدت بہت کم تھی لیکن ہمیں یہ ڈر ہے کہ ہمارے ایم ایس سی فرسٹ کے محترم دوست اس بات کو اپنی عزت نفس مجروح کرنا نہ سمجھ لیں۔ آپ کی کیا رائے ہے؟ ایسا ہونا چاہیے؟ یہ غلط ہے یا ٹھیک ہے؟ ہمارے واقعے میں یہ ٹھیک ہوا؟ یا غلط ہوا؟ یا اس پر معذرت کی جائے؟ یا ایسے ہی رہنے دیا جائے چونکہ ایسی چیزیں سینئیرز اور جونئیرز میں بے تکلفی بڑھاتی ہیں؟ اور ان میں اعتماد پیدا کرتی ہیں؟
آپ کی آراء کا انتظار رہے گا۔
وسلام

ہفتہ، 7 فروری، 2009

فنکشن

خلیل جبران کا کہنا ہے کہ آپ کی روحیں اس جگہ پر ہمیشہ منڈلاتی رہتی ہیں جہاں آپ نے زندگی کے پرلطف لمحات گزارے ہوں. یہ ضیاء کے آخری الفاظ تھے جو اس نے فنکشن کا اختتام کرتے ہوئے کہے.
ضیا یعنی ضیاء اللہ بدر بیچلر آف سائنس لنگوئسٹکس اینڈ لٹریچر کا طالب علم، ہمارا سینئیر اور کل رات ہونے والے فنکشن کا آرگنائزر، کمپئر اور پرفارمر.
ٹھہریں ذرا فلیش بیک کرتے ہیں. ایسے آپ کو سمجھ نہیں آئے گی.ہمارے سینئیرز یعنی علاوہ فرسٹ سمسٹر، تمام پروگرامز کے متعلقہ سمسٹرز کے فائنل امتحانات دو فروری سے شروع تھے. ڈیٹ شیٹ بن چکی تھی. ٹیچر پڑھا کر فارغ ہوچکے تھے. پریزنٹیشن اور اسائنمنٹس ہوچکی تھیں کہ اچانک امتحانات کو پندرہ دن کے لیے ملتوی کردیا گیا.
یہ پندرہ دن کا التواء پھر سے زندگی کی نوید لایا اور ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ہی فنکشن کروانے کا اعلان کردیا گیا. شعبے کا سالانہ فنکشن کہہ لیں، ڈنر کہہ لیں یا لٹریری ایوننگ. خیر پھر کیا تھا، پھر دھڑا دھڑ تیاریاں شروع ہوگئیں. پیسے جمع کرنے ہیں، آئٹمز تیار کرنے ہیں، یہ وہ..
اسی دوران ایک عدد نمائش ہونی تھی عنوان "میں کون ہوں" انگریزی میں
Who Am I جس میں آپ کچھ بھی بنا سکتے تھے. اس کو بھی فنکشن کے ساتھ ہی جوڑ دیا گیا. چناچہ ایک جانب تقریب جاری تھی دوسری جانب لوگ اس حصے میں آجارہے تھے جہاں طلباء کے چارٹس، پینٹگز، کارڈز، گڑیاں، سینریاں اور دوسری چیزیں لگی ہوئی تھیں. (ہم نے بھی بنایا تھا ایک چارٹ :oops: . ان اللہ علی کل شیء قدیر کو ہم نے انتالیس فونٹس میں لکھا اوپن آفس میں اور چھ عدد پرنٹ نکال کر چارٹ پیپر پر چسپاں کرلیے. آرٹ کا آرٹ ٹیکنالوجی کی ٹیکنالوجی :grin: )
ہمارا پروگرام ایم ایس سی اپلائیڈ لنگوئسٹکس ہے اور سمسٹر ابھی پہلا. مابدولت کلاس کے سی آر ہیں اور ساتھ میں سینئیر بھی کہ پہلے ایک عدد پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ یہیں سے کیا ہے. ہم نے بھاگم بھاگ ایک عدد نظم لکھی. نظم کیا تھی بس قذاقی اور ڈاکا تھی. ہم نے زاہد فخری کی "کدی تے پیکے جا نی بیگم" کو "کدی تے چھٹی جا نی میڈم" کرلیا. ایک دو الفاظ بدل کر ہم نے سارا مفہوم بیگم سے میڈم اور گھر سے لنگوئسٹکس کے کلاس روم تک پہنچا دیا. خیر یہ تو ہماری ذاتی کہانی تھی. ہماری کلاس....پہلا سمسٹر... سارے بی اے...زندگی میں پہلی بار مخلوط طرز تعلیم میں آمد...یونیورسٹی کے ماحول سے کافی حد تک کم ہوچکی لیکن ابھی بھی باقی اجنبیت ... وغیرہ وغیرہ کے مارے ہوئے.. ہمیں ہمارے سینئرز جو پہلے ہی ڈیڈ سولز (جی مردہ روحیں اردو میں) قرار دیتے ہیں. ہم نے یعنی سی آر صاحب نے زور لگایا یار کجھ کرلو. تہانوں اللہ دا واسطہ نک دا سوال اے. تو اللہ اللہ کرکے ایک عدد ڈرامہ لکھا گیا، تھوڑی بہت پریکٹس بھی ہوئی. (لیکن ہم اس میں نہیں تھے) وقت کی کمی کی وجہ سے آخری وقت میں اسے اڑا دیا گیا.. :roll: اس کے علاوہ ہماری کلاس سے دو اور لوگ گانے میں حصہ لے رہے تھے ایک لڑکا اور ایک لڑکی اور ... ایک دن میں نے اور باقی لڑکوں نے غصہ کھا کر ایک مزاحیہ سکرپٹ بھی تیار کرڈالا..آئیڈیا زرداری کا توا لگانے کا تھا... لیکن یہ سکرپٹ پھر ہماری ہی عدم دلچسپی اور ناتجربہ کاری کی وجہ سے پیش ہی نہ ہوسکا. ہماری کاسٹ دوسرے ڈرامے میں مصروف تھی، مکالمے جاندار نہ تھے اور ہمارے ڈائرکٹر صاحب کا انداز چھڈ یار قسم کا تھا. سو ہم نے کہا بھاڑ میں جاؤ ہم تو نظم پڑھ دیں گے.
خیر ہم اور میں سے باہر آئیں کہ فنکشن اس سے باہر باہر ہی ہوا. ہمارے انگلش ڈیپارٹمنٹ میں دو ذیلی شعبے ہیں. لنگوئسٹکس اور لٹریچر. لنگوئسٹکس میں چار کلاسیں بی ایس آنرز کی ہیں جو چار سال کا کورس ہے اور اس میں لٹریچر بھی پڑھایا جاتا ہے مع لسانیات. دو کورس ایک تھرڈ اور ایک فرسٹ ایم ایس سی اپلائیڈ لنگوئسٹکس اورلٹریچر میں چار کلاسیں ایم اے انگریزی صبح و شام اور فرسٹ و تھرڈ سمسٹر کی ہیں. خیر تو اتنی ساری کلاسوں میں سے کس نے زیادہ حصہ لیا. تو اس کا جواب ہے کہ بی ایس 7 اور ایم ایس سی 3 سمسٹر والوں نے. یہ دونوں کلاسیں اصل میں ایک ہی کمرے میں ہوتی ہیں وجہ کمروں کی کمی ہے، ان کے کورسز بھی ایک ہیں بس پروگرام کا نام مختلف ہے. یہ جی سی کے کھنڈ لوگ ہیں. ضیاء اللہ بدر، غلام دستگیر عرف جی ڈی، زین، امجد، قندیل اور حنان وغیرہ وغیرہ. ضیاء جانا مانا ڈرامہ نگار ہے. مجھے تو شکل سے ہی ڈرامے باز لگتا ہے. ہاتھ میں سگریٹ، عینک وہی بال، لگتا ہے ابھی آواز دے گا اوئے ابھی تک سیٹ نہیں لگا، جلدی کرو. اس نے پچھلے سال فنکشن پر شیکسپئر کے تین ڈراموں کی ہدایات دی تھیں. اس بار اس نے اپنا ڈرامہ لکھا اسٹیشن بستی سیداں والی. اچھا ڈرامہ تھا، لو سٹوری تھی. لیکن اچھا تھا اگرچہ اس کا مرکزی کردار وہ خود تھا، فیصل آباد کے گھنٹہ گھر کی طرح سارے راستے اسی کی طرف جاتے تھے، لیکن پھر بھی اچھا ڈرامہ تھا، محنت ہوئی تھی اس پر اور پسند کیا گیا. وائس چانسلر صاحب اسی دوران آئے تھے اور اس ڈرامے سے اتنا متاثر ہوئے کہ پانچ ہزار کے انعام کا اعلان کرگئے. خیر...یہ تو 7 سمسٹر والوں کا تھا ایک ڈرامہ لٹریچر والوں کی طرف سے تھا. ایک عدد قوالی تیار کی گئی تھی جس میں حسب توقع بی ایس 7، ایم ایس سی 3 اور بی ایس 3 کے لوگ شامل تھے. قوالی کا بنیادی مقصد لٹریچر والی کی مٹی پلید کرنا تھا. اور خوب کی گئی. ہوسکا تو اس کی ویڈیو پوسٹ کروں گا. بول کچھ ایسے تھے " لٹریچر والوں سے اللہ بچائے" حسن والوں سے اللہ بچائے کی طرز پر.
تو صاحب یہ پس منظر تھا، فنکشن پہلے چار کو ہونا تھا پھر چھ کو کردیا گیا. ہم یعنی سی آر صاحب نے بھی اپنا نام انتظامیہ میں لکھوا لیا کہ چلو اسی بہانے ذرا چوہدراہٹ بن جائے گی. لیکن ...آہ کیا بنا.. بنا یہ کہ کل ہمارے سیٹ کی ایک بیٹری جواب دے گئی اور ہمیں دوسری بیٹری نکال کر اسے چارج کرنا پڑا. اس کی چارجنگ پورٹ خراب ہے چناچہ چارجنگ تو موبائل آف.. اب وہاں ہمیں کال کیا جاتا ہے اور ہمارا موبائل بند.... ہم بھی کیا کریں ایک گھنٹے بعد ایک گھنٹے کے لیے بجلی آتی تھی جب آتی ہم موبائل چارجنگ پر لگا دیتے جب چلی جاتی تو اسے پھر آن کرلیتے. :roll: شام کو جب ہم وہاں تشریف لے جانے سے پہلے جی آر سے مخاطب ہوئے کہ میڈم وہ پاسز اور لسٹ لیتی آنا یاد سے تو آگے سے ہماری جو ہوئی :grin: .... نہ پوچھیں... اس بے چاری کی ہماری ٹیچر نے کی تھی کہ کم بخت نے انتظامیہ میں نام لکھوا لیا اور اب اس کا سیل بھی آف ہے. خیر ہم کیا کہتے عذر پیش کردیا جوکہ خاصا معقول بھی تھا... وہاں پہنچے تو پہلے زین اور قندیل نے واٹ لگائی... پھر جی آر نے ایک بار پھر سے... :oops: ...پھر دوران فنکشن جی ڈی نے بڑے پیار سےاور ابھی میڈم یعنی ہماری ٹیچر رہتی ہیں.. یا اللہ خیر :neutral:
تو جناب فنکشن شروع ہوتا ہے... کتنے بجے پانچ بجے لیکن پانچ بجے صرف انتظامیہ کے ٹانویں ٹانویں لوگ تھے وہاں اصل کام ساڑھے چھ شروع ہوا... آتے ہی پہلے تھیم سانگ چلا، تجھ سے نیناں لاگے پر 7 اور 3 سمسٹر کے چار لڑکوں کی گھمن گھیریاں، ہمیں تو ککھ سمجھ نہیں آئی کہ تھیم کیا تھا، خیر پھر ضیاء کا ڈرامہ جو تیس منٹ کی بجائے پونے گھنٹے سے اوپر لے گیا.. پھر ایک انگریزی ٹیبلو سا سنو وائٹ پیش کیا گیا. پھر دو گز کی چادر سٹیج ہوا. اسی دوران قوالی بھی ہوچکی تھی بس ضیاء کا ڈرامہ اور یہ قوالی ہی دیکھی ہم نے اور ادھر ادھر پھرتے رہے. تصاویر کھنچوانے، گروپ فوٹو بنوانے جو کہ بن ہی نہ سکی ہر بار دو چار بندے کم ہوجاتے..اور ہم یعنی شاکر میاں اپنی نظم پڑھنے کی باری کا انتظار کرنے ...ہان شہزاد بھی جس نے گانا گانا تھا اور اس کے لیے وہ اپنا مووی کیمرہ بھی لے کر آیا تھا اور مجھے سکھا بھی چکا تھا کہ مووی کیسے بنانی ہے. :oops:
آہ... لیکن حسرت ان غنچوں پہ جو بن کھلے مرجھا گئے. اس دوران دس بج گئے تھے، کئی لڑکیاں جاچکی تھیں اور کئی کو لے جانے والے آچکے تھے. چناچہ فنکشن کو مہمان خصوصی اور چئیر پرسن کے اختتامی کلمات کے ساتھ دی اینڈ کردیا گیا اور ہم دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے گاتے کھانے پر ٹوٹ پڑے. جیسا تیسا کھایا کہ ہم سے تو ایسے مواقع پر کھایا ہی نہیں جاتا... پھر آخر میں تھوڑا سا کام کروا دیا کہ تھوڑا سا ازالہ کردیں صبح نہیں اب تو کروایا ہے کام. آہ پھر واپسی.
اگرچہ:
ہماری کلاس کا ڈرامہ ریجیکٹ ہوگیا.. برا سا لگا
ہمارے دونوں گانے اور نظم شامل نہیں کی گئی.
فنکشن لیٹ شروع کرکے اس میں پرفارمنسز وہ کاٹی گئیں جو ہماری تھیں یا جہاں ایم ایس سی 3 اور بی ایس 7 کے لوگ نہیں تھے. :sad:
ہمیں کھانے کے دوران بوتل نہیں ملی :oops: چار بندوں نے ایک بوتل شئیر کی..
اور ہمارا نام انتظامیہ میں شامل نہ ہوسکا کہ ہم تو آئے ہی نہیں تھے..قسم سے ہمیں اپنی جی آر اور جی ڈی لوگوں سے ڈھیر سارا حسد محسوس ہوا جب وہ آرگنائزر کا کارڈ گلے میں ڈالے قریب سے گزرتے :cry:
لیکن:
اس کے باوجود یہ تقریب ایک اچھی یاد بن کر دل کے کینوس پر نقش ہوگئی.
ہم نے اسے انجوائے کیا.
بقول عاصم صاحب یہ لائف سائنسز ہیں آپ کو پہننے، اوڑھنے، کھانے، پینے کا سلیقہ دیتی ہیں یہ تقاریب. آپ کو آداب سکھاتی ہیں. چناچہ ہم نے بھی بہت کچھ سیکھا. ہم جو وہاں شاید سفید کرتے شلوار میں پہنچ جاتے لیکن ہمیں مت دی گئی کہ کاکے ڈنر میں گہرے رنگ چلتے ہیں، ٹو پیس کرلینا. چناچہ ہم نے پینٹ شرٹ گھر سے پہنی اور کوٹ ایک دوست کی مہربانی سے وہاں جاکر پہن لیا.. سنا ہے کہ خاصے معقول صورت بلکہ خوبصورت ہی لگ رہے تھے، تصویر مہیا کرنے کی کوشش کریں گے. :oops: :razz:
آج ہمیں لگ رہا ہے جیسے ہماری روح کا ایک حصہ وہیں رہ گیا ہے. جی سی کے اسی لان پر منڈلاتا ہوا، اس فنکشن کے اندر باہر آتا جاتا.. عجیب خالی پن سا لگ رہا ہے، جیسے یکدم آپ کسی بھیڑ والی جگہ سے خلا میں آجائیں جہاں پہلے سینکڑوں چیزیں اور لوگ تھے اب وہاں صرف آپ ہوں اور مہیب خلاء، بیکراں سناٹے اور ملگجا سا اندھیرا. شاید خلیل جبران نے ٹھیک ہی کہا کہ آپ کی روحیں اس جگہ پر ہمیشہ منڈلاتی رہتی ہیں جہاں آپ نے اپنی زندگی کے پرلطف لمحات گزارے ہوں.